Blog

  • مذاکرات میں پاکستان نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا،ے ڈی وینس

    مذاکرات میں پاکستان نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا،ے ڈی وینس

    واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔
    ایک بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز کو خاص کریڈٹ دینا چاہتے ہیں، جنہوں نے بطور میزبان غیر معمولی صلاحیت اور قائدانہ کردار کا مظاہرہ کیا۔
    انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کی ریاستی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کو ممکن بنانے میں مدد دی، جو ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات نہیں کر رہے تھے۔
    امریکی نائب صدر کے مطابق پاکستان کی میزبانی اور سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

  • امریکا اس وقت ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں آ چکا ہے، ہیلری کلنٹن

    امریکا اس وقت ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں آ چکا ہے، ہیلری کلنٹن

    واشنگٹن:(ویب ڈیسک ) امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ناکام مذاکرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایک ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں آ چکا ہے اور اپنی سفارتی برتری کھو چکا ہے۔
    ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کو ایران پر دباؤ ڈالنے والی طاقت ہونا چاہیے تھا، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہو چکی ہے اور واشنگٹن اپنی سفارتی برتری اور لیوریج کھو بیٹھا ہے۔
    انہوں نے صدر ٹرمپ کی ٹیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کی شمولیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    ہیلری کلنٹن کے مطابق موجودہ سفارتی حکمت عملی نے امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث نہ صرف مذاکرات متاثر ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کی نظریں بھی اس تنازع کے مستقبل پر مرکوز ہیں۔

  • ایران کا  خلیجی ممالک سے  جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

    ایران کا خلیجی ممالک سے جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

    تہران(ویب ڈیسک ) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 270 ارب ڈالرز کا بھاری نقصان پہنچا ہے۔ یہ بات ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایک بیان میں بتائی۔
    روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے اثرات شامل ہیں۔
    انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے ایک اہم معاملہ ہے، جسے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات میں بھی اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق ہرجانے کا مطالبہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی شرائط میں شامل ہے۔
    دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے انتونیو گوتریس کے نام ایک خط میں خلیجی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، امارات اور کویت شامل ہیں، سے بھی جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ مذاکراتی عمل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • کراچی میں آئندہ 3 روز کے دوران شدید گرمی ہوگی،محکمہ موسمیات

    کراچی میں آئندہ 3 روز کے دوران شدید گرمی ہوگی،محکمہ موسمیات

    کراچی(ویب ڈیسک )کراچی میں آئندہ 3 روز کے دوران گرم دن ریکارڈ ہو سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 تا 37 ڈگری رہنے کی توقع ہے۔شہر میں سمندری ہوائیں فعال رہے گی تاہم مغربی سمت سے بھی ہوائیں چل سکتی ہے جبکہ نمی کا تناسب 25 سے 26 فیصد ہونے کے سبب گرمی غیر معمولی طور پر شدت اختیار نہیں کرے گی۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ سندھ کے باقی شہروں میں موسم گرم و خشک ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف  آئندہ 48 گھنٹوں  میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آئندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی گئی ہے جس کے پیش نظر وہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ریاض روانہ ہونگے۔
    ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقات میں بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت ہوگی جب کہ ایران امریکا کے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ انتہائی ا ہمیت کا حامل ہے۔
    ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مالی تعاون کے معاملات بھی چل رہے ہیں۔
    ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی سعودی عرب روانہ ہوں گے جب کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے دورہ امریکا سے واپس آنے کی صورت میں وہ بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان  نے ایران اورامریکا کو دوبارہ  مذاکرات  کی میز پر  لانے کی کوششیں تیز کردیں،ذرائع

    پاکستان نے ایران اورامریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز کردیں،ذرائع

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک )ایک سینئر پاکستانی ذریعے نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے کے غیر نتیجہ خیز اختتام کے بعد، اسلام آباد نے دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
    اگرچہ دونوں جانب کے حکام نے عوامی سطح پر اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا لیکن مذاکرات کا ابتدائی دور کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر ختم ہوا۔ کوئی بڑی پیش رفت نہ ہونے کے باوجود پاکستانی حکام آئندہ رابطوں کے امکانات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی امید برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
    ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے بتایا کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جلد از جلد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دے رہا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکی  صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ  جنگ کی طرف نہیں جائیں گے،بر طانوی  جریدہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے،بر طانوی جریدہ

    لندن(ویب ڈیسک)
    برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    دی اکنامسٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم ازکم کسی ایک کی شکست ہوتی ہے، اگر ایران میں جاری جنگ میں سیز فائر سے جنگ کاخاتمہ ہوا تو سب سے بڑی شکست کھانے والے امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے۔

    دی اکنامسٹ کے مطابق ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کو چلانے کے نئے طریقے کے لیےصدرٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے۔

    دی اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    رپورٹ کےمطابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے بھرپور اشتعال انگیز بیانات اب اس طرح لگتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور سنہری دورکے دعوے کے بعد وہ خود کو مضحکہ خیز بنا سکتے ہیں۔ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا بڑی حد تک پورے نہیں ہو سکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کی وجوہات ہیں۔ اس کے رہنما مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ توانائی اور نقل و حمل کے نظام کی وسیع تباہی ملک کو چلانا مشکل بنا دے گی۔ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بھی خواہاں ہیں۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ ساتھ ہی ایران کو یہ بھی لگتا ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں ہے، کیونکہ امریکا مستقل طور پر اپنی فوج کو حملے کے لیے تیار نہیں رکھ سکتا۔ ایران کے پاس مؤثر بحری یا فضائی طاقت نہیں اور اس نے اپنے کئی میزائل اور ڈرون کھو دیے یا استعمال کر لیے ہیں۔ مزید بنانے کے لیے اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ اس کی معیشت ہزاروں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی سال پیچھے جا چکی ہے۔

    رپورٹ کےمطابق یہ جنگ جوہری خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، لیکن اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے، جو کئی بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن مستقبل کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی ترغیب بھی بڑھ گئی ہے، جو خطے میں جوہری پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھی اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ جنگ ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی حق نہیں ہوتی۔ اگرچہ امریکا کی فوجی برتری واضح تھی، ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی۔ بغیر حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نےامریکا کی طاقت کو کمزور کیا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ہنگری حکومت کو شکست ہوگئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ہنگری حکومت کو شکست ہوگئی۔

    بڈاپسٹ(ویب ڈیسک )
    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگری کی اپوزیشن جماعت “تیسزا پارٹی” نے حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیراعظم وکٹر اوربان کی جماعت فیدیز کو واضح شکست دے دی ہے۔
    وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے اتوار کو پارلیمانی انتخابات میں اپنے حریف قدامت پسند پیٹر میجیار (Peter Magyar)کے ہاتھوں شکست تسلیم کر لی۔
    پیٹر سابق حکومتی اندرونی شخصیت اور ایک نئے سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے “نظام کی تبدیلی” کا وعدہ کیا ہے۔
    پارلیمانی انتخابات میں پیٹر کی کامیابی کے بعد حامیوں نے جشن نے منایا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، رات بھر خوشی منا ئی ۔
    وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے کہا کہ انتخابی نتائج، اگرچہ ابھی حتمی نہیں، مگر واضح اور قابلِ فہم ہیں، ہمارے لیے یہ تکلیف دہ ہیں لیکن میں جیتنے والی جماعت کو مبارکباد دیتا ہوں۔
    واضح رہے کہ وکٹر اوربان گزشتہ 16 برس سے ہنگری کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔
    دوسری جانب یورپی رہنماؤں میں ہنگری میں اپوزیشن کی جیت کو یورپ کی جیت قرار دے دیا۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان نے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے

    پاکستان نے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے

    اسلام آباد(ویب ڈیسک ) مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے گزشتہ رات پاکستان آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے انتہائی غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے جو کئی تہوں پر مشتمل تھے۔
    پاکستان کے ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو لانے والے طیارے نے دارالحکومت تہران سے سوا 400کلومیٹر دور بحیرہ کیسپین کے کنارے گورگان ائیرپورٹ سے اڑان بھری تھی۔
    شہری ہوا بازی سے متعلق ایک اہم ذریعے نے نمائندہ جیو نیوز کو بتایا کہ پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ ایرانی مہمانوں کے طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوگا۔
    طیارے کا ٹرانسپونڈر بند کیوں کیا جاتا ہے؟
    جس طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوتا ہے وہ کمرشل طیاروں کی نگرانی کرنے والے سکینڈری ریڈار پر نظر نہیں آ تا تاہم اس طیارے کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پرائمری ریڈار پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے پرائمری ریڈار پر بھی اس طیارے سے متعلق بنیادی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، یہ طیارہ پرائمری ریڈار پر صرف ایک نقطے کی صورت حرکت کرتا نظر آتا ہے۔
    ایرانی طیارے کی حفاظت کیلئے کیا گیا ایک انتظام یہ تھا کہ ایرانی طیارے کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی ائیر لائن کا طیارہ بھی اڑ رہا تھا ، اس پاکستانی طیارے کا ٹرانسپونڈر کھلا ہوا تھا، دنیا بھر کے ریڈار اس روٹ پر پاکستان کا ائیر بس اے 321 طیارہ دیکھ رہےتھے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کا ائیر بس اے 300 طیارہ ٹرانسپونڈر بند کیے خاموشی سے اڑتا رہا، پاکستان ائیر لائن کا طیارہ ایرانی طیارے کو نور خان ائیربیس پر لینڈ کروا کر واپس اسلام آباد ائیرپورٹ کی جانب چلا گیا۔
    Air mobility deception
    طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ایک صارف نے سماجی رابطے کی سائٹ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ Iran 04 کے کال سائن کے ساتھ جس طیارے کو مانیٹر کر رہا تھا وہ ائیر بس اے 321 نکلا جب کہ اصل ایرانی طیارہ ائیربس اے 300 تھا۔
    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی طیارے کیلئے کیے گئے انتظام کو Air mobility deception کہتے ہیں۔
    ایرانی طیارے کی حفاظت کیلئے پاکستان ائیر فورس کے انتظامات اس کے علاوہ تھے ، بحیرہ کیسپین کے کنارے سے اڑان بھرنے والے ایرانی طیارے نے افغانستان پر طویل پرواز کی اور چمن کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا۔
    اس دوران خلیج کے وار زون سے لے کر پورے افغانستان اور اسلام آباد تک اواکس اور لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی نگرانی اور حفاظت کا مؤثر نظام کام کرتا رہا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا مرکزی محور ہوگا

    ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا مرکزی محور ہوگا

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) جب امریکا اور ایران کے وفود اہم مذاکرات کیلئے اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے ہیں، توقع ہے کہ وسیع لیکن پیچیدہ نوعیت کے مسائل بحث پر حاوی رہیں گے۔
    پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نازک جنگ بندی پر پیش رفت کو آگے بڑھانے اور ایک وسیع تر معاہدے کی راہیں تلاش کرنے کیلئے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
    مذاکرات دو متقابل تجاویز کے گرد ترتیب دیے گئے ہیں۔ ایران نے مطالبات کی مد میں 10 نکاتی فریم ورک تیار کیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اگرچہ دونوں فریقین نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم نمایاں اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ان مذاکرات کا مرکز ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
    واشنگٹن اس بات کی مضبوط یقین دہانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اس کے ساتھ سخت اور محدود یورینیم افزودگی اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے سخت نگرانی بھی شامل ہے۔
    تاہم، ایران پرامن جوہری سرگرمیوں کے حق کو تسلیم کیے جانے کا خواہاں ہے، جن میں افزودگی بھی شامل ہے، اور اسے وہ اپنی قومی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ اقتصادی پابندیاں ایک اور مرکزی مسئلہ ہیں۔ ایران امریکا اور دیگر عالمی پابندیوں کے فوری اور مکمل خاتمے کے ساتھ بیرونِ ملک منجمد اپنے مالی اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    امریکی مؤقف اس سے نمایاں طور پر مختلف ہے، جو ایران کی جانب سے جوہری اور سکیورٹی وعدوں پر قابلِ تصدیق عملدرآمد کے ساتھ منسلک مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کے حق میں ہے۔
    اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور رسائی بھی ایک بڑا متنازع پوائنٹ ہے۔ ایران اس گزرگاہ پر اپنے ضابطہ جاتی کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرانے کا خواہاں ہے، جس کیلئے وہ اپنی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کا حوالہ دیتا ہے۔
    دوسری جانب، امریکا عالمی توانائی رسد میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیشِ نظر کسی پابندی کے بغیر مکمل طور پر کھلی اور محفوظ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر اصرار کر رہا ہے۔ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس موضوع ہے۔
    واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی مسلح گروہوں کیلئے ایران کی حمایت کے خاتمے پر زور دے رہا ہے، جبکہ ایران ان گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور علاقائی تنازعات میں وسیع تر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    ایران نے خطے سے امریکی افواج کے انخلاء اور عدم جارحیت کی باضابطہ ضمانت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فوجی کردار میں کمی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ایک اور متنازع مسئلہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ہے۔
    امریکا ایران کی میزائل ڈویلپمنٹ اور وسیع تر دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ ایران ایسے مطالبات کو اپنے حقِ دفاع پر قدغن تصور کرتا ہے۔ تہران نے حالیہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے، جبکہ توقع ہے کہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے حوالے سے احتساب پر زور دے گا۔
    دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت قریب آنے کے ساتھ، ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ پیش رفت ممکنہ طور پر مرحلہ وار ہوگی، جس کا آغاز دونوں فریقین کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات سے ہوگا۔ اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی فوری توقع نہیں، تاہم ذرائع کے مطابق مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے، جس کا مطلب جنگ بندی میں توسیع بھی ہو سکتا ہے۔