مظفر آباد:(ویب ڈیسک ) الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے تمام حلقوں میں پولنگ 27 جولائی 2026 کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق امیدوار 9 جون سے 19 جون 2026 تک ریٹرننگ افسران کے پاس اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 20 جون کو ہوگی جبکہ درست قرار دیے گئے امیدواروں کی ابتدائی فہرست بھی اسی روز جاری کی جائے گی۔
کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 21 جون سے 24 جون تک الیکشن کمیشن میں دائر کی جا سکیں گی، اپیلوں کی سماعت 26 اور 27 جون کو ہوگی جبکہ فیصلے 28 سے 29 جون تک سنائے جائیں گے۔
شیڈول کے مطابق امیدوار 30 جون تک اپنے کاغذات واپس لے سکیں گے۔ انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی فہرست یکم جولائی کو جاری کی جائے گی جبکہ 2 جولائی کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔ اسی روز انتخابی نشانات سمیت امیدواروں کی حتمی فہرست بھی شائع کر دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات شیڈول کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کی تھی۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین کی نمائندگی تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، قرارداد کے مطابق انتخابی پیچیدگیاں دور کرنا اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔
قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے، سیاسی جماعتوں، بارایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اورآئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان، الیکشن شیڈول بھی جاری
-

امریکا اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی اخبار نے د عویٰ کیا ہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف مزید جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کہا ہے جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنایاجاتا،تب تک دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے اور جنگ کومزید پھیلانا نہیں چاہتی۔
دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے۔
امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہوئے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، دونوں ممالک کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو اہے
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے، 4 بچوں سمیت 9 افراد شہید
غزہ(ویب ڈیسک )غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 9 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق علی الصبح ہونے والے حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جب کہ الشاطی پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک فلسطینی شہید ہوا۔
فلسطینی سول ڈیفنس نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

عامر خان تیسری مرتبہ دلہا بننے کیلئے تیار، شادی کی تاریخ سامنے آگئی
ممبئی(ویب ڈیسک ) بالی وڈ اسٹار عامر خان تیسری مرتبہ دلہا بننے کی تیاری کر رہے ہیں ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 61 سالہ اداکار آئندہ ماہ اپنی گرل فرینڈ گوری اسپراٹ کے ساتھ تیسری شادی کرنے جا رہے ہیں۔
یہ شادی 5 جولائی کو انتہائی نجی اور سادگی سے ہوگی جس میں صرف دونوں خاندانوں کے قریبی افراد اور چند خاص دوست شرکت کریں گے جب کہ کورٹ میرج یا گھر پر ہی دستخط کرکے اس رشتے کو باقاعدہ نام دیا جائے گا۔
رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ عامر خان اور گوری گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے ساتھ رہ رہے ہیں اور ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عامر خان نے گزشتہ سال اپنی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر ممبئی میں میڈیا کے سامنے پہلی بار گوری اسپراٹ کو اپنی گرل فرینڈ کے طور پر متعارف کروایا تھا۔
یہ عامر خان کی تیسری شادی ہوگی، اس سے قبل انہوں نے 1986 میں رینا دتہ سے شادی کی تھی جو 2002 میں ختم ہوئی، ان سے عامر کے دو بچے جنید اور آئرا ہیں۔
اس کے بعد عامر خان نے 2005 میں ڈائریکٹر کرن راؤ سے دوسری شادی کی اور 2021 میں ان سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تاہم دونوں مل کر اپنے بیٹے آزاد کی پرورش کر رہے ہیں
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے
واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہوئے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے ۔ دونوں ممالک کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو اہے جبکہ اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حزب اللہ کو حملے روکنا اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہوگا، پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہوگا جبکہ غیرریاستی عناصر داخل نہیں ہوسکیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں، اسرائیل اور لبنان جامع معاہدہ کیلئے اقدامات کریں گے، جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

بنگلادیش کو شکست دیکر پاکستان انڈر 18 ایشیاکپ ہاکی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا
جاپان(ویب ڈیسک )پاکستان انڈر 18 ہاکی ٹیم بنگلادیش کو شکست دیکر انڈر18 ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی۔
جاپان میں جاری ایونٹ کے پول بی کا آخری میچ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان کھیلا گیا ، جس میں پاکستان نے بنگلا دیش کو 2 کے مقابلے میں 5 گول سے ہرایا۔
تیسرے منٹ میں عبداللہ نے پاکستان کو برتری دلادی ، بارہویں منٹ میں منا اسلام نے مقابلہ برابر کردیا ۔
دوسرے کوارٹر میں کوئی ٹیم گول نہ کرسکی ،تیسرے کوراٹر میں عدیل نے پاکستان کی جانب سے دوسرا گول بنایا،لیکن تین منٹ بعد ہی بنگلادیش نے مقابلہ پھر برابر کردیا۔ 39ویں منٹ میں پاکستان کو پنالٹی اسٹروک ملا جس پر حیدر اعصام نے گول بنایا۔
اس کے بعد عبداللہ اعوان اور محمد یحییٰ نے فیلڈ گول بنا کر پاکستان کو 2 کے مقابلے میں 5 گول سے کامیابی دلادی۔
یوں پاکستان نے ایونٹ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا جہاں اس کا جمعہ کو بھارت سے مقابلہ ہوگا
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں،ایران کیساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر بات جاری ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جارہے ہیں، ممکن ہے کہ ہفتے کے آخرتک کوئی پیشرفت ہو، ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دنوں میں طے پاسکتے ہیں، ایران کی افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدہ ہوتے ہیں آبنائے ہرمز مکمل کھل جائے گی، آبنائے ہرمز اور لبنان کے معاملے کو الگ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، حزب اللہ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ اسرائیل پرحملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر بات جاری ہے، ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
-

تصویر میں دکھائی دینے والا منہ کس گھوڑے کا ہے؟کیا بتا سکتے ہیں
اگر ہاں تو یہ تصویر درحقیقت کافی چیلنجنگ ثابت ہوگی اور سر کھجانے پر مجبور کر دے گی۔
نظروں کو دھوکا دینے والی تصاویر پہیلیوں کے شوقین افراد میں بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔
تو کیا آپ اپنی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت کو آزمانا پسند کریں گے؟
جیسا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں دائیں اور بائیں 2 گھوڑوں کے جسم نظر آرہے ہیں جبکہ درمیان میں ایک گھوڑے کا منہ ہے۔گھوڑے کا منہ کیمرے کی جانب دیکھ رہا ہے اور آپ کو بس یہ بتانا ہے کہ یہ دائیں یا بائیں یا 1 یا 2 نمبر میں سے کس گھوڑے کا منہ ہے۔یہ دونوں گھوڑے اس طرح کھڑے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ سر بائیں جانب کھڑے گھوڑے کا ہے یا دائیں جانب والے گھوڑے۔دونوں گھوڑوں کی ایک جیسی رنگت بھی کسی قسم کی مدد کرنے کی بجائے دماغ کو مزید چکرا دیتی ہے۔تو کیا آپ اس کا درست جواب دے سکتے ہیں؟ ذرا غور سے تصویر کو دیکھیں اور پھر اپنا جواب دیں۔
تو کیا آپ جواب دینے کے لیے تیار ہیں ؟
ویسے ہم اس کا جواب بتا دیتے ہیں اور ہے دائیں جانب کھڑا گھوڑا۔
دائیں جانب کھڑے گھوڑے کے ایال یا گردن کے بالوں کی رنگت سیاہ رنگ کی ہے جو چہرے کے اوپر بھی نظر آرہے ہیں جبکہ بائیں جانب کے گھوڑے کے ایال ہلکے رنگ کے ہیں۔ -

پاکستان کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، محمد زبیر عمر،ہمدرد شوری سے خطاب
ماہانہ اجلاس سے جنرل(ر )معین الدین حیدر ودیگر کا خطاب ، محترمہ سعدیہ راشدبھی موجود تھیں
کراچی (پاکستان واچ نیوز)سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا معاشی ترقی کے تین مراحل ہیں پہلے ڈیفالٹ سے بچائو، جس کے بعد استحکام اور پھر اقتصادی نمو۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا کہ استحکام کا مرحلہ غیر معمولی طور پر طویل ہوگیا۔ استحکام کے دور میں سب سے زیادہ بوجھ عام شہری، متوسط طبقے اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔کیوں کہ اس دوران معاشی ترقی محدود رہتی ہے، روزگار کے مواقع کم پیدا ہوتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ گزشتہ روز ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے ماہانہ اجلاس بہ عنوان ’’پر ی بجٹ 2026ء معاشی چیلنجز اور ممکنہ حل‘‘ پر بہ طور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر نے انجام دی۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
محمد زبیر نے کہا مسئلہ صرف آمدنی بڑھانے کا نہیں بلکہ اخراجات کو قابو میں لانے، وسائل کے بہتر استعمال اور پائیدار معاشی اصلاحات کا بھی ہے۔پاکستان کی آبادی میں سالانہ اضافہ تقریباً 2.6 فیصد ہے، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں اوسط معاشی ترقی تقریباً 2.2 فیصد رہی۔ جب معیشت کی ترقی آبادی کے اضافے سے کم ہو تو نتیجہ بے روزگاری، غربت اور قوتِ خرید میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اس وقت پاکستان میں تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔اگر موجودہ ٹیکس بوجھ کے باوجود عوام، صنعت اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہیں تو مزید بوجھ کس حد تک قابلِ برداشت ہوگا؟لوگوں کے مسائل کا حل یہ ہوتا ہے کہ اُن کے لیے روزگار کے متعدد مواقع میسر ہوں۔ یہ کام کارپوریٹ سیکٹر کرتا ہےلیکن پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے کاروباری ماحول کو زیادہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں مقامی صنعت اور برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کا اثر برآمدات پر بھی پڑتا ہے۔ برآمدات کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں،کیوں کہ یہی شعبہ ملک میں زرمبادلہ لاتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور صنعتی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو معاشی نمو کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔مزید برأں ٹیکسوں کی شرح پہلے ہی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح شرحِ سودبھی کاروباری سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہےجو پہلے ہی زیادہ ہے۔ جب کاروبار کے لیے قرض لینا مہنگا ہو، بجلی مہنگی ہو اور ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہو تو سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہاپاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ حکومتی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ ٹیکس وصولیاں اور دیگر آمدنی ان کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ منظور ہوتے ہی ملک کو پہلے ہی دن بڑے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر سال یہ تجاویز سامنے آتی ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، مزید شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور آمدنی بڑھائی جائے، لیکن سرکاری اخراجات میں کمی اور سادگی اختیار کرنے پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان کے ابتدائی دور میں چین ہم سے کہیں زیادہ غریب ملک تھا۔ اس وقت چین کی فی کس آمدنی بھی پاکستان سے کم تھی اور غربت کی شرح بہت زیادہ تھی۔ ایک موقع پر شدید زلزلے کے بعد دنیا بھر نے چین کو امداد، خوراک اور ادویات فراہم کرنے کی پیشکش کی، لیکن چینی قیادت نے خود انحصاری کو ترجیح دی اور قومی وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقی کا راستہ اختیار کیا۔چین نے سادگی، محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو اپنایا۔چین نے کفایت شعاری اور بچت کی پالیسی اختیار کی۔ انہی بچتوں کو صنعتوں کے قیام، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور معاشی ترقی پر خرچ کیا گیا۔ نتیجتاً چین ایک مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرا۔
کموڈور(ر)سدید انور ملک نے کہا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج ترقی کی طرف بڑھا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا کریں اور دستیاب وسائل کے اندر رہ کر فیصلے کریں۔اگر ہم برآمدات میں اضافہ کریں، ترسیلاتِ زر کو بہتر انداز میں استعمال کریں اور درآمدات کو مؤثر طریقے سے منظم کریں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ طویل المدت حل بیرونی امداد نہیں بلکہ خود کفالت اور مضبوط معیشت ہے۔ معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ بدعنوانی اور غیر مؤثر انتظامی ڈھانچے کسی بھی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اگر شفافیت، احتساب اور بہتر گورننس کو یقینی بنایا جائے تو معاشی کارکردگی میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔
انجینئر پرویز صادق نے کہا بعض اوقات مالی مجبوریوں اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا فرق ہمیں قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے اور وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے تو مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام محدود طبقے تک مرکوز ہے۔ ایک چھوٹا سا رجسٹرڈ طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ نسبتاً کمزور اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ پڑتا ہے، جس سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہماری انتظامی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی خلا موجود ہے۔
اجلاس سے ڈپٹی اسپیکر شوریٰ کرنل (ر)مختار احمد بٹ،سینئر صحافی مظفر اعجاز،ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین، ڈائریکٹر ہمدرد فائونڈیشن پاکستان سید محمد ارسلان، ظفر اقبال، مبشر میر، انجینئر ابن الحسن، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، ہما بیگ، بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل ، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین، شہلا احمد، سلطان چاولہ، جسٹس (ر) ضیا پرویز، پروفیسر ڈاکٹر امجد جعفری اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔
