Blog

  • مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ خود دستخط کرنےاسلام آباد آئیں گے؟

    مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ خود دستخط کرنےاسلام آباد آئیں گے؟

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کردی۔ ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس کو دستخط نہیں کرنے دیں گے اور وہ خود دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی پاکستان آئیں گے۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ نتیجہ خیز ہوگا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہا ہے۔امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کے رپورٹر سے گفتگو میں ٹرمپ نے کا کہ آپ وہیں رہیں کیونکہ آئندہ دو دن میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ ممکن ہے کیونکہ ’فیلڈ مارشل بہترین کام کر رہے ہیں‘۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف اہم سرکاری دورے پر سعودی عرب کے لیے روانہ ہو گئے۔وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ کریں گے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اورمعاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ روانہ ہوئے ہیں۔وزیراعظم سعودی عرب اور قطر کے دوروں کے دوران دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے لیے ترکیے کا بھی دورہ کریں گے، جہاں شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • غزہ: اسرائیلی حملےمیں 2 بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیلی حملےمیں 2 بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید

    غزہ: (ویب ڈیسک )حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے کے نتیجےمیں 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ کی سول ڈیفنس اتھارٹی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی غزہ میں ہونے والے حملوں میں 3 اور 14 سال کے دو بچے شہید ہوگئے۔غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق غزہ سٹی میں ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں 4 افراد شہید ہوئے جن میں ایک 3 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔غزہ کی وزارت داخلہ نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے مرکز میں پولیس گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے جب کہ پولیس اہلکار کے بھی شہید ہونے کی اطلاع ملی ہے۔اس کے علاوہ شمالی علاقے بیت لاہیا میں اسرائیلی فورس کی فائرنگ سے ایک اور شہری شہید ہوا، بعد ازاں شام کے وقت غزہ سٹی کے شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے۔غزہ کے الشفاء اسپتال کے مطابق شاطی کیمپ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 5لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2025 سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں، اور اب تک تقریباً 760 فلسطینی اس دوران شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی طور پر 72 ہزار 336 فلسطینی شہید اور 2 ہزار 111 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

  • ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت ، انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک تعمیر کردی

    ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت ، انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک تعمیر کردی

    کراچی:(ویب ڈیسک ) ناظم آباد نمبر 1 میں گزشتہ رات ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک بھی تعمیر کردی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے کے گھروں میں گیس نہیں آرہی تھی اور کھانا نہ پکنے کی وجہ سے بہن بھائی کھانا کھانے باہر گئے تھے۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ناظم آباد سے سائٹ جانے والے روڈ پر سیوریج کی وجہ سے سڑک پر گڑھا پڑگیا تھا ، واپس آتے ہوئے رات کو اندھیرے کی وجہ سے بچوں کی موٹر سائیکل بے قابو ہوکر گڑھے میں جاگری۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل اور اس پر سوار نوجوان اُلٹے ہاتھ پر جبکہ موٹر سائیکل پر سوار دونوں بہنیں سیدھے ہاتھ پر گریں اور ہیوی وہیکل کے پچھلے پہیوں کے نیچے آکر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ لوگوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد انتظامیہ کے لوگ آئے جنہوں نے پہلے گڑھا بند کیا اس کے بعد راتوں رات سڑک بھی بنا دی تاہم سیوریج کا پانی ہونے کی وجہ سے نئی بنی سڑک پھر خراب ہورہی تھی۔ علاقہ مکینوں نے مزید بتایا کہ پورے علاقے میں شاہراہوں، سروس روڈز اور گلیوں میں گڑھے پڑ چکے ہیں اور انتظامیہ غائب ہے جب کہ آئے دن اس طرح کے حادثات سامنے آرہے ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    لندن(ویب ڈیسک )برطانوی اخبار فنانشنل ٹائمز کے مطابق ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
    برطانوی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے اواخر میں یہ چینی سیٹلائٹ “TEE-01B” پاسداران انقلاب گارڈز کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کی تھی، سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کی گئی۔
    رپورٹ کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا، سیٹلائٹ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں حاصل کی گئیں۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے اردن کے موافق السالتی ائیر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب مقامات، عراق کے اربیل ائیرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ائیر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونئیر اور عمان کے دقم ائیرپورٹ سمیت کئی دیگر تنصیبات کی نگرانی کی۔
    خلیجی ممالک کے سویلین انفرا اسٹرکچر جیسے متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کو بھی مانیٹر کیا گیا۔
    برطانوی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن تقریباً نصف میٹر صلاحیت ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔
    ایران کا پہلے کا سیٹلائٹ نور-3تقریباً 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا جو اتنی تفصیل فراہم نہیں کر سکتا تھا، ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم کے کنٹرول کے لیے 36.6 ملین ڈالر ادا کیے، معاہدے میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی تفصیلات شامل ہیں۔
    چینی کمپنیوں Earth Eye Co اور Emposat نے سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک فراہم کیا جس سے عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوا۔
    چین نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتی ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: بدلتی دنیا میں ایک ابھرتا کردار… شیخ راشد عالم

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: بدلتی دنیا میں ایک ابھرتا کردار… شیخ راشد عالم

    عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب کسی ایک پیش رفت سے پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد جو جنگ بندی ہوئی، اس میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں رائے کو مثبت انداز میں تبدیل کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس حکمت عملی کے ساتھ سفارتی محاذ پر پیش رفت کی، اس نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے۔ اس پیش رفت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے اس موقع پر ایک متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اپنائی۔ ایک طرف اس نے چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب امریکا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے مضبوط کیے۔ یہی توازن اسے ایک قابل اعتماد پل بناتا ہے جو مختلف عالمی طاقتوں کو ایک میز پر لا سکتا ہے۔

    عالمی میڈیا میں بھی اس پیش رفت کو نمایاں جگہ ملی ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت خاموشی مگر مؤثر انداز میں وہ کام کر دکھایا ہے جو بڑی طاقتیں بھی نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا نام ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جا رہا ہے جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں حل کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

    اس نئی صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت میں پیدا ہونے والا ردعمل بھی ہے۔ وہاں کے میڈیا اور تجزیہ کاروں میں ایک بے چینی دیکھی جا رہی ہے، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ بھارتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب خطے کے اہم معاملات طے ہو رہے تھے تو بھارت اس عمل سے باہر کیوں رہا؟

    بھارتی تجزیہ کار سوشانت سنگھ جیسے افراد پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ بھارت کی سفارتی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، بھارت میں اس صورتحال کو ایک سفارتی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی جو کوششیں کی گئیں، وہ اب دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک، خصوصاً وہ جو جغرافیائی لحاظ سے اہم ہو، مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کی سفارتی مہارت اور اس کا متوازن رویہ اسے ایک ناگزیر فریق بنا رہے ہیں۔

    یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں جذباتی بیانات کے بجائے عملی اقدامات پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس کی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا۔ سفارتکاری میں الفاظ سے زیادہ عمل کی اہمیت ہوتی ہے، اور پاکستان نے اس اصول کو بخوبی اپنایا ہے۔

    اگر اس صورتحال کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیے، مگر حالیہ پیش رفت نے اسے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

    یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی قیادت نے داخلی استحکام اور خارجی پالیسی کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی مضبوط خارجہ پالیسی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے اندرونی حالات مستحکم ہوں۔

    دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ مثبت اور متوازن سفارتکاری ہمیشہ اپنا اثر دکھاتی ہے۔ یہ کامیابی وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں صبر، تدبر اور درست فیصلوں کا عمل دخل ہے۔

    تاہم، اس کامیابی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو اب اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی اور اپنی سفارتی پالیسی کو اسی سمت میں جاری رکھنا ہوگا۔

    یہ کالم کسی جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں پاکستان نے ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم اور بااثر ملک کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حالیہ پیش رفت نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی پالیسیوں کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں، لیکن فی الحال منظرنامہ واضح طور پر پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

  • یہ کون سا حساب ہے؟نشید آفاقی

    یہ کون سا حساب ہے؟نشید آفاقی

    ملک میں ایک عجیب سا حساب چل رہا ہے، ایسا حساب جسے نہ ریاضی والے سمجھ پا رہے ہیں نہ عوام۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کم ہو رہی ہے، مگر بازار جائیں تو لگتا ہے دکانداروں نے شاید کسی اور ہی کیلکولیٹر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے ‘‘ریلیف مل رہا ہے’’، دوسری طرف جیب پوچھتی ہے ‘‘وہ کہاں ہے؟’’
    سبزی والے سے پوچھیں تو وہ کہتا ہے بھائی جی، ریٹ کم نہیں ہوئے، اوپر سے آئے ہیں۔ آٹے والے کا اپنا دکھ ہے، چینی والے کی اپنی کہانی، اور گھی والا تو ایسے دیکھتا ہے جیسے ہم اس سے ادھار مانگنے آئے ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی کم ہو رہی ہے تو پھر یہ مہنگی چیزیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ یا پھر شاید مہنگائی صرف فائلوں میں کم ہوئی ہے، زمین پر نہیں۔ دکان دار بھی بیچارہ یہی کہتا ہے کہ ‘‘ہم نے بھی تو مہنگا خریدا ہے’’، اور یوں یہ حساب آگے سے آگے منتقل ہوتا جاتا ہے۔
    سڑکوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کاغذوں میں شاہراہیں چمک رہی ہیں، حقیقت میں گلیاں اور سڑکیں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی نے جان بوجھ کر ‘‘آف روڈ ڈرائیونگ’’ کا تجربہ دینے کے لیے بنائی ہوں۔ ہر دوسرا گڑھا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیں یاد دلا رہا ہو کہ ‘‘احتیاط کریں، آپ پاکستان میں ہیں!’’ گاڑی چلانے والا ڈرائیور کم اور کرتب دکھانے والا زیادہ لگتا ہے۔ بارش ہو جائے تو یہی گڑھے چھوٹے تالاب بن جاتے ہیں، اور سڑک کا اصل نقشہ ڈھونڈنا بھی ایک ہنر بن جاتا ہے۔
    اور گیس… اس کا تو ذکر ہی نہ کریں۔ گیس اب نعمت سے بڑھ کر کسی خواب جیسی چیز بن چکی ہے۔ صبح کے وقت چولہا جلانا ایسے لگتا ہے جیسے کسی امتحان میں پاس ہونا ہو۔ کبھی آتی ہے، کبھی نہیں، اور جب آتی ہے تو اتنی کمزور کہ چائے بھی سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ بنوں یا نہ بنوں۔ گھروں میں اب کھانا پکانے کے اوقات بھی گیس کی مرضی سے طے ہوتے ہیں، نہ کہ گھر والوں کی ضرورت سے۔
    بجلی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ بل آئے تو لگتا ہے جیسے کسی نے محبت نامہ بھیجا ہو—لمبا، تفصیلی اور دل دہلا دینے والا۔ یونٹس کم استعمال ہوں تب بھی بل زیادہ آتا ہے، اور اگر زیادہ استعمال کریں تو پھر تو لگتا ہے بجلی نہیں، کوئی لگڑری آئٹم استعمال کر رہے ہیں۔ عوام اب پنکھا چلانے سے پہلے بھی سوچتی ہے کہ ‘‘یہ ہوا کتنے کی پڑے گی؟’’ اور ایئر کنڈیشنر تو ویسے ہی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔
    ایسے میں عام آدمی کیا کرے؟ کام کرے تو کمائی مہنگائی کے سامنے ہار جاتی ہے، بچت کرے تو ضروریات منہ چڑاتی ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے ‘‘صبر کریں’’، دوسری طرف حالات کہتے ہیں ‘‘اور کتنا؟’’ متوسط طبقہ سب سے زیادہ پس رہا ہے، نہ وہ اتنا امیر ہے کہ آسانی سے سب برداشت کر لے، نہ اتنا غریب کہ کسی امداد کا مستحق ٹھہرے۔
    حکومت کی طرف سے اعلانات کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ کبھی سبسڈی، کبھی ریلیف پیکیج، کبھی نئی اسکیم۔ مگر عوام کے حصے میں آتا کیا ہے؟ وہی پرانا سوال: ‘‘یہ ریلیف کہاں ہے؟’’ شاید یہ ریلیف بھی کسی خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے، جہاں پہنچنے کے لیے خاص اجازت درکار ہے۔ ہر اعلان سن کر امید تو بنتی ہے، مگر جلد ہی حقیقت اسے توڑ دیتی ہے۔
    مزے کی بات یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل بھی موجود ہوتا ہے، مگر صرف بیانات میں۔ سڑکیں بن رہی ہیں، گیس کے منصوبے آ رہے ہیں، بجلی سستی ہو رہی ہے—یہ سب سننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے، مگر حقیقت میں عوام اب بھی اسی جگہ کھڑی ہے جہاں پہلے تھی۔ وقت گزرتا جا رہا ہے، مگر حالات کا دائرہ وہیں گھوم رہا ہے۔
    عوام کی حالت اس طالب علم جیسی ہو گئی ہے جو ہر سال یہ سن کر خوش ہوتا ہے کہ ‘‘اس بار امتحان آسان ہوگا’’، مگر جب پرچہ سامنے آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سوالات ہی بدل گئے ہیں۔ یہاں بھی ہر بار امید دی جاتی ہے، مگر نتیجہ وہی نکلتا ہے۔ لوگ اب وعدوں سے زیادہ اپنے تجربے پر یقین کرنے لگے ہیں۔
    یہ کون سا حساب ہے جس میں آمدنی وہی رہتی ہے مگر خرچے بڑھتے جاتے ہیں؟ یہ کون سا فارمولا ہے جس میں مہنگائی کم ہوتی ہے مگر چیزیں مہنگی رہتی ہیں؟ یہ کون سی ترقی ہے جس میں سڑکیں ٹوٹتی ہیں، گیس غائب ہوتی ہے اور بجلی مہنگی ہوتی جاتی ہے؟ یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، پوری قوم کا ہے۔
    شاید یہ نیا معاشی ماڈل ہے، جسے سمجھنے کے لیے عوام کو ابھی کچھ اور صبر کرنا ہوگا۔ یا پھر یہ وہی پرانا حساب ہے جس میں جمع ہمیشہ اوپر والوں کے لیے ہوتی ہے اور تفریق نیچے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ اس حساب میں توازن کہیں نظر نہیں آتا، بس بوجھ ایک طرف جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
    آخر میں عوام کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے: یا تو وہ اس حساب کو سمجھنے کی کوشش چھوڑ دے، یا پھر خود کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ کیونکہ یہاں سوال پوچھنے سے زیادہ ضروری ہے زندہ رہنا، اور زندہ رہنے کے لیے ہر دن ایک نیا حساب سیکھنا پڑتا ہے۔
    تو جناب، اگر آپ کو کبھی یہ لگے کہ آپ اس حساب کو نہیں سمجھ پا رہے، تو پریشان نہ ہوں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ پورا ملک یہی سوچ رہا ہے:
    ‘‘یہ کون سا حساب ہے؟’’

  • منظرپس منظر،،، حسین خوابوں کی سر زمین کینیڈا …. صبیحہ خان صبیحہ

    منظرپس منظر،،، حسین خوابوں کی سر زمین کینیڈا …. صبیحہ خان صبیحہ

    کالم نگار صبیحہ خان صبیحہ کا تعارف
    کینیڈا میں مقیم شاعرہ ، نثر نگار ،کالم نگار ،فری الانس جرنلسٹ صبیحہ خان صبیحہ پاکستان واچ میں کا لم لکھیں گی انھوں نے فکاہیہ مضامین ،معاشرتی ،سماجی ،سیاسی ہر موضوع پر آرٹیکلز لکھے ہیں جو متواتر اردو نیوز ، اردو میگزین جدہ سعودی عرب میں کافی عرصہ شائع ہوتے رہے ہیں نثر کے ساتھ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا ان کے دو مجموعہ کلام شائع ہوئے پہلا شعری مجموعہ ‘‘نئی اْڑان ‘‘دوسرا شعری مجموعہ ‘‘شعروسخن ہمارے ‘‘ ہیکینیڈا میںان کی ادبی سرگرمیاں جاری ہیں۔یہاں کے اردو اخبارات میں ان کے کالم بھی شائع ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خوبصورت موسموں جنگلوں کی سر زمین کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، مگر آبادی اس کی 38 ملین 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ ہے اونٹاریو کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ کینیڈا کا ہر موسم اپنے اندر خوبصورتی دلکشی رکھتی ہے سمر کا موسم کینیڈا کو سرسبز اور پھولوں سے بھر دیتا ہے چیری بلاسم کے پھول درختوں کو ایک انوکھی خوبصورتی سے بھر دیتے ہیں تو فال سیزن جب درختوں کے رنگین پتے زمین پر بکھر کر ایک نرالا حسن بخش دیتے ہیں رنگ ہی رنگ بکھر جاتے ہیں سردی کے ساتھ پورا کینیڈا برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے غرض یہاں کا ہر موسم اپنی الگ پہچان رکھتا ہے میپل کے پتوں کی سرزمین کینیڈا نہ صرف اپنے وسیع جنگلات اور رنگین خزاں کے لیے مشہور ہے بلکہ اپنی لاتعداد شاندار جھیلوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ کینیڈا کی ہر جھیل ایک انوکھی خوبصورتی رکھتی ہے، جھیل نیاگرا فال قدرت کا عجوبہ ہے کن اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں انسان بھی پیش پیش رہا ہے۔ اسی کی ایک مثال رات کے وقت نیاگرا فالز پر پڑنے والی وہ روشنیاں ہیں جو نیاگرا فالز کو مزید خوبصورت بناتی ہیں۔ اس کا حسن سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے جیسے پہاڑوں اور جنگلوں کے درمیان چھپے ہوئے جواہرات، صاف آسمان کی عکاسی کرتے ہیں اور بے ساختہ بیابان میں جادوئی کہانیوں کو جنم دیتے ہیں کینیڈا میں سرفہرست خوبصورت جھیلوں کو دریافت کرنے کا سفر آپ کو دلکش مناظر کی طرف لے جائے گا جو آپ کے دل کو حیران کر دے گا،جہاں فطرت پانی کی سطح پر ہر ہوا کے جھونکے اور ہر لہر کے ساتھ کہانیاں سناتی دکھائی دیتی ہے۔کینیڈا بلاشبہ اْن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں نظام اپنی جگہ موجود ہے یہاں زندگی مشکلات سے خالی نہیں، مگر فرق یہ ہے کہ مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ مہنگائی ہو، موسم کی سختی ہو یا عالمی حالات کے اثرات حکومت نہ صرف ان مسائل کو تسلیم کرتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ کینیڈا کوئی جادوئی دنیا نہیں جہاں قدم رکھتے ہی ہر خواب پورا ہو جائے۔ زندگی یہاں بھی محنت مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر صبر مانگتی
    ہے۔نئے آنے والوں کی توقعات کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں جائیں ہر ملک کی الگ ترجہات ہوتی ہیں راتوں رات آپ کو ہر چیز حاصل نہیں ہوسکتی اس کے لئے آپ کو صبر تحمل سے پلاننگ کرنی ہوتی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ نئے نئے کینیڈا آتے ہیں، وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ توقع لے کر آتے ہیں کہ شاید چند مہینوں میں ہی سب کچھ بدل جائے گا بڑی نوکری، بڑا گھر، آسودہ زندگی جب ایسا فوری طور پر نہیں ہوتا تو مایوسی جنم لیتی ہیحقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کامیابی ایک سفر ہے، منزل نہیں جو لوگ محنت، مستقل مزاجی اور قانون کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں نظام پر اعتماد کیوں؟کینیڈا کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہاں کا نظام قابلِ بھروسہ ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لیے راستہ موجود ہوتا ہے ادارے کام کرتے ہیں، قوانین لاگو ہوتے ہیں، اورسب سے بڑھ کر یہ کہ عام آدمی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ مہنگائی یا دیگر مشکلات کے باوجود مطمئن دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ بہتری کی کوشش جاری ہیموسم اور زندگی کا توازن کینیڈا کی سردی دنیا بھر میں مشہور ہیکبھی کبھی درجہ حرارت منفی پچاس تک بھی جا پہنچتا ہے۔ مگر یہاں بھی نظام انسان کو سہارا دیتا ہے۔ گھروں کی ہیٹنگ، سڑکوں کی صفائی، اور روزمرہ زندگی کو جاری رکھنے کے انتظامات ایسے ہیں کہ شدید موسم بھی زندگی کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کر پاتا۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے کینیڈا بلاشبہ اْن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں نظام اپنی جگہ موجود ہے۔ یہاں زندگی مشکلات سے خالی نہیں مگر نظام بہت عمدہ مضبوط ہے موسم کی سختی ہو یا عالمی حالات کے اثرات حکومت نہ صرف ان مسائل کو تسلیم کرتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ کینیڈا کوئی جادوئی دنیا نہیں جہاں قدم رکھتے ہی ہر خواب پورا ہو جائے۔ زندگی یہاں بھی محنت مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر صبر مانگتی ہے۔
    اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ نئے نئے کینیڈا آتے ہیں، وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ توقع لے کر آتے ہیں کہ شاید چند مہینوں میں ہی سب کچھ بدل جائے گابڑی نوکری، بڑا گھر، آسودہ زندگی جب ایسا فوری طور پر نہیں ہوتا تو مایوسی جنم لیتی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کامیابی ایک سفر ہے، منزل نہیں جو لوگ محنت، مستقل مزاجی اور قانون کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں۔کینیڈا کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہاں کا نظام قابلِ بھروسہ ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لیے راستہ موجود ہوتا ہے۔ ادارے کام کرتے ہیں، قوانین لاگو ہوتے ہیں، حکومت اپنے شہریوں کو ہر طرح کی سہولیات دیتے ہیں جس میں تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ،روزگار ، نظام انصاف ، شخصی آزادی شہری حقوق کی پاسداری اہم ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ دیگر مشکلات کے باوجود مطمئن دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ بہتری کی کوشش جاری ہے۔موسم اور زندگی کا توازن کینیڈا کی سردی دنیا بھر میں مشہور ہیکبھی کبھی درجہ حرارت منفی پچاس تک بھی جا پہنچتا ہے۔ مگر یہاں بھی نظام انسان کو سہارا دیتا ہے گھروں کی ہیٹنگ، سڑکوں کی صفائی، اور روزمرہ زندگی کو جاری رکھنے کے انتظامات ایسے ہیں کہ شدید موسم بھی زندگی کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کر پاتا۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔یہاں سے ایک سادہ مگر اہم سبق ملتا ہے زندگی کہیں بھی آسان نہیں، مگر جہاں نظام مضبوط ہو، وہاں مشکلات قابلِ برداشت ہو جاتی ہیں۔نئے آنے والوں کے لیے سب سے ضروری چیز یہی ہے کہ وہ حقیقت پسند بنیں، صبر کو اپنا
    ساتھی بنائیں، اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھیں۔کینیڈا کی تعریف کرنا کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں تھوڑی بہت خامیاں بھی ہیں، مگر ڈھیروں خوبیوں کی وجہ سے ان کو سرسری لیا جاتا ہے مگر انہیں تسلیم کر کے بہتر بنانے کی کوشش بھی جاری رہتی ہے۔زندگی یہاں بھی امتحان لیتی ہے، مگر جو لوگ ہمت نہیں ہارتے، وہی کامیابی کی کہانی لکھتے ہیں۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کینیڈا آنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک خواب ہوتا ہیاور سچ پوچھیں تو یہ خواب غلط بھی نہیں مگر مسئلہ اْس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم خواب کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں، اور حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اکثر نئے آنے والے جب کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو اْن کے ذہن میں ایک ہی تصویر ہوتی ہے: اچھی نوکری، خوبصورت گھر، اور چند مہینوں میں سیٹ ہوتی زندگی۔ مگر جیسے ہی وقت گزرتا ہے، یہ خواب آہستہ آہستہ حقیقت کے آئینے میں بدلنے لگتا ہے۔پہلی غلطی جلد بازی میں کامیابی کی خواہش یہاں آتے ہی سب کچھ فوراً حاصل کرنے کی خواہش سب سے بڑی غلطی ہیحقیقت یہ ہے کہ کینیڈا میں کامیابی ایک مرحلہ وار سفر ہے۔ جو لوگ صبر کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی آخرکار اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔دوسری غلطی صرف ڈگری پر انحصاربہت سے لوگ اپنی ڈگری کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، مگر یہاں صرف ڈگری نہیں بلکہ اسکل (مہارت) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک آپ مقامی تجربہ اور ہنر نہیں سیکھتے، آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔تیسری غلطی سسٹم کو سمجھے بغیر شکایت کچھ لوگ چند مہینوں میں ہی یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہاں بھی کچھ خاص فرق نہیں۔ حالانکہ وہ ابھی اس نظام کو سمجھ ہی نہیں پاتے یہاں کاسسٹم وقت لیتا ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں چوتھی غلطی ہر کام کو کمتر سمجھناشروع میں ملنے والے چھوٹے کام کو اکثر لوگ اپنی عزت کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی چھوٹے کام آگے بڑھنے کی سیڑھی بنتے ہیں۔ یہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، کام کو نہیں بلکہ نیت کو دیکھا جاتا ہیاصل راستہ کیا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلطیاں ہیں تو درست راستہ کیا ہے؟ یہاں پلیمبر بننے کے لئے بھی پڑھنا لازمی ہے چاہے آپ اپنے وطن سے کتنی بھی ڈگریاں لائیں یہاں وہ فیل ہوجاتی ہیں یہاں کی ڈگری لینالازمی ہے بہتر ہے کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائیں جلدی نہیں، مستقل مزاجی کامیابی دیتی ہے۔مہارت سیکھیں نئے اسکلز، زبان اور مقامی تجربہ آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔فری کلاسز ہیں نیوکمر کے لئے سسٹم کو سمجھیں قانون، طریقہ کار اور مواقع یہ سب سیکھنے میں وقت لگائیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کینیڈا میں اگر آپ محنت کریں، قانون کی پابندی کریں اور سیکھنے کا عمل جاری رکھیں تو آگے بڑھنے کے مواقع ضرور ملتے ہیں۔ یہاں دروازے بند نہیں ہوتے—بس دستک دینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے—ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔خوابوں کی سر زمین کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہیایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔ وہی آخرکار اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔دوسری غلطی صرف ڈگری پر انحصاربہت سے لوگ اپنی ڈگری کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، مگر یہاں صرف ڈگری نہیں بلکہ اسکل (مہارت) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک آپ مقامی تجربہ اور ہنر نہیں سیکھتے، آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔تیسری غلطی سسٹم کو سمجھے بغیر شکایت کچھ لوگ چند مہینوں میں ہی یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہاں بھی کچھ خاص فرق نہیں۔ حالانکہ وہ ابھی اس نظام کو سمجھ ہی نہیں پاتے
    یہاں کاسسٹم وقت لیتا ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں چوتھی غلطی ہر کام کو کمتر سمجھناشروع میں ملنے والے چھوٹے کام کو اکثر لوگ اپنی عزت کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی چھوٹے کام آگے بڑھنے کی سیڑھی بنتے ہیں۔ یہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، کام کو نہیں بلکہ نیت کو دیکھا جاتا ہیاصل راستہ کیا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلطیاں ہیں تو درست راستہ کیا ہے؟ یہاں پلیمبر بننے کے لئے بھی پڑھنا لازمی ہے چاہے آپ اپنے وطن سے کتنی بھی ڈگریاں لائیں یہاں وہ فیل ہوجاتی ہیں یہاں کی ڈگری لینالازمی ہے بہتر ہے کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائیں جلدی نہیں، مستقل مزاجی کامیابی دیتی ہے۔مہارت سیکھیں نئے اسکلز، زبان اور مقامی تجربہ آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔فری کلاسز ہیں نیوکمر کے لئے سسٹم کو سمجھیں قانون، طریقہ کار اور مواقع یہ سب سیکھنے میں وقت لگائیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کینیڈا میں اگر آپ محنت کریں، قانون کی پابندی کریں اور سیکھنے کا عمل جاری رکھیں تو آگے بڑھنے کے مواقع ضرور ملتے ہیں۔ یہاں دروازے بند نہیں ہوتے بس دستک دینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔خوابوں کی سر زمین کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔

  • خبر میں خبر…..ماجد علی سید

    خبر میں خبر…..ماجد علی سید

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور اسلام آباد اس اہم سفارتی عمل کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دونوں ممالک پاکستان کی تجویز پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوئے، جبکہ اس پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا ہے۔
    قارئین کے لئے یہ خبر محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک نیا امتحان بھی ہے۔ ماضی میں ہم نے کئی بار عالمی معاملات میں ’’اہم کردار‘‘ ادا کرنے کا دعویٰ سنا، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ بیانیہ زیادہ مربوط اور پْراعتماد نظر آتا ہے۔
    وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ پیش قدمی کرنے والا فریق بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
    لیکن اصل سوال یہاں بھی وہی ہے جو ہر بڑی کامیابی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، کیا یہ لمحاتی سفارتی کامیابی ہے یا مستقل پالیسی کا آغاز؟
    کیونکہ ثالثی صرف ملاقات کروانے کا نام نہیں، بلکہ اعتماد برقرار رکھنے، غیر جانبداری ثابت کرنے اور نتیجہ خیز پیش رفت یقینی بنانے کا ایک طویل عمل ہے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو نئی بلندی دے سکتا ہے۔ ہم عالمی طاقتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر اپنے سیاسی مخالفین کو ایک کمرے میں بٹھانا اب بھی مشکل کام لگتا ہے۔
    خبر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل 135 روپے اور پٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا گیا ہے۔
    یہ خبر براہِ راست عوام کے معاشی مسائل سے جڑی ہے اور اسی لیے سب سے زیادہ اہم بھی محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ اس کا اثر زراعت سے لے کر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ تک جاتا ہے۔
    حکومت کا یہ قدم قابلِ تعریف ہے کہ اس نے عالمی کمی کو عوام تک منتقل کیا، مگر یہاں سوال اْٹھتا ہے کیا یہ ریلیف ایک مستقل معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے یا وقتی دباؤ کا نتیجہ؟
    ماضی کا تجربہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ قیمتیں بڑھانے میں تاخیر نہیں ہوتی، مگر کم کرنے میں اکثر ’’حساب کتاب‘‘ لمبا ہو جاتا ہے۔ اگر اس بار واقعی نیت یہ ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاء￿ کی قیمتوں میں بھی نظر آنے چاہئیں۔
    ورنہ یہ کمی صرف پٹرول پمپ کی سکرین تک محدود رہ جائے گی اور عوام پھر وہی پرانا سوال پوچھیں گے، ‘‘ہمیں اصل فائدہ کب ملے گا؟‘‘
    خبر ہے کہ سندھ حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت کاروباری مراکز کے اوقات کار محدود کر دیے ہیں، جس کے مطابق بڑے شہروں میں رات 9 بجے اور دیگر اضلاع میں رات 8 بجے دکانیں بند کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، تاکہ توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی ممکن ہو
    سکے۔
    کفایت شعاری بلاشبہ ایک ضروری قدم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی دباؤ کا شکار ہو۔ مگر مسئلہ نیت کا نہیں، اطلاق کا ہے۔
    پاکستان میں کفایت شعاری اکثر ایک ’’یک طرفہ پالیسی‘‘ بن جاتی ہے، جس کا آغاز بھی عام آدمی سے ہوتا ہے اور اختتام بھی وہیں ہو جاتا ہے۔ دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کی روزی روٹی شام کے کاروبار سے جڑی ہوتی ہے۔
    سوال یہ ہے کہ کیا ریاست خود بھی اسی جذبے سے کفایت شعاری کر رہی ہے؟ کیا سرکاری اخراجات، پروٹوکول اور مراعات میں بھی اسی طرح کمی آ رہی ہے؟
    طنز یہاں خود پیدا ہو جاتا ہے، ہمیں کہا جاتا ہے بجلی بچائیں، مگر وہ نظام نہیں بدلا جاتا جو سب سے زیادہ بجلی ’’کھاتا‘‘ ہے۔
    پاکستان بیک وقت عالمی سفارت کاری، معاشی ریلیف اور داخلی نظم و ضبط کے تین محاذوں پر کھڑا ہے۔ یہ ایک مثبت سمت بھی ہو سکتی ہے، اگر ان اقدامات میں تسلسل، ہم آہنگی اور نیت کی یکسانیت ہو، ورنہ یہی خبریں کل سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوں گی۔
    کیونکہ آخرکار، ریاست کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے دعوے کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے فیصلوں کا اثر عام آدمی کی زندگی میں کتنا واضح اور دیرپا ہوتا ہے۔

  • امریکا-ایران مذاکرات کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا-ایران مذاکرات کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی

    لندن (ویب ڈیسک )عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران کمی دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امید ہے جس سے رسد کے خدشات میں کمی آئی ہے۔برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.86 ڈالر (1.87 فیصد) کمی کے بعد یہ 97.50 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 2.25 ڈالر (2.27 فیصد) کمی کے ساتھ 96.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔یاد رہے کہ گزشتہ سیشن میں دونوں بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جہاں برینٹ 4 فیصد سے زائد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا تھا اس اضافے کی وجہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی تھی۔امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو وسعت دے کر خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلایا گیا ہے جبکہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پابندی کے نفاذ کے بعد دو جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔
    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
    مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اگرچہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت ناکام رہی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ معاہدے کے اشاروں نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کر دیا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کسی حد تک کم ہوئی ہے۔