Blog

  • پاکستان کو سعودی عرب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    کراچی:(ویب ڈیسک )پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی دوسری قسط ایک ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل 2 ارب ڈالر کی پہلی قسط 15 اپریل کو موصول ہوئی تھی۔واضح رہے کہ 15 اپریل کو اسٹیٹ بینک نے بیان میں بتایا تھا کہ سعودی وزارت خزانہ کی جانب سے 2 ارب ڈالر وصول ہونے کے ساتھ ہی مملکت نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
    بعد ازاں سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ بھی رول اوور کردیے تھے، جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا، جس پر امریکا میں دستخط کیے گئے۔
    وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔ یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی تھی۔
    اس سلسلے میں جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان طے پایا، جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • جے ڈی وینس آج پاکستان کیلیے روانہ ہوں گے، سفارتی ذرائع

    جے ڈی وینس آج پاکستان کیلیے روانہ ہوں گے، سفارتی ذرائع

    واشنگٹن( ویب ڈیسک)امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی ٹیم سے مذاکرات کے لیے آج پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔سفارتی ذرائع کا بتانا ہے کہ جےڈی وینس امریکی وقت کے مطابق منگل کی علی الصبح پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے، پاکستانی وقت کے مطابق امریکی نائب صدر دن دو بجے واشنگٹن سے روانہ ہوں گے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے نائب امریکی صدرجےڈی وینس ایک تیسرے ملک میں رکنے کےبعد پاکستان آئیں گے، جے ڈی وینس تیسرے ملک میں ری فیولنگ کے لیے رکیں گے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • عالمی بساط پر پاکستان کا  نیا کردار..شیخ راشد عالم

    عالمی بساط پر پاکستان کا نیا کردار..شیخ راشد عالم

    دنیا کی سیاست ایک بار پھر ایک نازک مگر امکانات سے بھرپور موڑ پر کھڑی ہے، جہاں طاقت، مفادات اور سفارتکاری کے پیچیدہ امتزاج نے بین الاقوامی تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہ صرف زیرِ بحث ہے بلکہ ایک مثبت تناظر میں ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماضی میں جہاں پاکستان کو زیادہ تر سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا تھا، وہیں اب اسے ایک ممکنہ ثالث، سہولت کار اور رابطے کے مضبوط پل کے طور پر تسلیم کرنے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی اگرچہ ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس میں مستقبل کی روشن جھلک واضح نظر آتی ہے۔
    حالیہ عرصے میں پاکستان نے اہم علاقائی اور عالمی معاملات میں خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام آباد محض تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور فعال شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ان اقدامات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔
    یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی ملک کا مقام وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور پالیسی کے تسلسل سے بنتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اب اس سمت میں پیش رفت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو یہ سفارتی سرگرمیاں ایک مضبوط اور دیرپا حکمتِ عملی میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے اس کی ایک بڑی طاقت رہی ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونا اسے قدرتی طور پر ایک ایسا ملک بناتا ہے جو مختلف خطوں کو آپس میں جوڑ سکتا ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اس قدرتی برتری کو مؤثر سفارتکاری کے ذریعے عملی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہی پہلو مستقبل میں اسے ایک کلیدی عالمی کردار دے سکتا ہے۔
    ثالثی کا کردار ادا کرنا بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، لیکن پاکستان نے جس اعتماد اور توازن کے ساتھ اس سمت میں قدم بڑھایا ہے، وہ امید افزا ہے۔ کسی بھی تنازع میں غیر جانبدار رہتے ہوئے فریقین کو قریب لانا ایک مشکل عمل ہے، مگر پاکستان کی حالیہ کوششیں اس کی صلاحیت کا واضح ثبوت پیش کرتی ہیں۔
    داخلی استحکام کسی بھی ملک کی عالمی ساکھ کی بنیاد ہوتا ہے، اور پاکستان میں اس حوالے سے بتدریج بہتری کی امید بھی موجود ہے۔ سیاسی اور معاشی میدان میں استحکام کی کوششیں اگر اسی رفتار سے جاری رہیں تو یہ نہ صرف داخلی حالات کو مضبوط بنائیں گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی مزید معتبر بنائیں گی۔
    میڈیا اور تجزیہ کاروں کے درمیان اس حوالے سے مختلف آرا ضرور پائی جاتی ہیں، مگر ایک بات پر کافی حد تک اتفاق نظر آتا ہے کہ پاکستان نے ایک مثبت سمت میں قدم ضرور اٹھایا ہے۔ کچھ اسے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے ابتدائی مرحلہ، مگر دونوں صورتوں میں یہ پیش رفت اہمیت کی حامل ہے۔
    آج کی دنیا میں سفارتکاری کے انداز تیزی سے بدل رہے ہیں۔ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ اب غیر رسمی رابطے، علاقائی تعاون اور بیک ڈور چینلز کو بھی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان اگر اسی جدت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھاتا رہا تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر آواز بن سکتا ہے۔
    عالمی منظرنامے میں پاکستان کی نئی پہچان کا تصور اب محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ اس سفر میں چیلنجز موجود ہیں، لیکن امکانات کہیں زیادہ روشن ہیں۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو صبر، حکمت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے، اور پاکستان ان تمام خصوصیات کے ساتھ آگے بڑھتا نظر آ رہا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نئے دور کے آغاز پر کھڑا ہے۔ اس کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں نہ صرف ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی امید بھی دلاتی ہیں۔ اگر یہی رفتار اور سنجیدگی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی منظرنامے میں ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر کردار کے طور پر اپنی پہچان مزید مستحکم کر لے گا۔

  • گلی کوچے..عورت سے اختلاف یا اس کی تذلیل.. فر حا نہ اشرف فرحانہ

    گلی کوچے..عورت سے اختلاف یا اس کی تذلیل.. فر حا نہ اشرف فرحانہ

    اختلاف ایک فطری، فکری، علمی و معاشرتی عمل ہے۔ لیکن کسی بھی عمل میں تہذیب و وقار کا خیال نہ رکھا جائے تو بات دلیل سے نکل کر تذلیل میں تبدیل ہوجاتی ہے-اب وہ اختلاف چاہے مرد ذات سے ہو یا عورت سے،ترقی پسند معاشروں میں شخصی آزادی اور ذاتی پسند کا احترام کیا جاتا ہے جب کہ ہمارے یہاںحال ہی میں خاتون صحافی کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ جس میں عوام نے اپنا اچھا خاصا قیمتی وقت برباد بھی کیا اور تنقید برائے تنقید سے حاصل کچھ نہیں ہوا بلکہ غیر ضروری بحث سے ایک دوسرے سے تعلقات بھی خراب کیے۔ وقت بھی ضائع کیا۔ خاتون صحافی کے لباس سے متعلق بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان کی نماِئندگی مشرقی لباس میں ہونی چاہیے تھی۔ جبکہ سارے مرد صحافی فرہنگی لباس میں ہی ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مان لیا بہت ہی غلط لباس صحافی خاتون نے پہن لیا تھا۔لیکن کیا اس کی نامناسب تصاویر لینا اور پھر عوام کا ان تصاویر کا نہ صرف وائرل کرنا بلکہ بگاڑ بگاڑ کر میمز بنا بنا کر پوسٹ کرنا وائرل کرنا صحیح عمل ہے ؟
    اور کس پاکستان کی نمائند گی کر رہے ہیں آپ ؟
    ایک طرف آ پ کے اسلا می درس اور دو سری جانب آ پ کا یہ عمل۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔جنکو اسلام کا الف نہیں معلوم پاکستان کے پ سے بے خبر انہوں نے بھی اسلام کی اور پاکستان کی نمائندگی والی باتوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مذاکرات میں کیا طے ہوا۔ملکی صورت حال کیا ہوگی اس پر بات کرنیکے بجائے لباس زیر بحث ہے۔
    اس موضوع پر میں نے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے رابطہ کیا اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی کہ وہ اس صورت حال کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ کیا سوچتے ہیں
    محمد فیصل عشرت ،لیکچرار گورنمنٹ کالج کہتے ہیں کہ”انسان اپنی سوچ سے پہچانا جاتا ہے، لباس سے نہیں”۔ لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں ایسا لگتا ہے کہ ہم نے لوگوں کو ان کے کام، ان کی محنت اور ان کی شخصیت کے بجائے صرف اس ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے کہ انہوں نے کیا پہنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینئر خاتون صحافی کے لباس پر ہونے والی تنقید محض ایک فرد پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ذہنیت کی عکاسی ہے جو عورت کو اس کے کام سے زیادہ اس کے ظاہر سے پرکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں معروف اینکر پرسن کے لباس کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، وہ نہ صرف ایک فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ ہمارے مجموعی سماجی رویوں پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔
    لباس کا انتخاب کسی بھی انسان کا نہایت نجی فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی کے طور پر ان کی پہچان ان کا کام، ان کے سوالات اور ان کی رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ جب ہم کسی خاتون کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پسِ پشت ڈال کر اس کے لباس پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں، تو ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
    سینئر خاتون صحافی نے برسوں کی محنت سے صحافت کے میدان میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ ایک اینکر کے طور پر ان کا کام مشکل سوال کرنا اور حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنا ہے۔ جب ہم ان کے تجزیوں کو چھوڑ کر ان کے لباس کو بحث کا موضوع بناتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایک عورت چاہے کتنی ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ اس کے “لْک” (Look) کی بنیاد پر ہی جج کیا جائے گا۔ کیا یہ رویہ ایک مہذب معاشرے کو زیب دیتا ہے؟۔۔۔۔
    خلاصہ کلام یہ کہ لباس بدلتے رہتے ہیں، لیکن جو تلخ جملے ہم کسی کی دل آزاری کے لیے ادا کرتے ہیں، ان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ آئیے تنقید کے بجائے احترام کو فروغ دیں”
    یہ تھے فیصل عشرت ان ہی کی بات کو آگے بڑھاونگی کہ متوازن، معاشرہ تب وجود میں آتا ہے جب احتساب سب کے لیے یکساں ہو۔صرف ایک طبقے کو مورد الزام ٹہرانا انصاف نہیں تعصب ہے۔
    ٹیچر مہرین بنت رمضان کا کہنا ہے کہ” بہت ہی حساس موضوع ہے۔مختصر ہی کلام کرنا چاہونگی۔کہتی ہیں کہ صحافی خاتون کی تصاویر جس قسم کی لی گئیں وائرل کی گئیں نہا یت غیر اخلاقی نامناسب عمل ہے۔اور جو لوگ اس عمل میں شامل تھے انکو لباس پر تنقید کرنے کے بجائے
    اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔اختلاف و اعتراض تمیز و تہذیب سے بھی ہوسکتے ہیں”
    با لکل ا ختلاف رائے کا تنقید کا سلیقہ سیکھنے کی ہماری قوم کو ضرورت ہے تو کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے اندر وہ بصیرت پیدا کر یں جو ہمیں دوسروں کے بجائے اپنی اصلاح کرنے کی طرف مائل کرے۔
    اسی سلسلے میں پاکستان کے نامور سینئر شاعرجاوید صبا صاحب سے بھی گفتگو ہوئی
    وہ فرماتے ہیں کہ”عورت ہو یا مرد دونوں کی عزت و حرمت کا پاس رکھنا چاہیے۔ اور لباس کا انتخاب فرد کی شخصی آزادی ہے۔ اپنی پسند ہے۔ دنیا بھر میں کون کیا پہن رہا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں۔یہ موضو ع زیر بحث ہونا ہی نہیں چاہیے۔ تنگ ذہنیت کے لوگ ایسا کرتے ہیں
    وہ صحافی ہیں تو صحافت پر بات کی جائے۔
    میرا ایک شعرہے کہ
    تیرے پیرہن میں بھٹک گئے سبھی قافلے رہ شوق کے
    تیری گفتگو سے پتہ چلاکہ تیرا پتا کوئی اور ہے
    وہ مزید فرماتے ہیں کہ بدقسمت معاشرہ ہیہم ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں جو بنا سوچے سمجھے کہتے ہیں اور ججمینٹل ہوتے ہیں۔ “یعنی ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ شعور و تربیت کی ضرورت ہے۔
    بینکر آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ”میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں شخصیات کے گرد پیدا ہونے والے مباحث اکثر اپنی اصل سے ہٹ کر ذاتیات کی نذر ہو جاتے ہیں، اور یہی کچھ آج کل صحافی خاتون کے لباس کے حوالے سے دیکھنے میں آ رہا ہے کسی کے لباس کو بنیاد بنا کر تضحیک، طنز اور کردار کشی کرنا نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ معاشرتی رویوں میں عدم برداشت کو بھی ظاہر کرتا ہے تنقید کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، مگر اس کا دائرہ تہذیب اور شائستگی سے باہر نہیں ہونا چاہیے بدقسمتی سے ہم اختلاف کو ذاتی حملوں میں بدل دیتے ہیں اور یہی رویہ معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اختلافِ رائے کا مہذب اظہار ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں شخصیت نہیں بلکہ رویے پر تنقید کرنی ہوگی، اور وہ بھی دلیل اور وقار کے ساتھ کسی کے لباس، شکل یا ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا نہ کل درست نہ آج ”
    یعنی تنقید برائے اصلاح ہوتذلیل کا رویہ ایک سماجی بیماری ہے۔ عورت کی تعظیم و تکریم نہ کرنا عورت کو کم تر حقیر سمجھنا اخلاقی پستی کی علامت اور معاشرے کے زوال کا سبب ہے
    آئیے سوشل میڈیا کے ہجوم سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں اور یہ طے کریں کہ
    ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟
    وہ جہاں اختلاف دلیل سے ہو یا وہ جہاں پر بحث ذاتی تضحیک میں بدل جائے

  • جرمنی میںمیکلن بورگ کا محل اور آرائشی پتھروں کی پن چکی…تحریر: سرور غزالی

    جرمنی میںمیکلن بورگ کا محل اور آرائشی پتھروں کی پن چکی…تحریر: سرور غزالی

    پانی سے بجلی بنانا تو انسان نے بہت بعد میں سیکھا۔ دریا پر بند باندھ کر ڈیم بنانا اور اس سے نہریں نکالنا اور ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنا آج کے دور کے انسان کے لیے اب کچھ ایسا مشکل نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کے دور میں تو یہ بھی ایک پرانی چیز ہو چکی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سورج سے توانائی حاصل کر کے اسے بجلی میں بدل دینا بھی آج کے دور کے انسان کا کمال ہے لیکن ان سب سے بہت پہلے جب انسان نے یہ سیکھا کہ وہ کس طریقے سے ہوا کی طاقت سے ہوائی چکی اور پانی کی طاقت سے کسی پن چکی کے پہیے کو گھمانے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ اس کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ انسان اس وقت ہوا اور پانی کی طاقت کو بجلی کی صورت میں بدلنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا مگر وہ ان قوتوں کے ذریعے کسی پہیے کو گھمانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا اور اس کے دھرے کو آگے لے جا کر عین اسی طرح جس طریقے سے آج بجلی مشین کو حرکت میں لا کر انسان کے کام آتی ہے، اس دور میں انسان نے ان قوتوں کے ذریعے سادہ مشین کو چلانے کا کام لیا۔ یہ مشینیں انسانی قوت اور صلاحیت سے بڑھ کر پیداواری صلاحیت اور طاقت رکھتی تھیں۔
    ایسی ہی پانی سے چلنے والی ایک چکی کے بارے میں آپ کو ابھی بتانے والا ہوں۔ یہ چکی جو صرف گندم اور دیگر اجناس کو پیسنے کے کام نہیں آتی تھی بلکہ اس کے ذریعے بھاری بھرکم پتھروں کو تراشا جاتا اور ان کے ذریعے شاہی محلات کے فرش، ستون یا شاہی مقبروں کی تشکیل اور تزین کے کام آنے والے پتھروں کی تراش خراش کے ساتھ ساتھ ان کو پالش کرکے خوبصورت اور خوشنما ڈھانچے، گلدان اور دیگر اشیاء￿ بنانے کا کام بھی اس چکی سے لیا جاتا تھا۔
    قبل اس کے، کہ ہم اس خاص شاہی چکی یا مل کی بات کریں پہلے آپ کو لیے چلتے ہیں اس سے قریب ہی واقع ایک خوبصورت محل کی جانب پھر آپ کو یہ بات بھی سمجھ میں آجائے گی کہ یہاں پر اس چکی کا موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے۔
    برلن سے شمال مشرق کی جانب اگر آپ ہائی وے نمبر 24 کے ذریعے جرمنی کے ایک دوسرے بڑے شہر ہمبرگ کی جانب روانہ ہوں تو تقریبا ہمبرگ شہر سے ایک سے ایک سو کلومیٹر قبل ہی ایک دوسری ہائی وے نمبر 114 جرمنی کے ایک اور اہم شہر شویرین کی جانب کو مڑتے ہوئے کراس کرتی ہے۔ ہائی وے 114 آپ کو سیدھے شورین شہر پہنچا دے گی۔ کسی زمانے میں یہ شہر مشرقی جرمنی کا ایک چھوٹا شہر ہوا کرتا تھا جو بالٹک سی سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ شویرین جرمنی کے صوبے میکلن بورگ فور پومن کا دارالحکومت ہے اور یہاں پر واقع ایک خوبصورت محل دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس محل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ نہ صرف اس شہر کی ایک خاص نشانی ہے بلکہ قدیم زمانے میں یہاں کے شہزادوں، ڈیوک کی رہائش گاہ، ان کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت ایک عالی شان یادگار عمارت ہے جو اپنے باغات، محلات اور گرجاگھراور ارد گرد کی دیگر عمارت کی وجہ سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میکلن بورگ فور پومن کی صوبائی اسمبلی بھی اسی محل کے ایک حصے کو مختص کرکے بنا دی گئی ہے۔ اس محل میں جا بجا اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بادشاہت سے جمہوریت کا راستہ کس حد تک آسان اور ہموار بنایا جا سکتا ہے اور درحقیقت جرمنی کی تاریخ بھی اس بات کی گوا ہی دیتی ہے۔

    شہر شویرین کا یہ محل، یہاں پر موجود ایک بڑی سی جھیل، جو شویرین جھیل کہلاتی ہے، میں واقع ایک جزیرے پر بنایا گیا ہے۔ اس کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے شاہی محل کے مینار اور اس کی خوبصورت عالی شان عمارت اپنے خوبصورت خدوخال دیدہ زیب رنگ پورے جاہ جلال کے ساتھ دیکھنے والی آنکھوں کو مسحور شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ پانچ زاویوں پہ مشتمل یہ خوبصورت محل 1560 میں ڈیوک یوہان البرش اول نے اپنے شاہی معمار یوہان بپتستا پار کے ذریعے اس کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ڈیو ک اعلی فریڈرش فرانز دوم نے اپنے آرکیٹیکٹ جارج اڈلف ڈاملر اور پھر بعد میں فریڈرش اگست اسٹولر نے اسے جدید رینی سوں طرز پر مکمل کروایا۔ اس محل کے ایک ہال میں ایک تصویری شجرہ نسب، گزرے تمام بادشاہوں اور ملکاوں کے پورٹریٹ اور قدآدم پورٹریٹ کے ذریعے نہایت خوبصورتی سے سجا کر اسے شجرہ نصب گیلری کا نام دیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک بڑے سے درباری ہال میں ایک خوبصورت تخت لگا ہے جس پر بیٹھ کر اس علاقے کے والی شہزادے ڈیوک عوام کے مسائل سنا کرتے یا مجالسیں منعقد کی جاتیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک شاہی گرجا گھر بھی موجود ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بتایا صوبہ میکلن بورگ فور پومن کی صوبائی اسمبلی بھی یہی منعقد ہوتی ہے۔ اس محل کو 24 جولائی 2022 کو یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہاں سالانہ تقریبا دو لاکھ افراد اس محل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں اس محل کی پرانی تاریخ سن 965 تک جاتی ہے جب یہاں پر ایک قلعہ بنایا گیا تھا اور اس زمانے میں اندلس سے آئے ہوئے سیاح ابراہیم ابن یعقوب نے اس قلعے کا ذکر اپنے سفر نامے میں کیا تھا جو اس وقت یہاں آباد قوم سلاوش لوگوں کا ایک چوبی قلعہ تھا۔ جس نے آنیوالے وقتوں میں موجودہ محل کا روپ دھار لیا۔
    اس محل میں سیڑھیوں کے پاس ایک بالشتیے کا مجسمہ لگا ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں چابیوں کا گچھا ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ یہاں کا وہ چھلاوا ہے جو اس پر قبضے کرنے والوں کو اس قدر پریشان کیا کرتا تھا کہ وہ اس محل کو چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔
    شیورین کے محل کا بیشترحصہ خوبصورت سرخ اور سبز پتھروں سے بنی دیواروں اور ایستادہ ستونوں کا خوبصورت امتزاج ہے۔ دیواروں پہ منقش مینا کاریاں اور خوبصورت ڈیزائن بنے ہوئے ہیں۔ مختلف کمروں میں مختلف طرح کے خوبصورت فرنیچر لگے ہوئے ہیں استراحت گاہوں میں خوبصورت آرام دہ میں مسہریاں لگی ہیں۔ لکھنے پڑھنے کے کمرے دفتری کام کے کمرے خوبصورت میز اور کرسیوں سے آراستہ ہیں کرسیوں پرخوب صورت مخملی گدے لگے ہیں۔ کھانے کے کمرے طویل کھانے کی میز اور کرسیوں سے مزین ہیں۔ الغرض تمام محل نہایت خوبصورت نفیس اور طبیعت کو لبھا دینے والا ماحول پیش کر رہا ہوتا ہے جسے صرف دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس محل کے ارد گرد طویل باغات کا ایک سلسلہ ہے ایک طرف سامنے جھیل کے نہایت خوبصورت منظر سے لطف اٹھانے کے لیے گیلری بنی ہے طویل باغات میں طرح طرح کے پودے اور پھول انتہائی خوشنما منظر پیش کرتے ہیں محل چونکہ ایک جزیرے پر واقع ہے تو اس کے سامنے سے ایک پل کے ذریعے اسے شہر کے بقیہ علاقوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ محل سے نکل کر پارک سے گزرتے ہوئے ہم لوگ باہر آگئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم لوگ اٹھارویں صدی کے بادشاہی دور میں پہنچ گئے ہوں اور باہر نکل کر اچانک سے 21 ویں صدی میں داخل ہو گئے ہوں۔ دوپہر کے کھانے کا
    وقت ہو چکا تھا اور بھوک خوب چمک اٹھی تھی۔ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر آج رات یہیں شیورین میں قیام کرنے کی غرض سے ایک ہوٹل آگئے۔
    ہوٹل کیا تھا، شہر سے باہر ایک قریبی دیہی علاقے میں ایک فارم ہاؤس میں واقع تھا۔ یہ فارم ہاؤس بھی درحقیقت مویشیوں کے باڑوں کے بیچوں بیچ تھا جہاں بے شمار مویشی اور مرغیوں اور بطخوں کے فارم تھے۔ ایک طرف گھوڑوں کے اصطبل اور ان کی چراگاہیں تھیں تو دوسری جانب بے شمار گائے کے باڑے تھے۔ دودھ دینے والی گائے کے بچے ان سے علیحدہ ایک دوسرے باڑے میں چر رہے تھے کچھ چھوٹے بچوں کو ان کی ماؤں کے پاس دودھ پینے کے لیے بھی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی طرح سے مرغیوں کے فارم اور بطخوں کے فارم بھی وہیں پر موجود تھے کچھ فاصلے پر پھول پودوں کی نرسری بھی تھی جہاں سے پھول پودے خریدے جا سکتے تھے۔
    گاؤں کا چکر لگاتے ہوئے ہم لوگ ایک کیفے میں رک گئے اور شام کی چائے سے لطف اندوز ہونے لگے۔ بھیگتی شام سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے اور تھوڑی دیر میں اندھیرا چھا چکا تھا اب صرف آرام ہی کیا جا سکتا تھا چونکہ اس وقت اس گاؤں میں بالکل ہی ہو کا عالم ہو تھا اور کسی طرح کی تفریح یا سیر سپاٹے کے لیے گاڑی کے ذریعے شہر ہی جایا جا سکتا تھا مگر دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد ہماری اس کی ہمت نہ تھی اور دوسرے دن ہمیں سویرے وہ پن چکی دیکھنے جانا تھا جس کے ذکر سے ہم نے آج کے اس مضمون کا اغاز کیا تھا۔ دوسرے دن صبح سویرے اٹھ کر ہم لوگ ناشتے کے لیے ایک ریستوراں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تقریبا 10 کلومیٹر دور محل کے عین سامنے ہم لوگوں کو ایک ریستوراں نظر آیا جس میں ہم نے ڈٹ کر ناشتہ کیا اور پھر محل کے باغ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کی پچھلی جانب ہمیں ایک پن چکی نظر آگئی۔ اس پن چکی کا اہم اور چکی کو چلانے والا پہیہ چکی کی عمارت سے باہر کی جانب اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ اسے اوپر کی طرف سے آتے ہوئے پانی کے بہاؤ کے ذریعے حرکت میں لایا جا سکے پہیے کو ایک دھرے کے ذریعے جوڑ کر کمرے کے اندر لایا گیا ہے جہاں اسے مختلف پہیے اور دھرے کی مدد سے مختلف طریقے سے چلاتے ہوئے مختلف کام لیے جاتے ہیں یعنی دھرے کا ایک حصہ مختلف آریوں سے اس طرح سے جوڑا گیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور بھاری بھرکم آرے کی طرح پتھر کو کاٹ سکتے ہوں۔ پتھر کاٹنے کے دوران اٹھنے والے گرد و غبار اور اٹھنے والی جنگاریوں سے بچنے کی کی خاطر خواہ تدبیر کے طور پر اوپر سے پانی کو گرانے کا بندوبست ہے۔ اسی طریقے سے ریت کے ذروں کے استعمال کے ذریعے آریوں کارکردگی کو بڑھایا جاتا تھا اور ایک دوسری مشین میں ایک ایسے دھرے کو جوڑ کر کٹے ہوئے پتھروں کو پالش کیے جانے کا کام لیا جاتا تھا۔ اس مشین کو پن چکی سے چلایا جانے اور اس سے موجودہ دور کی برقی مشینوں کی طرح سے کام لیے جانے کا قدیم طریقہ نہایت دلچسپ اور قابل غور ہے۔
    اٹھارویں صدی میں یہ پن چکی میکلن بورگ میں مکمل طور پر فعال تھی۔ جسے سن 1985 سے ایک میوزیم میں بدل کر اسے لوگوں کو چلا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ پرانے وقت کی مشینی کارکردگی کا نمونہ پیش کیا جاسکے یہ پن چکی ایک اور “مردار جھیل” نامی جھیل سے منسلک ہے جسے محل کے باغ میں بنایا گیا ہے۔ پن چکی کے پہیے کو چلانے کے لیے اشاریہ پانچ میٹر اونچائی سے نیچے گرتے پانی کی مدد لی جاتی ہے۔ گرنے والا پانی پہیے کو گھماتا ہے۔ پہیے سے منسلک دھرا گھومتا ہے تو مشین کو حرکت میں لاتا ہے۔ موجودہ میوزیم میں پن چکی کو چلانے والا پہیہ ساڑھے
    چار میٹر اونچا ہے۔
    پن چکی سن 1705 میں ہی تیار ہو گئی تھی اور تب اس سے اناج، باجرے کو ہی پیسا جاتا تھا بعد میں یہاں پر اس کی توسیع کرتے ہوئے اس سے 1747 میں پتھروں کو کاٹنے اور ان کو چکنا کرنے کی پن چکی کا درجہ دے دیا گیا اور محل کے آر کیٹکٹ جارج اڈولف ڈامیلر نے اپنی نگرانی میں یہاں پتھروں کی کٹائی اور ان سے مختلف ٹائلز اور ڈھانچے بنوانے کام کروایا ہے۔
    تقریبا” ڈیڑھ گھنٹے تک ہم لوگ میوزیم میں موجود ملر انجینئر سے پن چکی کی کارکردگی پر جامع لیکچر سنتے رہے۔ اور یہاں سے نکل کر برلن کو لوٹ گئے۔

  • کینیڈا  میں  عام لوگوں  پرجنگ کے اثرات ،پاکستانی کمیونٹی کیا سوچتی ہے  ؟صبیحہ خان صبیحہ

    کینیڈا میں عام لوگوں پرجنگ کے اثرات ،پاکستانی کمیونٹی کیا سوچتی ہے ؟صبیحہ خان صبیحہ

    گزشتہ دنوں جب ایک گروسری اسٹور میں کھڑے ہو کر قیمتوں کا موازنہ کر رہی تھی تو اچانک خیال آیا کہ جنگ صرف خبروں کا موضوع نہیں رہی یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے یہاں بیٹھ کر جب دنیا کے مختلف حصوں میں جنگ کی خبریں سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ سب ہم سے بہت دور ہو، مگر جیسے ہی روزمرہ گروسری کے اخراجات کا حساب کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہم سے اتنی دور بھی نہیں۔دنیا ایک بار پھر ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگ صرف میدانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات معیشت، روزگار اور عام انسان کی زندگی تک پھیل چکے ہیں۔ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ عالمی حالات کا اثر یہاں کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔مہنگائی ایک خاموش دباؤ جنگ کا سب سے نمایاں اثر مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کینیڈا میں اشیائے خوردونوش، کرایوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ اچانک نہیں، بلکہ ایک مسلسل دباؤ کی شکل میں عام آدمی کو متاثر کر رہا ہے۔مگر یہاں ایک فرق واضح ہے مہنگائی کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، بلکہ اس پر کھل کر بات ہوتی ہے اور اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جاتی ہیں اگر روزمرہ زندگی میں دیکھیں ان اثرات کو اگر روزمرہ زندگی میں دیکھا جائے تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ایک عام آدمی صبح سویرے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے، کام پر جاتا ہے، اور شام کو واپس آ کر اپنے اخراجات کا حساب لگاتا ہے۔ گروسری اسٹور میں اب خریداری ایک عادت نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا حصہ بن چکی ہے۔ لوگ لسٹ بنا کر جاتے ہیں، غیر ضروری اشیاء￿ سے گریز کرتے ہیں اور ڈسکاؤنٹس کا انتظار کرتے ہیں۔ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے بھی روزمرہ معمولات کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے لوگ اب پبلک ٹرانسپورٹ یا کار پولنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود زندگی رکی نہیں بلکہ ایک نظم اور صبر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ، پیٹرول اور توانائی کی صورتحال جنگی حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایک فطری عمل ہے۔ کینیڈا میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا ہے، مگر سپلائی کا نظام مستحکم ہے۔ عوام کو قلت کا سامنا نہیں، اور متبادل ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔حکومت کا کردار عملی اقدامات یہاں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کینیڈا میں حکومت حالات کو صرف دیکھتی نہیں بلکہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات بھی کرتی ہے۔کم آمدنی والے افراد کے لیے مالی امداد ٹیکس میں ریلیف اور ریفنڈز چائلڈ بینیفٹ اور سوشل سپورٹ پروگرامز رہائش اور کرایوں میں مدد کے منصوبے یہ اقدامات مسائل کو مکمل ختم تو نہیں کرتے، مگر عوام کو یہ احساس ضرور دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں عوام کی سوچ فکر اور اعتماد کینیڈا کے لوگ حالات سے باخبر ہیں۔ مہنگائی اور عالمی کشیدگی پر گفتگو بھی ہوتی ہے، مگر ایک توازن کے ساتھ یہاں ایک اعتماد پایا جاتا ہے کہ نظام کام کر رہا ہے اور مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی ان حالات کو گہرائی سے محسوس کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ مہنگائی اور جنگ کے اثرات کو دیکھ رہی ہے، تو دوسری طرف یہاں کے نظام کا تقابل بھی کرتی ہے، اکثر یہ رائے سننے کو ملتی ہے کہ مشکلات یہاں بھی ہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا طریقہ زیادہ منظم اور سنجیدہ ہے اور یہی فرق امید کو زندہ رکھتا ہے آگے کیا ہوگا؟یہ سوال ہر ذہن میں ہے۔ جنگ کے اثرات کب تک رہیں گے؟ مہنگائی کہاں جا کر رکے گی؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا غیر یقینی کی طرف بڑھ رہی
    ہے، مگر ایسے حالات میں وہی معاشرے مضبوط رہتے ہیں جہاں نظام مستحکم ہو، عوام باشعور ہوں اور ذمہ داری کا احساس موجود ہو۔جنگ چاہے کہیں بھی ہو، اس کے اثرات ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں۔ مگر اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ایک معاشرہ ان اثرات کا مقابلہ کیسے کرتا ہے۔کینیڈا میں مہنگائی ہے، مشکلات ہیں، مگر ان کے ساتھ جینے کا حوصلہ بھی ہے اور ان سے نمٹنے کی کوشش بھی۔شاید اصل سوال یہی نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے اثرات کا سامنا کیسے کر رہے ہیں دنیا بھر کی طرح کینیڈا میں بھی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں مسائل کو چھپایا نہیں جاتا بلکہ ان کے ساتھ جینا سیکھ لیا جاتا ہے۔ ایک عام انسان کی روزمرہ زندگی میں یہ مہنگائی کیسے شامل ہو چکی ہے، اگر اس کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو ایک مکمل کہانی سامنے آتی ہیمحنت، نظم و ضبط اور توازن کی کہانی ایک عام دن کی شروعات کینیڈا میں ایک عام آدمی کا دن اکثر صبح سویرے شروع ہوتا ہے۔ الارم بجتا ہے، باہر سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے، اور انسان کو گرم بستر چھوڑ کر کام پر جانا ہوتا ہے۔ موسم چاہے منفی درجہ حرارت ہی کیوں نہ ہو، زندگی نہیں رکتی۔گھر سے نکلنے سے پہلے ہیٹنگ کا نظام چیک کرنا، بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا اور جلدی جلدی ناشتہ کرنایہ سب ایک معمول کا حصہ ہے۔
    کام اور ذمہ داریاں یہاں زیادہ تر لوگ ایک ہی آمدنی پر مکمل انحصار نہیں کرتے۔ کئی افراد اضافی شفٹ یا پارٹ ٹائم کام بھی کرتے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے دفاتر، دکانیں، فیکٹریاں ہر جگہ لوگ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وقت کی پابندی یہاں صرف اصول نہیں بلکہ ضرورت ہے۔مہنگائی کا براہ راست اثرگروسری اسٹور کا ایک چکر لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مہنگائی کیا ہوتی ہے۔ وہی اشیاء￿ جو پہلے آسانی سے خرید لی جاتی تھیں، اب سوچ سمجھ کر خریدی جاتی ہیں۔لوگ لسٹ بنا کر خریداری کرتے ہیں غیر ضروری اشیاء￿ سے گریز کرتے ہیں سیلز اور ڈسکاؤنٹس کا انتظار کرتے ہیں یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی نے عادات بدل دی ہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے، کام پر جانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا، روزمرہ خریداری سب کچھ مہنگا محسوس ہونے لگتا ہے۔اسی لیے بہت سے لوگ اب پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہیں کار پولنگ کر رہے ہیں یا غیر ضروری سفر کم کر چکے ہیں گھر اور بلز کی حقیقت کینیڈا میں رہائش ایک بڑا خرچ ہے۔ کرایہ، بجلی، ہیٹنگ، انٹرنیٹ یہ سب مل کر بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں۔خاص طور پر سردیوں میں ہیٹنگ کا خرچ بڑھ جاتا ہے، سہولت ساری موجود ہیں مگر اس کی قیمت ہے حکومتی ریلیف ایک سہارا یہاں ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت عوام کو مکمل طور پر تنہا نہیں چھوڑتی۔ مختلف پروگرامز کے ذریعے مالی مدد، ٹیکس ریلیف اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔یہ مدد مشکلات کو ختم تو نہیں کرتی، مگر انہیں قابلِ برداشت ضرور بنا دیتی ہے۔سماجی رویہ اور توازن کینیڈا میں ایک بات نمایاں ہے لوگ اپنی زندگی کو توازن کے ساتھ جیتے ہیں۔ وہ شکایت کم اور حل زیادہ تلاش کرتے ہیں۔خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، ویک اینڈ پر سادگی سے لطف اندوز ہونا، اور ذہنی سکون کو اہمیت دینایہ سب زندگی کا حصہ ہے مگر یہ بات بہت اہم ہے۔جنگ کے اثرات پاکستان میں مہنگائی نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اور ان درآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر عالمی خام تیل کی قیمت میں 10 یا 15 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا ضرورت زندگی کی ہر چیز کو متاثر کرتا ہے عام لوگوں کی
    زندگی اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اس خلیجی جنگ نے بہت سارے ممالک کو پرشیان اور فکر مند کر دیا ہے کہ جلد سے جلد یہ جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور دنیا پر امن ہوجائے۔

  • خبر میں خبر …..خبروں کی تہہ میں بنتا نیا عالمی و علاقائی توازن،ماجد علی سید

    خبر میں خبر …..خبروں کی تہہ میں بنتا نیا عالمی و علاقائی توازن،ماجد علی سید

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ معاملہ اب محض دوطرفہ سفارت کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع علاقائی اور بین الاقوامی فریم ورک اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے اہم ممالک بھی مختلف سطحوں پر شریک دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک مرتبہ پھر بڑے سیاسی ارتعاش کے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف محتاط حکمتِ عملی کا متقاضی ہے بلکہ توازن اور رابطہ کاری بھی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت بنتی ہے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، یہ بیان عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس بیان کو محض روایتی سیاسی جملہ قرار دینا بھی شاید اس کی مکمل نوعیت کو سمجھنے کے لیے کافی نہ ہو، کیونکہ اس میں ایک ایسے خطے کا ذکر موجود ہے جو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں میں ایک اہم مگر غیر رسمی کردار ادا کرتا آیا ہے۔
    پاکستان کا حوالہ اس تناظر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام آباد کو خطے میں ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے نہ صرف ایک سفارتی موقع ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جس میں توازن، تحمل اور حکمت عملی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
    اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے مذاکراتی مرحلے کے 21 یا 22 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے امکانات ہیں۔
    اگر یہ تاریخیں حتمی شکل اختیار کرتی ہیں تو یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہوگی کہ دونوں ممالک ابتدائی رابطوں اور اعتماد سازی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک منظم مذاکراتی فریم ورک کی طرف جا رہے ہیں۔ تاہم اس مرحلے کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا
    دونوں فریق بنیادی اختلافات کو وقتی طور پر نرم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ جوہری پروگرام، پابندیوں کا نظام اور علاقائی سلامتی کے خدشات اب بھی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
    اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سفارتی دورے بھی اسی بڑے منظرنامے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کے دوروں کو محض رسمی روابط تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ انہیں ایک وسیع مشاورت اور علاقائی رابطہ کاری کے سلسلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ بات اہم ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں متحرک نظر آ رہا ہے اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
    ترکیہ اور قطر جیسے ممالک پہلے بھی مختلف بین الاقوامی مذاکراتی عمل میں غیر رسمی سہولت کاری کا کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب خطے کی بڑی سیاسی اور معاشی طاقت ہونے کے ناطے ہمیشہ سے اہم سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا اظہار ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے سفارتی عمل سے خود کو الگ نہیں رکھنا چاہتا۔
    اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان بھی اہم روابط دیکھنے میں آئے ہیں۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں مصروفیات اور بالخصوص ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کو خطے کی مجموعی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر اب علاقائی سلامتی، سرحدی تعاون اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی معاملات تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
    اگر ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود نہیں رہے بلکہ ایک کثیر الجہتی سفارتی عمل کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
    پاکستان کی بڑھتی ہوئی مصروفیات، ترکیہ اور قطر کی مسلسل سفارتی موجودگی اور سعودی عرب کا فعال کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں ایک غیر رسمی مگر مؤثر ڈپلومیٹک نیٹ ورک موجود ہے جو مختلف سطحوں پر اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    تاہم اس تمام تر سفارتی سرگرمی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے یا معاملات کسی واضح نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں جن میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، اور سیکیورٹی خدشات جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل محض بیانات یا ابتدائی رابطوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے طویل، صبر آزما اور مسلسل مذاکراتی عمل درکار ہوگا۔
    پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک نہایت نازک مگر اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے لیے یہ امکان موجود ہے کہ وہ خطے میں ایک سہولت کار یا رابطہ کار کے طور پر اپنے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کردار کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی تنازع میں ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کرنا صرف بیانات یا وقتی سرگرمیوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی مضبوطی اور واضح سفارتی حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔
    اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اگر ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے خود کو الگ رکھنے کے بجائے اس میں ایک ذمہ دار فریق کے طور پر شامل رہنا چاہتا ہے۔
    اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہر سطح پر ہونے والی مصروفیات کو بھی محض عسکری روابط تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ وسیع تر اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سیکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
    امریکی صدر کے بیان کو اگر اسی مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر اہمیت دی جا رہی ہے۔
    اگرچہ اس بیان کو کسی حتمی سفارتی پیش رفت کا اعلان نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا نام خطے کے بڑے مذاکراتی عمل میں ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر زیر بحث آ رہا ہے۔
    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک ایسے سفارتی موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں فیصلے ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے لیکن سمت کا تعین ہونا شروع ہو چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اگر 21 یا 22 اپریل کو منعقد ہوتے ہیں تو یہ ایک اہم سنگِ میل ہوگا

  • ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان

    ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان

    تہران (ویب ڈیسک )ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا فی الحال امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
    ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت زیرِ غور نہیں۔
    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ امریکا نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران نے ثالث پاکستان کو بتا دیا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری طور پر مذاکرات کا امکان نظر نہیں آتا۔
    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، بحری ناکہ بندی، اور جوہری پروگرام جیسے معاملات نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری تنازعات اور اعتماد کے فقدان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔
    ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مستقبل قریب میں مذاکرات کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے، جبکہ خطے میں امن کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر

    لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر

    کراچی (ویب ڈیسک )ملک کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ سے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے بڑھ گیا ہے، شہر کے مستثنیٰ علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔اُدھر پشاور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں 4 سے 6 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ہے، بلوچستان کے دیگر اضلاع میں 8 سے 10 گھنٹے کی بجلی بندش معمول بن گئی ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق لاہور میں غیر اعلانی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، شارٹ فال 100 میگاواٹ تک رہ گيا ہے۔ پنجاب کے دیہات اور چھوٹے شہروں میں 2 سے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران نے امریکا کی جانب سے تجارتی جہاز پر قبضے کی تصدیق  کردی

    ایران نے امریکا کی جانب سے تجارتی جہاز پر قبضے کی تصدیق کردی

    تہران (ایران نے بحیرۂ عمان میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز پر کارروائی اور قبضے میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جلد جواب دیا جائے گا۔
    نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر “حضرت خاتم الانبیاء” کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندری قزاقی کا ارتکاب کیا۔
    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے بحیرۂ عمان کے پانیوں میں ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا جبکہ متعدد اہلکار جہاز پر سوار ہو گئے اور جہاز کو قبضے میں لے لیا گیا۔
    ایرانی حکام نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس اقدام کا جلد اور مؤثر جواب دیں گی۔
    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔