Blog

  • وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے لیپ ٹاپ غائب، حکومت کو ایک کروڑ سے زائد کا نقصان

    وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے لیپ ٹاپ غائب، حکومت کو ایک کروڑ سے زائد کا نقصان

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے لیپ ٹاپ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایچ ای سی کی جانب سے مختلف یونیورسٹیوں کو دیے گئے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم فیز 2 کے کچھ لیپ ٹاپ لاپتا ہونے کا معاملہ سامنے آیا ۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) حکام کےمطابق مختلف یونیورسٹیوں کو دیے گئے 784 لیپ ٹاپ ریکور کیے جا چکے ہیں تاہم 227 لیپ ٹاپ اب بھی لاپتا ہیں۔ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق غائب لیپ ٹاپس سے حکومت کو ایک کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔اس کے علاوہ، یونیورسٹیوں کی جانب سے 757 لیپ ٹاپس کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ہے

  • چین اور پرتگال: دو تہذیبیں، ایک دل …..ارم زہرا ۔ چین

    چین اور پرتگال: دو تہذیبیں، ایک دل …..ارم زہرا ۔ چین

    زندگی عجیب رنگوں کی بارات ہے۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ہی زمین پر جیتے ہیں مگر ہر خطے کی ہوا، ہر بستی کا آسمان اور ہر چہرے کی مسکراہٹ الگ قصہ سناتی ہے۔ میں ایک پاکستانی لڑکی ہوں۔ میری جڑیں سندھ کی مٹی میں پیوست ہیں، مگر قسمت نے میرے قدموں کو دو مختلف سمتوں میں باندھ دیاہے۔ ایک طرف دور مشرق میں پھیلا ہوا چین، دوسری طرف یورپ کے ساحل پر گنگناتا ہوا پرتگال اور میں، اپنے دل کی ڈائری میں ان دونوں دنیاؤں کو محفوظ کرتی ہوں۔ کبھی میں مشرق بعید کے دیس چین میں رہتی ہوں، جہاں وقت کی رفتار گھڑی کی سوئیوں سے بھی زیادہ منظم ہے، اور کبھی یورپ کے کنارے پر بسے ہوئے پرتگال میں، جہاں سمندر کی لہریں لوگوں کے دلوں کی طرح بے فکری سے بہتی ہیں۔
    آج میں چاہتی ہوں کہ آپ کو اپنے دل کی کہانی سناؤں۔ وہ کہانی جس میں دو مختلف دنیاؤں کے رنگ، خوشبوئیں اور ذائقے ہیں۔ وہ کہانی جو میرے اپنے تجربات اور مشاہدات کے دھاگے سے بنی ہوئی ہے۔ چین اور پرتگال یہ دونوں ملک میرے لیے صرف جغرافیے کے نقشے پر دو نقطے نہیں بلکہ زندگی کے دو اسباق ہیں۔ ایک مجھے محنت، ضبط اور اجتماعیت کا سبق دیتا ہے، دوسرا مجھے سکون، خوش مزاجی اور انفرادیت کا۔
    یہ دونوں ملک اپنی اپنی تہذیبوں اور روایات کے ساتھ میرے سامنے ایک آئینہ بن جاتے ہیں۔ جب میں چین میں ہوتی ہوں تو اپنے آپ کو ایک بڑے ہجوم کا حصہ سمجھتی ہوں، جہاں فرد کی خوشی اجتماع کے ساتھ جڑی ہے اور جب میں پرتگال میں ہوتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے میں ایک آزاد پرندہ ہوں جو اپنے لیے آسمان چن سکتا ہے۔
    میری یہ تحریر محض سفرنامہ نہیں، بلکہ ایک تقابلی داستان ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھ ان گلیوں میں چلیں جہاں ڈریگن ڈانس کی گونج ہے، اور پھر ان ساحلوں تک آئیں جہاں سمندر کی آواز فادو موسیقی میں ڈھل جاتی ہے۔ آئیے آج میں آپ کو بتاؤں کہ میرے دل میں یہ دونوں دنیائیں کس طرح آباد ہیں اور یہ مجھے کیا سکھاتی ہیں۔
    چین میں وقت کی اہمیت کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ اگر آپ پانچ منٹ بھی تاخیر سے نکلیں تو پوری بس، پوری میٹرو، پورا نظام آپ کے بغیر بھی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ یہاں ہر چہرہ ایک مقصد کے تعاقب میں دوڑ رہا ہے۔ زندگی ایک مشین ہے اور ہر پرزہ اپنے حصے کا کام کر رہا ہے۔
    جبکہ پرتگال میں وقت کا رویہ نرم ہے، جیسے گھڑی کی سوئیاں بھی سست روی سے سانس لے رہی ہوں۔ یہاں لوگ کیفے کی میز پر بیٹھے کافی کے ایک گھونٹ کو لمحوں کی طرح پیتے ہیں۔ کسی شام سمندر کے کنارے بیٹھے پرتگالی کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہ وقت کو گود میں بٹھائے کہانیاں سنا رہا ہے۔
    چین میں خاندان صرف چار دیواری نہیں بلکہ ایک مضبوط قلعہ ہے۔ والدین کی عزت، بزرگوں کا احترام اور اجتماعی سوچ ایسی روایت ہے جسے توڑنا ممکن نہیں۔ یہاں نوجوان اپنی خواہش کے بجائے خاندان کی مرضی کو مقدم رکھتے ہیں اور ذاتی فیصلے بھی زیادہ تر اجتماعی مشاورت سے طے کیے جاتے ہیں۔
    اس کے برعکس پرتگال میں خاندانی رشتے نرم دھاگوں سے بندھے ہیں۔احترام موجود ہے مگر زیادہ دوستانہ اور غیر رسمی انداز میں۔ دادا، دادی بھی کیفے میں بیٹھ کر ہنستے کھیلتے ہیں اور خاندان کے افراد آپس میں خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں۔ تاہم پرتگال کا فیملی سسٹم نسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے۔ لوگ شادیاں کرنے میں کم دلچسپی لیتے ہیں اور بچوں کی پیدائش کی شرح بھی بہت کم ہے۔ نوجوان ذاتی آزادی اور انفرادی ترجیحات کو ترجیح دیتے ہیں۔
    چین اور پرتگال کی ثقافت اور روایات کے بارے میں بات کی جائے تو چین کے تہوار خوابوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ قمری سال کے آغاز پر آسمان پر لالٹینیں ایسے جھلملاتی ہیں جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ ڈریگن ڈانس اور آتشبازی دیکھ کر لگتا ہے جیسے صدیوں پرانی تہذیب آج بھی سانس لے رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پرتگال کے میلوں میں آزادی کی خوشبو ہے۔ فادو کی موسیقی جب کانوں میں اترتی ہے تو دل ایک ساتھ ہنستا بھی ہے اور روتا بھی ہے۔ پرتگالی کارنیوال رنگوں اور قہقہوں کا سمندر ہیں۔
    چلیےاب ذرا چین اور پرتگال کے ذائقوں کی رنگین دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔
    چین اور پرتگال کے کھانے اپنے ذائقے اور انداز میں ان کی تہذیب کی جھلک دکھاتے ہیں۔ چین میں کھانے سادہ اور ہلکے ہوتے ہیں۔ اُبلی ہوئی سبزیاں، بھاپ پر پکے چاول اور سوپ عام روایت ہیں۔ یہاں کھانے کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بانٹنے کا عمل ہے، جو ان کی اجتماعی سوچ اور تہذیبی اقدار کی علامت ہے۔ دوسری طرف پرتگال کا کھانا ذائقے اور رنگینی کا جشن ہے۔ سمندری غذا ان کی پہچان ہے، جبکہ زیتون کے تیل اور خوشبودار مصالحوں سے تیار کھانے ان کے دسترخوان کو خوشبو سے بھر دیتے ہیں۔ پرتگالی ثقافت میں کھانے کے ساتھ ہنسی، گفتگو اور لمبی شاموں کا تصور جڑا ہے، جو ان کے زندگی سے بھرپور اور خوش مزاج رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
    آئیے چین اور پرتگال کے معاشرتی رویوں پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ چینی لوگ کم گو اور سنجیدہ مزاج کے حامل ہیں، وہ زیادہ تر اپنی ذمہ داریوں اور کام میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کے چہروں پر قہقہے کم نظر آتے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں محنت اور لگن کی روشنی جھلکتی ہے۔ اس کے برعکس پرتگالی لوگ بے تکلف اور خوش مزاج ہیں۔ وہ اجنبی کو بھی مسکرا کر خوش آمدید کہتے ہیں، اور کیفے میں بیٹھا ایک شخص چند لمحوں میں دوست بن سکتا ہے۔ ان کی گلیاں قہقہوں اور خوشگوار محفلوں سے جانی جاتی ہیں، جو ان کی زندہ دلی اور خوش اخلاق معاشرتی رویے کی پہچان ہیں۔
    اگر چین کے شہروں کا رخ کیا جائے تو وہاں بلند و بالا عمارتوں، روشنیوں اور انسانوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ یہ شہر جدیدیت اور مصروف زندگی کی علامت ہیں، لیکن جیسے ہی دیہات کا رُخ کریں تو منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ کھیتوں میں محنت کرتے کسان اور پہاڑوں کی خاموشی ایک سادہ مگر دل کو چھو لینے والی زندگی کا عکس پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب پرتگال کے شہر نسبتاً چھوٹے مگر خوش رنگ ہیں۔ لزبن کی پتھروں سے جمی گلیاں اور سرخ چھتیں دیکھنے والے کو کسی پرانی کہانی کے اوراق یاد دلاتی ہیں۔ ساحل کے قریب واقع دیہات میں زندگی سمندر کی لہروں کے ساتھ دھڑکتی ہے، جہاں فضا میں سکون اور دلکشی کی خوشبو رچی بسی ہے۔
    اب ذرا لباس اور اندازِ زیست کی بات کریں تو ایک دلکش فرق نمایاں ہوتا ہے۔ چین میں روزمرہ زندگی میں مغربی لباس عام ہے، مگر تہواروں اور خاص مواقع پر لوگ اپنے روایتی ملبوسات چیونگسم اور ہانفوفخر سے پہنتے ہیں۔ یہ امتزاج اس بات کا ثبوت ہے کہ جدیدیت کے طوفان کے باوجود روایت اپنی جڑوں میں زندہ ہے۔ اس کے برعکس پرتگال میں لباس مکمل طور پر مغربی ہے، مگر ان کے کپڑوں کے رنگ اور ڈیزائن ایک خاص شوخی اور خوش مزاجی لیے ہوتے ہیں۔ وہ چاہے سادہ لباس پہنیں، مگر مسکراہٹ اور اعتماد ان کے وجود کو ایسا روپ عطا کرتے ہیں جو کسی زیور سے کم نہیں۔ یہی فرق ان دونوں تہذیبوں کے اندازِ زیست میں بھی جھلکتا ہے
    اب بات کریں مذہب اور روحانیت کی تو دونوں ملکوں کے رویے ایک دوسرے سے بالکل جدا دکھائی دیتے ہیں۔ چین میں بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس کی تعلیمات اب بھی لوگوں کی روزمرہ زندگی میں جھلکتی ہیں۔ یہاں مذہب کو عبادت سے زیادہ اخلاقیات اور فلسفہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے چینی لوگوں کی گفتگو، ان کے صبر، اور ان کی خاموشی میں ایک عجیب سا وقار محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پرتگال میں کیتھولک عیسائیت کی گہری جڑیں ہیں۔ چرچ کی گھنٹیاں دن کے سکوت کو توڑ کر ایک روحانی فضا قائم کر دیتی ہیں۔ وہاں کی عبادت گاہیں صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی مراکز بھی ہیں، جہاں لوگ مل بیٹھتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اور اپنی روح کو سکون دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جگہ مذہب اور روحانیت اپنی شکل میں مختلف ضرور ہیں، مگر مقصد ایک ہی ہے۔ دل کے اضطراب کو سکون دینا اور زندگی کو معنویت عطا کرنا۔ پرتگال کے چرچوں کی گھنٹیاں مجھے اذان کی یاد دلاتی ہیں ۔ ہر گھنٹہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں مساجد سے گونجتی اذان کی آواز میں کتنا سکون تھا ۔
    ادب اور فنون کا ذکر نہ کیا جائے تو دونوں تہذیبوں کی تصویر ادھوری رہتی ہے۔ چین کا ادب اور شاعری صدیوں پرانا خزانہ ہے۔ لی بائی اور دو فو کی شاعری ان کے دل کی گہرائیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ خطاطی ان کے فن کا زیور ہے۔
    پرتگال کا ادب لوئیس دی کاموئش کی نظموں اور فادو کی دھنوں میں زندہ ہے۔ پرتگالی ادب میں سمندر کا استعارہ ہر جگہ دکھائی دیتا ہے، جیسے وہ اپنی روح کو پانی سے جوڑ بیٹھے ہوں۔ چین میں قدیم شاعری اور خطاطی کو ایسی عظمت حاصل ہے جیسے یہ وقت کو روکنے والی کوئی قوت ہو۔ چین کا ادب اجتماعیت اور فلسفے کی گہرائی سکھاتا ہے، جبکہ پرتگال کا فن انسان کے دل میں چھپے دکھ اور خوشی دونوں کو آواز دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کی فنی روایات ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، مگر دونوں انسان کی روح کو چھو جانے والی تاثیر رکھتے ہیں۔
    قدرتی مناظر کی بات کی جائے تو دونوں ملک اپنی اپنی جگہ جادوئی دلکشی رکھتے ہیں۔ چین کے پہاڑ، دریاؤں کے کنارے اور کھیتوں کی وسعت محنت اور جدوجہد کی علامت ہیں۔
    پرتگال کے ساحل اور غروبِ آفتاب سکون اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔ وہاں بیٹھ کر لگتا ہے جیسے سمندر ہر دکھ کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔
    لزبن کے قریب سمندر پر بیٹھ کر جب سورج آہستہ آہستہ پانی میں ڈوبتا ہے تو لمحہ بھر کے لیے محسوس ہوتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے اور کائنات نے اپنی ساری رنگینی اس منظر پر لٹا دی ہے۔ چین کے پہاڑ حوصلے کا استعارہ ہیں تو پرتگال کے ساحل سکون کا پیغام یوں دونوں کی خوبصورتی دل کو دو مختلف مگر یکساں حسین انداز میں چھو لیتی ہے۔
    چین اور پرتگال، دونوں اپنی روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی پہچان رکھتے ہیں مگر انداز مختلف ہے۔ چین میں روایت ہر گلی میں جھلکتی ہے۔کہیں قدیم معبد کی گھنٹیوں کی آواز میں، کہیں تائی چی کرتے بزرگوں کے سکون بھرے ہاتھوں میں۔ لیکن ساتھ ہی جدیدیت کی رفتار اتنی تیز ہے کہ انہی پرانی عمارتوں کے سائے میں فلک بوس ٹاور کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے روایت اور جدیدیت ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اس کے برعکس پرتگال میں یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہیں۔ پرانی پتھریلی گلیاں اور جدید کیفے ایسے لگتے ہیں جیسے روایت اور جدت ایک ہی میز پر بیٹھ کر دوستانہ گفتگو کر رہے ہوں۔ پرتگال میں جدت پرانے کو مٹاتی نہیں، بلکہ اسے ساتھ لے کر چلتی ہے۔
    چین جہاں ہر سال نئی فلک بوس عمارت کھڑی ہوتی ہے، ہر سڑک کے ساتھ نیا مال، اور ہر شہر میں نئی ٹرین۔ جدت نے قدامت کو ایک کونے میں سجا دیا ہے۔ پرانے محلے اکثر گر کر نئی تعمیر کو جگہ دے دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے چین کہتا ہے: “ماضی کو یاد رکھو، مگر حال کی رفتار میں رکو مت۔
    میں جب پہلی بار میں دیوار چین پر کھڑی ہوئی تو سوچا یہ صرف اینٹوں کی دیوار نہیں، بلکہ محنت، دفاع اور عزم کی علامت ہے۔ صدیوں پہلے تعمیر ہونے والی یہ دیوار آج بھی چین کے حوصلے کا ثبوت ہے۔ اسی طرح بیجنگ کے “فوربڈن سٹی” میں گھومتے ہوئے مجھے لگا جیسے میں بادشاہوں اور شہنشاہوں کے زمانے میں پہنچ گئی ہوں۔ یہاں ہر پتھر اور ستون ایک کہانی سناتا ہے۔ چین کی تہذیب ہزاروں سال پر محیط ہے، اور یہ لوگ اپنی ترقی کے باوجود اپنے ماضی کو بھولے نہیں۔
    پرتگال کا قصہ مختلف ہے۔ جب میں لزبن کی قدیم عمارتوں کے سائے میں چلتی ہوں تو مجھے مسلمانوں کی یاد آتی ہے، جنہوں نے آٹھ سو سال یہاں حکومت کی۔ پرتگال کی زبان، فنِ تعمیر اور کھانوں میں عرب اثرات آج بھی جھلکتے ہیں۔ الفاما کی تنگ گلیاں، گرجا گھروں کے پہلو میں کھڑی مساجد کی پرانی بنیادیں، اور محراب دار کھڑکیاں مجھے اپنے ہی ماضی کی جھلک دکھاتی ہیں۔
    چین کی ترقی آج دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ وہاں کی تیز رفتار ٹرینیں، جدید ٹیکنالوجی، اور عالمی معیشت میں ان کا مقام حیران کن ہے۔ مگر ساتھ ہی مجھے خوشی ہوتی ہے کہ اس دوڑ میں بھی ان کے لوگ مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ میں نے اکثر اجنبی چہروں سے مسکراہٹ پائی، اور چھوٹے شہروں میں بزرگوں کو صبح کے وقت تائی چی کرتے دیکھا جیسے وہ اپنے ماضی اور حال کو ایک ہی لَے میں باندھتے ہوں۔
    پرتگال اس دوڑ میں چین کے مقابلے میں سست ہے، مگر اس کا حسن اسی سست روی میں ہے۔ وہاں شام ڈھلتے ہی لوگ کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے ہیں، فادو کی موسیقی سنتے ہیں، اور زندگی کو ایک فن کی طرح برتتے ہیں۔ ان کے پاس دنیا کو حیران کرنے کے لیے فلک بوس عمارتیں نہیں، مگر وہ اپنے سمندر، اپنی تاریخ اور اپنی خاموشی کو ایک خزانے کی طرح سنبھالے ہوئے ہیں۔
    ویزے کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستانی شہریوں کے لیے چین کا ویزا نسبتاً آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پرتگال یا دیگر یورپی ممالک کے شینگن ویزے کے لیے زیادہ دستاویزات اور تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایک مشکل اور صبر آزما پروسیس ہوتا ہے ۔
    میں جب ان دونوں ملکوں کا موازنہ کرتی ہوں تو سوچتی ہوں
    چین مجھے سکھاتا ہے کہ خواب بلند رکھو اور ان کے لیے دن رات محنت کرو، اور پرتگال مجھے یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف محنت نہیں، سکون اور خوبصورتی بھی انسان کا حق ہیں۔ مگر ہر روشنی کے بعد دل سب سے زیادہ اپنے پاکستان کی یاد میں بہک جاتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ یہ تجربات اور رنگ اپنے اندر سمیٹ کر اپنی مٹی، اپنی زبان، اپنی گلیوں اور اپنے لوگوں کی محبت میں واپس لوٹ آؤں، کیونکہ میری اصل پہچان یہی ہے ۔

  • امریکا سے کراچی آمد ،مختلف مشاعروں میں شرکت…حمیرا گل تشؔنہ

    امریکا سے کراچی آمد ،مختلف مشاعروں میں شرکت…حمیرا گل تشؔنہ

    زندگی کب اور کیسے آپ کو کہاں لے آتی ہے آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ویسے تو میں امریکہ میں ہوتی ہوں تو وہیں کے حوالے سے لکھتی ہوں لیکن اپنے پڑھنے والوں کو یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ گزشتہ دنوں میری والدہ، مزاح نگاروشاعرہ “ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ” کے انتقال کے بعد اس وقت میں مختصر پاکستانی دورے پر ہوں۔ اس لیے آپ لوگوں کے ساتھ اس وقت کراچی میں ہونے والی سرگرمیوں کا احوال بیان کروں گی۔

    بیاد ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ تعزیتی ریفرنس اور کراچی میں منعقدہ دیگر تقریبات کا احوال۔

    ترقیءِ شعرا ویلفیٸر آرگناٸزیشن:
    کراچی کی ادبی کمیٹی ترقیءِ شعرا ویلفیٸر آرگناٸزیشن کے زیرِ اہتمام والدہ کے لیے تعزیتی ریفرنس و مشاعرہ بیادِ “ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ” بروز اتوار 3 اگست 6 بجے شام بہادر یار جنگ اکیڈمی میں منعقد کیا گیا۔
    جس کی صدارت دنیاۓ اردو کے نام ور شاعر، نقاد اور محقق ڈاکٹر شاداب احسانی نے فرمائی اور مہمانِ خصوصی معروف مزاح نگار اصغر خان جب کہ مہمانانِ اعزاز ساکنانِ شہرِ قاٸد عالمی مشاعرہ کمیٹی کے منتظمِ اعلیٰ محمود احمد خان تھے۔
    تقریب میں امریکا سے تشریف لاٸی ہوٸیں ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ کی دُختر “حمیرا گل تشنہ” نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
    تعزیتی ریفرنس اور مشاعرے میں شعرا و شاعرات نے ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ کو خراجِ عقیدت پیش کیے اور اپنے کلام کی خوشبو سے محفل کو مہکایا۔ شگفتہ یاسمین نے نظامت کے فرائض ادا کیے۔ شعراء میں شامل وقار زیدی، شاعر علی شاعر، عظیم حیدر سید، شگفتہ شفیق، یاسمین یاس، حمیدہ کشش، عینہ میر عینی، عاشق شوکی، علی کوثر، عرفانہ پیرزادہ ردا، فرحانہ اشرف فرحانہ، کامران مغل، جیا علی، عکسہ حسین اور سلمان رضا شریف شامل رہے۔
    تنظیم کے صدر آفتاب عالم قریشی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور طعام کی دعوت دی۔

    کراچی گورنر ہاؤس مشاعرہ:
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی میزبانی میں گورنر ہاؤس میں 5 اگست کو جشن آزادی معرکہ حق مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مشاعرے کو ساکنان شہر قائد کے منتظم اعلی محمود احمد خان نے نہایت شاندار انداز میں آرگناٸز کیا۔
    مشاعرے میں ملک و بیرون ملک کے ممتاز شعرا نے شرکت کی اور اردو ادب، حب الوطنی اور یکجہتی کا یہ حسین امتزاج دیکھنے کو ملا جو کہ قابل ستائش تھا۔
    محمود احمد خان کراچی کی جانی مانی شخصیت ہیں اور لوگ ان کو ساکنان شہر قائد کے حوالے سے جانتے ہی ہیں لیکن گورنر ہاؤس مشاعرہ کو آرگنائز کرنے کا مطلب عوام ہی نہیں کراچی کے سیاسی لیڈر بھی مشاعروں کے انعقاد پر محمود احمد خان پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
    مشاعرے کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی۔ کلام پیش کرنے والوں میں فہد علی، حیدر رضوی، حمیرا گل تشؔنہ(امریکا)، وجیہہ ثانی، عبدالرحمن مومن، منصور ساحر، کامران نفیس، عمبرین حسیب عمبر، ارسلان عاظمی، ناصرہ زبیری، اختر سعیدی، خالد عرفان، فاضل جمیلی، اقبال خاور، جاوید صبا، اقبال پیرزادہ، صابر رضوی، اور انور شعور شامل تھے۔ ان تمام شعرا کو سماعت کیا گیا اور دل کھول کر داد بھی دی گئی۔
    گورنر ہاؤس کو عوام کے کھول دینا ایک بڑا معرکہ ہے جسے کامران خان ٹیسوری نے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا ہے۔

    ایک دن کنزیومرواچ کے ساتھ:
    کنزیومرواچ کے ایڈیٹر نشید آفاقی نے ہمیں کنزیومرواچ کے دفتر دورے کے لیے مدعو کیا۔
    جہاں ہماری ملاقات شیخ راشد عالم سے ہوئی۔ جب ہم شیخ راشد عالم کے دفتر پہنچے تو موقع پر معروف تجزیہ کار غازی صلاح الدین، سینئر صحافی حنیف عابد اور ایڈیٹر نشید آفاقی و دیگر بھی موجود تھے۔ غازی صلاح الدین کو جیسے ہی علم ہوا کہ ہم شاعرہ تو بے دھڑک بولے، “اچھا، لگتی نہیں ہو شاعرہ”۔ دفتر میں موجود سبھی لوگوں کے قہقہے بلند ہوئے۔ پھر صلاح الدین خفیف سا ہوکر دوبارہ بولے، “وہ دراصل تم چھوٹی سی ہو اور ہمارے ہاں شاعرات کافی پختہ عمر کی ہوتی ہیں۔” ہم ان کی سادہ بیانی نے خاصہ محظوظ کیا۔ کافی دیر سب سے حالات حاضرہ پر گفتگو رہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ کے لیے خصوصی دعا کی اور بعد نماز مغرب سب نے رخصت لی ۔ شیخ راشد عالم صاحب نے تفصیل سے کنزیومرواچ واچ اور اپنے دیگر کاروباری سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی ہمیں اپنی ٹیم کے ساتھ ہونے والے ڈنر کی دعوت بھی دی جو کہ قریبی ریستوران میں طے شدہ تھی۔ شیخ راشد عالم کی محبت و خلوص کو دیکھتے ہوئے ہم لاکھ چاہنے کے باوجود ان کی دعوت سے انکار نہیں کر سکے۔ ہمیں کیوں کہ کنزیومرواچ واچ کے آفس سے ایک مشاعرے میں شرکت کرنا تھی اس لیے ہم نے اپیٹائزر کے بعد سب سے رخصت لی۔ اور ایک خوبصورت دن کی یادیں اپنے ساتھ لیے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔

    آرٹس کونسل، گل رنگ مشاعرہ:

    کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام جشن آزادی مشاعرہ بروز منگل 12 اگست رات 8 بجے حلقہ گل رنگ میں منعقد کیا گیا۔ جسے سہیل احمد نے بہت محنت و محبت سے سجایا۔ جس میں ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا اور ہمیں بصور ان کی دختر دعا میں شامل ہونے کے لیے خاص مدعو کیا۔
    مشاعرے کی صدارت صغیر احمد جعفری نے کی اور مہمان خصوصی ڈاکٹر افتخار ملک ایڈوکیٹ اور ڈاکٹر نثار احمد نثار تھے۔
    سید عبدالباسط نے نظامت کے فرائض ادا کیے۔ سینیئر خصوصی شعراء میں سحر علی، مقبول زیدی، عظمی اسمعیل، عارف شیخ عارف، انجم جاوید شامل تھے جنھون نے سامعین مشاعرہ سے خوب داد سمیٹی۔

    روٹری مشاعرہ:
    کراچی کی روٹیری کمیٹی کے زیر اہتمام جشن آزادی مشاعرہ بروز اتوار 16 اگست 8 بجے رات رشین سینٹر آف سائنس اینڈ کلچر میں منعقد کیا گیا۔ جسے روٹیری کی پوری ٹیم نے ہی اور شازیہ عالم شازی نے بہت محبت و محنت سے سجایا۔
    مشاعرے کی صدارت جاوید صبا نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر فاضل جمیلی جلوہ افروز رہے۔
    عبد الرحمن مومن نے نظامت کے فرائض بہت خوبصورتی سے ادا کیے۔ شعراء میں شامل خلیل اللہ فاروقی، سلمان صدیقی، عبدالحکیم ناصف، ناصرہ زبیری، فرخ اظہار، وجیہہ ثانی، حمیرا گل تشؔنہ(امریکا)، گل افشاں، سلمان ثروت، مسرور پیرزادہ، شازیہ عالم شازی، اشعر عالم عماد نے سامعین مشاعرہ سے خوب داد سمیٹی۔

  • بگ باس 19 کا آغاز: شو کے فارمیٹ میں کیا خاص تبدیلی کی گئی ہے؟

    بگ باس 19 کا آغاز: شو کے فارمیٹ میں کیا خاص تبدیلی کی گئی ہے؟

    ممبی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت کے مقبول ریئلٹی شو ’’بگ باس 19‘‘ کا آغاز ہوگیا ہے جس کی میزبانی ہمیشہ کی طرح سلمان خان کررہے ہیں۔شو کے میزبان سلمان خان نے 24 اگست کو بگ باس 19 کا آغاز ایک سیاسی تھیم والے شو کے ساتھ کیا۔ یہ بگ باس کا 19واں سیزن ہے اور اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ شو کو پہلے او ٹی ٹی پر دکھایا جا رہا ہے۔ اس سال کی تھیم ’’گھر والوں کی سرکار‘‘ ہے، جس کے تحت شرکا کو فیصلے کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔بگ باس نے اس سال اعلان کیا ہے کہ وہ کم سے کم مداخلت کریں گے اور زیادہ تر اختیارات گھر والوں کو دیے جائیں گے۔ کانسیپٹ کے مطابق شرکا کو فیصلے کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ ووٹنگ کا حق ناظرین کے پاس رہے گا۔یہ پہلا موقع ہے کہ بگ باس کا کوئی سیزن پہلے او ٹی ٹی پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ٹی وی پر پیش کیا جائے گا، یوں 18 سالہ روایت ٹوٹ گئی ہے جس میں یہ شو ہمیشہ سب سے پہلے ٹی وی پر آتا رہا۔گھر کے مہمانوں میں اداکارہ اشنور کور، ذیشان قادری، تانیا متل، نغمہ میراجکر، آویز دربار، نیہال چداسما، بصیر علی بوب، ابھیشیک بجاج، گورو کھنہ، پولینڈ سے تعلق رکھنے والی نتالیا اینجل، اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے، فرحانہ بھٹ، نیلم گری، کونیکا سدآنند، مریدل اور گلوکار امل ملک شامل ہیں۔اس سیزن میں دو شرکا کے نام پہلے ہی ظاہر کردیے گئے تھے جس میں سے کسی ایک کو عوام کی ووٹنگ سے گھر میں داخل ہونا تھا۔ اس مقابلے میں یوٹیوبر مریدل اور اداکارہ شہناز گل کے بھائی شہباز کا نام شامل تھا۔ ’’جنتا کی چوائس‘‘ میں شہباز گل کو قابل ذکر ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ گھر میں داخل نہ ہوسکے۔اطلاعات کے مطابق سلمان خان شو کو 15 ہفتوں تک ہوسٹ کریں گے، جس کے بعد دیگر مہمان میزبان ذمے داری سنبھالیں گے۔ انیل کپور اور فرح خان جیسے ناموں کا بھی چرچا ہے۔یہ بھی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے لیجنڈ ’’انڈر ٹیکر‘‘ اور باکسنگ لیجنڈ مائیک ٹائسن سیزن کے دوران بطور وائلڈ کارڈ انٹری بھی شرکت کرسکتے ہیں۔

  • کراچی: ڈرگ روڈ انڈر پاس میں بس کی 2 موٹر سائیکلوں کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق، ڈرائیور گرفتار

    کراچی: ڈرگ روڈ انڈر پاس میں بس کی 2 موٹر سائیکلوں کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق، ڈرائیور گرفتار

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) ڈرگ روڈ انڈر پاس میں پیش آنے والے ٹریفک میں حادثے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فرخ کے مطابق افسوسناک ٹریفک حادثہ ڈرگ روڈ انڈر پاس میں پیش آیا جس دوران مسافر بس نے 2 موٹر سائیکلوں کو ٹکر مار دی۔ایس ایس پی ایسٹ کا بتانا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ حادثے میں ایک خاتون بھی زخمی ہوئی۔پولیس کے مطابق بس کو ناتھا خان سےتحویل میں لےکرڈرائیورکو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ زخمی خاتون کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

  • کراچی سمیت سندھ میں 27 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کا امکان ختم

    کراچی سمیت سندھ میں 27 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کا امکان ختم

    کراچی سمیت سندھ میں 27 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کا امکان ختم ہوگیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق فی الحال شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، اگست کے آخر تک سندھ میں بھی تیز بارش کا امکان نہیں ہے۔محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان رہے گا۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق آج پنجاب بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • پاکستان ریلوے کا کراچی سے لاہور بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ، ٹرین کی رفتار کیا ہوگی؟

    پاکستان ریلوے کا کراچی سے لاہور بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ، ٹرین کی رفتار کیا ہوگی؟

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان ریلوے نے کراچی سے لاہور کے درمیان تیز رفتار بلٹ ٹرین چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے اپنی ایک رپورٹ میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ریلوے سال 2030 تک کراچی سے لاہور کے درمیان تیز رفتار بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حنیف عباسی نے بتایا کہ 1215 کلومیٹر طویل ہائی اسپیڈ ریل لائن سی پیک منصوبے کے تحت 6.8 ارب ڈالر کی لاگت سے اپ گریڈ ہونے والی کراچی سے پشاور مین لائن ون ( ML-1) کا حصہ ہوگی۔ریڈیو پاکستان کے مطابق کراچی سے لاہور کے درمیان چلنے والی یہ ٹرین 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گی جب کہ حیدرآباد، ملتان اور ساہیوال میں اس ٹرین کے اسٹاپ ہونگے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو چین کی مدد سے مکمل کیا جائے گا اور اس میں چائنا ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن بھی شامل ہوگی جب کہ منصوبے کے تحت ریلوے کے ڈبل ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا، نئے پلوں کی تعمیر ہوگی اور جدید سگنل سسٹم کا نظام بھی لگایا جائے گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کراچی سے روہڑی تک ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کیلئے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

  • رانا ثنا کے گھر حملے کا کیس: عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت 59 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا

    رانا ثنا کے گھر حملے کا کیس: عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت 59 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا

    فیصل آباد(کنزیومرواچ نیوز) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کو رانا ثنا کے گھر پر حملے سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 59 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 16 ملزمان کو 3، 3 سال قید کی سزائیں سنائیں جبکہ 34 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مجموعی طور پر 75 ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں، تمام ملزمان کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئیں۔عدالت کی جانب سے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کو 10، 10 برس قید کی سزائیں سنائی گئیں ان میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، شیخ راشد شفیق، رائے مرتضیٰ اقبال اور کنول شوزب سمیت دیگر شامل ہیں۔اسماعیل سیلا، عنصر اقبال، بلال اعجاز، اشرف سوہنا، مہر جاوید اور شکیل نیازی کو بھی 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ جبکہ فواد چوہدری، زین قریشی سمیت 34 افراد کیس سے بری ہونے والوں میں شامل ہیں۔یاد رہے کہ فیصل آباد میں 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمات میں 4 مقدمات درج ہوئے تھے جس میں سے 3 کے فیصلے پہلے سنا دیے گئے تھے۔چوتھا مقدمہ رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملے اور توڑ پھوڑ کا سمن آباد تھانے میں درج ہوا تھا جس میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سمیت 109 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

  • ٹیکس چوروں کو پکڑنے کیلئے نجی شعبے کے مخبروں کی مدد لینے پر غور

    ٹیکس چوروں کو پکڑنے کیلئے نجی شعبے کے مخبروں کی مدد لینے پر غور

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کیلئے نجی شعبے کے مخبروں کی مدد لینے پر غور شروع کر دیا۔متعدد سالوں کے وقفے کے بعد ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے ساتھ ایف بی آر ممکنہ ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے مقصد سے مستند معلومات حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے کے مخبروں کو اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔ایف بی آر نجی شعبے کی مخبر کمپنیوں کی مدد سے ٹیکس چوروں سے وصول کی گئی رقم کا ایک مخصوص فیصد ان کے ساتھ شیئر کرے گا، جو کہ ٹیکس چوری شدہ رقم کی مقدار کے لحاظ سے 5 سے 10 فیصد کے درمیان ہوگا۔

  • بابر اور رضوان کے ٹیم سے باہر ہونے پر شاہین آفریدی کا ردعمل سامنے آگیا

    بابر اور رضوان کے ٹیم سے باہر ہونے پر شاہین آفریدی کا ردعمل سامنے آگیا

    شارجہ(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا ایشیا کپ میں پاکستانی اسکواڈ میں بابر اعظم اور محمد رضوان کی غیر موجودگی پر ردعمل سامنے آگیا۔بابر اور رضوان جو 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے ہر بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے لیکن بری فارم کی وجہ سے دونوں دسمبر 2024 میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے بعد سے مختصر فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم سے باہر ہیں۔بابر اعظم اور رضوان کو ایشیا کپ اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا جس پر ان کے مداحوں اور سابق کرکٹرز نے سخت ردعمل دیا، تاہم شاہین نے نوجوان کھلاڑیوں کی حمایت پر زور دیا لیکن بابر اور رضوان کو ورلڈ کلاس پلیئرز قرار دیا۔شاہین نے جمعہ کو شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری ٹریننگ سیشن کے دوران کہا کہ میں بھی شاید مستقبل میں ٹیم کا حصہ نہیں رہوں ، سب کو موقع ملنا چاہیے۔ بابر اور رضوان نے پاکستان کے لیے اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور ان شاءاللہ دوبارہ کھیلیں گے لیکن نوجوانوں کو بھی موقع ملنا چاہیے اور ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔اس کے علاوہ شاہین آفریدی نے کہا کہ ایشیا کپ میں ہونے والے بڑے میچ کےلیے بہت اچھی تیاری ہو رہی ہے ، تین ملکی سیریز بھی ایشیا کپ کی تیاری میں مدد گار ثابت ہو گی، ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی ٹیم آسان نہیں ہوتی ۔فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیم کا پہلا ٹارگٹ سہ ملکی سیریز اور پھر ایشیا کپ ہدف ہے ۔ٹیم میں اختلافات سے متعلق باتیں باہر سے سنتے ہیں ، ٹیم میں ایسا کچھ نہیں ہے ،فیملی میں بھی چھوٹی موٹی چیزیں ہو جاتی ہیں ، لیکن یہ فیملی میں ہی رہنی چاہئیں ، ہمارا کام کرکٹ کھیلنا ، پاکستان کو خوشیاں دینا ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان ایشیا کپ سے قبل افغانستان اور میزبان متحدہ عرب امارات کے خلاف سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلے گا جو 29 اگست سے 7 ستمبر تک جاری رہے گی۔جس کے بعد 9 ستمبر سے ایشیا کپ شروع ہوگا۔