کوالالمپور(کنزیومر واچ نیوز)ملائیشیا کی ریاست ترنکگا نور نے بغیر شرعی عذر کے نماز جمعہ نہ پڑھنے والے مردوں کیلئے 2 سال قید اور 3ہزار رنگٹ ( 2 لاکھ پاکستانی روپے) کے جرمانے کی سزا کا اعلان کر دیا۔العربیہ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ملائیشین اسلامی پارٹی (پی ایس اے) کے زیر انتظام ریاست ترنکگا میں رواں ہفتے اعلان کیا گیا کہ ایک مرتبہ بھی جمعے کی نماز چھوڑ دینا قابل سزا جرم تصور کیا جائے گا۔اعلان کے مطابق ایسے شخص کو شریعت کے تحت سزا کے طور پر 2 سال قید اور 3 ہزار رنگٹ کا بھاری جرمانہ یا دونوں میں سے کوئی بھی ایک سزا سنائی جائے گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل اس ریاست میں 3 مرتبہ نماز جمعہ چھوڑ دینے والے افراد کو سزا دی جاتی تھی۔ریاستی حکام کے مطابق نماز چھوڑنے والے مردوں کے خلاف عوامی رپورٹس یا گشتوں کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس حوالے سے ترنکگانو ریاستی ایگزیکٹو کونسل کے رکن محمد خلیل عبدالہادی کاکہنا ہے کہ ’سزا سے قبل یاددہانی اہم ہے کیونکہ جمعے کی نماز نہ صرف ایک مذہبی علامت ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان فرمانبرداری کا اظہار بھی ہے‘۔محمد خلیل عبد الہادی کا مزید کہنا تھا کہ ’جمعے کی نماز نہ پڑھنے والوں کو سزا صرف اس صورت دی جائے گی جب لوگوں کو جمعے کی نماز پڑھنے کی یاد دہانی دی جائے لیکن اس کے باوجود وہ نماز ادا نہ کریں‘۔
Blog
-

کراچی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ کب تک جاری رہیگا؟
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ وقفے وقفےسے جاری رہنے کا امکان ہے۔ترجمان کے مطابق شہر میں کل صبح ہلکی بارش یا بونداباندی ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھرمیں مون سون سسٹم 23 اگست تک اثرانداز رہنےکا امکان ہے، اس کے بعد27 اگست سے ایک بار پھر کراچی سمیت سندھ میں بارشیں متوقع ہے، بارش کا یہ سسٹم 30 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، سسٹم کے قریب آنے کے بعد ہی حتمی پیشگوئی کی جاسکے گی۔شہر میں گزشتہ روز کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش ہوئی، ڈرگ روڈ، اسٹیڈیم روڈ، موسمیات، یونیورسٹی روڈ اور شارع فیصل ایف ٹی سی سمیت کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ شہر میں بارشوں سے کلفٹن کے علاوہ دیگر انڈر پاس بند ہیں جب کہ کورنگی ندی اور کازوے روڈ بھی بند ہے۔ کراچی میں منگل اور بدھ کو بارش کے باعث مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی جب کہ 6 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔
-

نو مئی کے مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور
اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)سپریم کورٹ نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 9 مئی کے مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کی۔قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں کیس سننے والے بینچ میں تبدیلی کی گئی اور تین رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا۔
دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ کل طبیعت ناسازی کے باعث پیش نہیں ہو سکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کوئی بات نہیں۔
چیف جسٹس کے استغاثہ اور عمران خان کے وکیل سے 2 سوالات
چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ دونوں سے عدالت کے دو سوالات ہیں، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھا ہو گا۔
پہلا سوال! کیا ضمانت کیس میں حتمی فائنڈنگ دی جا سکتی ہے؟
دوسرا سوال! ماضی میں سازش کے الزام پر سپریم کورٹ نے ملزمان کو ضمانت دی، کیا تسلسل کا اصول اس کیس پر اپلائی ہوگا؟
اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا ضمانت کیس میں عدالت کی آبزرویشن ہمیشہ عبوری نوعیت کی ہوتی ہے، عدالتی آبزرویشن کا ٹرائل پر کوئی فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ نے ضمانت سے متعلق گائیڈ لائنز دی ہوئی ہیں جو کبھی فالو ہوتی ہیں کبھی نہیں ہوتیں۔
پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے سپریم کورٹ کا ضمانت سے متعلق فیصلہ پڑھا۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے اعجاز احمد چوہدری کیس میں ضمانت منظوری کا فیصلہ عدالت میں پڑھا۔
اپنے کیس کو سازش کے دیگر کیسز سے الگ ثابت کریں، چیف جسٹس کا استغاثہ سے مکالمہ
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق کیسز میں ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے پڑھ کر آئیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کیس میں سازش کی بات کرتے ہیں، کوئی ایسا کیس ہے جس میں سازش ہوئی ہو اور ضمانت مسترد ہوئی ہو؟
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا حال ہی میں سپریم کورٹ میں جتنے سازش سے متعلق کیس آئے ان میں ضمانت منظور ہوئی ہے، سپریم کورٹ نے ایسے ہی الزام کے 3 کیسز میں ضمانتیں منظور کی ہیں، اپنے کیس کو سازش سے متعلق دیگر کیسز سے الگ ثابت کریں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق ضمانت منظور ہونے والےکیسز میں ثبوت نہیں ہوں گے، موجودہ کیس میں سوشل میڈیا پر سازش سے متعلق ثبوت موجود ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا آپ لوگوں نے ضمانت کی اسٹیج پر میرٹ پر بات نہیں کرنی۔
کیس کے میرٹس ٹرائل کورٹ نے خود طے کرنے ہیں: جسٹس یحییٰ آفریدی
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بولے میرے پاس سازش سے متعلق ضمانت کے تمام کیسز موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے اسپیشل پراسیکیوٹر کوضمانت مسترد سے متعلق فیصلے کی تفصیلات دینے کی ہدایت کی اور کہا پراسیکیوٹر سپریم کورٹ کے ایسےکیس کا حوالہ دیں کہ سازش کے الزام میں ضمانت منسوخ ہوئی ہو، سازش کے جن 3 مقدمات میں ضمانت دی۔
استغاثہ ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ان میں نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا سازش کے جرم کے مقدمات میں ضمانت نہ دینا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیس کے میرٹس پر کسی فریق کو نہیں سنیں گے، دونوں فریقین سمجھ لیں کیس کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دیں گے، میرٹس ٹرائل کورٹ نے خود طے کرنے ہیں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک فیصلے میں فریم ورک طے کیا، فیصلے میں قرار دیا گیا ضمانت کیس میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں، 1996 اور 1998 میں یہی اصول اپنایا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں۔ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا عدالتی فیصلوں میں قرار دیا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں، 2022 میں محمدرفیق بنام اسٹیٹ کیس میں بھی یہی اصول طے کیا گیا۔
آپ کے پاس ملزم کیخلاف ثبوت ہے؟ چیف جسٹس کا اسپیشل پراسیکیوٹر سے سوال
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیا آپ کے پاس ملزم کے خلاف ثبوت موجود ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا 3 گواہان کا بیان ہے، فوٹو گریمیٹک، وائس میچنگ ٹیسٹ موجود ہے۔پراسیکیوٹر ذوالفقارنقوی نے کہا واٹس ایپ میسجز موجود ہیں، ہائیکورٹ نےکہا تھا ٹرائل کورٹ میں مختلف ٹیسٹ کےحوالے سے درخواست دیں، ٹرائل کورٹ نے ٹیسٹ لینے کی اجازت دی لیکن جیل میں ملزم نے تعاون نہیں کیا۔سپریم کورٹ نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد 9 مئی کے 8 مقدمات میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کر لی۔ -

اسلام آباد میں بونیر جیسے سیلاب کے خطرہ ہے،ماہر ماحولیات
اسلام آ باد (کنزیومر واچ نیوز)ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے اسلام آباد میں بونیر جیسے خطرناک سیلاب کی وارننگ دے دی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا کہ پہاڑوں پر کرشنگ ہورہی ہے اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں جگہ پہاڑوں کو توڑا جارہا ہے، جس کے باعث پتھر سیلابی پانی کے ساتھ پہاڑوں سے نیچے گرتے ہیں اور انسانی آبادیوں کو تباہ کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے نالوں کی صفائی اور محکموں میں درست لوگوں کی تعیناتی ہونی چاہیے اورکلائمٹ چینج پر وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح کا مکالمہ ہونا چاہیے۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے وزیر ناصر شاہ نے کہا ہےکہ کراچی کے نالوں کی ڈرینج گنجائش 40 ملی میٹر ہے، اس لیے شہر میں 200 ملی میٹر کی بارش کنٹرول نہیں ہوسکتی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بارشوں کا رواں سلسلہ 10ستمبر تک رہے گا۔ مصدق ملک نے خبردار کیا کہ اگلا مون سون زیادہ شدت والا ہوگا، 15 دن پہلے شروع ہوگا، اگلے مون سون کی تیاری آج سے ہونی چاہیے۔
مزید خبریں :
-

کراچی میں موسلادھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ، گھروں میں پانی داخل، بجلی غائب
کراچی:(کنزیومر واچ نیوز)مون سون کے طاقتور سسٹم کے زیر اثر کراچی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا، جس کے سبب مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔شہر میں دوپہر کے وقت دوبارہ کالی گھٹائیں چھا گئیں جس سے بیشتر علاقوں سرجانی ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، قیوم آباد، گلستان جوہر، ملیر، شارع فیصل، ناظم آباد، نیو کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی۔موسلادھار بارش کے سبب شہر کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ گلشن حدید میں ایک گھنٹے سے موسلادھار بارش سے گلیاں زیر آب آگئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا، لوگ اپنا قیمتی سامان محفوظ جگہ ٹھکانے لگانے لگے۔حسن اسکوائر، نیپا چورنگی، ضیاء کالونی، گلشن شمیم، لیاقت آباد 10 نمبر، جیل چورنگی، کارساز، کورنگی اور ایکسپریس وے سمیت متعدد مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوگیا، جس کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی۔شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔بلدیہ میں 68، بن قاسم میں 52، ڈیفنس میں 50، گلشن اقبال میں 46، گلستان جوہر میں 62، کورنگی میں 59، اورنگی میں 82، سوسائٹی میں 68، سرجانی میں 57، لیاقت آباد، ناظم آباد اور اوتھل بلوچستان میں 17 فیڈرز اور پی ایم ٹی ٹرپ کر گئے۔فیڈرز کی بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا، کے الیکٹرک کی ٹیکنیکل ٹیموں کو گراوٴنڈ کلیئرنس نہ ملنے پر بحالی میں تاخیر ہو رہی۔ مختلف علاقوں میں انڈر گراونڈ کیبل فالٹس اور سب اسٹیشن میں پانی بھرنے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا شکار ہے۔نیو کراچی، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، گلستان جوہر، پی آئی بی کالونی، جمشید روڈ، اولڈ سٹی ایریا، محمود آباد، کورنگی، لانڈھی اور شاہ فیصل سمیت متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔سندھ سیکریٹریٹ کی بیرک نمبر 84 کی چھت بارش کے باعث گر گئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ بیرک 84 میں رورل ڈویلپمنٹ کا دفتر موجود ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے شدید بارشوں کے پیش نظر ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے، شدید بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اربن فلڈ سے بچاؤ کے لیے نالوں اور ڈرینج سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی ادارے کوآرڈینیشن میں رہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ٹریفک پولیس کو نشیبی اور مصروف مقامات پر الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔انہوں نے ہدایت کہ بارش کے دوران ٹریفک پولیس عوام کی بھرپور رہنمائی کرے، بجلی کے کھمبوں اور کمزور انفرا اسٹرکچر سے دور رہیں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آئندہ تین روز طوفانی بارش کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقوں میں طاقتور مون سون ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے تحت منگل سے جمعرات کے درمیان کراچی میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر درمیانی اور کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
-

اسلام آباد، پشاور اور سوات سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے جڑواں شہروں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، ایبٹ آباد اور چترال محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تھا۔زلزلہ صبح 10 بج کر 20 منٹ پر آیا جس کی ریکٹر اسکیل پر گہرائی 190 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگ گھروں، دفاتر اور دکانوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
-

چوری کے بعد چوروں کا انوکھا کام، متاثرہ فیملی خوف میں مبتلا
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)گلشن حدید میں نامعلوم ملزمان گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کرکے لے گئے۔پولیس کے مطابق گلشن حدید فیز ٹو میں ایک انوکھی چوری کی واردات سامنے آئی۔ملزمان نے گھر کی دیواروں اور ڈریسنگ ٹیبل پر کارٹون اور نقش و نگار بھی بنائے، ملزمان نے خواتین اور بچوں کی تصویروں پر سرخ نشان بھی لگائے جس سے متاثرہ فیملی میں خوف و حراس پھیل گیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ چور لاکھوں روپے مالیت کے کپڑے، آرٹیفیشل جیولری، موبائل فون اور اسمارٹ واچ لے اڑے۔ واقعے کے بعد متاثرہ فیملی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے جب کہ فیملی نے واقعہ کے خلاف اسٹیل ٹاؤن تھانے میں درخواست جمع کرائی ہے۔
-

سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان سے چوہا نکل آیا
اسلام آباد :(کنزیومر واچ نیوز) سینیٹ اجلاس کے دوران ا یوان میں چوہا نکل آیا۔ذرائع کے مطابق ایوان بالا میں اجلاس کے دوران چوہا نکل آنے پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پوائنٹ آؤٹ کیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ توجہ دلانا چاہتا کہ ایوان میں چوہا گھوم رہا ہے۔اس موقع پر پریزائیڈنگ افسر دنیش کمار نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ یہ چوہا ہے یا چوہیا ہےجس پر خوب قہقہہ لگ گئے۔ بعد ازا ں سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ ایوان کا ماحول کتنا خوشگوار ہے۔
-

سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان: بابر اور رضوان کی بھی تنزلی
لاہور(کنزیو مر واچ نیوز) پی سی بی نے 2025-26 کے لیے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان کردیا۔قومی کرکٹ ٹیم کا کوئی کرکٹر اے کیٹیگری کا اہل قرار نہیں پایا جس کے باعث بورڈ نے سینٹرل کانٹریکٹس سے اے کیٹیگری کو ختم کردیا۔پی سی بی نے 30 کھلاڑیوں کو کانٹریکٹس دیے جن میں پرفارمنس کی بنیاد پر کیٹیگری بی، سی اور ڈی میں 10،10 کھلاڑی رکھے گئے ہیں جب کہ کانٹریکٹس یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک لاگو ہوں گےگزشتہ سال 27 کھلاڑیوں کو کانٹریکٹ دیے گئے تھے اور اس سال تعداد بڑھ کر 30 ہوگئی ہے، جب کہ رواں برس 12 نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹس کو حتمی شکل دینےکے احکامات جاری نئے کھلاڑیوں میں احمد دانیال، فہیم اشرف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد عباس، محمد حارث، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان، سلمان مرزا اور صوفیان مقیم کو نئے کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے۔9 کھلاڑی اپنی سابقہ کیٹیگری برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ 8 کھلاڑی کانٹریکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اے کیٹیگری ختم:
رواں برس اے کیٹیگری میں کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا اسی لیے یہ کیٹیگری فی الحال ختم کردی گئی، گزشتہ برس اے کیٹیگری میں بابر اعظم اور محمد رضوان کو شامل کیا گیا تھا۔اس سال نسیم شاہ بی سے سی کیٹیگری میں آگئے، بی کیٹیگری میں شامل ٹیسٹ کپتان شان مسعود بی سے ڈی کیٹیگری میں آگئے۔

