Blog

  • سیاستدان کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی  ہیں یہی اس کا امتحان ہے،صدر زرداری

    سیاستدان کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں یہی اس کا امتحان ہے،صدر زرداری

    وہاڑی:(پاکستان واچ نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو نہیں کر سکتا کوئی اور شعبہ اختیار کرلے۔عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہو چکے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی ایک مسلسل عمل ہے اس میں مشکلات کے باوجود ریاستی ادارے اور عوام مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔آصف زرداری نے اپنے خطاب میں سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو روزانہ بھاشن دینے کی عادت تھی لیکن عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر سیاستدان کا امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قید کے دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 14 سال جیل میں گزارے اور جب اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب اس شخص کی ہر ٹی وی پر تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں۔ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آ رہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور اگر کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاست ایک ہمہ جہت ذمہ داری ہے جس میں ہر شعبہ شامل ہوتا ہے۔ قیادت کے لیے برداشت، لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکمرانی میں سنجیدگی اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے قومی ترقی کو زرعی شعبے کی مضبوطی سے مشروط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے ۔ کسانوں کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔صدر مملکت پانی کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کا بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تسلسل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صدر زرداری نے مختلف صوبوں کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے کے حالات مختلف ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تاکہ عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔صدر مملکت نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے ، لہٰذا قومی مفاد میں تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

  • پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

    پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری کے بعد 32 ممالک کا ویزا فری سفر ممکن ہوگیا۔فروری 2026 کے تازہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو کر 97 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جو جنوری میں 98 اور گزشتہ سال 103 ویں نمبر پر تھی۔
    گلف نیوز کے مطابق اس بہتری کے ساتھ پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن آرائیول یا ای-ٹی اے (eTA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔
    یہ ممالک کیریبیئن جزائر، افریقی سفاری، جنوبی ایشیائی ثقافتی مراکز اور بحرالکاہل کے جزائر پر محیط ہیں جو سیاحت، کاروبار اور مختصر مدت کے سفر کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔
    پاکستانی پاسپورٹ کی یہ ترقی سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا نتیجہ ہے جس سے پاکستانی شہریوں کو بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی اور سیاحت، کاروبار اور خطے کے ممالک سے تعلقات میں اضافہ ممکن ہوگا۔
    پاکستانی شہری اب درج ذیل ممالک کا سفر آسانی سے کر سکتے ہیں:
    بغیر ویزا (Visa-free) 11 ممالک:
    بارباڈوس، کوک آئلینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو، دی گیمبیا
    ویزہ آن آرائیول (VOA) 18 ممالک:
    برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورد آئیلینڈز، کومورو آئلینڈز، جیبوتی، گنی بساؤ، مڈگاسکر، مالدیپ، موزمبیق، نیپال، نیوے، پالاؤ آئیلینڈز، قطر، ساموا، سینیگال، سیرالیون، تیمور-لیسٹے، ٹوالو
    ای-ٹی اے (eTA) 3 ممالک:
    کینیا، سیشلز، سری لنکا
    واضح رہے کہ عالمی سطح پر سنگاپور کا پاسپورٹ سب سے مضبوط ہے جو 192 ممالک تک ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے،
    جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ پر 187 ممالک میں ویزا فری انٹری ممکن ہے، سویڈن اور یو اے ای کے شہری 186 ممالک میں ویزا لیے بغیر جاسکتے ہیں۔
    یورپی ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے پاسپورٹس پر 185 ممالک ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔

  • پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیاگیا

    پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیاگیا

    اسلام آ باد (پاکستان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف سابق وزیر محسن شاہنواز رانجھا کو قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 کیسز کی سماعت کی۔عدالت نے قتل کی کوشش سمیت دیگر پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے 18 فروری تک متعلقہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی، بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش نہ کیا جاسکا۔عدالت نے اگلی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کردی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث دلائل نہ ہوسکے، عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی۔بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے معاون وکلاء خالد یوسف چوہدری اور شمسہ کیانی ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل اور جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں جبکہ بشری بی بی کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے۔

  • عمران خان کو  بہتر  طبی سہولتیں فراہم کی جائیں،سابق غیر ملکی کرکٹ کپتانوں کا مطالبہ

    عمران خان کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں،سابق غیر ملکی کرکٹ کپتانوں کا مطالبہ

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)چودہ سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق پاکستانی کپتان عمران خان کو جیل میں بہتر سہولیات اور مناسب طبی امداد فراہم کی جائے۔آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 73 سالہ عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس پر سابق کھلاڑیوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔سابق کھلاڑیوں نے خصوصاً عمران خان کی بینائی کی خرابی اور طویل قید کے دوران حالات پر سوالات اٹھائے ہیں۔یہ درخواست سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کی جس پر بھارت کے سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے کئی سابق کپتانوں نے دستخط کیے۔یہ خط وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کیا گیا ہے۔سابق کپتانوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کرکٹ ہمیں انصاف، احترام اور وقار کا درس دیتی ہے، اس لیے عمران خان جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت کو بنیادی انسانی حقوق اور باعزت سلوک ملنا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے فوری اور مسلسل طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے، اہلخانہ سے ملاقات کی سہولت دی جائے اور قانونی کارروائی شفاف انداز میں مکمل کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی آئی ہے اور میدان کی رقابت ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے۔

  • باجوڑ:  چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک، دھماکے سے 11 اہلکار شہید

    باجوڑ: چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک، دھماکے سے 11 اہلکار شہید

    باجوڑ (پاکستان واچ نیوز)باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 12 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 16 فروری 2026 کو باجوڑ ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج، جن کا تعلق “فتنہ الخوارج” سے تھا، نے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی۔بیان کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور بروقت ردِعمل نے دشمن کے ناپاک عزائم کو فوری اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنا دیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور 12 خوارج کو ہلاک کر دیا، حملہ آوروں نے اپنی ناکامی پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ شدید دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کا انفراسٹرکچر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں وطن کے 11 بہادر سپوت شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دھماکے سے قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک کمسن بچی شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری زخمی ہوئے۔بیان کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔بہادر جوانوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور وطن کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملہ ناکام بنانے پر بہادر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے 11 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر 12 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے والے جوانوں کی جرات کو سلام، شہداء کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں جوانوں کی سخت ٹریننگ….رپورٹ: بینظیر مہدی

    سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں جوانوں کی سخت ٹریننگ….رپورٹ: بینظیر مہدی

    جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے

    میجر علی رضا نے پْرخلوص انداز میں استقبال کیا، برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
    ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹرکا آنکھوں دیکھا احوال پاکستان واچ کی اینکر پرسن کے قلم سے
    چھ بجے کی سخت سردی میں جب اسلام آباد کی سڑکیں پیچھے رہنے لگیں تو احساس ہوا کہ یہ سفر محض میلوں کا نہیں، کہانیوں اور قربانیوں کا بھی ہے۔ یہ وہ صبح تھی جس میں گاڑی کا رخ اسلام آباد سے پشاور کی جانب تھا۔ ڈھائی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم پشاور سے چند میل آگے، ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹر پہنچ چکے تھے—ایک ایسی جگہ جہاں خاموشی میں عزم بولتا ہے اور نظم میں طاقت پنہاں ہوتی ہے۔
    دروازے پر میجر علی رضا کی پْرخلوص مسکراہٹ نے خوش آمدید کہا۔ ہم بریفنگ روم کی طرف بڑھے، جہاں برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے الفاظ میں ٹھہراؤ تھا اور تجربے کی گونج۔
    ‘‘غیر روایتی جنگ’’.یہ اصطلاح سنتے ہی میں نے سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر خطے کی زبان، روایات اور ثقافت جدا ہوتی ہے؛ ان نزاکتوں کو وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جو اسی مٹی میں پلا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے خطے میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی ترجیح بنتی ہے.تاکہ دہشت گردوں کی ہر حرکت پر مقامی سطح پر نظر رکھی جا سکے۔
    انہوں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مثالیں دیں، اور جرگہ سسٹم کا ذکر کیا جہاں ایف سی اہلکار عوام کے ساتھ بیٹھ کر انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ امن کی جنگ صرف بندوق سے نہیں، تعاون سے جیتی جاتی ہے۔ ‘‘سیکیورٹی فورسز کے بعد سب سے اہم کردار آپ لوگوں کا ہے۔ سہولت کاری رک جائے تو مستقبل محفوظ ہو جائے’’—یہ جملہ کمرے میں دیر تک گونجتا رہا۔
    اس کے بعد ہم اسپیسیفک زون تربیتی مرکز کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں نوجوان جدید تقاضوں کے مطابق تربیت پا رہے تھے—وہ تربیت جو بدلتے ہوئے خطرات کا جواب ہے۔ بتایا گیا کہ افغانستان سے دراندازی اور خطے میں عدم استحکام کے تناظر میں، خاص طور پر طالبان کے ہاتھوں جدید اسلحے کے استعمال نے چیلنجز بڑھائے ہیں، جو ریاستہائے متحدہ کے انخلا کے بعد خطے میں پھیلا۔ اسی لیے تربیت میں عملی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور مقامی حساسیت—تینوں کو یکجا رکھا جاتا ہے۔
    یہاں روزانہ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی بنیاد رکھی جاتی ہے، مگر اس عزم کے ساتھ کہ مقامی آبادی ہر صورت محفوظ رہے۔ میدان میں دوڑتے، پسینہ بہاتے نوجوانوں کو دیکھ کر دل خودبخود گواہی دیتا ہے کہ امن کوئی سستا تحفہ نہیں؛ یہ مسلسل محنت، ضبط اور قربانی کا حاصل ہے۔
    واپسی پر سورج ڈھل رہا تھا، مگر ذہن میں ایک روشن سچ ابھر چکا تھا: امن کے چراغ وردی کی جیب میں نہیں، عوام کے دل میں جلتے ہیں۔
    ص جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے۔

  • بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات…شیخ راشد عالم

    بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات…شیخ راشد عالم

    جنوبی ایشیا کا خطہ ایک طویل عرصے سے جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان کو جہاں مشرقی سرحد پر روایتی خطرات کا سامنا ہے، وہیں غیر روایتی اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا کردار ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا، جن کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمتِ عملی اور جراتمندانہ اقدامات کے ذریعے ان عزائم کو ناکام بنایا۔
    پراکسی وار جدید دور کی ایک پیچیدہ حکمتِ عملی ہے جس میں ریاستیں براہِ راست تصادم کے بجائے مقامی یا سرحد پار عناصر کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر اس امر کی نشاندہی کی کہ بھارتی خفیہ نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کار ملک میں تخریبی کارروائیوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے مربوط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ان نیٹ ورکس کی بیخ کنی کو ترجیح دی۔
    انسدادِ دہشت گردی کے بڑے آپریشنز اس جدوجہد کا مرکزی ستون رہے۔ پاک فوج کے آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایسے عناصر بے نقاب ہوئے جو بیرونی سرپرستی میں ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان آپریشنز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی پراکسی ڈھانچے کو برداشت نہیں کریں گی۔
    سرحدی نظم و نسق کی بہتری بھی بھارتی پراکسی کے خلاف حکمتِ عملی کا اہم حصہ رہی۔ مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے نظام اور چیک پوسٹس کے قیام نے دراندازی کے امکانات کو محدود کیا۔ اسی طرح لائن آف کنٹرول پر مؤثر دفاعی حکمتِ عملی نے دشمن کی درپردہ سرگرمیوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان اقدامات کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت اور اسلحہ کی ترسیل پر سخت کنٹرول ممکن ہوا۔
    انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے پراکسی نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسز اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایسے عناصر کی نشاندہی کی گئی جو بظاہر عام شہری زندگی گزار رہے تھے مگر پس پردہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ بروقت کارروائیوں نے ممکنہ حملوں کو ناکام بنایا اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا۔
    بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کا فروغ بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ بھارتی پراکسی کا ایک مقصد مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنا تھا، مگر پاک فوج نے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں معاونت فراہم کر کے عوامی حمایت کو مضبوط کیا۔ جب عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں تو پراکسی نیٹ ورکس کی گنجائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
    اطلاعاتی جنگ کے میدان میں بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔ دشمن کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا بروقت جواب دیا گیا۔ شفاف معلومات اور حقائق کی فراہمی نے افواہوں کا توڑ کیا اور قومی بیانیے کو مضبوط بنایا۔ ہائبرڈ وار فیئر کے اس دور میں اطلاعاتی محاذ پر کامیابی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی زمینی محاذ پر۔
    سفارتی سطح پر پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے شواہد پیش کیے کہ کس طرح بھارتی پراکسی عناصر خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سفارتی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیوں کا اعتراف بڑھایا۔ بین الاقوامی فورمز پر فعال کردار ادا کرنا بھی قومی سلامتی کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ رہا۔
    پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید سازوسامان اور جوانوں کی قربانیاں اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ سیکڑوں افسران اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا بہتر ہوئی ہے اور ترقیاتی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
    یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پراکسی کے خلاف جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ قومی سطح کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی اس جنگ کو پائیدار کامیابی تک پہنچانے کے لیے ضروری عناصر ہیں۔ پاک فوج نے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا ہے، اب دیگر اداروں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
    مجموعی طور پر بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان مضبوط اور مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ یہی اتحاد اور اعتماد ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی کے ذریعے ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

  • بنوں میں تھانے کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بنوں میں تھانے کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    ڈی آئی خان:(پاکستان واچ نیوز)بنوں میں تھانہ میریان کے مرکزی گیٹ کے باہر بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھرا زرنج رکشہ تھانے کے مین گیٹ سے ٹکرایا، جبکہ ایک موٹر سائیکل میں بھی آئی ای ڈی نصب کی گئی تھی جو قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی تھی۔دھماکے کے وقت تھانے کے باہر دکانیں موجود تھیں جس کے باعث شہری نشانہ بنے۔ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے تاہم بچے سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب، ایف سی کی منزئی پوسٹ مرتضیٰ میں کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کو ریکور کرنے کے لیے فرنٹیئر کور کوڑ قلعہ ٹیم پر فائرنگ اور دھماکے میں دو جوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں لانس نائیک باسط اور سپاہی عصمت اللہ شامل ہیں۔ زخمیوں میں نائب صوبیدار زاہد، نائیک مدثر، سپاہی اصغر، حوالدار شاہ پور خان اور لانس نائیک جان شامل ہیں۔

  • جیولری شاپ کی دیوارتوڑکر30کروڑ کا سونا چرالیا گیا

    جیولری شاپ کی دیوارتوڑکر30کروڑ کا سونا چرالیا گیا

    کراچی (پاکستان واچ نیوز) شہرقائد کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات سامنے آ گئی، جیولری شاپ کی دیوار توڑ کر 30 کروڑ روپے کا سونا لوٹ لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نامعلوم ملزمان 606 تولے سونا اور 25 لاکھ روپے کے ہیرے لے اڑے، واردات ڈسٹرکٹ ویسٹ کے اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود میں معروف جیولری شاپ پر کی گئی۔متاثرہ تاجر ایوب خان نے واردات کا مقدمہ اقبال مارکیٹ تھانے میں درج کرا دیا، جیولر ایوب خان کے مطابق 12 تاریخ کی شب جیولری شاپ معمول کے مطابق بند تھی۔14 تاریخ کی صبح کاریگروں نے دکان کھولی تو باکس خالی نکلے، دکان کے پیچھے جا کر دیکھا تو دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔متاثرہ تاجر کے مطابق ذاتی سونے سے بنا ہوا 7 ہزار 64 گرام سامان غائب تھا جبکہ کچھ ہیرے اور دیگر سامان بھی غائب تھا جس کی مالیت 25 لاکھ روپے بنتی ہے، پولیس کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی۔جیولری شاپ میں واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو دیوار توڑ کر جیولری شاپ میں داخل ہوتے اور متعدد کوششوں کے بعد اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی ویسٹ سے واقعہ کی فوری اور مفصل رپورٹ طلب کرلی۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ واردات میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور لوٹے گئے مال کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاکر ملزمان تک ہر صورت رسائی حاصل کی جائے۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہر میں جیولری مارکیٹس اور حساس تجارتی مراکز کی سیکیورٹی مزید مؤثر اور سخت بنائی جائے، ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • حکومت نے   رمضان المبارک سے قبل صارفین پر  پیٹرول بم گرادیا

    حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر پیٹرول بم گرادیا

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔