Blog

  • راولاکوٹ میں گاڑی نالے میں بہنے اور دریائے نیلم میں گاڑی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    راولاکوٹ میں گاڑی نالے میں بہنے اور دریائے نیلم میں گاڑی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    مظفرآباد(کنزیومر واچ نیوز)راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں گاڑیوں کے حادثات میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق راولا کوٹ میں پونچھ یونیورسٹی کے تراڑ کیمپس کے قریب کار نالے میں بہہ گئی جس کے نتیجے میں پونچھ یونیورسٹی کی خاتون لیکچرار جاں بحق ہوگئیں۔پولیس کا کہنا ہےکہ لیکچرار کی گاڑی تراڑ کیمپس کے قریب نالے سے گزر رہی تھی کہ گاڑی بند ہوگئی، اس دوران نالے میں زیادہ پانی آنے کی وجہ سے گاڑی بہہ گئی، حادثے میں جاں بحق خاتون گل لالہ کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی علاقے کھڑک سے تھا۔پولیس کا بتانا ہے کہ نالہ تراڑ میں بہہ جانے والی گاڑی میں ڈاکٹر گل لالہ بھی موجود تھیں جن کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب پولیس کا بتانا ہے کہ گریس ویلی میں گاڑی دریائے نیلم میں گرگئی جس سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

  • صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، کئی گھر ڈوب گئے، 15 افراد جاں بحق

    صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، کئی گھر ڈوب گئے، 15 افراد جاں بحق

    صوابی(کنزیومر واچ نیوز) کلاؤڈ برسٹ اور لینڈسلائیڈنگ نے ہر طرف تباہی مچا دی، سیلابی ریلوں کے باعث کئی گھر ڈوب گئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر ودیگر حادثات 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔
    ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے کئی گھر ڈوب گئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ سے سیلابی ریلے کا بہاؤ بہت تیز ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔
    ڈی سی صوابی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیموں کو بلا لیا گیا ہے۔
    اسپتال ذرائع کے مطابق صوابی کے علاقے سرکوئی پایاں میں مکان کی چھت گرنے سے دو خواتین اور دو بچے جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوئے۔
    سیلاب میں پھنسی خواتین اور 50 بچوں کو ریسکیو کیا گیا، چیف سیکرٹری کے پی
    چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے بتایا کہ صوابی میں سیلاب میں پھنسے پانچ خاندانوں کی خواتین اور 50 بچوں کو ریسکیو کیا گیا، پھنسے افراد نے گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کی چھتوں پر پناہ لی ہوئی تھی۔
    شہاب علی شاہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو لائف جیکٹس، رسیوں اور کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا، دوبرئی گاؤں میں کلاوڈ برسٹ سے چار افراد جاں بحق ہوئے، سیلاب میں پھنسے 25 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے صوابی میں امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
    سوات میں بارشوں سے 400 مکانات اور 124 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے: انتظامیہ
    دوسری جانب شدید بارش کے باعث سوات کے علاقے ظاہر آباد، شہید آباد، مکان باغ، ملا بابا، محلہ بنگلادیش، رحیم آباد، کوکورائی، منگلور، بشنبڑ اور شگئی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ مکان باغ، سیدو شریف روڈ اور ملا بابا سمیت کئی علاقوں میں 4 روز سے بجلی بند ہے، 4 روز بعد بھی ملا بابا روڈ ٹریفک کے لیے بحال نہ ہو سکی، پینے کا صاف پانی نایاب ہو چکا ہے جبکہ نکاسی نہ ہونے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔
    ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ سوات میں بارش سے 400 مکانات متاثر ہوئے، کئی گھر مکمل طور یر تباہ ہو گئے، 124 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے جبکہ 3 مکمل تباہ ہوئے۔
    مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو کلاوڈ برسٹ کے بعد طوفانی بارش سے 22 افراد جاں بحق ہوئے، متاثرہ علاقوں تک رسائی اورمدد کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ملک بھر میں اب تک 660 اموات رپورٹ ہو چکیں: این ڈی ایم اے
    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں میں اب تک 660 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں سے 392 اموات خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 164، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

  • برلن  کانفرنس،یورپ کا واضح پیغام،یوکرین کی سرحدوں پر کوئی سمجھوتا نہیں، تحریر سرور غزالی

    برلن کانفرنس،یورپ کا واضح پیغام،یوکرین کی سرحدوں پر کوئی سمجھوتا نہیں، تحریر سرور غزالی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوٹین کے مابین الاسکا میں جمعہ 15 اگست کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس ملاقات سے پہلے ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی جنگ بندی کا فیصلہ اس ملاقات میں صدر پوٹین سے مل کر طے کروا دیں گے۔
    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی سرگرمی کے دوران ہی یہ کہا تھا کہ وہ صدر منتخب ہوتے ہی پوٹین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یوکرین کی جنگ بندی کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔
    یوں بھی جب سے صدر ٹرمپ کو نوبل امن کے انعام کی لالچ دی گئی ہے وہ گاہے بگاہے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے انہیں امن کا داعی قرار دے کر نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا جائے۔
    حالانکہ انہوں نے اسرائیل کے بار بار اصرار پر ایران پر بمباری بھی کروائی جو کہ ان کے امن مشن کے بالکل برخلاف بات تھی اور اس وجہ سے ان کا ایمیج کافی خراب بھی ہوا۔ ڈونل ٹرمپ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی افق پر بہت متنازع شخصیت اور اپنی بات سے پھر جانے والے شخص کے طور پر ابھر کر سامنےآئے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ مغربی ممالک کا کوئی ایسا اہم سربراہ اپنی بات سے اتنی جلدی پھر جاتا ہو یا اپنی بات کو خود ہی رد کر دیتا ہو۔
    یوکرین کی جنگ بندی کے سلسلے میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف رویے سامنے آئے ہیں کبھی وہ پوٹین کو اپنا دوست کہتے ہیں اور کبھی وہ ایک ایسا بیان داغ دیتے ہیں جیسے روس ان کا سب سے بڑا دشمن ہو۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایسے فوجی اقدامات بھی کروائے جن سے محسوس ہوتا تھا کہ شاید عنقریب کوئی جنگ امریکہ اور روس کے مابین چھڑ جائے گی۔ مگر اب وہ ایک بار پھر روس سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں اور پہلے کی طرح ایک بار پھر وہ یوکرین کو اس لا ئحہ عمل کا حصہ بنائے بغیر بالا بالا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر پوٹین کے ساتھ ملاقات اور اس کا ایجنڈا طے ہونے کے بعد، جب یوکرائین کی صدر نے اپنے اعتراضات داخل کیے، اور یہ کہا کہ وہ کسی ایسی جنگ بندی کو نہیں قبول کریں گے، جس میں انہیں اپنے ملک کے کچھ حصے سے روس کے حق میں دستبردار ہونا پڑے۔ تو جوابا” صدرٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس میٹنگ میں یورپ اور یوکرین کو شامل کیے بغیر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس بیان سے نہ صرف یوکرائن بلکہ پورے مغربی یورپ میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ یورپ کا یوکرین کی جنگ بندی کے سلسلے میں اپنا ایک موقف ہے اور وہ یہ کے یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روس یوکرین کے ان سارے علاقوں کو خالی نہ کر دے جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جبکہ روس ان علاقوں کو جہاں کی زبان بھی روسی ہے اپنا اٹوٹ حصہ مانتا ہے اور ان علاقوں کو کسی طور بھی خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔
    صدر ٹرمپ کے اس اعلان کی مخالفت میں یورپ کے مختلف ممالک کے صدور نے نہ صرف اپنے اپنے بیانات دیے بلکہ پہلے، یورپین یونین کی ایک یوکرینی معاملات پر گفتگو کے لیے کانفرنس بلائی گئی۔ جس میں تمام ممالک اس بات پہ متفق ہوئے کہ روس سے کوئی معاہدہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک وہ یوکرین کے علاقے خالی نہیں کر دیتا۔ ما سوائے ہنگری کے صدر کے تمام ممالک کا یہی فیصلہ تھا جبکہ ہنگری نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
    یہی نہیں اس موقف کے سب سے بڑے داعی جرمنی کے چانسلر میرز نے یہ کیا کہ ایک فوری طور پر برلن میں کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں پولینڈ اٹلی فرانس یوکرین اور جرمنی کے صدور شامل ہوئے اور انہوں نے باضابطہ طور پر یوکرین کی مزید مالی امداد کے اعلان کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ ایسی کسی بھی شرط کو یورپ ماننے سے انکار کرتا ہے جس میں یوکرین کو اپنے علاقے سے دستبردار ہونا پڑے۔ اسی کانفرنس کے دوران مسٹر میرز نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ان لائن میٹنگ میں جس میں یوکرین کہ صدر زیلنسکی بھی شامل تھے صدر ٹرمپ سے یہ وعدہ لیا کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جس میں یوکرائن کو اپنے علاقے سے دستبردار ہونا پڑے۔ اپنے ان رویوں، کانفرنس اور اعلانیہ سے یورپ نے یہ مطالبہ امریکہ اور روس کے سامنے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں رکھ دیا ہے کہ یوکرین سمیت یورپ کو ایسا کوئی بھی معاہدہ جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوٹین کے مابین طے پائے اور جس کے تحت یوکرین کو اپنے علاقوں سے دستبردار ہونا پڑے قبول نہیں ہے۔
    تجزیہ نگاروں کا کہنا یہ بھی ہے کہ یورپ کے اس غیر لچکدار رویے کے نتیجے میں یورپ ایک دفعہ پھر سے جنگ عظیم دوئم کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جس میں دنیا کی کئی بڑی طاقتیں یورپ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر رہی تھیں۔ ان تمام یورپین سرگرمیوں کہ نتائج سے ایک بات واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور پروٹین کے مابین نہ تو کوئی حتمی فیصلہ ہو پائے گا اور نہ ہی یوکرین اور روس کی جنگ جو کہ عرصہ تین سال سے جاری ہے بند ہو سکے گی۔ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل پرائز کا ملنا بھی مشکوک ہو جائے گا۔

  • کنیکٹی کٹ میں یوم آزادی کی شاندار تقریب…حمیرا گل تشنہ

    کنیکٹی کٹ میں یوم آزادی کی شاندار تقریب…حمیرا گل تشنہ

    14 اگست، پاکستان لیے ایک جوش و جذبے سے بھرا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور اپنے عظیم وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔ اور یہی وہ دن ہے جب دیار غیر میں بسنے والے اپنے ملک کو بہت یاد کرتے ہیں۔ اس سلسلےمیں، پاکستانی تنظیم PAACT (امریکی ایسوسی ایشن آف پاکستان) نے کنیکٹی کٹ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی یومِ آزادی کی شاندار تقریب کا اہتمام کیا، جس میں مقامی پاکستانی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہ صرف قومی یکجہتی کا مظہر تھی بلکہ ثقافتی روایات، قومی ترانے اور پاکستان سے محبت کے جذبات سے بھی لبریز تھی۔
    امریکا کے شہر کنیکٹی کٹ میں پاکستانی آرگنائزیشن امریکن ایسوسی ایشن آف کنیکٹی کٹ(PACCT) کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کا جھنڈا کنیکٹ ٹی کٹ کے دارالحکومت کی عمارت پر بلند کیا گیا۔ جسے دیکھ کر ایک سرور کی سی کیفیت طاری ہونا شاید فطری سے بات ہے۔
    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول پیش کی گئی۔ اس کے بعد PACCT کے صدر ظہیر شرف نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے یومِ آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستانی نوجوان نسل کو اپنی ثقافت اور تاریخ سے جوڑے رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور PACCT کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتایا۔
    تقریب کا سب سے جذباتی لمحہ پاکستان کے قومی ترانے کی صورت میں آیا، سب سے پہلے آمریکا کا قومی ترانہ کھرے ہوکر سنا گیا اور پھر تمام شرکاء نے کھڑے ہو کر ترانہ پاکستان سنا اور گایا۔ اس موقع پر پاکستانی پرچم کو بھی سلامی دی گئی، جس نے تمام حاضرین کے دلوں میں حب الوطنی کی لہر دوڑا دی۔ بچوں، جوانوں اور بزرگوں سب کی آنکھوں میں پاکستان کے لیے محبت اور فخر جھلک رہا تھا۔
    تقریب میں لوٹیننٹ گورنر سوزن Lt. Governor) Suzen) نے آکر پاکستانی کمیونٹی کو بہت سراہا اور بے نظیر بھٹو کی وجہ سے پاکستان کو بے حد پسند کرنے کی وجہ بیان کی اور کئی معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی، جنہوں نے پاکستانی امریکی کمیونٹی کے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے PACCT کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
    تقریب کے دوران PACCT کی جانب سے گزشتہ دنوں کی جانے والی کمیونٹی پکنک میں PAACT کی کرکٹ ٹیم کو جیت کی ٹرافی دی گئی اور تمام ٹیم کو میڈل پہنائے گئے۔ اقر مزید ان افراد اور خاندانوں کو اعزازات سے نوازا جنہوں نے کمیونٹی کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
    کنیکٹی کٹ میں رہنے والے بے شمار پاکستانیوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ خواتین نے ہرے اور سفید رنگوں کے لباس پہنے، تو حضرات بھی پیچھے نہ رہے اور پاکستانی جھنڈے کی قمیض زیب تن کی۔ اور جس نے پاکستانی جھنڈے کے رنگ کا لباس نہیں پہنا اس نے پاکستان کا بیج لگائے رکھا۔
    تقریب کا اختتام پاکستان کے لیے اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا، جس میں ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کی دعا کی گئی۔ PACCT کے اراکین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا۔
    آنے والے تمام احباب کو لنچ باکس تقسیم کیے گئے جس کے بعد سب لوگ عمارت سے باہر آگئے۔ کئی لوگوں نے واپسی کی راہ لی کیوں کہ چھٹی کا دن نہیں تھا۔ باہر آکر پاکستانی پرچم دارالحکومت کی عمارت پر سر بلند کیا گیا۔ اس دوران خواتین مل کر ملی نغمے گاتی رہیں اور ہاتھوں میں لیے پاکستان اور امریکہ کے جھنڈے لہراتی رہیں۔ مرد حضرات پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گفتگو میں مصروف رہے اور لوگوں سے ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
    PACCTکی جانب سے منعقدہ یہ تقریب نہ صرف پاکستانی ثقافت اور روایات کی عکاس تھی، بلکہ اس نے کنیکٹی کٹ میں بسنے والے پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ یہ تقریب ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی جہاں بھی ہوں، اپنی ثقافت اور وطن سے محبت ان کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ زندہ باد پاکستان

    پاکستان زندہ باد!

  • لزبن کی گلیوں سے پرتگال کے ساحل تک(ارم زہرا)

    لزبن کی گلیوں سے پرتگال کے ساحل تک(ارم زہرا)

    پورتو سے نکلتے وقت مجھے لگا جیسے میں اپنی پرانی ڈائری کا ایک باب بند کر کے، ایک نئے باب کے صفحے پر قلم رکھ رہی ہوں۔ صبح کی ہلکی بادلوں میں لپٹی ہوئی ریل کی کھڑکی سے گزرتے مناظر جیسے کسی پرانے البم کی تصویریں تھے۔ سبز پہاڑ، سنہری کھیت، اور کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے قصبے، جیسے کسی شاعر کے مصرعے میں چھپی ہوئی تشبیہیں۔ چار گھنٹوں کا سفر تھا، مگر دل میں ایک عجیب سا اشتیاق، کہ لزبن کی گلیاں اس بار بھی ویسی ہی ہیں یا کچھ بدل گئیں ہیں ؟ اس شہر کی ہوا کس لہجے میں ہمارا استقبال کرے گی؟
    ریل لزبن کے سانتا اپولونیا اسٹیشن پر رکی تو دریا کی خوشبو سب سے پہلے محسوس ہوئی۔ مگر یہ دریا نہیں، دریا نما سمندر تھا۔ دریائے ٹیگس (Tagus) جو اوقیانوس سے گلے ملتا ہے۔ ہوا میں نمکین مہک اور ہلکی سی نمی، جیسے سمندر نے پورے شہر کو اپنی بانہوں میں لیا ہوا ہو۔
    ہم سب سے پہلے الفاما (Alfama) پہنچے ۔ لزبن کا سب سے پرانا محلہ۔ یہاں کی گلیاں اتنی تنگ کہ اگر ایک طرف سے بلی گزرے تو دوسری طرف کھڑا شخص اس کی مونچھوں کی گدگدی محسوس کر سکتا ہے۔ پتھریلے فرش پر قدم رکھتے ہی لگا جیسے میں صدیوں پیچھے جا چکی ہوں۔ یہیں پرانی عمارت کی بالکونی میں ایک عورت کپڑے لٹکا رہی تھی، نیچے ایک چھوٹا سا کیفے تھا ، جہاں کچھ سیاح کافی پی رہے تھے ۔ دو لوگ بیٹھے فادو گا رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں اداسی نہیں، بلکہ ایک پرانی کہانی کا مٹھاس بھرا دکھ تھا۔
    میں جب بھی لزبن آتی ہوں یہاں کے اونچے نیچے راستوں اور گلیوں میں کھو جاتی ہوں ۔ہم الفاما کی اونچی ڈھلوانوں پر چلتے چلتے ساؤ جارج قلعہ تک پہنچ گئے ۔ قلعے کی دیواروں پر ہاتھ رکھا تو پتھروں کی ٹھنڈک میں تاریخ کی حرارت محسوس ہوئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کبھی عرب مور بھی رہے، پھر پرتگیزی بادشاہوں کے جھنڈے لہرائے۔ اوپر سے پورا لزبن نظر آ رہا تھا۔ سرخ ٹائلوں کی چھتیں، نیلا دریا، اور دور پہاڑوں پر ہلکا سا دھند کا پردہ۔
    اگلا پڑاؤ ہمارا بیلم (Belém) تھا، جہاں تاریخ اور سمندر کا رشتہ سب سے گہرا ہے۔ بیلم ٹاور (Belém Tower) جیسے کسی پرانی داستان کا کردار، جو صدیوں سے دریا کی نگرانی کر رہا ہو۔ یہ وہی ٹاور ہے جہاں سے پرتگیزی مہم جو سمندروں کی مہمات پر نکلتے تھے۔ تھوڑا آگے جرونیموس خانقاہ (Jerónimos Monastery) اپنی سفید پتھروں کی نقاشی کے ساتھ کھڑی تھی، جیسے کسی ماہر خطاط نے سنگِ مرمر پر قرآنی آیات کی جگہ پھول اور بیل بوٹوں کا جال بُن دیا ہو۔
    لزبن کی فضا میں ایک عجیب کھلا پن ہے۔ جیسے شہر نے سمندر سے سیکھا ہو کہ ہر سمت سفر کی اجازت ہے۔ یہاں کی زبان، موسیقی، رقص، حتیٰ کہ عمارتوں کی رنگت بھی سمندری ہواؤں کی طرح آزاد ہے۔ سڑکوں پر ٹرامیں چلتی ہیں، اور پیلے رنگ کی ٹرام نمبر 28 تو خود ایک چلتی پھرتی تاریخ ہے، جو پرانے محلوں سے گزرتی ہوئی آج کے شور میں داخل ہو جاتی ہے۔
    لزبن کا سفر ذائقوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ پاسٹل دی ناتا (Pastel de Nata) کریم سے بھرا چھوٹا سا میٹھا ٹارٹ بار بار کھانے سے بھی دل نہیں بھرتا۔ یہ ٹارٹ جیسے دھوپ کو کسی نے چینی میں ڈبو کر پلیٹ میں رکھ دیا ہو۔ بیلم کے مشہور بیکری سے لیا ہوا یہ میٹھا، باہر سے خستہ اور اندر سے نرم، جیسے پرتگالی مزاج کا خلاصہ۔
    دوپہر کے کھانے میں بکالہاؤ (Bacalhau) خشک اور نمکین مچھلی آئی۔ کہا جاتا ہے کہ پرتگیزی اس مچھلی کو بنانے کے ہزار طریقے جانتے ہیں۔ میرے سامنے پلیٹ میں یہ زیتون کے تیل، آلو اور پیاز کے ساتھ تھا، اور ساتھ میں گرین ٹی یقینا چاہینہ واپسی پر یہ کھانا مجھے یاد آئے گا۔
    ہمارے ارد گرد سیاح اور مقامی لوگ بیٹھے تھے ۔ سب ایک ہی لہجے میں ہنس رہے تھے، جیسے اس شہر نے سب کو اپنا ہم زبان بنا دیا ہو۔
    رات کو ہم پھر الفاما کی طرف لوٹے ، کیونکہ دل چاہ رہا تھا کہ فادو کو ایک بار پھر سنیں ۔ ایک چھوٹے سے ریسٹورینٹ میں، موم بتیوں کی روشنی میں، ایک درمیانی عمر کی عورت نے گٹار کے ساتھ گانا شروع کیا۔ اس کی آواز میں سمندر کی گہرائی اور بچھڑنے کا دکھ، دونوں ایک ساتھ تھے۔ ہر لفظ دل پر دستک دے رہا تھا، اور لمحہ لمحہ میں اس شہر کے دل کے قریب آتی جا رہی تھی۔
    لزبن مجھے ہمیشہ ایک ایسے بزرگ کی طرح لگتا ہے ، جس نے دنیا دیکھی ہے، محبتیں کی ہیں، بچھڑنے کے زخم کھائے ہیں اور اب سمندر کے کنارے بیٹھ کر سب یادیں ہوا کے حوالے کر رہا ہے۔ یہاں کی گلیاں، کھڑکیاں، دروازے، سب اپنے اپنے قصے سنانے کو بے تاب ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ شہر اپنے ماضی پر فخر بھی کرتا ہے اور حال کی چہل پہل کو بھی گلے لگاتا ہے۔ میں جان چکی تھی کہ سمندر اور ہوا کی گود میں لپٹے اس شہر کو محسوس کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ دھیرے چلنا، سننا، اور ہر ذائقے کو چکھ کر یاد میں محفوظ کر لینا۔
    ابھی پچھلے دن کی تھکن باقی تھی، مگر لزبن کی ہوا نے صبح کے وقت ہی دل میں ایک عجب تازگی بھر دی۔ میں بالکونی پر کھڑی تھی، اور نیچے سڑک پر پہاڑی ڈھلان سے چڑھتی پیلی ٹرام 28 کو دیکھ رہی تھی۔ میرے شوہر نے پیچھے سے آ کر ہلکے سے میرا شانہ تھپتھپایا “چلو، آج شہر ہمیں بلا رہا ہے۔” میں نے مسکرا کر بیگ سنبھالا اور ہم دونوں نکل پڑے۔
    ہم نے ٹرام سے بیلم کی طرف سفر کیا۔ کھڑکی سے باہر سمندر کا کنارہ ساتھ ساتھ چل رہا تھا، جیسے وہ بھی ہمارے ہمسفر ہو۔ بیلم ٹاور کے پاس پہنچے تو ہوا نمکین اور ٹھنڈی تھی۔ ہم دونوں نے دریا کے کنارے کھڑے ہو کر دیر تک پانی کو آتے جاتے دیکھتے رہے۔ اس کے بعد ہم ساؤ جارج قلعہ کی جانب بڑھ گئے ۔
    ساؤ جارج قلعہ کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر مجھے یوں لگا جیسے میں لزبن کی صدیوں پر پھیلی سانسوں کو سن رہی ہوں۔ نیچے شہر کی سرخ چھتیں، جنہیں سورج کی کرنیں چمکا رہی تھیں اور دور دریا میں ہلکی ہلکی لہریں۔ ہوا کے جھونکے میں جیسے موری سپاہیوں کی چاپ، اور عیسائی لشکر کے نعروں کی بازگشت تھی۔ میرا ہاتھ قلعے کی پرانی پتھریلی دیوار پر تھا، جو شاید ہزار سال سے زیادہ عرصے سے شہر کو دیکھ رہی ہے۔ میں نے سوچا شاید وقت بھی ایک محافظ ہے، جو اپنی یادوں کی فصیل میں سب کو قید کر لیتا ہے۔ ساؤ جارج قلعہ کی چڑھائی بہت مشکل کام ہے ۔
    پہاڑی راستے پر اوپر چڑھتے ہوئے میں بار بار رک کر سانس لینے لگتی۔ قلعے کی دیواروں تک پہنچے تو منظر ایسا تھا کہ ہم دونوں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے۔ نیچے لزبن اپنی سرخ چھتوں اور نیلے دریا کے ساتھ پھیلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا “ یہ جگہ مجھے کبھی نہیں بھولے گی کیونکہ یہاں دوبارہ آنا ناممکن ہے۔”
    اگلے دن ہم مِرکادو دا ربیرا (Mercado da Ribeira) گئے، جو لزبن کی سب سے بڑی فوڈ مارکیٹ ہے۔ یہاں ہر اسٹال سے خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں ۔ سیاحوں کے لیے یہ مارکیٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ سمندری جھینگے، تازہ مچھلی، پنیر، اور پرتگالی میٹھے۔ ہم نے بکالہاؤ کا ایک نیا انداز آزمایا، جو زیتون اور اجمودا (parsley) کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، “میں نے سوچا تھا شادی کے بعد تم مجھے نئے ذائقے کھلاؤ گی، یہ تو الٹا ہو گیا۔” میں نے ہنس کر جواب دیا، “محبت میں کھانے کی طرح، ہمیشہ تھوڑا سا سرپرائز ہونا چاہیے۔”
    شام ڈھلتے ہی ہم کاسکائش (Cascais) کی طرف نکل گئے، جو لزبن سے قریب ایک ساحلی قصبہ ہے۔ سمندر کی لہریں چٹانوں سے ٹکرا رہی تھیں، اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ ہم ریت پر بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رہے۔ کبھی ماضی کی، کبھی آنے والے کل کی۔ میں جب بھی سمندر کے کنارے ہوتی ہوں مجھے کراچی کا ساحل یاد آنے لگتا ہے ۔
    ہوٹل واپسی پر لزبن کی گلیاں روشنیوں سے جگمگا رہی تھیں۔ ٹرام کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے میں نے شہر کو ایک خواب کی طرح دیکھا۔ الفاما کی تنگ گلیاں، بیلم کا ٹاور، اور ساؤ جارج قلعہ، سب جیسے ہمیں الوداع کہہ رہے تھے۔ میں نے ہسبینڈ جی کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے سوچا۔ یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوگا، یہ ہم دونوں کے ساتھ سفر کرتا رہے گا۔
    اس بار لزبن کی گلیوں میں چلتے چلتے میں نے ایک عجیب بات نوٹ کی یہ شہر صرف پرتگیزی نہیں رہا، یہ تو دنیا کے کئی رنگوں کا مرکب بن چکا ہے۔ الفاما سے بیلم تک، ہر دوسرے کیفے یا چھوٹے ریستوران میں آپ کو کسی نہ کسی زبان کی جھلک مل جاتی ہے۔ اردو، پنجابی، ہندی، بنگالی، نیپالی، حتیٰ کہ افریقی لہجے کی پرتگیزی۔ ہم نے ایک شام مارٹم مونس (Martim Moniz) کے علاقے کا رخ کیا، جہاں لزبن کی سب سے بڑی جنوبی ایشیائی آبادی رہتی ہے۔
    یہاں کے بازار میں ہم نے خود کو کسی کراچی، لاہور یا دہلی کے گلی کوچے میں پایا۔ مصالحوں کی خوشبو، رنگ برنگے کپڑوں کی دکانیں، اور گلی میں بیٹھے چائے والے کی آواز “چاے، چاے!” سب جیسے ایک پل میں مجھے اپنے وطن لے گئے۔ ایک دکان میں داخل ہو کر میں نے پشاوری چپل کو ہاتھ میں لیا تو دکاندار، جو پشاور کا نکلا، ہنس کر بولا “باجی، یہ لزبن ہے مگر ہمارا دل ابھی بھی خیبر پختونخوا میں دھڑکتا ہے۔”
    ہم نے اس شام ایک پاکستانی فیملی کے ساتھ چائے پی۔ باتوں باتوں میں بات نکلی کہ پرتگال کی امیگریشن پالیسی کچھ عرصے سے بدل گئی ہے۔ پہلے یہاں آ کر ویزا اور ریذیڈنسی کے کاغذات بنوانا نسبتاً آسان تھا۔ خاص طور پر جنوبی ایشیائی مزدور طبقے کے لیے۔ مگر اب حکومت نے نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ درخواستوں کا عمل لمبا ہو گیا ہے، کام کے پرمٹ اور ریذیڈنسی حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اور غیر قانونی طور پر آنے والوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔
    اب صرف پاسپورٹ کا انتظار ہی نہیں، ویزوں کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ نئے آنے والوں کے لیے ملازمت کا معاہدہ، رہائش کا ثبوت، اور کاغذی شرائط ایسی ہیں کہ کئی لوگ راستے ہی میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔ پرتگال میں پہلے تو پانچ سال بعد شہریّت کا دروازہ کھلتا تھا، اب دس سال کا انتظار ہے۔ لوگ تھک جاتے ہیں… اور پھر اسپین یا جرمنی چلے جاتے ہیں۔ جہاں کاغذ بنانے میں آسانی ہے۔ وہاں کام بھی زیادہ ہے اور تنخواہیں بھی۔
    میں نے سوچا، شاید پرتگال کا دروازہ اب سب کے لیے کھلا نہیں رہا، بلکہ ایک تنگ گلی بن گیا ہے جس سے گزرنے والے چند ہی ہیں۔ یہاں
    ہم نے دیکھا کہ ایشیائی کمیونٹیز صرف رہ نہیں رہیں بلکہ شہر کی ثقافت میں رنگ بھر رہی ہیں۔ لزبن کے فوڈ مارکیٹ میں اب سموسے اور حلیم بھی ملتے ہیں، ساتھ پرتگالی پاسٹل دی ناتا۔ کئی ریسٹورانٹ ایسے ہیں جہاں ایک ہی ٹیبل پر کوئی پرتگیزی سیاح مچھلی کھا رہا ہے اور ساتھ والے ٹیبل پر ایک بھارتی فیملی بریانی۔
    “یہی تو لزبن کی خوبصورتی ہے۔ یہ شہر سمندر سے آیا، مگر اب ہر ملک کا ایک چھوٹا سا ساحل یہاں موجود ہے۔” میں نے سوچا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں رہنے والے اپنے وطن سے جڑاؤ رکھتے ہیں مگر لزبن کو بھی اپنا لیتے ہیں۔
    رات کو ہم بائیکسا (Baixa) کے علاقے سے گزرے۔ ہر طرف روشنی اور موسیقی تھی، مگر غور سے سنیں تو گلی کے ایک کونے میں اردو گانا چل رہا تھا، دوسرے میں افریقی ڈھول، اور بیچ میں کوئی فادو گا رہا تھا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا، “یہ شہر اب کسی ایک زبان کا نہیں رہا، یہ تو کئی دھڑکنوں کا مجموعہ ہے۔” انہوں نے سر ہلا کر کہا، “شاید اسی لیے یہاں کی ہوا میں اتنی زندگی ہے، چاہے قوانین بدل جائیں یا وقت۔” یہ یہاں آنے والوں کو اپنا لیتا ہے ۔
    واپسی پر ٹرام سے شہر دیکھتے ہوئے مجھے لگا کہ لزبن ایک خوبصورت مگر صبر آزمانے والا شہر ہے۔ یہاں کے قلعے، ٹائلوں سے سجی دیواریں، اور سمندر کی ہوا سب مسافر کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، مگر اب یہ کشش وقت اور محنت کے امتحان سے گزرتی ہے۔ میں نے اپنے ہسبینڈ سے کہا ، “شاید یہ شہر اب خوابوں کو آسانی سے قبول نہیں کرتا۔”
    وہ مسکرا کر بولے، “لیکن جو یہاں رک جائیں… وہ لزبن کی کہانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہاں آنے والے ہر شخص کی اپنی کہانی ہے، کچھ خوشیوں سے بھری، کچھ جدوجہد سے، مگر سب ایک ہی آسمان کے نیچے سانس لے رہے ہیں۔
    ہم نے ہوٹل واپسی پر دریائے ٹیگس کے کنارے دیر تک بیٹھے روشنیوں کو پانی میں جھلملاتے دیکھا۔ “شاید وقت بھی ایک مسافر ہے، جو ہر بدلتے شہر میں اپنا چہرہ نئے رنگ سے رنگ دیتا ہے۔” اور لزبن اس وقت ایک ایسا رنگ تھا جس میں سمندر کا نیلا، پرتگالی ٹائلوں کا سفید، اور ہمارے وطن کے گلی کوچوں کا سرخ مٹیالا رنگ سب شامل تھے۔

  • (میڈ ان پاکستان ہمارا وژن)  وائپر نے اے آئی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قومی پرچم سربلند کر دیا،خوشنود آفتاب

    (میڈ ان پاکستان ہمارا وژن) وائپر نے اے آئی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قومی پرچم سربلند کر دیا،خوشنود آفتاب

    30 سال پہلے لوگ ٹیکنالوجی کی بات نہیں کرتے تھے مگر مجھے ٹیکنالوجی میں آنے کا شوق ہوا اور میں نے اس فیلڈ کو اپنا کیریئر بنایا
    وائپر کے مونوگرام کے نیچے لکھا ہے Pakistani Proudly، فخر ہے ہم نے اپنی پہچان ایک پاکستانی کمپنی کے طور پر کروائی

    اے آئی،مصنوعی ذھانت پاکستان کا مستقبل ہے،وائپر اکیڈمی نئی نسل میں AI کی نالج منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے

    وائپر کے کمپیوٹر ز،لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس ودیگر پروڈکٹس اعلی معیار کی حامل ہیں، گروپ چئیرمین وائپر خوشنود آفتاب کا انٹرویو

    رپورٹ:نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
    فوٹو گرافی:حسنین احمد

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وائپر کے گروپ چئیرمین خوشنود آفتاب حب الوطنی کے سچے جذبے سے سرشار ہیں
    آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے کروا رہے ہیں جن کی رگ رگ میںپاکستانیت خون بن کر دوڑ رہی ہے یہ ہیں میڈ ان پاکستان (Made in Pakistan ) وژن کے خالق خوشنود آفتاب جو وائپر کے گروپ چئیرمین ہیں،خوشنود آفتاب کی بصیرت
    اتنی بلند ہے کہ وہ ماضی میں بھی پاکستان سے چائنا جانے والے سرکاری وفد کا حصہ تھے اور حالیہ دنوں میں بھی وہ چائنا جانے والے سرکاری وفد کا حصہ ہیں وزیراعظم پاکستان کے ساتھ جانے والا یہ وفد آئی ٹی منسٹر کی سربراہی میں چینی حکام و آئی ٹی ماہرین سے مذاکرات میں حصہ لے گا اس موقع پر توقع ہے کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت AI اور ہائی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی دلانے کے انقلابی پروگرام کی جانب مثبت پیش رفت ہوگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وائپر کو برانڈ ایوارڈ ملا تو مجھے لگا کہ آسکر ایوارڈ مل گیا،خوشنود آفتاب
    وائپر کو برانڈ ایوارڈ ملا تو مجھے لگا کہ مجھے آسکر ایوارڈ مل گیا ہے پہلے ایوارڈ کے بعد بھی ہمیں مسلسل دو سال ایوارڈ ملے ہم نے ِ2025 کے لئے بھی ریکویسٹ کی ہے کہ ہمیں ایوارڈ دیا جائے اگر کوئی ہم سے بہتر ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر ہم میریٹ پر پورے اترتے ہیں تو ہمیں ضرور ایوارڈ دیا جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں اور یہ کس طرح آپ کے وژن کو تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوا؟
    جواب: میری ابتدائی تعلیم سعودی عرب میں ہوئی وہیں اعلی تعلیم حاصل کی پھرپاکستان آگیا جب میں سعودی عرب سے پاکستان آیا تو ہر شخص امپورٹڈ چیزوں کا راگ الاپتا تھا اس دوران میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں اپنے جوہر دکھا نے ہیں 30 سال پہلے لوگ ٹیکنالوجی کی بات نہیں کرتے تھے مگر مجھے ٹیکنالوجی میں آنے کا شوق ہوا اور میں نے اس کو اپنا کیریئر بنایا

    سوال۔وائپر ٹیکنالوجی شروع کرنے سے پہلے آپ کو اپنے پروفیشنل سفر میں کون سی بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا؟

    جواب۔اس زمانے میں ٹیکنالوجی کو کوئی قبول نہیں کرتا تھا جب ہم کسی پروفیشنل کے پاس جاتے اور کہتے تھے کہ بتائیے آپ نے ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے تو جواب آتا ہمیں ٹیکنالوجی کو نہیں اپنانا اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی آدمی 40 سال کا ہے اور وہ ٹیکنالوجی کی طرف آتا ہے تو اس کی جاب کا مسئلہ بن جائے گا ٖ؎ٹیکنالوجی اس کو آتی نہیں تو اگر ٹیکنالوجی کا نفاذ کیا گیا تو اس کے لیے مشکل کھڑی ہو جائے گی اس کے ذہن میں فورا آئے گا کہ نکال دیا جائے گا اور اس فرد کو رکھا جائے گا جو ٹیکنالوجی سے واقف ہوگا تو سب سے پہلے ٹریننگ اور ان کا کانسپٹ تبدیل کرنا کہ ٹیکنالوجی آپ کو آسانی دے گی اور جاب کو ختم نہیں کرے گی یہ کانسپٹ تبدیل کرنا ہمارے لیے بہت مشکل تھا

    سوال۔ وائپر ٹیکنالوجی ایک معروف برانڈ بن گیا ہے آپ کو یہ بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟

    جواب۔وائپر کو اس پوزیشن پر اللہ تعالی نے پہنچایا ابتدا میں ہماری ٹیم کے کچھ ممبران نے مشورہ دیا کہ کسی کو یہ نہ بتایا جائے کہ وائپر ایک پاکستانی برانڈ ہے انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ بتایا جائے کہ وائپر غیر ملکی برانڈ ہے اس پر ہم نے بہت مضبوط قدم یہ اٹھایا کہ ٓاج بھی وائپر کے مونوگرام کے نیچے لکھا ہے Pakistani Proudlyاس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے غیر ملکی والے آئیڈیے کو رد کردیا اور اپنی پہچان ایک پاکستانی کمپنی کے طور پر کروائی ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پاکستانی کمپنی ہونے پر ہمیں فخر ہونا چاہیے ایسے ماحول میں جہاں غیر ملکی برانڈ کو ترجیح دی جا رہی ہو ایک پاکستانی برانڈ لاؤنچ کر کے میں نے اور میری ٹیم نے ایک غیر معمولی چیلنج قبول کیا تھا ایک ایسے ماحول میں جہاں غیر ملکی برانڈ کو ترجیح دی جا رہی ہو ایک پاکستانی برانڈ لاؤنچ کر کے میں نے اور میری ٹیم نے ایک غیر معمولی چیلنج قبول کیا تھا پاکستان میں چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں بنتی مگر ہمارے فوجی ادارے جہاز، ٹینک اور دیگر ہائی ٹیکنالوجی کی چیزیں بنا سکتے ہیں تو کیاہم کمپیوٹر نہیں بنا سکتے اس چیلنج کو ہم نے قبول کیا 2000 میں پاکستان کے کمپیوٹر کے 20 برانڈز تھے آج آپ کو وائپر کے علاوہ کوئی بھی دوسرا برانڈ نہیں نظرآئے گا لوگوں نے ہمیں قبول کیا اور ہمیں کامیابی ملی

    سوال۔آپ کی کمپنی کا نام وائپر بہت منفرد ہے یہ کس کے ذہن کی تخلیق ہے؟

    جواب۔ وائپرکا نام بس اچانک ہی ذہن میں آیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ کمپنی کا نام یہی رکھا جائے گا جب ہم نے کمپنی کا آغاز کیا تو اس وقت وائپر نام کی ایک چپ مارکیٹ میں آتی تھی وائپر نام کی ایک گاڑی بھی آتی تھی جس کی رفتار بہت تیز تھی ہم نے دیکھاکہ یہ نام کسی ٹیکنالوجی میں استعمال نہیں ہو رہا تھا ہم نے اپنی کمپنی کا نام وائپر رکھا شاید اب کوئی مجھے بولے تو میں یہ نام نہیں رکھوں گا کیونکہ وی الفابیٹیکل آرڈر میں آخر میں آتا ہے اے بی سی توشروع میں آتے ہیں وائپر پر ہم نے بہت محنت کی ہمارے ساتھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور ہم یہاں تک پہنچ گئے نام منفرد ہونا بھی شاید ایک اچھائی ہے

    سوال۔ ہم نے ایٹم بم تو بنا لیا مگر دوسری طرف ہم سوئی بھی نہیں بنا سکتے ایسے ماحول میں آپ نے میڈ ان پاکستان کا تصور کیسے پیش کیا؟

    جواب۔میں ایک وفد کے ساتھ بیرون ملک کے دورے پر تھا وفد میں ایک ایکسپورٹر بھی شامل تھا ایکسپورٹر سے سوال کیا گیا کہ آپ نے سر کے بال ڈائی کیے ہوئے ہیں ڈائی سے لے کر جو جوتے آپ نے پہنے ہوئے ہیں یہ سب امپورٹڈ ہیں آپ کس منہ سے اپنے ملک کا مال بیچنے آئے ہو آپ خود اپنے ملک کا مال استعمال نہیں کرتے تو پھر ہم آپ کا سامان کیوں خریدیں یہ سب باتیں میرے ذہن میں رہ گئیں، ہم خود میڈ ان پاکستان اشیاء استعمال نہیں کرتے اور دوسروں سے کہیں کہ وہ ہماری چیزیں خریدیں تو یہ ایک انتہائی نامناسب عمل ہے میں نے میڈ ان پاکستان کا پرچم اٹھایا اور فیصلہ کیا کہ اس پرچم کو اوپر تک لے کر جائیں گے تب ہی دنیا ہم سے متاثر ہوگی اور ہماری مصنوعات خریدے گی جب ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو کیا نہیں کر سکتے اس چیلنج کو میری ٹیم نے قبول کیا الحمدللہ پہلا اے آئی ۔پی سی لاونچ کر دیا جو پہلے پاکستان میں نہیں تھا اس کے بعد دیگر برانڈز آئے، چند سال پہلے یہ سوال کیا جاتا تو ہم کہتے کہ میڈ ان پاکستان کو کوئی قبول نہیں کرتا لیکن آج ایسا نہیں ہے اس حوالے سے میں دو شخصیات کو منشن کرنا چاہوں گا، ایک آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ ہیں جو پرائم منسڑکے وژن پر پوری اتری ہیں
    کہ پاکستانی پروڈکٹس کو آگے لے کر جانا ہے ایس آئی ایف سی نے ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کا بیڑا اٹھایا، انھوں نے لوگوں کو
    سپورٹ کیا ان کا مشن ہے کہ ٹیکنالوجی کو اگلے اسٹیپ پرلے کر جائیں،ایک چھوٹی سی مثال دونگا اگر میڈ ان پاکستان نہیں ہوگا تو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔گزشتہ دنوں پیجر پھٹنا شروع ہوگئے تھے تو جہاں یہ بنتے ہیں وہاں یہ پروگرام دیا جاتا ہے کہ جب مرضی ہو پھٹ جائیں،تو کیا یہ کمپیوٹر میں نہیں ہوسکتا،جب ہم بنائیں گے تو یہ سازش نہیں ہوسکے گی۔جب ہم یہ چیزیں باہر سے منگوائیں گے تو ایسا ممکن ہے۔میں سمجھتا ہوں بات سمجھ آگئی ہوگی۔

    سوال۔خوشنود آفتاب کو،خوشنود آفتاب کس نے بنایا؟

    جواب۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بنایا میں کسی ایک شخصیت کا نام لوں گا تو دوسری شخصیت کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہے۔اللہ تعالی کی مدد سے ہم اس مقام پر پہنچے میری ٹیم بھی بہت مضبوط ہے۔میں کو فاونڈر ہوں فیصل صاحب سی او او ہیں عاصم صاحب اسکل ڈیولپمنٹ کو دیکھتے ہیں۔ہم نے ہارڈویئر سے اپنا کام شروع کیا۔اس کے بعد ہم نے ایک سو فٹ وئیر کمپنی خریدی،اور ہم نے سوفٹ وئیر پرکام شروع کردیا۔یہ میں بارہ،پندرہ سال پرانی بات کر رہا ہوں۔ہم نے سو فٹ وئیربنائے اور ایکسپورٹ کرنا شروع کئے۔مگر مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ ہمیں اسکلڈ لوگ نہیں مل رہے تھے۔اس مسئلے کودیکھتے ہوئے ہم نے اکیڈمی بنالی کہ ہم اپنے لوگ ٹرینڈ کریں گے۔ وائپر گروپ تین کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ہارڈویئر کو ایک ٹیم دیکھتی ہے۔دوسری ٹیم سوفٹ وئیر کمپنی کو چلا رہی ہے۔میرے ساتھ وائپر اسٹارٹ کرنے والے فیصل صاحب اس کمپنی کو دیکھتے ہیں۔اکیڈمی کو عاصم صاحب دیکھتے ہیں۔ہمیں وائپر کو چلانے میں پندرہ سال کا عرصہ لگا۔ہمارا پرانا تجربہ تھا اس کوہم نے اپنی دیگر دو کمپنیوں میں استعمال کیا۔اس میں ٹائم نہیں لگا اور ہم کامیابی کی طرف جارہے ہیں۔

    سوال۔ آپ نے آئی ٹی منسڑ شزا فاطمہ کا ذکر کیا وہ کیساکام کر رہی ہیں آپ چین کے دورے پر بھی جارہے ہیں اس حوالے سے بھی کچھ بتائیں؟

    جواب۔ہم لوگ پچھلے سال بھی چائنا گئے تھے۔پرائم منسٹر،کے وفد کے ساتھ منسٹر صا حبہ بھی تھیں،ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،منسٹر صاحبہ پروفیشنل لوگوں کی رائے کو اہمیت دیتی ہیں۔اور خود بھی مسائل معلوم کرتی ہیں،اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا،امریکا نے بہت زیادہ ٹیرف لگا دیا ہے،اس وقت ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ ہم ٹیکنالوجی چائنا سے لائیں پاکستان میں چیزیں بنائیں فروخت کریں اور ایکسپورٹ کریں پاکستان پر ٹیرف کم ہے۔اگر ہم یہ سب کرسکے تو ہم جیت جائیں گے۔ہم پہلے ہی ٹیکنالوجی کی فلائٹ مس کر چکے ہیں۔ہماری ایکسپورٹ اور ہمارے پڑوسی ملک کی ایکسپورٹ میں بہت بڑا فرق ہے وہ ہم سے بہت آگے ہے۔مگر جو ہوگیا سو ہوگیا جس وقت وہ ٹیکنالوجی پڑھارہے ہیں ہم دھشت گردی سے لڑ رہے تھے۔اس وقت ہمارے بس میں نہیں تھا،آج بس میں ہے تو اس
    موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں چائنا سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو ہم یہاں چیزیں بنائیں اور باہر بھیجیں۔
    سوال،آئی ٹی کے میدان میں انڈیا ہم سے بہت آگے ہے کیا آپ اس حوالے سے پاکستانیوں کو کوئی خوشخبری دیں گے؟

    جواب ،میں نے انڈیا کانام نہیں لیا میں نے پڑوسی ملک کہا تھا،کیونکہ وہاں آئی ٹی کے حوالے سے بہت سے دوست ہیں۔ہمیں انڈیا سے ہی نہیں سب سے آگے نکلنا ہے۔ہم نے پاکستان کو ٹیک حب بنا نا ہے۔سب ایکسپورٹ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ امپورٹ بھی بڑ ھے گی توصورتحال قابو میں نہیں رہے گی۔ہمیں سب سے پہلے امپورٹ کم کرنی ہے80 کی دھائی میں چائنا میں کمپیوٹر بنانے کی ایک کمپنی لیجنڈ تھی چائنا کی حکومت نے پابندی لگائی کہ سب ادار ے سے کمپوٹر خریدیں گے۔پندرہ بیس،سال تک لیجنڈ کمپنی کام کرتی رہی آج لیجنڈ کمپنی نظر نہیں آتی لیجنڈ نے امریکا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی آئی بی ایم کا پی سی سیکشن خرید لیا۔ آج اس کا نام Lenovo ہے۔یہ بہت بڑا کیس ہے۔آپ میڈ ان پاکستان پر کام کریں کہ کم ازکم پاکستان کے اندر تو پاکستانی چیز فروخت ہو آپ کو پتاہے امریکا ٹیرف کیوں لگا رہا ہے۔تاکہ اپنے ملک میں انڈسٹری کوDevelop کرے
    جب ہم پاکستان میں ٹیرف لگاتے ہیں تو مصیبت ہو جاتی ہے نہیں لگائیں تو کم از کم پاکستانی مصنوعات کوپروموٹ تو کریں، لوکل چیز تو خریدیں چار سال پہلے بہت پرابلم تھی اب لوکل چیز کو قبولیت کی سند مل رہی ہے ، ہم روتے ہیں کہ لوگ پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں جو جارہے ہیں وہ ٹھیک کر رہے ہیں کیونکہ یہاں کوئی مواقع نہیں ہیں میں اگر نوجوانوں کو سہولتیں نہیں دوں گا تو قصوروار میں ہوں گا نوجوان نہیں، ہماری کوشش ہے کہ میڈ ان پاکستان کو اوپر لے کر جائیں اور اپنے نوجوانوں کو روزگار بھی دیں وائپر اکیڈمی میں ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی لوگ اسکلز ڈیولپ کر رہے ہیںان کو ہم کہیں نہ کہیں ملازمت بھی دلوائیں بیرون ملک جانے والے 100 ڈالر کما سکتے ہیں وہ 100 نہیں 300 ڈالرز کمائیں

    سوال۔وائپر کی پروڈکٹس امپورٹڈ پروڈکٹ سے کس طرح بہتر ہیں؟

    جواب۔ پی سی سیکشن میں لیپ ٹاپ، ال ان ون، ڈیسک ٹاپ، ٹو ان ون اسی طرح ہمارے ٹیبلٹس بھی بہت مقبول ہیں وائپر ٹیبلٹ کو سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ٹیبلٹ کا اعزاز بھی حاصل ہے،ہمارے اسکرین اے آئی بیسڈ ہیں ہمارا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم سپورٹ سروس بہت اچھی دیں اگر کوئی کمپنی کہتی ہے کہ سات دن میں پروڈکٹ تبدیل کر دیں گے تو میں اپنی ٹیم کو بولتا ہوں کہ ساتھ دن کیوں سات گھنٹے میں کیوں نہیں سات گھنٹے میں صارف کا مسئلہ حل کر کے دیں اگر کسی کا کمپیوٹر خراب ہو گیا ہے اور وہ کمپیوٹر کے بغیر چلتا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ سات دن کی چھٹی دے دی جائے ہم نے ٹائم کو کور کیا ہے اور اس سے ہمیں بہت بڑاایج ملا ہے۔ہم پاکستانی ہیں ہماری پروڈکٹ پاکستانی ہے ہماری سوچ پاکستانی ہے تو ہمیں پتہ ہے کہ پاکستانی کیا سوچ رہا ہے اس کو اچھی سپورٹ چاہیے
    سوال۔آپ ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے آئی ٹی سے منسلک ہونے کے ناطے ملک میں آئی ٹی کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟

    جواب۔ ایف پی سی سی آئی پورے پاکستان کی جتنی بھی بزنس ایسوسی ایشنز ہیں ان کی ایسوسی ایشن ہے تو اس کا مطلب ہوا ایف پی سی سی آئی میں تقریبا ہر قسم کے بزنس مین آتے ہیں ہمیں کاروباری حضرات کی اچھی سپورٹ حاصل ہے پہلے میڈ ان پاکستان کانسپٹ ہی نہیں تھا پہلے لوگ میڈ ان پاکستان کے حوالے سے کوئی بات سنتے بھی نہیں تھے ہم نے اتنا شور مچایا ہے کہ لوگ سننے لگے ہیں

    سوال۔مصنوعات کا معیار اچھا ہوگا تو خود بخود میڈ ان پاکستان کا کانسپٹ ابھرے گا اس حوالے سے آپ کوئی آگاہی مہم چلائیں گے؟

    جواب۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈ ان پاکستان ہوگا تو مصنوعات کا معیار بھی بلند ہو جائے گا ہم کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان کے اندر میڈ ان پاکستان کو قبول کیا جائے اس کے بعد ہی معاملات آگے چلیں گے

    سوال۔ وائپراکیڈمی بنانے کا بنیادی مقصد اور مشن کیا ہے نیز یہاں کون کون سے کورسز کرائے جا رہے ہیں؟

    جواب۔ ہم آئی ٹی انڈسٹری سے بہت زیادہ قریب ہیں ہمیں پتہ ہے کہ ان دنوں آئی ٹی انڈسٹری کو کس نوعیت کے کورسز کی ضرورت ہے ہم ایسے کورسز کراتے ہیں جس کے بعد جاب ملنے میں آسانی پیدا ہو ہم 25 کورسز کرا سکتے ہیں جس کی ڈیمانڈ ہی نہیں ہوگی تو اس کا کیا فائدہ ہوگا میں پاشا کا ممبر ہوں پاشا آئی ٹی انڈسٹری کو سپورٹ فراہم کرتی ہے یہ سافٹ وئیر ہاؤسز کی ایسوسی ایشن ہے وہاں سے پتہ چلتا ہے کہ کس فیلڈ کی ڈیمانڈ ہے تو ہم وہی کورس کراتے ہیں ہمارا اپنا سافٹ وئیر ہاؤس ہے اور ہمیں لوگ نہیں ملتے تو اپنی ضرورت کے لیے ہم نے اکیڈمی شروع کی تھی اب ہماری اولین ترجیح ہے کہ یہاں سے کورسز کرنے والے کو ضرور نوکری مل جائے۔ مڈل ایسٹ چلے جائیں وہاں زیادہ تر پاکستانی نان پروفیشنل کام کر رہے ہیں جو مثال کے طور پر 100 ڈالر پاکستان بھیجتے ہیںہماری کوشش ہے کہ نان پروفیشنل جاب کرنے والوں کے بچے بھی آئی ٹی سیکھیں ملک سے باہر جائیں اور ماہانہ 300 ڈالر کمائیں ہمارا ٹارگٹ ہے پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے جب پاکستان آگے جائے گا تو خوشحالی آ ئے گی اورسب کو فائدہ حاصل ہوگا

    سوال۔ میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ اس وقت 3.8 بلین ڈالرز ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے آپ کا کیا خیال ہے ٓائی ٹی ایکسپورٹ کو کہاں تک لے جایا جا سکتا ہے؟

    جواب۔ اس وقت ماحول سازگار ہے اگر ہم اس سازگار ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو 2030 تک 30 بلین ڈالر کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا پاکستان میں جو سافٹ وئر استعمال ہو رہا ہے وہ پاکستان سے باہر کا ہے پاکستان کا اپنا ہے پہلے ہم اس سافٹ وئر کو ٹیسٹ کریں گے تو ایکسپورٹ ہوگا ہمارارویہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی جوتا باہر بھیجیں گے مگر ہمیں خود پاکستان کا جوتا استعمال نہیں کرنا اگر اس طرح ہوا تو ہم کامیاب نہیں ہوں گے پہلے ہم خود استعمال کریں دیکھیں کہ اچھا ہے اس کو مزید بہتر بنائیں پھر باہر بھیجیں

    سوال۔ملک کی آئی ٹی انڈسٹری کے مسائل کے حوالے سے بتائیں؟

    جواب۔ میں شکایت کرنے میں بہت مشکل آدمی ہوں میں نے پہلے جو بات کہی کہ پہلے سب چیزیں خود اپنائیں شکایت صرف یہ ہے محض آئی ٹی کے لیے نہیں ہر شعبے کے لیے ہے کہ پوری دنیا میں جو سب سے بڑی کنزیومر ہوتی ہے سب سے زیادہ چیزیں خریدتی ہے وہ گورنمنٹ ہوتی ہے گورنمنٹ اپنے اوپر تو پابندی لگا سکتی ہے کہ وہ میڈ ان پاکستان کو ترجیح دیگی جب وہ میڈ ان پاکستان کو ترجیح دے گی تو عوام میں بھی اعتماد آئے گا پاکستانی مصنوعات معیاری اور اچھی ہیں لوگ ٹیکسوں کی بھرمارکی شکایت کرتے ہیں مگر اگر ٹیکس نہیں ہوگا تو ملک نہیں چلے گا ملک کی ایکسپورٹ اور جی ڈی پی میں اضافے کے باوجود بھی ٹیکس لیا جائے گا ایکسپورٹر بولتا ہے بجلی مہنگی ہے ہم ایکسپورٹ نہیں کر سکتے ہیں صورتحال تو ایسی ہی ہے اب آپ بتائیں کہ ٓاپ کیا کر سکتے ہیں اس وقت ہمارے پاس بہت بہترین مواقع ہیں اس وقت حکومت فوج کے ساتھ مل کر جو کام کر رہی ہے اور ملک کا امیج بہت زبردست طریقے سے بہتر بنایا گیا ہے اس صورتحال کا فائدہ نہیں اٹھایا تو بہت افسوس رہے گا فائدہ ٹیرف کے حوالے سے اٹھانا ہے آئی ٹی منسڑی کو نئی مارکیٹیں دیکھنی چاہیے پاکستان کے اندر پاکستانی اشیاء کے استعمال کا ماحول بنایا جائے اور اس کو فروغ دیا جائے تو ہماری مصنوعات کی کوالٹی بہتر ہوگی اور اس کی عالمی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا

  • خاور حسین اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا،یہ قتل ہے،والد

    خاور حسین اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا،یہ قتل ہے،والد

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)سانگھڑ میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے صحافی خاور حسین کے اہل خانہ پیر کی صبح امریکا سے کراچی پہنچ گئے۔رپورٹ کےمطابق خاور حسین کے بھائی، والد اور والدہ جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے، جہاں سے وہ براستہ حیدر آباد سانگھڑ پہنچے۔ اس موقع پر خاور حسین کے والد کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا بہت دلیر انسان تھا ، وہ خود اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا، یہ قتل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے کوئی تنازع یا جھگڑا نہیں تھا ۔واضح رہے کہ صحافی خاور حسین کی سانگھڑ میں حیدرآباد روڈ پر نجی ہوٹل کے باہر ان کی اپنی گاڑی میں سے لاش ملی تھی ۔ ابتدائی طور پر سانگھڑ پولیس کا کہنا تھا کہ صحافی خاور حسین نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے ۔ خاور حسین کراچی میں صحافی تھے جو مختلف نجی چینلز میں کام کرچکے تھے ۔دوسری جانب آئی جی سندھ نے خاور حسین کے قتل یا خودکشی کے بارے میں مکمل تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ آزاد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے، جس میں ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سانگھڑ عابد بلوچ بھی شامل ہیں ۔

  • بہاولپور: نوجوان کی 11 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی

    بہاولپور: نوجوان کی 11 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی

    بہاولپور(کنزیومر واچ نیوز) نوجوان نے 11 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ترجمان ڈسٹرکٹ پولیس کے مطابق تھانہ بغداد الجدید کے علاقے میں 11 سالہ بچی مدرسے سے گھر واپس جا رہی تھی کہ ملزم نے قریبی کھیتوں میں لے جا کر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے والد کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہےکہ ملزم موقع سے فرار ہو گيا جب کہ زیادتی کا شکار ہونے والی بچی بہاول وکٹوریہ اسپتال میں داخل ہے۔

  • غزہ میں امداد کے منتظر افراد پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ مزید 57  شہید

    غزہ میں امداد کے منتظر افراد پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ مزید 57 شہید

    غزہ (کنزیومر واچ نیوز)غزہ میں امداد لینے والوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور بمباری سے مجموعی طور پر 57 فلسطینی شہید ہوگئے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے امداد کے منتظر 38 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ال اہلی اسپتال پر بھی بمباری ہوئی جس میں بھی شہادتیں ہوئیں، اتوار کی صبح سے اب تک مجموعی طور پر 57 فلسطینی شہید ہوئے۔فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور قحط کے باعث مزید 11 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد بھوک سے شہید ہونے والوں کی تعداد 251 ہو گئی ہے۔ جن میں 108 بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے غزہ کے 5 لاکھ افراد قحط کا شکار ہیں، فوری جنگ بندی سے ہی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے فلسطینیوں کو جبراً ‘جنگی مقامات’ سے نکال کر جنوبی غزہ میں دھکیلنے کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب اسرائیل نے گزشتہ دنوں غزہ پر قبضے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل شمالی غزہ سے 10 لاکھ سے زائد فلسطینی شہریوں کو جبراً جنوبی غزہ میں دھکیل رہا ہے۔دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل میں اتوار کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال پر تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر بھی بڑی تعداد میں مظاہرین نے احتجاج کیا جبکہ اسرائیلی مظاہرین نے سڑکوں پر آگ لگا کر متعدد شاہراہیں بھی بلاک کردیں۔اسرائیلی مظاہرین نے جنگ روکو، یرغمالیوں کو واپس لاؤ کے پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے غزہ میں جنگ روکو کے نعرے لگائے۔

  • کراچی میں  موسلا دھار بارش کب متوقع ہے؟

    کراچی میں موسلا دھار بارش کب متوقع ہے؟

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن نے شہر قائد میں منگل اور بدھ کو موسلا دھار بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جواد میمن نے کراچی میں اچانک شدید گرمی کی وجہ پر بات کی۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں شدید حبس محسوس کیا جارہا ہے، مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 47 ڈگری تک جا پہنچا ہے، سمندری ہوائیں رکی ہوئی ہیں، حبس اور مرطوب موسم مون سون سسٹم کو تقویت دیتے ہیں۔جوادمیمن نے بتایا کہ مون سون کا رخ اب سندھ اور بلوچستان کی طرف منتقل ہوگیا ہے جس کے تحت 18 اگست سے 23 اگست تک کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کاامکان ہے۔