Blog

  • واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

    واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

    واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ،واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطا ق شام 8 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا، اس وقت طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔رپورٹس کے مطابق بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ پوٹومیک دریا میں گرگیا، حادثے کے بعد دریائے پوٹومیک میں غوطہ خوروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔امریکی حکام کا بتانا ہےکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 64 مسافر سوار تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور اب تک 18 لاشوں کو دریا سے نکال لیا گیا ہے اور مزید کی تلاش جاری ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانےوالے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرتربیتی پرواز پر تھا۔حادثے کے بعد ریگن نیشنل ائیرپورٹ پرتمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فضائی حادثے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی حادثے سے متعلق پوری طرح سے آگاہ کیا گیا ہے، صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں، جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کی جائیں گی۔واشنگٹن ڈی سی فائر چیف کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کےلیے صورتحال موافق نہیں ہے، خراب موسم،شدید سردی ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ بن رہی ہے، امدادی آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہ سکتاہے۔ان کا بتانا ہے کہ حادثے میں بچ جانے والوں کے بار ے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔میئر واشنگٹن ڈی سی کا بتانا ہے کہ دریائے پوٹومیک کو بھی کشتی سروس کے لیے بند کردیاگیا ہے۔

  • فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، 6 خوارج ہلاک، مقابلے میں میجر اور سپاہی شہید

    فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، 6 خوارج ہلاک، مقابلے میں میجر اور سپاہی شہید

    سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی میں آپریشن 29 اور 30 جنوری کی شب خوارج کی موجودگی کی اطلاع کیا گیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانےکا پتہ لگایا اور 6 خوارج کو ہلاک کر دیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر سمیت دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے میجر اسرار اور سپاہی محمد نسیم نے جام شہادت نوش کیا، میجر اسرار آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔

  • وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا

    وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے جس کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے جب کہ وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جج ایڈووکیٹ جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا، سپریم کورٹ اس سماعت میں ہر کیس کا انفرادی حیثیت سے جائزہ نہیں لے سکتی۔انہوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے آرٹیکل 184 کی شق تین کا کیس عدالت کے سامنے نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ مجاز عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل چیلنج ہو سکتا ہے، اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامک قانون کے تحت رعایت ملتی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اقبال جرم تو مجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم وکیل کی حیثیت نہ رکھتا ہو کیا اسے سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے مؤقف اپنایا کہ وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا ملٹری کورٹ میں بھی ملزم کو فیورٹ چائلڈ سمجھا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رولز کے تحت ملزم کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میں نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ملٹری کورٹس کے فیصلے کیخلاف اپیلیں سنی ہیں، ایسا نہیں ہوتا محض ملٹری کورٹس کے فیصلے میں صرف ایک سادے کاغذ پر لکھ دیا جائے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، جب رٹ میں ہائی کورٹس میں اپیل آتی ہے تو جی ایچ کیو پورا ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے، آپ 9 مئی کے مقدمات سے ہٹ کر ماضی کے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ غیر ملکی جاسوسوں کے علاوہ اگر کسی عام شہری کا ملٹری ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتہ داروں کو رسائی دی جاتی ہے، وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قانون میں رشتہ داروں اور صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کے سبب رسائی نہیں دی جاتی۔جسٹس محمد علی مظہر سوال اٹھایا کہ اگر ٹرائل میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو کیا اپیل میں اس غلطی کی نشاندہی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ملتا ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دیا گیا ہے اور اس کی تمام پہلو دیکھے جاتے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا رٹ میں اتنا اختیار ہے کہ پروسیجر کو دیکھا جائے کہ اسے مکمل فالو کیا گیا یا نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ تمام پروسیجر فالو ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ رٹ میں کوئی ایسی اتھارٹی تو ہو جو پروسیجر کو دیکھ سکے اور اسکا جائزہ لے، زندگی کسی کی بھی ہو انتہائی اہم ہوتی ہے، جج پر بھی تو منحصر ہوتا ہے کہ وہ ٹرائل کیسے چلاتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپیل میں اپیل کنندہ کو کیا مکمل موقع دیا جاتا ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ رولز 63 میں ملٹری کورٹ کے پرائزئڈنگ آفسر کہ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، انصاف کے تقاضوں
    کو پورا کرنا اور شفاف ٹرائل کا موقع دینا اسکی ذمہ داری میں شامل ہے، حلف لینے کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ کے جو پرائزئینڈنگ افسر ہوتے ہیں، کیا وہ مکمل تجربہ کار ہوتے ہیں یا کسی کو بھی یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن ملٹری ایکٹ پر عبور رکھتے ہوں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی، تو کہا جاتا قتل تو ہوا ہے، پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والوں کو اسکی کوئی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، انہوں نے صرف حقائق دیکھنے ہوتے ہیں کہ یہ قصوروار ہے کہ نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آجکل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو دو لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ سوشل میڈیا کی تو بات نہ کریں وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بیٹھ کر اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ان کا کام ہے انکو کرنے دیں ہمیں انکی ضرورت نہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، میرا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے میں ملٹری ٹرائل پر اس کے اثرات کہ وجہ سے سوال کرتی ہوں، لیکن افسوس میرے ان سوالات کی وجہ سے مجھے سیاسی پارٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا, وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تووزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سفید کاغذی لفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بنچ میں پیش کردیا، ملٹری ٹرائل کی سات کاپیاں آئینی بنچ کے ساتوں ججز کو دی گئیں۔وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت ٹرائل کا طریقہ کار دیکھ لے، ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیے اپیل میں اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں، ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونگے دیں گے۔آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے بھی پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، خواجہ حارث نے آرٹیکل 14 کا حوالہ دیا اور کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ججمنٹ میں ایک پوائنٹ سے اختلاف کیا ہے۔جسٹسں مسرت ہلالی نے کہا کہ ایف آئی آر میں تمام سیکشنز پی پی سی کے نیچے آتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ایف آئی آر میں ان صاحب کا نام میٹر نہیں کرتا، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ وہ کہہ رہا یے کہ وہ چشم دید گواہ بھی نہیں ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ 9 ملزمان میں سے چار چشم دید گواہ ہیں، آپ اتنی تفصیل سے ملٹری کورٹس کی دستاویزات دیکھ رہی ہیں اور ایسے سوالات اٹھا رہی ہیں کل کو اپیل آپ کے پاس آنی ہیں، آپ کو کیس کے میرٹ سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہییں کہ یہ معاملہ ابھی آپ کے پاس اپیل میں آنا باقی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نہ مجھے کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے والے
    کون ہیں، اس لییپوچھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، میں بہت تفصیل میں نہیں گیا، 9 مئی واقعات میں بظاہر سیکیورٹی آف اسٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا، نو مئی واقعات کے ملزمان کا ملٹری ٹرائل بہت تفصیل سے چلایا گیا، کیا یہ ممکن نہیں یہ تمام ریکارڈ پبلک کر دیا جائے تاکہ پبلک ان ملزمان کی مذمت کر سکے، 9 مئی واقعات کے ملزمان نے جو کارنامے سرانجام دیے وہ عوام میں بے نقاب ہونے چاہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو اتھارٹیز نے طے کرنا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا آرٹیکل 175 کے تحت ملٹری کورٹس کے قیام کیلئے گنجائش رکھی گئی ، ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اگر عدالت اس طرف جائے گی تو اب تک ملٹری کورٹس کے قیام سے متعلق جتنے بھی فیصلے دیے گئے ان پر نظرثانی کرنا پڑے گی، آئین میں آئین و قانون کے تحت عدالتوں کے قیام کا زکر ہے، بہت سارے ممالک میں ملٹری کورٹس قائم ہوئیں۔جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ نارکوٹکس کا پورا کنٹرول فوج کے پاس ہے، نارکوٹکس میں جب کسی ملزم کا ٹرائل چلانا ہوتا ہے تو متعلقہ چیف جسٹس سے سیشن جج مانگا جاتا ہے، کیا یہاں بھی ملٹری کورٹس کیلئے ایسا کیا جاسکتا ہے۔خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ تمام عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹس کو آرٹیکل 175 سے الگ رکھا گیا ہے، آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔سربراہ آئینی بنچ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ خواجہ صاحب کل تک دلائل مکمل کر لیں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ میں کل گیارہ بجے تک دلائل مکمل کر لوں گا۔ دوران سماعت آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور لطیف کھوسہ میں اہم مکالمہ ہوا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کل ہماری بھی باری آئے گی، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو بیٹھے بیٹھے ہی آدھے کیس کے دلائل دیدیے، شہدا فاؤنڈیشن اور حکومت بلوچستان کے وکلائ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل اپنا لیے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں درج سزاؤں پر سول کورٹ میں ٹرائل چل سکتا ہے، کیا آپکو سول کورٹس پر اعتماد نہیں، یہ کیسز سول کورٹس میں کیوں نہیں لیکر گئے۔

  • نو جوانوں کی امیدوں کا محور وزیر اعظم یوتھ پروگرام

    نو جوانوں کی امیدوں کا محور وزیر اعظم یوتھ پروگرام

    رانا مشہود احمد خان کا تعلق ایک معزز گھرانے سے ہے جس میں سیاسی اور قانونی شعور موجودہے۔ ان کے مرحوم والد رانا عبدالرحیم معروف قانون دان تھے اور انہیں ان کی قومی خدمات پر پاکستان موومنٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا تھا۔ وکیل بننے کے بعد رانا مشہود احمد خان کو سیاست میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی، رانا مشہود نے 2000 میں مسلم لیگ ن لائرز فورم پنجاب کے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 2001 میں وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کم عمر ترین جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 2002 میں وہ پی پی 149 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہے۔ اسی سال متحدہ اپوزیشن کی حمایت سے انہوں نے پنجاب اسمبلی کے ا سپیکر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑا اور لاہور کے میئر کے لیے 2005 کے الیکشن میں جمہوریت نواز جماعتوں کی نمائندگی کی۔ 2008 میں وہ دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی ا سپیکر کی ذمہ داری سنبھالی۔ 2013 میں، انہوں نے اسی حلقے سے ایک بار پھر عوام کا اعتماد حاصل کیا اور صوبائی وزیر برائے تعلیم، اعلیٰ تعلیم، یوتھ، کھیل، سیاحت اور آثار قدیمہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں انقلابی اصلاحات کے جامع پروگرام جیسے، انٹرن شپ، ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، اور دیگر تعلیمی منصوبوں پر عمل درآمد کیا۔ انہوں نے 2012، 2013 اور 2014 میں عظیم الشان یوتھ فیسٹیولز کا انعقاد کیا، جس میں صوبے بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا، انھوں نے کھیلوں کے میدانوں کو زندہ اور آباد کیا اور متعدد عالمی ریکارڈز قائم کیے۔ 2018 میں عوام نے انہیں پی پی 152 سے ایک بار پھر منتخب کر کے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے رانا مشہود احمد خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

    رانا مشہود احمد خان پرائم منسٹریوتھ پروگرام کے چیئرمین ہیں جو وزیراعظم کے وژن کے مطابق پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں اسی حوالے سے پرائم منسٹرہاوس میں یوتھ چیمبر آف کامرس کے بانی صدر شیخ راشد عالم کی قیادت میں وفد کی چیئرمین پرائم منسٹریوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات، پروگرام پر تبادلہء خیال، پرائم منسٹریوتھ پروگرام میںیوتھ چیمبر آف کامرس کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی، پرائم منسٹریوتھ پروگرام کیا ہے اور نوجوان اس سے کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں، اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں،پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں بااختیار بنانے کی ایک طاقتور لہر پھیل رہی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی خواب ادھورا نہ رہ جائے۔ ہمارے روشن اور پرجوش نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، یہ پروگرام ایک خوشحال اور اختراعی پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ہمارے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے،پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے ہاتھ مضبوط کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ 2023 میں 10ویں سالگرہ منانے کے ساتھ ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کے ذہنوں کو تقویت دینے کے لیے اپنے عزم کی ایک بار پھر تجدیدکی جس میں ان کی حقیقی صلاحیت کا ادراک کرنے میں ان کی مدد کرنا شامل ہے ہمارا وژن معیاری تعلیم، مہذب روزگار، بامعنی مشغولیت فراہم کرنا اور مربوط، متحرک اور پائیدار اقدامات کرنا ہے۔
    ہمارا وژن
    ہمارا وژن پاکستان کے نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، معقول روزگار، اور بامعنی مصروفیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ہم ماحول کے لیے گہرا احترام پیدا کرنے اور نوجوانوں کو ان مہارتوں اور اعتماد کے ساتھ بااختیار بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،ہمارا مقصد نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی اور معاشی استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
    ہمارا مشن
    پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے ہمارا مشن نوجوانوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنا ہے، انہیں ہنر مند، پراعتماد، وسائل سے بھرپور اور خود انحصار بنانا ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہم انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ترقی اور معاشی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اپنے اقدامات کے ذریعے، ہمارا مقصد نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے انہیں کامیابی حاصل ہو۔
    بڑھیں سیکھیں اور ملازمت حاصل کریں۔
    پرائم منسٹرز یوتھ پروگرام نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو وسیع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری ہماری قوم کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پی ایم اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام اور یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے ساتھ، ہمارا مقصد اپنے نوجوانوں کو روشن کل کے لیے تعلیم دینا ہے۔
    تعلیم میں ہمارے اثرات
    پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اور تبدیلی کے مواقع سے آراستہ کرکے تعلیم میں انقلاب برپا کیا، تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی ایک نسل کو روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے تیار کیا ہے،اس موقع پر600,000 لیپ ٹاپ ،216,151، اسکالرشپس،100,000سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے
    ہمارے ساتھ اپنے افق کو وسیع کریں!
    ہمارا ماننا ہے کہ معاشرے کا نتیجہ خیز رکن بننے کے لیے، ہمارے ملک کے ہر نوجوان شہری کو کام اور پڑھائی سے ہٹ کر صحت مند سرگرمیوں اور مصروفیات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ہمارے اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور بے شمار تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ، PMYP یقینی بناتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ایک مضبوط اور پراعتماد نوجوان بنانے کے لیے صحت مند جسمانی سرگرمیوں تک رسائی حاصل ہو!
    نیشنل یوتھ کونسل
    نیشنل یوتھ کونسل ملک کی پالیسی سازی میں نوجوانوں کو شامل کرتی ہے اور انہیں نوجوانوں سے جڑے اہم مسائل کو اجاگر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ کونسل ملک کے چند باصلاحیت اور سرشار نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے اپنی کمیونٹیز کو تبدیل کیا ہے، اپنے کام کے لیے قومی اور بین الاقوامی پہچان حاصل کی اور جو اپنی قوم کو بہتر بنانے کے لیے وقف ہیں۔
    قومی رضاکار کور
    وزیراعظم کی قومی رضاکار کور وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چھتری کے تحت کرنا وزیراعظم کا اقدام ہے جس کا مقصد ملک بھر میں رضاکاروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور انہیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا، غیر رسمی تعلیم کو فروغ دینا، رہائش میں اضافہ اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انٹرپرینیورشپ کی بنیادی تربیت کے ذریعے۔
    پروجیکٹ میں تربیت کے چار موضوعاتی شعبے ہیں۔
    1: تباہی کے خطرے میں کمی
    2: موسمیاتی لچک
    3: سیکھنے کے متبادل راستے
    4: اقتصادی شمولیت (بنیادی کاروباری)
    سبز انقلاب کا عزم!
    PMYP ہماری قوم کے متحرک نوجوانوں میں ماحولیاتی بیداری اور پائیداری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے نوجوان آنے والی نسلوں کے لیے ہمارے ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنے ماحولیاتی اقدامات کے ذریعے، ہم نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ، فضلہ کے انتظام، اور پائیدار طریقوں میں تعلیم دینے اور ان میں مشغول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    گرین یوتھ موومنٹ
    گرین یوتھ موومنٹ (GYM) یونیورسٹی کے طلباء کو پائیدار ترقی، ماحول کی اختراع اور ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شامل کرتی ہے تاکہ ہمارے ماحول کے تحفظ کے لیے نوجوان کارکنوں کی عمدہ ٹیم تشکیل دی جاسکے۔ملک بھر میں 137 سے زیادہ یونیورسٹیوں میں GYM کلبوں کے ساتھ، ہم اپنے نوجوانوں کو کرہ ارض کے ذمہ دار بننے اور ایک سرسبز، زیادہ پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے بااختیار بنانے کی امید کرتے ہیں۔

    باکس
    وزیر اعظم کا ڈیجیٹل یوتھ ہب!
    ڈیجیٹل یوتھ ہب تعلیم، روزگار، مشغولیت اور ماحولیات میں متنوع مواقع کے لیے نوجوانوں کی “ون اسٹاپ شاپ” ہے۔ حکومت نوجوانوں کے اندر موجود ناقابل یقین صلاحیت کو بااختیار بنانے اور ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو دریافت کریں، اور اپنے خوابوں کو بلند ہونے دیں۔ آپ کی توانائی، خیالات اور جوش قوم کی ترقی کی اہم ضرورت ہے۔ اس اقدام کے ذریعے، ہم آپ کے سفر میں آپ کی رہنمائی اور مدد کریں گے۔ اسکالرشپ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے سے لے کر نوکری کی تلاش اور رضاکارانہ طور پر۔ صحت اور بہبود کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں میں مشغول ہونا اور ماحولیاتی اختراع کو فروغ دینا وہ اہم پہلو ہیں جن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔
    ہم مل کر ایک روشن، مضبوط اور زیادہ متحرک پاکستان بنائیں گے۔

  • پی آئی اے کا اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ

    پی آئی اے کا اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ

    قومی ایئر لائن نے اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق 20 جنوری سے سیالکوٹ سے بحرین ہفتے میں دوطرفہ پرواز آپریٹ ہو گی جب کہ لاہور سے کویت 25جنوری سے ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ ہو گی۔پی آئی اے لاہور سے دمام ہفتہ وار 2 پروازیں 22 جنوری سے آپریٹ کرے گی۔ 20 جنوری سے فیصل آباد اور جدہ کیدرمیان ایک پرواز ہفتہ وار آپریٹ ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ 25 جنوری سے پی آئی اے پشاور کراچی ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ کریگی جب کہ پی آئی اے 21جنوری سے سیالکوٹ سے دوحہ ہفتہ وار پروازی آپریٹ کرے گی۔پی آئی اے ان پروازوں بوئنگ 777 ایئر بس 320طیارے استعمال کریگی۔پی آئی اے کا ایک اور لانگ گرانڈڈ ایٹی آر طیارہ آپریشنل ڈیوٹی میں شامل ہو گیا۔سی ای اوکے مطابق طیارے کی آپریشنل ڈیوٹی میں شمولیت سے پی آئی اے کی گلگت، سکھر، تربت اور گوادر کی پروازوں کو تقویت ملے گی۔ترجمان کے مطابق پی آئی اے اپنے آپریشنل طیاروں میں اضافہ کرے گی کیونکہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پی آئی اے پر پابندی ختم ہوچکی ہے۔پی آئی اے نیٹ ورک کو یورپ اور برطانیہ تک بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بوئنگ 777 کے آپریشنل بیڑے کی تعداد 8 ہو جائے گی۔ترجمان نے بتایا کہ ایئربس اے 320 طیاروں کی تعداد 12 تک پہنچنے کی توقع ہے جب کہ پی آئی اے کے منصوبے کے تحت اے ٹی آر طیاروں کی تعداد 2ہو جائے گی۔ یہ فلیٹ اپ گریڈ 2025 کیلئے پی آئی اے کے جارحانہ آپریٹنگ پلان کے مطابق ہیں۔ترجمان کے مطابق قومی ایئر لائن اپنے نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے نئے فضائی روٹس سے بیرون ملک مقیم تارکین کو کم خرچ سفری سہولت دستیاب ہوگی، پی آئی اے کی بروقت روانگی کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر رہی ہے جوملک زیادہ ہے۔

  • دھابیجی اکنامک زون مئی تک مکمل کر لیا جائے گا، خلیل ہاشمی

    دھابیجی اکنامک زون مئی تک مکمل کر لیا جائے گا، خلیل ہاشمی

    چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون رواں سال مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ دوست ملک کی جانب سے ملک بھر کے اسپیشل اکنامک زونز میں نئی جان ڈالی جا رہی ہے، ان کی افادیت کے بارے میں خدشات کو موثر طریقے سے دور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ رشکئی اسپیشل اکنامک زون کے حوالے سے بھی نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جبکہ دھابیجی پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی تکمیل مئی 2025 تک متوقع ہے۔ جہاں گیس کی فراہمی کو محفوظ بنادیا گیا اور ایک خود مختار بجلی کا نظام تیز رفتاری سے تیار کیا جا رہا ہے۔وزارت منصوبہ بندی کے مطابق سندھ میں دھابیجی کا اسپیشل اکنامک زون سندھ میں 1،530 ایکڑ اراضی پر تیار کیا جا رہا ہے اور اسے دو مرحلوں میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے جس میں فیز I کے لیے 750 ایکڑ جبکہ فیز II کے لیے 780 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اس علاقے کو پورٹ قاسم تک آسانی سے رسائی حاصل ہے، جس سے خام مال کی درآمد اور تیار شدہ سامان کی برآمد کے لیے اندرون ملک نقل و حمل کے بڑے اخراجات اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ 12 بڑی چینی کمپنیوں کے وفد کے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ چینی تجارتی وفد نے دھابیجی اکنامک زون میں ایک بلین ڈالرز کا میڈیکل سٹی قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔چین کے پاک چین اقتصادی راہداری کی رفتار پر تحفظات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک خیال ہوسکتا ہے لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ چین نے ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 26 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے گرڈ میں 8,800 میگاواٹ بجلی شامل کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سی پیک کے عمل میں سست روی کا تاثر درست نہیں ہے۔خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستانی حکام چینی سرمایہ کاروں اور شہریوں کو بہترسیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور اس ضمن میں اقدامات کئے جارہے ہیں، کیونکہ چین پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے کوشاں ہے، تاہم یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے دوسرے ملک میں اپنی سیکیورٹی فورسز کو بھیجے۔انہوں نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی بھاشا اور بونجی کے قریب تعمیر نو کی جائے گی، چین کے لیے 1700 سے 1800 ایکڑ اراضی پر کام ہو چکا ہے،اکنامک زونز کی ترقی میں سست روی کی بڑی وجہ زمین کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ ماڈل ہے۔پاکستانی سفیر نے برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 21 شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں چین کے ساتھ تجارت بڑھائی جاسکتی ہے۔

  • آئندہ 2 سال کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے

    آئندہ 2 سال کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے

    حکومت پاکستان کی الیکٹریکل وہیکل پالیسی 2025 تا 2030 کے تحت ملک میں آئندہ 2 سال کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق چارجنگ اسٹیشنز کے لیے ملک کی 2 نجی کمپنیوں ملک انٹرپرائزز اور انڈس ویلی نے حکومت پاکستان کے اشتراک سے چین کی کمپنی ایڈم گروپس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔پاکستانی کمپنی ملک انٹرپرائزز کے مالک ملک خدا بخش نے بتایا کہ آنے والے 2 سال پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے انقلابی ثابت ہوں گے۔
    تاہم آٹو موبائل انڈسٹری سے منسلک افراد یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی منصوبہ بندی یا اعلانات پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی وجہ نہیں بن سکتے، اس ضمن میں حکومت کو ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انرجی وہیکل پالیسی کے تحت سال 2030 تک ملک میں مجموعی طور پر 30 فیصد تک الیکٹرک گاڑیاں استعمال میں لائی جائیں گی۔ملک خدا بخش نے بتایا کہ دو پاکستانی کمپنیاں حکومت پاکستان کے اشتراک سے چینی کمپنی کے ساتھ مل کر اگلے 2 برسوں میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگائیں گی اور اگلے 2 ہفتوں میں چارجنگ اسٹیشنز لگنا شروع ہو جائیں گے۔ملک خدا بخش نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے محض 11 سے 13 چارجنگ اسٹیشنز ہیں، ہم حکومتِ پاکستان اور چینی کمپنی کی مدد سے جنوری کے آغاز سے ہی چارجنگ اسٹیشنز لگانا شروع کر دیں گے جن کی تعداد کو 3 ہزار تک بڑھایا جائے گا، تاہم ابتدا کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل ا?باد، ملتان جیسے بڑے شہروں سے ہوگی، یہ سلسلہ اسلام آباد سے کراچی موٹر وے تک پھیلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 2 سال میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں، کشمیر اور گلگت بلتستان تک الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز قائم کر دیے جائیں گے۔اسی مناسبت سے حکومت کی جانب سے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ چارجنگ اسٹیشنز لگائے جانے کی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے۔پاکستان میں لگائے جانے والے چارجنگ اسٹیشنز بجلی کے ساتھ ساتھ سولر پر بھی چل سکیں گے، یہ چارجنگ اسٹیشنز دن میں سولر اور پھر رات میں بجلی پر چلیں گے۔
    آٹو موبائل انڈسٹری کے ماہر سنیل منج کے خیال میں اس وقت تک پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کوئی بڑا نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں مستقل قریب میں بھی کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مجموعی تعداد ہی 2 ہزار کے لگ بھگ ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک درجن سے بھی کم چارجنگ اسٹیشنز قائم ہیں، اس صورتحال میں پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے منسلک کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے خدشات موجود رہیں گے۔سنیل منج نے کہا کہ حکومت کو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اگر کوئی انقلابی تبدیلی آ بھی سکتی ہے تو وہ موٹر سائیکلوں یا رکشوں کے حوالے سے آسکتی ہے اور فور ویلر گاڑیوں کے استعمال میں بڑے اضافے کے فی الحال امکانات نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں بھی راتوں رات بڑا اضافہ نہیں ہو سکتا، اس لیے حکومت کو ایک جامع منصوبے کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔آٹو موبائل انڈسٹری کے ایک اور ماہر سید علی رضا نے اپنا تبصرہ کرنے سے قبل سوال اٹھایا کہ کیا ان چارجنگ اسٹیشنز کا حال بھی کچھ عرصہ بعد سی این جی اسٹیشنز جیسا نہیں ہو جائے گا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنے والی مختلف حکومتیں الیکٹریکل وہیکلزکے استعمال میں اضافے کے اعلانات کرتی رہی ہیں مگر ہوم ورک نہ ہونے کی وجہ سے اْنہیں کامیابی نہیں مل سکی، اسی طرح جب پاکستان میں سی این جی اسٹیشنز لگائے گئے تو اْن کے حوالے سے بھی کوئی پائیدار حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی تھی جس کے باعث آج سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہیں۔اْنہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کرے اور پھر ایسی پالیسیوں پر کام شروع کرے تاکہ کامیابی کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہوں۔

  • الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی 45 فیصد سستی کرنے کا اعلان

    الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی 45 فیصد سستی کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی عوام تک رسائی کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں، ای وی اسٹیشنز کا بجلی کا ٹیرف 45 فیصد کم کردیا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ سال 2023 کے 5 ماہ جولائی سے نومبر کے مقابلے سال 2024 میں گردشی قرضے میں کمی آئی، اس عرصے کے دوران ہماری کارکردگی بہتر رہی، تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے سال 2023 کے ان مہینوں کے دوران 223 ارب کا نقصان کیا جو سال 2024 کے مذکورہ مہینوں میں 170 ارب سے بڑھنے نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں وزیراعظم نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام انڈسٹریل زونز کو مساوی بنیادوں پر بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، تمام صنعتی اور اقتصادی زونز سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے۔اویس لغاری کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوگوں تک رسائی کے لیے ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں، گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف 45 فیصد کم کردیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف 71 روپے 10 پیسے کم کرکے 39 روپے 70 پیسے کر رہے ہیں، چارجنگ اسٹینشز کا این او سی 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا، ہر محلے میں چارجنگ اسٹیشن ہوگا، ای پورٹل کے ذریعے اس حوالے سے اجازت دی جائے گی، 18 سے 20 لاکھ روپے اور ڈیڑھ کروڑ تک سرمایہ لگا کر اس کاروبار کو شروع کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اسے بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، اچھے ماحول کی طرف مثبت اقدام ہے، موٹرسائیکل، رکشوں، 800 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں کے متبادل کے طور پر یہ اقدام عوام کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں بڑی حد تک کمی لائی ہے، آئی پی پیز سے لے کر ڈسکوز کی نجکاری تک ہم نے حکومت نے آنے کے بعد ہر مرحلے پر خود کو ثابت کیا ہے، خصوصی سہولت سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کا سازگار ماحول فراہم کرنے میں بہت بڑا کردار رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند ماہ میں پاکستان خطے میں سستے ترین بجلی فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا۔

  • الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے،وزیراعظم

    الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی، وزارت توانائی نے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کا ٹیرف 70 روپے سے کم کرکے 40 روپے کر دیا، منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔

    اسلام آباد میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے، روایتی ایندھن کی گاڑیوں کے بجائے ماحول دوست توانائی کی حامل الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر آلودگی میں کمی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحول دوست منصوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، باکو میں کوپ 29 کے انعقاد کے دورانبھی دنیا کو درپیش کلائمیٹ چینج کے معاملے پر غور کیا گیا اور کئی اقدامات تجویز کیے گئے۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ وزارت توانائی الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے، الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دیا جائے گا تو پاکستان کے خزانے پر درآمدی ایندھن کی وجہ سے پڑنے والا زرمبادلہ کا دباؤ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے الیکٹرک وہیکلز کے کلچر کو فروغ دینا مشکل تھا، تاہم وزارت توانائی نے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے قیمتوں میں 45 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر توانائی اویس لغاری اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انتھک محنت کرکے یہ کارنامہ سر انجام دیا، اس سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملے گا اور وہ اس شعبے میں پیسہ لگائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے تشہیری مہم کا آغاز کیا جائے، یہ بہت اچھا اقدام ہے اور اس سے ماحول میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔

  • چین میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل کے بغیر زندگی کاتجربہ

    چین میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل کے بغیر زندگی کاتجربہ


    چین میں قیام کا دوسرا سورج طلوع ہوچکا تھا۔ بارش مسلسل برس رہی تھی، جیسے آسمان اپنے راز زمین پر کھول رہا ہو۔ کل مسٹر چاؤ نے کہا تھا کہ یہاں چھتری کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، اور آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی۔ بارش کے نرم قطرے میرے وجود کو بھگو رہے تھے، اور میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہ سرزمین اپنے مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا یہی طریقہ رکھتی ہے۔
    لیکن خوش آمدید کہنے کے اس انداز میں ایک چیلنج بھی تھا۔ ہمیں حلال کھانے کی تلاش تھی، جو کسی بھی اجنبی ملک میں ایک مسلمان کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ میرے ہسبینڈ کے ایک کولیگ نے بتایا کہ یہاں ایک حلال ریستوران ہے جس کا نام ’’ ابو دو‘‘ ہے اور یہ خبر ہمارے لیے نعمت سے کم نہیں تھی۔ بارش میں بھیگتے ہوئے، ہم اس ریستوران کی سمت روانہ ہوئے، دل میں ایک عجیب سی خوشی اور بے چینی لیے کہ شاید ان کے کھانے کا ذائقہ پاکستان کی یادوں کو زندہ کر دے۔
    راستے میں وینزو کی گلیاں ہمارے قدموں کے نیچے جیسے زندہ تھیں۔چمکتی سڑکیں ،آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہر منظر، اور ہر اجنبی چہرہ اپنے اندر کئی کہانیاں چھپائے ہوئے تھا۔ بارش کے ساتھ ان گلیوں کی خاموشی اور گہرائی کچھ ایسی تھی کہ گویا وقت رک سا گیا ہو۔ اور ہم اجنبی مسافر کی طرح ان کہانیوں کا حصہ بننے جا رہے ہوں
    یہ سفر صرف حلال کھانے کی تلاش کا نہیں تھا۔ یہ اپنے آپ کو ایک نئی دنیا میں ڈھالنے کا، اجنبیوں میں اپنے لیے جگہ بنانے کا، اور ان تجربات کو اپنے دل میں محفوظ کرنے کا تھا جو زندگی کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔
    گو کہ ‘چین ‘ ، کا ہر منظر ایک داستان سناتا ہے اور ہر گلی ایک خواب دکھاتی ہے، یہاں سب سے بڑا چیلنج زبان کا تھا۔ میں نی ہاؤ اور ششی کے درمیان ایسی گم تھی جیسے باقی دنیا کسی اور سیارے پر جا بسی ہو۔ یہاں نہ گوگل چلتا ہے ,نہ یوٹیوب، نہ فیس بک اور نہ انسٹاگرام۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی قدیم بادشاہ کے قلعے میں قید کر دیے گئے ہوں جہاں باہر کی دنیا سے رابطہ صرف ایک خفیہ پیغام رساں کبوتر کے ذریعے ممکن ہو۔
    یہاں ’’وی چیٹ‘‘ تھا، جو ہر مقامی شخص کے لیے زندگی کا دوسرا نام تھا۔ اور ’’علی پے‘‘ تو جیسے ان کی رگوں میں دوڑتا خون تھا، بغیر اس کے نہ کھانے کو کچھ ملتا ہے اور نہ رہنے کی جگہ، میں اپنے پرس میں موجود کیش کو حسرت سے دیکھ رہی تھی ، جو زمانہ قدیم کے سکوں کی طرح بیکار ہو چکا تھا۔
    یہاں زبان کا مسئلہ ایسا ہے کہ آپ اگر ’’واش روم‘‘ کا پوچھیں، تو لوگ آپ کو ’’گرین ٹی‘‘ کی طرف لے جائیں۔ اور اگر کھانے کے لیے ’’چکن‘‘ طلب کریں، تو آپ کے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ کچن لے آئے۔ ہر بات کو سمجھانے کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ کو استعمال کیاجاتا ، جو اکثر خود بھی بے بس ہو کر کوئی ایسا ترجمہ کرتا کہ ہم سوچتے، شاید یہ چینی زبان کا کوئی شاعرانہ پہلو ہے۔اور یہ شاعرانہ انداز بغیر وی پی این کے مکمل نہیں ہوسکتا…
    یہاں کیش کے سارے معاملات ’’علی پے‘‘ ایپ کے ذریعے حل ہوتے ہیں ، ایک موبائل ایپ جس کے بغیر آپ ایک گلاس پانی بھی نہیں خرید سکتے۔ کوئی پھل لینا ہو، ٹیکسی کرنی ہو یا کافی کا کپ پینا ہو، ہر جگہ موبائل فون کا بارکوڈ اسکین ہوتا ہے، اور رقم “چْپ چاپ” ڈیجیٹل دنیا میں غائب ہو جاتی ہے۔
    میں نے سوچا اب ہم بھی ایپ کی دنیا کے مسافر بن جاتے ہیں “، لیکن پھر اگلا دھچکا وی چیٹ نے دیا۔ یہاں کی دنیا وی چیٹ پر گھومتی ہے، بات چیت ہو، بل ادا کرنا ہو یا راستہ پوچھنا ہو، سب کچھ وی چیٹ سے ہوتا ہے۔ جسے ایکٹیویٹ کرنے کے لیے پہلے چائنیز سم خریدنی ہوتی ہے …
    چین میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ زبان کا مسئلہ ہے ۔
    یہاں بات چیت کا سادہ طریقہ ترجمہ ہے، گویا آپ کسی غیر ملکی ملک میں نہیں، بلکہ ایک عالمی زبانوں کے میلے میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف آپ کی موبائل ایپ میں ٹرانسلیٹر کھلا ہوتا ہے اور دوسری طرف آپ کے سامنے چینی زبان کا ایک سمندر، جو سمجھ نہیں آتا مگر اس میں غوطے لگانے پڑتے ہیں۔
    چین میں قدم رکھتے ہی جو سب سے پہلا لفظ آپ سیکھتے ہیں وہ ’’نی ہاؤ‘‘ ہوتا ہے، جو کہ ’’ہیلو‘‘ کے مترادف ہے، اور پھر ’’ششی‘‘ آ جاتا ہے، جو ’’شکریہ‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دو الفاظ ہی چین میں آپ کے تمام تر سماجی تعلقات کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ باقی کی باتیں گوگل ترجمہ یا ہاتھوں کے اشاروں پر منحصر ہوتی ہیں۔
    ز بان کے مسائلستان سے تو خیر نکل نہیں سکتے مگر سب سے زیادہ دل تب ٹوٹا جب معلوم ہوا کہ یہاں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل سب بند ہیں۔ یہ تو ایسا ہی تھا جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں ڈال دیا جائے اور کہا جائے، “اب گنگناؤ!” فارنرز کے لیے یہ سب کسی امتحان سے کم نہیں۔ لیکن چین کی یہ دنیا، اپنی تمام تر عجیب و غریب پابندیوں اور اصولوں کے ساتھ، اتنی مختلف اور منفرد ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ جیسے کسی پرانی کتاب کا صفحہ پلٹ رہا ہو، جہاں ہر چیز آپ کے فہم سے بالاتر ہو، لیکن پھر بھی دلکش۔
    خیر، بات ہو رہی تھی حلال ریستوران تک پہنچنے کی، ہماری چینی لغت ابھی دو الفاظ سے زیادہ نہیں تھی اور گوگل پر پابندی نقشوں اور ترجموں سے محروم کر رہی تھی. …
    بحرحال ٹیکسی کی مدد سے ہم اس مشہور مسلم ریستوران تک پہنچ ہی گئے۔ یہ جگہ نہ صرف وینزو بلکہ پورے چین میں اپنی خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہاں کے باربی کیو، نان، چائنیز نوڈلز کا ذکر ہر مسافر کی زبان پر ہوتا ہے جو حلال کھانے کی تلاش میں ہوتا ہے۔
    ریستوران میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ ماحول نہایت دلکش تھا، اور ترکی انداز کی ڈیکوریشن نے ایک الگ ہی رنگ جما رکھا تھا۔ دیواروں پر خطاطی کے نمونے اور چھت سے لٹکتے خوبصورت فانوس دل کو بھلے لگ رہے تھے۔ فانوسوں کی روشنی مدھم مگر پرکشش تھی، اور ترکی طرز کی آرائش نے ایک ایسا احساس دیا جیسے ہم کسی قدیم شاہی محل میں قدم رکھ چکے ہوں۔ میزوں پر صاف ستھری
    ترتیب کے ساتھ پانی کے جگ رکھے تھے، جن میں لیموں کے چند سلائسز تیر رہے تھے۔ یہ ایک ایسی روایت تھی جو دل کو خوش کر دیتی ہے کہ پانی خریدنا نہیں پڑتا۔ چین کے تقریباً ہر ریستوران میں یہی معمول ہے کہ پانی کا جگ اور ساتھ میں گرین ٹی مفت پیش کی جاتی ہے۔ گرین ٹی کا ذائقہ گلاب کی پتیوں جیسا تازگی بھرا تھا، اور یہ پیشکش کسی بھی ریستوران یا حتیٰ کہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی انتہائی کم قیمت یا بلا معاوضہ ملتی ہے۔
    یہاں کی گرین ٹی اور پانی صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسی روایت کی عکاسی کرتے تھے جو چینی مہمان نوازی کی بنیاد ہے۔ جیسے ہی ہم نے باربی کیو اور نوڈلز کا آرڈر دیا، کچن سے آتی خوشبو نے بھوک کو اور بڑھا دیا۔ اس ریستوران کا ماحول ایسا تھا جیسے آپ کسی اجنبی جگہ پر نہیں بلکہ اپنے کسی قریبی دوست کے گھر بیٹھے ہوں۔
    کھانے کی پلیٹیں جب میز پر آئیں تو وہ ذائقے اور خوشبو کے لحاظ سے ہماری توقعات سے بڑھ کر تھیں۔ باربی کیو کے مسالے اور نوڈلز کا ذائقہ منفرد اور مزیدار تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم اپنے وطن کے کسی ریستوران کے ذائقے چکھ رہے ہوں۔
    لیکن کہانی میں ایک نیا موڑ آیا جب ہمیں چوپ اسٹکس کے ساتھ کھانے کا سامنا ہوا۔ یہ باریک لکڑی کی چھڑیاں ہمارے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھیں۔ ہر نوالہ لینے کی کوشش کے ساتھ ہی کھانے کا ٹکڑا فرار ہونے کی کوشش کرتا۔ چند منٹوں کی جدوجہد کے بعد، ہم نے ہتھیار ڈال دیے اور آخرکار ویٹر کو ریکویسٹ کی کہ بھائی، ہمیں چمچ اور کانٹے لا دیں، ورنہ آج کھانے کے بغیر ہی لوٹنا پڑے گا۔
    ویٹر مسکراتے ہوئے چمچ اور کانٹے لے آیا، یوں لگتا تھا جیسے ہم نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔ چمچ ہاتھ میں آتے ہی کھانے کا لطف دوگنا ہو گیا۔ نوڈلز اور باربی کیو کے ذائقے نے ہمیں مکمل طور پر مسحور کر دیا۔
    یہاں کھانے کے دوران یہ احساس شدت سے ہوا کہ مسلم ریستوران نہ صرف کھانے کے ذائقے کے لیے مشہور ہیں بلکہ ان کی گرم جوشی اور مہمان نوازی بھی انہیں خاص بناتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں زبان اور کلچر کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں، اور صرف کھانے کا مزہ اور مہمان نوازی باقی رہ گئی۔
    ریستوران سے باہر نکلتے ہی بارش نے ہمیں ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چھتری تانے ہم وینزو کی صاف ستھری، چمکتی ہوئی سڑکوں پر چلنے لگے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کی بارشیں بھی اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں صرف زمین کو نہیں دھوتیں بلکہ ہر چیز کو تازگی کا ایک نیا رنگ دیتی ہیں۔ بازاروں کی ترتیب، دکانوں کی چمک، اور سڑکوں کی صفائی نے ہمیں حیران کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنا بے عیب اور منظم تھا کہ جیسے کسی خوبصورت خواب کا حصہ ہو۔
    لیکن یہ سوال ہمارے ذہن میں بار بار آ رہا تھا ” کیا یہ صفائی اور خوبصورتی مہنگائی کی قیمت پر آتی ہے؟ ” کیا چین میں زندگی جتنی دلکش نظر آتی ہے، اتنی ہی مہنگی بھی ہے؟
    یہ سوالات ہمیں گلیوں اور بازاروں کی کھوج کی طرف لے جا رہے تھے۔ کیا چین کی صفائی، نظام، اور ترقی کی قیمت یہاں کے لوگوں کے لیے بوجھ ہے، یا یہ سب کچھ ایک مثالی توازن کا نتیجہ ہے؟ اگلی قسط میں ہم چین کے بازاروں کی روشنیوں اور ان کی حقیقتوں کو کھوجیں گے،
    اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا یہ دلکش منظر مہنگائی کے پردے میں چھپا ہوا ہے یا واقعی حقیقی خوشحالی کا عکس ہے۔
    تو انتظار کیجیے، کیونکہ یہ کہانی ابھی باقی ہے۔