Blog

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، برطانوی خام تیل کی قیمت میں 8 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 121 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔امریکی خام تیل کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ماہرین نے بحری ناکہ بندی جاری رہنے اور ایران امریکا مذاکرات تعطل کا شکار رہنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کردیا۔

  • نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں جاری ہوگا

    نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں جاری ہوگا

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک )ملک بھر میں نارمل پاسپورٹ کا اجرا 21 دن سے کم کرکے 14 دن کردیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن اور متعلقہ حکام نے شرکت کی جب کہ اس دوران وزیرداخلہ نے بزنس پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔
    محسن نقوی نے کہا کہ نارمل پاسپورٹ کا اجرا 21 دن سے کم کرکے اب 14 دن کردیا گیا ہے، پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس سسٹم رائج ہوگا۔اس کے علاوہ پاسپورٹ کی گھروں کی دہلیز تک ڈیلیوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے پاسپورٹ دفاتر میں 15 روز تک مکمل کیش لیس نظام رائج کرنے کا ٹاسک دے دیا۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کیش ادائیگی ختم ہونے سے ایجنٹ مافیا کاخاتمہ ہوگا اور شہریوں کو سہولت ملے گی، پاسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اورعوامی سہولت کے لیے پاسپورٹ اتھارٹی کاقیام انتہائی ضروری ہے۔وزیر داخلہ نے بزنس پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق امور پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • سندھ حکومت کا کراچی کے پسماندہ علاقوں اور صنعتوں کو سستی بجلی دینے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا کراچی کے پسماندہ علاقوں اور صنعتوں کو سستی بجلی دینے کا فیصلہ

    کراچی(ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے پسماندہ علاقوں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں چیئرمین کے الیکٹرک شہریار چشتی سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں کےالیکٹرک کے سی ای او سید طحہٰ، پی ایس سی ایم آغا واصف اور سیکرٹری توانائی شعیب انصاری سمیت دیگر بھی میں موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی اور کے الیکٹرک کو ہدایت دی کہ کراچی کے بجلی صارفین کیلئے ہدفی سبسڈی پروگرام پر مشترکہ مطالعہ کیا جائے۔انہوں نے کم آمدن والے علاقوں اور صنعتی زونز کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے تجاویز تیار کرنے کی بھی ہدایت دی جب کہ گرمیوں کے آغاز کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے پسماندہ علاقوں میں طویل بجلی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کے آغاز سے غریب طبقات کی مشکلات بڑھ گئی ہیں اور لوڈشیڈنگ میں کمی کیلئے خاص طور پر غریب محلوں میں قابل عمل حل نکالنا ضروری ہے۔مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ کراچی کے بجلی صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی پروگرام پر مطالعہ کیا جائے تاکہ مستحق گھرانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اسلام آباد ’’خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا،سرکاری ذرائع

    اسلام آباد ’’خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا،سرکاری ذرائع

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر اپنے کردار کیلئے پاکستان پُرعزم ہے، اور ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ اسلام آباد ’’خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘
    یہ بیان اُن چیلنجز کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو دو ماہ پرانے تنازع کے خاتمے کیلئے تعطل کا شکار بات چیت کی بحالی میں درپیش ہیں، جبکہ بالواسطہ ذرائع اب بھی متحرک ہیں۔
    ایک سینئر عہدیدار نے سفارتی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ پاکستان خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کرتا رہے گا۔ پاکستانی قیادت، بشمول وزیرِ اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، شٹل سفارت کاری میں پیش پیش رہی ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
    پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی، جسے پاکستانی اپیلوں کے بعد توسیع بھی دی گئی۔ تاہم، بریک تھروُ کی امیدیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب ایران نے امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
    اسلام آباد کے کردار سے واقف ایک ذریعے نے پاکستان کی کوششوں کو ’’مسلسل اور خاموش‘‘ قرار دیا، اور کہا کہ براہِ راست روابط کی کمی کے باوجود پاکستان خلیج کو کم کرنے کیلئے سرگرم ہے۔
    اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر ایرانی وزیرِ خارجہ کے اسلام آباد کے دورے میں نئی تجاویز شامل تھیں، جو پاکستانی ذریعے نے امریکی فریق تک پہنچائیں۔ سرکاری ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ثالثی کا مقصد تشہیر نہیں بلکہ نتائج ہیں۔
    ایک اور سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ ہم دیرپا امن کے حصول تک دونوں فریقین کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ جس وقت عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا بالواسطہ ذرائع کسی پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستانی حکام آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو ممکنہ طور پر کثیرالجہتی کوششوں کے نئے مرحلے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • حیدرآباد، لاڑکانہ اور کراچی میں ہزاروں طلبہ کے نتائج تبدیل کیے جانے کا انکشاف

    حیدرآباد، لاڑکانہ اور کراچی میں ہزاروں طلبہ کے نتائج تبدیل کیے جانے کا انکشاف

    میرپور خاص(ویب ڈیسک )کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق کنٹرولرانور علیم نے تعلیمی بورڈ میں کرپشن کے حوالے سے مزید انکشافات کیے ہیں۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نوابشاہ تعلیمی بورڈ میں 90 ہزار طلبہ کے نتائج تبدیل کیےگئے جب کہ حیدرآباد بورڈ میں بھی نتائج میں بڑے پیمانے پر ہیراپھیری کی گئی۔اینٹی کرپشن حکام نے بتایا کہ سکھراورلاڑکانہ بورڈ میں بھاری رقوم لےکرطلبہ کے نتائج تبدیل کیےگئے جب کہ کراچی تعلیمی بورڈ میں بھی بڑے پیمانے پر نتائج تبدیل کیے گئے۔حکام کے مطابق کرپشن پر تمام تعلیمی بورڈزکےچیئرمین اورکنٹرولرز کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں اور تعلیمی بورڈز کے افسران کو 30 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کی پسندیدگی کی شرح مزید گر گئی

    امریکی صدر ٹرمپ کی پسندیدگی کی شرح مزید گر گئی

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پسندیدگی کی شرح مزید گر گئی ہے۔ رائٹرز اور اپسوس کے سروے کے مطابق امریکا کے صرف 34 فیصد ووٹر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ 15 سے 20 اپریل تک ہونے والے پچھلے سروے میں یہ شرح 36 فیصد تھی۔یہ سروے ٹرمپ پر حملے سے پہلے کا ہے، پچھلے سال جنوری میں جب ٹرمپ نے عہدہ صدارت کا حلف اٹھایا تھا تو ان کی کارکردگی سے 47 فیصد امریکی ووٹر خوش تھے۔28فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے اور اس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرمپ کی ریٹنگ میں مسلسل کمی آ رہی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اطمینان کی شرح اور بھی کم ہے اور 22 فیصد امریکی شہری اس معاملے پر ٹرمپ سے مطمئن نظر آتے ہیں۔تاہم ری پبلکن ووٹروں میں سے 78 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی صدر ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں، ایسے شہری جو خود کو دونوں بڑی جماعتوں سے منسلک نہیں کرتے ان میں سے 34 فیصد ڈیموکریٹک پارٹی اور 20 فیصد ری پبلکن پارٹی کے حامی ہیں۔ امریکا میں صرف 34 فیصد ووٹر ایران کے ساتھ امریکی تنازع کے حق میں ہیں، اپریل کے وسط میں ایسے افراد کی تعداد 36 فیصد تھی۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے: فلسطینی صحافی

    پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے: فلسطینی صحافی

    اسلام آ باد(ویب ڈیسک )فلسطینی صحافی جلال محمود الفرا کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جائے تو اس سے اسرائیل کمزور ہوگا اس کا فائدہ فلسطین اور کشمیر کو ہوگا۔دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سب بڑا مسئلہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا ہے، مسجد اقصیٰ کی آزادی کا ہے، مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔پروگرام میں شریک فلسطینی صحافی جلال محمود الفرا کا کہنا تھا کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں آزاد خود مختار ریاست فلسطین قائم نہیں ہوتی اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے۔

    : Disclaimer

    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی نئی جیو اکنامک پالیسی : امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔شیخ راشد عالم

    پاکستان کی نئی جیو اکنامک پالیسی : امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔شیخ راشد عالم

    جب عالمی طاقتیں کسی چوراہے پر کھڑی ہوں، فریقین کے درمیان الفاظ کی گنجائش ختم ہو چکی ہو اور عالمی ادارے اپنی ذات میں گم ہوں، تو تاریخ ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ اعتماد کی آخری سیڑھی کسی فوجی ہیڈکوارٹر کے صحن میں جا اُترتی ہے۔ آج یہ صحن اسلام آباد کے جی ایچ کیو کا ہے، اور یہ جملہ اب محض جذباتی نعرہ نہیں رہا بلکہ سفارتی جغرافیے کی ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے: “امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے”۔
    یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ اُس خاموش انقلاب کا منطقی انجام ہے جسے پاکستانی عسکری سفارت کاری کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس انقلاب نے راتوں رات جنم نہیں لیا؛ یہ دہائیوں کے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، پیشہ ورانہ تربیت اور غیر معمولی جغرافیائی قسمت کا مرکب ہے۔ لیکن اپریل 2026 میں اس نے جو مرکزیت حاصل کی، وہ عالمی سفارت کاری کے نصاب میں بلاشبہ ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
    ​اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب عالمی نظم و ضبط (Global Order) شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور روایتی سفارت کاری کے ایوان خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں، وہاں جنوبی ایشیا سے ابھرنے والی ایک نئی حقیقت نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ حقیقت پاکستان کی “عسکری سفارت کاری” (Military Diplomacy) ہے، جو اب محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک ناگزیر قوت بن کر ابھری ہے۔
    ​سب سے پہلے، اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی عسکری سفارت کاری محض خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقی ارتقا کا نام ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاک فوج نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور چین کے ساتھ دفاعی تعلقات کو محض اسلحے کی خرید و فروخت سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا ہے۔ خاص طور پر مارچ 2023 میں بیجنگ کی ثالثی میں سعودی ایران تعلقات کی بحالی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور ریاض کے مابین فوجی اعتماد سازی کے لیے جو کوششیں کیں، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ یہی پس منظر اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس ایران اور امریکہ دونوں سے بات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
    دوسری طرف، یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ پاکستانی عسکری قیادت نے “غیر جانبدار مگر متحرک” پالیسی کے ذریعے جو ساکھ بنائی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ نہ تو وہ کسی بلاک کا حصہ بنی اور نہ ہی غیر فعال رہی۔ یہ وہ اثاثہ ہے جس کی بدولت آج اسلام آباد سے یہ پیغام جا سکتا ہے کہ وہ “صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے”۔

    ​تاریخ گواہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بس ہو جائیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو جائیں، تو دنیا کو ایک ایسے ثالث کی تلاش ہوتی ہے جس کی بات میں وزن بھی ہو اور جس کے پاس اسٹریٹجک ساکھ بھی۔ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت نے اس سفارتی خلا کو پُر کرنے میں تاریخی سنگِ میل عبور کیے ہیں۔
    ​پاکستان اب علاقائی سیاست کے حاشیے پر کھڑا کوئی تماشائی نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں امن کا ضامن بن چکا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اسلام آباد کا کردار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس وہ ‘خاموش رسائی’ موجود ہے جو واشنگٹن اور تہران کے پاس بھی نہیں۔
    ​12 اور 13 اپریل کے وہ دو دن عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے جب اسلام آباد عالمی امن کا مرکز بنا۔ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی براہِ راست موجودگی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت پر فریقین کا اعتماد غیر متزلزل ہے۔
    اور محض گیارہ دن بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ جی ایچ کیو کا رخ کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے طویل مشاورت کی۔ یہ غیر معمولی سفارتی نقل و حرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کی راہداری اب اسلام آباد کے جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔
    ​​پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے دہائیوں پر محیط وہ دفاعی تعلقات ہیں جو اس نے چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور اردن جیسے ممالک کے ساتھ استوار کیے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ہونے والا “پاک-سعودی دفاعی معاہدہ” اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے کا ایک ناگزیر حصہ بنا دیا ہے۔
    ​پاکستان کی یہ ‘عسکری سفارت کاری’ روایتی بیوروکریٹک سست روی سے پاک، نظم و ضبط کی حامل اور نتائج پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہو یا کسی ممکنہ عالمی امن مشن کی تشکیل، دنیا اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔
    ​​آج جب دنیا بلاک پولیٹکس اور نظریاتی تقسیم کا شکار ہے، پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک ‘غیر جانبدار مگر متحرک’ (Neutral yet Proactive) پالیسی اپنائی ہے۔ یہ محض ایک دفاعی ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ اس اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف ہے جو پاکستان کو اس کی جغرافیائی حیثیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے حاصل ہے۔
    ​پاکستان اب دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے۔ عالمی ثالثی کے گرتے ہوئے معیار اور اقوامِ متحدہ کی محدود ہوتی صلاحیت کے اس دور میں، پاکستان کی عسکری قیادت کا بطور “ڈپلومیٹک کور” ابھرنا عالمی امن کے لیے ایک نیک شگون ہے۔
    ​خلاصہِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اب دفاعی حصار سے نکل کر عالمی امن کی بساط پر ایک ایسا ‘گیم چینجر’ بن چکا ہے جس کے بغیر استحکام کی کوئی بھی کوشش ادھوری رہے گی۔

  • پہلگام کا بیانیہ  ،حقیقت، سیاست اور سوالات…شیخ  راشد عالم

    پہلگام کا بیانیہ ،حقیقت، سیاست اور سوالات…شیخ راشد عالم

    جنوبی ایشیا میں بیانیے کی جنگ اب محض الفاظ کی حد تک نہیں رہی بلکہ یہ سفارت کاری، میڈیا اور عوامی رائے کے میدان میں ایک مستقل محاذ بن چکی ہے۔ ایسے میں بعض واقعات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ محض ایک سکیورٹی معاملہ نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل سیاسی حکمت عملی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پہلگام واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے ایک سال گزرنے کے باوجود مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس نے اس معاملے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت آج تک اس واقعے کے حوالے سے اپنے مؤقف کے حق میں قابلِ اعتبار شواہد پیش نہیں کر سکا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک سادہ سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
    یہاں اصل سوال صرف ایک واقعے کا نہیں بلکہ اس کے بعد تشکیل پانے والے بیانیے کا ہے۔ جدید دور میں کسی بھی واقعے کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ اسے کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا، ریاستی بیانات اور سفارتی سرگرمیاں مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں جو عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام واقعہ بھی جلد ہی ایک بڑے بیانیاتی تنازعے میں تبدیل ہو گیا۔
    بھارت کی جانب سے فوری طور پر الزام تراشی اور اس کے بعد میڈیا میں اس بیانیے کو تقویت دینا ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بیانیے میں موجود خلا نمایاں ہونے لگے۔ جب سوالات اٹھے تو ان کے تسلی بخش جوابات سامنے نہیں آ سکے، جس نے خود بھارتی مؤقف کو کمزور کیا۔
    دوسری جانب پاکستان نے اس صورتحال میں نسبتاً محتاط اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا۔ بارہا یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ یہی وہ نقطہ تھا جس نے عالمی حلقوں میں توجہ حاصل کی، کیونکہ یکطرفہ الزامات کے بجائے شواہد پر مبنی مؤقف ہمیشہ زیادہ وزن رکھتا ہے۔
    پہلگام واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سفارتی بیانات تیز ہوئے، میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف مہمات چلیں اور عسکری سطح پر بھی تناؤ محسوس کیا گیا۔
    غالباً اسی واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے ایک جارحانہ بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، تاہم اسے عالمی سطح پر وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے سفارتی محاذ پر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے اس کا وقار عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوا، جبکہ بھارت کو اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
    یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیوں، اطلاعات اور سفارت کاری کے میدان میں بھی اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جس فریق کا مؤقف زیادہ مضبوط، شواہد پر مبنی اور متوازن ہو، وہی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل
    کرتا ہے۔
    اس تناظر میں کشمیر کا مسئلہ بھی ایک اہم پس منظر فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اسے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے داخلی معاملہ کہتا ہے یہی بنیادی اختلاف ہر ایسے واقعے کو مزید حساس بنا دیتا ہے اور دونوں ممالک کے بیانیوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔
    عطا تارڑ نے اپنی گفتگو میں بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسے ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ الزام اپنی جگہ، لیکن اس سے ایک بڑی حقیقت سامنے آتی ہے کہ میڈیا اب صرف خبر دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ ریاستی بیانیے کی تشکیل میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
    مزید برآں، اقلیتوں کے حقوق، ہندوتوا نظریے اور خطے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت جیسے موضوعات بھی اس بیانیے کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب کسی ملک کے اندرونی حالات پر سوالات اٹھتے ہیں تو اس کا اثر اس کی خارجی پالیسی اور عالمی ساکھ پر بھی پڑتا ہے۔
    پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیوں اور عزم کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے، جو ایک حقیقت ہے کہ ملک نے اس حوالے سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ یہی پس منظر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے اور کسی بھی الزام کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ پہلگام واقعہ گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا تھا، جہاں ایک حملے کے بعد جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھارت نے فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
    یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک واقعہ بیانیے میں ڈھلتا ہے اور پھر بیانیہ سفارت کاری، سیاست اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، شواہد اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ بالآخر سچائی ہی وہ بنیاد ہے جس پر دیرپا استحکام قائم ہو سکتا ہے۔

  • سندھ میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری، کراچی کا موسم کیسا رہے گا؟

    سندھ میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری، کراچی کا موسم کیسا رہے گا؟

    کراچی:(ویب ڈیسک )سندھ بھر میں ہیٹ ویو سے متعلق الرٹ جاری کر دیا گیا، اس دوران دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بالائی اور وسطی اضلاع میں آج سے 3 مئی کے دوران ہیٹ ویو کا امکان ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔جامشورو، دادو، بے نظیر آباد، کشمور، گھوٹکی، سانگھڑ، خیرپور، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔کراچی میں بھی جمعرات تک گرم دن ریکارڈ ہو سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری تک تجاوز کر سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 60 فیصد تک بڑھنے کے سبب گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ کراچی ہیٹ ویو والے علاقوں میں شامل نہیں کیونکہ کراچی زیریں سندھ میں واقع ہے، ہیٹ ویو وسطی اور بالائی سندھ پر اثرانداز ہوگا۔ماہرین نے گرمی کی لہر کے دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کو احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ دن کے وقت سورج کی براہ راست تپش کے دوران گھروں سے کم نکلا جائے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔