Blog

  • اداکارہ حمیرا اصغر کے گھر والے آج ان کی میت وصول کریں گے

    اداکارہ حمیرا اصغر کے گھر والے آج ان کی میت وصول کریں گے

    کراچی(کنزیو مر واچ نیوز)ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ سے ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر علی کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔میڈیکو لیگل آفیسر کے مطابق لاش کا ابتدائی معائنہ کیا گیا ہے، لاش ڈی کمپوز اسٹیج کے ایڈوانس اسٹیج پر ہے ،لاش اس قابل نہیں ہےجس سے وجہ موت بتائی جاسکے البتہ ڈی این اے اور کیمکل ایگزامن کے لیے سیمپل لیے ہیں، سیمپل کے ایگزامن کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔ایس ایچ او فاروق سنجرانی کے مطابق متوفیہ کی لاش ایک ماہ سے بھی زیادہ پرانی معلوم ہوتی ہے۔
    دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق متوفیہ کی لاش چھ ماہ پرانی ہے کیونکہ فلیٹ سے ملےکھانے پینے کے سامان پرایکسپائری تاریخ 2024 کی ہے، اداکارہ کے فون ریکارڈ میں بھی آخری میسجز اکتوبر 2024 کے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اداکارہ حمیرا اصغر کے گھر والے ان کی میت وصول کرنے آج لاہور سے کراچی پہنچیں گے۔

  • عمران خان کو ان کے بچے اور بہنیں رہائی نہیں دلواسکتے، عرفان صدیقی

    عمران خان کو ان کے بچے اور بہنیں رہائی نہیں دلواسکتے، عرفان صدیقی

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کے بچے قانون کے دائرے میں رہ کر تحریک چلائیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتےہوئے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے بچوں کو سیاست میں لانا چاہتے ہیں، عمران خان کے بچے ضرور پاکستان آئیں، تحریک چلاناچاہتے ہیں تو چلائیں لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں تو اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچے اور بہنیں رہائی نہیں دلواسکتے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی خود ان پرمنحصر ہے۔ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت تبدیل نہیں ہورہی ہے جب کہ آصف زرداری ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے اچھے طریقے سے کام کررہے ہیں، آصف زرداری مدبر شخص ہیں اور انہوں نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا نہیں کیں، پیپلزپارٹی ہماری اتحادی ہے ہم کیوں اس نظام کو درہم برہم کرنا چاہیں گے؟چینی کی بڑھتی قیمتوں پر لیگی رہنما نے کہا کہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے باہر سے چینی منگوائی گئی،حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

  • صدر زرداری کے استعفیٰ کی خبریں من گھڑت  ہیں،شازیہ مری

    صدر زرداری کے استعفیٰ کی خبریں من گھڑت ہیں،شازیہ مری

    اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے صدر آصف علی زرداری کے استعفے سے متعلق زیر گردش افواہوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر زرداری کے استعفیٰ کی افواہیں من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری نے ثابت کیا ہے کہ ہم کبھی میدان نہیں چھوڑتے، تاریخ گواہ ہے کہ صدرآصف زرداری نے آمریت اور قید کا سامنا کیا لیکن پیچھے نہیں ہٹے۔شازیہ مری نے کہا کہ ہمارے اتحادیوں سے اچھے تعلقات ہیں، اور 4 صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اس لیے ایسے کسی سوال کا کوئی جواز نہیں، صدر زرداری وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے صدارتی اختیارات پارلیمان کو دئیے۔انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی سیاسی بصیرت کے بدولت چاروں اکائیوں کو صوبائی خودمختاری ملی، جب ملک مشکلات میں آیا تو صدر زرداری ہی تھے جنہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔شازیہ مری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری ملک کے پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے۔اس کے علاوہ پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر زرداری کے استعفے کی باتیں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، یہ افواہیں ایک منظم سازش کے تحت جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، عوام ان جعلی خبروں، افواہوں اور منفی پراپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے ہر نازک وقت میں جمہوریت کا پرچم بلند رکھا، وہ جمہوری استحکام کی علامت اور آئینی اقدار کے سچے نگہبان ہیں، صدر نے اپنی مرضی اور سیاسی بصیرت سے تمام اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آج صدر آصف زرداری اتحادی حکومت کے توازن اور استحکام کا سب سے اہم ستون ہیں، آج بھی وہ پارلیمانی نظام کے اصل محافظ اور آئینی تسلسل کے ضامن ہیں، صدر زرداری کی موجودگی آئین، پارلیمان اور جمہوری ادارے محفوظ رہنےکی ضمانت ہے۔

  • فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کو اہلیہ  نے پھر شرمندہ کردیا

    فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کو اہلیہ نے پھر شرمندہ کردیا

    لندن:(کنزیومر واچ نیوز)فرانس کے صدر ایمانویل میکرون ایک بار پھر اس وقت سوشل میڈیا کی زینت بن گئے جب ان کی اہلیہ خاتون اول بریژیت میکرون نے برطانیہ کے تین روزہ سرکاری دورے کے آغاز پر طیارے سے اترتے ہوئے شوہر کا ہاتھ تھامنے سے گریز کیا۔اس ایک لمحے نے دونوں کے تعلقات کے بارے میں چہ مگوئیوں کو ایک بار پھر جنم دے دیا ہے، شاہی استقبال کے باوجود ایوان صدر کا یہ منظر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔صدر میکرون نے طیارے کی سیڑھیوں پر اہلیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن خاتون اول نے بلا جھجک نظرانداز کر دیا اور یہ لمحہ کیمروں نے محفوظ کر لیا۔دوسری شرمندگی کچھ ہی گھنٹوں بعد پیش آئی جب صدر میکرون کا قافلہ ونزر کاسل سے روانہ ہوا توایک سرکاری گاڑی کا دروازہ اور پچھلا حصہ کھلا رہ گیا، ڈرائیور نے گاڑی دوڑائی اور صدر کے سامان والے بیگ سڑک پر جا گرے۔اہلکار بھاگتے رہے لیکن قافلہ رکتا نہ نظر آیا اور ایک اور گاڑی بھی کھلے دروازے کے ساتھ بھیڑ میں دوڑتی رہی۔یہ پہلا موقع نہیں یاد رہے مئی میں ویتنام کے دورے پر بھی خاتون اول نے میکرون کے طیارے سے اترتے ہوئے ان کے چہرے پر ہاتھ مارا تھا جسے سوشل میڈیا پر ’تھپڑ‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔اس پر صدر میکرون نے وضاحت دی تھی کہ وہ صرف مذاق کر رہے تھے۔

  • حمیرا اصغر کے والد نے کراچی آکر لاش وصول کرنے سے انکار کردیا، پولیس

    حمیرا اصغر کے والد نے کراچی آکر لاش وصول کرنے سے انکار کردیا، پولیس

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز)اداکارہ حمیرا اصغر کے والد نے کراچی آکر بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ایس ایس پی ساؤتھ مہزورعلی کے مطابق مالک مکان سے حمیرا کا نمبر حاصل کیا گیا اور سی ڈی آر نکالا گیا جس کے بعد پولیس کا متوفیہ حمیرا اصغر کے والد اور بھائی سے رابطہ ہوا تاہم حمیرا کے والد نے کراچی آنے سے انکار کردیا۔ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ حمیرا کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈیڑھ سے دو سال قبل حمیرا سے قطع تعلق کرلیا تھا، ایس ایس پی نے حمیرا کے والد کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ کراچی پہنچ کرلاش وصول کریں لیکن انہوں نے دوبارہ پولیس نے رابطہ نہیں کیا۔ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ کوشش کررہے ہیں کہ گھر والے جلد از جلد آجائیں تاکہ مزید کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ پولیس کوحمیرا کے دوموبائل فونز ملے ہیں جن سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مہزورعلی کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم یا کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ میں کوئی مشکوک چیز سامنے آئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا، وجہ موت کا تعین بھی پوسٹ مارٹم اورکیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جائے گی کہ مقدمہ اہلخانہ کی مدعیت میں درج ہو تاہم اگر اہلخانہ نے انکارکیا تو پولیس اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرے گی۔ایس ایس پی ساؤتھ مہزورعلی نے مزید بتایا کہ شوبز انڈسٹری سے ابھی تک کسی نے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا جبکہ پڑوسیوں نے بھی حمیرا کو آخری مرتبہ آتے جاتے نہیں دیکھا۔ حمیرا 2024 سے مالک مکان کو کرایہ ادا نہیں کر رہی تھی جس پر مالک مکان نے ان پر کیس کر رکھا تھا۔حمیرا کے پڑوسی نے پولیس کو بتایا کہ وہ بلڈنگ میں کسی سے زیادہ ملتی جلتی نہیں تھیں اور انہیں کئی دنوں سے کسی نے آتے جاتے نہیں دیکھا، ان کے پاس کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔ یادرہے کہ حمیرا اصغر تماشا گھر کے پہلے سیزن میں بطور کنٹسٹنٹ شریک ہوئی تھیں جہاں نے انہوں نے مقبولیت حاصل کی تھی۔

  • باپ نے  ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر بیٹی کو قتل کردیا

    باپ نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر بیٹی کو قتل کردیا

    راولپنڈی (کنزیومر واچ نیوز)راولپنڈی میں مبینہ طور پر باپ نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر بیٹی کو قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ روات کے علاقے میں 16 سالہ لڑکی کے قتل کو فیملی نے خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ لڑکی کو قتل کیا گیا ہے۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا باپ نے بیٹی کو فائرنگ کرکےمارا اور فرار ہوگیا جب کہ واقعے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ قتل کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ ملزم باپ نے بیٹی کو موبائل فون سے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنےکاکہا مگر اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے بیٹی کو قتل کردیا۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ میں مردہ پائی گئی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق حمیرا کا تعلق لاہور سے تھا، اداکارہ کی لاش سرد خانے منتقل کردی گئی ہے اور مرحومہ کے لواحقین سے رابطہ ہوگیا ہے۔اداکارہ حمیرا اصغر کا کچھ سال قبل دیا گیا انٹرویو وائرل، گھر والوں کے بارے میں کیا بتایا؟پولیس نے بتایا کہ خاتون نے 2018 میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا ، 2024 سے کرایہ نہ دینے پر مالک نے کیس کررکھا تھا، پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی تو دروازہ لاک تھا، پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہوئی تو خاتون کی لاش ملی۔واقعے کے بعد عدالتی بیلف نے فلیٹ سیل کردیا جب کہ واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق مرحومہ کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے، موت کی اصل وجہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ آنے پر سامنے آئے گی۔پڑوسی کا کہناہےکہ حمیرا اصغر کا بلڈنگ کے دیگر افراد سے زیادہ ملنا جلنا نہیں تھا۔واضح رہے کہ حمیرا اصغر نے پاکستانی رئیلیٹی شو ‘تماشا گھر’ کے پہلے سیزن میں شرکت کی تھی۔

  • Untitled post 4462

    والد کو پہاڑی علاقوں میں گھومنے پھرنے کا شوق تھا،اسی شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے انھوں نے بزنس کی بنیادرکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مہمند ایجنسی جیسے پسماندہ علاقے سے اپنا بزنس شروع کرنے والی کمپنی مہمند دادا منرلز کو آج دنیا جانتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملکوں ملکوں گھوما اور منرلز کے حوالے سے پاکستان کوروشناس کرایا،ایف پی سی سی آئی اور دیگر فورمز پر سرگرم عمل ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برانڈآئیکون ایوارڈ ملنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے،میں یہ ایوارڈمنرلز اینڈ مائننگ کیلئے کام کرنے والوں کے نام کرتاہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے اور،ان کی تجاویز کی روشنی میں ہمارے مسائل حل کرے،محمد بلال خان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مہمند دادا منرلز کے چئیرمین اورسی ای او محمدبلال خان کی کہانی خود ان کی زبانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رپورٹ :نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
    فوٹوگرافی: فہد شجاع،شعبان سوریا

    میرے والد کو پہاڑی علاقوں میں گھومنے پھرنے کا بہت شوق تھا. اسی شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بزنس کی بنیاد رکھی اور الحمدللہ مہمند دادا منرلز کےبزنس کے معیار کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے. ان خیالات کا اظہار مہمند دادا منرلز کے چئیرمین اورسی ای او محمد بلال خان نے کیا. وہ کنزیومر واچ کی ٹیم سے گفتگو کر رہے تھے. انہوں نے کہا کہ بزرگ آپ کو بنیاد بنا کر دیتے ہیں اسی پر آپ بلڈنگ تعمیر کرتے ہیں بنیادبہت اہمیت رکھتی ہے بڑوں نے ہمارے لیے جو کیا انہوں نے ہمیں بنایا سنوارا اور ایک بنیاد فراہم کی تو اسی پر ہم نے اپنی جدوجہد کی بنیاد رکھی یہ ایک طویل جدوجہد ہے جس کے بعد ہم نے اپنا مقام بنایا ہمیں اعلی مقام دلانے میں بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے پھر ہم نے اپنے وژن کے مطابق بزنس کو مزید ترقی دی. میں مہمند ایجنسی سے تعلق رکھتا ہوں میری پرورش مردان اور پشاور میں ہوئی. یہیں سے میں نے اعلی تعلیم حاصل کی میں نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی. مہمند دادا منرلز بنیادی طور پر دوآئیڈیاز اور ویژنز پر مبنی ہے کمپنی مائننگ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ کے بزنس سے وابستہ ہےہم منرلز،ڈائمنشن اسٹون،مائننگ پروسیسنگ،ایکسپورٹس وغیرہ کر رہے. ہمارا وائٹ ماربل بہت زیادہ مشہور ہے اوٹس میں آئرن اور ہے جو چاغی کے علاقے سے نکلتا ہے ہماری مختلف پروڈکٹس کی کمبینیشنز ہیں جس کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے میرے والد نے کاروبار کی بنیاد رکھی مگر میں نے اس کو جدید خطوط پر استوار کیا اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام اس حوالے سے روشن کیا یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ مہمند ایجنسی جیسے پسماندہ علاقے سے ایک کمپنی سامنےآئ اور اس کو بطور مٹیریل سپلائر ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی محمد بلال خان نے کہا کہ ہماری کمپنی نے بہت زیادہ نام پیدا کیا یہ بات ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ مہمندایجنسی اور اطراف کے علاقے کی اپنی خصوصیات ہیں. ان کو گنوایا نہیں جا سکتا مہمند ایجنسی ایک پہاڑی علاقہ ہے آپ جس فیلڈ سے بھی منسلک ہوں آپ کو بہترین ماحول مل جائے تو آپ بہت بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں ان لوگوں کے مقابلے میں جن کا تعلق ان علاقوں سے نہیں ہوتا میں نے مردان میں اچھا وقت گزارا وہاں ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا لیکن سب سے اہم بات ہے کہ میں نے کیوں کر اس فیلڈ کا انتخاب کیا ہم سمجھتے ہیں کہ مائننگ کے حوالے سے ان علاقوں میں بڑے وسیع امکانات موجود ہیں. اس فیلڈ میں لوگ نہیں تھے لوگ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ترقی یافتہ علاقوں میں کام کریں مشکل کام کو لوگ ترجیح نہیں دیتے مہمند ایجنسی اور اطراف کے علاقوں میں بزنس مین سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں کیوں کہ وہاں سہولتوں کا فقدان ہے اس صورتحال میں ہمارے لیے بڑی گنجائش موجود تھی ہم نے ساری صورتحال کو مانیٹر کیا اور اپنے کام کو آگے بڑھایا یہ تمام جدوجہد مائل اسٹون کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہمیں بیک گراؤنڈ بھی اچھا ملا پھر سمجھانے والوں نے بتایا کہ اس فیلڈ میں کتنا وسیع خلا ہے جس کو پر کیا جا سکتا ہے. میں مائن اینڈ منرلز پاکستان کی نمائندگی کرتا ہوں میں اپنے شعبے میں ایف پی سی سی آئی میں قیادت کر رہا ہوں. ال پاکستان مہمند انڈسٹریز ایسوسی ایشن کی قیادت بھی کر رہا ہوں میں نوجوان بزنس مینوں کو بتاتا ہوں کہ اس شعبے میں بہت اسپیس ہے اس فیلڈ میں کام کرنے کی بہت گنجائش موجود ہےعلاقے بڑے ہیں جگہ موجود ہے بےروزگاری بہت زیادہ ہے ان وسائل کو بروئے کار لا کر ہم بے روزگاری کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور کثیر زر مبادلہ بھی کما سکتے ہیں. محمد بلا ل خان نے بتایا کہ دنیا منرلز کے پیچھے لگی ہوئی ہے انٹرنیشنلی سارا فوکس منرلز پر ہے میں سمجھتا ہوں کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے. کہ میں اس شعبے سے وابستہ ہوں ،ہمارے بڑوں نے اس شعبے کے لیے بہت کام کیا ،کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ پاکستانی پروڈکٹس کی کوئی اوقات نہیں ہے. اٹالین اسپینش اور ترکی کی پروڈکٹس زیادہ معیاری ہیں مگر یہ بات بالکل غلط ہے ہمارے پاس ڈائمنشن اسٹون کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے انویسٹرز رئیل اسٹیٹ کی طرف جاتے ہیں یا پھر بیرون ملک انویسٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اپنے ملک میں انویسٹ کریں گے تو اس ملک کی مٹی کبھی آپ سے نا انصافی نہیں کرے گی ہماری پروڈکٹ آئرن اور کی انٹرنیشنلی بہت ڈیمانڈ ہے اور ہم اس ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں. ڈائمنشن اسٹون اور پیور وائٹ مٹیریل بھی بیرون ملک بہت زیادہ مقبول ہے اس کی دنیا بھر سے بہت زیادہ ڈیمانڈ آ رہی ہے. یہ ہماری میجر پروڈکٹس ہیں. جن پر ہمارا سکہ جمع ہوا ہے. برانڈ آئیکو ن ایوارڈ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ برانڈ آئیکون ایوارڈ ملنا بلا شبہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے برانڈ آئیکون ایوارڈ بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اس اعزاز کو ان لوگوں کے نام کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ اس فیلڈ سے جڑے رہے دن رات محنت کی میں برانڈ آئیکون ایوارڈ ان کےنام کرتا ہوں. الحمدللہ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنا کام کر رہے ہیں اور لوگ اس کو سراہ رہے ہیں اہمیت اور اعزاز بھی دے رہے ہیں. بڑے بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے اس کے لیے بہت ساری چیزوں اور خواہشوں کو سائیڈ پر رکھنا پڑتا ہے جب آپ اپنے حرص و لالچ کوہوا نہیں دیں گے تو آپ آگے جائیں گے کمٹمنٹ کو پورا کرنا بہت اہم ہے کمٹمنٹ کو پورا کرنے والے ہی اگے بڑھتے ہیں. ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ اپنے آپ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے کہ میں ہر کام کر سکتا ہوں تجارت توکل،جرات اور دیانت کا مرکب ہے اگر آپ اپنے ساتھ اور اپنے کلائنٹ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں تو آپ کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتے بزنس مین میں یہ چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اسٹوڈنٹس کو بتانا چاہیے کہ اخلاقیات کیا ہیں کمٹمنٹ کیا ہے زبان کیا ہے. کس طریقے سے آپ اپنے بزنس کو گرو کریں گے ضروری ہے کہ طالب علموں کو بتایا جائے کہ بزنس کے ایتھکس کیا ہیں آج ہم دیگرمذاہب کے لوگوں کے ساتھ بزنس کرتے ہیں تووہ کمٹمنٹ پر پورا اترتے ہیں بدقسمتی سے ہم وہ باتیں بھول چکے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھائی ہیں کاروبار میں ایمانداری نہیں ہوگی بے ایمانی ہوگی تو کاروبار نہیں چلے گا. پروڈکٹ بنانا اور اس کو سیل کرنا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ایمانداری سے اپنے سکے کو جمانا اہم چیز ہے. محمد بلال خان نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کی نگرانی میں کاروبار میں قدم رکھا. میں نے دیکھا کہ ہماری کمپنی کس میدان میں پیچھے ہے تو اندازہ ہوا کہ ہماری کمپنی کو انٹرنیشنلی اس وقت وہ مقام حاصل نہیں ہوا تھا جس کی وہ حقدار تھی میں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اس حوالے سے مختلف ممالک کے دورے کیے اور وہاں کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کی. اپنی کمپنی کے اعتبار کو مستحکم کیا اور اس کو متعارف کروایا میرا زیادہ تر ٹائم اسی کام میں گزرا. میں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کے پاس بہترین منرلز ہیں مختلف نوعیت کے اعلی کوالٹی کے حامل اسٹونز ہیں یہ سب بیرونی دنیا کے لیے حیران کن تھا میں سعودی عرب گیا میں نے کمرشل قونصلر سےبات کی کہ آپ پاکستان کی پروڈکٹس کے لیے کیا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کون سی پروڈکٹس تو میں نے کہا کہ ماربل تو انہوں نے کہا کہ ماربل تو اٹلی،اسپین سے آتا ہے کمرشل قونصلر کو نہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی کون سی پروڈکٹس ہیں مجھے فخر ہے کہ میں نے ملکی پروڈکٹس کے حوالے سے کام کیا ہماری پروڈکٹس یورپ،گلف ممالک بھی جا رہی ہیں. مگر سب سے زیادہ ایکسپورٹ چائنا کو کی جا رہی ہے پاکستانی ماربل کے 32 مختلف رنگ ہیں دنیا کے کسی ملک میں اتنے کلرز نہیں ہیں. پاکستان واحد ملک ہے جہاں اتنے رنگوں کا ماربل دستیاب ہے پاکستان کے پاس کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے بہت بڑی رینج ہے ہمارے انویسٹرز کی توجہ نہیں ہے اس لیے ہم پیچھے رہ گئے ہیں. ایک سوال کے جواب میں محمد بلال خان نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے دلچسپی لے رہی ہے اور ٹی ڈیپ TDAP کا ادارہ بہت کام کر رہا ہے وہ مختلف ممالک میں ایگزیبیشن کرا رہا ہے ، پروڈکٹس کی شو کیسنگ ہو رہی ہے . وفودلے کر جا رہے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کو جو عالمی سطح پر متعارف نہیں ہیں. محمد بلال خان نے کہا کہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ماربل ریزرو دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ تیسرے نہیں پہلے نمبر پر ہیں ہمارے ادارے اس سطح کا کام نہیں کر رہے جس طرح کا کام دنیا بھر میں ہو رہا ہے محمد بلال خان نے بتایا کہ ہم بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں ابھی حال ہی میں ہم چائناگئے تھے اس کے علاوہ یو اےای سعودیہ اور دیگر ممالک میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں شرکت کرتے ہیں اس کے علاوہ افریقہ میں ہماری پروڈکٹس کی بہت ڈیمانڈ ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں جائیں اور وہاں کی مارکیٹ میں اپنی پروڈکٹس کو متعارف کروائیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جو تاجروں کے مسائل حل کر رہا ہے ایف پی سی سی آئی کی موجودہ قیادت بہت کام کر رہی ہے انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی کی18 سے زائدمصنوعات کو بہت زیاده پسند کیا جاتا ہے ہمارا پلانٹ جدید ترین ہے. ملک میں ایسا پلانٹ صرف ہمارے پاس ہے. ہم ہینڈی کرافٹس پروڈکٹس پربھی کام. کرتے ہیں،ان میں کچھ سینیٹری ویئرز ہیں ٹیبل ٹاپ پر جو پروڈکٹس رکھتے ہیں وہ بھی ہم بنا رہے ہیں ہینڈی کرافٹ کی روس کوریا اور دیگر ممالک میں بہت مانگ ہے ا سٹون سے پروڈکٹ کی تیاری ایک آرٹ ہے اور لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں وائٹ ماربل،ایمپیریل وائٹ اور دیگر کئی پروڈکٹس کی ایسی ہیں جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں. محمد بلال خان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مائننگ سیکٹر میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے منرلز اینڈ مائننگ سیکٹر کو کس طرح انٹرنیشنل مارکیٹ میں متعارف کرانا ہے اس حوالے سے حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا مائننگ کے ایریاز کو کس طرح بہترین بنایا جا سکتا ہے انویسٹ کرنے والوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے. ایکسپلوسو بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے اگر وہ آپ کو نہیں ملیں گے تو مسئلہ ہوگا مائننگ ایکسپلوسو کے ذریعے ہوتی ہے اگر وہ دستیاب نہیں ہوں گےتو مسائل تو بنیں گے.
    فیلڈ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیےاسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر ان سے بات کی جائے ان سے رائے لی جائے. ان کی تجاویز پر عمل کر کے صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے. یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی وہیں سے ہمارا پہیہ چلے گا آپ نے ٹیکسٹائل کو دیکھ لیا ،لیدر کو دیکھ لیا فارما سوٹیکل کو دیکھ لیا مگر مائننگ میں کوئی ان سینٹو نہیں ہے ایکسپورٹ پر دو فیصد کاٹا جا رہا ہےری بیٹ نہیں ہے کوئی انعام نہیں ہے کوئی ریوارڈ نہیں ہے پوری دنیا میں ریوارڈ دیا جاتا ہے لیکن یہاں نہ ہونے کے برابر ہے مائننگ اتنی بڑی صنعت ہے کہ یہ صنعت آپ کو 100 بلین تک کما کر دے سکتی ہے۔

  • چین کی ڈیجیٹل مارکیٹ 618  کی کہانی  ۔۔۔ارم زہرا

    چین کی ڈیجیٹل مارکیٹ 618 کی کہانی ۔۔۔ارم زہرا

    جون کی شام جیسے کسی پرانی نظم کی آخری سطر ہو تھوڑی تھکی ہوئی، ذرا نم آلود، اور کچھ کچھ خوابیدہ۔ میں شینزن کے ایک گلی نما بازار میں کھڑی تھی، جہاں نیون روشنیوں کا جال بُنا گیا تھا اور ہوا میں فرائیڈ ٹوفو، مینگو آئسکریم اور عطرِ لیچی کی مہک معلق تھی۔ شہر نے جیسے کپڑے بدل لیے ہوں ۔ دن کی تیز روشنیوں والے کاروباری لباس کی جگہ ایک ڈھیلا، رنگین کرتا پہن لیا ہو جس پر چھوٹے چھوٹے جگنو کڑھائی کی صورت چمک رہے ہوں۔
    یہ “618 شاپنگ فیسٹیول” کا وقت تھا۔چین کی سال کی سب سے بڑی آن لائن سیل۔ مگر میرے لیے بازاروں کی اصل دلکشی نہ JD.com کی موبائل ایپ میں تھی، نہ Alibaba کی ڈیجیٹل ویب پر ۔ میرے دل کی دنیا تو انہی چھوٹے نائٹ مارکیٹس میں آباد تھی، جو ہر شام ایک نئی کہانی کی طرح کھلتے، اور رات گئے تک آنکھوں میں رنگ بھر کے بند ہو جاتے۔
    جون کی گرمی میں جب ہوا سست ہو جاتی ہے، چین کے ڈیجیٹل آسمان پر ایک تہوار اترتا ہے 618 یہ عام میلے جیسا نہیں، جہاں پتنگیں اڑتی ہوں یا ڈھول بجتے ہوں ۔ یہ تو کلاؤڈ کی دنیا میں ہونے والا وہ کاروباری جشن ہے، جہاں ہر کلک میں خواہش، ہر آئٹم میں رعایت، اور ہر کارٹ میں ایک چھوٹا سا خواب ہوتا ہے۔
    یہ فیسٹیول دراصل آن لائن بازاروں کی عید ہے JD.com، Taobao، Tmall جیسے دیو قامت پلیٹ فارم صارفین کو وہ سب کچھ دیتے ہیں جو وہ برس بھر صرف “Wishlist” میں رکھتے ہیں۔
    یہ سیل نہیں، ایک تجربہ ہے ۔ جہاں قیمتیں جھکتی ہیں اور دل خریداری کے رنگین کینوس پر اپنی پسند کا انتخاب کرتا ہے۔
    618 نہ دکان ہے، نہ بازار ، یہ ایک ڈیجیٹل دریا ہے، جس میں چین کے کروڑوں کارخانے، دکاندار، اور خریدار سب بہتے ہیں اور ہر سال جون میں، یہ دریا جوش میں آتا ہے ۔سودوں کا، سچائی کا، اور خوابوں کا۔
    اس بازار میں میرا پہلا قدم ایک کتابوں کی دکان کی جانب تھا۔ میں نے پوچھا “یہ 618 کا مطلب کیا ہے؟ کوئی میلہ ہے؟ کوئی تہوار؟”
    سامنے بیٹھے ایک نوجوان نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ رکھا اور کہا “نہیں، یہ تو JD.com کی سالگرہ ہے۔ جون کی اٹھارہ تاریخ۔”
    اور تب مجھے احساس ہوا کہ چین کی ڈیجیٹل دنیا میں تاریخیں بھی تہوار بن جاتی ہیں۔618 صرف ایک نمبر نہیں، ایک یاد ہے، ایک ابتدا ہے۔18 جون 1998 کو جب JD.com نے اپنی بنیاد رکھی تھی، شاید کسی نے نہ سوچا ہو کہ ایک دن یہی تاریخ چین کے کروڑوں خریداروں کے لیے سال کی سب سے بڑی امید بن جائے گی۔
    آج 618، صرف JD کا جشن نہیں،بلکہ پورے چین کا وہ ڈیجیٹل میلہ ہے، جہاں ہر کلک میں تجارت، ہر رعایت میں خواب اور ہر خرید میں ایک چھوٹی سی خوشی بندھی ہوتی ہے
    کتابوں کے شو روم سے نکلتے ہی دائیں طرف ایک خاتون بانس کی پنکھیاں بیچ رہی تھیں۔ ہر پنکھے پر ہاتھ سے پینٹ کی گئی تصویر تھی کہیں غروب ہوتا سورج، کہیں پہاڑوں کے بیچ بہتی ندی۔ وہ خاتون خود بھی کسی پرانی تصویر کی طرح لگتی تھی ۔ دھیمے لباس میں، چہرے پر خاموش مسکراہٹ، جیسے ہر پنکھا بیچتے وقت ایک پرانی یاد کسی کے ہاتھ رکھ دیتی ہو۔
    تھوڑی دور ایک نوجوان لڑکا، جس کے بال نیلے رنگ میں رنگے تھے، موبائل فون کے کورز بیچ رہا تھا۔ اس کی دکان کے پیچھے ایک بڑا سا بورڈ لگا تھا: “Buy 2, Get 1 Smile Free!” اور سچ مانیے، وہ واقعی ہر خریداری پر ایک ہنسی ضرور دیتا تھا۔ شاید یہی چھوٹے بازاروں کی اصل دولت تھی مسکراہٹیں۔
    بائیں طرف جب مڑی تو جیسے کسی خوشبو کی گلی میں آ نکلی۔ یہاں ایک کُھلے کاؤنٹر پر ایک بوڑھا آدمی جڑی بوٹیوں سے بنے صابن بیچ رہا تھا۔ وہ ہر صابن کے ساتھ اس کی “کہانی” بھی سناتا
    “یہ والا لیونڈر کا ہے ۔دل کی اداسی کے لیے اور یہ چائے کے پتے والا تھکے قدموں کے لیے۔”
    میں نے ایک ہلکے سبز رنگ کا صابن لیا، جس کی خوشبو میں جیسے نانی کے صحن کی صبحیں لپٹی ہوئی تھیں۔ بوڑھے آدمی نے جذباتی انداز میں کہا۔
    “یہ تمہارے خوابوں کو نرم کر دے گا، بیٹی۔”
    بازار میں کئی اسٹال ایسے بھی تھے جو 618 فیسٹیول کی چمک لیے ہوئے تھے۔ ایک نوجوان جوڑا “فلیش سیل” چلا رہا تھا۔ ایک لمحہ، ایک ڈیل۔ گاہک فون نکال کر QR کوڈ اسکین کرتا اور اگلے ہی لمحے ای-والٹ سے ادائیگی، ایک چھوٹا سا پرنٹر رسید اگلتا، اور پھر ہاتھوں میں ایک نیا الیکٹرانک پنکھا، یا ایل ای ڈی لائٹ، یا کمر سیدھی کرنے والا آلہ۔
    ان تمام خریداروں میں ایک چیز مشترک تھی ۔آنکھوں کی وہ چمک جو صرف “ڈسکاؤنٹ میں خوشی” سے جنم لیتی ہے۔
    آخر میں، میں بازار کی آخری گلی میں جا نکلی۔ وہاں زمین پر کپڑے بچھا کر کھلونے بیچے جا رہے تھے۔ ایک چھوٹی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ رنگ بدلنے والے بالز دیکھ رہی تھی۔ ایک لڑکا، جس نے خود بنایا ہوا روبوٹ بیچنے کی کوشش کی، میرے پاس آیا اور بولا “یہ ناچتا بھی ہے، دیکھیں؟”اور روبوٹ واقعی ناچا، ایک بارگین قیمت پر صرف دس یوان۔
    میں نے ایک مینگو قلفی لی، اور کرسی پر بیٹھ کر اس ذائقے میں اپنے بچپن کی گرمیوں کی خوشبو ڈھونڈی۔ قلفی کا رس، انگلیوں سے ہوتا ہوا کلائی تک بہا جیسے کوئی پرانا خواب بہہ جائے۔اوپر آسمان پر ہلکی دھند تھی، اور کہیں دور سے جگنوؤں کی مدھم روشنی آ رہی تھی۔
    جب میں بازار سے نکلی، تو ہاتھ میں ایک صابن، ایک فینسی پنکھا، اور ایک جگنو سا لمحہ تھا مگر دل میں ایک مکمل تصویر ان چہروں کی، ان رنگوں کی، ان چھوٹے جملوں کی جنہوں نے ایک بازار کو میری روح کی گلی بنا دیا تھا۔
    “بازار تو ہر شہر میں ہوتے ہیں، مگر کچھ بازار دل کے اندر بس جاتے ہیں جیسے کسی پرانی کتاب کے صفحے میں رکھے پھول کی خوشبو، جو برسوں بعد بھی مہک دیتی ہے۔
    اگلی صبح، میں نے قلفی کے رس سے بنے یادوں کے دائرے کو پیچھے چھوڑا، اور بس میں سوار ہو کر چین کے اُس بازار کی طرف روانہ ہوئی، جس کا نام دنیا بھر کے چھوٹے تاجروں کے لیے خواب جیسا ہے علی بابا۔
    مگر یہ کوئی غار نہیں، جہاں “کھل جا سم سم” کہا جائے اور خزانے ظاہر ہو جائیں یہ تو ایک ڈیجیٹل سلطنت ہے، جہاں تجارتی ذہانت، آنکھوں کا مشاہدہ، اور دل کی سچائی چاہیے۔
    شینزن کی نرم دھوپ میری کھڑکی سے آ کر گالوں کو چوم رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی “کیا پاکستان میں بیٹھا کوئی نوجوان، ایک لیپ ٹاپ، تھوڑی سی نیت اور ذرا سی سمجھ بوجھ سے چین سے تجارت کر سکتا ہے؟”
    علی بابا صرف ایک ویب سائٹ نہیں، یہ چین کے کروڑوں کارخانوں کی دکان ہے، جہاں ایک ایک پیچ، پرزہ، بوتل،کنگھی، چائے کی پتی، اور کپڑے کی ہر قسم آپ کے کلک کی منتظر ہے۔
    ایک بوڑھے چینی تاجر نے کہا تھا
    ‏“Alibaba is not a store, it is a gateway to a thousand villages.”
    اور وہ سچ کہتا تھا۔ ہر پروڈکٹ کے پیچھے ایک خاندان، ایک شہر، ایک قصبہ ہوتا ہے اور ہر خریدار کے پیچھے ایک خواب۔
    جب میں Yiwu International Trade City پہنچی ۔ جسے اکثر “دنیا کا سب سے بڑا ہول سیل بازار” کہا جاتا ہے تو ایک لمحے کو دل ڈر گیا۔ پانچ منزلیں، ہزاروں دکانیں، لاکھوں اشیاء اور ہر ایک اپنی آواز میں پکارتی تھی “آئیے، چھونے سے قیمت نہیں بڑھتی!”
    “پاکستان؟ جی جی، ہم شپنگ کرتے ہیں!”
    یہاں آپ کو ہر وہ چیز ملے گی جو ایک دکان دار، درآمد کنندہ یا ایمازون/درزن پر کام کرنے والا چاہتا ہے زیورات ، کھلونے ، کچن کا سامان ، سٹیچنری ، ہینڈ بیگز ، رمضان/عید ڈیکوریشن
    مجھے ایک پُرانی طرز کے اسٹال نے بہت متاثر کیا، جہاں ایک بزرگ خاتون خود کڑھائی کی گئی ربن بیچ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا
    “آپ روز اتنا سفر کرتی ہیں؟” وہ ہنس دی
    “ہاں، اور ہر ربن ایک کہانی ہے، جو شاید تم پاکستان لے جاؤ گی۔”
    اگر فیشن کی دنیا میں کاروبار ہے، تو Guangzhou کا سفر فرض ہے۔
    یہاں کے ہول سیل بازار Baima Clothing Market، Shahe Wholesale City اور Zhanxi Garment Market میں داخل ہونا ایسا ہے جیسے ایک متحرک قوس و قزح میں قدم رکھنا۔ ہر دکان پر کپڑے جیسے خوابوں کی طرح جھولتے ہیں۔ ریشم، لینن، کاٹن، جینز ، ہر سیزن، ہر اسٹائل۔
    میں ایک دکان میں داخل ہوئی تو دکان دار نے پوچھا۔
    “ری سیل کریں گی یا بوتیک چلانا چاہتی ہیں؟”
    اور مجھے اندازہ ہوا کہ چین میں صرف خریدار نہیں پوچھے جاتے، خوابوں کی نیت پوچھی جاتی ہے۔
    اگر کوئی پاکستانی چین سے درآمد کرنا چاہتا ہے تو درج ذیل راستے سب سے موثر ہیں
    1. علی بابا (Alibaba.com) سے آرڈر دینا
    ‏Minimum Order Quantity (MOQ) سمجھیں Supplier کی Trade Assurance چیک کریں۔
    ‏Sample منگوائیں، پھر Bulk Order دیں۔
    ‏2. Yiwu / Guangzhou سے براہِ راست خریداری
    آپ یہاں آ کر براہِ راست خرید سکتے ہیں یا چینی ایجنٹ کے ذریعے۔
    ‏ Shipping کے لیے FCL (Full Container Load) یا LCL (Less than Container Load) استعمال کریں۔کراچی، لاہور، سیالکوٹ میں Customs Clear کرنے کے لیے مقامی ایجنٹس موجود ہیں۔
    3. پاکستان میں بیچنے کے پلیٹ فارمز
    ‏Daraz.pk , Wholesale Facebook Pages Instagram Boutique ,
    ‏Local Bazaars (Anarkali, Tariq Road)
    شام ڈھلے، میں Guangzhou کے Beijing Road Night Market میں پہنچی یہ بازار کچھ کچھ لاہور کی انارکلی جیسا تھا۔ لوگ، روشنی، کھانے کی خوشبو، اور کپڑوں کی سجی سجائی دکانیں۔
    میں نے وہاں ایک لڑکی کو دیکھا جو ایک چھوٹا سا بوتیک چلا رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ Alibaba سے مال منگوا کر بیچتی ہے ۔اس کے فون میں پاکستانی کلائنٹس کے واٹس ایپ تھے، وہ اردو کے پیغامات بھی سمجھتی تھی۔ میں نے اس سے کہا
    “تم تو پاکستان کے بازاروں میں بیٹھی ہو، چین میں رہ کر!”
    وہ مسکرائی
    “بازار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، صرف بھروسے کی ضرورت ہے۔”
    جب میں واپس آئی، تو کمرے میں خاموشی تھی، مگر دماغ میں ہزاروں آوازیں گونج رہی تھیں
    ‏ “MOQ صرف 100 پیس!”
    “پاکستانی مارکیٹ میں یہ بہت چلتا ہے۔”
    “ہم CIF کراچی تک شپ کرتے ہیں۔”
    “ڈیل پکی؟”
    میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا دور ایک چینی لڑکی، چائے کی پیالی لیے، لیپ ٹاپ پر کچھ سرچ کر رہی تھی۔ شاید وہ بھی کسی پاکستانی دکاندار کو پروڈکٹ دکھا رہی ہو۔مجھے لگا، بازار صرف چیزوں کے نہیں ہوتے، خوابوں کے بھی ہوتے ہیں۔
    اگر آپ کو خواب دیکھنے آتے ہوں، تو علی بابا کے دروازے کھلنے میں دیر نہیں لگتی۔اور اگر آپ میں ہمت ہو، تو Yiwu،Guangzhou، اور Hangzhou کے بازار صرف منزل نہیں، خود ایک درسگاہ بن جاتے ہیں۔
    میں اُس دن علی بابا کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ایک کیفے میں بیٹھی تھی، جہاں چینی طالبات، کاروباری خواتین اور نوجوان لڑکیاں اپنے لیپ ٹاپ کھولے، خاموشی سے کام کر رہی تھیں۔ ہر ایک کے سامنے گرین ٹی کا کپ، اور اسکرین پر یا تو Alibaba.com کھلا تھا، یا پھر Douyin (چینی TikTok)، یا WeChat Mini Store۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر میز ایک چھوٹا سا دفتر ہے ایک ڈیجیٹل دکان۔
    میرے برابر بیٹھی ہوئی لڑکی نے اپنا تعارف ہلکی مسکراہٹ سے کروایا۔
    “میرا نام ژیاؤلین ہے، میں ہانگژو کی لوکل پروڈیوس کو پاکستان، دبئی اور انڈونیشیا بھیجتی ہوں۔”
    میں چونک گئی، کیونکہ وہ محض بائیس برس کی لگتی تھی، اور اس کے ہاتھوں میں نہ کوئی روایتی رسید تھی، نہ کوئی رجسٹر صرف اس کا فون، ایک چھوٹا بارکوڈ اسکینر، اور Alibaba Seller App۔
    ژیاؤلین نے مجھے بتایا کہ وہ چھوٹے کسانوں سے شہد، چائے، خشک پھول، اور قدرتی صابن خریدتی ہے، اور انھیں خوبصورت پیکیجنگ کے ساتھ مختلف ممالک کو برآمد کرتی ہے — سب کچھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے Alibaba & 1688.com پر پروڈکٹ لسٹ کرنا
    ‏Canva اور Photoshop پر پیکیجنگ ڈیزائن
    ‏TikTok/Douyin پر پروڈکٹ کی ویڈیوز
    ‏WeChat Pay اور AliPay سے ادائیگیاں
    ‏Lazada, Shopee, Daraz جیسے پلیٹ فارمز پر سیل
    اس نے کہا۔ “مجھے بازار جانے کی ضرورت نہیں، میرا بازار میری انگلیوں کے نیچے ہے۔”
    میں نے اسے بتایا کہ پاکستان میں بہت سی خواتین ہنر رکھتی ہیں مگر وہ مارکیٹ تک رسائی نہیں رکھتیں۔ وہ حیران ہوئی
    “ہمیں صرف ایک فون، تھوڑی انگریزی، اور سیکھنے کی لگن چاہیے باقی سب ہم نے خود سیکھا ہے۔”
    ہانگژو میں میں نے درجنوں ایسی لڑکیاں دیکھیں جو Alibaba یا Taobao پر “seller” تھیں۔ ان کی دکانیں نہ فٹ پاتھ پر تھیں، نہ پلازوں میں بلکہ کلاؤڈ پر۔ انھوں نے یہ جان لیا تھا کہ علم، نیٹ ورکنگ، اور برانڈنگ سے کہیں بھی کچھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔
    چین کی ڈیجیٹل مارکیٹ نے “تھوک فروش” (wholesale) کو موبائل میں قید کر دیا ہے اور “خریدار” کو دنیا کے کسی بھی کونے سے جوڑ دیا ہے۔ یہاں بازار کا شور نہیں ہوتا،مگر ہر نوٹیفیکیشن، ہر آفر، ہر کلک ، ایک نئی داستان کا آغاز ہوتا ہے۔
    واپسی پر جب میں مغربی جھیل کے کنارے چہل قدمی کر رہی تھی، تو ہوا میں بارش کی نمی اور چائے کی مہک مل رہی تھی۔ ذہن میں ژیاؤلین کا جملہ گونج رہا تھا “بازار اب صرف دکانوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں جو جوڑ سکے، وہ بیچ سکتا ہے۔”
    اور مجھے لگا، پاکستان کی بیٹیوں، بیٹوں، ہنر مندوں اور خواب دیکھنے والوں کے لیے بھی یہ دروازے کھلے ہیں۔
    کسی کو چین آنے کی ضرورت نہیں اگر آپ کے ہاتھ میں علم، فون، اور سچائی ہو، تو آپ کا بازار آپ کے ساتھ چلتا ہے
    چین کی ڈیجیٹل دنیا کوئی ایک ایپ، ویب سائٹ یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں یہ ایک نئی تہذیب ہے، جہاں بازار شور سے نہیں، کلک سے آباد ہوتے ہیں۔جہاں خریدار کے پاس وقت کم ہے، مگر چوائس بے شمار۔
    جہاں دکاندار چھت تلے نہیں بیٹھتا، بلکہ کلاؤڈ میں تجارت کرتا ہے۔
    یہاں ہر آرڈر، ایک الگ کہانی ہے۔ہر پیکیج، ایک شہر سے دوسرے ملک تک امیدوں کا سفر کرتا ہے۔اور ہر نوجوان، خواہ وہ ہانگژو کی گلی میں بیٹھا ہو یا کراچی کی چھت پر،اپنے موبائل سے دنیا کی مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے۔
    چین نے ہمیں یہ سکھایا کہ
    بازار بدل سکتے ہیں، طریقے بدل سکتے ہیں، مگر خواب وہی رہتے ہیں خود کو بہتر بنانے کے، کچھ بیچنے کے، اور کچھ پا لینے کے۔اب بازار صرف سڑکوں پر نہیں، بلکہ ہمارے دلوں، انگلیوں اور سوچوں میں بسا کرتے ہیں۔
    ارم زہراء ۔ چین

  • سدرہ کریم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی

    سدرہ کریم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی

    کراچی: اردو نثر و نظم پر مشتمل کتاب “ایک نام حقیقت” کی مصنفہ سدرہ کریم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر خالد معین نے کہا کہ ایک نام حقیقت نوجوان مصنفہ کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ انہوں نے کتاب سے کچھ نثر پارے اور غزلیں سنائیں، جن میں ایک شعر خاص طور پر قابلِ ذکر تھا:

    اب میں پھولوں میں کھلنا چاہتی ہوں
    خوشبوؤں میں بکھر کے دیکھ لیا

    اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر اور شاعر فاضل جمیلی نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ قبل سدرہ کریم سے ملے تھے، جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب کچھ بھیگے الفاظ انہیں پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ نئی کتاب میں زیادہ نظمیں ہوں گی، لیکن اس کے باوجود شاعری میں پختگی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیسے ماضی میں سینئر شعراء نوآموز لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، ویسا ماحول آج بھی قائم رہنا چاہیے۔

    شاعر جاوید صبا نے کہا کہ وہ سدرہ کریم سے واقف نہیں تھے، جب تک انہوں نے انہیں کتاب کی پی ڈی ایف بھیج کر تعارف نہ کروایا۔ کتاب پڑھ کر وہ حیران ہوئے کہ اس میں اہم سماجی مسائل پر نثر بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنفہ کی شاعری بھی فکر انگیز اور عمدہ ہے۔ انہوں نے کہا: “ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہو رہا ہے۔”

    مصنفہ سدرہ کریم نے تقریب کے انعقاد میں معاونت کرنے والے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تخلیقی کاوشوں کو سراہنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب سے ایک نثری تحریر “سکون” خاص طور پر سنائی۔

    تقریب کی صدارت عمرانہ انور مقصود نے کی۔ انہوں نے ابتدا میں اپنے خاندان کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ ان کے بچوں کو اردو ادب سے خاص لگاؤ نہیں، لیکن وہ گھر میں اردو میں گفتگو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم پرانے وقتوں سے ہیں اور اردو سے محبت کرتے ہیں — اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ اردو ہماری زبان ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ سدرہ کریم کی کتاب اس بات کی دلیل ہے کہ اردو زندہ ہے۔

    رکنِ سندھ اسمبلی ہالر واسن نے کہا کہ آج کل لوگ ادب کے بجائے تفریح کی طرف زیادہ راغب ہیں، لیکن ایسی تقریبات عوام کو ادب کی طرف متوجہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔