کراچی (پاکستان واچ نیوز)مشرق وسطیٰ میں جنگ سے دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجز میں بھونچال آ گیا۔ ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس 1291 پوائنٹس کم ہوکر 79995 ہوگیا اور نفٹی ففٹی 416 پوائنٹس کم ہوکر 24761 ہے۔ دوسری جانب جاپان اسٹاک مارکیٹ 1.9فیصد اور کورین اسٹاک مارکیٹ 2فیصد گر گئی۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پاکستان اسٹاک پر منفی اثرات، 100 انڈیکس کا 15000 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے آغاز،اس صورتحال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5.79 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اسی طرح خام تیل کی قیمت 4.22 ڈالرز بڑھ کر 77.09ڈالرفی بیرل ہوگئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
Blog
-

بھارتی چینل ہیک کرلیا گیا،پاکستان ہمیشہ زندہ باد کے نعرے آویزاں
نئی دہلی(پاکستان واچ نیوز) بھارتی چینل اے بی پی نیوز کو ہیک کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر ہیکرز نے ہیک کرنے کے بعد چینل پر ‘پاکستان ہمیشہ زندہ باد’ کے نعرے آویزاں کردیے۔ بھارتی چینل پر پاکستانی فوج کامواد چلنےلگا جب کہ اے بی پی نیوز پر فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے خطاب کےاقتباسات بھی نشر ہوئے۔ واضح رہے گزشتہ روز پاکستان کے کچھ چینلز بھی ہیکرز کی جانب سے ہیک کیے گئے تھے۔
-

کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ، ایران کا ایک F-15 طیارہ گرانے کا دعویٰ
کویت (پاکستان واچ نیوز)کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے آج صبح امریکا کے متعدد طیارے گر کر تباہ ہوئے۔کویتی وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی تاہم طیارے گرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ تمام عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور متعلقہ حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، عملے کو بحفاظت نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ان کی صحت کا معائنہ کیا جا سکے اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سینٹرل کمانڈ کے اہلکار کی تصدیق
امریکی جریدے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک عہدیدارنےکویت میں امریکی فوجی طیارہ تباہ ہونےکی تصدیق کی ہے۔امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی طیارےکا عملہ بروقت ایجیکٹ کرنےمیں کامیاب رہا اور تمام اہلکارمحفوظ ہیں۔واقعے کی نوعیت اور طیارہ گرنےکی وجوہات سے متعلق فوری طورپر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم امریکی حکام نے بتایا کہ واقعےکی تحقیقات جاری ہیں جب کہ علاقےمیں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیےگئے ہیں۔
ایران کا امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملکی حدودکی خلاف ورزی پر امریکی ایف15لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی دفاع نے مارگرایا، امریکی لڑاکاطیارہ کویت میں گرکرتباہ ہوا۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکا کی علی السلیم بیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔قبل ازیں روسی میڈیا نے کویت میں امریکی لڑاکا طیارہ ایف 15 گر کر تباہ ہونے کا بتایا تھا، طیارے کا پائلٹ ایجکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں گرتے ہوئے ایف 15 طیارے سے آگ کے شعلے نکلتے بھی دیکھے گئے تھے۔روسی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایف 15 لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔اپنے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ -

آپریشن غضب للحق سلامتی،استقامت اور قومی وقار کی علامت
پاکستان واچ رپورٹ
قومی سلامتی کسی بھی ریاست کی بقا، استحکام اور ترقی کی بنیادی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے جغرافیائی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے حساس ملک کے لیے یہ اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، جہاں اندرونی اور بیرونی چیلنجز ہمیشہ قومی پالیسی کے مرکز میں رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاک فوج، ریاست کی مضبوط ڈھال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی عزم، حکمت عملی اور دفاعی بصیرت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا، جس نے قومی سلامتی کے تصور کو مزید مستحکم کیا۔
حالیہ عرصے میں سرحد پار سے درپیش خطرات اور افغان جانب سے بعض اشتعال انگیز اقدامات نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔ افغان سرزمین سے تخریبی عناصر کی دراندازی اور سرحدی کشیدگی کے واقعات نے پاکستان کی خودمختاری اور شہری سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیا۔ ایسے ماحول میں ریاست کے لیے ناگزیر ہو گیا کہ وہ واضح اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے یہ پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ آپریشن غضب للحق اسی دفاعی عزم کی علامت کے طور پر سامنے آیا۔
پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی، غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں، پراکسی نیٹ ورکس اور داخلی انتشار جیسے پیچیدہ خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ان چیلنجز کا مقابلہ صرف روایتی عسکری قوت سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مربوط انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، فوری ردعمل کی صلاحیت اور عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی ہمہ جہت حکمت عملی کا مظہر ہے، جس میں دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور خودمختاری کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
اس آپریشن کا بنیادی مقصد دشمن عناصر کو واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ریاستی ادارے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ جدید دفاعی حکمت عملی، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور تربیت یافتہ جوانوں کی موجودگی نے اس آپریشن کو ایک مضبوط دفاعی مثال بنا دیا۔
افغان سرحدی صورتحال کے تناظر میں یہ آپریشن خاص اہمیت اختیار کر گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی اختیار کی ہے، مگر جب سرحد پار سے اشتعال انگیزی یا دراندازی کے واقعات سامنے آئے تو ریاست نے تحمل کے ساتھ مگر بھرپور انداز میں جواب دیا۔ یہ ردعمل کسی تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دفاعِ وطن اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کا تقاضا تھا۔ اس حکمت عملی نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے اقدامات صرف عسکری کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاستی رٹ کے استحکام کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ کا یقین دلاتی ہے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا امیج مضبوط ہوتا ہے۔ آپریشن غضب للحق نے یہی پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع میں یکسو اور پرعزم ہے۔
پاک فوج کا کردار صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ داخلی استحکام، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں معاونت تک پھیلا ہوا ہے۔ قومی سلامتی کا جدید تصور عسکری، معاشی، سماجی اور سفارتی پہلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ہمہ وقت تیاری ریاستی مشینری کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی وسیع تر قومی سلامتی کے فریم ورک کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں دشمن کی حکمت عملی روایتی جنگ سے ہٹ کر اطلاعاتی حملوں، نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈے پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔ ایسے میں فوج کی کامیاب کارروائیاں صرف میدانِ عمل میں نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب ریاستی ادارے مؤثر جواب دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف زمینی حقائق مضبوط ہوتے ہیں بلکہ قومی مورال بھی بلند ہوتا ہے۔ آپریشن غضب للحق نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ دفاعِ وطن کے لیے ادارے مکمل یکسوئی کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔
قومی سلامتی کی مضبوطی میں عوام اور افواج کا باہمی اعتماد کلیدی عنصر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو کسی مشکل مرحلے کا سامنا ہوا، قوم اور فوج ایک صفحے پر نظر آئے۔ ایسے اقدامات اس اعتماد کو مزید گہرا کرتے ہیں کیونکہ یہ شہریوں کو عملی طور پر تحفظ کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ ریاست کی عملداری کا قیام اور دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کسی بھی خودمختار ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے، اور اسی ترجیح کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
علاقائی تناظر میں بھی یہ آپریشن اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاک افغان سرحدی خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بروقت جواب دینا ناگزیر ہے۔ دفاعی تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ملک کو کمزور ہونے سے بچاتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے، جس کا مظاہرہ مختلف مواقع پر کیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
مزید برآں، قومی سلامتی صرف سرحدی حفاظت کا نام نہیں بلکہ داخلی استحکام اور امن و امان کی فضا کا قیام بھی اسی کا حصہ ہے۔ جب تخریبی نیٹ ورکس کو مؤثر جواب ملتا ہے تو اس کا براہ راست اثر معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سماجی ہم آہنگی پر پڑتا ہے۔ امن کی بحالی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے، اور یہی کسی بھی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اس تناظر میں آپریشن غضب للحق کو استحکامِ پاکستان کی ایک اہم کڑی سمجھا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ قومی سلامتی ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے چوکسی، اتحاد اور مضبوط ادارے ضروری ہیں۔ آپریشن غضب للحق اس عزم کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افغان سرحدی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ذمہ دارانہ مگر مضبوط طرزِ عمل اختیار کر کے یہ ثابت کیا کہ دفاعِ وطن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
قومی سلامتی کی ناقابلِ تسخیر ڈھال کے طور پر افواجِ پاکستان کا کردار نہ صرف دفاعی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ یہی وہ اعتماد ہے جو ریاست اور قوم کے رشتے کو مضبوط بناتا ہے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ -

ایران امریکا جنگ،کراچی ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کا شدیددباو
کراچی (پاکستان واچ نیوز)کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس وقت اپنی زیادہ سے زیادہ پارکنگ گنجائش پر کام کر رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازوں کا رخ اچانک کراچی کی جانب موڑ دیا گیا۔علاقائی ممالک کی فضائی حدود اچانک بند ہونے کے بعد درجنوں بین الاقوامی طیاروں نے ہنگامی لینڈنگ کے لیے Karachi کا رخ کیا۔ چند ہی گھنٹوں میں ایئرپورٹ کے تمام پارکنگ بے مکمل طور پر بھر گئے، جس کے باعث غیر معمولی دباؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔حکام کی جانب سے فوری طور پر نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) جاری کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مزید کسی بھی ڈائیورٹ ہونے والے طیارے کو پیشگی رابطے کے بغیر لینڈنگ یا پارکنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایئرلائنز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مزید کسی بھی ممکنہ ڈائیورژن سے قبل کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول اور ایئرپورٹ انتظامیہ سے باقاعدہ رابطہ کریں۔ایوی ایشن ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کئی طیارے جو خلیجی ممالک کے بڑے شہروں کی جانب روانہ تھے، اب کراچی ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ اس غیر معمولی رش نے گراؤنڈ ہینڈلنگ اسٹاف، فیولنگ سروسز اور آپریشنل ٹیموں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے متحرک ہیں۔
-

اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے،7 اسرائیلی زخمی
تہران:(پاکستان واچ نیوز)ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو میزائلوں سے ہدف بنایا گیا، جو اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔خبر ایجنسیوں کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈے پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔عینی شاہدین کے مطابق اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی فائرنگ سے آسمان روشن ہو گیا۔اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
-

امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران کا دوٹوک اعلان
تہران(پاکستان واچ نیوز) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘ ان کا بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی ’خیالی تصورات‘ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔
-

ایران کی ملٹری اور سیاسی قیادت ختم کر دی، ٹرمپ
واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے متعلق انتہائی سخت اور غیر معمولی بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم سیاسی اور ملٹری شخصیات کو ہلاک کر دیا ہے اور ایرانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب ہتھیار ڈال دیں، کیونکہ امریکا اپنے مقاصد حاصل ہونے تک فوجی کارروائی جاری رکھے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور 9 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای سمیت ایران کے اعلیٰ کمانڈرز مارے جا چکے ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران بڑا اور مضبوط ملک ہے لیکن جنگ کے بعد وہاں جمہوریت قائم ہوگی اور بہت سی مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کی قیادت سے بھی بات کی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کسی چیز کے بارے میں فکرمند نہیں، سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران 3 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔


