اسلام آباد : کنزیومر واچ ڈیسک : پاکستان کا صنعتی شعبہ چین، بھارت اور امریکا کے مقابلے میں بجلی کی قیمتوں سے تقریباً دگنا اور یورپی یونین سے بھی زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے، جس سے اس کی برآمدی مسابقت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں قائم انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی تازہ ترین ’الیکٹریسٹی 2025- اینالسز اینڈ فارکاسٹ ٹو 2027‘ رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت میں 2024 میں بجلی کی اوسط قیمت 6.3 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ، چین میں 7.7 سینٹ، ناروے میں 4.7 سینٹ اور یورپی یونین میں 11.5 سینٹ تھی۔
اس کے مقابلے میں پاکستان میں توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی اوسط قیمتیں 2024 میں 13.5 سینٹ فی یونٹ رہیں۔اگرچہ پاکستان میں بجلی کی قیمت کو خاص طور پر رپورٹ نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ آئی ای اے کا رکن نہیں ہے، لیکن اس میں یورپی یونین کو درپیش چیلنجز کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے، جہاں 2024 میں بجلی کی اوسط قیمت 11.5 سینٹ تھی جو پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد کم تھی۔اس سے جزوی طور پر پاکستانی صنعتوں کو اندرون ملک اور بیرون ملک مصنوعات برآمد کرنے میں درپیش مشکلات کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کو ڈی انڈسٹریلائزیشن کا سامنا ہے، کیونکہ توانائی کی زیادہ لاگت نے صنعتوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے، سستی بجلی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے. بجلی کی بلند قیمتیں یورپی توانائی سے بھرپور صنعتوں کی مسابقت کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔
2023 میں نرمی کے بعد 2024 کے ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یورپی یونین میں توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی اوسط قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی 2019 کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔2022 میں ریکارڈ بلند ترین سطح سے گرنے اور 2023 کے مقابلے میں قدرے کم ہونے کے باوجود 2024 میں یورپی یونین میں توانائی پر مبنی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتیں اوسطاً امریکا کے مقابلے میں دوگنا اور چین کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی زائد قیمتوں نے یورپی صنعتوں کو زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک میں کھپت کی سطح پر غیر مساوی طور پر متاثر کیا ہے، کم سے درمیانی بجلی کی کھپت والے کاروباری اداروں نے 2021 اور 2024 کے درمیان زیادہ مستحکم ٹیرف کا لطف اٹھایا، جس کے نتیجے میں بڑے صارفین کے مقابلے میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ میں کمی ہوئی۔2019 کے مقابلے میں 2022 میں یورپی یونین کی توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 160 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ درمیانے صارفین کو 80 فیصد اور کم کھپت والے کاروباری اداروں کے لیے قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی طلب میں زبردست اضافہ ایک نئے ’بجلی کے دور‘ کا آغاز کر رہا ہے، جس کی مانگ 2027 تک بڑھنے والی ہے۔آئی ای اے نے کہا کہ اس رپورٹ کی 2027-2025 کی پیشگوئی کی مدت کے دوران عالمی سطح پر بجلی کی کھپت میں تیز ترین رفتار سے اضافے کی توقع ہے، جس میں بڑھتی ہوئی صنعتی پیداوار ، ایئر کنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے استعمال، بجلی کی رفتار میں تیزی اور دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع شامل ہے۔2024 میں عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں 4.3 فیصد اضافہ ہوا، 2027 میں اس میں 4 فیصد کے قریب اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، اگلے 3 سال میں، عالمی سطح پر بجلی کی کھپت میں 3500 ٹیرا واٹ گھنٹے (ٹی ڈبلیو ایچ) کا غیر معمولی اضافہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔یہ ہر سال دنیا کی بجلی کی کھپت میں جاپان کے مساوی سے زیادہ اضافے سے مطابقت رکھتا ہے، یہ 2023 میں 2.5 فیصد اضافے کے مقابلے میں بھی تیز رفتار تھا، جب چین، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں مضبوط ترقی یافتہ معیشتوں میں گراوٹ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔2027 تک بجلی کی زیادہ تر اضافی طلب ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرف سے آئے گی، جن کی ترقی کا 85 فیصد حصہ بننے کی توقع ہے۔2024 میں عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں نصف سے زیادہ اضافہ چین سے آیا، جہاں گزشتہ سال کی طرح 2024 میں 7 فیصد اضافہ ہوا، چین میں بجلی کی طلب میں 2027 تک اوسطاً 6 فیصد سالانہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔بھارت، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بھی معاشی توسیع اور ایئر کنڈیشنر کی بڑھتی ہوئی ملکیت کی وجہ سے طلب میں زبردست اضافہ متوقع ہے، بھارت میں بجلی کی طلب میں اگلے 3 سال میں اوسطاً 6.3 فیصد سالانہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو 2024-2015 کی اوسط شرح نمو 5 فیصد سے زیادہ ہے۔اگرچہ بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتیں بجلی کی طلب میں زبردست اضافہ دیکھ رہی ہیں لیکن افریقہ پیچھے ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اہم پیشرفت ہوئی لیکن سب صحارا افریقہ میں 60 کروڑ افراد کو اب بھی قابل اعتماد بجلی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔دوسری جانب چین میں بجلی کی فراہمی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جہاں توانائی کی حتمی کھپت میں بجلی کا حصہ (28 فیصد) امریکا (22 فیصد) یا یورپی یونین (21 فیصد) کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔چین کی بجلی کی کھپت 2020 کے بعد سے اس کی معیشت کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے اس رفتار کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے تمام شعبوں میں بجلی کی فراہمی زور پکڑ رہی ہے۔2022-2024 کے 3 سال کے عرصے میں صنعتوں نے بجلی کی طلب میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا، جب کہ کمرشل اور رہائشی شعبوں نے مجموعی طور پر 40 فیصد حصہ ڈالا۔چین میں صنعتی شعبہ زیادہ بجلی پر مبنی ہو گیا ہے، طلب میں ایک تہائی اضافہ شمسی پی وی ماڈیولز، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ سے آتا ہے، 2024 میں ان صنعتی شعبوں نے سالانہ 300 ٹی ڈبلیو ایچ سے زیادہ بجلی استعمال کی، یہ اتنی بجلی ہے جتنی اٹلی ایک سال میں استعمال کرتا ہے۔
Blog
-

مہنگی بجلی نے ملکی صنعتوں کا بھٹہ بٹھا دیا
-

حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا
کراچی:کنزیومر واچ ڈیسک:حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز موبائل ایپ کے ذریعے لین دین کیا جائے گا۔انعامی رقم قابل ٹیکس ہوگی لیکن اس پر زکو ہ لاگو نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز چوری، نقصان یا ضیاع کے خطرات کو کم کرے گا اور یہ اقدام معیشت کو دستاویزی شکل دینے، شفافیت کو بڑھانے اور احتساب کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔آج کے ٹیکنالوجی پر مبنی دور میں ایک نیا سرمایہ کاری کا موقع ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ کاغذ کے بغیر ہے جس سے پرنٹنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ یہ خریدار کے نام پر رجسٹرڈ ہوتا ہے، اس لیے چوری، نقصان یا ضیاع کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 500 روپے، 1000 روپے، 5000 روپے اور 10000 روپے کے ڈیجیٹل پرائز بانڈز اس رقم میں جاری کیے جائیں گے جو وزارت خزانہ وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرے گی۔ڈیجیٹل پرائز بانڈز کا انعام موبائل ایپ کے ذریعے ریڈیم کیا جائے گا اور اس کی رقم خریداری کے وقت استعمال شدہ لنک شدہ بینک اکاونٹ یا سی ڈی این ایس بچت اکاونٹ میں جمع کر دی جائے گی۔ سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی سہ ماہی بنیاد پر کی جائے گی یا وزارت خزانہ کی طرف سے نوٹیفائی کی جائے گی۔ قرعہ اندازی کا شیڈول ہر کیلنڈر سال کے آغاز میں سی ڈی این ایس کی طرف سے اعلان کیا جائے گا۔سرمایہ کار کی وفات کی صورت میں، مرحوم کے بانڈ کی اصل رقم اور انعامی رقم ان کے قانونی ورثا کو جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق ادا کی جائے گی اور اگر خالص رقم 500,000 روپے سے زیادہ نہ ہو تو ادائیگی خریداری کے وقت نامزد شخص کو کی جائے گی۔
-

میری ٹائم وزارت میں ایک اور مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا
کراچی ( کنزیومر واچ نیوز)میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد چلتے جہاز فروخت کرنے کا اسکینڈل سامنے آگیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی جانب سے 2 آپریشنل جہاز فروخت کردیے گئے۔ذرائع کے مطابق جہاز ‘لاہور’ کیپ ون کٹیگری کا تھا جو یومیہ 27 ہزار 500 ڈالرز پر عراقی بندرگاہ پر ٹھیکے پر آمدن کما رہا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جہاز ‘کوئٹہ’ پاکستانی ریفائنریز کے طویل مدتی ٹھیکے پر تقریباً 12 ہزار ڈالر یومیہ کمارہا تھا۔ذرائع کے مطابق پی این ایس سی نے ریفائنریز کے لیے باہر سے چارٹر جہاز ‘سوین لیک’8 لاکھ ڈالر ماہانہ پر لیا جس سے تقریبا 2 لاکھ ڈالر نقصان ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز آپریشنل اور منافع بخش تھے، اسکریپ کے بجائے شپنگ کمپنیز کی جانب سے خریدے گئے، دونوں جہازوں کی موجودہ فریٹ مارکیٹ کم از کم 40 ہزار ڈالرز یومیہ ہے۔ذرائع کے مطابق پی این ایس سی کے لیے 5 جہازوں کی خریداری کا معاملہ پی پی آر اے میں زیر التوا ہے۔ترجمان پی این ایس سی کے مطابق دو جہازوں کی فروخت کا عمل جاری ہے، بورڈ کی منظوری سے فروخت کا فیصلہ ہوا، جہاز فائدہ مند نہیں تھے، اجازت ملتے ہی نئے جہاز خریدیں گے۔
-

اسٹیٹ ایجنٹس کے ذریعے ڈالر منتقلی کا انکشاف
اسلام آباد 🙁 کنزیومر واچ نیوز)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ درجنوں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس مبینہ طور پر ہنڈی/حوالہ کے ذریعے دبئی میں ڈالر منتقل کر رہے ہیں تاکہ وہاں کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جا سکے، اس رجحان کے باعث حالیہ دنوں میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر پر دباو پڑا ہے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو پس پردہ گفتگو میں تصدیق کی کہ ایک بڑی رقم کھلی مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی، خاص طور پر امریکی ڈالر، میں تبدیل کر کے دبئی/متحدہ عرب امارات بھیجی گئی ہے تاکہ اسے پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر نے معاملے کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے ایسے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی فہرست تیار کی ہے جو مبینہ طور پر اس سرگرمی میں ملوث ہیں۔ تاہم، یہ صرف اس بڑے اسکینڈل کی ابتدائی جھلک ہے، اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ حکام کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے۔سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں نے 70سے زائد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی فہرست تیار کی ہے جو اپنے کلائنٹس سے کیش وصول کر کے اسے کھلی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرتے تھے اور پھر دبئی/متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے منتقل کرتے تھے۔پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکونز نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ٹیکس قوانین میں نرمی نہ کی گئی اور “نو سوالات” کی حد 10ملین سے بڑھا کر 25 سے 50 ملین روپے نہ کی گئی تو سرمایہ کاری دبئی/متحدہ عرب امارات منتقل ہو سکتی ہے، یہ تجویز ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 میں شامل تھی، جو اس وقت قومی اسمبلی کی فنانس اینڈ ریونیو کمیٹی میں زیر غور ہے۔حکومت نے ایف بی آر کو دو ماہ کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایک ایسی ایپ تیار کرے جو فائل شدہ ٹیکس گوشواروں میں رضاکارانہ ترامیم کی سہولت فراہم کرے، تاکہ لوگ اپنی جائیداد کی مالیت کو ازخود درست کر سکیں۔
-

بینکنگ تفصیلات چرانے کے لیے سائبر حملوں میں اضافہ
لندن:کنزیومر واچ ڈیسک: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2023 کے مقابلے 2024 میں اسمارٹ فونز سے صارفین کی بینکنگ تفصیلات چرانے کے لیے سائبر حملوں کی تعداد میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق روسی سائبر سیکیورٹی اور اینٹی وائرس فرم کیسپرسکی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر ٹروجن بینکر حملوں کی تعداد 2023 میں 4 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 12 لاکھ 42 ہزار ہوگئی۔ٹروجن بینکر میل ویئر بدنیتی پر مبنی کمپیوٹر پروگرام ہیں جو کسی شخص کی آن لائن بینکاری، ای ادائیگی یا کریڈٹ کارڈ خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔’2024 میں موبائل میل ویئر خطرے کا منظر نامہ‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سائبر کرمنلز بینکنگ تفصیلات چوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر میل ویئر ڈسٹری بیوشن پر انحصار کرتے ہوئے حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں‘۔گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین پر 3 کروڑ 33 لاکھ سے زائد حملے ہوئے جن میں مختلف قسم کے میل ویئر اور ناپسندیدہ سافٹ ویئر شامل تھے۔سائبر کرمنلز ایس ایم ایس یا میسجنگ ایپس، ای میل اٹیچمنٹ یا دیگر میسنجرز کے ذریعے لنکس بھیج کر صارفین کو بدنیتی پر مبنی ویب پیجز کی طرف راغب کرتے ہیں اور ٹروجن بینکرز ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دھوکا دیتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں سائبر کرمنلز ہیک شدہ اکاؤنٹ سے پیغامات بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے فراڈ زیادہ قابل اعتماد دکھائی دیتا ہے، صارفین کو دھوکا دینے کے لیے حملہ آور اکثر ٹرینڈنگ خبروں کا سہارا لیتے ہیں اور فوری ضرورت کا احساس پیدا کرنے اور متاثرین کو غیر محفوظ محسوس کرانے کے لیے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹروجن بینکرز میل ویئر کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی قسم تھے، لیکن متاثرین کی 6 فیصد تعداد کے لحاظ سے مجموعی طور پر چوتھے نمبر پر ہیں۔ سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے زمرے میں ایڈ ویئر ہے جن سے متاثرہ صارفین کی تعداد 57 فیصد ہے، اس کے بعد جنرل ٹروجن (25 فیصد) اور رسک ٹولز (12 فیصد) ہیں۔ایڈ ویئر ایک قسم کا میل ویئر سافٹ ویئر ہے جو صارفین کو ٹارگٹڈ اشتہارات فراہم کرتا ہے، ٹروجن وائرس صارفین کو اسے انسٹال کرنے کے لیے خود کو قانونی سافٹ ویئر کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔پالیسی ایڈووکیٹ اور آئی ٹی کے ماہر شہزاد شاہد نے کہا کہ موبائل بینکنگ میل ویئر حملوں میں خطرناک حد تک اضافے نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ ڈیجیٹل طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے جیسے مشکوک لنکس سے بچنا، ملٹی فیکٹر تصدیق کا استعمال کرنا اور باقاعدگی سے سیکیورٹی اپ ڈیٹس انسٹال کرنا۔
-

موبائل فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ
کراچی : کنزیومر واچ رپورٹ : پروفیسر ڈاکٹرزیبا احمد نے کہا ہے کہ موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور بلیوٹوتھ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کان ، خاص طور پر کان کااندرونی حصہ موبائل فون کے قریب ہونے کی وجہ سے الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن کابراہ راست سامنا کرتا ہے جس کی وجہ سے کان کا یہ عضو سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کورٹی میں موجود باریک ہیئر سیلز (عضوِ سماعت کے ریسیپٹر خلیے) دوبارہ پیدا کرنے والی خصوصیات نہیں رکھتے اس لیے یہ نقصان اکثر مستقل ہوتے ہیں اور مرض کے ایڈوانس اسٹیج میں ریکوری کا امکان بہت کم ہوتا ہے، ہیئر سیلز مسلسل شور سے حساس سمجھے جاتے ہی، لہذا، کان موبائل فون کے شور کے ساتھ ساتھ فون سے نکلنے والی الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن ویوز کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ کارخانوں جیسے کام کی جگہوں پر ٹریفک کا غیر منظم شور بھی آلودگی کی ایک شکل ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، یہ باتیں انہوں نے سماعت کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کے اشتراک سے منعقد ہ سیمینارمیں کہیں، جس کا انعقاد سول اسپتال کے ای این ٹی ڈپارٹمنٹ یونٹ –ون میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمدکی صدارت میں ہوا،سیمینار میں ڈاکٹر طارق زاہد خان، ڈاکٹر تہمینہ جنید، ڈاکٹر صدف ضیا، ڈاکٹر عظمیٰ سمیت فیکلٹی ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور طلبا کی بڑی تعداد شریک ہوئی، اس موقع پر سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرخالد بخاری، اور پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر صبا سہیل نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، ڈاکٹر زیبا احمد نے سیمینار سے خطاب میں کہاکہ سماعت سے محرومی کی روک تھام تمام قبل از پیدائش ، پیدائشی ادوار سے لے کربڑھاپے تک زندگی کے تمام ادوار کے لیے ضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سماعت متاثر ہونے کے لگ بھگ 60 فیصد کیسز کو صحت عامہ کے اقدامات کے نفاذ کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، ڈاکٹر زیبا نے کہا کہ اسی طرح، بالغ افراد میں سماعت کے نقصان کی عام وجوہات، جیسا کہ اونچی آواز اور اوٹوٹکسک ادویات کا استعمال، ہیں جن پر قابو پاکرروکا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سماعت کے نقصان کو کم کرنے کے لیے موثر حکمت عملیاں اپنائی جاسکتی ہیں، جن میں امیونائزیشن، زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کے اچھے طریقے، جینیاتی مشاورت، کان کے انفیکشن کی شناخت اور علاج، شور اور کیمیکل ایکسپوڑڑ کے لیے سماعت کے تحفظ کے پروگرام،تفریحی پروگرامز میں تیز آواز میں کمی کے لیے محفوظ حکمت عملی،اوٹوٹوکسک سماعت کے نقصان کو روکنے کے لیے ادویات شامل ہیں ، سیمینار کے دوران ای این ٹی ریذیڈنٹس نے کان کی مختلف بیماریوں ، ان کی تشخیص و علاج پر مبنی موضوعات پر گفتگو کی، سیمینار کے دوران سول اسپتال میں گزشتہ ایک برس کے دوران کان کی سوزش( سی ایس او ایم) کے سرجیکل علاج کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے،سیمینار میں بتایا گیا کہ جنوری 2024 سے یکم مارچ 2025 تک سول اسپتال کراچی میں سی ایس اوایم کے 100 مریضوں کی سرجری کی گئی، جن میں سے 69 فیصد یونٹ –ون اور 31 فیصد یونٹ –ٹومیں کی گئیں،سیمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ کان میں درد یا سوزش کے علاج میں تاخیر کی وجہ سے سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے اورکچھ کیسز میں مریض سماعت سے مکمل طور پر محروم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیماری کے آخری اسٹیج پر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے جس کے باعث اسے پھرآلہ سماعت کا سہارا لینا پڑتا ہے، سماعت کے عالمی دن کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے سماعت کا عالمی دن سب سے پہلے 2007 میں منایا گیا تھا، ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ یہ دن دنیا بھر میں سماعت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی یاد دہانی ہے جو امراض سے بچاؤ، تھراپی کے ساتھ ساتھ سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے ری ہیبی لیٹیشن کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یہ سماعت اور ہیئرنگ کیئر کے مقصد کے لیے یہ ایک انتہائی اہم دن ہے، پروفیسر زیبا نے کہا کہ میں اس بات پر زوردیتی ہوں کہ یہ ہیئرنگ کیئر جو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کی جارہی ہے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بالکل درست ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان احتیاطی تدابیر کاآغازگھر سے ہوتاہے، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، ڈاکٹر زیبا کا کہنا تھا کہ سماعت متاثر ہونیکی بہت سی وجوہات ہیں جیسا کہ خسرے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی نقائص ہوجاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سانس کی اوپری نالی میں بھی انفیکشن سے سماعت متاثر ہوتی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ جلد کی دائمی بیماری کی وجہ سے بھی کان کا پردہ متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کرونک اوٹائٹس میڈیا نامی بیماری پیدا ہوتی ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثر ہ فرد پر سماعت متاثر ہونے کا وسیع پیمانے پر اثر پڑتا ہے، بشمول مواصلات، ادراک، سماجی سطح پر تنہا ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور ملازمت تک محدود رسائی جیسے سماجی اور معاشی مسائل شامل ہیں، بعدازاں سول اسپتال کے ای این ٹی وارڈ سے لے کر ڈاؤ میڈیکل کالج کے کلاک ٹاور تک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا،واک کے اختتام پر ڈاکٹر صبا سہیل کی قیادت میں ورلڈ ہیئرنگ ڈے کی تھیم کی مناسبت سے جامنی رنگ کے غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔
-

غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے، بچوں سمیت 200 فلسطینی شہید
غزہ (کنزیومرواچ نیوز)جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پٹی میں اسرائیل نے فضائی حملے کردیے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 200 فلسطینی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس کا کہناہے کہ غزہ میں سحری کے وقت اسرائیلی فوج نے 35 فضائی حملے کیے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سحری کے وقت دیرالبلاح، خان یونس اور رفاح سمیت غزہ کے مختلف حصوں پر بمباری کی گئی جس میں 150 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔غزہ سٹی میں التابعین اسکول پر حملہ کیا گیا اور المواسی میں پناہ گزینوں کے خیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔19 جنوری کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے یہ سب سے بڑے حملے کیے گئے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی سے بار بار انکار اور دی گئی تمام تجاویز کو مسترد کرنے کے بعداسرائیلی فوج کوغزہ میں حماس کےخلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔
-

پی ٹی آئی کا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے بغیر آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رات گئے پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ کرائی تو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت پرگفتگوکی گئی۔سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص کا کہنا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
-

70 سے 75 ہزار پرائیویٹ حجاج کا حج کوٹہ ضائع ہونےکا خدشہ
لاہور(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پرائیویٹ حجاج کو منیٰ اور عرفات میں ابھی تک جگہ الاٹ نہیں ہوسکی جس کے باعث 70 سے 75 ہزار پرائیویٹ حجاج کا حج کوٹہ ضائع ہونےکا خدشہ موجود ہے۔ایک بیان میں حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ 89 ہزار پرائیویٹ حجاج کیلئے منیٰ اور عرفات میں جگہ کی الاٹمنٹ کا مسئلہ پرائیویٹ حجاج آرگنائزیشن او روزارت مذہبی امور میں اختلاف کے باعث پیش آیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس اختلاف کے باعث سعودی حکومت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہوگئی تھی، اب وفاقی وزیر مذہبی امور نے مسئلہ جلد حل کرنے کیلئے سعودی حکام کو خط لکھ دیا ہے، معاملات طے نہ پائے تو ہزاروں پرائیویٹ افراد حج کے فریضے سے محروم رہ جائیں گے۔
-

62 سال کی عمر میں ٹی20 انٹرنیشنل ڈیبیو! کرکٹر کون ہے؟
فاکلینڈ(کنزیومرواچ نیوز)جزائر فاکلینڈ کے کرکٹر اینڈریو براؤنلی نے 62 سال کی عمر میں کوسٹا ریکا کے خلاف ٹی20 انٹرنیشنل ڈیبیو کرکے تاریخ ہی بدل ڈالی۔رپورٹس کے مطابق 10 مارچ 2025 کو کوسٹا ریکا کے دورے کے دوران جزائر فاکلینڈ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والی دنیا کی 106ویں ٹیم بنی۔جزائر فاکلینڈ ٹیم کے تمام 11 کھلاڑی 31 سال سے زائد عمر کے تھے،2 کھلاڑیوں کے علاوہ سب کی عمر 40 سال سے زیادہ تھی۔ ان میں3 کھلاڑی ایسے تھے جن کی عمر 56 سال سے زیادہ ہو چکی تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی اینڈریو براؤنلی جتنا عمر رسیدہ نہیں تھا۔62 سالہ براؤنلی 60 سال کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کے بعد ٹی20 انٹرنیشنل یا کوئی بھی بین الاقوامی کرکٹ میچ کھیلنے والے دنیا کے پہلے مرد کرکٹر بن گئے۔