Blog

  • اردو انٹرنیشنل کا عالمی مشاعرہ رپورٹ تہمینہ راؤ:

    اردو انٹرنیشنل کا عالمی مشاعرہ رپورٹ تہمینہ راؤ:

    سڈنی ۲۵ جون / اردو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ۲۰۲۵ کا سالانہ مشاعرہ سابقہ رویات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور خوبصورت تجربہ تھا- جسے شعروادب کا ذوق رکھنے والے سڈنی کے سامعین نے شاندار لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا -آسٹریلیا کے سابق قونصل جنرل محمد اعظم کا کہنا تھا کہ اردو انٹرنیشل نے جس طرح مشاعرے کی روایات کو زندہ رکھا ہے اس کے نتیجے میں سڈنی کے شعرا کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار خان کے مطابق اردو زبان کی ابدی خوبصورتی نے شاعری کا لباس پہن کر ایک جادوئی فضا قائم کر دی تھی۔سوک تھیٹر کے سامعین سے بھرے ہوئے ہال میں مشاعرہ نصف شب تک جاری رہا اور سامعین آخر تک بیٹھے مہمان اور مقامی شعرا کو سراہتے رہے۔
    مشاعرے کی صدارت ہیوسٹن امریکہ سے آنے والے ممتاز شاعر اور اسکالر ڈاکٹر غضنفر ہاشمی نے کی جبکہ دنیا بھر میں اپنی شاعری کے لیے مشہور ہندستان سے آئے ہوئے شاعر خوشبیر سنگھ شاد مہمان خصوصی تھے ، ہندستان ہی سے آئے ہوئے شاعر نفس انبالوی اور میلبرن سے آئے ہوئے سینیر شاعر مصدق لاکھانی خاص مہمان تھے ۔
    مشاعرے کی ابتدا میں اشرف شاد نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں بتایا کہ اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا مشاعرے کی تہذیبی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ،اور اس کی بڑی وجہ وہ سامعین ہیں جو تیس سال سے ان مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کر کے اسے کامیاب بناتے ہیں۔
    فروغ زیدی نے مختصراً اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا کے پچھلے گیارہ سالوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اردو انٹرنیشنل پندرہ سے زیادہ عالمی مشاعرے منعقد کر چکی ہے ،اور اس نے کووڈ کے زمانے میں بھی زوم پر آن لائن عالمی مشاعروں اور افسانے کی محفلوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ اردو انٹر نیشنل اب تک ستر سے زیادہ ماہانہ ادبی نشستیں بھی منعقد کر چکی ہے۔
    انھوں نے شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے سامعین کو تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ مشاعرے میں جناب انور گھانچی صاحب کو اوم کرشن راحت ایوراڑد سے نوازا گیا ۔مہمان شعرا کے علاوہ آسٹریلیا کے جن شعرا نے اپنا کلام سنایا ان میں
    ڈاکٹر باقر رضا ، اشرف شاد ، ڈاکٹر شبیر حیدر،فروغ زیدی،ڈاکٹر یاسمین زیدی،ہما مرزا ،ڈاکٹر ئیاسمین شاد ،تہمینہ راؤ ،فرحت اقبال ،نوید علی خان ،ریحان علوی،جاویدنظر،شجاع عاطف،نسیم حیدر،نائلہ ہما،ڈاکٹر عدنان سید خواجہ حمید سالک اور ڈاکٹر کاشف بٹ شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض ہما مرزا اور یاسمین شاد نے انجام مشاعر کے اسپانسرز اور مہمانوں کو اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش گئیں اور تمام مہمانوں کی تواضع پُر تکلف طعام سے کی گئی ۔

  • 4 جولائی، امریکا کا یومِ آزادی…حمیرا گل تشنہ

    4 جولائی، امریکا کا یومِ آزادی…حمیرا گل تشنہ

    امریکہ کا یومِ آزادی، جو ہر سال 4 جولائی کو منایا جاتا ہے، نہ صرف ایک تاریخی واقعے کی یادگار ہے بلکہ یہ امریکی ثقافت، روایات اور قومی یکجہتی کا بھی عکاس ہے۔ یہ دن 1776 میں اعلانِ آزادی کی منظوری کی یاد دلاتا ہے، جب 13 نوآبادیوں نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ آج، یہ تہوار صرف ایک تاریخی تقریب نہیں رہا بلکہ امریکی معاشرے کے رنگارنگ پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

    4 جولائی 1776 کو فلاڈیلفیا میں دوسری کانٹی نینٹل کانگریس کے اجلاس میں اعلانِ آزادی کی منظوری دی گئی۔ یہ دستاویز، جسے تھامس جیفرسن نے لکھا، امریکہ کی 13 نوآبادیوں کے برطانیہ سے علیحدگی کا اعلان تھا۔ اس فیصلے نے امریکی انقلاب (1775- 1783) کو ایک نئی سمت دی، جس کے نتیجے میں امریکہ ایک آزاد قوم بن گیا۔ اعلانِ آزادی میں “زندگی، آزادی اور خوشی کی تلاش” جیسے بنیادی حقوق کو مرکزی حیثیت دی گئی، جو آج بھی امریکی جمہوریت کی بنیاد ہیں۔

    ثقافتی اہمیت: یومِ آزادی کا جشن کیسے منایا جاتا ہے؟
    4 جولائی کا تہوار امریکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مختلف علاقائی روایات اور عوامی تقریبات شامل ہوتی ہیں۔ یہ دن نہ صرف قومی یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ خاندانوں اور دوستوں کے اجتماع کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔

    آتشبازی 4 جولائی کی سب سے نمایاں روایت ہے۔ امریکا میں پورے جولائی کے مہینے میں شام کے وقت ملک بھر کے شہروں میں رنگ برنگے آتشبازی کے مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ ہر شہر و قصبے میان حکومتی سطح پر آتشبازی کی جاتی ہے اور ذاتی طور پر تقریبا پر رات پٹاخوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹیکساس کے شہر ایڈیسن میں ہونے والی آتشبازی کو امریکہ کی بہترین آتشبازیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر شہر کی آبادی معمول کے 17 ہزار سے بڑھ کر 5 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ آتشبازی کا نظارہ کرتے اور اس وقت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    مختلف علاقوں میں پریڈز اور عوامی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلا، پالتو جانوروں کی پریڈ: اوریگن کے شہر بنڈ میں 1924 سے ہر سال کتوں اور بکریوں کی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے، جسے 8 سے 10 ہزار افراد دیکھنے آتے ہیں ۔

    بچوں کی پریڈ: وایومنگ کے شہر کوڈی میں بچوں کی پریڈ ہوتی ہے، جس میں مقامی روایات جیسے “کوڈی سٹیمپیڈ” (گھڑ سواری کا مقابلہ) بھی شامل ہوتا ہے ۔

    پرانی گاڑیوں کی نمائش: پنسلوانیا کے واشنگٹن کراسنگ ہسٹورک پارک میں امریکی انقلاب میں حصہ لینے والے ممالک (امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی) کی گاڑیوں کی نمائش ہوتی ہے ۔

    ٹام سوئر کی یاد میں مقابلہ: مسوری کے شہر ہینی بل میں مارک ٹوین کے ناول “دی ایڈونچرز آف ٹام سوئر” کے کردار کی یاد میں باڑ رنگنے کا مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے ۔

    پین کیک کا ناشتہ: کیلیفورنیا کے قصبے انڈی پینڈنس اور مین کے بار ہاربر میں یومِ آزادی کا آغاز پین کیک کے ناشتے سے ہوتا ہے ۔
    موسیقی کے شو: بار ہاربر میں براہ راست موسیقی کے پروگرامز اور دستکاروں کے میلے بھی لگائے جاتے ہیں ۔

    ہر ریاست اپنے انداز و دستور کے مطابق اس وقت کو مناتی ہے۔ 4 جولائی کے جشن میں امریکہ کے مختلف علاقوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا ہے۔

    دیہی علاقے اپنی روایات کے مطابق اس دن کو مناتے ہیں۔ مثلا، وایومنگ جیسے ریاستیں گھڑ سواری اور کاؤبوائز کلچر کو فروغ دیتی ہیں۔

    شہری تقریبات کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔ جیسے، نیویارک یا شکاگو جیسے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کنسرٹس اور آتشبازی کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ اور فلاڈیلفیا جیسے شہروں میں اعلانِ آزادی کی تقلید کی جاتی ہے ۔

    4 جولائی کا تہوار امریکی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ امریکی معاشرے کے تنوع اور یکجہتی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ آتشبازی، پریڈز، تاریخی نمائشوں اور خاندانی اجتماعات کے ذریعے یہ تہوار ہر امریکی کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ جیسا کہ امریکی شاعر رالف والڈو ایمرسن نے کہا تھا: “آزادی کی روح ہی وہ چیز ہے جو امریکہ کو زندہ رکھتی ہے۔” اور 4 جولائی اسی روح کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
    حمیرا گل تشؔنہ

  • 2نوجوانوں کو ٹکر مارنے والا جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کا ڈرائیور گرفتار

    2نوجوانوں کو ٹکر مارنے والا جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کا ڈرائیور گرفتار

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کراچی کے علاقے انچولی میں حادثے کے ذمہ دار جے ڈی سی سربراہ ظفر عباس کے ڈرائیور عرب رضا کو پولیس نے گرفتار کرکے گاڑی برآمد کرلی۔پولیس کے مطابق گرفتار ڈرائیور سے ابتدائی بیان لےلیا گیا، ظفر عباس کا نوجوانوں کے موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ بند ہونے کا بیان بھی غلط نکلا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈبل کیبن گاڑی کو رانگ وے جاتے دیکھا جاسکتا ہے، ڈرائیور نے رانگ وے سے دوسری سڑک پر جانے کی کوشش کی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی نوجوانوں کے اہلخانہ سمن آباد پولیس سے رابطے میں ہیں۔۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحیح راستے پر آنے والے موٹر سائیکل سوار گاڑی سے ٹکرائے جبکہ نوجوانوں کو موٹر سائیکل سے اچھل کر دور فٹ پاتھ پر گرتے دیکھا جاسکتا ہے۔حادثے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوا، شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے، حادثے کے وقت ڈبل کیبن گاڑی میں دو گارڈز بھی بیٹھے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی نے گزشتہ روز موٹر سائیکل سوار دو نوجوانوں کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔

  • سانحہ لیاری کے متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دونگا،گورنر سندھ

    سانحہ لیاری کے متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دونگا،گورنر سندھ

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ لیاری سانحے کے متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کراچی پہنچا ہوں، وقت ضائع کیے بغیر یہاں لیاری آیا ہوں، اس سانحے کے حوالے سے اپنی تمام تجاویز خط کے ذریعے سندھ حکومت کو بھیجوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں عمارت کرنے کا واقعہ چھوٹا سانحہ نہیں ہے،معاملے پر خاموشی نہیں ہوگی، کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، نبیل گبول اور سعید غنی نے اچھی بات کی۔گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاؤس ہر کام میں فعال رہتا ہے، متاثرین کو راشن اور روزگار بھی گورنر ہاؤس دے گا۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ ہندو کمیونٹی اور متاثرین کے ساتھ ہوں، جو بلڈنگ خالی کرائی جارہی ہیں، حکومت سندھ ان کو چھ مہینے کا کرایہ دے کر اسی علاقے میں گھر دے۔انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں پیلپ لائن 1133 بنائی ہے، متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کئی سو لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے میرے حق میں نعرے لگائے۔

  • سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی،آباد

    سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی،آباد

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے سینئر وائس چیئرمین سید افضل ندیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لیاری میں عمارت گرنے والے واقعے پر انتہائی دکھ ہے۔ 2017 سے 2025 تک عمارتیں گرنے کے 12واقعات ہوئے جس میں 150 افراد جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں 2 قسم کی عمارتیں گریں جو مخدوش تھیں یا غیرقانونی تھیں۔ سندھ حکومت نے مخدوش عمارتوں کو گرانے کے لیے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔ جو پلاٹ کا مالک ہوتا ہے بلڈنگ مخدوش ہونے پر اس کا فائدہ ہوتا ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں نجی اداروں کے ذریعے سروے کرایا جائے ، جو عمارتیں رپیئرنگ ورک کے ذریعے ٹھیک ہوسکتی ہیں ان کی مرمت کرائی جائے اور جن عمارتوں کو مرمت سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا تو انہیں دوبارہ تعمیر کرانے کے لیے مالک کو پابند کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں لاکھوں عمارتوں پر اضافی منزلیں بنا کر کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ کراچی میں 5 سالوں کے دوران 85 ہزار عمارتوں پر غیر قانونی منزلیں بناکر رہائشیوں کی زندگی داؤ پر لگادی ہے۔ ایس بی سی اے اور بلدیاتی ادارے غیر قانونی بلڈنگ کی تعمیر میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔چیئرمین آباد کے مطابق عمارتوں میں مزید غیر قانونی تعمیرات سے مزید فلور ڈالے جاتے ہیں۔ ان تعمیرات سے عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا دیا جاتا ہے۔ یہ بلڈنگ اور چھتوں کی لائف 15 سے 20 سال ہیں۔ ان تعمیرات میں مقامی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام ملوث ہیں جب کہ مالی طور پر کمزور افراد ان عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کیخلاف سندھ حکومت سخت کارروائی کرے ۔ یہ بلڈنگیں کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، جو ناقص میٹریل سے تیار کی جاتی ہیں۔ خدا نخواستہ اگر شہر میں زلزلہ آئے گا تو یہ عمارتیں ڈھیر ہو جائیں گی۔ نیسپاک یا این ڈی ایم اے جیسے ادارے ان معاملات پر اپنا کردار ادا کریں۔ اگر آج اس معاملے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس شہر کو مزید نقصان ہوگا۔حسن بخشی کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کی کارکردگی کرپشن کا مظہر ہے۔ اسے ہم کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس میں انجنیئرنگ اور نقشہ منظور کرانے کے محکموں کو الگ کیا جائے۔غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوٹ بلڈرز اور سرکاری افسران پر انسداد دہشتگردی عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے ۔
    انہوں نے کہا کہ لیاری واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو کم از کم 25 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کرنا چاہیے۔ واقعے میں رہائش سے محروم افراد کو کم از کم صوبائی حکومت 10لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرے۔ اسی طرح لیاری واقعے میں ملوث افسران کی انکوائری ایس بی سی اے اور بلدیاتی افسران سے نہ کرائی جائے۔
    حسن بخشی کا کہنا تھا کہ آباد سندھ حکومت کو مخدوش عمارتوں کی دیکھ بھال اور غیر قانونی بلڈنگ کیخلاف خدمات دینے کو تیار ہے ۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نےعوام سے 25ارب روپے وصول کیے مگر 30سال گزرنے کے باوجود قبضہ نہیں دیا۔ سندھ حکومت مخدوش عمارتوں کے متبادل کے لیے آباد یا انجینئرنگ کونسل کی مدد حاصل کرے۔
    چیئرمین آباد کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز محکموں کی غفلت کی نشاندہی کرسکتا ہے اور یہ کام کررہا ہے۔ آباد ان مخدوش عمارتوں کو 700 دن میں تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ دہلی کالونی، لیاقت آباد لیاری جیسے کئی علاقوں میں مخدوش عمارتوں کا جال ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں مریم نواز گھروں کے لیے اسکیم دے رہی ہیں، سندھ حکومت بھی اسکیموں کا اعلان کرے ۔ سندھ میں گھروں کی قلت برقرار ہے، جس کا فائدہ مافیا اٹھارہا ہے۔ سندھ حکومت اگر آباد کو کہے کہ ایک لاکھ مکان چاہییں تو ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں لوگوں کی آسانی کے لیے آگے بڑھنا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر کراچی نے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق آباد سے رہنمائی لینے کے لیے ملاقات طے کرلی ہے ۔ کچی آبادیوں کی ازسرے نو تعمیر کے لیے سندھ حکومت کو پیش کردہ منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ کراچی میں لاکھوں غیر قانونی عمارتوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو سے بھی مطالبہ کیا تھا کراچی کے ماسٹر پلان کا کیا بنا؟ کراچی کا ماسٹر پلان تاحال نہیں بنایا جاسکا ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ زمینی دستاویزات کو ڈیجیٹل نہ کرنے کے لیے سسٹم حرکت میں آجاتا ہے ہر جانب کرپشن عروج پر ہے۔ عدالت میں بروقت انصاف نہیں ملتا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کراچی کاماسٹر پلان بنانےمیں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات میں صحافی بھی ملوث شامل ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے کراچی کے بلڈرز کی اہم ملاقات طے ہوگئی ہے۔ ان کی مشاورت سےلاہور میں نئے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز ہونے جارہا ہے۔
    اس موقع پر سینئر نائب چیئرمین آباد سید افضل حمید نے کہا کہ لیاری بغدادی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ، ہمیں تشویش ہے کہ جائے حادثہ پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ وہاں پر مشینری کی کمی اور لائٹوں سمیت دیگر انتظامی غفلت دیکھنے میں آئی۔انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ عمارتوں میں مقیم لوگوں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے ، مگر نوٹسز جاری کرکے ادارے اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ سندھ میں سیلاب آیا 8لاکھ مکانات بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جہاں سندھ حکومت 8 لاکھ مکانات بناسکتی ہے وہاں 60ہزار مکانات کی تعمیر ناممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ غیر قانونی عمارتوں میں مقیم افراد کو پورشن مافیا دھوکا دے رہی ہے۔ غیر قانونی عمارتوں کو بجلی اور گیس کے کنکشن بھی فوری فراہم کردیے جاتے ہیں۔

  • دلیر خاتون افسر نے  کنگ کوبرا  کو پکڑ کر سب کو حیران کردیا

    دلیر خاتون افسر نے کنگ کوبرا کو پکڑ کر سب کو حیران کردیا

    کیرالا(کنزیومر واچ نیوز) بھارتی ریاست کیرالا میں محکمہ جنگلات کی ایک دلیر خاتون افسر ڈاکٹر جی ایس روشنی نے 18 فٹ لمبے خطرناک کنگ کوبرا کو مکمل مہارت کے ساتھ پکڑ کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ واقعہ آنچومرتھوموٹ نامی علاقے میں پیش آیا جہاں یہ دیو قامت سانپ ایک چشمے میں تیرتا ہوا پایا گیا۔مقامی لوگوں کی اطلاع پر موقع پر پہنچنے والی فاریسٹ افسر روشنی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی پرسکون انداز میں ایک چھڑی اور مخصوص بیگ کی مدد سے سانپ کو قابو میں لا رہی ہیں۔کئی منٹ کی محنت اور خطرناک صورتحال کے باوجود، انہوں نے بغیر کسی نقصان کے کنگ کوبرا کو بیگ میں ڈال دیا۔ اس بہادری پر انہیں محکمہ جنگلات، سوشل میڈیا صارفین اور مقامی افراد کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر جی ایس روشنی گزشتہ 8 سال سے محکمہ جنگلات سے وابستہ ہیں اور اب تک 800 سے زائد سانپوں کو کامیابی سے پکڑ چکی ہیں۔

  • بیوی، شوہر کی ماں نہیں ہوتی،نادیہ جمیل

    بیوی، شوہر کی ماں نہیں ہوتی،نادیہ جمیل

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستانی اداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل نے حال ہی میں شوہر اور بیوی کے رشتے سے متعلق دیے گئے اپنے بیان پر وضاحت پیش کردی۔نادیہ جمیل نے انسٹاگرام پر وضاحتی پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرے بیان کو غلط سمجھا گیا، میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ بیوی، شوہر کی ماں نہیں ہوتی اور بیویوں کو ایسی کوشش کرنی بھی نہیں چاہیے۔نادیہ جمیل نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اپنے شوہر کی ماں نہیں ہوں، میرے شوہر کی والدہ زندہ ہیں اور میرے شوہر نے کبھی مجھے والدہ کے طور پر نہیں دیکھا، بطور بیوی اور ماں میرے کردار مختلف ہیں، میں شوہر کا دوسری طرح خیال رکھتی ہوں جب کہ بیٹے کا خیال رکھنے کا میرا طریقہ مختلف ہے، ہر کسی کا اپنا اپنا ذاتی مختلف طریقہ ہوتا ہے۔

  • صوبے میں   51   عمارتیں انتہائی خطرناک ہیں،شرجیل میمن

    صوبے میں 51 عمارتیں انتہائی خطرناک ہیں،شرجیل میمن

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے مخدوش عمارتوں کے تمام مکینوں کو رہائش کی فراہمی ناممکن قرار دیدی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صوبے میں 740 عمارتیں مخدوش ہیں جن میں سے 51 انتہائی خطرناک ہیں، انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 11 خالی کرالی گئی ہیں ۔
    انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے ممکن نہیں کہ مخدوش عمارتوں کے تمام مکینوں کو رہائش فراہم کرے، حکومت دستیاب وسائل میں کچھ خاندانوں کو عارضی متبادل رہائش دے سکتی ہے، ماضی میں سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین اور کووڈ مریضوں کو عارضی شیلٹرز دیے تھے۔
    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اٹھار ٹی نے لیاری بغدادی میں گرنے والی عمارت کے اطراف موجود ناقابل رہائش عمارتوں کو گرانا شروع کردیا ہے۔
    5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم
    دوسری جانب لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمشنرکراچی حسن نقوی کو 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جب کہ کمیٹی میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے سمیت دیگر افسران بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی عمارت کے گرنے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرےگی جب کہ کمیٹی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔تحقیقاتی کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔واضح رہےکہ کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ ہفتے ایک 5 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں27 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

  • بھارتی مہم جوئی کا  منہ توڑ جواب دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بغیر کسی ہچکچکاہٹ کے منہ توڑ، شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشان امتیاز(ملٹری) نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، اور ” نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس” کرنے والے مسلح افواج کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کیا۔شرکا سے خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے جنگ کے بدلتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی اور مشکل حالات میں پیچیدہ چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ذہنی تیاری، عملی فہم، اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ مہارت کی اہمیت پر زور دیا۔سید عاصم منیر نے ہائبرڈ، روایتی اور غیر روایتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی مستقبل کی قیادت کی تیاری میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جیسے اہم اداروں کے کردار کو سراہا اور سول اور ملٹری اداروں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، بھارت کی جانب سے آپریشن سندور میں ناکامی کی غیر منطقی توجیہات پیش کرنا، دراصل بھارت کی آپریشنل تیاری اور اسٹریٹجک دور اندیشی کی کمی کو ثابت کرتا ہے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی میں بھارت کی جانب سے بیرونی تعاون جیسے الزامات غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں، اس قسم کے بیانات بھارت کی آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں روایتی ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان کی دہائیوں پر مبنی حکمتِ عملی، مقامی صلاحیت اور مضبوط اداروں کی بنیاد پر کامیابی کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ملکوں کو شامل کرنا، بھارت کی ناقص سیاسی کوشش ہے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت کی طرف سے اس طرح کے بے بنیاد بیانات کا مقصد خطے میں فرضی” نیٹ سیکیورٹی پروائڈر”کے خود ساختہ رول کی ناکام کوشش ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب خطے کے ممالک بھارت کی جارحانہ اور ہندوتوا نظریے سے تنگ ہیں۔عاصم منیر نے کہا کہ بھارت کے خودغرضانہ اور تنگ نظر برتاؤ کے برعکس پاکستان نے اقوام عالم میں اصولی سفارتکاری پر مبنی دیرپا شراکت داری، باہمی احترام اور امن کی بنیاد پر تعلقات قائم کیے ہیں اور خود کو خطے میں نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر ثابت کیا ہے۔فیلڈ مارشل نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مہم جوئی، پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش یا اس کی خلاف ورزی کا بغیر کسی ہچکچکاہٹ کے فوری اور منہ توڑجواب دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس پیدا ہونے والی کشیدگی کی اصل ذمہ داری اس (بھارت) بصیرت سے محروم مغرور جارح پر عائد ہوگی، جو ایک خودمختار ایٹمی ریاست کے خلاف اشتعال انگیزی سے پیدا ہونے والے ممکنہ تباہ کن نتائج کا ادراک کرنے میں ناکام رہا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی، درآمد شدہ فینسی جنگی ساز و سامان یا سیاسی نعرے بازی سے نہیں جیتی جاتیں۔عاصم منیر نے کہا کہ جنگیں یقین ِمحکم، پیشہ ورانہ قابلیت، آپریشنل شفافیت، اداروں کی مضبوطی اور قومی عزم وحوصلے کے ذریعے جیتی جاتی ہیں۔فیلڈ مارشل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جذبے اورجنگی تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور فارغ التحصیل افسران پر زور دیا کہ وہ دیانتداری، بے لوث خدمت اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم پر ثابت قدم رہیں۔

  • پریما دودھ پر جھوٹے اشتہارات کے الزام میں 50 لاکھ روپے جرمانہ

    پریما دودھ پر جھوٹے اشتہارات کے الزام میں 50 لاکھ روپے جرمانہ

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)مسابقتی اپیلٹ ٹربیونل (CAT) نے پریما دودھ بنانے والی کمپنی ات طہور (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کمپنی نے گمراہ کن مارکیٹنگ میں ملوث ہو کر مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی کی ہے۔یہ کیس پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (PDA) کی شکایت پر شروع ہوا، جس میں الزام لگایا گیا کہ پریما نے 2016 میں سپریم کورٹ کے دودھ کے معیار سے متعلق فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلائی جس سے یہ تاثر ملا کہ مارکیٹ میں موجود دیگر تمام دودھ کی مصنوعات انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں ہیں، اور صرف پریما کا دودھ ہی محفوظ ہے۔CCP کی تحقیق کے بعد یہ دعوے بے بنیاد پائے گئے، جو کہ مسابقت کار کمپنیوں کے کاروبار اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے تھے۔کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے پریما کو سیکشن 10 کی ذیلی دفعات 10(1)، 10(2)(a)، (b) اور (c) کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، اور کمپنی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی گمراہ کن مارکیٹنگ سے متعلق عوامی وضاحت جاری کرے۔تاہم CAT نے CCP کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جرمانے کی رقم کو زیادہ قرار دے کر اسے کم کر کے 50 لاکھ روپے کر دیا۔یہ فیصلہ پاکستان کی ڈیری صنعت میں اشتہاری معیارات پر ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بناتا ہے۔