لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ گہرائی 12 کلو میٹر تھی۔ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکے مطابق زلزلے کے آفٹر شاکس سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے ۔ پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24/7 الرٹ ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے نقصانات کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر دی جا سکتی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں فوری طورپر کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
Blog
-

نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ.
پاکستان میں حکومت نے گذشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔
13 جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تقریباً 12 فیصد تک بڑھ کر 74 ڈالر سے 78 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔
تاہم اگلے چند دنوں میں جب یہ واضح ہوا کہ جنگ کے باوجود سپلائی لائنز بحال ہیں اور آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی، تو تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں۔ 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی خام تیل ( ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں تقریباً چھ فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 64.37 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی 6.1 فیصد کم ہو کر 67.14 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب تھی اور آج 30 جون 2025 کو برینٹ آئل کی قیمت 67.61 ڈالر فی بیرل ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان میں بھی فوراً محسوس کیے گئے اور پاکستان کی حکومت نے ایران اسرائیل تنازعے کے آغاز کے بعد 15 جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جس میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 80 پیسے اورڈیزل کی قیمت میں سات روپے 95 پیسے تک کا اضافہ شامل تھا۔ -

نیدرلینڈ میں غزہ کے شہید بچوں کی یاد میں منفرد احتجاج
المیرے(کنزیو مر واچ نیوز)نیدرلینڈکے شہر المیرے میں غزہ کے معصوم شہید بچوں کی یاد میں ایک منفرد اور پراثر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس میں ہزاروں بچوں کے جوتے سڑک پر رکھے گئے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔یہ احتجاج اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ ٹاؤن اسکوائر پر منعقدہ اس پرامن مظاہرے میں شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاحی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔احتجاج کا منظر دیکھنے والوں کے لیے انتہائی جذباتی اور دردناک تھا، جہاں زمین پر بکھرے معصوم بچوں کے جوتے عالمی خاموشی پر سوالیہ نشان بنے نظر آئے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس بھی نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران 8 ہزار بچوں کے جوتے رکھ کر اسرائیلی مظالم کے خلاف پرزور احتجاج کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ اس وقت شدید قحط، پانی اور طبی امداد کی قلت جیسے خطرناک انسانی بحران کا شکار ہے۔
-

شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے آگئے۔رپورٹ کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارتی فوج اورمودی سرکار کے درمیان تناؤ بڑھ گیا، حالیہ پاک بھارت جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی افسران نے شکست کا الزام سیاسی قیادت پر ڈال دیا۔انڈونیشیا میں “انڈیا پاکستان ائیر بیٹل” سیمینار کے دوران بھارتی اتاشی نیوی آفیسر کیپٹن شیو کمار نےبھی بھارتی طیاروں کے نقصان کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان کے خلاف کارروائی میں بھارتی فضائیہ کو طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ: مودی حکومت کے سخت سیاسی احکامات نے بھارتی فضائیہ کی کارروائیاں محدود کیں، بھارتی افواج خودمختار نہیں بلکہ سیاسی احکامات کی پابند ہیں، مودی حکومت کی سیاسی مداخلت کے باعث بھارتی فضائیہ پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ نہ بنا سکی۔
کیپٹن شیو کمار کے انکشافات کے بعد کانگریس نے بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کی، کانگریس نے ٹویٹ کیا کہ اس سے قبل چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان بھی آپریشن سندور کے دوران بھارتی طیاروں کے گرنے کا اعتراف کر چکے ہیں، اس حساس قومی مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیوں مسترد کر دیا گیا؟
آپریشن سندور مودی سرکار کی عسکری ناکامی، سیاسی جھوٹ اور نااہل قیادت کی شرمناک علامت بن چکا ہے، مودی سرکار میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف گودی میڈیا پر بیانیہ کی جنگ لڑ رہی ہے، فوجی نقصانات چھپانے کی کوشش، مودی سرکار کے جھوٹے بیانیے اور عوام دشمن پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔بھارتی فوج نے عملی شکست تسلیم کر لی مگر مودی سرکار اب بھی قوم کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے، فوج اور مودی سرکار کے درمیان بڑھتے اختلافات بھارت کے اندرونی تضادات کا پیش خیمہ ہیں۔ -

ڈوبنے والوں کو بچانے والا سوات کا ہیرو محمد ہلال
پشاور(کنزیومر واچ نیوز)خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہلال نامی شہری کے پاس نہ وردی اور نہ وسائل لیکن وہ انسانیت کے جذبے کے تحت اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر دریا میں ڈوبنے والے شہریوں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق محمد ہلال بغیر کسی عہدے، تنخواہ یا سرکاری حیثیت کے جان جوکھوں میں ڈال کر لوگوں کو بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو آپریشز کے دوران جو کردار ادا کرتے ہیں، وہ قابلِ تعریف ہی نہیں، قابلِ تقلید بھی ہے، سانحہ سوات کے دورا بھی انسانیت اور ہمت مظاہرہ کرنے والا ہلال لوگوں کی مدد کرتا رہا۔محمد ہلال کی لوگوں کی مدد کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے باہمت نوجوانوں کو صرف داد نہیں، مستقل روزگار اور سرکاری ریسکیو ٹیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔صارفین نے کہا کہ یہ وقت صرف تعریف کا نہیں، اقدام کا ہے، ایسے نوجوان ہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں، سلام بلال، تم پاکستان کے اصل ہیرو ہو۔
-

بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے،اسحاق ڈار
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔اسلام آبادمیں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا، بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا ، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت آبی دہشت گردی کرکے 24 کروڑ پاکستانیوں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا، بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا ، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا، بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے، ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جب کہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔
-

’ کانٹا لگا گرل ‘ سشیفالی کو سدا جوان رہنے کی خواہش لے ڈوبی
ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)’ کانٹا لگا گرل ‘ سے مشہور شیفالی جریوالا گزشتہ ہفتے اچانک 42 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق 27 جون کو شیفالی کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا۔اسپتال کےعملے نے تصدیق کی کہ شیفالی اسپتال لائے جانے سے پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں، اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں شیفالی کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی تھی تاہم حکام موت کی حتمی وجہ تاحال تلاش کررہے ہیں۔
شیفالی دل کے علاج کی کوئی دوائی نہیں لیتی تھی: ذاتی معالج
بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران طویل عرصے تک شیفالی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ شیفالی کو حالیہ چند سالوں کے دوران کسی سنگین طبی حالت کا سامنا نہیں رہا، اس کے برعکس وہ تقریباً 5 سے6 سال سے اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کروارہی تھیں۔
شیفالی کے ڈاکٹر کے مطابق انہیں دل کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور نہ ہی شیفالی نے کبھی دل کے علاج سے متعلق کوئی دوا لی تھی، وہ فٹ اور کم عمر دکھنے کیلئے ٹریٹمنٹ اور میڈیسن لے رہی تھیں۔
مرنے سے قبل شیفالی نے کون سا انجیکشن لگایا تھا؟
پولیس کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق شیفالی باقاعدگی سے خالی پیٹ اینٹی ایجنگ انجیکشن لیتی تھیں، مرنے سے قبل دوپہر کے وقت بھی شیفالی نے اپنا اینٹی ایجنگ انجیکشن لیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری ہوگئی اور وہ بے ہوش گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بے ہوش ہوجانے کے بعد شیفالی کواسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی، پولیس حکام نے شیفالی کے گھر سے تمام دوائیں ضبط کر لی ہیں۔ -

کراچی میں مطالعہ کتب کی اہمیت پر سیمینار
حال ہی میں پاکستان میں مطالعہ کتب کے فروغ اور لائبریریوں کی ترقی وبہبود کے لئے کچھ لائبریرینز نے مل کر ایک تنظیم،سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریری (سپریل)کی بنیاد رکھی ہے۔ اس تنظیم کا افتتاحی سمینار،مطالعہ کتب کی اہمیت،کراچی انسٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹیکنالوجی (کیٹ)کے تعاون واشتراک سے کیٹ کے سٹی کمپس میں بروز22جون 2025انعقاد پذیرکیاگیا۔ سمینار میں کراچی کی نمایاں علمی،ادبی اور لائبریری سائنس سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔تلاوت قرآن پاک کی سعادت صمیم کاردارنے حاصل کی۔ان کے بعد خرم پرویز نے پریزینٹیشن کے ذریعے سپریل کا تعارف اور اغراض ومقاصدبتائے۔ سمینار کی نظامت کی ذمہ دار ی مس ربیعہ علی فریدی نے سرانجام دیں۔ ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، چیئر پرسن شعبہ لائبریری سائنس جامعہ کراچی نے بطور خاص اس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ کتابیں نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ ہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور سوچ کو بھی نکھارتی ہیں اور آج کے ڈیجیٹل دورمیں کتابوں کی اہمیت پہلے سے زیاد ہ ہوچکی ہیں۔انہوں نے کیٹ انتظامیہ اور سپریل کی ٹیم (ربیعہ علی فریدی، جواہرعلیم، محمدصمیم کاردار،خرم پرویز اور اکرام الحق)کے کام کو سراہا۔ محترم ناصر مصطفے، ڈان نیوز کے سابق لائبریرین جو اِن دنوں تدریس سے وابستہ ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مطالعہ کتب طلبہ کی تخلیقی و تجریدی صلاحیتوں کو جلا بخشتاہے اور انہیں بہتر انسان بننے میں مدد دیتاہے۔ کیٹ کے سابق طالب علم محمدکاظم لیلانی نے کہا کہ کتابیں اِن کی زندگی کی بہترین ساتھی ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارامعاشرہ مطالعہ کتب سے دور ضرورہے لیکن ابھی بھی صاحب ذوق لوگ اس شوق کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی لائبریرین اکرام الحق نے سمینار میں آئن لائن شرکت کی اور مطالعہ کتب کے حوالے ہونے والے جائزوں پر روشنی ڈالی اور معاشرے میں عوامی کتب خانوں کے فروغ اور ان کی بہتری کے لئے اپنی سفارشات پیش کیں۔معروف شاعرہ، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، تمغہ حسن کارکردگی،نے مطالعہ کتب کے تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی عوامل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کی اصناف کے ذریعے معاشرے میں مطالعہ کو پروان چڑھایا جاسکتاہے۔ معاشرے کی ترقی علم کے مرہون منت ہے اور کتابیں علم کا خزینہ ہیں۔ محتر م امجد حسین شاہ، ڈی جی پاکستان ٹیلی ویژن کراچی،ممبر گورننگ باڈی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے اپنی صدراتی خطبے میں سمینار کے انعقاد کو سراہا اور بتایا یہ بچوں اور نوجوانوں کو کتاب کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کتب بینی کے فروغ کے لئے میڈیا کے کردار پرروشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن گاہ بہ گاہ ایسے پروگرام ترتیب دیتا رہا ہے جس سے معاشرے میں کتاب پروری فروغ پا سکے۔ آرٹس کونسل آف کراچی کے محترم ندیم ظفر صدیقی نے سمینار کو معلوماتی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مہمان اعزازی ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، مہمان خصوصی جناب کرنل (ر) رضا کمال نے مقریرین اوراور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کی۔سمینار کا اختتام پر تکلف ظہرانہ کے ساتھ ہوا۔
………………………………….
ربیعه علی فریدی، افلا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون لائبریرین
ربیعہ علی فریدی پیشے کے اعتبار سے لائبریرین ہیں سن 2009ء میں جامعہ کراچی کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے ہی جامعہ کراچی کی سینٹرل لائبریری ڈاکٹر محمود حسین میں کچھ ماہ کی انٹرن شپ کی ، ایک مشہور نجی اسکول میں مختصر مدت کے لیے لائبریرین رہیں ، اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز جامعہ کراچی کے شعبہ کامرس سے بحیثیت لا تبریرین شروع کیا 2010ء سے 2013 ء تک شعبہ کامرس سے وابستہ رہیں ، اپریل 2013ء میں کراچی میں موجود ٹیچر ایجو کیشن کے مشہور ادارے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں ھیڈ لائبریرین کی حیثیت سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے، اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ربیعہ نے لائبریریز کے لیے متعدد ورکشاپس، سیمینارز، ٹریننگز کروائیں ساتھ ہی 2010ء میں لائبریرینز کی ایک ذیلی تنظیم میں شمولیت اختیار کی، تنظیم کے باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان لائبریری سائنس کے پیشہ کو پورے پاکستان میں متعارف کروایا ، اس تنظیم کے ڈائر یکٹر کی کاوشوں سے 2018 میں پاکستانی وفد نے جرمن لائبریریز کا کامیاب تعلیمی اور تحقیقی دورہ کیا 2018 ء میں لائبریری سائنس سے وابستہ لوگوں کو کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا ہی اور باقی منتظمین کے ساتھ مل کر اسکا نفرنس کو ایک یاد گار کانفرنس بنایا، اس کا نفرنس کے اشتراک میں افلا سمیت ایس ایل اے (اسپیشل لائبریری ایسوسی ایشن) کے علاوہ پاکستان کی کئی فعال تنظیمیں شامل تھیں۔ حال ہی میں دوسری بین الااقوامی کا نفرنس ، شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جامعہ کراچی کے اشتراک سے اور اپنے ساتھی لائبریرینز کی مدد سے کامیابی سے منعقد کروائی، ربیعہ نے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں بحیثیت لائبریرین لا تعداد تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جن میں ، ڈیجیٹل لائبریرین شپ، تحریر اور پڑھنے کی عادات کے ساتھ ساتھ وقت کی مناسبت سے ورکشاپس کروائیں۔ ربیعہ نا صرف مخلص لائبریرین ہیں بلکہ انہوں نے تحقیق اور تحریر میں بھی اپنا آپ منوایا ہے ، لاتعداد تحقیقی مقالات قومی اور بین الا قوامی سطح پر پیش کیے اور پاکستان کی نمائندگی کی، بین الاقوامی کتب میں ابواب لکھے ، ساتھ ہی لائبریری پروموشن بیورو اور بزم اکرم سے چھنے والے مشہور رسالے، پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل اور ادب و کتب خانہ میں سفر نامے اور آرٹیکلز لکھے ، کئیں آن لائن میگزینز اور نیوز لیٹرز کے ایڈیٹوریل بورڈ کا حصہ ہیں، پاکستان کے ~معروف~ رسالہ اطراف میں مضامین لکھے ، لکھنے پڑھنے کا شوق ورثہ میں ملا ہے ، ان کی والدہ کے پھوپھا جو کے ماضی کے مشہور اسٹنٹ ڈائر یکٹر لائبریریز ( نیشنل لائبریری آف پاکستان ) سید ولایت حسین شاہ جنہوں نے برٹش کونسل کی لائبریری ، لیاقت نیشنل لائبریری میں خدمات انجام دیں اور مختلف پیشہ ورانہ انجمنوں کے سر گرم کارکن رہے، ربیعہ کے تایا مشہور شاعر امداد نظامی (س-۱) جو کے کوئٹہ سے لکھتے تھے، چاچا انوار فریدی، بھائی جنید فریدی، فرحان فریدی اور نعمان فریدی بھی لکھنے سے وابستہ ہیں چاچا اظہار فریدی جو ماضی میں مشرق اخبار سے وابستہ رہےمیں مطالعہ کتب کی اہمیت پر


