Blog

  • پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے ،حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

    پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے ،حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

    اسلام آباد(پاکستان واچ نیوز) چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے ۔ پاکستان کی عوام اور ریاست کا موقف فلسطین کے مسئلہ پر ایک ہے ، متفقہ ہے اور بعض عناصر صرف سیاست کیلئے فلسطین کے مسئلہ پر پاکستانی قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے فلسطین کے معاملے پر ہمیشہ امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف پاکستان کے فلسطین کے مسئلے پر اصولی موقف پر بات کریں گے۔ہمارا موقف واضح ہے کہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو، غزہ کی تعمیر نو ہو ، مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی وحشت اور بربریت کا خاتمہ ہو۔دیگر اہم نکات پاکستان کی غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فریم ورک میں شرکت پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی کی علامت نہیں ہے۔ قیامِ پاکستان سے آج تک پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ پالیسی آج بھی وہی ہےانھوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اقدام اجتماعی ہے، جس میں سعودی عرب، تُرکئے، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، قطر، اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ اس لیے اسے کسی قسم کی “نارملائزیشن” یا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑنا درست نہیں۔ کثیرالجہتی فورمز میں شرکت سفارتی تعلقات کے برابر نہیں ہوتی۔ بلکہ گلوبل زمہ داری کا آئینہ دار ہوتی ہے

  • پشاور: آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کامیابی سے جاری، کور کمانڈر کی طلبہ سے خصوصی نشست

    پشاور: آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کامیابی سے جاری، کور کمانڈر کی طلبہ سے خصوصی نشست

    پشاور(پاکستان واچ نیوز)آئی ایس پی آرکے زیر اہتمام ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 پشاور میں کامیابی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں کور کمانڈر پشاور نے پروگرام میں شریک طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر جامع گفتگو کی گئی۔نشست کے دوران کور کمانڈر نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے تقاضوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ طلبہ کو سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔طلبہ نے پاک فوج کی قربانیوں اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہتے ہوئے بالخصوص معرکۂ حق میں دشمن کے خلاف جرأت اور استقامت کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کے دفاع کو یقینی بنایا ہے۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے مثبت بیانیے کے محافظ بن کر قومی مفادات کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ طلبہ کے مطابق اس نشست کے بعد ان کی خیبر پختونخوا اور قومی معاملات کے حوالے سے فہم و فراست میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل محاذ پر دشمن کے پروپیگنڈے اور منفی بیانیے کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔آخر میں طلبہ نے ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے انعقاد پر پاک فوج اور آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو نوجوانوں کی فکری و قومی تربیت کے لیے اہم قرار دیا۔

  • پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونےکےمزید ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونےکےمزید ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ہونے سے متعلق مزید ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آ گئے۔16فروری 2026کو باجوڑمیں ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا خارجی دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا۔ خودکش حملہ آور کی شناخت خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی جو افغانستان کےصوبہ بلخ کارہائشی تھا ۔ خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر طالبان کی اسپیشل فورسزکاحصہ بھی رہ چکاہے۔واضح رہے کہ اس خودکش حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 2 معصوم شہری بھی شہید ہوئے تھے۔پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغان شہریوں کاملوث ہونا طالبان رجیم کی دہشتگردوں کی مکمل سرپرستی اورسہولت کاری کا واضح ثبوت ہے۔ گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق 6فروری2026 کواسلام آبادترلائی میں خودکش حملہ کرنےوالےبمبار نےافغانستان سےدہشتگردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ 11نومبر2025کواسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس اور24نومبرکوایف سی ہیڈکوارٹرزپشاورپرحملہ کرنےوالے دہشتگردوں کاتعلق بھی افغانستان سے تھا۔گزشتہ سال10اکتوبرکوڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹراور10نومبرکوواناکیڈٹ کالج پردہشتگردحملوں میں بھی افغان شہری ملوث تھے۔ اسی طرح 19اکتوبر 2025کوجنوبی وزیرستان میں گرفتارہونے والا خودکش بمبارنعمت اللہ ولد موسی جان بھی افغان صوبہ قندھارکارہائشی تھا۔علاوہ ازیں 4مارچ 2025کوبنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے ہوئی جس میں افغان شہریوں کےملوث ہونےکی تصدیق بھی ہوئی ۔ 11مارچ 2025 کوجعفر ایکسپریس حملے کے سہولت کار افغانستان میں چھپے خارجی نور ولی سے مسلسل رابطہ میں تھے جب کہ 3ستمبر 2024 کوگرفتارہونے والے خودکش بمبار روح اللہ کےکا اعترافی بیان افغانستان سےسرحدپاردہشتگردی کاواضح ثبوت ہے۔ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سےدہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں۔افغان طالبان رجیم کے غیر منطقی طرزعمل اوردہشتگردوں کی پشت پناہی نے امن کی کوششوں کو ہمیشہ سبوتاژکیا ہے۔

  • ٹرمپ نے  فیلڈ مارشل کو   اعلیٰ سپہ سالار قرار دیا،شہباز شریف کی بھی تعریف

    ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کو اعلیٰ سپہ سالار قرار دیا،شہباز شریف کی بھی تعریف

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ کے بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوگیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سفارتی وفود واشنگٹن پہنچ گئے اور اس تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ تصویر بنوائیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افتتاحی خطاب میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم انسان، اعلیٰ سپہ سالار اور ٹف فائٹر ہیں۔ انھوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے پر میری تعریف کی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں۔ وہ بھی میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے رہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے پاک بھارت جنگ رکوائی، مودی کو کہہ دیا کہ بھاری ٹیرف لگائیں گے۔ اس جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے دنیا کی 8 جنگیں رکوائیں جن میں سے کچھ تو 34 سال سے جاری تھیں۔ اب 9 ویں جنگ بھی بہت جلد ختم کرائیں گے۔غزہ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حماس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔امریکی صدر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ حماس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے جلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی اور ایران بھی 10 روز میں معاہدہ کرلے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جس کے لیے یہ بورڈ آف پیس تشکیل دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں اور آج یہاں معزز قیادت صرف اور صرف امن کے لیے جمع ہوئی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ فیفا بھی غزہ میں منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ہم آہنگ مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں۔ ایسا غزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر طرز حکمرانی مناسب طریقے سے ہو اور یہ نہ سوچنا پڑے کہ جنگ کے لیے فوج بھیجنی ضروری ہوگی۔امریکی صدر نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سب مل کر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت پاکستان کا نام بھی لیا۔

  • امریکی صدر کی تعریف سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، عطا تارڑ

    امریکی صدر کی تعریف سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، عطا تارڑ

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے واشنگٹن ڈی سی سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ امریکا میں منعقدہ بورڈ آف پیس اجلاس کے دوران پاکستان کو نمایاں پذیرائی اور احترام حاصل ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی منظرنامے پر پاکستان ایک اہم اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے معاملے پر مؤثر سفارتی کردار ادا کیا اور مختلف عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ سمیت دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر فلسطینی مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔بیان کے مطابق وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم کے درمیان مثبت روابط اور خوشگوار ملاقاتوں سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور ملک عالمی معاملات میں ایک اہم و متعلقہ کردار ادا کر رہا ہے۔آخر میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور قومی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملک عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال اور مؤثر کردار کی جانب گامزن ہے۔

  • کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان

    کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران کبھی کبھی تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 20ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ہوا میں نمی کا تناسب 51 فیصد ہے اور شمال مشرق سے ہوائیں 20کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

  • حملہ ہوا تو دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران کا اعلان

    حملہ ہوا تو دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران کا اعلان

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران نے امریکی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب سے خبردار کردیا۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ مقصد ہے، تاہم اگر حملہ کیا گیا تو اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔ایران نے مزید کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ایرانی مشن نے اپنے خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور RAF فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈ استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کرلیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کرلیا

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام کی سمت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد 25 فروری سے پاکستان کا باضابطہ دورہ کرے گا، جس میں اہم معاشی امور زیر بحث آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جاری پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر حکام سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی مالی کارکردگی مستحکم رہی اور ملک نے مجموعی قومی پیداوار کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو طے شدہ اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت معاشی اصلاحات کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جسے معاشی توازن کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سیاست، ارتقا اور قیادت……تحریر: اظہر لغاری

    سیاست، ارتقا اور قیادت……تحریر: اظہر لغاری


    تحریر: اظہر لغاری
    کبھی کبھی انسان خود سے ایک ایسا سوال کر بیٹھتا ہے جو بظاہر سادہ ہوتا ہے مگر اندر سے پورے فکری نظام کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک سوال یہ ہے کہ آخر سیاسی سفر ہوتا کیا ہے؟ کیا سیاست محض اقتدار تک پہنچنے کا نام ہے، یا کسی عہدے، منصب اور کامیابی پر ختم ہو جانے والا راستہ ہے؟ یا پھر سیاست دراصل ایک ایسا فکری سفر ہے جو انسان کی سوچ، اس کی زندگی اور اس کے مقصد کو بدل دیتا ہے؟ یہ وہ سفر ہوتا ہے جو انسان کو سیکھنے کا موقع دیتا ہے، خود کو دریافت کرنے کا موقع دیتا ہے، اور اسے ذاتی مفاد سے اٹھا کر اجتماعی بھلائی کی طرف لے جاتا ہے۔
    زندگی بذاتِ خود ارتقا کا نام ہے۔ کائنات کی ہر شے مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انسان، سماج، علوم، معیشت، حتیٰ کہ سیاست بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود قدرت کے کچھ اصول ایسے ہیں جن میں کبھی ارتقا نہیں ہوا۔ وہ اصول ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں برسوں سے اپنی جگہ قائم ہیں۔ حق اور باطل، انصاف اور ظلم، سچ اور جھوٹ—یہ وہ اصول ہیں جو زمانے بدلنے کے باوجود نہیں بدلے۔ سیاست بھی انہی اٹل اصولوں کے گرد گھومتی ہے، چاہے اسے جتنا بھی جدید، ترقی یافتہ یا بدلتا ہوا کیوں نہ دکھایا جائے۔
    آج کا المیہ یہ ہے کہ ہر دور نے اپنی سہولت اور مفاد کے مطابق سیاست کی نئی تشریح گھڑ لی ہے۔ کسی کے نزدیک جھوٹ، فریب اور چالاکی سیاست کا ارتقا ہیں، جبکہ کسی کے نزدیک سچ، شفافیت اور اصول پسندی کو سیاست کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاست نہ صرف سچ کا نام ہے اور نہ صرف جھوٹ کا۔ سیاست دراصل بہتری کے راستے نکالنے کا نام ہے۔ سیاست بند دروازے کھولنے، الجھے ہوئے مسائل کے حل تلاش کرنے اور ایسے امکانات پیدا کرنے کا نام ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہوں۔
    سیاست محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ مکالمے کا نام ہے، برداشت کا نام ہے، اختلاف کو سننے اور سمجھنے کا نام ہے۔ یہ وہ مکالمہ ہوتا ہے جو سخت ترین دلوں کو نرم کر سکتا ہے اور وہ زبان ہوتی ہے جو پتھر جیسے رویوں کو بھی پگھلا دیتی ہے۔ حقیقی سیاست وہ ہوتی ہے جو ٹکراؤ کم کرے، تقسیم کم کرے اور معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کرے۔
    یہاں سے ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے: سیاست دان اور لیڈر کا فرق۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو سیاست کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کسی کے لیے طاقت اہم ہوتی ہے، کسی کے لیے دولت، کسی کے لیے شہرت اور کسی کے لیے محض اپنی بقا۔ وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر محور اکثر اپنی ذات ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لیڈر وہ ہوتا ہے جو سیاست کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک نظریے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ لیڈر تاریخ میں صرف اپنا نام نہیں بلکہ اپنی سوچ اور اپنے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔
    لیڈر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہمیشہ کامیاب ہو، یا ہر جنگ جیت لے۔ اصل لیڈر وہ نہیں جو ہر قیمت پر اپنے مقاصد حاصل کر لے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو قوم کو ایک نئی فکری سمت دے، شعور دے، سوال کرنے کا حوصلہ دے اور سوچنے کی آزادی کا فہم دے۔ لیڈر لوگوں کے ذہن بدلتا ہے، ان کے اندر اعتماد اور خودی پیدا کرتا ہے۔
    پھر یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ لیڈر بنتا کیسے ہے؟ کیا قیادت پیدائشی صلاحیت ہے یا کوئی انسان لیڈر بنایا جاتا ہے؟ کیا قدرت کچھ لوگوں کو چن لیتی ہے، یا وہ لوگ اپنی زندگی کے تلخ تجربات، محرومیوں اور ناانصافیوں سے سیکھ کر لیڈر بنتے ہیں؟ شاید حقیقت ان سب کے درمیان کہیں موجود ہے۔ کچھ لوگ حالات کے ہاتھوں تراشے جاتے ہیں، کچھ دکھ دیکھ کر جاگتے ہیں، اور کچھ لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی تبدیلی بن جاتا ہے۔
    ایک بات مگر طے ہے کہ لیڈر بننے کے لیے سیاست میں آنا پڑتا ہے۔ سیاست کے عمل سے گزرے بغیر قیادت محض ایک تصور رہ جاتی ہے۔ سیاست وہ میدان ہے جہاں انسان کا اصل کردار، اس کی نیت اور اس کی برداشت کھل کر سامنے آتی ہے۔ یہیں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون محض سیاست دان ہے اور کون واقعی لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ایک پرانی مگر گہری بات یہ ہے کہ انسان کی سوچ کا دائرہ اس کی صحبت اور مطالعے سے بنتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے جو صرف مقامی سیاست، شخصیات اور وقتی مفادات تک محدود ہوں، تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک سیاست دان بن سکتا ہے۔ لیکن اگر گفتگو نظریے، وژن، قومی مستقبل اور بین الاقوامی امور پر ہو، تو یہی فکری ماحول انسان کو وسیع النظر بناتا ہے اور قیادت کی طرف لے جاتا ہے۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ محض پڑھ لینے یا اچھی محفلوں میں بیٹھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا۔ اصل امتحان عمل میں ہوتا ہے۔ قیادت کردار مانگتی ہے، قربانی مانگتی ہے، اور سب سے بڑھ کر نیت کی صفائی مانگتی ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، چاہے وہ فیصلے وقتی طور پر غیر مقبول ہی کیوں نہ ہوں۔
    پھر بات آتی ہے اچھے اور برے لیڈر کی۔ کیا کسی لیڈر کو اس کی ذاتی زندگی کی بنیاد پر پرکھا جائے یا اس کی کارکردگی کی بنیاد پر؟ کیا اس کے فیصلے اہم ہیں یا اس کا کردار؟ شاید درست جواب ان دونوں کے امتزاج میں ہے۔ ایک لیڈر کی ذاتی دیانت، اخلاق اور نیت اس کے فیصلوں میں جھلکتی ہے، اور اس کے فیصلے اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
    جمہوریت میں قیادت کا سب سے اہم ذریعہ انتخابات ہوتے ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے طے کرتے ہیں کہ ان کا لیڈر کون ہو گا۔ مگر اگر انتخابات شفاف نہ ہوں، اگر نتائج بدل دیے جائیں، اگر عوامی رائے کو مسخ کیا جائے، تو ایسے نظام سے آنے والا شخص کبھی حقیقی لیڈر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ لیڈر وہی ہوتا ہے جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔
    یہ درست ہے کہ عوام کبھی کبھار غلط انتخاب بھی کر لیتے ہیں، مگر شفاف نظام میں انہیں اپنی غلطی درست کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ لیکن جب یہ حق بھی چھین لیا جائے تو نہ صرف قیادت کا معیار گرتا ہے بلکہ پورا نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
    آخر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک اچھے لیڈر کو ایک مضبوط اور اہل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ درست لوگوں کا انتخاب کرنا بھی قیادت کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ ٹیم میں غلطیاں ہو جانا کسی لیڈر کو برا نہیں بنا دیتا، اگر اس کا وژن صاف ہو اور نیت ذاتی فائدے سے پاک ہو۔ اچھا لیڈر اپنے لیے نہیں سوچتا، اپنے خاندان کے لیے نہیں سوچتا، بلکہ پورے ملک کو اپنا خاندان اور ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہےاور شاید یہی وہ باریک مگر فیصلہ کن فرق ہے
    جو ایک عام سیاست دان اور ایک حقیقی لیڈر کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ گئے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی۔ترجمان کے مطابق وزیراعظم 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہوں گے جہاں غزہ کی موجودہ صورتحال اور قیامِ امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔