Blog

  • برطانیہ میں نواز شریف کے   صاحبزادے حسن نواز ٹیکس ڈیفالٹر قرار

    برطانیہ میں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز ٹیکس ڈیفالٹر قرار

    لندن (کنزیومر واچ نیوز)سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کو برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار دیتے ہوئے ان پر 5.2 ملین پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔برطانوی حکومت کی تازہ فہرست میں حسن نواز کو “ٹیکس ڈیفالٹر” قرار دیا گیا ہے۔حسن نواز نے 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 تک تقریباً 9.4 ملین پاؤنڈ کا ٹیکس ادا نہیں کیا۔برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے حسن نواز پر 5.2 ملین پاؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کر دیا، برطانوی حکومت نے حسن نواز کے خلاف تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر شیئر کر دیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے باوجود حسن نواز پر عائد جرمانے کی وصولی کا امکان موجود ہے، برطانوی قوانین کے تحت ٹیکس چوری کے جرمانے دیوالیہ ہونے پر بھی معاف نہیں ہوتے۔
    معاملہ 10 سال پرانا ہے جب حسن نواز نے تمام ٹیکس جمع کر دیے تھے، قانونی ذرائع حسن نواز
    اس حوالے سے حسن نواز کے قریبی قانونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریونیو کسٹم ڈپارٹمنٹ کے آج شائع شدہ “اعداد و شمار” پرانی کہانی ہے، حسن نواز نے کورٹ میں خود دیوالیہ ڈیکلیئر کیا تھا، پرانی کہانی کو ایک مرتبہ پھر دہرایا گیا ہے۔
    قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ 10 سال پرانا ہے جب حسن نواز نے تمام ٹیکس جمع کر دیے تھے، تقریبا 6 برس بعد ایچ ایم آرسی نے اس وقت کے ٹیکسز پر انکوائری شروع کی، ایچ ایم آر سی کو قانونی طور پر انکوائری کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔حسن نواز کے قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص وقت گزرنےکےبعد حسن نواز نے موقف اپنایا تھا کہ اب محکمہ ٹیکس کے ٹیکس طلبی کا مطالبہ درست نہیں، حسن نواز نے کورٹ میں دیوالیہ پن شو کرکے ایک اصولی مؤقف اپنایا تھا، حسن نواز کا دیوالیہ پن 29 اپریل 2025 کو ختم ہونا ہے۔

  • اپریل سے بجلی کے ٹیرف میں بڑا ریلیف متوقع

    اپریل سے بجلی کے ٹیرف میں بڑا ریلیف متوقع

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف 23 مارچ کو آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد بجلی کے نرخ میں 8 روپے فی یونٹ کمی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ٹیرف میں کمی یکم اپریل 2025 سے مؤثر ہوگی جب کہ عوام کو مئی میں کم کیے گئے بل موصول ہوں گے۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کی پوری مشق میں شامل سینئر حکام نے دی نیوز کو بتایا کہ تاہم 8 روپے فی یونٹ میں سے 4.73 روپے فی یونٹ کی کمی مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی، یہ کمی 6 آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے، 16آئی پی پیز کے پاور پرچیز معاہدوں کو ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ ماڈل پر تبدیل کرنے، بیگاس پاور پلانٹس کو امریکی ڈالر سے منسلک کرنے کے بجائے پاکستانی روپے سے جوڑنے اور سرکاری پاور پلانٹس کے ریٹرن آن ایکویٹی کو پاکستانی روپے کی بنیاد پر 13 فیصد تک محدود کرنے اور امریکی ڈالر کی قدر کو 168 روپے پر فکس کرنے کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

  • دشمن کے پیچھے ہم کسی بھی ملک میں کارروائی کر سکتے ہیں، وزیرِ دفاع کا انتباہ

    دشمن کے پیچھے ہم کسی بھی ملک میں کارروائی کر سکتے ہیں، وزیرِ دفاع کا انتباہ

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دشمن کے پیچھے ہم کسی بھی ملک میں کارروائی کر سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن کے پیچھے ہمیں کسی بھی ملک میں جانا پڑا تو ہم جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے والی قوتوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر سکتے ہیں۔کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ٹٓی ٹی پی کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں ٹی ٹی پی کو واپس اس لیے لایا گیا تھا تاکہ ایک نجی ملیشیا قائم کی جا سکے، جس سے ملک کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچایا گیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پہلے سے موجود ہے، اور اب اسے صرف بحال کیا جا رہا ہے۔

  • الیکٹرانک کرائمز کے خلاف کارروائی، پہلا مقدمہ درج، مشہور ٹک ٹاکر گرفتار

    الیکٹرانک کرائمز کے خلاف کارروائی، پہلا مقدمہ درج، مشہور ٹک ٹاکر گرفتار

    راولپنڈی(کنزیومرواچ نیوز)الیکٹرانک کرائمزکے خلاف کارروائی کا اختیار ملنے کے بعد راولپنڈی میں پیکا قانون کے تحت ٹک ٹاکر کے خلاف پہلا مقدمہ درج کرلیا گیا اور پولیس نے ملزم کو گرفتار بھی کرلیا۔راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ عسکری ادارے کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا۔پولیس نے ٹک ٹاکر کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کے الزام میں مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505، پیکا ایکٹ 2016کی دفعہ 20کے تحت درج کیا گیا ہے اور پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر حکومت، قومی اور عسکری اداروں اور انٹیلی جنس سربراہان کے خلاف بھی تضحیک آمیز ویڈیوز شیئر کر رکھی تھیں۔

  • رضوان کی انگریزی کا مذاق؛ سابق آسٹریلوی کرکٹر کو مہنگا پڑگیا

    رضوان کی انگریزی کا مذاق؛ سابق آسٹریلوی کرکٹر کو مہنگا پڑگیا

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز)آسٹریلیا کی ورلڈکپ وننگ ٹیم کے رکن و کمنٹیٹر بریڈ ہوگ کی قومی کے کپتان محمد رضوان کی انگریزی کا مذاق اڑانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر و کپتان محمد رضوان کو انگریزی کے باعث سوشل میڈیا پر خوب ٹرول کیا گیا تھا تاہم سابق آسٹریلوی کرکٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کھلاڑی کو مذاق اڑانے کی ویڈیو شیئر کی جس پر مداحوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ویڈیو میں نقل اُتارنے والے شخص کی ویڈیو ویرات کوہلی سے ملتی ہے، سابق کرکٹر بریڈ ہوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ “آپ کوہلی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو وہ نقالی کرنے والا کہتا ہے کہ میں اور ویرات ایک جیسے ہیں، وہ پانی پیتے ہیں، میں بھی پانی پیتا ہوں، وہ کھانا کھاتے ہیں، میں بھی کھانا کھاتا ہوں، ہم ایک جیسے ہیں، ہم میں کوئی فرق نہیں”۔اس کے بعد “وہ رضوان کی انگلش کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔

  • جعفرایکسپریس کی کوئٹہ منتقل کی گئی بوگیوں میں سے 3 دستی بم برآمد

    جعفرایکسپریس کی کوئٹہ منتقل کی گئی بوگیوں میں سے 3 دستی بم برآمد

    کوئٹہ(کنزیومرواچ نیوز)بولان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کی بوگیاں 8 روز بعد کوئٹہ پہنچا دی گئیں، تباہ حال کوچز سے 3 دستی بم برآمد ہوگئے، جنہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ منتقل کی گئی بوگیوں پر گولیوں کے نشان اور بیشتر کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں، ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بوگیوں کو مرمت کے بعد سفر کے قابل بناکر فعال کیا جائے گا۔ریلوے پولیس کے حکام کے مطابق کوئٹہ میں جعفرایکسپریس کی تباہ حال کوچز سے 3 دستی بم ملے، جنہیں ناکارہ بنا دیا گیا، کچھی کے علاقے مشکاف سے جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں کو کوئٹہ لایا گیا تھا۔واضح رہے کہ 11 مارچ کو بولان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں متعدد شہری اور اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

  • سلمان خان کی نئی فلم ’’سکندر‘‘ کا سکندر ناچے گانا ریلیز ہوتے ہی چھا گیا

    سلمان خان کی نئی فلم ’’سکندر‘‘ کا سکندر ناچے گانا ریلیز ہوتے ہی چھا گیا

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی نئی فلم ’’ سکندر ‘‘ کا نیا سانگ سکندر ناچے ریلیز کردیا گیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کےمطابق بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی رواں سال عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی نئی فلم سکندر ٹائٹل سانگ بھی ریلیز کردیا گیا ہے،جس نے ریلیز ہوتے ہی تہلکہ مچادیا ہے۔گانے کو صرف 20 منٹس میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھ لیا ہے،گانے کی ویڈیو اداکارسلمان خان نے سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر شیئر کی ہے۔اس سے قبل فلم کے گانے زہرہ جبیں ریلیز کیا گیا تھا جس کو مداحوں کی جانب سے کافی پسند کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ سلمان خان کے ساتھ سکندر میں معروف اداکارہ رشمیکا مندانا جلوہ گر ہوں گی جبکہ فلم کو ساجد ناڈیاوالہ نے پروڈیوس کیا ہے اور یہ فلم عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔

  • عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت نصیر سومرو انتقال کر گئے

    عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت نصیر سومرو انتقال کر گئے

    شکار پور (کنزیومرواچ نیوز)شکار پور میں پیدا ہونے والے عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت شخص نصیر سومرو 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ نصیر سومرو طویل عرصے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے۔ نصیر سومرو عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہنے والے طویل القامت شخص تھے۔ مرحوم کا قد 7 فٹ 9 انچ تھا، نصیر سومرو نے وصیت کی تھی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین ان کے آبائی قبرستان میں کی جائے۔ لہذا نبی شاہ محلے میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مرحوم کے انتقال پر سول سوسائٹی و دیگر لوگوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

  • ڈیجیٹل سندھ ایک خواب جس کی تعبیر نظر آنے لگی

    ڈیجیٹل سندھ ایک خواب جس کی تعبیر نظر آنے لگی

    کراچی : کنزیومر واچ نیوز: سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مارچ 2024 سے مارچ 2025 تک اپنی حکومت کی کارکردگی پر مبنی 171 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے ڈیجیٹل تبدیلی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور زرعی پیش رفت کے ذریعے گزشتہ سال کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں صحت، تعلیم، آئی ٹی، آبی وسائل کے انتظام، زراعت اور گورننس میں اصلاحات سمیت دیگر اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا، جن میں ای-سسٹمز کے نفاذ جیسے منصوبے شامل ہیں۔پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت 13,428 طلباء کو اسکالرشپس دی گئیں، جن میں سے 1,171 نے تعلیم مکمل کر لی اور 2,528 کو روزگار مل گیا۔کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، اور شہید بینظیر آباد میں 3,000 یونیورسٹی طلباء اور 200 اساتذہ کو آئی ٹی ٹریننگ دی گئی۔سندھ آبپاشی محکمہ نے ہائیڈرو انفارمیٹکس سینٹر قائم کیا، جو پانی کے بہتر انتظام کے لیے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔251 کلومیٹر واٹر کورسز کو لائن کیا گیا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) نے سیلاب متاثرین کے لیے نیا پورٹل متعارف کرایا، جہاں وہ اپنا ہاؤسنگ اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں۔نئی ڈرون میپنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے دیہی علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے بہتر بنائے جا سکیں۔آن لائن وہیکل ٹیکس سسٹم متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے گاڑیوں کے ٹیکس کی ادائیگی، بایومیٹرک تصدیق، اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ممکن ہو گئی۔پریمیم نمبر پلیٹ اسکیم کے ذریعے 640 ملین روپے اکٹھے کیے گئے، جس سے 2,100 سیلاب متاثرین کے مکانات تعمیر کیے گئے۔219 ٹیوب ویل اور 434 زرعی آلات کسانوں میں تقسیم کیے گئے۔100 سولر ٹیوب ویل اور ایک سولرائزڈ کولڈ اسٹوریج یونٹ نصب کیا گیا۔900 دیہی خواتین کو کچن گارڈننگ کٹس فراہم کی گئیں تاکہ انہیں خوراک کی خود کفالت حاصل ہو سکے۔سندھ کے صحت کے شعبے میں گزشتہ سال نمایاں پیش رفت اور توسیع دیکھی گئی، جس میں جدید طبی سہولتوں، مریضوں کی بڑھتی ہوئی رسائی، اور ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔این آئی سی وی ڈی کراچی نے 14 لاکھ مریضوں کا علاج کیا، 5,000 سے زائد کارڈیک مداخلتیں اور سرجریاں کیں، اور ہزاروں تشخیصی اور امیجنگ سروسز فراہم کیں۔سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز (SICVD) نے بلدیہ ٹاؤن میں کارڈیک ایمرجنسی سینٹر قائم کیا اور سکھر میں اسٹروک پروگرام کا آغاز کیا۔گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے 200 سے زائد جگر اور 100 سے زائد گردے کی پیوند کاری مکمل کی اور روبوٹک کیتھ لیب اور جوائنٹ ریپلیسمنٹ کی سہولیات متعارف کرائیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) نے دوسرا روبوٹک سرجیکل سسٹم فعال کیا، جبکہ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) ایک نئے سسٹم کی خریداری کے عمل میں ہے۔سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) نے پاکستان کا پہلا روبوٹک سینٹر اور PET CT یونٹ قائم کیا، جس سے کینسر کی تشخیص اور علاج میں نمایاں بہتری آئی۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما نے 70,000 مریضوں کا علاج کیا اور سینے کی سرجری، انٹروینشنل ریڈیالوجی، اور پلاسٹک سرجری کے نئے یونٹس قائم کیے۔سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 نے ہائی ویز پر سیٹلائٹ اسٹیشنز قائم کیے اور ہنگامی ردعمل کو بہتر بنایا۔چائلڈ لائف فاؤنڈیشن نے 9 بین الاقوامی معیار کے ایمرجنسی مراکز اور 106 ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کرکے سندھ میں بچوں کی شرح اموات کو 2.9 فیصد تک کم کر دیا، جو کہ قومی سطح پر 5.4 فیصد ہے۔ سندھ پولیس نے S4 اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت 42 ٹول پلازوں پر چہرے کی شناخت والے کیمرے نصب کیے گئے۔100,000 ڈرائیونگ لائسنس آن لائن جاری کیے گئے۔ای-ٹیگنگ سسٹم کے ذریعے 4,000 مجرموں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔196 نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں اور 120 سیلاب زدہ سڑکوں کی مرمت کی گئی، جن کا مجموعی فاصلہ 2,500 کلومیٹر ہے۔53.5 ارب روپے کی لاگت سے مختلف سڑکوں کے منصوبے مکمل کیے گئے۔200,000 سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے گئے اور مزید 300,000 کی منصوبہ بندی جاری ہے۔24 سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا گیا، جن میں ہسپتال، جیلیں، اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔’ہری کارڈ‘ اسکیم کے تحت 168,000 سے زائد کسانوں میں 10.11 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔’کلک کاروبار ایپ‘ کے ذریعے کاروباری لائسنس اور پرمٹ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا گیا۔’شہید محترمہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ‘ کے تحت ہر سال 10 طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے 100 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔یہ تمام منصوبے سندھ حکومت کے تکنیکی جدت، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور معاشی استحکام کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں، جو شہید ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وڑن کے مطابق ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے ا علان کیا تھا کہ ہم پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کریں گے،ہم نے اپنے بچوں کو اپنی نیکسٹ جنریشن کو ٹرینڈ کرنا ہے ہم نے انڈر پروپون انیشٹو پیپل انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کیا تھا اس پروگرام کے تحت اس سال 13428 سٹوڈنٹس کو ہم تین مختلف یونیورسٹیز میں اسکالرشپ دی،ہم 1171 سٹوڈنٹس گریجوئیٹ کرا چکے ہیں ان گریجوئیٹس میں سے 2528 نے جابز حاصل کر لیے ہیں ،آخری بیج جو 3057 کا 2357 یہ مئی 2025 میں گریجوٹ کرے گا ،اس کامیابی کو مدنظر رکھ کر ہمارا ارادہ ہے کہ اگلے سال بھی اس کو ایک اور اسکوپ بڑھائیں،اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے 2024 کے اندر 1500 آئی ٹی گریجوٹس کے لیے ایک بوٹ کیمپ کیا تھااور ان 1500 میں سے 870 گریجوٹ سپلائی نہیں سیلف ایمپلائیڈ ہیں ہم ہر ایک کو مانیٹر بھی کرتے ہیں جو اس کے بعد ان کی جابز لینے میں مدد کی،اس کے ساتھ ساتھ ان کو اگر مزید کسی مدد کی ضرورت ہے تو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ان کے ساتھ رابطہ میں رہتا ہے ،ایک اور پروگرام ہے یہ اس سے تین ہزار یونیورسٹی سٹوڈنٹس جو تھرڈ یا فورتھ ایر میں تھے،کراچی حیدرآباد سکھر لاڑکانہ خیرپور شہید بے نظیر اباد ڈسٹرکٹ میں 758 یہ ٹرینیز تھے، ہم تین ہزارا سٹوڈنٹس اور 200 ٹیچرز اور ٹیچنگ اسسٹنس کر چکے ہیں محکمہ آبپاشی نے ہائیڈرو انفارمیٹکس سینٹر ایک بنایا ہے،یہ سینٹر ڈیٹا سارا کلیکٹ کرتا ہے اس سے ڈیٹا اویلیبل بھی ہے جو لوگ ڈیٹا حاصل کرنا چاہیں محکمہ آبپاشی مدد ملتی ہے اور یہ بھی ایک آئی ٹی کے اندر ہماری ایڈوانسمنٹ ہے سندھ پیپلز ہاؤزنگ آف فلڈ افیکٹیز اس کے بارے میں اگے میں آپ کو پھر بتاؤں گاآئی ٹی میں ہم نے تین پورٹلز بنائے ہیں یہ بینیفیشری پورٹل ہے کوئی بھی بینیفیشری اپنا شناختی کارڈ ڈال کے اپنا سٹیٹس چیک کر سکتا ہے ہمارا ایس پی ایچ آف ہیٹ میپ ہے یہ بھی ٹیکنالوجی میں اہم قدم ہے،جو بھی جس کو ایکسس ہے وہ کسی بھی ڈسٹرکٹ کے کسی بھی تعلقے سے ہو وہ گھر کا سٹیٹس دیکھ سکتا ہے یہ پورے ہمارے دو ملین سے اوپر ڈیٹا بیس ہیہم نے ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میپنگ ہم کرتے ہیں ڈرون کے ساتھ گاؤں کے اوپر جاتے ہیں اس کی ساری ڈیجیٹل میپنگ کر لیتے ہیں اور پھر ہمیں اس میں جو گیپس ہیں پتہ چلتے ہیں یہ ابھی پائلٹ ہے کچھ ولیجز ہم کر چکے ہیں لیکن ارادہ ہے کہ یہ پورے سندھ میں ہم اس کو ایپلیکیٹ کریں گے ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے اٹومیشن کی طرف گئے ہیں ،گزشہ ایک سال میں یہ سارا کچھ مرتب کیا، ہے، وہ پرانی چیزیں نہیں بتا رہا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اس سال یہ ڈیجیٹائز کیلئے ایپ بنائیے ہیں،اپ موٹر وہیکل ٹیکس پروفیشنل ٹیکس اپنی ایکسائز لے لی ہے انفراسٹرکچر سائز یہ سارا ان لائن کر سکتے ہیں بائی میٹرک ویریفکیشن اور موٹر وہیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کر سکتے ہیں پہلا ان لائن اپشن پریمیم نمبر پلیٹ کا ہم نے اس سال کیاہم باقی بھی جو ہماری سکیمز ہیں چاہے وہ میکنائز فارمنگ کے لیے امپلیمنٹس دینا ہو چاہے ا جو ہمارے واٹر کورسز لائن کرنے کا پروگرام ہے جو ہم پاورز کو اسسٹ کرتے ہیں ان سب نے ہم اس ہاری کارڈ کو استعمال کریں گے آن لائن ایپلیکیشن وہ سیکیورٹی فیچر نمبر پلیٹس جو نئے نمبر پلیٹس کے لیے وہ بھی اپ ان لائن ہی سارا کر سکتے ہیں سندھ فوڈ اتھارٹی نے بزنس رجسٹریشن جو ڈفرنٹ فوڈ اؤٹلٹس ہیں ان کے لیے ایک ایپ بنائی ہوئی ہیوہ اپنی بزنس رجسٹریشن اپنی جو لائسنس فیس ہے وہ سب کچھ ان لائن کر سکتے ہیں ہمارے انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک ایپ بنائی ہوئی ہے کاروبار ایپ کے نام سے کہ جس نے بھی کاروبار شروع کرنا ہے وہ اس ایپ کے ذریعے رجسٹر کر سکتا ہے، اپنی پرمٹس لے سکتا ہے آپ کو جو مسئلے ہیں جس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہیں وہ بتا سکتا ہے، یہ چیزیں انفارچونیٹلی ہم اتنی زیادہ ڈسمنٹ نہیں کر سکے لیکن ابھی ہم شروع کریں گے، تاکہ پتہ اور اس کے اندر ہم جو پورٹل ہے انفارچونیٹلی بہت زیادہ ریگولیٹری اپروولز ہوتی ہیں بزنس کو ہم ایز ڈوئنگ بزنس میں کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ریگولیٹومنٹس ہم انٹروڈیوس کریں گے اگے جاتے ہوئے کہ وہ پرمٹس ان لائن لوگ لے سکیں ای پروفیمنٹ یہ ہم نے اس کو تقریبا اٹھ نو مہینے ہو گئے ہم نے شروع کیا ہے،ہم ہر ڈیپارٹمنٹ کے اینیل پروکیومنٹ پلان سے لے کر اس کی ایوارڈ اف ٹینڈر تک سارا ٓٹومیٹک کریں گے سارا ا فیسلس ہو تاکہ اپ کے کم از کم اس میں کوئی ہیومن انٹروینشن یا کوئی ایسی بات ہو وہ ہمارا ای پیڈز کے نام سے ای پیک ایکویشن ڈسپوزل سسٹم ہم نے اپریل 24 میں اس کو سافٹ سٹارٹ کیا تھا اور اس وقت تک ہم 558 سپلائرز کو رجسٹر کر چکے ہیں 408 ٹینڈرز پبلش میں 308 تک پیمنٹس کمپلیٹ ہوئی ہیں اور 883 پروگریس ہیں ہم نے ماسٹر ٹرینرز آفیسرز اور بڈرز کو ٹرین کرنے کا ایک پروگرام بنا ہوا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم گریجولی پیپر ٹرانزیکشن سے ختم کر کے یہ سارا کا سارا ایک پورٹل پر لے آئیں گے یہ ایک اور ایشو کافی عرصے سے تھا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اندر وہ گندم کا جو آپ کو پتہ ہے کہ گندم ناقص ہے چوری ہو گئی مٹی بھری ہوئی ہے .

  • گولڈن ویزا متنازع کیوں ہیں؟

    گولڈن ویزا متنازع کیوں ہیں؟

    واشنگٹن:کنزیومر واچ نیوز
    امریکی صدر ٹرمپ نے ’گولڈ کارڈ‘ نامی امیگریشن اسکیم متعارف کرائی ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت 5 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے عوض دولت مند غیر ملکی افراد امریکی شہریت بھی حاصل کرسکیں گے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کو تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس پر دھوکہ دہی اور غلط استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔،اوول آفس میں گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر ملکی شہری یہاں مزید دولت مند اور کامیاب ہوں گے، وہ یہاں بہت سارا پیسہ خرچ کریں گے، ٹیکس بھریں گے اور بہت سارے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کریں گے۔ یہ ویزا اسکیم ایک انتہائی کامیاب اقدام ہوگا۔

    گولڈ کارڈ پروگرام کیا ہے؟
    ٹرمپ گولڈ کارڈ ایک مجوزہ امیگریشن اسکیم ہے جو دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کو گرین کارڈ کے حقوق دیتی ہے، جس سے انہیں مستقل رہائش اور بعد میں امریکی شہریت حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کے برعکس جس کے لیے کم از کم ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جبکہ گولڈ کارڈ کی قیمت 5ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
    ای بی فائیو ویزا پروگرام کو کیوں تبدیل جارہا ہے؟
    ای بی فائیو ویزا پروگرام کو 1990 میں امریکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع پیدا کیے جا سکیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس پروگرام پر بدعنوانی اور غلط استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ اس پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی اصل شکل سے ہٹ چکا ہے۔ٹرمپ کے کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک نے اس پروگرام کو “بکواس’’ اور “فراڈ’’ قرار دیا اور کہا کہ گولڈ کارڈ ایک زیادہ شفاف اور مؤثر متبادل فراہم کرے گا، جس سے ای بی فائیو کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
    ان کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو پروگرام کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    گولڈ کارڈ پروگرام کی اہم خصوصیات پانچ ملین ڈالر سرمایہ کاری کی شرط : ای بی فائیو کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ درکار ہوگی، جس کا ہدف انتہائی امیر افراد ہوں گے۔گرین کارڈ کے فوائد : سرمایہ کاروں کو امریکہ میں مستقل رہائش اور کام کرنے کے حقوق حاصل ہوں گے۔شہریت کا حصول : اس اسکیم کے تحت سرمایہ کار اور ان کے اہلِ خانہ امریکی شہریت کے حقدار ہوں گے۔ای بی فائیو کا متبادل : یہ پروگرام مکمل طور پر ای بی فائیو ویزا کو ختم کر دے گا، جس پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔
    نیا گولڈ ویزا کس کو مل سکتا ہے؟
    ٹرمپ کے اعلان کے دوران ایک صحافی نے دریافت کیا کہ کیا روسی اولیگارک (بڑے کاروباری شخصیات) بھی اس اسکیم کے اہل ہوں گے؟ جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہاں، ممکن ہے۔ میں کچھ روسیوں کو جانتا ہوں جو بہت اچھے لوگ ہیں۔’’ٹرمپ کے مطابق یہ اْن افراد کو مل سکتا ہے جن کے پاس کافی ڈالر ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کے نتیجے نوکریوں میں اضافہ کرنے کی شرط ہوگی یا نہیں۔
    گولڈ کارڈ کی قیمت اور مراعات کیا ہوں گی؟
    اس ویزا اسکیم کیلیے درخواست جمع کروانے کی فیس50 لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس بارے میں مزید تفصیلات دو ہفتے بعد شائع کی جائیں گی جب یہ ویزے فروخت ہونا شروع ہوں گے۔گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انہیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ یقینی طور پر دنیا بھر کے دولت مند سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرے گا، لیکن ساتھ ہی ساتھ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ امیگریشن کی شفافیت اور قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟۔یاد رہے کہ سال 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے، عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
    ’ای بی فائیو‘ ویزا پروگرام کیا ہے اور ٹرمپ اسے ختم کیوں کر رہے ہیں؟
    سنہ 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے۔ عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو ویزا کا مقصد ’امریکی معیشت کو نوکریوں میں اضافے اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہے۔‘تاہم ٹرمپ کے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک کا ماننا ہے کہ ’اس پروگرام کا استحصال کیا جا رہا ہے اور یہ مراعات (امریکی شہریت) بہت کم قیمت کے عوض دی جا رہی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ای بی فائیو پروگرام بے معنی اور فراڈ ہے اور اس کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘سنہ 2021 میں امریکی حکومت کے احتساب کے دفتر کو معلوم ہوا کہ ای بی فائیو ویزا پروگرام میں فراڈ کا خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ امیدوار کی جانب سے فنڈز کہاں سے بھیجے گئے ہیں یہ جاننا بہت مشکل ہے اور اس پروگرام میں سرمایہ کے باعث طرف داری بھی کی جا سکتی ہے۔
    گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انھیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔
    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں کم انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔گولڈن ویزا دنیا بھر میں خاصے عام ہیں۔ برطانیہ، سپین اور یونان جیسے ممالک میں بھی یہ ویزا فروخت کیے جاتے ہیں اور کچھ ممالک جیسے مالٹا، مصر اور اردن میں تو آپ کو اس سرمایہ کاری کے عوض براہِ راست شہریت مل جاتی ہے۔یہ ’گولڈن پاسپورٹ‘ پروگرامز کیریبیئن میں بھی موجود ہیں جہاں ڈومینیکا، گریناڈا، سینٹ کیٹس اور نیوس میں اس ویزا کی فیس دو سے تین لاکھ ڈالر تک رہی ہے۔
    متحدہ عرب امارات میں گولڈن ویزا پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو ’گولڈن کارڈ‘ جاری کیا گیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیوںکے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا ہے۔
    ماہرین کے مطابق عام طور پر گولڈن ویزا پروگرام اس لیے متنازع ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکتی ہے یا فراڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کی وجہ سے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ان خدشات کے باعث متعدد یورپی ممالک جن میں برطانیہ، نیدرلینڈز اور یونان شامل ہیں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اپنے گولڈن ویزا پروگرام بند کر دیے تھے۔
    آسٹریلیا کی جانب سے غیر ملکی تاجروں کے لیے گولڈن ویزا پالیسی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن چونکہ نتائج اچھے نہیں آئے اس لیے امیگریشن پالیسی میں ترامیم کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔پہلے ہی گولڈن ویزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا استعمال بدعنوان اور سود پر رقم دینے والے لوگ کر رہے ہیں۔
    آسٹریلیا کے گولڈن ویزے کے حصول کے لیے کسی غیر ملکی سرمایہ کار کو کم از کم 3.3 ملین ڈالر جو کہ تقریباً 27 کروڑ 44 لاکھ انڈین اور 50 کروڑ سے زیادہ پاکستانی روپے کے برابر ہے کی سرمایہ کاری درکار تھی۔کئی تحقیقات کے بعد آسٹریلین حکومت نے محسوس کیا کہ یہ پالیسی اپنا مقصد حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔