کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے تجارتی وفد نے 12 سال بعد ایف پی سی سی آئی کے صدر کی زیرقیادت بنگلہ دیش کا دورہ کیا جہاں دوطرفہ اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ایف پی سی سی آئی سے جاری بیان کے مطابق صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کی زیر قیادت پاکستانی تجارتی وفد نے بنگلہ دیش کے وزیر تجارت شیخ بشیرالدین سے ملاقات کی اور پاکستانی وفد نے دونوں برادر ممالک کے مابین اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، آزمائش کے ہر موقع پر بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوں گے، بنگلہ دیشی وزیر تجارت نے پاکستان سے تجارتی تعلقات کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔سینیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستانی بزنس کمیونٹی کو لانگ ٹرم ویزے دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کر دی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر تجارت شیخ بشیرالدین نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر اقتصادی، معاشی، سرمایہ کاری، انڈسٹریل، کاروباری اور تجارتی مواقع تلاش کریں گے۔پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، پاکستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اجلاس میں بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنرسید احمد معروف نے خصوصی شرکت کی۔
Blog
-

اسٹیل ملز کی بندش کا زرمبادلہ ذخائر اور توازن تجارت پر منفی اثر
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان اسٹیل مل کی بحالی وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان بات چیت کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے، یہ 2015 سے غیرفعال ہے، پاکستان اسٹیل مل کی بندش کا صنعتی شعبے پر منفی اثر پڑا ہے اور درآمدات پر انحصار بڑھتا جارہا ہے، جس کی لاگت اربوں ڈالر سالانہ ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور تجارتی خسارے پر منفی اثر ڈال رہا ہے. وفاقی حکومت اسٹیل مل کی نجکاری کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ سندھ حکومت اس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانا چاہتی ہے۔سندھ حکومت نجی سرمایہ کاری کے حصول کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونیٹیز اور مزدوروں کی فلاح کو بھی ممکن بنانا چاہتی ہے اور اس پر زور دیتی ہے۔سندھ نے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل تجویز کیا ہے، جس میں صوبائی حکومت آپریشنز کی نگرانی اور سماجی اور ماحولیاتی معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے گی۔اسٹیل مل کی بحالی سے اسٹیل کی درآمد پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے اور پائیدار صنعتی ایکوسسٹم کی تشکیل کی جاسکتی ہے، تاہم اسٹیل مل کی بحالی چیلنجوں سے بھرا ایک راستہ ہے۔اسٹیل مل کی بحالی کیلیے 1 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ آپریشنل رکاوٹوں جیسا کہ گیس کی فراہمی، لیبر کے مسائل، ماحولیاتی مسائل وغیرہ سے نمٹنا ہوگا۔
-

روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 9.342 ارب ڈالر جمع
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)روشن ڈیجیٹل اکاونٹ (آر ڈی اے)میں دسمبر 2024 کے اختتام تک سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 9.342 ارب ڈالر جمع کرائے گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں 203 ملین ڈالر کی وصولیاں ہوئیں جبکہ نومبر 2024 کے دوران 186 ملین ڈالر وصول ہوئے تھے۔ اس طرح نومبر کے مقابلے میں دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں 17 ملین ڈالر زائد جمع کروائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2020 سے دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں مجموعی طور پر 9.342 ارب ڈالر کی وصولیاں ہوئیں جبکہ اس دوران 1.7 ارب ڈالر واپس بیرون ملک منتقل کئے گئے ہیں اور 5.911 ارب ڈالر کا مقامی استعمال کیا گیا ہے۔ایس بی پی کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام تک آر ڈی اے ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد 7 لاکھ 78 ہزار 713 تک پہنچ گئی جبکہ نومبر 2024 کے خاتمہ پر یہ تعداد 7 لاکھ 68 ہزار 394 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح نومبر کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد میں 10 ہزار 319 اکائونٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
-

پاکستان برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے پیچھے
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے پیچھے رہ گیا۔دستاویز کے مطابق سری لنکا، بنگلا دیش، مصر اور بھارت کی برآمدات پاکستان سے زیادہ ہیں، دیگر ممالک کی برآمدات جی ڈی پی کا 27 فیصد جبکہ پاکستان کی 10 فیصد تک محدود ہیں، 2010 سے 2024 تک ہر سال جی ڈی پی شرح کے لحاظ سے برآمدات کم ہوئیں۔2010 میں برآمدات جی ڈی پی کا 13 فیصد تھیں جو 2024 میں کم ہو کر 10 فیصد رہ گئیں، بھارت کی برآمدات جی ڈی پی کا 22 فیصد اور بنگلا دیش کی 13 فیصد ہیں۔تعلیم اور صحت اخراجات میں بھی پاکستان خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے، ہیلتھ سروسز کیلئے پاکستان جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد کرچ کر رہا ہے، ہیلتھ سروسز پر بھارت جی ڈی پی کا 1.1 فیصد، سری لنکا 1.9 فیصد خرچ کر رہا ہے۔تعلیمی اخراجات کی بات کی جائے تو پاکستان جی ڈی پی کا 1.9 فیصد خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی نسبت بھارت تعلیم پر کل جی ڈی پی کا 4.1 فیصد خرچ کر رہا ہے۔
-

یاماہا پاکستان کی جانب سے شاندار آفر کا اعلان
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)یاماہا پاکستان نے موٹرسائیکل کے شوقین افراد کے لیے ایک دلچسپ پیشکش کی ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کے لیے یاماہا موٹرسائیکل خریدنا آسان بنانا ہے۔ کمپنی نے “اب خریدو، بعد میں ادا کرو” کی طرز پر نیا فنانسنگ آپشن متعارف کروا دیا ہے۔یاماہا پاکستان نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت صارفین “آسان انسٹالمنٹ پلان” کے ذریعے یاماہا موٹرسائیکل خرید سکتے ہیں۔”اسٹینڈرڈ چارٹرڈ آسان انسٹالمنٹ پلان کے ساتھ، آپ یاماہا موٹرسائیکل 12 ماہ کی اقساط میں 0% مارک اپ پر حاصل کر سکتے ہیں۔”یہ آفر ان صارفین کے لیے بہترین ہے جو ایک ہی دفعہ بڑی رقم ادا کرنے سے بچنا چاہتے ہیں اور ماہانہ قسطوں پر بائیک خریدنے کے خواہشمند ہیں۔یاماہا نے 2024 میں YBR125G ماڈل میں نیا رنگ متعارف کروایا ہے۔کمپنی نے اپنے فیس بک پیج پر نئے ماڈل کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ:”نئی یاماہا YBR125G کو متعارف کروایا جا رہا ہے، اب شاندار میٹالک یلو کلر میں۔ اپنی مہمات پر نکلیں اور سڑکوں پر چمک بکھیر دیں۔”یاماہا کا یہ نیا رنگ سڑک پر نمایاں نظر آنے کے لیے ایک منفرد اور پرکشش انتخاب ہے۔ کمپنی کے مطابق اس منفرد رنگ کی بدولت موٹرسائیکل کا اسٹائل اور جاذبیت مزید بڑھ جائے گی۔
-

اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی،وزیراعظم
اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کہنا تھا امید ہے آج شرح سود میں مزید کمی ہو گی، بس چلے تو ٹیکس کی شرح 15 فیصد کم کر دوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے۔ان کا کہنا تھا بجلی سستی ہونے تک ترقی نہیں ہو سکتی، بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں، اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اخراجات کم کر رہے ہیں، پی ڈبلیو ڈی کرپشن کا منبع تھا جسے بند کر دیا ہے، قومی ایئر لائن کو شفاف نیلامی کے عمل سے نجی شعبےکو دیں گے، پاکستان کے نجی شعبےکے پاس یہ استعداد ہےکہ وہ قومی ائیر لائن کو خریدیں۔انہوں نے کہا یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو دور کررہی ہے، ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کو جلد اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔
-

دریائے سندھ کی نایاب نابینا ڈولفن کی نسل خطرات سے دوچار
( خصوصی رپورٹ)
طویل رقبے پر پھیلے دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن کا شماردنیا کے نادرونایاب ترین ممالیہ(دودھ پلانے والی آبی حیات)میں ہوتا ہے، مگر بڑھتی ہوئی آلودگی اور دیگر وجوہات کی بنا پر انڈس ڈولفن کی نسل خطرات سے دوچار ہے۔ ڈولفنزعموما سمندرکے کھارے پانی میں پائی جاتی ہیں،مگرکرہ ارض پرصاف پانی،دریاوں اورپانی کے مستقل ذخائرمیں بھی دریائی ڈولفنزموجود ہیں،جو اپنی جسمانی ساخت،رنگ اور دیگر عوامل کے سبب ایک دوسرے سے مختلف ہیں،ان میں صرف ایک قدرمشترک ہے کہ ان کے مسکن میٹھے پانی کے دریا ہیں۔پاکستان کے دریائے سندھ میں پائی جانیوالی ڈولفن بھی دنیا کے دیگرممالک میں پائی جانے والی ڈولفنزسے بالکل الگ تھلگ نسل ہے،انفرادیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مکمل طور پر اندھی ہے،آنکھوں کے حلقے ہونے کے باوجود اس میں روشنی نہیں ہے اور یہ بینائی سے مکمل طورپرمحروم ہے،مگراندھی ہونے کے باوجود دریائے سندھ کی ڈولفن بلا کی حس رکھتی ہے،یہ ہلکے سے کھٹکے پربھی خطرے کو بھانپ لیتی ہے۔پرسکون اور پرامن ماحول کے دوران دریاکے پانی میں اچھل کود اور غوطہ دیکھنے والے کے لیے ایک دلفریب نظارہ ہوتا ہے، دنیا کے دیگر ممالک میں دریائی ڈولفن کا مسکن بھارت کی گنگاندی، ایمیزون ندی، چین کے دریا ینگٹزاوربرازیل کے قرب میں واقع بولوین ندی بھی ہے۔ڈبلیو ڈبلیوایف کے مطابق سن 1992میں انڈس ڈولفنز کی تعداد 500کے لگ بھگ تھی،تاہم گزرتے وقت کے ساتھ یہ تعداد ابتدا میں 1200سے1500جبکہ بعدازاں سن 2017میں کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد 2ہزارکے لگ بھگ ہے۔انسانی عمل دخل کی وجہ سے انڈس ڈولفن کا 80فیصد مسکن تباہی سے دوچارہوچکا ہے،اس نوع کی آبادی کو مختلف خطرات کا سامنا ہے،جن میں ماہی گیری کے جالوں میں الجھنا،آبی آلودگی،غیرقانونی شکار،آبپاشی کی نہروں میں ڈولفن کا پھنس جانا شامل ہیں، سندھ میں پائی جانے والی ڈولفن کو سندھی زبان میں اندھی بلہن کہا جاتا ہے۔بین الاقوامی تنظیم انٹرنینشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(آئی یو سی این)نے اس صاف پانی کی ممالیہ جانور کوخطرے سے دوچار انواع کی ریڈ لسٹ میں شامل کررکھا ہے، ماہرین کے مطابق پیدائشی طور پر پاکستان میں پائی جانے والی ڈولفن کبھی بصارت رکھتی ہوگی، تاہم دریاوں میں بڑھتی آلودگی اور مسلسل گدلے پانی میں رہنے کی وجہ سے یہ نسل بتدریج بینائی سے محروم ہوئی۔سمندری ڈولفن کے مقابلے میں اس کی تھوتھنی لمبی اور کسی آرے سے مشابہہ ہوتی ہے، جس میں دونوں جانب بہت چھوٹے چھوٹے دانت ہوتے ہیں، اندھی ڈولفن نابینا ہونے کے باوجود روشنی اور اندھیرے میں فرق کر سکتی ہیں،اس کا رنگ بھورا ہوتا ہے جبکہ جسم کا وسط کالے سے بھورا نما ہوتا ہے۔مچھلی کے شکار کے لیے زرعی ادویات کے استعمال جیسے اقدامات سے انڈس ڈولفن کی نشو نما متاثر ہو رہی ہے،پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی بھی انڈس ڈولفن کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے،دریائے سندھ کے قرب وجوار کے کھیتی باڑی والے علاقوں میں زراعت کے لیے کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال اورکیڑے مکوڑوں کے لیے جراثیم کش زہریلے کیمیکل بھی دریا کے پانی میں شامل ہوجر ڈولفن کے اموات کا سبب بنتے ہیں۔ماضی میں انسانی سہولیات کے لیے بننے ڈیموں اوربیراجوں کی تعمیرنے اس آبی حیات کی آبادی کوتقسیم کرکیان کے قدرتی مسکن کوشدید متاثرکیا،جس کی وجہ سے قدرتی طور پراندھی ڈولفن کی نقل وحرکت انتہائی محدود ہوگئی۔ دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کوماہی گیری کے جالوں سے بھی شدید خطرات ہے،کیونکہ اس کی لمبی تھوتھنی اس وقت جال میں پھنس جاتی ہیجب یہ جال میں پھنسی مچھلی کی بو پاکر اس کو کھانے کے لیے لپکتی ہے،ڈبلیوڈبلیوایف کیکوآرڈینیٹر عمران ملک کیمطابق ایک نجی بینک کی فنڈنگ سیڈولفن کنزرویشن پروگرام اس کی بقا کے لیے ترتیب دیا گیا ہے،ضروری امریہ ہے کہ لوگوں کوآگاہی دی جائے تاکہ ان میں اس آبی حیات کے حوالے سے شعورپیداہو۔انہوں نے کہاکہ انڈس ڈولفن کیحوالے سیحکومتی اورسندھ وائلڈلائف کی پالیسیز پر نظرثانی کی ضرورت ہے،دریا میں سیوریج اورصنعتی بغیرٹریٹیڈ پانی شامل کیا جارہاہے،اس کیعلاوہ ماہی گیروں کی جانب سے غیرقانونی اورنقصان دہ جالوں کا استعمال بھی ایک بہت ہی بڑاخطرہ ہے،اس کا حل یہ ہے ان کویا توآگاہی دی جائییا اس حوالیسے کوئی سخت قوانین وضع کیے جائیں۔ڈبلیوڈبلیوایف کے مینیجرتوحیدغنی میہسرکے مطابق ملاح کمیونٹی کی آگاہی ناگزیرہے،اس کے علاوہ کینال کے گیٹوں پرپنگلرکو جالوں پرتنصیب بھی ناگزیرہے،پنگرایک مخصوص آوازپیداکرنے والا آلہ ہے،جوماہی گیری کے جالوں کے قریب آتی ڈولفنزکوایک تنبیہہ جاری کرتے ہیں،25ہزارمالیت کا یہ آلہ آوازپیدا کرنے والے آلات کی تعیناتی ماہی گیری کے جالوں میں دریائے سندھ کے ڈولفن کے الجھنے کو کم کرنے کا ایک ممکنہ حل ہے،یہ ٹیکنالوجی خطرے سے دوچار دریائی ڈولفن کے تحفظ میں مدد کر سکتی ہے اور پائیدار ماہی گیری کو فروغ دے سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سن 2022 کے اوائل میں پاکستان میں تجرباتی طور پر پہلی بار دریائے سندھ کی 3 ڈولفنز کو محفوظ طریقے سے سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر کے ساتھ ٹیگ کیا گیا تھا،جو ان کی نقل و حرکت، رویے اور رہائش گاہوں کے بارے میں اہم ڈیٹا فراہم کریں گے،پراجیکٹ کے تحت صوتی رکاوٹوں کی آزمائشیں کی گئیں،جن میں آواز خارج کرنے والا آلہ پنگر استعمال کیا گیا۔نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پنگرز ماہی گیری کے جالوں کے ساتھ ڈولفن کے براہ راست عمل دخل کو کرتا ہے،سائنسی ماہرین نیدودہائیوں پر محیط ایک صبر آزما اور طویل تحقیق کے بعد اس بات کا انکشاف کرچکے ہیں کہ خطرے سے دوچار دریائے سندھ اور گنگا کی ڈولفن ایک دوسرے سییکسر مختلف اقسام کی نسلیں ہیں۔اس تحقیق سے پہلے انھیں جغرافیائی اعتبار سے ایکدوسرے کے قریب خطوں میں ہونے کے سبب ایک سمجھا جاتا تھا،پاکستان میں مون سون بارشوں کے بعد جب دریا کا پانی اترتا ہے، تو یہ مچھلیاں تالابوں وغیرہ میں پھنس جاتی ہیں، جہاں انہیں خوراک کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔دریائے سندھ میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے چشمہ تونسہ، گدو اور سکھر چینل کے درمیان کئی سروے کیے گئے،جس میں تحقیقی ٹیم نے دریا اور زمین پر اس حساس نوعیت کے تیکنیکی کام کے دوران کئی شب وروز گزارے۔گزشتہ دو دہائیوں سے تقریبا 300پھنسے ہوئے دریائی ڈولفنز کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور انہیں واپس سندھ میں چھوڑ دیا گیا،راستہ بھٹک جانے والی انڈس ڈولفن دریامیں مسلسل سفر کے دوران کئی کلومیٹر دور نکل جاتی ہیں،ریسکیو کے بعد ان کی دریائے سندھ میں واپسی کا مرحلہ انتہائی دشوار اورتکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدگی نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ برق رفتار سے واپسی کا یہ سفر بذریعہ سڑک کیا جاتا ہے،جس کے دوران اندھی ڈولفن کو ایک تولیے میں لپیٹ کر اس کے جسم کو مسلسل پانی سے تر رکھاجاتا ہے کیونکہ ذراسے خشکی کے سبب یہ دم توڑ دیتی ہے۔سندھ وائلڈلائف کے مطابق ماضی کے خطرات کے درمیان اب کچھ اور واقعات نئے اندیشوں کی صورت میں سر اٹھارہے ہیں،جن میں اس بے ضرر آبی حیات کو کلہاڑیوں کے وار اور بندوق سے براہ راست گولی مارنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔گذشتہ دنوں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ڈولفن کو دریا سے نکال کر سیلفی بنانے کے چکر میں ڈولفن کی جان لے چکے ہیں،جن کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،دریائے سندھ کے قریب واقع گاں،دیہات میں انڈس ڈولفن کے حوالے سیکچھ قصے بھی مشہور ہیں،ایک افسانوی قصے کے مطابق اندھی ڈولفن کبھی جل پری ہواکرتی تھی،جس نے گذرتے وقت کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرلی اور اب جل پری سے مچھلی بن چکی ہے۔
-

بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا راج( اپوزیشن لیڈر)مخالفین نکمے ہیں(مئیر کراچی)
2024کا سال سندھ حکومت اور کے ایم سی کی کارکردگی کے حوالے سے کراچی کے شہریوں کے لیے نہایت مایوس کن رہا۔ 2025میں بھی صورتحال کراچی کے شہریوں کے لیے امید افزاء نہیں ہے، سندھ حکومت اور کے ایم سی کے زیر اہتمام محکموں سے شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔کرپشن، نا اہلی، تعصب، اور ناقص کاموں پر وائٹ پیپر جاری کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈرسیف الدین ایڈوکیٹ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر مبشر حافظ الحق حسن زئی، جماعت اسلامی پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر قاضی صدر الدین، کونسل میں ورکس کے انچارج فرمان، کوآر ڈی نیٹر اپوزیشن لیڈر نعمان الیاس، اسپورٹس اور یوتھ کے امور کے انچارج تیمور احمد، ممبر کونسل اسامہ احمد اور دیگر شریک ہوئے۔ اس موقع پر گزشتہ سال 2024میں سندھ حکومت اور کے ایم سی کی کارکردگی اور شہریوں کی تکالیف کے ازالے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ گزشہ سال شہر میں جرائم کی ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، لاکھوں شہری اپنی گاڑیوں،موٹر سائیکلوں، موبائل فونز سے محروم ہوئے اور ڈکیتی کا شکار ہوئے، 109کے قریب شہری لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران اپنی جان سے گئے، ہیوی ٹریفک کے حادثات میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے لیکن حکومت سندھ مجرموں کی گرفتاری اور جرائم کی بیخ کنی میں مکمل ناکام رہی، سندھ کے تمام محکموں بالخصوص بلدیاتی اداروں میں بدترین کرپشن کا راج رہا جس کی وجہ سے منتخب نمائندوں کے لیے مسائل میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے بڑے مسائل سڑکیں، پانی کی فراہمی، سیوریج کے نظام کی بحالی، کچرا صفائی میں سندھ حکومت اور کے ایم سی مکمل ناکام رہی، انہوں نے کہا کہ قابض میئر مرتضیٰ وہاب واٹر بورڈ اور سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ کے چیئرمین بھی ہیں لیکن کراچی کے شہریوں کو کچرے کے ڈھیروں، غلاظت سے بھر ہوئے نالوں اور بہتے گٹروں سے نجات نہ مل سکی جبکہ ان امور کی ذمہ داری براہ ِ راست ان کے پاس ہے، کراچی کی 106سڑکیں اور 44نالے براہ ِ راست قابض میئر مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ہیں لیکن اربوں روپے کے اخراجات مختلف ٹینڈرز میں ظاہر کرنے کے باوجود شہرکا بدترین حال ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اگر کہیں کام ہوا بھی ہے اس قدر غیر معیاری کہ چند دن میں ہی برباد ہو گیا جو کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت اور کے ایم سی نے کئی شعبوں میں کام کیا ہے تو وہ کرپشن اور مختلف اداروں میں شہر کے باہر سے لائے ہوئے نا اہل افسران کی تقرری کا ریکارڈ قائم کرنے کا کام۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو کے رجسٹرار آفس، واٹر ٹینکر سب نے مافیا سسٹم اور کراچی شہر کو برباد کرنے کا کام کیا٭
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہاہے کہ2025 میں کراچی کیلئے پینے کے پانی کی سپلائی میں اضافہ ہوگا۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہاکہ 2025 میں بلدیہ عظمی کراچی انفرااسٹرکچر ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گی، کراچی کے شہریوں کو سستی اور معیاری تفریح فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج کے مسائل ہمارے لیے چیلنج ہیں، 2025 میں کراچی کیلئے پینے کے پانی کی سپلائی میں اضافہ ہوگا، حب ڈیم سے نئی کینال نکالنے کیلیے تیزی سے کام ہورہا ہے، اگست 2025 تک حب کینال کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔مرتضی وہاب نے کہا کہ کے4 اور ملیر ایکسپریس وے پر بھی کام کیا جارہا ہے، بلدیہ عظمی کراچی کے کنٹرول میں 106 سڑکیں آتی ہیں، گلی محلے کی سڑکیں متعلقہ ٹائون کی ذمہ داری ہے، کوشش ہے رواں مالی سال پی آئی بی کالونی کی گلیاں بنادی جائیں، ماضی کا کراچی شاندار تھا تو مستقبل کا کراچی شاندار کیوں نہیں ہوسکتا؟میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، مخالفین کا اعتراض یہ ہے کہ شہر میں کام ہو تو ان کے نام سے ہو، پیپلزپارٹی کے نام سے کام ہو گا تو مخالفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، مخالفین آئے دن ہمارے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مخالفین کی پریس کانفرنس کا مقصد لوگوں کو ناامید کرنا ہے، مخالفین اپنے نکمے پن کی ذمہ داری پیپلزپارٹی پر ڈال دیتے ہیں، باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مسائل حل کرنے کے لیے میدان میں اترنا پڑتا ہے، پی پی پی میدان میں کام کررہی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ افسوسناک صورتحال ہے کہ پانی کا شارٹ فال ہے، جماعت اسلامی والے قابل بننے کی بات کرتے ہیں، جماعت اسلامی والے ٹینکرز کا پانی بہا دیتے ہیں، پیپلزپارٹی کی سخت بات جماعت اسلامی کو ناگوار گزرتی ہے، 1100 ملین یومیہ پانی کی ضرورت ہے، 550 ملین گیلن سپلائی کیا جاتا ہے، 2025 میں کراچی میں پانی کی مشکلات میں کمی آئے گی۔
کراچی کی اہم سڑکوں کو خوبصورت اور فٹ پاتھوں کی حالت بہتر کرنے کا فیصلہ
کمشنر کی شاہراہ فیصل پر جاری ترقیاتی کام سمیت شہر کی تما م شاہراہوں اورفٹ پاتھوں کی مرمت کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں شہر کی اہم سڑکوں کو خوبصورت بنانے، فٹ پاتھوں اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کیلیے اقداما ت کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر نے شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ قائدین، میرن پرومنڈ پر جاری ترقیاتی کام سمیت شہر کی تما شاہراہوں پر فٹ پاتھوں اور سڑکوں کی مرمت کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں شہر میں، مین ہولز کو کور کرنے، یوٹیلیٹی اداروں کے چیمبرز کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، سڑکوں پر نمایاں مقامات سے کچرا کنڈیوں کی منتقلی اور صفائی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز رابعہ سید، اسسٹنٹ کمشنر جنرل کمشنر کراچی افس حاظم بنگوار، مینجنگ ڈائریکٹر سالد ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق نظامانی، ریجنل ڈائریکٹر لو کل گورنٹمنٹ رمضان پٹھان، ڈائریکٹر جنزل میونسپل سروسز طارق مغل، چیف انجنیئر کے ڈی اے عبد الصمد مختلف ٹاونز کے میونسپل کمنشنرز اور دیگرنے شرکت کی۔تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے ضلع میں شہری کی بہتری کے اقدامات کے بارے میں منصوبہ بندی اور جاری کاموں کا جائزہ پیش کیا۔ ڈپٹی کمشنر غربی احمد علی صدیقی نے منگھوپیر روڈ شاہراہ ورنگی میں، ڈپٹی کمشنر وسطی طحہ سلیم نے شاہراہ پاکستان اور علامہ راشد ترابی روڈ میں، ڈپٹی کمشنر شرقی ابرار جعفر نے شاہراہ فیصل میں، ڈپٹی کمشنر جنوبی الطاف ساریو نے آئی آئی چندریگر روڈ، ڈپٹی کمشنر کیماڑی راجہ طارق چانڈیو نے ضلع کیماڑی میں، ڈپٹی کمشنر ملیر سلیم الہ اوڈھو نے ضلع ملیر اور ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود بھٹونے کورنگی میں اہم سڑکوں کی نشاندہی کی جس پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع وسطی میں شاہراہ پاکستان شیر شاہ سوری روڈ علامہ راشد ترابی روڈ پر پیچ ورک اور دیگر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ضلع وسطی میں غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کے تعاون سے شجر کاری کی جائے گی کے ڈی اے چورنگی کو بوہرہ کمیونٹی کے تعاون سے خوبصورت بنایا جا رہا ہے۔ ٹاون ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے ماڈل مارکیٹ اور اے او کلنک پر ڈیولپنٹ پارک کی تعمیر کے منصوبے بھی تیار کئے گئے ہیں جبکہ کے ڈی اے کے تعاون سے مختلف فلائی اوورز کے نیچے اسپورٹس کمپلیکسز بھی بنائے جائیں گے۔اجلاس میں شاہراہ فیصل میرن پرومینڈ شاہراہ قائدین کو خوبصورت بنانے کیلیے یوٹیلٹی اداروں کے چیمبرز کی وجہ سے فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے والوں کو درپیش دشواریوں کو دور کرنے کے چیمبرز کو بہتر بنانے کے کام کا جایزہ لیا گیا۔فیصلہ کیا گیا کہ آئی آئی چندریگر روڈ اور مرین پرومنڈ پر جاری کام کو اگلے دس روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر کمشنر کراچی کے حالیہ دورہ کے موقع پر کئے گئے فیصلہ کی روشنی میں فٹ پاتھوں پر مرمت اور رنگ ور وغن کا کام مختلف مقامات پر مکمل کر لیا گیا ہے۔کے ڈی اے اور کے ایم سی نے تصاویر کے ذریعے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ کے ڈی اے نے کمشنر کو بتایا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر 36 مین ہولز تھے جو بند کر دئے گئے ہیں۔کمشنر نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اورمیونسپل ادارے اپنے اپنے علاقوں میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر میں کوئی بھی مین ہول نہ کھلا ہو۔ -

ایلون مسک نے پاکستانیوں کی اپیل سْن لی
پاکستان میں گذشتہ برس کی ابتدا سے ہی لوگ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بندش سے پریشان ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق اس غیراعلانیہ بندش کے سبب انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔گھریلو اور کمرشل صارفین انٹرنیٹ کی بندش اور ‘ایکس’ جیسی معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ کی ملک میں معطلی کے سبب کسی ایسے نئے نظام کی تلاش میں تھے جس کے ذریعے انھیں انٹرنیٹ کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہوسکے۔ٹاپ 10 وی پی این ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش کے سبب ایک ارب 62 کروڑ ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پاکستان میں حکومتی شخصیات اور ادارے انٹرنیٹ کی اس بندش کے متعدد جواز پیش کرتے رہے ہیں۔ کبھی سیاسی احتجاج کے سبب انٹرنیٹ متاثر نظر آتا تھا، تو کبھی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کی کسی کیبل میں خرابی کے سبب لوگ انٹرنیٹ سے محروم ہوجاتے تھے اور تو اور کچھ حکومتی شخصیات کی جانب سے سکیورٹی خدشات کو بھی متعدد مرتبہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ بتایا گیا۔ایسے میں متعدد انٹرنیٹ صارفین امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے اپیل کرتے ہوئے نظر آئے کہ وہ اپنی ا سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی کو پاکستان میں متعارف کروائیں۔بالآخر ایلون مسک نے پاکستانیوں کی اپیل سْن لی اورا سٹارلنک کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کروا لیا گیا ۔ایسے میں یہ سوالات اْٹھ رہے ہیں کہ یہ کمپنی کتنے عرصے میں پاکستان میں فعال ہوجائے گی اور کیا عام گھریلو صارفین بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ استعمال کر پائیں گے؟پاکستان میں وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے تصدیق کی ہے کہ ا سٹارلنک کو ملک میں رجسٹر کر لیا گیا ہے، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ایسی کمپنیوں کے لیے قواعد و ضوابط طے کرنا ضروری ہے۔انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ‘اسٹارلنک کے علاوہ دیگر اور سیٹلائٹ کمپنیاں بھی ہیں جو پاکستان میں اپنی سروسز صارفین کو دینا چاہتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ریگولیٹری میکن ازم ترتیب دیں جس کے تحت وہ پاکستان میں آپریٹ کرسکیں۔’ایلون مسک آج کل امریکی سیاست میں کافی متحرک ہیں’ہم تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی تیار کررہے ہیں تاکہ یہ سیٹلائٹس مقامی فری کوئنسی میں مداخلت نہ کر سکیں۔’انھوں مزید کہا کہ جب ریگولیٹری میکن ازم تیار ہو جائے گا تو پھرا سٹارلنک جیسی کمپنیوں کو لائسنس کا اجرا شروع ہوجائے گا۔’یہ نئی چیز ہے اور آج تک کسی نے بھی دنیا میں لو ارتھ اوربٹ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی ریگولیشن نہیں بنائے ہیں۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کے لیے بین الاقوامی معیار کے تحت یہ تمام قوائد اور سسٹم چند ماہ کے اندر اندر ترتیب دے لیں۔ جس کے بعد ہی یہ ا سٹارلنک یا کوئی اور ایسی کمپنی پاکستان میں آپریٹ کر سکے گی۔’
اسٹارلنک کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ایکلون مسک کی کمپنی ا سٹارلنک سیٹلائٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس مہیا کرتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کا مقصد ان افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ مہیا کرنا ہے جو زمین کے دور دراز یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
حکومت پاکستان کو ’ڈیجیٹل قوم‘ کیوں بنانا چاہتی ہے اور اس پر ماہرین کو کیا تحفظات ہیں؟
یونیورسٹی آف پورٹسمتھ کے ا سپیس پروجیکٹ کی مینیجر لوسینڈا کنگ کہتی ہیں کہ برطانیہ میں بھی ا سٹارلنک کے صارفین موجود ہیں لیکن کمپنی کی سروس استعمال کرنے والوں کی تعداد افریقہ جیسے خطوں میں زیادہ ہے۔ایلون مسک کے اسٹارلنک منصوبے کے تحت سیٹلائٹس کو زمین کے نچلی سطح کے مدار میں چھوڑا گیا ہے تاکہ ان سیٹلائٹس اور زمین کے درمیان رابطوں کی رفتار کو جتنا ممکن ہو تیز بنایا جا سکے۔یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی نے 2018 سے لے کر اب تک تقریباً 3000 چھوٹے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیجے ہیں۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ پاکٹ لنٹ کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر کرس ہال کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک 10 سے 12 ہزار سیٹلائٹس استعمال کر سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘سیٹلائٹس کو استعمال کرتے ہوئے ہم دنیا کے دور دراز علاقوں جیسا کے صحرا اور پہاڑوں پر انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی کی مشکل حل کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں ان علاقوں تک انٹرنیٹ حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر جیسا کے تاریں اور کھمبوں کی ضرورت سے نجات دلائے گی۔’
اسٹارلنک کی قیمت کیا ہے اور کون اسے استعمال کرے گا؟
روایتی انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میںا سٹارلنک مہنگا ہے۔ صارفین کے لیے اس کی ماہانہ فیس 99 ڈالر ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والی ڈِش اور راؤٹر کی قیمت 549 ڈالر ہے۔میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی سے منسلک اسد بیگ کہتے ہیں اگرا سٹارلنک پاکستان میں اپنی سروس شروع کرتا ہے تو ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے اور بھی کئی سوالات کھڑے ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک کس کو رسائی ہوگی اور کس قیمت پر؟ اسٹارلنک کی سروسز، سستی نہیں ہیں اور اس کا آنا پاکستان میں ڈیجیٹل تقسیم کو مزید گہرا بھی کر سکتا ہے، جہاں کچھ خاص لوگ اس سے استفادہ اٹھا سکیں اور دوسروں کو وہی خراب انٹرنیٹ سروسز پر انحصار کرنا پڑے گا۔’
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں 96 فیصد گھرانوں کو پہلے سے ہی تیز ترین انٹرنیٹ سروس تک رسائی حاصل ہے، جبکہ امریکہ اور یورپی یونین میں بھی 90 فیصد عوام کے انٹرنیٹ کی اچھی سہولت موجود ہے۔
لندن یونیورسٹی کے انسٹٹیوٹ آف ا سپیس پالیسی اینڈ لا کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید موستشر کا کہنا ہے کہ ‘بیشتر ترقی یافتہ دنیا کے پاس پہلے ہی اچھے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ وہ (اسٹارلنک) آمدن کے لیے عالمی مارکیٹ کے چھوٹے حصے پر انحصار کر رہے ہیں۔’
ایلون مسک کی کمپنی ا سٹارلنک کے اس وقت درجنوں ممالک میں کئی لاکھ صارفین ہیں۔ جن میں بیشتر شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹرالایشیا سے ہیں۔ ان میں گھریلو اور کاروباری دونوں طرح کے صارفین موجود ہیں۔اسٹارلنک اپنے نیٹ ورک کو مزید پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت وہ اپنے تیز ترین انٹرنیٹ کی سروس افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں فراہم کرے گی۔ یہ دنیا کے وہ علاقے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس اور کوریج زیادہ اچھی نہیں ہے۔کرس ہال کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک کی انٹرنیٹ سروسز کی قیمت شاید افریقہ کے کچھ گھرانوں کے لیے بہت زیادہ ہو لیکن یہ دور افتادہ علاقوں میںا سکولوں اور ہسپتالوں سے رابطے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔’
کیا سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں بھی رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے؟
پاکستان میں اسٹارلنک کی متوقع آمد پر ایک سوال اور بھی انٹرنیٹ صارفین کے ذہنوں میں ہے کیا حکومتی ادارے ایلون مسک کی کمپنی کی انٹرنیٹ سروس میں بھی رخنہ ڈالنے کی سکت رکھتے ہیں؟پاکستان میں انٹرنیٹ اور آن لائن مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ا سٹارلنک کے ذریعے بھی شاید ملک میں آزاد انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن نہ ہو۔اس معاملے پر بی بی سی بات کرتے ہوئے سماجی کارکن اور انٹرنیٹ امور کی ماہر نگہت داد کا کہنا تھا کہ عوام تک بغیر کسی رکاوٹ کے انٹرنیٹ کی فراہمی ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔
‘ہمیں ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ا سٹارلنک یا اس جیسی کمپنیوں کا مستقبل میں کیا بنے گا۔ ویسے تو سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں خلل ڈالنا یا رکاوٹ پیدا کرنا مشکل ہے لیکن پھر بھی اہم بات یہ ہے کہ اسٹارلنک جیسی کمپنیاں (حکومت سے) کیا معاہدے کرکے آرہی ہیں۔’
صارفین کے لیے اسٹارلنک کی ماہانہ فیس 99 ڈالر ہے
‘یہاں سب سے بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ حکومت ایسی کمپنیوں کو کن قوائد وضوابط کے تحت پاکستان میں کام کرنے دیں گے۔ اگر تو ان کمپنیوں نے بھی پابندیوں کے تحت ہی انٹرنیٹ کی فراہمی عوام تک پہنچانی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کو پہلے سے معلوم ہو کہ انھیں کیا سروسز ملیں گی اور کیا نہیں ملے گا۔’
اسد بیگ بھی سمجھتے ہیں کہ سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کو باآسانی کنٹرول یا ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا ‘
‘اگر ان تمام پابندیوں کے بغیر سیٹلائیٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر فائر وال یا ویب مینیجمٹ سسٹم پر اتنے پیسے کیوں خرچ کئے گئے؟ دوسری جانب نگہت داد کہتی ہیں کہ اگرا سٹارلنک کسی معاہدے کے تحت پاکستان آتی ہے تو حکومت اور کمپنی کو شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ معاہدہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
اسٹارلنک کے مالک ایلون مسک آج کل امریکی سیاست میں کافی متحرک ہیں اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی تصور کیے جاتے ہیں۔
نگہت داد کہتی ہیں کہ ‘یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آج کل ایلون مسک امریکی سیاست میں کتنے فعال ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جمہوری نظام، ڈِس اور مِس انفارمیشن کے معاملے پر بھی ان کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔
‘ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی اور جدت کو اہمیت دیتے ہوئے کسی پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں -

وزیراعظم شہباز شریف جلد بجلی سستی ہونے کیلئے پر امید
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹاسک فورس کی کوششوں سے جلد بجلی سستی ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں صوبوں کا اہم کردار ہے، وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر تعلیمی میدان میں چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس نے 3 ہزار میگاواٹ کا ہدف حاصل کر لیا ہے، مزید بڑی کمپنیوں سے کیپیسٹی چارجز کے معاملے پر بات چل رہی ہے۔ وزیراعظم نے سرکاری پاور جنریشن کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی پیمنٹس ہونے پر حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازیں شروع ہونا کامیابی ہے، گزشتہ حکومت کے ایک وزیر کی تقریر کے تباہ کن نتائج ہوئے، شکر ہے جو بندشیں لگیں وہ ختم ہوئیں اور امید ہے جلد لندن کے لیے پروازوں کا آغاز ہوگا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ضلع کرم میں حالات نارمل ہورہے ہیں، امن معاہدے کے بعد مورچے مسمار کیے جارہے ہیں، خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی پہنچائی جارہی ہے، امید ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر قیام امن یقینی بنائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف دن رات کارروائیاں ہورہی ہیں اور امید ہے ان کارروائیوں کے نتیجے میں فتنہ الخوارج مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔
