Blog

  • چارسدہ؛  گیس سلنڈر پھٹنے سے دو بچے جاں بحق، باپ زخمی

    چارسدہ؛ گیس سلنڈر پھٹنے سے دو بچے جاں بحق، باپ زخمی

    چارسدہ:(نمائنہ ہ خصوصی)تحصیل اتمانزئی کے علاقے طارق آباد میں واقع گھر کے اندر گیس سلنڈر پھٹنے سے بیٹا اور بیٹی جاں بحق جبکہ باپ شدید زخمی ہوگیا۔ریسکیو 1122 کے مطابق گیس سلنڈر پھٹنے کا افسوس ناک واقعہ ابراہیم نامی شخص کے گھر میں پیش آیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر غیور مشتاق خان کی ہدایت پر ریسکیو 1122 چارسدہ کی ایمبولینس اور فائر وہیکل فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کی گئیں۔حادثے کے نتیجے میں والد ابراہیم شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان کے دو بچے (بیٹا اور بیٹی) موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے زخمی کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا۔

  • محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے کو  چیلنج کرونگا،اکبر ایس بابر

    محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے کو چیلنج کرونگا،اکبر ایس بابر

    اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے اسپیکر کے متوقع فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔اکبر ایس بابر کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کا محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نوٹیفائی کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسپیکر کے ایسے کسی بھی فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کریں گے۔ اپنے بیان میں انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پی ایل ڈی 2018 (صفحہ 370) میں قرار دے چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلوں کا مجاز نہیں۔ قومی اسمبلی کے رولز اسپیکر قومی اسمبلی کو ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ سزا یافتہ کی ایما پر اپوزیشن لیڈر تعینات کریں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی توہین عدالت اور ’’مک مکا کی سیاست‘‘ کی علامت ہوگی۔ مک مکا کی سیاست نے عوام کو بدحال اور حکمرانوں کو خوشحال بنایا، مفاہمت کے نام پر مک مکا سیاست کا شاخسانہ ہے کہ ملک دشمن سیاست جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بااثر سیاست دان ملک دشمن سیاست کریں، اسے بدنام کریں، ملکی وسائل لوٹیں یا معیشت تباہ کریں، قانون کی گرفت سے بری ہیں۔ بااثر سیاست دان معاشرے میں انتشار پھیلائیں، اداروں پر حملے کریں یا دہشت گردوں کی سہولت کاری، احتساب سے بالاتر ہیں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ مفاہمت کے نام پر ایسی ’’مک مکا سیاست‘‘ دفن کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بیرونی دشمنوں کی طرح، اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کو ہے۔ اس معرکہ حق میں بیرونی دشمنوں کے اشاروں پرکام کرنے والے اندرونی دشمنوں سے فیصلہ کن مقابلہ کریں گے۔پی ٹی آئی کے بانی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی، قانونی اور میڈیا کے محاذو ں پر یہ جنگ لڑیں گے۔ اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق میں بھی فتح پاکستان اور عوام کی ہوگی، ان شاء اللہ۔

  • شمالی وزیرستان؛ دریائے کرم کا اہم رابطہ پل بارود  سے اُڑا دیا گیا

    شمالی وزیرستان؛ دریائے کرم کا اہم رابطہ پل بارود سے اُڑا دیا گیا

    ڈی آئی خان:(نمائندہ خصؤصی)دریائے کرم کے اہل رابطہ پل کو بارودی مواد سے اُڑا دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ میں دریائے کرم پر قائم ایک اہم رابطہ پل کو بارود سے اڑا دیا گیا ہے، جس کے باعث پل مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے رات گئے پل کے نیچے بارودی مواد نصب کیا، جس کے بعد زور دار دھماکے سے پل مکمل طور پر منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کا میران شاہ اور دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔پل کی تباہی پر اہلیانِ علاقہ نے اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کی شدید مذمت کی ہے۔

  • پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز کہاں ہے‘ بھارتی آرمی چیف

    پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز کہاں ہے‘ بھارتی آرمی چیف

    ممبی (فارن ڈیسک)بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے اعتراف کیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے پاس بھارتی فوج کی مکمل سیٹلائٹ معلومات موجود تھیں، جن کے ذریعے اسے یہ علم تھا کہ بھارتی فوج کا کون سا جہاز، کون سا طیارہ اور کون سی یونٹ کہاں موجود ہے۔
    نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان پر الزامات بھی عائد کیے، تاہم اسی دوران وہ یہ تسلیم کر بیٹھے کہ پاکستان کو سیٹلائٹس کے ذریعے بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی۔بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ معلوم تھا کہ بھارتی فوج کا کون سا طیارہ، کون سی مرکزی یونٹ اور کون سا جہاز کس مقام پر حرکت کر رہا ہے۔جنرل اُپندر دویدی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال نازک ہے، تاہم ان کے مطابق حالات اس وقت کنٹرول میں ہیں۔بھارتی آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے راکٹ فورس قائم کر رکھی ہے، اور بھارت کو بھی اسی طرز پر اپنی راکٹ فورس کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی کا فیصلہ

    پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی کا فیصلہ

    لاہور:(خصوصی رپورٹ)پنجاب حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت آئندہ صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خریدی جا سکیں گی، تاہم فیلڈ ڈیوٹی پر مامور گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنا قرار دیا گیا ہے۔
    چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق صوبے میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے گرین انرجی کا فروغ ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ نئے پیٹرول پمپس کے لیے این او سی کی منظوری کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کی تنصیب سے مشروط کردیا گیا ہے اور کسی بھی نئے پیٹرول پمپ کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ لگائے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔چیف سیکرٹری کے مطابق این او سی حاصل کرنے والے نئے 170 پیٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ یونٹس کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ صوبے کے 31 شہروں میں 170 نئے پیٹرول پمپس کے لیے ای بز پورٹل کے ذریعے این او سیز جاری کیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں فیصل آباد میں 29، لاہور میں 14، بہاولپور میں 10 جب کہ خانیوال اور بہاولنگر میں 9، 9 نئے پیٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ کی سہولت فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اسی طرح راولپنڈی اور جھنگ میں 8 جب کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، قصور اور چنیوٹ میں 7، 7 نئے پیٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ لگانے کی شرط پر منظوری دی گئی ہے۔

  • شکار کیلیے جانیوالے  8 افراد کیٹی بندر کے قریب سمندر میں ڈوب گئے

    شکار کیلیے جانیوالے 8 افراد کیٹی بندر کے قریب سمندر میں ڈوب گئے

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کیٹی بندر کے قریب کشتی الٹنے سے شکار پر جانے والے 8 افراد ڈوب گئے۔رپورٹ کے مطابق افسوس ناک حادثہ کیٹی بندر کے قریب پیش آیا، جس میں 8 افراد کشتی کے الٹنے کے باعث سمندر میں ڈوب گئے۔ ڈوبنے والے افراد سمندر میں پرندوں کے شکار کے لیے کراچی سے گئے تھے۔حادثے کا پتا چلتے ہی مقامی ماہی گیروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو زندہ بچالیا، تاہم کشتی حادثے کے نتیجے میں 2 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ تیز لہروں اور خراب موسم کو قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔مقامی ماہی گیر لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے حکام کے مطابق کشتی حادثے کے مقام پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تلاش و بچاؤ آپریشن کے دوران کشتی پر سوار 6 افراد کو بچا لیا گیا ہے جب کہ ڈوبنے والے ایک شخص ظہیر احمد کی لاش نکال لی گئی ہے۔ ایک اور لاپتا شخص واحد بخش کی تلاش جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں سے 5 کا تعلق کراچی اور 3 کا کیٹی بندر سے ہے۔ ریسکیو کے دوران ڈوبنے والی لانچ بھی ری کور کرلی گئی ہے۔ حادثہ ممکنہ طور پر تیز ہواؤں کے سبب پیش آیا۔ ڈوبنے والے افراد کیٹی بندر پر پرندوں اور مچھلی کا شوقیہ شکار کررہے تھے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد:(خصوسی رپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے۔پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جب کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن پر عمل جاری ہے ۔ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں ۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی تناظر میں یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
    محمد اورنگزیب نے کہا کہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی جب کہ رواں مالی سال بھی اس مد میں اخراجات میں بچت کی جائے گی۔
    وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں ۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے ۔ نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس سال قرضوں کی بہتر منصوبہ بندی سے قابلِ ذکر بچت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچت کو ملک کے اہم اور ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیرونِ ملک مارکیٹ میں سرمایہ کاری جاری ہے ۔ آئندہ ہفتوں میں پانڈا بانڈ کے بارے میں خبریں آئیں گی۔ اب چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔ کرنسی کی تبدیلی سے 2.5 فیصد فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اصلاحات پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے ۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے۔
    وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات 2028 میں شروع ہوں گی اور پہلے سال 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی نار کی ٹرانزیکشن میں آئی ایف سی نے 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھ رہا ہے، سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پُرامید ہیں۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کو حوصلہ شکنی کی اور قرضوں میں اضافہ کیا۔ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط معیشت وہ ہے جہاں ادارے فعال ہوں ۔ جدید معاشی ری سیٹ کے لیے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہے۔
    مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ہر شہری کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اور اثر و رسوخ تک رسائی بن چکا ہے اور مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے۔ حکومت بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے چھوٹے کارخانوں اور نوجوانوں کو وسائل فراہم کرے۔
    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ خوشحالی کا سرچشمہ تعلیم، ہنر اور پیداواری صلاحیت ہے ۔ معاشی نظام میں ٹیلنٹ اور قابلیت کے اصول پر لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر معاشی پالیسیاں درست ہوتیں تو آج پاکستان بنگلا دیش سے آگے ہوتا۔ معیشت میں ‘بوم اینڈ بسٹ’ سائیکل کی وجہ صرف امپورٹ اور کھپت پر انحصار ہے ۔ اشرافیہ کو نوازنے والی پالیسی نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔
    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ دنیا میں جے ایف-17 طیارے بھی فروخت کر رہا ہے۔ ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے، لیکن عالمی مقابلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے آگے نکل چکا ہے جب کہ ویتنام کی ایکسپورٹ 408 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ اب بھی 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے ملک میں یونیورسٹیوں اور شاہراہوں کے جال کو بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ عالمی مقابلے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ہمدرد پبلک و ولیج اسکولز کے زیرِ اہتمام سالانہ فوڈ فئیر 2026 اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا 106واں یومِ ولادت

    ہمدرد پبلک و ولیج اسکولز کے زیرِ اہتمام سالانہ فوڈ فئیر 2026 اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا 106واں یومِ ولادت

    کراچی (اسٹاف رپورٹر):ہمدرد پبلک اور ولیج اسکولز کی جانب سے حسبِ روایت شہیدِ پاکستان، حکیم محمد سعیدؒ کے106ویں یومِ ولادت کو فاؤنڈرز ڈے کے طور پر 12 جنوری 2026 کو بلاول اسٹیڈیم میں انتہائی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر سالانہ فوڈ فئیر 2026 کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے مل کر مختلف فوڈ اسٹالز لگائے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
    تقریب کی مہمانِ خصوصی محترمہ قُدسیہ اکبر، سی ای او لمبلس فاؤنڈیشن پاکستان تھیں۔ جبکہ تقریب میں محترمہ سعدیہ راشد (ہلالِ امتیاز)، صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، محترمہ فاطمہ الزہراء (وائس پریذیڈنٹ مدینۃ الحکمہ)، فیصل ندیم (چیف فنانشل آفیسر)، پروفیسر ڈاکٹر عمران امین (وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی)، ایڈمنسٹریٹر خالد نسیم اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
    مہمانِ خصوصی محترمہ قُدسیہ اکبر نے اپنے خطاب میں ہمدرد انتظامیہ کی دعوت اور شاندار انتظامات پر شکریہ ادا کیا اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعیدؒ نے تعلیم کو قوم کی تعمیر کی بنیاد قرار دیا اور بچوں کی تربیت و کردار سازی پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے محترمہ سعدیہ راشد کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ حکیم محمد سعیدؒ کے مشن کو بھرپور انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔
    صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان محترمہ سعدیہ راشد نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکیم محمد سعیدؒ کو بچوں سے بے حد محبت تھی اور ان کا خواب تھا کہ پاکستان کا ہر بچہ علم کی روشنی سے منور ہو، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔ ہمدرد اسی وژن کے تحت نسلِ نو کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل ہے۔
    تقریب کے دوران معزز مہمانوں نے فوڈ فئیر کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، طلبہ کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ کی محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور انتظامیہ کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ شرکاء نے فوڈ فئیر سے بھرپور لطف اٹھایا۔

  • حکومت سندھ کا نافذ کردہ ای چالان سسٹم فیل ہوگیا

    حکومت سندھ کا نافذ کردہ ای چالان سسٹم فیل ہوگیا

    سافٹ ویئر میں موجود نقائص شہریوں کے لئے درد سر بن گیا
    ای چالان کا موجودہ سسٹم صرف کالے یا گہرے رنگ کی سیٹ بیلٹ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
    سیٹ بیلٹ لگانے کے باوجود شہریوں کو تواتر سے چالان موصول ہونے لگے،
    ای چالان سسٹم کی موجودہ تکنیکی خرابی پر ڈی آئی جی ٹریفک کامؤقف دینے سے گریز
    کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کا نافذ کردہ جدید ترین ای چالان سسٹم ناکام ہوگیا، سسٹم صرف بلیک یا گہرے رنگ کے سیٹ بیلٹ کو شناخت کرتا ہے۔ جبکہ زیادہ تر معروف کار بنانے والے برانڈز کی گاڑیوں میں لائٹ گرے رنگ کی سیٹ بیلٹ موجود ہوتی ہے اور اگر آپ نے سفید یا ہلکے رنگ کی کوئی قمیض یا شرٹ پہن رکھی ہے تو اس پر یہ سیٹ بیلٹ لگانے کے باوجود ای چالان سسٹم سیٹ بیلٹ کو شناخت کرنے سے قاصر ہے جس پر شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی پاداش میں 10,000 کا چالان بھیج دیا جاتا ہے۔
    ای چالان سسٹم کی موجودہ تکنیکی خرابی پر ڈی آئی جی ٹریفک کامؤقف دینے سے گریز۔ پاکستان واچ کو ہزاروں شکایات موصول۔ تفصیلات کے مطابق ایک سابق بیوروکریٹ کو ٹیوٹا یارس نمبر CBF-215 میں سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی پاداش میں ای چالان بھیجا گیا حالانکہ انہوں نے سیٹ بیلٹ لگایا ہوا تھا۔مگر ایش گرے سیٹ بیلٹ ہونے پر ای چالان سسٹم اس کو شناخت نہ کرسکا اور تحقیقات کرنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ حکومت سندھ کا سسٹم صرف بلیک اور گرے سیٹ بیلٹ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ متاثرہ شہری سابق بیوروکریٹ نے جب ڈی آئی جی ٹریفک سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ آپ چالان معافی کی درخواست کردیں جس پر سابق بیوروکریٹ نے نہ ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں قانون پسند شہری ہوں اور جب میں نے غلطی نہیں کی تو معافی کی درخواست کیوں کروں؟ تاہم اس بات کا ڈی آئی ٹریفک کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ای چالان کے حوالے سے پاکستان واچ کو ہزاروں شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں شہریوں کو چالان کے نام پر لوٹا گیا جس سے متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شاہراہ فیصل، ڈیفنس، کلفٹن اور اطراف کے علاقوں میں ای چالان کیے جارہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کے رہائشی سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں اور ای چالان کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں۔ جبکہ کراچی اندرونی علاقوں میں سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں مگر ان پر کوئی کنٹرول نہیں۔ حالانکہ وہاں چوری اور چھینی گئی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ شہریوں نے سندھ حکومت کے حکام سے ای چالان کے حوالے سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا

    اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا

    اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا۔ ذرائع نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہی متحدہ اپوزیشن کے واحد امیدوار ہوں گے، اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی یقین دہانی کرادی۔
    ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی قانونی ضابطے پورے کرکے اپوزیشن لیڈر کا تقرر کردیں گے۔
    چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر، ملک عامر ڈوگر پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق مطلوبہ دستاویزات اسپیکر آفس کو فراہم کی۔
    پی ٹی آئی چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم نے سپریم قومی اسمبلی کی ہدایات کے مطابق تمام تقاضے پورے کرکہ اپڈیٹڈ لسٹ سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی ہیں۔

    اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر کی صوابدید ہے وہ جب چاہیں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں، میں خود بھی اسپیکر رہا ہوں، ہم نے تمام تقاضے پورے کیے ہیں، امید ہے اس میں اب مزید تاخیر نہیں ہوگی۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ابتک صرف ایک ہی نامزدگی ہوئی ہے، اسپیکر ہی سب کچھ ہے وہ جب چاہے نوٹیفکیشن کرسکتا ہے، جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائے تو سینیٹ میں بھی ہوجائےگا۔

    بیر سٹرگوہر علی خان کی اسپیکر آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائےگا، ہم نے کاغذات جمع کرائے ہیں کل تک تصدیق ہوجائےگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے، خان صاحب چیئرمین تھے،ہیں اور رہیں گے، خان صاحب کے فیصلے کو کوئی سیاسی یا اپیکس کمیٹی تبدیل نہیں کرسکتی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے تمام تر اعتراضات دور کر دیے ہیں اور کاغزات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کل تک دستخط کی تصدیق ہو جائے گی اور جمعرات کے دن ہمارا اپوزیشن لیڈر اناونس ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن سیشن میں ہمارا اپنا اپوزیشن لیڈر ہو گا، ان کے مقابلے میں کسی نے بھی کاغزات جمع نہیں کرائے، ہماری اسپیکر آفس میں مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

    ملک عامر ڈوگر کا اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اسپیکر سردار کو خط

    قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اسپیکر سردار ایاز صادق کو خط لکھا۔

    خط میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود خان اچکزئی کو متفقہ طور پر قائد حزبِ اختلاف نامزد کر چکی ہے، اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تاحال خالی ہے، جمہوری روایات کے تحت اپوزیشن کو اپنا قائد منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔

    خط کے متن کے مطابق قومی اسمبلی رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ 2007 کے رول 39 کے تحت فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔