واشنگٹن (ویب ڈیسک) اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنے عزائم ترک نہیں کرتا اس وقت تک مذاکرات بے معنی ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایران چاہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے کیونکہ ہماری فون لائنز محفوظ ہیں۔
Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔
Blog
-

ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن قرار، برطانوی میڈیا
-

آر ایل این جی کے ذخائر میں کمی، گیس بحران شدت اختیار کرگیا
لاہور: (ویب ڈیسک )گیس کا بحران آر ایل این جی نہ آنے کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا۔ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، پاور اور کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق گیس کی سپلائی صرف 700 ملین کیوبک فٹ پرآگئی جو ایران امریکا جنگ سے پہلے روزانہ 1200 ملین کیوبک فٹ تھی۔ذرائع سوئی ناردرن کا کہنا ہے گیس کا شارٹ فال600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔دوسری جانب سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ کھانے کے تینوں اوقات میں پوری گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔ -

کراچی کےرایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی
ٹیکساس: (ویب ڈیسک )کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی۔کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب احمد نے ٹیکساس کے شہر دی ووڈ لینڈز میں 226.3 کلومیٹر کا آئرن مین ٹرائیتھلون 15 گھنٹے، 20 منٹ اور 6 سیکنڈز میں مکمل کرکے آئرن مین چیلنج مکمل کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔آئرن مین دنیا کے سخت ترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس میں ایتھلیٹس کو بغیر کسی وقفے کے تین مقابلوں کو یکے بعد دیگرے مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں 3.8 کلومیٹر کا کھلے پانی میں تیراکی، 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ، اور 42.2 کلومیٹر کی مکمل میراتھون دوڑ شامل ہے۔ٹیکساس میں ہونیوالا یہ ایونٹ نارتھ شور پارک سے شروع ہوا جہاں جھیل ووڈ لینڈز میں تیراکی کا مرحلہ تھا۔ جھیل کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، رایان نے تیراکی کا مرحلہ 1 گھنٹہ، 45 منٹ اور 36 سیکنڈز میں مکمل کیا۔سائیکلنگ کے مرحلے میں ایتھلیٹس دی ووڈلینڈز کے کچھ حصے سے گزرے اور پھر شمالی ہیرس کاؤنٹی میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر دو چکر لگائے۔ رایان نے 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ 7 گھنٹے، 27 منٹ اور 49 سیکنڈز میں مکمل کی۔میراتھون دوڑ جھیل ووڈ لینڈز کے گرد3 چکروں پر مشتمل تھی، جو علاقے ہپی ہالو سے گزرتی ہے ۔رایان نے دوڑ کا مرحلہ 5 گھنٹے، 38 منٹ اور 57 سیکنڈز میں مکمل کیا۔واٹر وے ایونیو پر فنش لائن عبور کرنے کے بعد اس نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا اور جشن منایا۔انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں رایان نے لکھا کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں آئرن مین مکمل کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں، اور اسے اپنی زندگی کا مشکل ترین تجربہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی نئی نسل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، اور یہ کہ سب کچھ ممکن ہے، خوابوں کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔واضح رہے کہ 2026 کے آئرن مین ٹیکساس کا کٹ آف ٹائم 17 گھنٹے تھا۔
Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔ -

گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری
اسلام آباد :(ویب ڈیسک ) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس منعقد ہوا۔دوران اجلاس اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دے دی۔اجلاس میں کمیٹی نے جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی اور گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔کمیٹی نے بلوچستان میں تعینات افسران کیلئے خصوصی مراعاتی پیکیج بھی متعارف کروایا مزید برآں ہاکی ٹیم کیلئے 3 کروڑ روپے انعام جبکہ نیب میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کیلئے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھنے کی منظوری دی گئی۔
Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔ -

صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
موگادیشو(ویب ڈیسک )بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ان ہی میں سے ایک مغوی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔آڈیو میں امین بن شمس نے کہا کہ’ابو ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جارہے ہیں’۔ امین بن شمس نے روتے ہوئے کہا ‘مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیے گا، عائشہ (اہلیہ) اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کرلیے گا، خدا حافظ’۔امین بن شمس کے والد نے نجی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ’ہمارا ایک ہی بچہ ہے اور روزگار کے لیے ہم نے اسے بھیجا تھا، وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، پہلی بار گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ ہوگیا، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ کسی طرح ہمارے بچے کو صحیح سلامت واپس لادیں’۔مغوی کی اہلیہ عائشہ نے کہا ‘میرے شوہر نے یہی بتایا کہ ہوائی فائرنگ کرکے ہمیں ڈرایا جارہا ہے اور ہمیں مارنے کے لیے لے جایا جارہا ہے، جس بچے سے میں ابھی تک ملا نہیں، مجھے نہیں لگتا اب اس سے کبھی مل پاؤں گا’۔صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر حملہ، 11 پاکستانی کریو بھی یرغمالیوں میں شامل شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا، جہاز پر 11 پاکستانی کریو بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی کریو سے رابطہ نہیں ہوسکا جب کہ جہاز پر بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔ کریوکے خاندان نے بتایا کہ انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا قذاقوں سے بات چیت کر رہا ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔ -

اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی
دنیا بھر میں 23 اپریل کا دن کتابوں اور کاپی رائٹ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ، سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل) کے زیرِ اہتمام رشین سینٹر کراچی پاکستان کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل سیمینار بعنوان ‘ خودی، نالج اور کتاب: اقبال اور کتابوں کا عالمی دن گزشتہ روز رشین ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا, اس سیمینار کو اسپرل اور رشین ہاؤس نے 21 اپریل علامہ محمد اقبال رح کے فلسفے اور کتابوں کے عالمی دن کو ساتھ منایا۔سیمینار کی مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم تھیں مہمانِ اعزازی میں رشین سینٹر کے ڈائریکٹر مسٹر رسلان اور کراچی کی نمایاں شخصیت اخلاق احمد تھے ، سیمینار میں ندیم ظفر صدیقی نے بھی شرکت کی۔کراچی کے نمائندہ اداروں اور جامعات کے لائبریرینز نے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کی(یہ مختصر اور مخصوص نشست کا سیمینار تھا جس میں 40 کے قریب سامعین کو شامل کیا گیا)جن میں ڈاکٹر آمنہ خاتون پاکستان لائبریری پروموشن بیورو سینئر لائبریرین ،فرحین محمود گورنمنٹ کالج ناظم آباد ،افشاں خان نیول لائبریری ، نصرت جبیں آئی بی اے کراچی، شمع شہزاد سید زولفقار علی بھٹو لاء لائبریری ، ادیبہ نازحبیب یونیورسٹی ، ثناء افشین سٹی اسکول ، ام حبیبہ ڈاؤ یونیورسٹی کراچی، شہزاد ترین گورنمنٹ اسلامیہ کالج سے، اویس منور علی گورنمنٹ کالج ، عامر سبحانی گورنمنٹ اسلامیہ کالج ، علی احمد درس گورنمنٹ کالج ، صمیم کاردار این ای ڈی یونیورسٹی ، سلمان عابد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ،نزیحہ اسفرین جامعہ کراچی آء سی سی بی ایس ،ثنا رحیم بحریہ یونیورسٹی،جواہر علیم کیٹ یونیورسٹی ، سیدہ عائشہ نقوی سندھ مدرستہ الاسلام ، ڈاکٹر خرم شفیع این ای ڈی یونیورسٹی نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی اسپرل ٹیم جن میں صمیم کاردار ، جواہر علیم اور ربیعہ علی فریدی نے کی ،شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر سعد بن عبد العزیز ، ڈاکٹر آمنہ خاتون ، ندیم ظفر صدیقی ، فرحین محمود ، عامر سبحانی، ثناء افشین، نزیحہ اسفرین اور دیگر شامل تھے، کم عمر عبداللہ خان نے اقبال کی شاعری نہایت خوبصورتی سے پڑھ کر سنائی ، تلاوت قرآن کی سعادت صمیم کاردار نے حاصل کی ، ربیعہ علی فریدی نے اسپرل کی ٹیم کی طرف سے رشین ہاؤس کراچی کا شکریہ ادا کیا اور تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اپنی گفتگو میں ربیعہ نے کتابوں کے عالمی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، ڈائریکٹر مسٹر رسلان پروخروف نے اپنی تقریر میں مہمانوں کو روسی ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں اور ملاقات کے اس موقع پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم کراچی کی لائبریری برادری کے نمائندوں کی میزبانی کر رہے ہیں وہ لوگ جو روزانہ ثقافتی اور فکری ورثے کو محفوظ رکھتے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
روس اور پاکستان کے درمیان ادبی تعاون کی گہری اور روشن بنیادیں موجود ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک کے پاس ادب کی زرخیز روایات ہیں، اور کتابوں، تراجم اور مطالعے کے فروغ کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔
آج کل اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی نوجوانوں کو مطالعے سے دور کر دے گی۔ لیکن تجربہ اس کے برعکس ثابت کرتا ہے: معلومات اور ویڈیو مواد کی کثرت کے باوجود مطالعے میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ بہت سے نوجوان، تیز رفتار
ڈیجیٹل مواد سے تھک کر، معنی، گہرائی اور اندرونی سکون کی تلاش میں دوبارہ کتابوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج لائبریرین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم مل کر اور آپ کی فعال شرکت سے کراچی کے روسی ہاؤس کو نوجوانوں کے لیے ایک مرکزِ کشش اور ایک ایسا “ہب” بنا سکیں گے جہاں وہ اپنی ذات کی تلاش میں ہوں۔
اخبار جہاں اور اسٹار مارکیٹنگ سے تعلق رکھنے والے مشہور رائٹر و جرنلسٹ اخلاق احمد نے اپنی تقریر میں لائبریری کے ارتقاء پر بات کی اور بتایا کے کیسے آنا لائبریری سے لائبریری کی ابتدا ہوئی ، انہوں نے بتایا کے ایک وقت میں استاد کے علاوہ اضافی مدد لائبریرین سے ملتی تھی لوگ ٹیوشن جانے میں قباحت محسوس کرتے تھے کتراتے تھے ، لائبریری صرف علم کا مرکز نہیں بلکہ ایک کمیونٹی حب تھا قومی ورثہ کی حفاظت صرف لائبریریز کرتی تھیں ،لائبریریز ویران ہوئیں تو لائبریرین کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی کے کا کے لیے کام کریں ،آج ٹیکنالوجی کے آ جانے سے لائبریری کلچر ختم نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہی یہ المیہ ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم نے اپنے خطاب میں اقبال کے خودی کے فلسفے پر گفتگو کی ، لائبریریز کے وجود کتب بینی پر سیر حاصل گفتگو کی اپنی شاعری شرکاء کو سنائی اور ماضی کے جھروکوں سے یادوں کا تذکرہ کیا ٹیم اسپرل کا شکریہ ادا کیا پروگرام کے اختتام پر صدر اسپرل اکرام الحق نے اپنا آن لائن خطاب کیا تمام سامعین کو شکریہ اداکیا، کتب بینی پر گفتگو کی رشین سینٹر کے اقدام کو سراہا ڈائریکٹر رشین ہاؤس اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، سعد بن عبدالعزیز نے جو ولڈایکسپو کے چیف آرگنائزر ہونے کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں مئی میں ہونے والے ایجوکیشن وٹیکنالوجی فیر پر بات کی اور مفید مشوروں سے ٹیم اسپرل کو نوازہ۔ پروگرام میں بین الاقوامی لائبریری ماہرین لویڈا گریشیا فیبو اور ڈاکٹر کولنس چیشیتا نے آن لائن خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں لائبریری پروموشن بیورو کی جانب سے کتابیں تقسیم کیں۔ ٹیم اسپرل نے شیلڈز پیش کیں جب کے ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں کتب تقسیم کیں ، رشین ہاؤس کی نمائندہ فریحہ عاقب نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ -

ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک )ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیاایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔


