Blog

  • ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن قرار، برطانوی میڈیا

    ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن قرار، برطانوی میڈیا

    واشنگٹن (ویب ڈیسک) اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
    ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنے عزائم ترک نہیں کرتا اس وقت تک مذاکرات بے معنی ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایران چاہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے کیونکہ ہماری فون لائنز محفوظ ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • آر ایل این جی کے ذخائر میں کمی، گیس بحران شدت اختیار کرگیا

    آر ایل این جی کے ذخائر میں کمی، گیس بحران شدت اختیار کرگیا

    لاہور: (ویب ڈیسک )گیس کا بحران آر ایل این جی نہ آنے کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا۔ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، پاور اور کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق گیس کی سپلائی صرف 700 ملین کیوبک فٹ پرآگئی جو ایران امریکا جنگ سے پہلے روزانہ 1200 ملین کیوبک فٹ تھی۔ذرائع سوئی ناردرن کا کہنا ہے گیس کا شارٹ فال600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔دوسری جانب سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ کھانے کے تینوں اوقات میں پوری گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • کراچی کےرایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی

    کراچی کےرایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی

    ٹیکساس: (ویب ڈیسک )کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی۔کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب احمد نے ٹیکساس کے شہر دی ووڈ لینڈز میں 226.3 کلومیٹر کا آئرن مین ٹرائیتھلون 15 گھنٹے، 20 منٹ اور 6 سیکنڈز میں مکمل کرکے آئرن مین چیلنج مکمل کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔آئرن مین دنیا کے سخت ترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس میں ایتھلیٹس کو بغیر کسی وقفے کے تین مقابلوں کو یکے بعد دیگرے مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں 3.8 کلومیٹر کا کھلے پانی میں تیراکی، 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ، اور 42.2 کلومیٹر کی مکمل میراتھون دوڑ شامل ہے۔ٹیکساس میں ہونیوالا یہ ایونٹ نارتھ شور پارک سے شروع ہوا جہاں جھیل ووڈ لینڈز میں تیراکی کا مرحلہ تھا۔ جھیل کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، رایان نے تیراکی کا مرحلہ 1 گھنٹہ، 45 منٹ اور 36 سیکنڈز میں مکمل کیا۔سائیکلنگ کے مرحلے میں ایتھلیٹس دی ووڈلینڈز کے کچھ حصے سے گزرے اور پھر شمالی ہیرس کاؤنٹی میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر دو چکر لگائے۔ رایان نے 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ 7 گھنٹے، 27 منٹ اور 49 سیکنڈز میں مکمل کی۔میراتھون دوڑ جھیل ووڈ لینڈز کے گرد3 چکروں پر مشتمل تھی، جو علاقے ہپی ہالو سے گزرتی ہے ۔رایان نے دوڑ کا مرحلہ 5 گھنٹے، 38 منٹ اور 57 سیکنڈز میں مکمل کیا۔واٹر وے ایونیو پر فنش لائن عبور کرنے کے بعد اس نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا اور جشن منایا۔انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں رایان نے لکھا کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں آئرن مین مکمل کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں، اور اسے اپنی زندگی کا مشکل ترین تجربہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی نئی نسل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، اور یہ کہ سب کچھ ممکن ہے، خوابوں کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔واضح رہے کہ 2026 کے آئرن مین ٹیکساس کا کٹ آف ٹائم 17 گھنٹے تھا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری

    گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری

    اسلام آباد :(ویب ڈیسک ) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس منعقد ہوا۔دوران اجلاس اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دے دی۔اجلاس میں کمیٹی نے جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی اور گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔کمیٹی نے بلوچستان میں تعینات افسران کیلئے خصوصی مراعاتی پیکیج بھی متعارف کروایا مزید برآں ہاکی ٹیم کیلئے 3 کروڑ روپے انعام جبکہ نیب میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کیلئے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھنے کی منظوری دی گئی۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    موگادیشو(ویب ڈیسک )بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ان ہی میں سے ایک مغوی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔آڈیو میں امین بن شمس نے کہا کہ’ابو ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جارہے ہیں’۔ امین بن شمس نے روتے ہوئے کہا ‘مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیے گا، عائشہ (اہلیہ) اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کرلیے گا، خدا حافظ’۔امین بن شمس کے والد نے نجی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ’ہمارا ایک ہی بچہ ہے اور روزگار کے لیے ہم نے اسے بھیجا تھا، وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، پہلی بار گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ ہوگیا، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ کسی طرح ہمارے بچے کو صحیح سلامت واپس لادیں’۔مغوی کی اہلیہ عائشہ نے کہا ‘میرے شوہر نے یہی بتایا کہ ہوائی فائرنگ کرکے ہمیں ڈرایا جارہا ہے اور ہمیں مارنے کے لیے لے جایا جارہا ہے، جس بچے سے میں ابھی تک ملا نہیں، مجھے نہیں لگتا اب اس سے کبھی مل پاؤں گا’۔صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر حملہ، 11 پاکستانی کریو بھی یرغمالیوں میں شامل شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا، جہاز پر 11 پاکستانی کریو بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی کریو سے رابطہ نہیں ہوسکا جب کہ جہاز پر بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔ کریوکے خاندان نے بتایا کہ انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا قذاقوں سے بات چیت کر رہا ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایرانی ڈرونز نے سپر پاور کے چھکے چھڑا دئیے…نشید آفاقی

    ایرانی ڈرونز نے سپر پاور کے چھکے چھڑا دئیے…نشید آفاقی

    جدید جنگی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ طاقت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب صرف ایٹمی ہتھیار، ٹینکوں کی قطاریں یا جدید لڑاکا طیارے ہی برتری کی ضمانت نہیں رہے، بلکہ ذہانت، حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی بدلتی دنیا کو معروف دفاعی تجزیہ کارخریف اکرم نے اپنی کتاب In The Shadow Of The Shahedنہایت گہرائی سے بیان کیا ہے، جہاں ایران کی ڈرون صنعت کو ایک نئے عالمی رجحان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    ایران کی مثال اس حوالے سے غیر معمولی ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری تنہائی کا شکار رہا، اس نے محدود وسائل کے باوجود اپنی کمزوری کو طاقت میں بدل دیا۔ روایتی فضائی قوت میں کمی کو ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پورا کیا اور آج وہ اس میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

    اکرم خریف کے مطابق، ایران نے ڈرونز کو محض ایک ہتھیار کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایک مکمل حکمت عملی کے طور پر اپنایا۔ اس حکمت عملی کی بنیاد کم لاگت، زیادہ اثر اور مسلسل اپ گریڈیشن پر رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملے، انٹیلی جنس اور نفسیاتی دباؤ کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

    یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ایران کے ڈرونز نے عالمی طاقتوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ وہ ممالک جو اربوں ڈالر خرچ کر کے جدید جنگی نظام تیار کرتے ہیں، انہیں کم لاگت ایرانی ڈرونز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں بنانا پڑ رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ‘‘سپر پاور’’ کا روایتی تصور چیلنج ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

    ایران کی اس کامیابی کے پیچھے ایک واضح فلسفہ کارفرما ہے
    ‘‘جنگ وسائل سے نہیں، سوچ سے جیتی جاتی ہے۔’’

    ایران نے اس سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے اپنی دفاعی پالیسی کو تبدیل کیا۔ اس نے مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے ایسے ڈرونز تیار کیے جو کم خرچ، آسانی سے تیار ہونے والے اور بیک وقت بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے اسے ایک نئی قسم کی عسکری
    طاقت فراہم کی جسے ‘‘اسیمٹرک وارفیئر’’ کہا جاتا ہے۔
    اکرم خریف اپنی کتاب میں ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران نے ڈرونز کو صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بھی بنا لیا۔ مختلف خطوں میں اس ٹیکنالوجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جہاں ڈرونز کے ذریعے نہ صرف عسکری برتری حاصل کی جا رہی ہے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
    یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایران اس میدان میں اتنی تیزی سے کیسے آگے بڑھا؟ اس کا جواب پابندیوں میں چھپا ہے۔ جب کسی ملک پر ٹیکنالوجی کی رسائی محدود کر دی جائے تو وہ مجبوراً خود انحصاری کی طرف جاتا ہے۔ ایران نے بھی یہی کیا۔ اس نے مقامی انجینئرز، یونیورسٹیوں اور ریسرچ اداروں کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا نظام بنایا جو مکمل طور پر داخلی صلاحیتوں پر مبنی ہے۔
    یہی خود انحصاری آج اس کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔ ایران نہ صرف اپنے لیے ڈرون بنا رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل بن چکا ہے کہ کس طرح کم وسائل میں جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے۔
    ایران کے ڈرون پروگرام کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی لچک ہے۔ روایتی ہتھیاروں کے برعکس، ڈرونز کو آسانی سے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو شامل کر کے انہیں مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مسلسل اس میدان میں ترقی کر رہا ہے اور پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
    اکرم خریف کے تجزیے کے مطابق، مستقبل کی جنگیں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ میدان جنگ میں انسانوں کی جگہ مشینیں لیں گی، اور فیصلہ کن عنصر رفتار اور ڈیٹا ہوگا۔ ایران نے اس تبدیلی کو وقت سے پہلے سمجھ لیا اور اسی لیے آج وہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں بلکہ کئی حوالوں سے آگے دکھائی دیتا ہے۔
    تاہم، یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اس میدان میں چیلنجز موجود ہیں۔ جدید اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی ایران کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ لیکن ایران کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ وہ ہر چیلنج کو ایک نئے موقع میں بدل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیش رفت رکنے کے بجائے مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کو صرف جنگ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سول مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ زراعت، ریسکیو آپریشنز، سرحدی نگرانی اور قدرتی آفات میں مدد کے لیے بھی ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ پہلو اس صنعت کو مزید پائیدار اور مفید بناتا ہے۔
    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی ڈرون صنعت ایک سبق بھی دیتی ہے۔ یہ سبق ہے خود انحصاری کا، جدت کا اور حالات سے فائدہ اٹھانے کا۔ ایک ایسا ملک جسے کمزور سمجھا جاتا تھا، اس نے اپنی حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری کامیابی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقصد واضح ہو اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل بھی بڑی کامیابی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
    ایرانی ڈرونز نے واقعی سپر پاور کے ‘‘چھکے چھڑا دیے’’ ہیںاور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں، بلکہ مزید تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

  • خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے … صبیحہ خان صبیحہ

    خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے … صبیحہ خان صبیحہ

    سیانے کہتے ہیں کہ کھانا حیات کو برقرار رکھنے کے لئے کھایا جاتا ہے ،کم کھاؤ اور زیادہ جیو مگر بہت لوگوں کا خیال ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔دیکھا جائے تو خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے ، جہاں ملک میں مہنگائی اور دیگر مسائل کی بھر مار ہے وہیں مختلف پکوانوں کی یلغار نے لوگوں کو بسیار خوری پر مجبور کر دیا ہے، ہوٹلز ، فوڈ کورٹس ،باربی کیو نائٹ ، غیر ملکی کھانوں کی مقبولیت نے لوگوں کو کریزی بنا دیا ہے ہزاروں روپوں کا کھانا منٹوں میں چٹ کر جاتے ہیں ، شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی ڈھیروں مختلف اقسام دیکھ کر کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم ترقی پذیر ملک کے باشندے ہیں۔ بلکہ لگتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک پیٹو قوم ہیں جن کی سوچ کھانے سے شروع ہوتی ہے اور کھانے پر ختم ، ’’ہوٹلوں، شادی ہالز اور سیاسی جلسوں میں ایسے ہی دیگر مقامات پر ’’کھانے کے دشمن‘‘ با کثرت پائے جاتے ہیں ، کھانا انسان کی کمزوری ماناجاتاہے،اور یہ سچ ہے کہ انسان دنیا میں زیادہ تر جدوجہد کھانے کے لئے کرتا ہے ،ایک طرف لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی بے تحاشہ اقسام مہنگائی کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں ،ایک زمانہ تھا کہ زیادہ تر لوگ گھر کے پکے غذائیت سے بھر پور اور متوازن کھانوں کو بہت اہمیت دیتے تھے بلکہ ایسے افراد کو رحم بھری نظر سے دیکھتے تھے جو اپنی فیملی سے دورہونے کے سبب ہوٹلوں میں کھانا کھانے پر مجبور ہوتے تھے،مگر اب لوگ گھر کے کھانوں سے زیادہ ہوٹلنگ کرنا پسندکرتے ہیں ملک میں مہنگائی اس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ عام آدمی کی سانس بھی قسطوں پر چلتی محسوس ہوتی ہے۔آٹا، چینی، بجلی، گیس ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ہر گفتگو کا آغاز اور اختتام مہنگائی کے شکوے سے ہوتا ہے۔ مگر اسی ملک میں جب شام ڈھلتی ہے تو ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور فوڈ کورٹس کا منظر کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے رش ایسا کہ جیسے آج ‘‘کھانا مفت’’ کا عالمی دن منایا جا رہا ہو۔یہ تضاد محض اتفاق نہیں، ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا آئینہ ہیکبھی کھاناضرورت تھا، اب مشغلہ ہیکبھی دسترخوان گھر کی پہچان ہوتا تھااب لوکیشن اہم ہو گئی ہے آج کا نوجوان یہ کم پوچھتا ہے کہ کھانے میں کیا ہے، زیادہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کھانا کہاں سے آیا ہے۔ ذائقہ ثانوی ہو چکا ہے، برانڈ اور ماحول بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ اب کھانا کھانے سے پہلے کیمرہ ‘‘کھاتا’’ ہے۔ ہر پلیٹ ایک پوسٹ ہے، ہر نوالہ ایک اسٹوری گویا ہم اپنے معدے سے زیادہ اپنے فالوورز کو سیر کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک عام سی کافی بھی تب تک ادھوری ہے جب تک اس کے ساتھ ایک ‘‘پرفیکٹ تصویر’’ نہ لی جائیدلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کا رونا بھی وہی لوگ سب سے زیادہ روتے ہیں جو ہفتے میں کئی بار باہر کھانا کھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں گویا شکایت بھی برقرار اور شوق بھی زندہ یہ ایک ایسا معاشی اور نفسیاتی تضاد ہے جسے ہم نے معمول بنا لیا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم ضرورت’’ اور ‘‘نمائش’’ کے درمیان فرق کھو چکے ہیں سادگی اب کمزوری لگتی ہے اور فضول خرچی کو ہم لائف اسٹائل’’ کا نام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں قرضیلے کرتقریبات کرنا، مہنگے کھانوں کی تصاویر سے اپنی حیثیت بڑھانا یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہم حقیقت سے زیادہ تاثر کے اسیر ہو چکے ہیں۔یقیناً مشکل حالات میں انسان خوشی تلاش کرتا ہے، اور کھانا ایک آسان خوشی ہے مگر جب یہی خوشی مقابلہ بن جائے تو پھر یہ بوجھ بن جاتی ہے۔
    ہم وقتی لطف کے لییمستقل مسائل کو دعوت دے رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر سانی کریں کھانا دکھاوے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہونا چاہیے سادہ دسترخوان میں جو سکون اور برکت ہے، وہ مہنگے ریسٹورنٹس کی چکاچوند میں کہاں؟کھانے کے دشمن، اپنی صحت کے دشمن بن گئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض افراد اپنی غیر ضروری خوراک کی عادت سے خود اپنے دشمن بن چکے ہیں وہ ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کھانے کے سوا،نئے کھانے آزمانے کے شوق میں رہتے ہیں اور پھر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال نے ماہرینِ صحت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہیلیکن سوال یہ ہے کہ اس جنون کی قیمت کیا ہے؟ فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ نے نوجوان نسل کی صحت چھین لی ہے۔ موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض عام ہو گئے ہیں۔ہم جسمانی توانائی سے زیادہ کیلوریز کے قیدی بن چکے ہیں ان افراد کی مرغوب غذائیں زیادہ ترمختلف دعوتوں میں ہی پائی جاتی ہیں جہاں یہ لوگ شرطیں باندھ کر کھاتے ہیں اور پھر کھانا پلیٹوں سے اس طرح غائب ہوتا ہے جیسے سرکاری اسپتالوں سے دوائیں اور سرکاری خزانے سے اس کا خزانہ !

  • تصویر کا دوسرا رخ:  فرحا نہ اشرف فرحانہ

    تصویر کا دوسرا رخ: فرحا نہ اشرف فرحانہ

    اے کہ دل تیرا ہے فکر بادہء گلفام میں
    زہر بھی ہوتا ہے اکثر خوبصورت جام میں
    ظفراحمد صدیقی

    ہماری زندگی بھی تصویر ہی کی مانند ہے جو دکھائی دیتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا۔ جیسے تصویر میں ایڈیٹنگ ہوتی ہے فلٹر ہوتا ہے ہماری مصنوعی مسکراہٹ شامل ہوتی ہے جسے دیکھنے والا حقیقت سمجھتا ہے۔ جبکہ حقیقی شخص و منظر اس کے برعکس ہوتا ہے۔
    ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر چیز خوبصورت فریم میں قیددکھائی دیتی ہے اگر سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینوں پر مسکراتے چہرے جگمگاتی روشنیاں اور کامیابیوں کی لمبی فہرستیں یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو بظاہر تو مکمل اور دلکش لگتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی حقیقت بھی اتنی ہی روشن ہے اس تصویر کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے ؟
    ہمارے معاشرے میں بھی یہی تضاد اور نمایاں ہے ایک طرف ترقی جدیدیت اور خوشحالی کے دعوے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل ہیں
    ہم بلند و بانگ دعوے تو سنتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے
    یہ وہ دوسرا رخ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    بالکل اسی طرح ہمارے رویوں میں بھی دہرا پن بڑھتا جا رہا ہے ہم بظاہر اخلاقیات اور اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں اکثر ان سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں سچ بولنے کا درس دینے والے خود مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔انصاف کی بات کرنے والے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
    یو ں معاشرہ ایک ایسی تصویر بن جاتا ہے جس کا ایک رخ خوبصورت اور دوسرا دھندلا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔
    زندگی کی روز مرہ ہنگامہ خیزی میں انسان جو کچھ دیکھتا سنتا اور سمجھتا ہے وہ اکثر مکمل حقیقت نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔

    اشفاق احمد کہتے ہیں کہ

    بانو قدسیہ ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔میں ہر روز انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔یونیورسٹی پہنچ کر میں گاڑی سے اتر کر دوسری طرف سے آتا اور دروازہ کھولتا میری( بیوی) بانو قدسیہ گاڑی سے اترتی
    اور سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہو جاتی پھر چھٹی کے وقت دوبارہ بانو قدسیہ (بیوی) کو لینے جاتا اور اسے گاڑی میں بٹھا کر واپس گھر لے آتا۔
    میری بیوی بانو قدسیہ کی سہیلیاں یہ منظر دیکھتیں اور رشک کرتیں اور کہتیں کہ ہمیں بھی ایسا شوہر ملے۔ان کے درمیان کتنی محبت اور چاہت ہے۔
    اشفاق احمد مزید کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان کوئی ایسی محبت نہ تھی اصل میں گاڑی کا دروازہ خراب تھا جو کہ اندر سے نہیں کھلتا تھا اس لیے مجھے باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا۔

    بقول شاعر

    ظاہری حالت پر کرنہ باطن کا قیاس
    خوبیء تن پر دلالت کر نہیں سکتا لباس

    ظفراحمد صدیقی

    آج کا انسان دکھاوے کہ اس ہجوم میں اپنی اصل پہچان کھوتا جا رہا ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کے چند خوشگوار لمحات دیکھ کر اپنے حالات کا موازنہ کرتے ہیں اور خود کو کمتر اور محروم محسوس کرنے لگتے ہیں۔
    بیشمار گھروں میں دوسروں کی ظاہری نمودو نمائش یا رہن سہن دیکھ کر لوگ اپنا ہنستا بستا گھر اجاڑدیتے ہیں۔ گھروں میں مسائل اور جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک اداسی اور کہانی ہوتی ہے ہر کامیابی کے پیچھے کہیں ناکامیاں چھپی ہوتی ہیں اور ہر روشن چہرے کے پیچھے تھکن پریشانی اور جدوجہد کا ایک طویل سفر ہوتا ہے۔
    لیکن ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہی نہیں ہیں۔
    تصویر کا دوسرا رخ یہی ہے کہ ہر چمک کے پیچھے اندھیرابھی ہوتا ہے۔ہر قہقہے کے پیچھے کوئی خاموشی بھی چھپی ہوتی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس چمک کو حقیقت نہ سمجھیں۔بلکہ حقیقت کے پیچھے بھی ایک حقیقت موجود ہوتی ہے۔اگر ہم صرف دیکھنے پر اکتفا کریں گے تو ہم ادھورا سچ ہی سمجھیں گے مگر ہم سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے تو حقیقت کے قریب پہنچ سکیں گے۔
    تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا محض ایک فکری مشق نہیں
    بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
    تصویر کا دوسرا رخ دراصل شعور کی بیداری کا نام ہے یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کو یک رخی انداز میں نہ دیکھیں بلکہ ہر مظہر کے متعدد پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں یہی رویہ نہ صرف علمی پختگی کو جنم دیتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور فکری و سعت کا باعث بنتا ہے۔

    اس موضوع پرلیکچرار فیصل عشرت صاحب سے گفتگو ہوئی انکے خیالات اب ہی کی زبا نی جانتے ہیں

    محمد فیصل عشرت
    (لیکچرار گورنمنٹ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، گورنمنٹ آف سندھ۔
    میں آپ کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھاتا ہوں
    فرض کیجیے کہ ایک بھرا ہوا جہاز بادلوں کے درمیان پرواز کر رہا ہے۔ ایک مسافر کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے روئی کے گالوں جیسے سفید بادل اور ڈھلتے سورج کی خوبصورت سنہری کرنیں نظر آتی ہیں۔ وہ اس منظر کی سحر انگیزی میں کھو کر اسے ‘جنت نظیر’ قرار دیتا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی لمحے، نیچے زمین پر کھڑا ایک کسان کالی گھٹاؤں کو دیکھ کر پریشان ہے کہ اگر آج شدید بارش ہو گئی تو اس کی تیار فصل تباہ ہو جائے گی۔
    منظر ایک ہی ہے، لیکن دیکھنے والوں کے حالات اور زاویوں نے اسے دو بالکل مختلف حقیقتوں میں بدل دیا ہے۔ یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے

    انسانی فطرت ہے کہ وہ معاملات کو اپنی پسند، ناپسند اور محدود مشاہدے کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ہم اکثر کسی واقعے، شخصیت یا فیصلے کو دیکھ کر فوری طور پر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں، جبکہ حقیقت کی تہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک کے نیچے ایک چھپی ہوتی ہیں۔ اردو کی مشہور مثال ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی”، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ “ہر کالی نظر آنے والی چیز کوئلہ نہیں ہوتی”۔

    ہماری زندگی میں اکثر تنازعات اور غلط فہمیاں صرف اس لیے جنم لیتی ہیں کہ ہم تصویر کا صرف ایک رخ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں تو یہ وباء مزید پھیل چکی ہے۔ کسی کی پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر ہم اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جبکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ویڈیو سے پہلے کیا ہوا تھا اور اس کے بعد کیا ہوا۔

    “سچائی اکثر وہ نہیں ہوتی جو نظر آتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جسے دیکھنے کے لیے زاویہ بدلنا پڑتا ہے۔”

    کسی بھی معاملے کے دوسرے رخ کو سمجھنے کے لیے ظرف اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسی طرح ایک باپ اپنے بیٹے پر غصہ کر رہا ہے۔ ہم کو ظلم نظر آتا ہے،
    دوسرا رخ یہ ہے کہ بیٹا کسی ایسی راہ پر چل پڑا تھا جو اس کی زندگی تباہ کر سکتی تھی محبت اور فکر نظر آتی ہے۔
    اسی طرح، جب ہم کسی کی کامیابی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں صرف اس کی چمک دمک، پروٹوکول اور دولت نظر آتی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا رخ وہ کالی راتیں، مسلسل ناکامیاں، اپنوں کی تنقید اور وہ تھکن ہے جو اس مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے برداشت کی۔
    بقول شاعر،
    یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی،
    لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو۔۔

    ایک متوازن معاشرے کی تشکیل تب ہی ممکن ہے جب ہم “اختلافِ رائے” کو دشمنی نہ سمجھیں۔ جب کوئی شخص آپ سے مختلف بات کر رہا ہو، تو ضروری نہیں کہ وہ غلط ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ تصویر کے دائیں جانب کھڑے ہوں اور وہ بائیں جانب۔
    خلاصہ کلام یہ کہ کائنات کا کوئی بھی رخ حتمی نہیں ہے۔ سورج جہاں ایک طرف زندگی اور روشنی دیتا ہے، وہیں اس کی تپش صحراؤں میں پیاس کا سبب بھی بنتی ہے۔ رات جہاں اندھیرا لاتی ہے، وہیں سکون اور نیند کی نعمت بھی ساتھ لاتی ہے۔
    اگر ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ لے آئیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ “کیا میں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا ہے؟” تو یقین جانیے، ہماری آدھی سے زیادہ پریشانیاں اور تلخیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ زندگی صرف “سیاہ” یا “سفید” نہیں ہے، بلکہ ان کے درمیان “گرے” (Gray) رنگ کے بے شمار شیڈز موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے بصارت نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔
    یہ تھے فیصل عشرت کے خیالات
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ
    تصویر کا دوسرا رخ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی چیز کو صرف ظاہری شکل سے نہ پرکھا جائے ہر منظر کے پیچھے ایک اور منظر اور ہر حقیقت کے پیچھے ایک اور حقیقت موجود ہوتی ہے۔

    ظفراحمد صدیقی کا شعر ہے کہ

    ہو نہ جائے معتقد دل ظاہری تنویر کا
    دیکھ لینا دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا

  • اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں  انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی

    اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی

    دنیا بھر میں 23 اپریل کا دن کتابوں اور کاپی رائٹ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ، سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل) کے زیرِ اہتمام رشین سینٹر کراچی پاکستان کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل سیمینار بعنوان ‘ خودی، نالج اور کتاب: اقبال اور کتابوں کا عالمی دن گزشتہ روز رشین ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا, اس سیمینار کو اسپرل اور رشین ہاؤس نے 21 اپریل علامہ محمد اقبال رح کے فلسفے اور کتابوں کے عالمی دن کو ساتھ منایا۔سیمینار کی مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم تھیں مہمانِ اعزازی میں رشین سینٹر کے ڈائریکٹر مسٹر رسلان اور کراچی کی نمایاں شخصیت اخلاق احمد تھے ، سیمینار میں ندیم ظفر صدیقی نے بھی شرکت کی۔کراچی کے نمائندہ اداروں اور جامعات کے لائبریرینز نے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کی(یہ مختصر اور مخصوص نشست کا سیمینار تھا جس میں 40 کے قریب سامعین کو شامل کیا گیا)جن میں ڈاکٹر آمنہ خاتون پاکستان لائبریری پروموشن بیورو سینئر لائبریرین ،فرحین محمود گورنمنٹ کالج ناظم آباد ،افشاں خان نیول لائبریری ، نصرت جبیں آئی بی اے کراچی، شمع شہزاد سید زولفقار علی بھٹو لاء لائبریری ، ادیبہ نازحبیب یونیورسٹی ، ثناء افشین سٹی اسکول ، ام حبیبہ ڈاؤ یونیورسٹی کراچی، شہزاد ترین گورنمنٹ اسلامیہ کالج سے، اویس منور علی گورنمنٹ کالج ، عامر سبحانی گورنمنٹ اسلامیہ کالج ، علی احمد درس گورنمنٹ کالج ، صمیم کاردار این ای ڈی یونیورسٹی ، سلمان عابد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ،نزیحہ اسفرین جامعہ کراچی آء سی سی بی ایس ،ثنا رحیم بحریہ یونیورسٹی،جواہر علیم کیٹ یونیورسٹی ، سیدہ عائشہ نقوی سندھ مدرستہ الاسلام ، ڈاکٹر خرم شفیع این ای ڈی یونیورسٹی نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی اسپرل ٹیم جن میں صمیم کاردار ، جواہر علیم اور ربیعہ علی فریدی نے کی ،شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر سعد بن عبد العزیز ، ڈاکٹر آمنہ خاتون ، ندیم ظفر صدیقی ، فرحین محمود ، عامر سبحانی، ثناء افشین، نزیحہ اسفرین اور دیگر شامل تھے، کم عمر عبداللہ خان نے اقبال کی شاعری نہایت خوبصورتی سے پڑھ کر سنائی ، تلاوت قرآن کی سعادت صمیم کاردار نے حاصل کی ، ربیعہ علی فریدی نے اسپرل کی ٹیم کی طرف سے رشین ہاؤس کراچی کا شکریہ ادا کیا اور تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اپنی گفتگو میں ربیعہ نے کتابوں کے عالمی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، ڈائریکٹر مسٹر رسلان پروخروف نے اپنی تقریر میں مہمانوں کو روسی ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں اور ملاقات کے اس موقع پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم کراچی کی لائبریری برادری کے نمائندوں کی میزبانی کر رہے ہیں وہ لوگ جو روزانہ ثقافتی اور فکری ورثے کو محفوظ رکھتے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
    روس اور پاکستان کے درمیان ادبی تعاون کی گہری اور روشن بنیادیں موجود ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک کے پاس ادب کی زرخیز روایات ہیں، اور کتابوں، تراجم اور مطالعے کے فروغ کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔
    آج کل اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی نوجوانوں کو مطالعے سے دور کر دے گی۔ لیکن تجربہ اس کے برعکس ثابت کرتا ہے: معلومات اور ویڈیو مواد کی کثرت کے باوجود مطالعے میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ بہت سے نوجوان، تیز رفتار
    ڈیجیٹل مواد سے تھک کر، معنی، گہرائی اور اندرونی سکون کی تلاش میں دوبارہ کتابوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ آج لائبریرین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم مل کر اور آپ کی فعال شرکت سے کراچی کے روسی ہاؤس کو نوجوانوں کے لیے ایک مرکزِ کشش اور ایک ایسا “ہب” بنا سکیں گے جہاں وہ اپنی ذات کی تلاش میں ہوں۔
    اخبار جہاں اور اسٹار مارکیٹنگ سے تعلق رکھنے والے مشہور رائٹر و جرنلسٹ اخلاق احمد نے اپنی تقریر میں لائبریری کے ارتقاء پر بات کی اور بتایا کے کیسے آنا لائبریری سے لائبریری کی ابتدا ہوئی ، انہوں نے بتایا کے ایک وقت میں استاد کے علاوہ اضافی مدد لائبریرین سے ملتی تھی لوگ ٹیوشن جانے میں قباحت محسوس کرتے تھے کتراتے تھے ، لائبریری صرف علم کا مرکز نہیں بلکہ ایک کمیونٹی حب تھا قومی ورثہ کی حفاظت صرف لائبریریز کرتی تھیں ،لائبریریز ویران ہوئیں تو لائبریرین کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی کے کا کے لیے کام کریں ،آج ٹیکنالوجی کے آ جانے سے لائبریری کلچر ختم نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہی یہ المیہ ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم نے اپنے خطاب میں اقبال کے خودی کے فلسفے پر گفتگو کی ، لائبریریز کے وجود کتب بینی پر سیر حاصل گفتگو کی اپنی شاعری شرکاء کو سنائی اور ماضی کے جھروکوں سے یادوں کا تذکرہ کیا ٹیم اسپرل کا شکریہ ادا کیا پروگرام کے اختتام پر صدر اسپرل اکرام الحق نے اپنا آن لائن خطاب کیا تمام سامعین کو شکریہ اداکیا، کتب بینی پر گفتگو کی رشین سینٹر کے اقدام کو سراہا ڈائریکٹر رشین ہاؤس اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، سعد بن عبدالعزیز نے جو ولڈایکسپو کے چیف آرگنائزر ہونے کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں مئی میں ہونے والے ایجوکیشن وٹیکنالوجی فیر پر بات کی اور مفید مشوروں سے ٹیم اسپرل کو نوازہ۔ پروگرام میں بین الاقوامی لائبریری ماہرین لویڈا گریشیا فیبو اور ڈاکٹر کولنس چیشیتا نے آن لائن خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں لائبریری پروموشن بیورو کی جانب سے کتابیں تقسیم کیں۔ ٹیم اسپرل نے شیلڈز پیش کیں جب کے ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں کتب تقسیم کیں ، رشین ہاؤس کی نمائندہ فریحہ عاقب نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

  • ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا

    ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیاایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔