Blog

  • بینکس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں: اسٹیٹ بینک

    بینکس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں: اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو حکم دیا ہے کہ کسی قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسٹیٹ بینک کو اندرونی میکانزم طے کرکے ہدایات جاری کرنے کا کہا تھا۔عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے غیر ارادی اور احتیاطی پابندیوں سے بھی بینک اکاونٹ ہولڈرز کو نقصان نا پہنچانے کا حکم دیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر ملک بھر کے بینکوں کو نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ بینک ہدایات پر مکمل عمل درآمد کے لیے مناسب اندرونی میکانزم بھی وضع کرسکتے ہیں۔

  • نئی سرد جنگ دنیا کو کہاں لے جائے گی؟تحریر: شیخ راشد عالم

    نئی سرد جنگ دنیا کو کہاں لے جائے گی؟تحریر: شیخ راشد عالم

    دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے، اور اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
    بیسویں صدی کی سرد جنگ بنیادی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی، عسکری اور سیاسی مقابلے کا نام تھی۔ اس جنگ میں براہِ راست ٹکراؤ کم تھا، لیکن دنیا کے مختلف خطے پراکسی جنگوں، اسلحے کی دوڑ اور سفارتی محاذ آرائی کا میدان بنے رہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ ایک واحد عالمی طاقت بن کر ابھر آیا ہے، مگر اکیسویں صدی کے آغاز سے چین کی غیر معمولی معاشی ترقی، روس کی نئی سفارتی و عسکری حکمت عملی اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ابھار نے عالمی توازن کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
    آج کی نئی سرد جنگ ماضی سے مختلف ہے۔ اب مقابلہ صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، تجارتی راستوں، توانائی، نایاب معدنیات اور عالمی مالیاتی نظام پر اثرورسوخ کا بھی ہے۔ جو ملک ان شعبوں میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل کی عالمی سیاست پر زیادہ اثر انداز ہوگا۔
    امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ چین نے صنعتی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طاقتوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب روس، اگرچہ معاشی اعتبار سے چین اور امریکہ کے برابر نہیں، لیکن دفاعی صلاحیت، توانائی کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
    یہ نئی سرد جنگ صرف طاقتور ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے ممالک کو ایک طرف سرمایہ کاری، تجارت اور ترقی کے نئے مواقع ملیں گے، جبکہ دوسری طرف ان پر مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ صف بندی کرنے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے ممالک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے سکیں۔
    عالمی معیشت بھی اس کشمکش سے محفوظ نہیں رہے گی۔ تجارتی پابندیاں، درآمدات و برآمدات پر نئی شرائط، ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندیاں اور سپلائی چین میں تبدیلیاں عالمی تجارت کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر معیشتوں پر پڑ سکتا ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
    مصنوعی ذہانت اس نئی سرد جنگ کا ایک اہم میدان بن چکی ہے۔ جو ملک مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید کمپیوٹنگ میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل میں معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔ اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
    سائبر جنگ بھی ایک نیا خطرہ بن چکی ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورکس، مالیاتی نظام، بجلی گھروں، مواصلاتی ڈھانچوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سکیورٹی اب قومی سلامتی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
    مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، افریقہ اور بحرالکاہل کے خطے بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ توانائی کے ذخائر، سمندری راستے، بندرگاہیں اور معدنی وسائل ان علاقوں کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ اسی لیے مختلف ممالک اپنے سفارتی اور معاشی اثرورسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    پاکستان کے لیے یہ صورتحال چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ پاکستان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر توجہ دے تو وہ بدلتے عالمی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، تمام اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھے اور اپنے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھے۔ کسی بھی عالمی تنازع میں غیر ضروری فریق بننے کے بجائے معاشی ترقی، علاقائی تعاون اور داخلی استحکام پر توجہ دینا زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ہوگی۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی سرد جنگ صرف حکومتوں کا معاملہ نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچیں گے۔ مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں، خوراک کی فراہمی، روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت میں تبدیلیاں ہر ملک کے عوام کی زندگیوں پر اثر ڈالیں گی۔ اس لیے ہر ریاست کو اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط اور خود انحصار بنانے کی ضرورت ہوگی۔
    تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی رقابتیں کبھی مستقل نہیں ہوتیں، لیکن ان کے اثرات کئی نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ آج دنیا ایک بار پھر ایسے ہی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ معیشت، علم، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور قومی حکمت عملی کی بنیاد پر ہوں گے۔
    یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی سرد جنگ دنیا کو مکمل تقسیم کی طرف لے جائے گی یا ایک زیادہ متوازن عالمی نظام تشکیل دے گی، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والا عشرہ عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گا۔ جو ممالک بروقت اپنی ترجیحات درست کریں گے، تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، معیشت اور قومی اتحاد پر سرمایہ کاری کریں گے، وہی اس نئے عالمی نظام میں باوقار مقام حاصل کریں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی انہی قوموں کا مقدر ہوگی جو حالات کا ادراک کرتے ہوئے دور اندیش فیصلے کریں گی۔

  • مرتضیٰ وہاب کا دفاع  یا اعتراف؟کراچی میں اسٹریٹ  کرائم پر سوالات…نشید آفاقی

    مرتضیٰ وہاب کا دفاع یا اعتراف؟کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر سوالات…نشید آفاقی

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی مرکز اور کروڑوں لوگوں کا مسکن ہے۔ یہ شہر برسوں سے مختلف مسائل کا شکار رہا ہے جن میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سیاسی کشیدگی اور اسٹریٹ کرائم سرفہرست ہیں۔ حال ہی میں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ہوتے ہیں اور لندن جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی اسٹریٹ کرائمز کی صورتحال موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے گزشتہ چالیس سال انتہائی مشکل رہے ہیں اور شہر نے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا جو شاید کسی اور پاکستانی شہر کے حصے میں نہیں آئے۔
    مئیر کراچی کا یہ بیان ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ کیا کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو لندن یا دیگر عالمی شہروں سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ موازنہ شہریوں کے خدشات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا اصل ضرورت مسئلے کے حل پر توجہ دینے کی ہے؟
    حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا شہر جرائم سے مکمل طور پر پاک نہیں۔ لندن، نیویارک، پیرس، شکاگو اور دیگر بڑے شہروں میں بھی چوری، ڈکیتی، موبائل اسنیچنگ اور دیگر جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوتی ہیں۔ آبادی میں اضافہ، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی مسائل اکثر جرائم کی شرح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرتضیٰ وہاب کی بات درست ہے کہ بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ایک حقیقت ہے۔
    تاہم کراچی کے شہریوں کا سوال صرف یہ نہیں کہ جرائم کہیں اور بھی ہوتے ہیں۔ ان کا اصل سوال یہ ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی کتنی محفوظ ہے۔ ایک شہری جب گھر سے دفتر یا کاروبار کے لیے نکلتا ہے تو اسے اپنے موبائل فون، نقدی، گاڑی اور حتیٰ کہ جان کے تحفظ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اسٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت پر شہریوں کے قتل کے واقعات نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    کراچی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ شہر واقعی کئی دہائیوں تک بدامنی کی لپیٹ میں رہا۔ ایک وقت تھا جب ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری روزمرہ کی سرخیوں کا حصہ تھے۔ کاروباری طبقہ خوف کا شکار تھا اور شہری شام ڈھلتے ہی گھروں میں محدود ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور مختلف آپریشنز کے نتیجے میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ شہر میں امن و امان کی فضا بحال ہوئی، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور سرمایہ کاری کا رجحان بھی بہتر ہوا۔
    لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرائم ایک ایسا مسئلہ ہے جو مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ موبائل فون چھیننے، موٹر سائیکل چوری ہونے اور راہ چلتے شہریوں سے لوٹ مار کے واقعات اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنے مسائل بیان کرتے ہیں تو وہ موازنوں سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
    مرتضیٰ وہاب نے اپنے خطاب میں سیف سٹی منصوبے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ شہر میں کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ اس منصوبے کو مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ بلاشبہ جدید نگرانی کا نظام جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور ڈیجیٹل پولیسنگ کے ذریعے جرائم کی نشاندہی اور ملزمان کی گرفتاری کو آسان بنایا گیا ہے۔
    کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مختلف شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس مقامات اور رہائشی علاقوں میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہو تو نہ صرف جرائم کی شرح کم ہو سکتی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر میں خوف بھی پیدا ہوگا۔ تاہم صرف کیمرے نصب کرنا کافی نہیں۔ ان کی مسلسل نگرانی، ڈیٹا کا مؤثر استعمال اور فوری ردعمل کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
    جرائم کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم معاشرے میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔ اگر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں تو جرائم کی طرف رجحان بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے صرف پولیسنگ نہیں بلکہ سماجی اور معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
    کراچی کی ایک اور اہم ضرورت شہری سہولیات کی بہتری ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ، روشن سڑکیں، فعال بلدیاتی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت جرائم میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں شہری حکومتیں مقامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرتی ہیں وہاں جرائم پر قابو پانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غیر رسمی بستیوں کا پھیلاؤ، انفراسٹرکچر پر دباؤ اور وسائل کی کمی انتظامی چیلنجز میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے میں شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
    مرتضیٰ وہاب کا یہ مؤقف کہ کراچی نے گزشتہ چالیس برس میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا، تاریخی طور پر درست محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آج کا شہری ماضی کے زخموں سے زیادہ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی گلی، اس کا محلہ اور اس کا سفر کتنا محفوظ ہے۔ اسے یہ اطمینان درکار ہے کہ اگر کوئی جرم ہوتا ہے تو ملزم جلد گرفتار ہوگا اور قانون حرکت میں آئے گا۔
    اسٹریٹ کرائم کے مسئلے پر عوامی اعتماد بحال کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب شہری محسوس کریں گے کہ ریاست اور مقامی حکومت ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے تو خوف کی فضا خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سیف سٹی منصوبہ، پولیس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر شہری نظم و نسق اس سمت میں اہم اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی کا لندن سے موازنہ اپنی جگہ، مگر ہر شہر کی اپنی زمینی حقیقتیں ہوتی ہیں۔ شہریوں کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کی زندگی محفوظ ہو، ان کا مال و جان محفوظ ہو اور وہ بلا خوف و خطر اپنے روزمرہ معاملات انجام دے سکیں۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے اور اس شہر کا محفوظ، روشن اور پُرامن ہونا نہ صرف اس کے باسیوں بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ اس لیے ضرورت موازنوں سے زیادہ مؤثر حکمت عملی، مستقل مزاجی اور عملی نتائج کی ہے تاکہ کراچی واقعی ایک ایسا شہر بن سکے جس پر اس کے شہری فخر کر سکیں۔

  • منتہا سے کلثوم تک — آخر کب تک؟تحریر:  فرحانہ اشرف فرحانہ

    منتہا سے کلثوم تک — آخر کب تک؟تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    معصوم بیٹیوں کی چیخیں اور بے حس معاشرہ

    تعویز گلے میں تھا مِرے ردِّ بلا کا
    آدم سے بچاؤ کا نہ تھا وِرد کوئی یاد!
    ناصرہ زبیری

    سرگودھا کی ننھی منتہا ہو یا کراچی کی معصوم کلثوم، نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کی کہانی وہی رہتی ہے۔ ہر چند روز بعد ایک نئی بیٹی ظلم و درندگی کا شکار بنتی ہے، پورا ملک غم و غصے سے بھر جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز چلتے ہیں، ٹی وی چینلز پر بحثیں ہوتی ہیں، حکمران سخت بیانات دیتے ہیں، اور پھر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ صرف ایک چیز نہیں بدلتی: کسی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہے۔
    حالیہ دنوں میں سرگودھا کی منتہا اور کراچی کی کلثوم کے مبینہ زیادتی کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان واقعات پر پولیس نے مقدمات درج کیے اور تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم ان کی مکمل عدالتی حقیقت اور تمام ذمہ داران کا تعین ابھی قانونی عمل کے تحت ہونا باقی ہے۔
    یہ صرف دو بچیوں کی داستان نہیں، بلکہ پاکستان کی ہزاروں معصوم بچیوں کی اجتماعی فریاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری بیٹیاں کب محفوظ ہوں گی؟ کب ایک بچی بلا خوف اپنے گھر سے نکل سکے گی؟ کب والدین اپنے بچوں کو سکون سے کھیلنے بھیج سکیں گے؟
    یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ معاشرتی زوال کا بھی ہے۔ جب گھروں میں تربیت کمزور ہو، تعلیمی اداروں میں اخلاقیات نظرانداز ہوں، منشیات اور فحاشی کا پھیلاؤ ہو، اور مجرم کو سزا کے بجائے سفارش یا تاخیر ملے، تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں
    ۔
    حیا صرف عورت کا زیور نہیں ہے
    یہ مردوں کے کردار میں بھی سجائیں
    رخسانہ سحر

    ہمارے عدالتی نظام میں برسوں تک مقدمات چلتے رہتے ہیں۔ متاثرہ خاندان انصاف کے انتظار میں تھک جاتے ہیں جبکہ مجرم اکثر قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔
    ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ اگر معصوم بچے بھی محفوظ نہ ہوں تو ترقی، معیشت اور سیاست کی تمام بحثیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

    اس کے ساتھ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی۔ بچوں کو “گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ” کی تعلیم دینا، ان کی بات کو سنجیدگی سے سننا، اور انہیں خوف کے بغیر اپنی بات کہنے کا اعتماد دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ بچوں کی شناخت کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے اور ایسے واقعات کو صرف ریٹنگ یا سنسنی خیزی کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جائے۔
    منتہا اور کلثوم صرف دو نام نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، قانون پر مؤثر عمل درآمد نہ کیا، اور مجرموں کو بروقت و منصفانہ سزا نہ ملی، تو کل کسی اور معصوم کا نام ہماری سرخیوں میں ہوگا۔
    آئیے عہد کریں کہ ہر بچہ، ہر بچی، ہر گھر اور ہر گلی محفوظ ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی عمارتیں نہیں بلکہ اس کے بچوں کا تحفظ ہوتا ہے۔
    “منتہا اور کلثوم کے لیے انصاف صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔”

    ان درندوں سے نجات کیسے ممکن ؟؟؟

    بیٹیوں کی جن سے عصمت ہی نہیں محفوظ ہو
    ایسے نامردوں پہ لعنت ہے ہماری بار بار

    فر حا نہ اشرف فرحانہ

    درندہ صفت مجرموں سے مکمل نجات کسی ایک اقدام سے ممکن نہیں، بلکہ قانون، معاشرت، تعلیم اور ریاستی عمل درآمد کے امتزاج سے ہی ایسے جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
    جب تک مجرم کو یہ یقین رہے گا کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے، ایسے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
    بچوں سے زیادتی کے مقدمات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔
    اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق سخت اور بروقت سزا دی جائے، تاکہ دوسروں کے لیے بھی عبرت ہو۔

    عصمتِ زن پہ جو کرے حملہ
    بیچ کی ٹانگ کاٹ دو اس کی

    فرحانہ اشرف فرحانہ

    پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کو مؤثر اور تیز رفتار بنایا جائے۔
    والدین بچوں کو ذاتی حفاظت، “گڈ ٹچ” اور “بیڈ ٹچ” کی تعلیم دیں اور ایسا ماحول بنائیں کہ بچے بلا خوف اپنی بات بتا سکیں۔
    اسکولوں میں بچوں کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

    جو بیٹوں کو دیتے ہیں ہر اک رعایت
    ذرا ان کو بھی حد میں رہنا سکھائیں
    رخسانہ سحر

    اس موضوع پر فیصل عشرت کے خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں

    تحریر: محمد فیصل عشرت
    (ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن سندھ،کراچی)

    پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں (جیسے ساحل) کی سالانہ رپورٹس کے مطابق، ہر روز اوسطاً 8 سے 11 بچوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی (ریپ اور بدفعلی) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے نصف کے قریب متاثرین کم سن لڑکیاں اور نصف لڑکے ہوتے ہیں

    آسمان کے نیچے بستی اس دنیا میں، سب سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ چیز کسی بچے کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں یہ مسکراہٹیں اب محفوظ نہیں رہیں؟ پاکستان کی فضاؤں میں آج ایک ایسا سوال گونج رہا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہماری روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ سوال کسی سیاستدان یا کسی پالیسی کا نہیں، بلکہ ان ہزاروں معصوم روحوں کا ہے جو ہماری غفلت، ہماری خاموشی اور ہمارے ٹوٹے ہوئے معاشرتی نظام کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

    منتہا یا کلثوم یا ان جیسے دوسرے معصوم پھول۔۔۔اف۔۔۔۔ ایک ایسے زخم جو کبھی نہیں بھریں گے۔۔
    جب ہم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف اعداد و شمار کی جنگ نہیں ہوتی۔ یہ درد، یہ چیخیں اور یہ سسکیاں ہوتی ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ منتہا کا کیس اسی درد کی ایک تازہ اور دل دہلا دینے والی علامت ہے۔ وہ چھوٹی سی بچی، جس کی زندگی کے خواب صرف کھلونوں اور سکول کے بستے تک محدود ہونے چاہیے تھے، ایک ایسی تاریکی میں دھکیل دی گئی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اگر ہم منتہی کے کیس کی بات کریں تو
    منتہی کا کیس محض ایک جرم نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔ اس کے معصوم چہرے کی تصویر جب بھی سامنے آتی ہے، تو دل سے صرف ایک ہی صدا نکلتی ہے: “ہم اسے بچانے میں ناکام کیوں رہے؟” اس کے والدین کی بے بسی، اس کے گھر کا سناٹا اور اس ننھی روح کی تڑپ ہم سب سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔

    ہم میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ “یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے،” یا پھر “بدنامی کے ڈر سے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔” لیکن یہی خاموشی دراصل اس عفریت کو ہوا دیتی ہے۔ جب ہم کسی واقعے پر احتجاج نہیں کرتے، جب ہم مجرم کو سماجی طور پر مسترد نہیں کرتے، تو ہم دراصل اگلا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں
    ۔
    یہ اندھیرا کیسے چھٹے گا؟
    یہ مضمون کوئی سرکاری رپورٹ نہیں، بلکہ ایک دل گرفتہ اپیل ہے۔ اس اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے ہمیں صرف قوانین کی ضرورت نہیں، ہمیں ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے:

    ہمیں اپنے بچوں کو “Good Touch” اور “Bad Touch” کا فرق سمجھانے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا کہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات ہمیں بتا سکیں۔

    عوامی شعور بھی اس کا ایک بہترین حل ہے۔ جب تک ہر محلے، ہر گاؤں اور ہر شہر میں لوگ اپنے بچوں کے محافظ نہیں بنیں گے، کوئی بھی قانون تنہا کچھ نہیں کر پائے گا۔ ہمیں ہر اس شخص کو بے نقاب کرنا ہوگا جو بچوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے۔

    اگر ایسے کیسز میں جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، تو معاشرے کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ:

    Justice delayed is justice denied” “انصاف میں تاخیر، انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے” یا “انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ظلم ہے
    انصاف کا جلد اور سخت ہونا ہی مجرموں کے لیے اصل عبرت ہے۔۔۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا ہماری بچے صرف ہمارے لئے بچے ہیں دوسروں کے لئے نہیں۔۔۔ ۔۔
    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔۔ آمین
    _______
    یہ تھے فیصل عشرت اختتام میں بس یہ ہی کہ
    معاشرے میں خاموشی کے بجائے ایسے جرائم کی فوری رپورٹنگ اور متاثرہ خاندان کی مدد کو فروغ دیا جائے۔
    ایسے مجرموں کی ذہنی وجوہات کو سمجھنے، خطرناک افراد کی بروقت نشاندہی اور ضرورت کے مطابق علاج و نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے۔
    ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ شدید غصے میں لوگ ماورائے عدالت یا غیر قانونی سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن پائیدار انصاف صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ اگر قانون مضبوط، تحقیقات شفاف اور سزا یقینی ہو، تو ایسے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
    “جس معاشرے میں معصوم بچوں کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح بن جائے، وہاں درندے نہیں، صرف قانون کی حکمرانی نظر آتی ہے۔

    نہ الزام ہر بار لڑکی پہ رکھیں
    درندوں کے چہروں سے پردے اٹھائیں
    رخسانہ سحر

  • ماسی کلچر: ضرورت سے اسٹیٹس سمبل تک..صبیحہ خان صبیحہ

    ماسی کلچر: ضرورت سے اسٹیٹس سمبل تک..صبیحہ خان صبیحہ

    کینیڈا میں رہتے ہوئے ایک بات بہت جلد سمجھ آجاتی ہے کہ یہاں زندگی کی گاڑی ہر شخص کو اپنے ہاتھوں سے چلانی پڑتی ہے۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہوں، انجینئر، استاد یا کاروباری شخصیت، صبح کا ناشتہ بنانا، بچوں کو تیار کرنا، گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، برتن صاف کرنا، خریداری کرنا، لان کی گھاس کاٹنا، برف ہٹانا، سب کچھ اپنی ذمہ داری ہے۔ یہاں گھریلو کام کسی کی سماجی حیثیت کا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملک کا وزیر اعظم اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پر جاتے ہیں تو اپنا سامان خود اٹھایا ہوتا ہے کوئی ملازمین کی فوج ان کے ساتھ نہیں ہوتی ،لیکن جب وطن عزیز کا رخ ہوتا ہے تو ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے کسی رشتہ دار کے گھر جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک ماسی صرف روٹی پکانے کے لیے، دوسری صفائی کے لیے، تیسری برتنوں کے لیے، چوتھی کپڑے استری کرنے کے لیے، اور اگر گھر بڑا ہو توڈرائیور، مالی اور چوکیدار بھی الگ ۔دوسری طرف بیگم صاحبہ کبھی جم میں مصروف ہیں، کبھی بیوٹی سیلون میں، کبھی شاپنگ اور کبھی سوشل تقریبات میں۔سوال یہ نہیں کہ گھریلو ملازم رکھنا غلط ہے۔ اگر کسی کے پاس وسائل ہیں اور وہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مناسب تنخواہ دیتے ہیں اور عزت سے پیش آتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ کام جسے ہم خود بآسانی کر سکتے ہیں، اس کے لیے بھی کسی دوسرے انسان پر انحصار ضروری ہے؟لوگوں کو گھریلو کاموں کے لئے ملازماؤں کی جتنی ضرورت موجودہ دور میں ہے پہلے کبھی نہ تھی ،حالانکہ ماضی کے دور میں تو گھروں میں آج جیسی مسالہ پیسنے ، کپڑے دھونے اور مختلف کام سرانجام دینے والی جدید مشینوں کی سہولت بھی نہیں تھی مگر اب ان تمام آسائشوں کے باوجود ملازمہ کے بغیر خواتین کو اپنی زندگی ادھوری لگتی ہے۔ اکثر گھروں میں ماسیوں کا پورا کنبہ مختلف کاموں پرمامورہوتا ہے اور ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر یہ خادمائیں ایک دن ہڑتال کر دیں تو بہت سی خواتین ممکن ہے صدمے اور غم کے باعث کوئی انتہائی اقدام نہ کر بیٹھیں کیونکہ گھریلو کام کاج اکثر خواتین کوکسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔ ایک دن کام والی نہیں آتی تو گھر میں گویا طوفان کی سی کیفیت بپا ہوجاتی ہے۔ گھر کا ہر فرد ملازمہ کو کوس رہا ہوتا ہے۔ اگر ملازمہ کی بیماری کی اطلاع موصول ہو جائے تو اسے محض بہانے کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابھی پچھلے ہفتہ تو وہ بیمار ہوئی تھی۔ گھر کی مالکن ملازمہ کی بیماری کے خیال سے ہی لرز اٹھتی ہے کہ اب اسے برتن دھونے پڑیں گے، آٹا گوندھنا پڑے گا۔پوش علاقوں میں رہنے والے اکثر ایلیٹ گھرانے صرف نوکروں کے بل پر چلتے ہیں۔ کچن سمیت پورا گھر ہی ملازماﺅں پرچھوڑدیا جاتا ہے۔ گھر کی بیگمات کا زیادہ تروقت شاپنگ، پارٹیز، سالونز اور جم کی نذر ہوجاتا ہے ۔ نہ انہیں گھریلو کاموں سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی اتنی فرصت کہ ان کاموں میں اپنا وقت گنوائیں ۔گھر کے کام کرنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کینیڈا میں بچے بھی کم عمری سے اپنا بستر خود ٹھیک کرنا، برتن ڈش واشر میں رکھنا، کپڑے فولڈ کرنا اور کمرہ صاف کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ یہی عادت انہیں خودمختار اور ذمہ دار بناتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات گھر کے کام کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون خود باورچی خانے میں کام کرے تو بعض لوگ حیرت سے کہتے ہیں، “اتنے بڑے گھر میں ماسی نہیں؟گویا محنت کرنا عزت کم ہونے کی علامت ہو۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں خود کام کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بے شمار خواتین گھریلو ملازمت کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ اس لیے یہ پیشہ معاشرے کی معاشی ضرورت بھی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ انہیں ملازم نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے۔ ان کے ساتھ عزت، انصاف، مناسب اجرت اور آرام کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہمارے اپنے حقوق ،ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ماسی رکھنا واقعی ضرورت ہے یا صرف ایک سماجی رواج بن چکا ہے؟ اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے لگیں تو نہ صرف خود انحصاری بڑھے گی بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی محنت، سادگی اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوگا۔کیونکہ ہاتھ سے کیا گیا کام کبھی عزت کم نہیں کرتا، بلکہ انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔  کبھی لالی وڈ اور بالی وڈ کی باتیں ہوتی تھیں، اب لگتا ہے ایک نئی انڈسٹری بھی وجود میں آ گئی ہے… ‘ماسی وڈ’! جہاں ہر کام کے لیے الگ کردار، الگ ذمہ داری اور الگ معاوضہ موجود ہے گھریلو ملازماﺅں کی مانگ اتنی ہے کہ ان کی باقاعدہ صنعت یاانڈسٹری”ماسی وڈ“ موجود ہے جہاں ہر عمر کی خادمائیں اور ملازم بکثرت دستیاب ہیں۔ ا آج کل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھریلو ملازم رکھنا ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صفائی کے لیے الگ ماسی، برتنوں کے لیے الگ، کھانا پکانے کے لیے الگ، کپڑے استری کرنے کے لیے الگ۔ یوں لگتا ہے جیسے بعض گھروں میں انسان کم اور ملازمین زیادہ ہوں۔ “خدا نہ کرے کبھی ‘ماسی وڈ’ میں ہڑتال ہو جائے، ورنہ کچھ گھروں میں چائے کا کپ بھی ایک قومی مسئلہ بن جائے!سب سے افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ کم عمر ملازمین جن کی عمر پڑھنے لکھنے کھیلنے کودنے کی ہے وہ گھروں میں کام کرتے ہیں اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے جن میں کتابیں ہونا چاہیے وہ مالکان کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کا شور ہے، بجٹ کا رونا ہے، اور دوسری طرف ایسےاخراجات کو بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے جن کے بغیر بھی گزارا ممکن ہے۔ بعض حلقوں میں تو ماسی رکھنا ضرورت سے زیادہ اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ اگر گھر کی خاتون خود چائے بنا لے یا روٹی پکا لے تو گویا اس کی شان میں کمی آ گئی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ گھر کے کام کسی کی عزت کم نہیں کرتے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی اپنے گھروں کی صفائی کرتے، کھانا بناتے اور لان سنوارتے ہیں۔ وہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں بعض اوقات دوسروں سے کام کروانا شان سمجھ لیا جاتا ہے۔البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہزاروں خواتین گھریلو ملازمت کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں، اس لیے مسئلہ خود “ماسی” نہیں بلکہ ہمارا رویہ ہے۔ اگر واقعی ضرورت ہو تو گھریلو ملازم رکھنا بالکل درست ہے، لیکن اگر یہ صرف دکھاوے اور سماجی مقابلے کا حصہ بن جائے تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم سہولت کے نام پر خود انحصاری تو نہیں کھو رہے ہمارا مقصد ہرگز ان محنت کش خواتین کے خلاف نہیں جو گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ وہ ہمارے معاشرے کی باعزت مزدور ہیں اور ان کی محنت قابلِ احترام ہے۔ سوال ان سے نہیں، بلکہ ہم سے ہے۔ کیا واقعی ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ اپنا ایک کپ بھی خود نہیں اٹھا سکتے؟ کیا گھر کے معمولی کام کرنا ہماری شان کے خلاف ہے، یا ہم نے اسے محض ایک اسٹیٹس سمبل بنا لیا ہے،گھر کے کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کی محنت کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ ماسی کا احترام ضرور کیجیے، لیکن اپنے ہاتھوں کو بھی اتنا بےکار نہ بنائیے کہ ایک کپ چائے بنانے کے لیے بھی کسی اور کا انتظار کرنا پڑے۔ “گھر کے کاموں سے الرجی کا ابھی تک کوئی میڈیکل علاج دریافت نہیں ہوا، البتہ روزانہ آدھا گھنٹہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا بہترین دوا ہے علاج ہے خود انحصاری بھی ایک تہذیب ہے، اور محنت بھی ایک وقار ہے ۔

  • منجمد اثاثے، گرم سیاست اور خودمختاری کی قیمت…ماجد علی سید

    منجمد اثاثے، گرم سیاست اور خودمختاری کی قیمت…ماجد علی سید

    دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک ٹویٹ اتنا وزن رکھتا ہے کہ وہ کئی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نئی سمت دے دیتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال ہونے کی صورت میں یہ رقم صرف امریکی کسانوں سے گندم، مکئی، سویا بین اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال ہوگی، جبکہ دوسری جانب ایران نے نہ صرف اس دعوے کو مسترد کیا بلکہ اسے اپنی قومی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا ردعمل محض ایک سفارتی جواب نہیں تھا بلکہ اس میں وہ سیاسی پیغام بھی پوشیدہ تھا جو تہران برسوں سے دنیا کو دیتا آیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا نے دنیا کو اگر کوئی فصل دی ہے تو وہ “بے اعتمادی” ہے۔ یہ جملہ اگرچہ سیاسی طنز تھا، لیکن اس کے پیچھے نصف صدی پر محیط وہ تاریخ کھڑی ہے جس میں ایران اور امریکا ایک دوسرے پر وعدہ خلافی، دباؤ، پابندیوں اور مداخلت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ ایران امریکی گندم خریدے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو اس کی تجارتی پالیسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مالیاتی آزادی، قومی خودمختاری اور آزاد تجارت جیسے بین الاقوامی اصول کہاں کھڑے رہ جائیں گے؟

    امریکا کی اپنی داخلی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکی کسان ہر انتخاب میں ایک بڑی سیاسی قوت تصور کیے جاتے ہیں۔ گندم، مکئی اور سویا بین پیدا کرنے والی ریاستیں صدارتی انتخابات میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی صدر زرعی شعبے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایران جیسی بڑی منڈی امریکی زرعی مصنوعات خریدتی ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست امریکی کسانوں اور بالواسطہ وائٹ ہاؤس کی سیاسی ساکھ کو پہنچ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایران بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لیے تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اسے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی ملتی بھی ہے تو وہ فیصلہ خود کرے گا کہ کس ملک سے، کس قیمت پر اور کس معیار کی اشیا خریدنی ہیں۔ یہ مؤقف صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ ایران یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ وہ پابندیوں کے دباؤ کے بعد اپنی معاشی پالیسی بھی واشنگٹن کے اشاروں پر ترتیب دے رہا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں۔ اس میں قطر، خلیجی ممالک، یورپی طاقتیں اور عالمی مالیاتی نظام بھی کسی نہ کسی انداز میں شریک ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا مالیاتی انتظام تشکیل پاتا ہے جس کے تحت منجمد اثاثے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہوں، تو یہ مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھے گا کہ کیا کسی ملک کے اثاثے بحال کرتے وقت اس کے اخراجات کی سمت بھی بیرونی طاقتیں طے کریں گی؟

    بین الاقوامی تعلقات میں طاقت ہمیشہ صرف فوج یا معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات بینک اکاؤنٹس بھی میزائلوں سے زیادہ مؤثر ہتھیار بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکا نے پابندیوں، مالیاتی نظام اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم ترین اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایران، روس، وینزویلا اور دیگر کئی ممالک اس پالیسی کا تجربہ کر چکے ہیں۔ لیکن اس حکمت عملی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جب پابندیاں طویل ہو جائیں تو متاثرہ ممالک متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ چین، روس اور برکس ممالک کی حالیہ معاشی سرگرمیاں اسی رجحان کی مثال ہیں۔

    ایران کا معاملہ بھی شاید اسی سمت جا رہا ہے۔ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو برابری کی بنیاد پر ہوں گے، نہ کہ شرائط کے تحت۔ یہی وجہ ہے کہ باقر قالیباف نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے صرف ایک خبر کی نفی نہیں کی بلکہ ایک سوچ کو مسترد کیا۔ وہ سوچ جس میں معاشی ریلیف کے بدلے سیاسی یا تجارتی شرائط قبول کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کا توازن، خلیجی ریاستوں کی حکمت عملی اور حتیٰ کہ عالمی غذائی تجارت بھی اس سے متاثر ہوگی۔ اس لیے ہر بیان، ہر تردید اور ہر اعلان کو صرف سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ٹرمپ کا دعویٰ حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا ایران اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ آج کل بینکوں، پابندیوں، تجارتی معاہدوں اور منجمد اثاثوں کے ذریعے بھی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ شاید یہی اکیسویں صدی کی نئی سفارت کاری ہے، جہاں بندوق سے زیادہ بینک اکاؤنٹ کی چابی اہم بن چکی ہے، اور جہاں ہر ڈالر اپنے ساتھ ایک سیاسی پیغام بھی لے کر چلتا ہے۔

  • افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت  کو خوش کررہی ہے، ترجمان صدر مملکت

    افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت کو خوش کررہی ہے، ترجمان صدر مملکت

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت اور اسرائیل کو خوش کررہی ہے۔
    سابق نگراں وفاقی وزیر اطلاعات اور صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی دہشت گردی سے متعلق ایکس پوسٹ کو ری شیئر کرتے ہوئے افغان طالبان پر سخت تنقید کی ہے۔
    مرتضیٰ سولنگی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ غیر قانونی افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو پاکستان کے بے گناہ شہریوں اور بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرکے پاکستان کے عالمی امن ساز تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ نریندر مودی اور بنیامین نیتن یاہو کو خوش کیا جا سکے۔
    انہوں نے کہا کہ افغان طالبان یا تو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کوئی کارروائی نہیں کرے گا، یا پھر انہیں یقین ہے کہ ان کے سرپرست ان کا تحفظ کریں گے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائے گا بلکہ ان کے سرپرستوں اور مالی معاونت کرنے والوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کرے گا۔
    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرے گا اور ساتھ ہی دنیا میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار بھی جاری رکھے گا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں پاکستان زندہ باد اور #PeaceMakerOfTheWorld کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاک بحریہ کے شہید افسر کی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    پاک بحریہ کے شہید افسر کی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    کراچی (ویب ڈیسک )پاک بحریہ کے شہید افسر کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی شہادت کے غم کو عزم و حوصلے میں بدلتے ہوئے پاک بحریہ میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کر لیالیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی حوصلہ مند اہلیہ الویرا حمزہ نے کمانڈنٹ گول میڈل جیت کر پاک بحریہ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو جوائن کیا ہے
    الویرا حمزہ نے کہا کہ میرے شہید شوہر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد کی شہادت سے میرے اندر بھی پاک بحریہ میں شمولیت کا جذبہ پیدا ہوا، میں نے جس یونیفارم میں اپنے شوہر کو دیکھا، آج اس جیسا یونیفارم پہن کر اسی مقام پر کھڑی ہونا میرے اور میری بیٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔
    الویرا حمزہ نے کہا کہ ان جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، پاکستان نیول اکیڈمی میں میرا بہت اچھا وقت گزرا، میں پاکستان کی ہر ایک لڑکی کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر میں ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے اتنی ہمت کر سکتی ہوں تو آپ بھی فورسز میں آئیں۔
    لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی حوصلہ مند اہلیہ الویرا حمزہ کا پاک بحریہ میں بطور آفیسر شمولیت اختیار کرنا تمام پاکستانی خواتین کے لیے روشن مثال ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر متفق، کل دوحا میں اہم مذاکرات کا امکان

    امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر متفق، کل دوحا میں اہم مذاکرات کا امکان

    واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں اہم مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال تمام فوجی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور تجارتی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے تکنیکی مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق شقوں کی مختلف تشریحات کے باعث حالیہ دنوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کا یقین دلایا۔
    امریکی حکام کے مطابق دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی شریک ہوں گے جبکہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی ہم آہنگی کے لیے براہ راست رابطہ (ہاٹ لائن) قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا تاہم یہ نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد(ویب ڈیسک) کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے جس کے لیے سی پی پی اے نے نیپرا میں درخواست دائر کر دی ہے۔سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، مئی کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی۔درخواست کی منظوری کی صورت میں صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
    درخواست کے مطابق مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ مئی میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے لگایا گیا تھا۔مئی میں پانی سے 33.27 فیصد، مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد، فرنس آئل سے 0.16 فیصد اور مقامی گیس سے 8.31 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔نیپرا سی پی پی اے کی درخواست کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے