تہران (ویب ڈیسک )ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق مواد دکھائے جانے کے بعد نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
تقریباً تین منٹ کی اس رپورٹ کا محور بیرن ٹرمپ تھے جس میں گرافکس کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں، نگرانی، آن لائن سرگرمیوں اور ان کے اردگرد موجود افراد سے متعلق معلومات دکھائی گئیں۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر بیرن ٹرمپ کے سوشل روابط کا پتا لگانے اور امریکی خفیہ سروس کی سیکیورٹی کے حصار تک پہنچنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
ایک کروڑ ڈالر انعام کا ذکر
رپورٹ کے اختتام پر مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا ذکر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ بہت سے لوگ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق اس نوعیت کا مواد اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا میں سامنے آچکا ہے، مگر تازہ نشریات میں براہِ راست ٹرمپ کے بیٹے کو موضوع بنائے جانے کو دھمکی آمیز بیانیے میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشیں
امریکی حکام ماضی میں ایران سے منسلک افراد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سابق امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازشوں کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔
امریکی پراسیکیوٹرز نے 2024 میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک شخص کو ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ نشریات میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

ایرانی ٹی وی پر ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے والے کیلئے 2 ارب روپے سے زائد انعام کا اعلان
-

کاکروچ جنتا پارٹی نے دوبارہ بڑے مارچ کا اعلان کر دیا
نئی دہلی(ویب ڈیسک ) بھارت میں NEET پیپر لیک تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرنے لگا کاکروچ جنتا پارٹی نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک پرامن مارچ کا اعلان کردیا۔تنظیم کے مطابق جنتر منتر پر احتجاج ختم ہوئے ابھی چار ہفتے ہی گزرے ہیں لیکن 25 جولائی کو حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث دوبارہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔CJP کا مؤقف ہے کہ حکومت نے پیپر لیک تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے امیدواروں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم یہ مطالبات تاحال پورے نہیں ہوئے۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی تھیں تاکہ ان پر کارروائی کی جاسکے، لیکن حکومتی سطح پر معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔5 ستمبر کو ہونے والے مارچ کی قیادت مبینہ طور پر ان طلبہ کے اہل خانہ کریں گے جنہوں نے NEET تنازع کے دوران اپنی جانیں گنوائیں جبکہ پولیس لاٹھی چارج کا سامنا کرنے والے طلبہ بھی مارچ میں شریک ہوں گے۔کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن ہوگا تاہم حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کیے گئے تو NEET پیپر لیک کے معاملے پر احتجاجی تحریک دوبارہ شدت اختیار کرسکتی ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

سنسنی خیزی اور فیک نیوز میں بھارتی میڈیا سب سے آگے، امریکی سفیر
ممبی (ویب ڈیسک )بھارت میں امریکی سفیر نے بھارتی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی کی انتہا ہے ، خبر، تجزیے اور حقیقت کا فرق مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے.میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا کہ شام 6 بجے 8 اور رات 10 بجے 12 افراد بیک وقت چیختے ہیں، یہ نیوز شو ہے یا شور شرابا. بھارتی ٹاک شوز کی چیخ و پکار میں گفتگو سمجھنا بالکل ناممکن ہوچکا ہے.انہوں نے کہا کہ مداخلتت اور روکنے کے باوجود مہمانوں کو مسلسل چیخنے کی تربیت کہاں سے ملتی ہے؟ امریکا میں فیک نیوز کو بڑا مسئلہ سمجھتا تھا لیکن بھارتی میڈیا سب سے آگے نکل گیا.سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کے تبصروں نے بھارتی ذرائع ابلاغ میں گمراہ کن رپورٹنگ اور فیک نیوز کے بڑھتے رجحان کو بے نقاب کر دیا. امریکی بیانیے، سنسنی خیزی اور غیرمصدقہ دعوؤں سے بھارتی میڈیا اپنی عالمی ساکھ مسلسل کھو رہا ہے. سیاسیتجزیہتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا سچائی کے بجائے صرف حکومتی بیانیے اور سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ بن چکا ہے. ذرائع ابلاغ پر بڑھتا ہوا سخت حکومتی اثر و رسوخ بھارت میں غیراعلانیہ ایمرجنسی کے تاثر کو تقویت دیتا ہے.
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

ملک پر 74 فیصد نئے قرضوں کا بوجھ لادنے پر وفاقی وزرا کو نشانِ امتیاز سے نوازا جائے گا ۔”تحریر: شیخ راشد عالم
کسی بھی ریاست کی معیشت اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جب یہ ریڑھ کی ہڈی غیر ملکی قرضوں کی دیمک چاٹ لے تو قوم صرف مفلوج نہیں ہوتی، بلکہ نسلوں کے لیے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے۔ پاکستان آج اسی غلامی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار نے جو تصویر کھینچی ہے وہ کسی ڈرانے خواب سے کم نہیں۔ جون 2022 میں ملکی مجموعی قرضہ 47 ہزار 832 ارب روپے تھا، جو جون 2026 تک 83 ہزار 642 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ محض 74.86 فیصد کا اضافہ نہیں، یہ قوم کی آئندہ تین نسلوں کی محنت پر غیر ملکی قرض خواہوں کا باضابطہ قبضہ ہے۔ مقامی قرضہ بھی 59 ہزار 441 ارب روپے کی خطرناک سطح پر جا پہنچا ہے۔
ان ہوشربا ہندسوں کو پڑھتے ہوئے ایک عام پاکستانی کا ذہن یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ جن لوگوں کی پالیسیوں نے ملک کو قرضوں کے اس بھنور میں دھکیلا، انہیں کیا سزا ملی؟ جواب ملتا ہے: سزا نہیں، سول اعزازات! یومِ آزادی 2026 کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جن وفاقی وزرا کے لیے نشانِ امتیاز کی نامزدگیاں منظور کی ہیں، ان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ شامل ہیں۔ یعنی معاشی تباہی کے سب سے بڑے دعویداروں کو قومی اعزاز سے نوازنے کی تیاری ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب کو تو کچھ عرصہ قبل نجی بینکاری سے درآمد کر کے “معاشی مسیحا” کہا گیا تھا، لیکن ان کے دور میں ملک پر 35 ہزار 810 ارب روپے کا اضافی قرض لادا گیا ہے۔ ان کی ہر پالیسی کا نچوڑ یہی رہا: عوام سے ٹیکس وصول کرو، بجلی و گیس مہنگی کرو، کرنسی کو ڈوبنے دو اور پھر آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے کمر باندھ لو۔ اس “شاندار کارکردگی” پر اگر نشانِ امتیاز نہ ملے تو پھر کسے ملے؟ اسحاق ڈار معاشی بحران کے پچھلے ادوار کے معمار رہے ہیں اور احد خان چیمہ اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ جیسے حساس محکموں کے سربراہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے دامن میں ایسا کون سا کارنامہ ہے جس پر یہ اعزازات دیے جا رہے ہیں؟ کیا قرض لینے کی مہارت اب ملک کا سب سے بڑا “قومی کارنامہ” قرار پا گئی ہے؟
یہ معاملہ صرف انفرادی وزرا کی نااہلی کا نہیں، پورے احتسابی نظام کی نفی کا ہے۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا اور تمام وزارتوں سے قابلِ تصدیق دستاویزی ثبوت طلب کیے تھے۔ لیکن جب وہی وزارتیں قرضوں کے انبار لگا رہی ہیں
اور انہیں کوئی سزا نہیں دی جا رہی، تو اس جائزے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ اندرونی بیوروکریٹک جائزے کبھی کسی وزیر کو سزا نہیں دیتے؛ وہ صرف فائلوں کی تزئین و آرائش کرتے ہیں۔ یہاں تو معاملہ الٹا ہے: جائزہ تو دور، انہی ناکام وزرا کو ایوارڈ دینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔اس کے برعکس، پاکستانی افواج نے حالیہ علاقائی کشیدگی میں ثالثی اور امن کے قیام میں جو کردار ادا کیا ہے، اس نے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ دفاعی ادارے ریاست کی بقا کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور سویلین قیادت ملکی معیشت کو قرضوں کے حوالے کر رہی ہے۔ فوج کی عسکری قربانیاں اپنی جگہ، مگر سویلین حکمرانوں کی معاشی نااہلی اپنی جگہ۔ دونوں کا موازنہ اس لیے ضروری ہے کہ عوام جان لیں کہ ملک کے اندر دو مختلف معیار ہیں: ایک ادارہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے، دوسرا اپنی ذمہ داری چھوڑ کر قوم کو قرضوں کے طوق پہنا رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں “سزا و جزا” کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔ جو وزیر جتنا بڑا قرض لے آئے، اسے اتنا بڑا اعزاز ملے گا۔ معیشت کی تباہی کے ذمہ داروں کو نیب یا ایف آئی اے کے حوالے کرنے کے بجائے صدر کی طرف سے نامزدگیاں بھجوائی جا رہی ہیں۔ اگر حکومت کو ذرا بھی عوامی شرم باقی ہے تو ان نامزدگیوں کو فوری واپس لیا جائے اور ان وزرا کی کارکردگی کا غیر جانبدار تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔ آڈٹ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے اور عوام کے سامنے پبلک کی جائے۔ جس وزیر کے دور میں قرضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اس کے عہدے کی مدت کے اثاثوں کا فرانزک جائزہ لیا جائے۔ اگر بدعنوانی یا غفلت ثابت ہو تو کیس چلایا جائے، نہ کہ سینے پر تمغہ سجایا جائے۔
پاکستان اس وقت دو راستوں پر کھڑا ہے: ایک طرف خودمختاری اور قومی وقار ہے، جس کے لیے غیر ملکی قرضوں سے نجات اور خود انحصاری ناگزیر ہے؛ دوسری طرف غلامی ہے، جس کا راستہ انہی قرض خواہوں کی شرائط پر چلنے اور ان کے گنے چنے نمائندوں کو سینے پر تمغے پہنانے سے ہموار ہوتا ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر قوم سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وہ واقعی آزاد ہے، جب اس کی کل معیشت غیر ملکی قرضوں کی یرغمال ہے؟ کیا وہ آزاد ہے، جب اس کے حکمران قرضوں کے بوجھ تلے دبے عوام کو ٹیکسوں کی چکی میں پیس کر خود تمغے سجاتے ہیں؟
یہ اعزازات اگر دیے گئے تو تاریخ انہیں “نشانِ امتیاز یافتہ قرض فروش” کے طور پر یاد رکھے گی۔ قوم کو چاہیے کہ وہ اپنی آنکھیں کھولے اور ان “کارناموں” کا حقیقی رپورٹ کارڈ مانگے۔ جب تک ناکامی کی سزا نہیں ملتی، کامیابی کا تمغہ صرف ایک مذاق ہے۔ اور پاکستانی عوام اب
یہ مذاق برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ -

چاند کا حقیقی ٹکڑا کراچی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ تحریر: نشید آفاقی
چاند۔۔۔ وہ روشن جرمِ فلکی جس نے صدیوں سے انسان کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ رات کے خاموش آسمان پر چمکتا ہوا چاند کبھی شاعروں کے تخیل کا مرکز بنا، کبھی داستانوں کا حصہ، کبھی محبت کی علامت اور کبھی انسانی تجسس کی انتہا۔ انسان نے صدیوں تک چاند کو صرف زمین سے دیکھا، اس کے بارے میں سوچا، اس کے راز جاننے کی خواہش کی، مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انسانی جستجو نے زمین کی حدود عبور کرلیں اور انسان نے واقعی چاند کی سطح پر قدم رکھ دیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس تاریخی سفر کی ایک حقیقی یادگار پاکستان میں بھی موجود ہے، اور وہ بھی کراچی میں۔
کراچی کے نیشنل میوزیم آف پاکستان میں چاند کی سطح سے لایا گیا ایک حقیقی قمری پتھر محفوظ ہے۔ بظاہر دیکھنے میں یہ ایک چھوٹا سا عام پتھر محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت جاننے کے بعد اس کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جو زمین پر کسی پہاڑ، دریا یا صحرا سے نہیں اٹھایا گیا بلکہ تقریبا چار لاکھ کلومیٹر دور واقع چاند کی سطح سے انسان اپنے ساتھ زمین پر لایا تھا۔ یہ نمونہ دسمبر 1972 میں امریکا کے تاریخی خلائی مشن اپولو 17 کے دوران چاند سے حاصل کیا گیا اور بعد میں پاکستان پہنچا۔
اپولو 17 انسان کے چاند پر اترنے کا آخری مشن تھا۔ اس مشن کے ذریعے انسان نے نہ صرف چاند کی سطح پر تحقیق کی بلکہ وہاں سے چٹانوں اور مٹی کے نمونے بھی زمین پر واپس لائے۔ یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے چاند کی سطح پر اتر کر مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے جبکہ رونالڈ ایونز چاند کے مدار میں موجود خلائی گاڑی میں موجود رہے۔ یہ مشن خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے کیونکہ اس کے بعد آج تک کوئی انسان چاند کی سطح پر دوبارہ قدم نہیں رکھ سکا۔
اپولو پروگرام نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا تھا۔ 1969 میں اپولو 11 کے ذریعے نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو پوری دنیا نے اس تاریخی لمحے کو دیکھا۔ اس کے بعد اپولو کے دیگر مشنز کے ذریعے چاند کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیا گیا اور وہاں سے سیکڑوں کلوگرام چٹانیں اور مٹی کے نمونے زمین پر لائے گئے۔ ان نمونوں نے سائنس دانوں کو چاند کی تشکیل، اس کی عمر، اس کی سطح اور اس کے ارضیاتی ماضی کے بارے میں بے شمار اہم معلومات فراہم کیں۔
کراچی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ قمری پتھر بھی اسی عظیم خلائی سفر کی ایک یادگار ہے۔ اسے خصوصی حفاظتی انتظام کے تحت ایک شفاف ایکریلک گولے میں رکھا گیا ہے تاکہ اسے محفوظ بھی رکھا جاسکے اور میوزیم آنے والے افراد اسے دیکھ بھی سکیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کا قومی پرچم بھی رکھا گیا ہے، جو اپولو 17 مشن کے دوران خلا اور چاند تک لے جایا گیا تھا۔ یوں ایک ہی جگہ پر پاکستان کی قومی شناخت اور انسانی خلائی تاریخ کی ایک منفرد علامت موجود ہے۔
یہ تصور ہی اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتا ہے کہ کراچی میں کھڑا ایک شخص چاند سے لائے گئے حقیقی پتھر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ وہی چاند جسے ہم ہر رات آسمان پر دیکھتے ہیں، جس کی روشنی ہمارے شہروں، صحرا اور سمندروں پر پڑتی ہے، اس کی سطح کا ایک حقیقی ٹکڑا ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ احساس اس پتھر کو محض ایک عجائب گھر کی شے نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے انسانی تاریخ کی ایک زندہ داستان بنا دیتا ہے۔
چاند کی چٹانیں سائنس دانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ زمین پر موجود چٹانیں ہوا، پانی، بارش، درجہ حرارت اور دیگر قدرتی عوامل سے مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جبکہ چاند کی سطح پر حالات بالکل مختلف ہیں۔ وہاں زمین جیسا ماحول موجود نہیں، نہ بارش ہوتی ہے اور نہ ہی ہوا کا وہ نظام ہے جو زمین کی سطح کو مسلسل تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے چاند سے حاصل کیے گئے نمونے اربوں سال پرانے ارضیاتی حالات کے بارے میں ایسی معلومات محفوظ رکھ سکتے ہیں جو زمین پر موجود چٹانوں میں اسی شکل میں باقی نہیں رہیں۔
سائنس دانوں نے اپولو مشنز سے حاصل ہونے والے قمری نمونوں پر کئی دہائیوں تک تحقیق کی اور ان سے چاند کی تشکیل اور اس کے ماضی کے بارے میں اہم نظریات سامنے آئے۔ ان نمونوں نے زمین اور چاند کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دی۔ آج بھی ان میں سے بہت سے نمونے دنیا کے مختلف تحقیقی اداروں میں زیرِ مطالعہ ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کے اندر موجود راز دریافت کیے جارہے ہیں۔
لیکن کراچی میں محفوظ یہ قمری پتھر صرف سائنس کی نظر سے ہی اہم نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے بھی ایک منفرد یادگار ہے۔ ایسے نمونے دنیا کے ہر ملک کے عجائب گھروں میں موجود نہیں۔ پاکستان میں اس کا محفوظ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی خلائی تاریخ کا ایک چھوٹا سا مگر قیمتی باب ہمارے ملک میں بھی موجود ہے۔
یہ پتھر نئی نسل کے لیے خاص طور پر اہم ہوسکتا ہے۔ آج کے دور میں جب بچے اور نوجوان موبائل فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کی دنیا میں مصروف ہیں، انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ سائنس اور انسانی جستجو نے دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ ایک بچہ جب نیشنل میوزیم میں کھڑے ہوکر اس پتھر کو دیکھتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاند سے لایا گیا ہے تو اس کے ذہن میں بے شمار سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ چاند تک انسان کیسے پہنچا؟ وہاں سانس کیسے لی؟ پتھر زمین پر کیسے لایا گیا؟ چاند کی سطح کیسی ہے؟ کیا مستقبل میں انسان وہاں دوبارہ جائے گا؟ یہی سوالات دراصل سائنسی تجسس کی بنیاد بنتے ہیں۔
عجائب گھر صرف پرانی اشیا محفوظ کرنے کی جگہیں نہیں ہوتے بلکہ وہ ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے جوڑنے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ نیشنل میوزیم میں موجود یہ قمری پتھر اسی حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ یہ 1972 کے ایک تاریخی خلائی سفر کی یادگار ہے، لیکن اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے کیونکہ دنیا ایک مرتبہ پھر چاند کی طرف دیکھ رہی ہے۔
پچھلی چند دہائیوں کے دوران خلائی تحقیق میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ مختلف ممالک نے چاند کے گرد خلائی مشن بھیجے، مریخ تک روبوٹک مشنز پہنچائے اور نظامِ شمسی کے دور دراز علاقوں کا مطالعہ کیا۔ اب ایک مرتبہ پھر انسان چاند پر جانے کی تیاری کررہا ہے۔ مستقبل میں چاند پر مستقل تحقیقی مراکز کے قیام اور وہاں سے مزید سائنسی معلومات حاصل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ایسے میں کراچی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ اپولو 17 کا قمری پتھر پہلے سے بھی زیادہ معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سطح کو قریب سے دیکھا، وہاں قدم رکھا، اس کی مٹی کو چھوا اور اس کے پتھروں کو زمین پر واپس لایا۔
اگر کوئی شخص پہلی نظر میں اس پتھر کو دیکھے تو ممکن ہے اسے یہ عام پتھروں سے بالکل مختلف محسوس نہ ہو۔ نہ یہ سونے کی طرح چمکتا ہے، نہ اس پر کوئی ایسی خاص علامت موجود ہے جو اسے فورا منفرد بنا دے۔ لیکن اس کی اصل قیمت اس کی ظاہری شکل میں نہیں بلکہ اس کی تاریخ میں ہے۔ یہ پتھر اپنے اندر ایک ایسے سفر کی داستان رکھتا ہے جو زمین سے شروع ہوا، خلا کی وسعتوں سے گزرا، چاند کی سطح تک پہنچا اور پھر واپس زمین پر آیا۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی میں محفوظ یہ قمری پتھر ایک خاموش مگر طاقتور پیغام بھی دیتا ہے کہ انسانی جستجو کی کوئی آخری حد نہیں۔ جس چاند کو انسان ہزاروں سال تک صرف آسمان پر دیکھتا رہا، ایک دن اسی انسان نے وہاں پہنچ کر اس کی زمین کو چھوا اور اس کا ایک حصہ اپنے ساتھ واپس لے آیا۔
کراچی کی شناخت عام طور پر سمندر، بندرگاہ، کاروبار، تاریخی عمارتوں اور اپنی متحرک شہری زندگی کے حوالے سے کی جاتی ہے، لیکن نیشنل میوزیم میں محفوظ یہ قمری پتھر شہر کی ایک ایسی منفرد شناخت بھی ہے جس کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ کراچی میں موجود
دنیا کی خلائی تاریخ سے جڑی ان یادگاروں میں سے ہے جنہیں دیکھ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ کائنات کتنی وسیع اور انسانی سوچ کتنی حیرت انگیز ہے۔چاند کا یہ حقیقی ٹکڑا ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آج سے کئی دہائیوں بعد آنے والی نسلیں ہمارے دور کو کس نظر سے دیکھیں گی۔ شاید اس وقت انسان چاند سے بھی آگے مریخ تک پہنچ چکا ہو، شاید دوسرے سیاروں پر تحقیق کے نئے دروازے کھل چکے ہوں، لیکن اپولو 17 اور اس کے ذریعے زمین پر لائے گئے قمری نمونے ہمیشہ اس دور کی یاد دلاتے رہیں گے جب انسان نے پہلی مرتبہ کسی دوسرے آسمانی جسم پر قدم رکھا تھا۔
اور پاکستان کے لیے یہ یقینا ایک منفرد تاریخی اعزاز ہے کہ انسانی خلائی تاریخ کا ایک حقیقی ٹکڑا کراچی میں محفوظ ہے۔
یہ صرف ایک پتھر نہیں، یہ انسانی خواب، جستجو، سائنس اور کامیابی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی جو چیز انسان کو ناممکن محسوس ہوتی ہے، مسلسل تحقیق، محنت اور حوصلے کے ذریعے وہ حقیقت بھی بن سکتی ہے۔
رات کو جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو چاند ہمیں ہمیشہ کی طرح دور اور خاموش دکھائی دیتا ہے، لیکن کراچی کے نیشنل میوزیم میں موجود یہ چھوٹا سا پتھر اس فاصلے کو ایک لمحے کے لیے ختم کردیتا ہے۔ وہاں محفوظ قمری پتھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چاند صرف آسمان پر چمکتا ہوا ایک روشن جسم نہیں، بلکہ اس کی زمین کا ایک حقیقی ٹکڑا ہمارے درمیان، ہمارے اپنے شہر کراچی میں بھی موجود ہے۔
-

سوشل میڈیا نے ہمیں باخبر کیا ہے یا بے خبر؟ ماجد علی سید
کبھی خبر کا انتظار ہوا کرتا تھا، اب خبر سے جان چھڑانا مشکل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب صبح اخبار ہاتھ میں آتا تو معلوم ہوتا کہ گزشتہ روز ملک اور دنیا میں کیا ہوا۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے اپنے مخصوص اوقات تھے اور خبر سننے یا پڑھنے کے لیے باقاعدہ وقت نکالنا پڑتا تھا۔آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ آنکھ کھلنے سے پہلے موبائل فون کی اسکرین پر درجنوں خبریں، ویڈیوز، تبصرے، تجزیے اور دعوے ہمارا استقبال کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ کہیں پیش آتا ہے، کسی کے موبائل کیمرے میں محفوظ ہوتا ہے اور چند لمحوں بعد پورے ملک میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی بیان سامنے آتا ہے تو اس کے ساتھ تبصروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، کوئی تصویر نظر آتی ہے تو اس کے ساتھ ایسی کہانی جوڑ دی جاتی ہے جس کا حقیقت سے تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ ہم تاریخ کے اس دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں خبر کی قلت نہیں بلکہ خبر کی کثرت مسئلہ بن گئی ہے۔یہ کثرت بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول دیے ہیں۔ اب کسی شہری کو اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لیے لازما کسی بڑے ادارے یا میڈیا ہاس کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑتی۔ ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک تحریر بعض اوقات ایسا مسئلہ سامنے لے آتی ہے جو برسوں سے نظر انداز ہورہا ہو۔ کسی دور دراز علاقے میں ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں قومی سطح پر زیر بحث آسکتا ہے۔ کسی عام شہری کی شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچ سکتی ہے اور کسی اہم معاملے پر عوامی توجہ مرکوز ہوسکتی ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ہر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے اور سوشل میڈیا کی آزادی کا دوسرا رخ خاصا تشویش ناک ہے۔ وہی شخص جو اپنی شکایت دنیا کے سامنے لا سکتا ہے، کسی دوسرے کے بارے میں غیرمصدقہ الزام بھی پھیلا سکتا ہے۔ وہی موبائل فون جو کسی ظلم یا ناانصافی کی ویڈیو محفوظ کرسکتا ہے، کسی پرانی ویڈیو کو نئے واقعے کے نام سے بھی پیش کرسکتا ہے۔ ایک درست تصویر کے ساتھ غلط وضاحت لگا کر پورا تاثر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یوں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ ہمارے پاس کتنی معلومات ہیں، اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ ان معلومات میں سچ کتنا ہے؟ہم نے خبر حاصل کرنے کی رفتار تو بڑھا لی ہے، مگر خبر کو پرکھنے کی عادت اسی رفتار سے نہیں بڑھا سکے۔ صحافت میں خبر صرف یہ نہیں ہوتی کہ کسی نے کچھ کہہ دیا یا کسی واقعے کی ایک ویڈیو سامنے آگئی۔ خبر کے پیچھے ذریعہ، پس منظر، تصدیق، متعلقہ فریق کا مقف اور معلومات کے درست ہونے کا اطمینان ضروری ہوتا ہے۔سوشل میڈیا نے اس پورے عمل کو چند سیکنڈ کا بنا دیا ہے۔ ایک پوسٹ سامنے آتی ہے، لوگ اسے خبر سمجھ کر آگے بڑھاتے ہیں، پھر کوئی دوسرا اس میں اپنی طرف سے ایک جملہ شامل کرتا ہے، تیسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے اور چوتھے تک پہنچتے پہنچتے اصل واقعہ ایک مختلف شکل اختیار کرچکا ہوتا ہے۔یہ صرف معلومات کی معمولی تبدیلی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ کسی بے گناہ فرد پر الزام لگ سکتا ہے، کسی خاندان کی عزت متاثر ہوسکتی ہے، کسی ادارے کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوسکتا ہے اور کسی حساس معاملے میں عوامی اشتعال جنم لے سکتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر تصدیق سے پہلے فیصلہ کرلیتے ہیں۔ مکمل خبر پڑھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا، لیکن اس پر رائے قائم کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے چند سیکنڈ کافی ہوتے ہیں۔ ویڈیو کے
چند سیکنڈ دیکھے اور فیصلہ ہوگیا کہ قصوروار کون ہے، سرخی پڑھی اور طے کرلیا کہ واقعہ کیا ہے، کسی پسندیدہ شخصیت کا بیان سامنے آیا تو اسے سچ مان لیا اور کسی ناپسندیدہ شخصیت کا مقف سامنے آیا تو اسے جھوٹ قرار دے دیا۔یوں سوشل میڈیا نے ہمیں صرف معلومات کی فراوانی نہیں دی بلکہ فوری ردعمل کی عادت بھی پیدا کردی ہے۔ ہم خبر پڑھنے سے پہلے اس پر ردعمل دینے لگے ہیں، پوری بات سمجھنے سے پہلے اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں اور بعض اوقات اپنی رائے کو حقیقت سے بھی زیادہ اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ صحافت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ خبر اب صرف نیوز روم کی میز پر نہیں آتی بلکہ ہر موبائل فون سے آسکتی ہے۔ یہ صورت حال صحافی کے لیے ایک طرف بے پناہ مواقع پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف اس کی ذمہ داری کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ہر دستیاب معلومات خبر نہیں ہوتی۔ ایک صحافی اگر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر چیز کو خبر سمجھ کر نشر یا شائع کرنے لگے تو وہ خبر دینے کے بجائے افواہ پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا: پہلے تصدیق، پھر اشاعت۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج خبر کی رفتار بہت تیز ہے، اس لیے تصدیق کے لیے وقت کم رہ گیا ہے، جبکہ ایک غلط خبر کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ چند منٹ کی تاخیر شاید کسی خبر کو تھوڑا پیچھے کردے، لیکن غلط خبر کی اشاعت کسی ادارے اور صحافی کے اعتماد کو طویل عرصے تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا نے ہماری اجتماعی سوچ کو بھی ایک خاص انداز میں متاثر کیا ہے۔ ہم اکثر وہی مواد دیکھتے ہیں جو ہماری پسند، سیاسی وابستگی یا سماجی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے۔ ایک مخصوص رائے رکھنے والا شخص زیادہ تر انہی صفحات، اکانٹس اور گروپس کو دیکھتا ہے جو اس کے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ اپنے ہی خیالات کے ایک دائرے میں محدود ہوجاتا ہے اور اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ہر شخص اسی طرح سوچتا ہے۔ پھر جب کوئی مختلف رائے سامنے آتی ہے تو اسے سمجھنے یا سننے کے بجائے مسترد کرنا آسان لگتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا معلومات کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات رائے کی دیوار بھی بن جاتا ہے۔یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اختلاف غلطی نہیں۔ ممکن ہے سامنے والا شخص ہم سے مختلف سوچتا ہو اور پھر بھی اس کی بات درست ہو۔ ممکن ہے ہماری اپنی رائے نامکمل ہو اور خبر کا کوئی ایسا پہلو ہماری نظر سے اوجھل ہو جو دوسرے شخص نے دیکھا ہو۔ لیکن سوشل میڈیا کے شور میں “ممکن ہے” کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔ ہر شخص اپنے موقف کو آخری سچ سمجھنے لگا ہے اور اختلاف کرنے والے کو دلیل کے ساتھ جواب دینے کے بجائے مخالف سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں مسئلہ صرف غلط خبر کا نہیں بلکہ درست خبر کو بھی اپنی پسند کے مطابق دیکھنے کا ہے۔اسی لیے آج میڈیا خواندگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکی ہے۔ گھروں میں بچوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ موبائل فون کیسے استعمال کرنا ہے، انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ موبائل پر ملنے والی معلومات کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھی یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ خبر، رائے، اشتہار، تبصرے، تصویر اور ویڈیو میں کیا فرق ہے اور کسی معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کیوں ضروری ہے۔ بڑوں کو بھی اپنے لیے ایک سادہ سا اصول بنانا ہوگا کہ جو بات یقینی نہ ہو، اسے یقین کے ساتھ آگے نہ بڑھایا جائے۔سوشل میڈیا پر کسی خبر کو شیئر کرنا بظاہر معمولی عمل ہے، لیکن اس کے اثرات معمولی نہیں۔ ایک غلط خبر چند لمحوں میں ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید شاید ان لوگوں کے ایک حصے تک بھی نہ پہنچ سکے جنہوں نے اسے پہلے ہی سچ سمجھ لیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ داری صرف صحافی کی نہیں بلکہ ہر
اس شخص کی ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور جو کسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج ہر موبائل صارف کسی نہ کسی طرح معلومات کے سفر کا حصہ ہے۔ وہ چاہے تو درست بات آگے پہنچا سکتا ہے اور چاہے تو غلطی کے ایک ایسے سلسلے کا آغاز کرسکتا ہے جسے روکنا بعد میں مشکل ہوجائے۔ تو پھر سوال وہی ہے کہ کیا سوشل میڈیا نے ہمیں باخبر کردیا ہے؟یقینا اس نے ہمیں باخبر ہونے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ فراہم کیے ہیں، لیکن باخبر ہونے کے مواقع اور حقیقتا باخبر ہونے میں فرق ہے۔ معلومات کا ہمارے پاس پہنچ جانا کافی نہیں، اس معلومات کو سمجھنا، پرکھنا اور اس کے درست ہونے کا اطمینان کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم صرف اس خبر کو سچ مانتے ہیں جو ہماری پسند کے مطابق ہو تو ہم باخبر نہیں بلکہ اپنی پسند کی معلومات کے اسیر ہیں۔ اگر ہم ہر وائرل چیز کو حقیقت سمجھتے ہیں تو ہم معلومات کے سیلاب میں تیر نہیں رہے بلکہ اس کے بہا میں بہہ رہے ہیں۔اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، اصل مسئلہ معلومات کے ساتھ ہمارا رویہ ہے۔ سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، اسے ہم خبر کے لیے استعمال کریں گے یا افواہ کے لیے، شعور کے لیے یا اشتعال کے لیے، یہ فیصلہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ خبر جتنی تیزی سے ہمارے پاس پہنچ رہی ہے، اتنی ہی سنجیدگی سے ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اسے آگے بڑھانا ہے یا روک دینا ہے۔ ہر خبر کو شیئر کرنا ضروری نہیں، بعض اوقات کسی غیرمصدقہ خبر کو روک دینا ہی سب سے ذمہ دارانہ عمل ہوتا ہے۔صحافت اور سوشل میڈیا کے اس دور میں شاید ہمیں ایک بنیادی فرق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ خبر کا وائرل ہونا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں، اور کسی خبر کا کم پھیلنا اس کے غیر اہم ہونے کی دلیل نہیں۔ سچ کو مقبولیت کی نہیں، تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں خبر بہت مل رہی ہے، شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس ہجوم میں سے سچ کو پہچاننے کی صلاحیت بھی پیدا کی جائے۔ کیونکہ آخرکار معاشرے کو صرف زیادہ معلومات نہیں، درست معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔اور شاید آج کے شور زدہ اطلاعاتی دور کا سب سے اہم اصول یہی ہے کہ ہر وہ چیز جو نظر آئے، خبر نہیں ہوتی اور ہر وہ بات جو وائرل ہوجائے، سچ نہیں -

ادب میں بے ادبی…..تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
ادب محض الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں، ادب دراصل تہذیب، شعور، برداشت، احترام اور انسانی وقار کا دوسرا نام ہے۔ ادیب سے صرف یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اچھا لکھے یا اچھا شعر کہے، بلکہ یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ اس کے رویے میں بھی وہی شائستگی، ظرف اور انسان دوستی دکھائی دے جس کا درس اس کے قلم سے نکلتا ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارے ادبی ماحول میں بعض اوقات ادب کے نام پر بے ادبی، اختلاف کے نام پر دشمنی، تنقید کے پردے میں ذاتی عناد اور مسابقت کے نام پر حسد کا ایسا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ سوال پیدا ہوتا ہے: ہم ادب کی خدمت کر رہے ہیں یا اپنی انا کی؟
اختلافِ رائے ہر زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ کسی شاعر کی تخلیق پسند نہ آنا، کسی ادیب کی فکر سے اختلاف کرنا یا کسی ادبی تنظیم کے فیصلے سے متفق نہ ہونا کوئی عیب نہیں۔ اختلاف تو ادب کو زندہ رکھتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختلاف، کینہ، حسد، ذاتی دشمنی اور کردار کشی میں تبدیل ہوجائے۔
اور جب ایسا ہو تو معاملہ محض دو افراد کے درمیان اختلاف نہیں رہتا، بلکہ پوری ادبی فضا متاثر ہونے لگتی ہے۔معتبر ہوتا وہ تمغہ جو تجھے مل جاتا
تیری تشریف پہ اک پھول نیا کھل جاتارحمان فارس
ایک عجیب رویہ عام ہوتا جارہا ہے۔ اگر کوئی ادبی تنظیم کسی شاعر یا ادیب کو کسی اعزاز یا ایوارڈ سے نواز دے تو بعض مخالفین فورا تنظیم کے منتظمین، روحِ رواں یا ذمہ داران کی اہلیت کو نشانہ بنانا شروع کردیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے:
“ایوارڈ دینے والے خود کون سے بڑے شاعر ہیں؟ ان کے دیے ہوئے ایوارڈ کی کیا حیثیت ہے؟”
یا پھر طنزیہ انداز اختیار کیا جاتا ہے:
“بڑے بڑے مستند شعرا بھی یہ ایوارڈ لے رہے ہیں، تصویریں بنوا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، تو پھر اس ایوارڈ کی حیثیت کیا
رہ گئی؟”
یہاں ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر واقعی آپ کے نزدیک وہ ایوارڈ بے حیثیت ہے، تنظیم غیر معتبر ہے اور اس کے منتظمین ادبی معیار سے عاری ہیں تو پھر انہی معتبر شعرا اور ادیبوں کی شرکت پر بھی سوال اٹھائیے جنہوں نے دعوت قبول کی، تقریب میں شریک ہوئے، اعزاز وصول کیا، منتظمین کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور پھر انہی تصاویر کو خوشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا۔
پھر سوال ایوارڈ کی حیثیت کا نہیں رہتا۔
سوال یہ بن جاتا ہے کہ آپ کو تکلیف آخر کس بات سے ہے؟
کسی شاعر کی پذیرائی سے؟
کسی تنظیم کی کامیاب تقریب سے؟
کسی ادیب کو ملنے والے اعزاز سے؟
یا اس حقیقت سے کہ جسے آپ کمتر ثابت کرنا چاہتے تھے، اسے اہلِ قلم نے عزت اور پذیرائی دے دی؟
ایسے موقع پر دوسروں کے ظرف کا امتحان لینے سے پہلے اپنا ظرف دیکھ لینا چاہیے۔
اور ذرا یہ بھی سوچیے کہ اگر آپ کو اسی تقریب میں مدعو کیا جاتا، اعزاز دیا جاتا، اسٹیج پر جگہ ملتی اور آپ کے ہاتھ میں وہی ایوارڈ ہوتا تو شاید آپ بھی تصویر بنواتے، خوب صورت کیپشن لکھتے اور سب سے پہلے اسے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے۔
تو پھر یہ “بی جمالو” والی شکایت کیوں؟
مخالفت کرنے والے تو صدارتی تمغہ حسن کار کردگی کے بھی خلاف ہیں
ان کے مطابق اہل کو حق نہیں دیا گیااور یہ بھی ہمارے ادبی رویوں کا ایک عجیب تضاد ہے کہ بعض لوگ اپنی تقریبات میں کسی کو مدعو کرتے ہیں، مہمان عزت کے ساتھ تقریب میں شریک ہوتا ہے، پروگرام کی رونق بڑھاتا ہے، تصاویر بنواتا ہے اور بعد ازاں تقریب کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ لیکن پروگرام ختم ہوتے ہی جیسے اس مہمان کی اہمیت بھی ختم ہوگئی۔
نہ اس پوسٹ پر ایک لفظِ تشکر، نہ ایک تبصرہ، نہ کوئی اعتراف!
گویا مقصد پورا ہوا، اب تعلق اور احترام کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
یہ رویہ بھی دراصل اسی مطلبی ادبی کلچر کا حصہ ہے جس میں تعلق شخصیت سے نہیں، ضرورت سے قائم کیا جاتا ہےنظریں جھکا کر اپنے گریباں میں جھانک لے
جس کو دکھائی دیتا ہے ہر دوسرا غلطعلی رضا
ادب میں ایک اور خطرناک رجحان بھی پنپ رہا ہے: ہر شخص اپنے مخالف کو اپنی پسند کے مطابق کوئی نہ کوئی لقب دے دیتا ہے۔ کسی کو متشاعر کہہ دیا جاتا ہے، کسی کی شاعری کو مذاق بنا دیا جاتا ہے، کسی کی ادبی حیثیت کو مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔
سر بزم بہ آواز بلند خاص لہجے اور طنز کے ساتھ ایسا جملہ کہنا جسکا مقصد اعلانیہ لوگوں کو یہ بتانا مذاق بنانا کہ یہ شاعر نہیں اپنا کلام مشاعرے میں نہیں پڑھتا
محض دشمنی یا شک کی بنیاد پر ایسا کہنا بے ادبی ہی نہیں سراسر زیادتی ہےآخر سوال یہ ہے:
متشاعر ہونے کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا ہر وہ شخص جو آپ کا مخالف ہے، متشاعر ہے؟
اور کیا ہر وہ شخص جو آپ کے حلقے میں شامل ہے، لازما بڑا شاعر ہے؟
اگر معیار یہی ہے تو پھر ہم ادب نہیں، گروہی وفاداریوں کی درجہ بندی کررہے ہیں۔
تنقید ضرور کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔
شعر کمزور ہے تو شعر پر بات کریں۔
فنی خامی ہے تو فنی خامی کی نشاندہی کریں۔
اسلوب میں مسئلہ ہے تو اسلوب پر گفتگو کریں۔
مگر کسی انسان کی تضحیک، تمسخر، کردار کشی یا ذاتی تحقیر کو تنقید کا نام دینا خود تنقید کی توہین ہے۔
پھر ایک اور رویہ ادبی محفلوں کو عجیب کشمکش میں مبتلا کر رہا ہے:
“فلاں آئے گا تو ہم نہیں آئیں گے۔”
“فلاں کی صدارت میں ہم نہیں پڑھیں گے۔”“فلاں اسٹیج پر ہوگا تو ہماری شرکت ممکن نہیں۔”
اگر کسی کے خلاف کوئی حقیقی اخلاقی، قانونی یا اصولی اعتراض ہے تو اسے دلیل کے ساتھ سامنے لایا جاسکتا ہے، لیکن محض ذاتی رنجش کی بنیاد پر ہر ادبی تقریب کو بائیکاٹ کی دھمکی دینا ادب نہیں، انا کا اظہار ہے۔
اور یہاں منتظمین بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔
کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسے افراد کو ایک ہی ادبی تقریب میں اکٹھا کردیتے ہیں جو ایک دوسرے کے شدید مخالف ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدگی موجود ہے، پھر بھی انہیں ایک ہی اسٹیج، ایک ہی نشست یا ایک ہی ماحول میں لاکر تنازع کے امکانات پیدا کیے جاتے ہیں۔
اگر ایسی صورت میں ادبی ماحول خراب ہوجائے، تلخی پیدا ہو یا تقریب بدمزگی کا شکار ہوجائے تو ذمہ داری صرف جھگڑنے والوں پر نہیں، مدعو کرنے والے پر بھی عائد ہوتی ہے۔
منتظم کا کام آگ میں تیل ڈالنا نہیں، فاصلے کم کرنا ہے۔
ادبی تقریب کسی کی ذاتی لڑائی کا اکھاڑا نہیں ہوتی۔
اسی طرح ادبی تقریبات کی رپورٹنگ میں بھی ذاتی پسند و ناپسند کی آمیزش ایک خطرناک رجحان بنتی جارہی ہے۔ کسی تقریب کا احوال لکھتے ہوئے اگر مخالف شخصیت کا ذکر ہو تو الفاظ کے انتخاب سے ذاتی غصہ، طنز اور تحقیر صاف جھلکنے لگتی ہے۔
حالانکہ قلم کار کو یاد رکھنا چاہیے:
قلم امانت ہے۔
رپورٹ میں اختلاف ہوسکتا ہے، تجزیہ ہوسکتا ہے، تنقیدی رائے ہوسکتی ہے، مگر بدتہذیبی نہیں ہونی چاہیے۔
کسی ادبی شخصیت کی عمر، جسم، رنگ، خدوخال یا ظاہری حلیے کو طنز کا نشانہ بنانا تو تنقید کے نام پر انتہائی پست رویہ ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید آسان کردیا ہے۔دوسروں کی خامیاں سب ڈھونڈتے رہتے ہیں کیوں
کیا کمی ہے خود کے اندر ڈھونڈتا کوئی نہیں
وشمہگروپ فوٹو میں کوئی ناپسندیدہ شخص نظر آگیا تو تصویر شیئر کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے چہرے پر ایموجی، اسٹیکر یا کوئی مضحکہ خیز
شکل بنا کر اسے چھپا دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے جسم، رنگ، خدوخال یا ظاہری شکل و صورت کا مذاق اڑاتے ہوئے جملے لکھے جاتے ہیں۔
یہ تنقید نہیں۔
یہ دلیل کے دیوالیہ پن کا اظہار ہے۔
کیونکہ جب کسی کی تخلیق کا جواب دینے کے لیے دلیل ختم ہوجائے تو شخصیت پر حملہ آسان راستہ بن جاتا ہے۔
اور جب کسی کی کامیابی برداشت نہ ہو تو اس کی قابلیت پر بات کرنے کے بجائے اس کی ذات کو مذاق بنا دینا شاید کچھ لوگوں کو اپنی انا کا تسکین بخش راستہ محسوس ہوتا ہے۔
مگر یاد رکھیے:
دوسرے کے چہرے پر ایموجی لگانے سے اپنا چہرہ خوب صورت نہیں ہوجاتا۔
دوسرے کے خدوخال کا مذاق اڑانے سے اپنا ظرف بلند نہیں ہوجاتا۔
دوسرے کو کمتر ثابت کرنے سے اپنی ادبی حیثیت بلند نہیں ہوتی۔
بلکہ انسان دوسروں پر انگلی اٹھاتے اٹھاتے یہ بھول جاتا ہے کہ چار انگلیاں اسی کی طرف بھی اٹھ رہی ہوتی ہیں۔
نہ عمر کا لحاظ، نہ رتبے کا احترام، نہ ادبی خدمات کا پاس!
یہ رویہ صرف کسی ایک فرد کی اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ پورے ادبی ماحول کے لیے لمح فکریہ ہے۔
ایک اور دلچسپ مگر افسوس ناک رویہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر کسی تنظیم نے کسی شخص کو مدعو نہیں کیا، صدارت نہیں دی، مہمانِ خصوصی کی مسند پر نہیں بٹھایا یا مہمانِ اعزازی نہیں بنایا تو بعض اوقات وہ پوری تقریب ہی ناقص قرار دینے لگتا ہے۔
یہاں تک کہ مثال کے طور پر اگر پروگرام میں قرآن خوانی جیسی بابرکت سرگرمی بھی شامل ہو تو اس پر بھی اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہوجاتی ہے۔
لیکن ذرا وہی مسند، وہی مائیک، وہی پروٹوکول اور وہی مرکزی مقام عطا کردیجیے، پھر منظر بدل جاتا ہے۔
جس پروگرام میں خامیاں تھیں، وہ اچانک شاندار ہوجاتا ہے۔
جس تنظیم پر اعتراضات تھے، وہ معتبر ہوجاتی ہے۔
جس منتظم میں خامیاں نظر آتی تھیں، اس کی تعریفیں ہونے لگتی ہیں۔
گویا:
مسند بدلتے ہی اصول بھی بدل گئے۔
یہ رویہ بتاتا ہے کہ مسئلہ اصول کا نہیں، اپنی جگہ، اپنی اہمیت اور اپنی انا کا ہے۔
ادب کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ہر اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔
ہر کامیاب شخص کو حسد کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔
ہر ایوارڈ کو محض اس لیے بے حیثیت نہ قرار دیں کہ وہ آپ کو نہیں ملا۔
ہر تنظیم کو صرف اس لیے برا نہ کہیں کہ اس نے آپ کو مدعو نہیں کیا۔
اور ہر اس شاعر کو متشاعر نہ کہیں جو آپ کا ہم خیال نہیں۔
ادب میں اختلاف رہے، مگر احترام کے ساتھ۔
تنقید ہو، مگر دلیل کے ساتھ۔
مسابقت ہو، مگر صحت مند۔
اعزازات ہوں، مگر میرٹ کے ساتھ۔
اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھنے کی تہذیب باقی رہے۔
کیونکہ ادب کا بنیادی مقصد انسان کو بڑا بنانا ہے، دوسرے کو چھوٹا ثابت کرنا نہیں۔
آج ہمیں دوسروں کے عیب گننے سے پہلے اپنا آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم جس بے ادبی کے خلاف پوسٹ لکھ رہے ہیں، ہمارے اپنے الفاظ بھی اسی بے ادبی کا نمونہ بن چکے ہوں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کردار کشی کو ہم غلط کہتے ہیں، وہی کام ہم کسی دوسرے کے خلاف کررہے ہوں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں دوسروں کی کامیابی سے زیادہ اپنی محرومی تکلیف دے رہی ہو؟
اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری ادبی انا نے ہمارے ادبی ظرف کو نگل لیا ہو؟
یاد رکھیے، وقت سب کا حساب رکھتا ہے۔
آج آپ کسی کی تصویر پر ایموجی لگا کر ہنس سکتے ہیں، کسی کو متشاعر کہہ سکتے ہیں، کسی ایوارڈ کو بے حیثیت قرار دے سکتے ہیں، کسی تنظیم کے منتظمین کی کردار کشی کرسکتے ہیں یا کسی تقریب کو ذاتی تعصب کی بنیاد پر برا کہہ سکتے ہیں۔
مگر وقت گزرنے کے بعد تاریخ یہ بھی دیکھے گی کہ اس سارے شور میں ادب کہاں تھا؟
شاید ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ادبی دنیا میں نام بڑا کرنا ہے یا ظرف؟
کیونکہ نام وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتے ہیں، عہدے بدل سکتے ہیں، اعزازات کی فہرستیں پرانی ہوسکتی ہیں، مگر انسان کا کردار اور ظرف دیر تک یاد رہتا ہے۔
ادب میں اختلاف زندہ رہنا چاہیے، مگر ادب مرنا نہیں چاہیے۔اور شاید آج کے ادبی منظرنامے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ:
ہم شعر تو بہت کہہ رہے ہیں، مگر شعور کم دکھا رہے ہیں؛
تنقید بہت کررہے ہیں، مگر تہذیب کم؛
ادب کا نام بہت لے رہے ہیں، مگر ادب کم۔آپ ادب کی خدمت کررہے ہیں یا بے ادبی کی تاریخ لکھ رہے ہیں؟
کیونکہ ادب کا قد کسی دوسرے کو چھوٹا کرنے سے بلند نہیں ہوتا۔
ادب کا قد تب بلند ہوتا ہے جب اختلاف کے باوجود انسان کی عزت باقی رکھی جائے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں لفظ، واقعی ادب بن جاتا ہے۔ -

بچے غیر محفوظ کیوں ؟ صبیحہ خان صبیحہ
کبھی کبھی سفر کے دوران کوئی معمولی سا منظر انسان کو اپنے معاشرے کے بارے میں بہت بڑے سوال سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ میں یہاں جب پارک یا جنگل کے قریب واک کرتے ہوئے جب کسی نوجوان لڑکی کو اکیلے بے فکری سے چلتے دیکھتی ہوں تو ذہن میں اپنے معاشرے کا خیال آتا ہے، جہاں والدین کمسن بچوں کو چند لمحوں کے لیے بھی تنہا چھوڑتے ہوئے کئی خدشات میں مبتلا رہتے ہیں۔ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور ان پر ہونے والا ظلم ایک انتہائی دردناک اور سنگین مسئلہ ہے۔ یہ معصوم بچے ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور حصہ ہیں، جن کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے سوال یہ ہے کہ آخر ہم ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں بچوں کا تحفظ ایک مستقل خوف بن گیا ہے؟یہ کہنا درست نہیں کہ کسی ایک ملک میں برائی نہیں اور دوسرے ملک میں برائی ہے برا انسان ہر معاشرے میں موجود ہو سکتا ہے۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ معاشرہ برائی کا مقابلہ کیسے کرتا ہے اور ریاست قانون کی عمل داری کس حد تک یقینی بناتی ہے۔ جہاں قانون کا خوف موجود ہو اور جرم کی صورت میں فوری اور مثر کارروائی کا یقین ہو، وہاں مجرم کے لیے جرم کرنا آسان نہیں رہتا۔بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک اور قیمتی حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ والدین یقینا اپنی اولاد کی تربیت اور نگرانی کے ذمہ دار ہیں، مگر وہ ہر وقت بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ بچہ اسکول جاتا ہے، کھیلنے باہر نکلتا ہے، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتا ہے۔ اس لیے ایک محفوظ معاشرے کی ضرورت ہے جہاں بچے کو ہر قدم پر خطرے کے اندیشے میں نہ رکھا جائے۔یہاں تربیت کا سوال بھی بہت اہم ہے۔ معاشرتی بگاڑ صرف قانون کی کمزوری سے پیدا نہیں ہوتا، اس کی بنیاد گھر سے بھی پڑتی ہے۔ بچے کو شروع ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی دوسرے کی عزت، جسمانی حدود اور نجی زندگی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ غلط رویہ خواہ کسی اجنبی کی طرف سے ہو یا کسی جاننے والے کی طرف سے، اسے خاموشی سے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ شرافت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی غلط رویہ اختیار کرے تو آواز اٹھانا، مدد طلب کرنا اور کسی قابلِ اعتماد شخص کو بتانا کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد کا رشتہ قائم کرنا چاہیے کہ بچہ خوف یا شرمندگی کے بغیر اپنی بات کہہ سکے۔بچے کو اتنا اعتماد دیں کہ وہ کسی غیر یا اپنے کے کسی بھی غلط روئیے کو والدین سے کہتے نہ ڈریں ۔لیکن کیا صرف والدین کو ذمہ دار قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔اگر کوئی جرم ہوتا ہے تو معاشرے کا سوال ریاست سے بھی ہونا چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے بچے گلی محلوں میں آسانی سے کھیل سکیں اور آ جا سکیں دکانوں سے چیزیں خرید سکیں اور انہیں کوئی ہاتھ تک لگانے کی ہمت نہ کر سکے۔ مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزاوں کے واقعات ایک سنگین اور قابلِ تشویش مسئلہ ہیں۔ ان واقعات میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے، جو بعض اوقات المناک اموات کا باعث بھی بنتا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ
قوانین تو بنا دیے جاتے ہیں ان پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا جبکہ عمل درآمد یقینی بنانے تک ٹھوس نتائج حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک ایک اور بات قابلِ غور ہے۔ کبھی کبھی ہمارے موبائل فون پر اچانک تیز سائرن کے ساتھ حکومتی الرٹ آتا ہے۔ یہ اطلاع کسی خطرناک شخص، لاپتہ بچے یا کسی ایسے واقعے کے بارے میں ہو سکتی ہے جس میں عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہو۔ چند لمحوں کے لیے پورا ماحول چونک جاتا ہے، مگر اس ایک الرٹ کے پیچھے ریاست کی ایک اہم ذمہ داری نظر آتی ہے: شہریوں کو خطرے سے بروقت آگاہ کرنا بچوں کے خلاف جرائم کی شکایت کے لیے آسان اور محفوظ نظام، اسکولوں میں حفاظتی آگاہی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا یہ سب ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ قانون صرف کتاب میں موجود ہو تو کافی نہیں۔ قانون کا اصل اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عام شہری کو یقین ہو کہ جرم کرنے والا خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی یقین معاشرے میں قانون کا احترام پیدا کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی کبھی کسی واقعے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، مذمت ہوتی ہے، بحث ہوتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر بچوں کے تحفظ کے لیے مستقل نظام اور مسلسل اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ کسی ایک افسوسناک واقعے کے بعد جذباتی ردعمل کافی نہیں؛ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں جرم ہونے سے پہلے ہی اس کے امکانات کم ہوں اور جرم ہونے کی صورت میں کارروائی یقینی ہو۔ایک سانحہ گزرتا ہے وقتی شور شرابا اور پھر خاموشی اور پھر نئے سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے والدین کی لاپرواہی بھی ایک حقیقت ہیکبھی مصروف زندگی، کبھی ضرورت سے زیادہ اعتماد اور کبھی بچوں کے ساتھ ضروری گفتگو نہ کرنا انہیں خطرات سے بے خبر رکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف والدین سے یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے بچوں کو دنیا سے کاٹ کر رکھیں۔ بچے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ اسے خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ باخبر، بااعتماد اور محتاط بنانا ہے۔کیا چھوٹے بچوں کو گھر میں قید کیا جائے کہ گھر سے باہر درندے گھوم رہے ہیں کیا حکومت کی زمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ کے لئے سخت قوانین بنائیں یہاں سوال پھر وہی ہے: ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ایسا معاشرہ جہاں ماں باپ ہر وقت خوفزدہ رہیں کہ بچہ گھر سے باہر نکلا تو کیا ہوگا؟ یا ایسا معاشرہ جہاں بچے بھی باقی دنیا کے بچوں کی طرح پارک میں کھیل سکیں، راستے میں چل سکیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر بنیادی اعتماد کر سکیں؟ایک محفوظ معاشرہ صرف قانون سے نہیں بنتا، مگر قانون کے بغیر بھی محفوظ معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ گھر بچے کی تربیت کرتا ہے، معاشرہ اس کی حفاظت کا ماحول بناتا اورریاست قانون کے ذریعے اس تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ جب یہ تینوں اپنی ذمہ داری پوری کریں گے تب ہی ہمارے بچے خوف کے سائے سے نکل کر ایک محفوظ اور بااعتماد زندگی کی طرف بڑھ سکیں گے ۔بچوں اور خواتین کا تحفظ صرف گھر کی چار دیواری تک محدود ذمہ داری نہیں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت اور نگرانی کرتے ہیں، لیکن قانون کا نفاذ، مجرموں کا تعاقب، عوام کو خطرے سے خبردار کرنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔شاید اسی لیے ایک محفوظ معاشرے میں والدین اپنے بچوں کو دنیا سے چھپا کر نہیں رکھتے؛ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی خطرہ پیدا ہوا تو صرف وہ اکیلے ذمہ دار نہیں ہوں گے، ریاستی نظام بھی حرکت میں آئے فوری اور سخت سزائیں: مجرموں کو سرعام اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔سخت آن لائن نگرانی: بچوں کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر کڑی نظر رکھیں۔ہمارے معاشرے میں جب بھی بچوں کے
ساتھ زیادتی یا کسی بھی سنگین جرم کا واقعہ سامنے آتا ہے تو بحث کا رخ اکثر اصل مسئلے سے ہٹ کر متاثرہ شخص کی طرف مڑ جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں تھا، اکیلا کیوں تھا یا اس کے ساتھ کیا ہوا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جرم کرنے والا اتنا بے خوف اور بے لگام کیسے ہوا؟یہی وہ بنیادی فکری غلطی ہے جسے ہم Victim Blaming کہتے ہیں، یعنی متاثرہ شخص کو ہی کسی نہ کسی طرح ذمہ دار ٹھہرانا۔ یہ سوچ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ مجرم کے حوصلے بڑھاتی ہے اور اصل مسئلے کو چھپا دیتی ہے۔معاشرے میں حدود اور احترام کا فقدان قانون کے خوف کی کمی مجرموں کو ملنے والی نرمی یا اثر و رسوخ کا کلچریہ وہ عوامل ہیں جو ایک فرد کو جرم کی طرف دھکیلتے ہیں اور پھر اسے بے خوف بنا دیتے ہیں۔اگر ہم اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں تو بہت سے جرائم کی جڑیں خود بخود کمزور ہو سکتی ہیں۔غیر اخلاقی مواد اور برے دوستوں کی صحبت سے بچوں کو بچائیں اجتماعی ذمہ داری صرف والدین نہیں بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے جس میں گھراسکول، معاشرہ اور مذہبی و سماجی اداریسب کا کردار شامل ہے۔ اگر یہ تمام ادارے مل کر اخلاقی تربیت اور شعور پیدا کریں تو ایک محفوظ ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔قانون اور ریاستی نظام کا کردارصرف اخلاقی نصیحت کافی نہیں ہوتی۔ جب تک قانون مثر، فوری اور غیر جانبدار نہ ہو، جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ:مجرم کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیسفارش اور اثر و رسوخ کا کلچر ختم ہو متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور سہولت دی جائینظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بحال ہوقانون کا خوف ہی وہ عنصر ہے جو مجرم کو جرم سے روکتا ہے۔بچوں کو خوف نہیں، شعور دینا ہیبچوں کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہر وقت خوف میں رکھا جائے۔ بلکہ انہیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ ان کا جسم ان کی اپنی ملکیت ہیکوئی بھی شخص ان کی حدود کی خلاف ورزی نہیں کر سکتااگر کوئی چیز انہیں غیر آرام دہ محسوس ہو تووہ فورا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں یہ شعور انہیں محفوظ بھی بناتا ہے اور اعتماد بھی دیتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف جذباتی ردعمل کا نام نہیں بلکہ ایک منظم اور مضبوط نظام کا نام ہے۔ -

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
تہران (ویب ڈیسک )چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر ایران پہنچ گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ ہیں۔تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات بھی ہوئی، ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں ایران پہنچے ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل کے لیے کوششوں کے فروغ پر توجہ مرکوز رکھیں
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

خواجہ آصف کی سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو کو ’جعلی اور اے آئی‘ قرار دیدیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیر دفاع خواجہ آصف کی سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو کو وزارت اطلاعات نے اے آئی اور جعلی ویڈیو قرار دیدیا۔وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے سوشل میڈیا پر خواجہ آصف کی گردش کرنے والی ویڈیو سے متعلق ایک وضاحت جاری کی گئی ہے جس میں اس ویڈیو کو جعلی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار ویڈیو قرار دیا گیا ہے۔وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے اس پر درج کیا ہےکہ ‘جھوٹ: یہ اے آئی سے بنائی گئی ویڈیو ہے‘ ، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا۔وزارت اطلاعات کی جانب سے خبروں کو شیئر کرنے سے پہلے ان کے آفیشل تصدیق کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے