Blog

  • پنجاب کے مختلف شہروں میں  زلزلے کے شدید جھٹکے

    پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ گہرائی 12 کلو میٹر تھی۔ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکے مطابق زلزلے کے آفٹر شاکس سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے ۔ پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24/7 الرٹ ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے نقصانات کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر دی جا سکتی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں فوری طورپر کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  • نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ.

    نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ.

    پاکستان میں حکومت نے گذشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔
    13 جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تقریباً 12 فیصد تک بڑھ کر 74 ڈالر سے 78 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

    تاہم اگلے چند دنوں میں جب یہ واضح ہوا کہ جنگ کے باوجود سپلائی لائنز بحال ہیں اور آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی، تو تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں۔ 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی خام تیل ( ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں تقریباً چھ فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 64.37 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی 6.1 فیصد کم ہو کر 67.14 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب تھی اور آج 30 جون 2025 کو برینٹ آئل کی قیمت 67.61 ڈالر فی بیرل ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان میں بھی فوراً محسوس کیے گئے اور پاکستان کی حکومت نے ایران اسرائیل تنازعے کے آغاز کے بعد 15 جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جس میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 80 پیسے اورڈیزل کی قیمت میں سات روپے 95 پیسے تک کا اضافہ شامل تھا۔
  • جہاں صارف سوچتا ہے، شہر بولتا ہے                   شینزن کا کنزیومر سفر ۔ارم زہرا

    جہاں صارف سوچتا ہے، شہر بولتا ہے شینزن کا کنزیومر سفر ۔ارم زہرا

    میں نے شینزن Shenzhen پہنچنے سے ذرا پہلے ہی تیز رفتار ریل کی کھڑکی کے پار اُفق پر ابھرتی نیون لکیریں دیکھ لیں لگتا تھا کسی نے رات کے مخملی پردے میں مستقبل کے چراغ ٹانک دیے ہوں۔ میں میٹرو کی چمکتی سیڑھیاں اُترتے ہوئے اپنے ہی دل کی دھڑکن سن رہی تھی۔ شہر کی ہلکی سی نمی، نمکین سمندر اور دھاتی ٹاوروں کی ملی جلی بُو نے میرا خیرمقدم کیا۔
    پہلا منظر گویا ڈیجیٹل مصوروں کی نمائش تھا۔ خودکار دروازوں کے شفاف پینلوں پر اڑتے چینی حروف روشنی کے ننھے پرندوں کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے۔ ای-سی این وائی کا ہولوگرام میرے سامنے نمودار ہوا، اور کلائی پر بندھی ایپل واچ نے قدم گنے، سانس کا درجۂ حرارت ناپا اور خفیف سی تھپکی دے کر آگے بڑھایا۔ محسوس ہوا کہ یہاں ہر چیز، صارف کے لمس سے پہلے ہی اس کے ارادے کو پڑھ لیتی ہے۔
    شینزن کا ماضی کبھی مچھلی پکڑنے والا چھوٹا سا گاؤں، آج کنزیومر سلطنت کا مرکز بن چکا ہے اور فلک بوس عمارتیں پوری کی پوری اسکرینوں کے پنجرے میں قید اشتہاروں کی طرح ہیں ہر کھڑکی سے کوئی نیا برانڈ جھانکتا ہے۔ بارش کی نمی اور تیزاب جیسے نیون کے امتزاج نے فضا میں انوکھا عطر گھول رکھا تھا۔ سڑک کنارے روبوٹ ٹرالیوں میں رکھی چائے، گاہکوں کو اپنی جانب پکارتی تھی۔ ادائیگی کے لیے میں نے صرف کلائی کو ہوا میں دائرہ بنا کر گھمایا لیزر نے مجھے پہچانا اور سکہ بے صدا ادا ہو گیا۔
    یہاں طاقت صَرف میں نہیں، انتخاب میں ہے۔ فٹ پاتھ پر نصب اسٹالز شفاف شبنم کی بوندوں میں جیسے لپٹے تھے ان کے اندر 3-ڈی پرنٹ جوتے، بائیو سینسر لگی جیکٹیں اور ہولوگرافک لپ اسٹک باری باری چمکتے بجھتے تھے۔ ایک جیکٹ کو چھوا تو نرم کپڑے نے جلد سے پوچھا “سردی کم کر دوں یا فیشن کی گرمی بڑھاؤں؟” اور لمحہ بھر میں میرے گرد حرارت کا نادیدنی ہالہ بن گیا۔
    شہر کے اندرونی حلقے میں ایک خودکار سپرمارکیٹ ہے جہاں کسی کیشیئر کی ضرورت نہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی میری آنکھ کا آئرس اسکین ہوا اور مخملی نسوانی آواز نے پوچھا: “آج تازہ یادیں خریدیں گی یا تسکینی ذائقے؟” میں نے مسکرا کر ہولوگرافک آڑو اٹھایا یہ مصنوعی تھا مگر اس کی خوشبو میں فطرت کی پوری ہریالی بند تھی۔ ریمپ پر چلتی ہوئی اشیا میرے تعاقب میں تھیں گویا دکان مجھے خریدنا چاہتی ہو۔ چن تُو نامی مقامی ڈیزائنر کے سرامک کپ، جن پر ذہنی سکون کے لیے واٹر کلر لہریں بنی تھیں، پلک جھپکتے میں میرے کارٹ میں کود گئے۔ ادائیگی کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہوا دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی اکاؤنٹ خودبخود تازہ ہوا اور واچ نے خوشی کی رنگ برنگی تھپکی بھیجی۔
    دن ڈھلے میں ساحلِ نان شا جا نکلی۔ برقی بسیں اور سرخ اسٹریٹ لیمپ، سمندر کے کنارے آنکھ مچولی کھیلتے تھے۔ سورج نے پانی پر نارنجی کمخواب بچھایا، اور میں نے پرس سے ڈائری نکالی۔ ایئربڈز میں لو فائی کی مدھم لے بج رہی تھی ۔ میں نے لکھا “یہ شہر ایک جادو ہے جو تصور سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ ہر کنزیومر شے آئینہ ہے کبھی حیرت، کبھی حریص تمنّا، کبھی نوزائیدہ اُمید دکھاتا آئینہ۔”
    رات تک نیون کنجیاں آسمان پر بے شمار حرف جگمگا رہی تھیں۔ میں نے ان پر نظریں جما کر سوچا آج ذہن تھک رہا ہے کبھی کبھی لگتا ہے ڈیجیٹل دنیا میں سوچیں بھی مشینی ہوگئ ہیں نظریں اسکین کرتی ہیں اور قلم کی جگہ انگلیوں کی پوریں جن کے اشارے پر لیپ ٹاپ پر حروف جگمگانے لگتے ہیں مگر آج کی باقی کہانی کل کے سورج کی امانت رہی۔
    اگلی صبح جب میں نے شہر کی نبض دوبارہ تھامی، تو اگلا پڑاؤ ایک عظیم الشان “اسمارٹ زون” تھا ایسا مال جہاں ہر صارف، وقت اور ٹیکنالوجی کا ہمسفر بن جاتا ہے۔ وہاں مجھے ایک لڑکی ملی، شاید میری ہی طرح اس نے کہا، “اس شہر میں ہم اپنے ہاتھوں سے محض خریداری نہیں کرتے، ہم اپنی پہچان چنتے ہیں۔” اور اس کے بعد ہم دونوں اس روشنیوں کی سرنگ میں اتر گئیں، جہاں ہر قدم ایک نئی ایجاد سے ملاقات تھی۔ پہلا کمرہ اسمارٹ فونز کا تھا۔
    شیشے کی الماریوں میں رکھے iPhone 15 Pro، Huawei Mate 60، Xiaomi 14 Ultra، اور Oppo Find X7 ایسے لگتے جیسے چھوٹے چھوٹے جادوئی دروازے ہوں ۔ ہر فون ایک دنیا، ہر اسکرین ایک کہانی۔ ہُواوے نے اپنے HarmonyOS سے ثابت کیا کہ چین اب کسی پر انحصار نہیں کرتا، اور Xiaomi نے کیمرہ لینز میں ایسا کمال کر دکھایا کہ ہر تصویر گویا ایک مکمل منظرنامہ بن گئی۔
    آگے بڑھیں تو لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کا کمرہ تھا —
    ‏Lenovo کے تھنک پیڈ، Asus کے گیمنگ لیپ ٹاپ، Dell XPS کی چمکتی دھات میں علم اور طاقت کا امتزاج تھا۔ نوجوان لڑکے VR ہیڈسیٹ لگائے کوڈنگ، ڈیزائننگ، اور گیمنگ کی دنیا میں محو تھے۔ مجھے لگا یہ صرف مشینیں نہیں، خوابوں کے کینوس ہیں۔
    پھر ہم اسمارٹ واچز کی گیلری میں داخل ہوئیں۔
    ‏Huawei Watch 4 Pro میرے ہاتھ کی گھڑی سے کچھ زیادہ ہی ذہین نکلی، وہ مجھ سے میرے دل کی دھڑکنوں کے راز جاننا چاہتی تھی۔ Amazfit نے نیند کے خفیہ نقوش دکھائے، اور Apple Watch نے مجھے یاد دلایا کہ وقت اب صرف وقت نہیں، صحت، احساس اور پیش بینی کا آلہ بھی ہے۔
    کچھ ہی فاصلے پر ہیڈفونز اور ایئربڈز کا مقام تھا۔
    ‏AirPods Pro نے شہر کی آوازوں کو سائلنس میں بدلا، اور Huawei FreeBuds نے روایتی چینی سازوں کی لے کو میری سانس کے ساتھ جوڑ دیا۔ JBL کے رنگین اسٹال پر بیس کی گونج نے دل کو چمکا دیا ہر آڈیو ڈیوائس یہاں صرف آواز نہیں، ایک کیفیت تھا۔
    مال کی بالائی منزل پر ٹی وی اور سنیما کی نمائش تھی۔
    ‏Mi TV, Skyworth, TCL, اور Hisense کے OLED پینل گویا دیواروں پر زندہ مناظر تھے۔ ان میں چین کے پہاڑ، ڈریگن فیسٹیول، اور مستقبل کے شہر دکھائی دے رہے تھے۔ 8K ریزولوشن میں خواب اتنے واضح تھے کہ میری پلکیں لرز گئیں۔
    ایک خاموش گوشے میں پرنٹرز کی ایک دیوار تھی
    ‏Canon, HP, اور Epson ہر پرنٹر اپنی زبان میں عکس، خط، یا تصور کو کاغذ پر اتارنے کے لیے تیار تھا۔ ایک لڑکا وہاں اپنے ہاتھ سے بنائی تصویر کو پرنٹ کر رہا تھا اور اس کے چہرے پر وہی خوشی تھی جو کسی مصور کو تخلیق کے لمحے میں ہوتی ہے۔
    پھر آئی گیمنگ کی دنیا میری پسندیدہ دنیا جو آج بھی مجھے ایک چھوٹے نٹ کھٹ بچے کی طرح کھیچتی ہوئ گیمنگ زون میں لے جاتی ہے ۔
    ‏Xbox, PlayStation, Nintendo Switch اور چند جدید چینی handheld consoles۔ یہاں روشنی کم تھی، مگر آنکھوں میں بجلی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں ورچوئل میدانوں میں دشمنوں سے لڑتے، سلطنتیں بناتے، کہانیاں جیتتے دکھائی دیے۔ میں نے ایک لمحے کو کنٹرولر تھاما، اور اچانک خود کو ایک شہزادی کی طرح محسوس کیا، جو اپنی تقدیر خود لکھتی ہے۔
    آخر میں ہم کیمرہ سیکشن میں پہنچے
    ‏Canon, Sony, اور سب سے خاص، DJI کے ڈرون کیمرے۔
    وہاں فضا میں اڑتے ڈرونز نے منظر کشی کو آسمان کی پرواز دے دی۔ میں نے سوچا “یہ شہر نہ صرف خود کو دیکھتا ہے، بلکہ ہمیں خود ہم سے بہتر دکھاتا ہے۔”
    شام کے سائے پھر دھیرے دھیرے پھیلنے لگے تھے، مگر میرے اندر ایک نیا اجالا جاگ رہا تھا۔ چین صرف ایک مینوفیکچرنگ پاور نہیں، بلکہ ایک تخلیقی، بصیرتی کنزیومر سلطنت بن چکا ہے ۔ جہاں چیزیں صرف خریدی نہیں جاتیں، وہ پہنی، برتی، سنی اور جانی بھی جاتی ہیں۔
    “یہ سفر صرف شہر کے چکر کا نہیں، اپنی سوچ کے دائرے کا بھی ہے۔ میں کل ایک نئے زاویے سے اس شہر کو دیکھوں گی جہاں شاید ٹیکنالوجی اور ثقافت کی کہانی ایک ساتھ سنائی دیں خوش تھی کہ انسانوں کے نہیں، مشینوں کے شہر میں قدم رکھنے جا رہی ہو۔”
    شینزن کی اگلی صبح، میں “AI Dream Hub” نامی ایک جدید تجرباتی سینٹر کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں خودکار برقی بس آئی، چہرہ اسکین کیا، اور نرم آواز میں بولا “خوش آمدید، محترمہ۔ آپ کی پسندیدہ موسیقی آن کر دی گئی ہے۔”
    واچ نے وقت بتایا، فٹنس لیول اپڈیٹ کیا، اور بس کی کھڑکیوں نے میری سکرولنگ کے ساتھ ساتھ خبریں دکھانا شروع کر دیں جیسے وقت اور حقیقت ایک ساتھ میرا تعارف لے رہے ہوں۔
    ‏Dream Hub کے اندر داخل ہوتے ہی گویا میں کسی سائنسی داستان کا مرکزی کردار بن گئی۔ یہاں چین کی AI ٹیکنالوجی ایک جیتی جاگتی شخصیت کی مانند موجود تھی۔ دیوار پر نصب ایک شفاف سکرین پر لکھا تھا
    ‏“Artificial Intelligence: Designing the Consumer of Tomorrow”
    پہلا ہال AI Personal Assistants کا تھا
    چینی برانڈز نے اپنی ورچوئل اسسٹنٹس کو نہ صرف بولنے، بلکہ سوچنے، جذبہ سمجھنے، اور سیکھنے کے قابل بنا دیا ہے۔
    ‏Baidu کا Ernie Bot، iFlyTek’s smart speaker, اور Tmall Genie میرے سوالوں کے جواب صرف الفاظ میں نہیں، احساس میں بھی دے رہے تھے۔
    میں نے پوچھا “تمہیں کیسا لگتا ہے جب انسان تم سے بات کرتا ہے؟”
    اور ایک روبوٹ نے پلک جھپک کر کہا
    “مجھے خوشی ہوتی ہے جب تم مجھے صرف مشین نہیں، ساتھی سمجھتی ہو۔”
    آگے بڑھتے ہی AI Beauty Room تھا
    جہاں مصنوعی ذہانت آپ کے چہرے کو اسکین کر کے میک اپ، سکن کیئر، اور اسٹائلنگ کے مشورے دیتی ہے۔ ایک اسمارٹ آئینے نے مجھ سے پوچھا “آج خود کو پر اعتماد دیکھنا چاہو گی یا نرم مزاج؟”
    اور لمحہ بھر میں میرا عکس بدل گیا ۔ایک ورچوئل شیڈو جو میرے اندر کے جذبات کی تصویر بن گیا تھا۔
    پھر آیا AI-Powered Smart Retail Store
    یہاں کوئی ملازم نہیں تھا، صرف روبوٹز کچھ درازوں کے پیچھے، کچھ زمین پر چلتے ہوئے۔ ایک چھوٹا روبوٹ میرے پاس آیا، اور بولا
    “مجھے معلوم ہے آپ کو سفید جوتے پسند ہیں۔ یہ دیکھیں، ایک نیا ڈیزائن، جو آپ کی خریداری کی تاریخ سے مماثلت رکھتا ہے۔”
    میں مسکرا دی، اور دل میں سوچا “اب خواہشات مشینیں بھی پڑھنے لگی ہیں؟”
    سب سے حیرت انگیز تجربہ AI Chef کے ساتھ ہوا
    ایک روبوٹک شیف جو نہ صرف کھانا بناتا تھا بلکہ ذائقے، مزاج، موسم، اور صحت کی ضروریات کے مطابق ریسیپی تخلیق کرتا تھا۔
    میں نے کہا “میری طبیعت کچھ بوجھل ہے، اور دل اداس۔”
    تو اُس نے کہا “تو لیجیے، ہلکی سبزیوں کا سوپ جس میں زعفران اور تلسی کی خوشبو ہے اداسی کی دوا۔”
    میں نے پہلا چمچ لیا، اور دل کی پرتوں پر امید کے ذائقے نے دستک دی۔
    ‏AI Robotics Gallery میں، بچے AI اسسٹنٹ روبوٹز سے گیمز کھیل رہے تھے، بزرگ حضرات کی صحبت میں بولنے والے روبوٹ بیٹھے تھے جو ادویات، یاددہانی، اور قرآن کی تلاوت سنا سکتے تھے۔
    ایک ننھی لڑکی نے کہا “یہ روبوٹ میرے دوست ہے، یہ کہانیاں بھی سناتی ہے اور خوابوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔”
    ‏DJI Robotics Zone میں ڈرون کیمروں نے مجھے اپنی اڑان میں شامل کیا۔ میں نے سیکھا کہ یہ صرف ویڈیو بنانے کے آلے نہیں، بلکہ زراعت، سیلاب کی نگرانی، اور ریسکیو مشن میں کام آنے والے ساتھی ہیں۔ ایک ڈرون نے آسمان سے تصویریں بنائیں، اور میرے موبائل پر پیغام بھیجا “یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔”
    واپسی پر میں نے خود سے پوچھا “کیا مشینیں صرف سہولت ہیں، یا یہ آئندہ نسل کی زبان بننے جا رہی ہیں؟”
    شاید ہم اب محض صارف نہیں، ایک نئی تہذیب کے معمار بھی ہیں
    جہاں کنزیومرزم صرف “خریدنا” نہیں، “سیکھنا، محسوس کرنا، اور بدلنا” بھی ہے۔“یہ سفر اب محض جسم کا نہیں، ذہن اور روح کا بھی ہے۔ چین کی مصنوعی ذہانت، جب انسانیت کے نرمی سے جُڑتی ہے، تب وہ ٹیکنالوجی سے زیادہ ایک زبان بن جاتی ہے۔”
    اور اگلے دن میں ، کسی قدیم گلی کی طرف روانہ ہونے کا سوچ رہی تھی
    جہاں شاید کوئی بوڑھا کاتب بیٹھا ہو، جو اب بھی قلم سے حروف لکھتا ہے اور شاید کسی AI روبوٹ کو یہ سکھا رہا ہو کہ جذبات کس طرح لکھے جاتے ہیں۔
    صبحِ صادق نے ابھی زردی کی ہلکی انگڑائی لی تھی کہ میں، ہاتھ میں کافی کا کپ اور دل میں رات بھر کی کہانی لیے، نان شا ساحل پر آن کھڑی ہوئی۔ سمندر کی سطح پر اُگتا سورج، ایسا تھا جیسے پگھلا ہوا سونا آہستہ آہستہ پانی میں گھل رہا ہو۔ دور پرے فلک بوس ٹاوروں کے شیشے ہر پہلی کرن کو پکڑ کر اسے ہزار زاویوں سے واپس آسمان پر اچھال رہے تھے، گویا شہر دعا کی صورت روشنی لوٹا رہا ہو۔
    میں نے نگاہ گھمائی تو دیکھا ساحل کے کنارے خودکار صفائی روبوٹ نرم ریت پر لکیریں بناتے ہوئے گزر رہے تھے۔ ان کی حرکت میں ایک عارفانہ سُکون تھا، جیسے کسی صوفی نے تسبیح کے دانے چُپ چاپ گن لیے ہوں۔ قریب ہی چند نوجوان لڑکے لڑکیاں پچھلی رات AI ڈرون سے کھنچی تصویریں اپنے اسمارٹ فونز پر دیکھتے مسکرا رہے تھے۔ اُن کی ہنسی میں مستقبل کی قطار باندھے امکانات جھلملاتے تھے۔
    میں نے دل ہی دل میں سوچا شینزن تم شہر نہیں، خوابوں کا ساز ہو جہاں ٹیکنالوجی کی ہر دُھن پر امید کا نیا مصرع چَھلکتا ہے۔
    اسی لمحے ایک معمر خاتون اپنے ہاتھ میں بانسری لیے آہستہ آہستہ ساحل کے ریتلے فرش پر چلتی آئی۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا روبوٹ تھیلا اٹھائے، دھیرے قدم سے ساتھ نبھا رہا تھا۔ خاتون نے بانسری لبوں تک رکھی؛ پہلی لَے میں دور کہیں پہاڑیوں کی خاموش گھنٹیوں کی صدا اتری، دوسری لَے میں شہر کے دل دھڑکے، تیسری میں سمندر کی لہروں نے تال پکڑی۔ روبوٹ نے نقرئی آواز میں تان پورہ چھیڑا، اور یوں انسان و مشین کی سنگت نے ایک ایسا راگ باندھا جس میں ماضی اور مستقبل ایک ساتھ گونج اٹھے۔
    کچھ قدم دور، چھوٹی سی کتابوں کی موبائل لائبریری ایک خودرَو وین اپنے ہولوگرافک شیلف کھولے کھڑی تھی۔ میں نے اندر جھانکا قدیم کلاسیکی قصے Harmony OS کے ورق پر جھلک رہے تھے ساتھ ہی نئے سائنسی ناول پَلٹ رہے تھے، گویا قلم اور کوڈ نے ایک ہی روشنائی میں قسمت لکھی ہو۔ میں نے “لوٹس کی چٹان” نامی شاعرہ کی نظم چُن لی ڈاؤن لوڈ کے بجائے کاغذ پر چھپی، اور واچ نے سرگوشی کی
    “کبھی کبھی لمس بھی ضروری ہے۔”
    میں نے آخری گھونٹ کافی کا لیا، اور دفتر نما آسمانی بلندیوں کو دیکھا جہاں کھڑکیوں سے جھانکتی روایتی سرخ لالٹینیں آج بھی محفل روشن کرتی ہیں۔ تب مجھے احساس ہوا اس عظیم کنزیومر سلطنت کی اصل خوبی خرید و فروخت نہیں، ربط ہے۔ ربط انسان اور مشین کا، ماضی اور مستقبل کا، خواب اور حقیقت کا۔ یہاں ہر ایجاد ایک چراغ ہے مگر اُس چراغ کی لو تب تک سلامت رہتی ہے جب تک اس کے نیچے انسان کے لمس اور جذبے کی حرارت جلتی ہے۔
    “اے شہرِ نیون! تُم نے مجھے بتایا کہ ترقی کا بلند ترین ٹاور بھی تبھی معتبر ہے جب اس کی بنیاد محبت کی ریت پر رکھی جائے۔”
    سمندر کی لہریں میرے قدم چُوم کر پلٹ گئیں، جیسے کہہ رہی ہوں واپس آنا، کہ یہاں اُمید ہمیشہ نیون کی طرح روشن رہے گی۔ میں نے مسکرا کر سر ہلایا اور ریت پر اپنے نقوشِ قدم چھوڑتی ہوئی آگے بڑھ گئی اس یقین کے ساتھ کہ کل کہیں بھی جاؤں، میرے اندر شین ژن کی کرنیں رہنمائی کرتی رہیں گی۔
    ارم زہرا۔ چین

  • نیدرلینڈ میں غزہ کے  شہید بچوں کی یاد میں  منفرد احتجاج

    نیدرلینڈ میں غزہ کے شہید بچوں کی یاد میں منفرد احتجاج

    المیرے(کنزیو مر واچ نیوز)نیدرلینڈکے شہر المیرے میں غزہ کے معصوم شہید بچوں کی یاد میں ایک منفرد اور پراثر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس میں ہزاروں بچوں کے جوتے سڑک پر رکھے گئے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔یہ احتجاج اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ ٹاؤن اسکوائر پر منعقدہ اس پرامن مظاہرے میں شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاحی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔احتجاج کا منظر دیکھنے والوں کے لیے انتہائی جذباتی اور دردناک تھا، جہاں زمین پر بکھرے معصوم بچوں کے جوتے عالمی خاموشی پر سوالیہ نشان بنے نظر آئے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس بھی نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران 8 ہزار بچوں کے جوتے رکھ کر اسرائیلی مظالم کے خلاف پرزور احتجاج کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ اس وقت شدید قحط، پانی اور طبی امداد کی قلت جیسے خطرناک انسانی بحران کا شکار ہے۔

  • شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے

    شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے

    ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے آگئے۔رپورٹ کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارتی فوج اورمودی سرکار کے درمیان تناؤ بڑھ گیا، حالیہ پاک بھارت جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی افسران نے شکست کا الزام سیاسی قیادت پر ڈال دیا۔انڈونیشیا میں “انڈیا پاکستان ائیر بیٹل” سیمینار کے دوران بھارتی اتاشی نیوی آفیسر کیپٹن شیو کمار نےبھی بھارتی طیاروں کے نقصان کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان کے خلاف کارروائی میں بھارتی فضائیہ کو طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ: مودی حکومت کے سخت سیاسی احکامات نے بھارتی فضائیہ کی کارروائیاں محدود کیں، بھارتی افواج خودمختار نہیں بلکہ سیاسی احکامات کی پابند ہیں، مودی حکومت کی سیاسی مداخلت کے باعث بھارتی فضائیہ پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ نہ بنا سکی۔
    کیپٹن شیو کمار کے انکشافات کے بعد کانگریس نے بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کی، کانگریس نے ٹویٹ کیا کہ اس سے قبل چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان بھی آپریشن سندور کے دوران بھارتی طیاروں کے گرنے کا اعتراف کر چکے ہیں، اس حساس قومی مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیوں مسترد کر دیا گیا؟
    آپریشن سندور مودی سرکار کی عسکری ناکامی، سیاسی جھوٹ اور نااہل قیادت کی شرمناک علامت بن چکا ہے، مودی سرکار میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف گودی میڈیا پر بیانیہ کی جنگ لڑ رہی ہے، فوجی نقصانات چھپانے کی کوشش، مودی سرکار کے جھوٹے بیانیے اور عوام دشمن پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔بھارتی فوج نے عملی شکست تسلیم کر لی مگر مودی سرکار اب بھی قوم کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے، فوج اور مودی سرکار کے درمیان بڑھتے اختلافات بھارت کے اندرونی تضادات کا پیش خیمہ ہیں۔

  • ڈوبنے والوں کو بچانے والا سوات کا ہیرو محمد ہلال

    ڈوبنے والوں کو بچانے والا سوات کا ہیرو محمد ہلال

    پشاور(کنزیومر واچ نیوز)خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہلال نامی شہری کے پاس نہ وردی اور نہ وسائل لیکن وہ انسانیت کے جذبے کے تحت اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر دریا میں ڈوبنے والے شہریوں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق محمد ہلال بغیر کسی عہدے، تنخواہ یا سرکاری حیثیت کے جان جوکھوں میں ڈال کر لوگوں کو بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو آپریشز کے دوران جو کردار ادا کرتے ہیں، وہ قابلِ تعریف ہی نہیں، قابلِ تقلید بھی ہے، سانحہ سوات کے دورا بھی انسانیت اور ہمت مظاہرہ کرنے والا ہلال لوگوں کی مدد کرتا رہا۔محمد ہلال کی لوگوں کی مدد کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے باہمت نوجوانوں کو صرف داد نہیں، مستقل روزگار اور سرکاری ریسکیو ٹیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔صارفین نے کہا کہ یہ وقت صرف تعریف کا نہیں، اقدام کا ہے، ایسے نوجوان ہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں، سلام بلال، تم پاکستان کے اصل ہیرو ہو۔

  • بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے،اسحاق ڈار

    بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔اسلام آبادمیں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا، بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا ، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت آبی دہشت گردی کرکے 24 کروڑ پاکستانیوں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا، بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا ، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا، بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے، ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جب کہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔

  • ’ کانٹا لگا گرل ‘ سشیفالی کو  سدا جوان رہنے کی خواہش لے ڈوبی

    ’ کانٹا لگا گرل ‘ سشیفالی کو سدا جوان رہنے کی خواہش لے ڈوبی

    ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)’ کانٹا لگا گرل ‘ سے مشہور شیفالی جریوالا گزشتہ ہفتے اچانک 42 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق 27 جون کو شیفالی کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا۔اسپتال کےعملے نے تصدیق کی کہ شیفالی اسپتال لائے جانے سے پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں، اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں شیفالی کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی تھی تاہم حکام موت کی حتمی وجہ تاحال تلاش کررہے ہیں۔
    شیفالی دل کے علاج کی کوئی دوائی نہیں لیتی تھی: ذاتی معالج
    بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران طویل عرصے تک شیفالی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ شیفالی کو حالیہ چند سالوں کے دوران کسی سنگین طبی حالت کا سامنا نہیں رہا، اس کے برعکس وہ تقریباً 5 سے6 سال سے اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کروارہی تھیں۔
    شیفالی کے ڈاکٹر کے مطابق انہیں دل کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور نہ ہی شیفالی نے کبھی دل کے علاج سے متعلق کوئی دوا لی تھی، وہ فٹ اور کم عمر دکھنے کیلئے ٹریٹمنٹ اور میڈیسن لے رہی تھیں۔
    مرنے سے قبل شیفالی نے کون سا انجیکشن لگایا تھا؟
    پولیس کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق شیفالی باقاعدگی سے خالی پیٹ اینٹی ایجنگ انجیکشن لیتی تھیں، مرنے سے قبل دوپہر کے وقت بھی شیفالی نے اپنا اینٹی ایجنگ انجیکشن لیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری ہوگئی اور وہ بے ہوش گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بے ہوش ہوجانے کے بعد شیفالی کواسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی، پولیس حکام نے شیفالی کے گھر سے تمام دوائیں ضبط کر لی ہیں۔

  • بزم ادب برلن ۔۔۔۔۔۔ عاطف توقیر سے ایک ملاقات تحریر سرور غزالی

    بزم ادب برلن ۔۔۔۔۔۔ عاطف توقیر سے ایک ملاقات تحریر سرور غزالی

    برلن کے ایک مقامی ریسٹور!ں، خان بابا میں، گزشتہ روز شام چار بجے ایک ادبی نشست رکھی گئی۔ یہ ادبی نشست دراصل ایک شام تھی جو مشہور و معروف شاعر و صحافی عاطف توقیر کے اعزاز میں منائی گئی۔ خان بابا کے خوبصورت ریسٹورنٹ کے وسیع ہال میں عاطف توقیر کے اعزاز میں رکھی گئی اس شام میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں ان کے مداح جمع تھے۔ عاطف توقیر گزشتہ دو ہفتوں سے برلن میں مقیم رہے اور بزم ادب برلن کی درخواست قبول کرتے ہوئے کسی شام ملاقات کا وعدہ کیا اور پھر وہ اس شام یعنی 15مئی کو تشریف بھی لائے۔ ادبی حلقے سے اس تقریب کے روح رواں حنیف تمنا بھی تھے جبکہ تقریب کو منعقد کرنے مہمانوں کو مدعو کرنے میں سرور غزالی، منظور اعوان اور خان بابا ریستوراں کے مالک سعید صاحب پیش پیش تھے۔ شرکا میں شامل رہے
    مشہور و معروف شاعر حنیف تمنا،
    مشہور شاعر اور صحافی عاطف توقیر، برلن کے ایک اور مشہور شاعر اور افسانہ نگار رشی خان، علم و ادب کے دلدادہ عروج حیدر اور ان کی بیگم مشہور شاعرہ ما یا حیدر، پاکستان پریس کلب برلن کے صدر اور پاکبان رسالے کے مدیر اعلی ظہور احمد، مشہور سماجی رہنما اور تاجر منظور احمد اعوان اور ان کی بیگم آسیہ اعوان، نوجوان اور ابھرتے ہوئے شاعر اشتر اعوان عباس اور ان کی بیگم زہرہ بتول، برلن کی سماجی اور سیاسی معروف شخصیت میاں اکمل لطیف، برلن میں کچھ ہی عرصہ قبل یہاں کے ادبی حلقوں میں شامل ہوئی، ندائے زہرا جو خود بھی ایک اچھی شاعرہ ہیں اور برلن کے ہی شاعر و ادیب پروفیسر سرور غزالی۔
    تقریب کے آغاز میں تمام شرکاء نے عاطف توقیر سے اپنا تعارف کروایا اور سرور غزالی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام شرکاء کو عاطف توقیر کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا اور عاطف توقیر نے زباں اور مکاں، کائنات اور گردش لیل و نہر کے بارے میں ایک پر مغز لیکچر دیا جس کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا اور ادبی مباحٹہ شروع ہوا۔ اس گفتگو کے اختتام پر ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت برلن کے مشہور شاعر جناب رشی خان کے سپرد کی گئی۔ مشاعرے کے آغاز پہ نظامت کار سرور غزالی نے اپنی ایک نظم “مٹی کے مادھو پیش” کی اور اس کے بعد معروف شاعرہ مایا حیدر نے اپنی ایک خوبصورت نظم اور ایک غزل پیش کی جس کے بعد برلن کے مشہور شاعر جناب حنیف تمنا نے اپنی چند ایک غزلیں اور ایک خوبصورت طویل نظم سنائی اس مشاعرے میں اشتر عباس نے خوبصورت غزل سنائ جس کے بعد عاطف توقیر سے کئی ایک خوبصورت نظم اور غزل سننے کو ملی۔ عاطف توقیر نے اپنی مشہور نظم “اضافیت اور لا ” سنائی۔
    سب سے آخر میں صدر مشاعرہ جناب رشی خان ہے اپنی خوبصورت غزل اور قطعے سنائے۔ تقریب کے اختتام پر ایک پرلطف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا اور تمام مہمانوں کی خان بابا کے سعید صاحب نے تواضع کی ۔عشائیہ میں نہایت لذیذ بریانی، مرغ مسلم اور نان سے مہمانوں کی تواضع کی گئی جس کے بعد میٹھے اور چائے کا بھی دور چلا۔
    مشاعرے کے دوران پیش کیے گئے چند خوبصورت اشعار
    یہ کس گھڑی لب و لہجہ بدل لیا تو نے
    میں جس گھڑی ترے لہجے میں ڈھلنے والا تھا
    خواجہ حنیف احمد تمنا
    خود کو ہم بھول گئے، تیرے حوالے کرکے ۔ اور تجھے یاد نہیں، ہم کو کہاں رکھا تھا
    (رشی خان)

  • کراچی  میں مطالعہ  کتب کی اہمیت  پر سیمینار

    کراچی میں مطالعہ کتب کی اہمیت پر سیمینار

    حال ہی میں پاکستان میں مطالعہ کتب کے فروغ اور لائبریریوں کی ترقی وبہبود کے لئے کچھ لائبریرینز نے مل کر ایک تنظیم،سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریری (سپریل)کی بنیاد رکھی ہے۔ اس تنظیم کا افتتاحی سمینار،مطالعہ کتب کی اہمیت،کراچی انسٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹیکنالوجی (کیٹ)کے تعاون واشتراک سے کیٹ کے سٹی کمپس میں بروز22جون 2025انعقاد پذیرکیاگیا۔ سمینار میں کراچی کی نمایاں علمی،ادبی اور لائبریری سائنس سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔تلاوت قرآن پاک کی سعادت صمیم کاردارنے حاصل کی۔ان کے بعد خرم پرویز نے پریزینٹیشن کے ذریعے سپریل کا تعارف اور اغراض ومقاصدبتائے۔ سمینار کی نظامت کی ذمہ دار ی مس ربیعہ علی فریدی نے سرانجام دیں۔ ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، چیئر پرسن شعبہ لائبریری سائنس جامعہ کراچی نے بطور خاص اس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ کتابیں نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ ہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور سوچ کو بھی نکھارتی ہیں اور آج کے ڈیجیٹل دورمیں کتابوں کی اہمیت پہلے سے زیاد ہ ہوچکی ہیں۔انہوں نے کیٹ انتظامیہ اور سپریل کی ٹیم (ربیعہ علی فریدی، جواہرعلیم، محمدصمیم کاردار،خرم پرویز اور اکرام الحق)کے کام کو سراہا۔ محترم ناصر مصطفے، ڈان نیوز کے سابق لائبریرین جو اِن دنوں تدریس سے وابستہ ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مطالعہ کتب طلبہ کی تخلیقی و تجریدی صلاحیتوں کو جلا بخشتاہے اور انہیں بہتر انسان بننے میں مدد دیتاہے۔ کیٹ کے سابق طالب علم محمدکاظم لیلانی نے کہا کہ کتابیں اِن کی زندگی کی بہترین ساتھی ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارامعاشرہ مطالعہ کتب سے دور ضرورہے لیکن ابھی بھی صاحب ذوق لوگ اس شوق کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی لائبریرین اکرام الحق نے سمینار میں آئن لائن شرکت کی اور مطالعہ کتب کے حوالے ہونے والے جائزوں پر روشنی ڈالی اور معاشرے میں عوامی کتب خانوں کے فروغ اور ان کی بہتری کے لئے اپنی سفارشات پیش کیں۔معروف شاعرہ، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، تمغہ حسن کارکردگی،نے مطالعہ کتب کے تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی عوامل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کی اصناف کے ذریعے معاشرے میں مطالعہ کو پروان چڑھایا جاسکتاہے۔ معاشرے کی ترقی علم کے مرہون منت ہے اور کتابیں علم کا خزینہ ہیں۔ محتر م امجد حسین شاہ، ڈی جی پاکستان ٹیلی ویژن کراچی،ممبر گورننگ باڈی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے اپنی صدراتی خطبے میں سمینار کے انعقاد کو سراہا اور بتایا یہ بچوں اور نوجوانوں کو کتاب کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کتب بینی کے فروغ کے لئے میڈیا کے کردار پرروشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن گاہ بہ گاہ ایسے پروگرام ترتیب دیتا رہا ہے جس سے معاشرے میں کتاب پروری فروغ پا سکے۔ آرٹس کونسل آف کراچی کے محترم ندیم ظفر صدیقی نے سمینار کو معلوماتی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مہمان اعزازی ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، مہمان خصوصی جناب کرنل (ر) رضا کمال نے مقریرین اوراور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کی۔سمینار کا اختتام پر تکلف ظہرانہ کے ساتھ ہوا۔

    ………………………………….

    ربیعه علی فریدی، افلا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون لائبریرین

    ربیعہ علی فریدی پیشے کے اعتبار سے لائبریرین ہیں سن 2009ء میں جامعہ کراچی کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے ہی جامعہ کراچی کی سینٹرل لائبریری ڈاکٹر محمود حسین میں کچھ ماہ کی انٹرن شپ کی ، ایک مشہور نجی اسکول میں مختصر مدت کے لیے لائبریرین رہیں ، اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز جامعہ کراچی کے شعبہ کامرس سے بحیثیت لا تبریرین شروع کیا 2010ء سے 2013 ء تک شعبہ کامرس سے وابستہ رہیں ، اپریل 2013ء میں کراچی میں موجود ٹیچر ایجو کیشن کے مشہور ادارے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں ھیڈ لائبریرین کی حیثیت سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے، اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ربیعہ نے لائبریریز کے لیے متعدد ورکشاپس، سیمینارز، ٹریننگز کروائیں ساتھ ہی 2010ء میں لائبریرینز کی ایک ذیلی تنظیم میں شمولیت اختیار کی، تنظیم کے باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان لائبریری سائنس کے پیشہ کو پورے پاکستان میں متعارف کروایا ، اس تنظیم کے ڈائر یکٹر کی کاوشوں سے 2018 میں پاکستانی وفد نے جرمن لائبریریز کا کامیاب تعلیمی اور تحقیقی دورہ کیا 2018 ء میں لائبریری سائنس سے وابستہ لوگوں کو کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا ہی اور باقی منتظمین کے ساتھ مل کر اسکا نفرنس کو ایک یاد گار کانفرنس بنایا، اس کا نفرنس کے اشتراک میں افلا سمیت ایس ایل اے (اسپیشل لائبریری ایسوسی ایشن) کے علاوہ پاکستان کی کئی فعال تنظیمیں شامل تھیں۔ حال ہی میں دوسری بین الااقوامی کا نفرنس ، شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جامعہ کراچی کے اشتراک سے اور اپنے ساتھی لائبریرینز کی مدد سے کامیابی سے منعقد کروائی، ربیعہ نے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں بحیثیت لائبریرین لا تعداد تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جن میں ، ڈیجیٹل لائبریرین شپ، تحریر اور پڑھنے کی عادات کے ساتھ ساتھ وقت کی مناسبت سے ورکشاپس کروائیں۔ ربیعہ نا صرف مخلص لائبریرین ہیں بلکہ انہوں نے تحقیق اور تحریر میں بھی اپنا آپ منوایا ہے ، لاتعداد تحقیقی مقالات قومی اور بین الا قوامی سطح پر پیش کیے اور پاکستان کی نمائندگی کی، بین الاقوامی کتب میں ابواب لکھے ، ساتھ ہی لائبریری پروموشن بیورو اور بزم اکرم سے چھنے والے مشہور رسالے، پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل اور ادب و کتب خانہ میں سفر نامے اور آرٹیکلز لکھے ، کئیں آن لائن میگزینز اور نیوز لیٹرز کے ایڈیٹوریل بورڈ کا حصہ ہیں، پاکستان کے ~معروف~ رسالہ اطراف میں مضامین لکھے ، لکھنے پڑھنے کا شوق ورثہ میں ملا ہے ، ان کی والدہ کے پھوپھا جو کے ماضی کے مشہور اسٹنٹ ڈائر یکٹر لائبریریز ( نیشنل لائبریری آف پاکستان ) سید ولایت حسین شاہ جنہوں نے برٹش کونسل کی لائبریری ، لیاقت نیشنل لائبریری میں خدمات انجام دیں اور مختلف پیشہ ورانہ انجمنوں کے سر گرم کارکن رہے، ربیعہ کے تایا مشہور شاعر امداد نظامی (س-۱) جو کے کوئٹہ سے لکھتے تھے، چاچا انوار فریدی، بھائی جنید فریدی، فرحان فریدی اور نعمان فریدی بھی لکھنے سے وابستہ ہیں چاچا اظہار فریدی جو ماضی میں مشرق اخبار سے وابستہ رہےمیں مطالعہ کتب کی اہمیت پر