واشنگٹن:(فارن ڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لین دین رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھیں گے، وہ امریکی منڈی میں اضافی مالی بوجھ کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
ذرائع کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 648 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
حالیہ بیان میں انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی کا آپشن بھی شامل ہے۔
Blog
-

ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا
-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
اسلام آباد:(کامرس ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 16 جنوری سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے ورکنگ مکمل کرلی۔ اوگرا قیمتوں میں ردوبدل کے لیے 14 جنوری کو پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ سے مشاورت کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ -

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کے حوالے سے اتفاق
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی جس میں ں پاک۔ یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن عمل مزید آسان بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان “پری امیگریشن کلیئرنس” کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کیا جائے گا، اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا، پائلٹ منصوبے کا آغاز کراچی سے پہلے مرحلے میں کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان ہی میں مکمل کی جائے گی، اس نظام کے نفاذ کے بعد مسافروں کومتحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کی طویل کارروائی سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
محسن نقوی نے کہا کہ مسافر ڈومیسٹک مسافروں کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے، اس اقدام سے سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے لیے مجموعی تجربہ بہتر ہوگا۔
یو اے ای وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر طرح کےتعاون کے عزم کا اظہار کیا، پائلٹ منصوبے کے انتظامی و تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے، کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو بتدریج مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی۔
وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔ -

امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی
نیویارک( فارن ڈیسک)امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، کیونکہ ملک بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
سفارتخانہ نے مشورہ دیا کہ امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔
دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے۔
سفارتخانے نے مزید کہا ہے کہ وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔ -

2025 میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )پاکستان کو 2025 میں شدید برین ڈرین کے مسئلے کا سامنا رہا، جہاں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، محدود ملازمتوں کے مواقع، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور بہتر تنخواہوں کی کشش نوجوانوں اور ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہی ہے۔
اس رجحان کے باعث پاکستان کو قیمتی انسانی وسائل کے نقصان کا سامنا ہے، جس کا براہِ راست اثر معیشت، صنعت اور ترقی کے عمل پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو برین ڈرین کا یہ سلسلہ مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ -

پی ٹی آئی کے پاس گراؤنڈ بھرنے کیلئے بندے نہیں تھے تو ہم سے کہتے : میئر کراچی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پی ٹی آئی کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ باغ جناح بڑا گراؤنڈ ہے اس کو بھرنا آسان نہیں۔خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے کراچی میں جلسہ کرنے کے حوالے سے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس گراؤنڈ بھرنے کے لیے بندے نہیں تھے تو ہم سے کہتے ہم دے دیتے۔دوسری جانب وزیرمملکت بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج اور پی ٹی آئی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔انہوں نے کہا اپنے صوبے میں کام کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دیگر صوبوں میں پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کراچی میں جلسہ کیا۔کراچی میں نمائش چورنگی پر خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ آج ہمارے ساتھ مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی، پولیس گردی کے بعد بھی ہم یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت نےہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، سندھ میں بھی سندھ حکومت نےاچھا سلوک نہیں کیا، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں اگلا پڑاؤ ڈالیں گے اور اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملک بھرمیں پہنچائیں گے۔
-

ٹرمپ کا انجام فرعون، نمرود اور رضا شاہ جیسا ہوگا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای
تہران(فارن ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو انجام ہوا، وہی ٹرمپ کے ساتھ بھی ہوگا۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ غرور میں مبتلا ایک شخص خود کو دنیا کے فیصلے کرنے کا اہل سمجھ رہا ہے، مگر اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر موجود طاقتور حکمرانوں کا انجام کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، غرور اور طاقت کے نشے میں مبتلا حکمران زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر ایران میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں تخریب کاری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور عوام کو افراتفری پر اکسا رہے ہیں۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ کسی غیر ملکی طاقت کو ایران کے اندر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف کئی مضبوط آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
-

ایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا
واشنگٹن:(فارن ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے معاملے پر وہ ارب پتی کاروباری ایلون مسک سے بھی بات کریں گے، کیونکہ اس شعبے میں ان کی کمپنی کو مہارت حاصل ہے۔امریکی صدر کے مطابق ایران نے حال ہی میں جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے اور امریکا اس حوالے سے ملاقات پر بھی غور کر سکتا ہے، تاہم ساتھ ہی مختلف آپشنز، بشمول فوجی کارروائی، زیر غور ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر آپریشنز اور نئی پابندیاں لگانے کے آپشنز بھی زیر بحث ہیں۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ ایران سے متعلق حکمت عملی پر غور کے لیے منگل کے روز اپنے سینیئر مشیروں سے ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ ایران نے اتوار کے روز امریکا کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران میں گزشتہ 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
-

ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا،
واشنگٹن(فارن ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انہوں نے خود کو “Acting President of Venezuela” یعنی وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں ان کی سرکاری تصویر کے ساتھ تحریر تھا کہ وہ جنوری 2026 سے وینزویلا کے عبوری صدر ہیں، جبکہ انہیں امریکا کے 45ویں اور 47ویں صدر کے طور پر بھی ظاہر کیا گیا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کی، جس کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات سے متعلق سنگین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکا وینزویلا میں عبوری دور کے دوران سیاسی منتقلی کی نگرانی کرے گا۔ اسی دوران وینزویلا کی نائب صدر اور وزیرِ تیل ڈیلسے روڈریگز نے بطور عبوری صدر حلف بھی اٹھا لیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اس عبوری مدت میں وینزویلا کے تیل کی آمدنی کی نگرانی کرے گا تاکہ اس رقم کو وینزویلا اور امریکا کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو فراہم کرے گا، جسے مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔ٹرمپ کے اس بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جب کہ وینزویلا میں امریکی کردار پر پہلے ہی شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ -

پاک بحریہ کا زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ
کراچی (خصوصی رپورٹ ) پاک بحریہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا جب کہ پاکستان نیوی نے شمالی بحیرۂ عرب میں ایک جامع بحری مشق کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدلتی ہوئی بحری جنگی حکمتِ عملی کے تقاضوں کے مطابق اس مشق میں روایتی اور بغیر پائلٹ نظاموں کی صلاحیتوں کو کامیابی سے آزمایا گیا۔
مشق کے دوران پاکستان نیوی نے جدید فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمودی لانچنگ سسٹم سے ایل وائی–80 (این) زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب لائیو فائر کیا۔
توسیع شدہ فاصلے پر فائر کیے گئے میزائل نے فضائی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا، مشق پاکستان نیوی کے جدید طویل فاصلے تک مؤثر فضائی دفاعی نظام کی تصدیق ہوئی۔
بیان کے مطابق مشق میں جدید لوئٹرنگ میونیشن کے ذریعے سطحِ آب کے اہداف کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، لوئٹرنگ میونیشن نے درستگی کے ساتھ اہداف کو تباہ کر کے پاکستان نیوی کی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیتوں کا واضح ثبوت فراہم کیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جو جدید بحری جنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، بغیر پائلٹ سطحی بحری جہاز (ان مینڈ سرفیس ویسل) کے کامیاب کھلے سمندر میں آزمائشی تجربات بھی کیے گئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو خودکار بحری ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، ان تجربات کے دوران پلیٹ فارم کی تیز رفتار کارکردگی، انتہائی پھرتی، درست نیویگیشن اور سخت موسمی حالات میں مؤثر صلاحیتوں کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔
یو ایس وی کو کم خطرے اور زیادہ اثر رکھنے والا اسٹیلتھ ٹیکٹیکل انٹرسیپٹر قرار دیا گیا ہے، مشق کا مشاہدہ کمانڈر پاکستان فلیٹ نے کیا، پاکستان نیوی کی جدید نظاموں کے مؤثر استعمال کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز (ملٹری)، نے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور عملی قابلیت کو سراہا، پاکستان نیوی ہر صورت میں پاکستان کے بحری دفاع اور قومی سمندری مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتی رہے گی۔