Blog

  • خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    راولپنڈی (نمائندہ خصوصی )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی جب کہ گزشت برس ملک میں 27 خود کش حملے ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، اسے سبق سکھانا ضروری تھا، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طور پر منظم کیا، دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
    گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 2 دہائی سے زائدعرصےسےجاری ہے، دہشت گردخوارج اورفتنہ الہندوستان ہیں، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال14ہزار658آپریشن خیبرپختونخوا میں کئے گئے، فوج،پولیس اور اداروں نے75ہزار175انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، بلوچستان میں58ہزار778انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، دہشت گردی کے5ہزار397واقعات ہوئے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2597دہشت گرد ہلاک کئے گئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری1235شہادتیں ہوئیں، گزشتہ سال 27خودکش حملے ہوئے، خودکش حملے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں ہوئے، خیبرپختونخوا16 اور بلوچستان میں 10 حملے ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک حملہ ہوا، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 3 ہزار811 واقعات ہوئے، 2021سے2025تک خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات بڑھے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فتنہ الہندوستان کے خلاف واضح موقف ہے، 2021کے دوران خیبرپختونخوا میں193دہشت گرد ہلاک ہوئے، گزشتہ سال دہشتگردی کیخلاف تاریخی اورنتیجہ خیز تھا، 2021میں دوحہ معاہدے میں طالبان نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیے، افغان سرزمین دہشتگردی کیلیے استعمال نہیں ہوگی۔
    ڈی جی آئی ایس پی نے کہا کہ آر دوحہ معاہدے میں کہاگیا افغانستان میں خواتین کو حقوق ملیں گے، کیا2021کے بعد دوحہ معاہدے کے وعدوں پر عمل ہوا؟ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔
    ترجمان پاک افواج نے کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے، وہ خود کو عبوری افغان حکومت کہلواتے ہیں لیکن وہاں کوئی حکومت نہیں، القاعدہ،داعش،بی ایل اے افغانستان میں موجود ہے، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈرلایا گیا، شام سے2ہزار500دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے، شام سے افغانستان منتقل ہونیوالے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں،ڈی جی افغان بارڈربندکرنے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرزعمل کے مطابق منظم کیا، فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگادیا، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بنا کرپیش کرتا ہے، افغانستان دہشت گردوں کو براہ راست اسپورٹ کررہا ہے، افغانستان وار اکانومی کرتا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واراکانومی کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے، افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکومادو۔
    ترجمان پاک افواج نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیررگٹھ جوڑ موجود ہے، خیبرپختونخوا کی بنیادپر206انٹیلی جنس آپریشن کئے جا رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ کہاجاتا ہے2026میں افغانستان اوربھارت ملکرپاکستان پر حملہ کرینگے، افغانستان اور بھارت آجائیں ان کا شوق پورا کریں گے، ہندوستان میڈیاپربیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے چھپ کرنہ بیٹھے، ارنب گوسوامی کو دیکھ کرہنس کیوں رہے ہیں، یہ بھارتی دانشور ہے، مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیااوتارمل گیا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ جاؤ ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ہم ایک عرصےسے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے ، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس نشر کردیے
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس چلا دیے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے. ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق نشر کیا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔

  • وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )وزیراعظم نے کسانوں کی خوشحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور فصلوں میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ادویات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نے بتایا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے اور موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔شہباز شریف نے ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھانے، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کرنے اور آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔
    اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کی، جس میں شعبے کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو تفصیلی طور پر ملک میں ربیع و خریف کی بڑی فصلوں، ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر و پھلوں کی پیداوار و برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں کا خطے اور عالمی سطح پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائے گا، جس کے لیے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی، پالیسی اقدامات اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون سے مؤثر ایکسٹینشن سروسز فراہم کرے گی اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرایا جائے گا۔
    شرکا کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے وفاقی حکومت سرٹیفکیشن رجیم پر کام کرے گی، جو زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں قدر میں اضافہ یقینی بنا کر کسانوں کے منافع میں اضافے کا باعث بنے گا۔
    اجلاس کو تحقیقاتی اداروں کی اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا، جس کے تحت نہ صرف موجود فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمین کے مطابق نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔
    وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کی جانب سے دی گئی مفصل بریفنگ کو سراہتے ہوئے قابلِ عمل، مؤثر اور جامع روڈ میپ تیار کرکے حکومتی اصلاحات کی سفارشات میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

  • اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کا منصوبہ؛ چین سے تعاون حاصل کیا جائے گا

    اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کا منصوبہ؛ چین سے تعاون حاصل کیا جائے گا

    شنگھائی (نمائندہ خصوصی )اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کے منصوبے کے تحت وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے شنگھائی کے شہری منصوبہ بندی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں شنگھائی اربن پلاننگ کی سربراہ چن نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ کو شنگھائی شہر کی ماسٹر پلاننگ، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کو شنگھائی میں شہری سہولیات کے ساتھ تیز رفتار ترقی کے مربوط نظام سے آگاہ کیا گیا جب کہ ویڈیوز اور ماڈلز کے ذریعے شنگھائی کے ترقی کے سفر اور ماسٹر پلان کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے شنگھائی کے جدید سہولتوں سے آراستہ اسٹیڈیم کا ماڈل بھی ملاحظہ کیا۔محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ کے تحت تمام معلومات کو جدید طرز پر یکجا کرنے کے نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اس نظام کی تعریف کی۔ انہوں نے شہر کے نظام کو مربوط اور فول پروف بنانے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
    اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ شنگھائی شہر تیز ترین ترقی میں اپنی مثال آپ ہے اور شنگھائی کی ترقی ہر شہر کے لیے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں۔ شنگھائی کی تیز رفتار ترقی سے استفادہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورے کے اختتام پر وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی بھی موجود تھے۔

  • بجلی سستی کرنے کا پلان ، حکومت کی  مزید ریلیف دینے کی تیاری

    بجلی سستی کرنے کا پلان ، حکومت کی مزید ریلیف دینے کی تیاری

    اسلام آ باد:(نمائندہ خصوصی)حکومت نے صارفین کو مزید ریلیف دینے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں بجلی سستی کرنے کا پلان بھی سامنے آگیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور لیوی عائد کرنے کے بعد اس رقم کو بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، جس سے پاور سیکٹر میں ریلیف کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ جیسے جیسے کیپٹو پاور لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے بجلی کے نرخوں میں زیادہ ریلیف دینا ممکن ہو سکے گا۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والا فائدہ بجلی صارفین تک منتقل کرنے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ماہانہ جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ براہ راست ہر ماہ دینے کے بجائے 2 ماہ کے وقفے سے بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق مختلف مراحل میں کیا جائے گا۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس پر فوری طور پر 5 فیصد لیوی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ فروری 2026 میں لیوی 15 فیصد اور اگست 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی شرح 20 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس سے حاصل ہونے والی رقم پاور سیکٹر کے تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے ک لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔ ہر کیپٹو پاور پلانٹ گیس یا ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

  • ٹی ٹوئنٹی سیریز، پاکستان ٹیم کا سری لنکا پہنچنے پر شاندار روایتی استقبال

    ٹی ٹوئنٹی سیریز، پاکستان ٹیم کا سری لنکا پہنچنے پر شاندار روایتی استقبال

    کولمبو (اسپورٹس ڈیسک )سری لنکا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان ٹیم کا مکمل اسکواڈ دو گروپس میں کولمبو پہنچ گیا۔گزشتہ روز سری لنکا پہنچنے والے دوسرے گروپ میں کپتان سلمان علی آغا، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان ، عثمان خان، صائم ایوب، ابرار احمد، عبدالصمد اور خواجہ نافع کے علاوہ بیٹنگ کوچ محمد حنیف اور سپورٹ اسٹاف کے دیگر ارکان شامل تھے۔پاکستان ٹیم کے سری لنکا پہنچنے پر میزبان ملک کی جانب سے پاکستانی ٹیم کا روایتی انداز میں شاندار استقبال کیا گیا۔واضح رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ کل شام ساڑھے 6 بجے دمبولا میں کھیلا جائے گا۔

  • فیلڈ مارشل کا عالمی کردار اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں  خصوصی رپورٹ

    فیلڈ مارشل کا عالمی کردار اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں خصوصی رپورٹ

    عصرِ حاضر میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سفارت کاری (Diplomacy) ایک فیصلہ کن محاذ بن چکی ہے۔ عالمی سیاست میں وہی ممالک کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سفارتی حکمتِ عملی رکھتے ہوں۔ پاکستان کے تناظر میں فیلڈ مارشل کا منصب محض عسکری عہدہ نہیں بلکہ ایک ایسی ڈپلومیٹک کلاس کی نمائندگی کرتا ہے جو عالمی طاقتوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    فیلڈ مارشل: عسکری قوت سے سفارتی بصیرت تک
    فیلڈ مارشل وہ اعلیٰ ترین عسکری عہدہ ہے جو صرف غیر معمولی قیادت، اسٹریٹجک ذہانت اور قومی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کو نہ صرف ایک سپاہی بلکہ اسٹریٹجک اسٹیٹس مین سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ منصب ریاست کی سلامتی، خطے میں توازن اور عالمی سفارتی اثر و رسوخ کی علامت ہے۔
    فیلڈ مارشل کی شخصیت عسکری نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور طویل المدتی وڑن کا حسین امتزاج ہوتی ہے، جو ڈپلومیسی کے میدان میں بھی پاکستان کے مؤقف کو وزن عطا کرتی ہے۔
    عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی
    بین الاقوامی برادری میں فیلڈ مارشل کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد قیادت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتوں اور اسٹریٹجک فورمز پر پاکستان کا مؤقف اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری و سفارتی سوچ کارفرما ہو۔
    دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے یہ پیغام واضح انداز میں دنیا تک پہنچایا کہ طاقت کا استعمال آخری حل ہے، جبکہ ترجیح ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کو دی جاتی ہے۔
    بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر کامیابیاں
    بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف جارحانہ سفارتی مہم چلاتا رہا ہے، خصوصاً کشمیر کے مسئلے پر۔ تاہم فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی میں پاکستان نے بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں چیلنج کیا۔
    کشمیر کو دوبارہ ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر اجاگر کیا گیا
    انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی
    عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں پاکستان کا مؤقف مضبوط ہوا
    یہ کامیابیاں صرف الفاظ کی نہیں بلکہ ایک مربوط عسکری و سفارتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں، جس نے بھارت کی یکطرفہ بالادستی کے خواب کو کمزور کیا۔
    ڈونلڈ ٹرمپ سے قربت: پاکستان کی سفارتی فتح
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر منوایا۔
    ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، افغانستان میں پاکستان کے کردار کا اعتراف اور سیکیورٹی تعاون میں اضافہ اس قربت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ یہ تعلق محض شخصی نہیں بلکہ ریاستی مفادات پر مبنی تھا، جس سے پاکستان کو عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی فائدہ پہنچا۔
    پاکستان کی ترقی میں فیلڈ مارشل کا کردار
    امن اور استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں:
    داخلی سلامتی بہتر ہوئی
    دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا
    پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبوں کو تحفظ ملا
    عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات میں پاکستان کا موقف مضبوط ہوا
    یہ تمام عوامل براہِ راست پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی ساکھ میں اضافے کا باعث بنے۔
    ڈپلومیسی اور ڈیٹرنس کا متوازن ماڈل
    فیلڈ مارشل کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ڈیٹرنس (Deterrence) اور ڈپلومیسی کے درمیان توازن قائم رکھا۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ نہ تو جارح ہے اور نہ ہی کمزور۔ یہی پیغام عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کا سبب بنا۔
    فیلڈ مارشل محض ایک عسکری عہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کلاس، قومی خودداری اور اسٹریٹجک دانش کی علامت ہے۔ بھارت کے خلاف سفارتی کامیابیاں، امریکہ خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ سے متوازن تعلقات، اور پاکستان کی داخلی و خارجی ترقی اس بات کا ثبوت ہیں کہ مضبوط قیادت قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
    آج پاکستان ایک ذمہ دار، پْرامن مگر باوقار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، اور اس سفر میں فیلڈ مارشل کا کردار تاریخ کے سنہرے ابواب میں لکھا جائے گا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی: پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی مضبوط علامت   شیخ راشد عالم

    اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی: پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی مضبوط علامت شیخ راشد عالم

    پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے حالیہ دنوں میں جو تاریخی تیزی دکھائی ہے، وہ بلاشبہ ملکی معاشی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں نئے ریکارڈز کا قیام، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قومی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ یہ تیزی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی ایک طاقتور علامت ہے۔
    گزشتہ برسوں میں جن مشکلات اور چیلنجز کا سامنا رہا، آج اُن کے بعد اسٹاک مارکیٹ کی یہ شاندار کارکردگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے بحالی، استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے۔ کے ایس ای-100 انڈیکس کا روزانہ کی بنیاد پر نئی بلندیوں کو چھونا، مارکیٹ کی گہرائی میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع اس مثبت تبدیلی کا عملی اظہار ہیں۔
    اس تیزی کی سب سے بڑی وجہ قومی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ سرمایہ کار مستقبل کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور جب مستقبل روشن نظر آئے تو سرمایہ خود بخود متحرک ہو جاتا ہے۔ حکومتی معاشی پالیسیوں میں تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط، اور اصلاحات کے واضح اشاروں نے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری منزل بن چکا ہے۔
    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا ایک اہم پہلو کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط کارکردگی ہے۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، فرٹیلائزر، ٹیلی کمیونی کیشن اور دیگر بڑے شعبوں کی کمپنیوں نے شاندار مالی نتائج پیش کیے، جس سے مارکیٹ کو نئی توانائی ملی۔ ان کمپنیوں کے منافع میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی صنعتیں فعال ہیں، کاروبار پھیل رہا ہے اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
    بینکنگ سیکٹر نے خاص طور پر نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مضبوط مالی بنیادیں، بہتر منافع اور مستحکم حکمتِ عملی نے بینکنگ شیئرز کو سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بنا دیا۔ اسی طرح توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت نے مارکیٹ کے مجموعی اعتماد کو مزید تقویت دی۔
    اس تاریخی تیزی کا ایک اور خوش آئند پہلو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہے۔ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی اور پُرکشش مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کم قیمت مگر مضبوط بنیادوں والی کمپنیاں، بہتر ریٹرنز کے امکانات اور مثبت معاشی اشاریے عالمی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، جو پاکستان کے عالمی تشخص کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
    یہ تیزی اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کا کردار مضبوط ہو رہا ہے۔ ایک مضبوط اسٹاک مارکیٹ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، جو نہ صرف کمپنیوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی سرمایہ کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر، صنعت اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات بڑھتے ہیں۔
    عام سرمایہ کار کے لیے بھی یہ دور خوشخبری لے کر آیا ہے۔ طویل عرصے بعد مارکیٹ نے چھوٹے اور درمیانے سرمایہ کاروں کو منافع کمانے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اعتماد کی یہ فضا مالی شمولیت (financial inclusion) کو فروغ دے رہی ہے اور لوگوں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دے رہی ہے، جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے نہایت اہم ہے۔
    اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کا اثر دیگر شعبوں پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، نئی کمپنیوں کے اندراج (IPOs) کے امکانات روشن ہوئے ہیں، اور سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول بہتر ہوا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر معاشی سرگرمیوں کو مزید رفتار دے رہے ہیں۔
    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسٹاک مارکیٹ میں موجودہ تیزی پاکستان کے لیے ایک نفسیاتی کامیابی بھی ہے۔ برسوں کے خدشات اور مایوسی کے بعد یہ تیزی قوم کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ محنت، درست فیصلے اور قومی یکجہتی کے ساتھ ترقی کا سفر ممکن ہے۔ مارکیٹ کا ہر نیا ریکارڈ اس اجتماعی اعتماد کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
    مستقبل کی طرف دیکھا جائے تو امکانات روشن ہیں۔ معاشی اصلاحات کا تسلسل، سرمایہ کاری دوست پالیسیاں، اور ادارہ جاتی بہتری اس تیزی کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کر رہی ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ ریکارڈ تیزی محض ایک مالیاتی خبر نہیں بلکہ قومی معاشی بحالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ تیزی اعتماد، استحکام اور ترقی کے اس سفر کی علامت ہے جس پر پاکستان اب پورے عزم کے ساتھ گامزن ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کے معاشی افق پر اب روشن دن طلوع ہو چکے ہیں۔

  • نیو یارک میں نیو ایئر نائٹ      حمیرا گل تشنہ

    نیو یارک میں نیو ایئر نائٹ حمیرا گل تشنہ

    نیو یارک شہر، جسے “شہر جو کبھی نہیں سوتا” کہا جاتا ہے، سال کی آخری رات کو اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ نیو ایئر کی رات نیو یارک میں صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عالمی ثقافتی واقعہ ہے جو لاکھوں افراد کو متحرک کر دیتا ہے۔ یہ وہ رات ہے جب ٹائمز اسکوائر کا قلب دھڑکنے لگتا ہے، شہر کی عمارتیں روشنیوں سے نہا جاتی ہیں، اور ہر شخص پر امید اور نئے عہد کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے۔
    نیو ایئر کی رات کی تیاریاں ہفتوں پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹائمز اسکوائر، جسے “دنیا کا کراس روڈ” کہا جاتا ہے، اس رات دنیا کا مرکزی اسٹیج بن جاتا ہے۔ 31 دسمبر کی صبح سے ہی لوگ وہاں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں، کیونکہ بہترین جگہیں جلدی بھر جاتی ہیں۔ ہزاروں افراد انتظار کے ان لمحات کو بھی یادگار بنانے کے لیے گانوں، ناچوں اور نئے دوست بنانے میں گزارتے ہیں۔
    سردی کی شدید ترین ٹھنڈ بھی ان کے جوش میں فرق نہیں ڈال سکتی۔ گرم کپڑے، خوابوں سے سجی آنکھیں اور نئے سال کی امیدیں، یہ سب یہاں آئے ہوئے لوگوں کو انہیں گرم رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ پولیس کی سخت سیکیورٹی کے باوجود، ہر چہرے پر مسکراہٹ اور جوش نمایاں ہوتا ہے۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات کا سب سے مشہور روایت “بال ڈراپ” ہے جو 1907 سے جاری ہے۔ یہ 12ہزار پاؤنڈ وزنی، 12 فٹ قطر کا کرسٹل بال ون ٹائمز اسکوائر کے ون ٹائمز اسکوائر بلڈنگ کی چوٹی سے نیچے اترتا ہے۔ بال کے 2688 واٹر فورڈ کرسٹل ٹکڑے روشنیوں کو منعکس کر کے آسمان کو جگمگا دیتے ہیں۔
    آخری سیکنڈز کی گنتی پورا شہر ایک ساتھ کرتا ہے۔”فائیو، فور، تھری، ٹو، ون… ہیپی نیو ایئر!” اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب بال نیچے آتا ہے، کنفیٹی کے 3ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کاغذ آسمان سے برستے ہیں، اور پورا اسکوائر ناچنے گانے لگتا ہے۔ یہ منظر اتنا طاقتور ہے کہ ٹیلی ویژن پر دیکھنے والے بھی خود کو وہاں موجود محسوس کرتے ہیں۔
    ٹائمز اسکوائر کے علاوہ بھی نیو یارک میں جشن کے کئی مراکز ہیں۔ سنٹرل پارک میں “پرشیا رن” ہوتا ہے جہاں ہزاروں افراد فینسی ڈریس میں دوڑ لگاتے ہیں۔ بروکلن میں گرینڈ آرمی پلازہ پر آتشبازی کا شاندار مظاہرہ ہوتا ہے۔ برانکس، کوئنز، اور سٹیٹن آئی لینڈ میں بھی اپنے اپنے مقامی جشن منائے جاتے ہیں۔
    نیو یارک کے مشہور میوزیم، جیسے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ اور نیچرل ہسٹری میوزیم، خصوصی نیو ایئر ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں۔ ریستورانوں میں خصوصی ڈنر، نائٹ کلبوں میں پارٹیاں، اور ہوٹلوں میں رقص کے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے انداز میں نئے سال کا استقبال کرتا ہے۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات کی سب سے خاص بات اس کا عالمگیر رنگ ہے۔ یہاں ہر نسل، مذہب، اور قومیت کے لوگ ایک ساتھ جشن مناتے ہیں۔ چینی، ہسپانوی، اطالوی، ہندوستانی، عربی تقریبا ہر زبان میں “نیا سال مبارک” کی آوازیں گونجتی ہیں۔ یہ شہر درحقیقت پوری دنیا کا نمائندہ بن جاتا ہے۔
    کثیر الثقافتی پن کا یہ رنگ کھانوں میں بھی نظر آتا ہے۔ روایتی امریکی ڈنر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ لوگ نئے سال کی خوشی میں ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں، چاہے وہ پہلے کبھی نہ ملے ہوں۔
    نیو ایئر صرف جشن کا دن نہیں بلکہ امیدوں اور نئے عہدوں کا دن بھی ہے۔ نیو یارک کے لوگ اس رات اپنے نئے سال کے عزم کا اعلان کرتے ہیں۔ کچھ کاغذ پر اپنے مقاصد لکھتے ہیں، کچھ دوستوں کے سامنے ان کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ عزم اکثر ذاتی ترقی، صحت، کیریئر، یا تعلقات سے متعلق ہوتے ہیں۔
    ٹائمز اسکوائر میں لوگ اپنے عزم کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھ کر انہیں ہوا میں اڑا دیتے ہیں، گویا وہ اپنی خواہشات کو کائنات کے حوالے کر رہے ہوں۔ یہ منظر انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔
    اس عظیم اجتماع کے ساتھ چیلنجز بھی جڑے ہیں۔ شدید سردی، بھیڑ، اور طویل انتظار کئی لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ شہر انتظامیہ ہر سال سیکیورٹی کے نئے اقدامات کرتی ہے۔ پولیس کی بڑی تعداد، سیکیورٹی چیک پوائنٹس، اور طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
    ماحولیاتی تحفظ کے تحت کنفیٹی کے کاغذ اب قابل تحلیل مواد سے بنائے جاتے ہیں۔ شہر صفائی کے لیے ہزاروں کارکن تعینات کرتا ہے تاکہ اگلے دن صبح تک ٹائمز اسکوائر معمول کی صورتحال میں واپس آ جائے۔
    مقامی نیو یارکرز کے لیے یہ رات فخر کا باعث ہوتی ہے۔ کئی خاندان اسے روایت کے طور پر مناتے ہیں۔ جیمز، ایک مقامی رہائشی، کہتے ہیں: “میں 20 سال سے ٹائمز اسکوائر جاتا رہا ہوں۔ ہر سال ایک نئی کہانی بنتی ہے۔”
    سیاحوں کے لیے یہ زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ ہوتا ہے۔ جاپان سے آئے ہوئے یوکو کا کہنا ہے: “میں نے بچپن سے ٹی وی پر نیو یارک کا نیو ایئر دیکھا تھا۔ یہاں حاضر ہو کر میری خواہش پوری ہوئی۔”
    یکم جنوری کی صبح نیو یارک ایک نیے جوش کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔ لوگ ناشتے کے لیے باہر نکلتے ہیں، دوستوں سے ملتے ہیں، اور نیو ایئر ڈے پریڈ میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ پریڈ 1904 سے جاری ہے اور اس میں بینڈز، ناچ، اور رنگ برنگی فلاؤٹس شامل ہوتے ہیں۔
    بہت سے لوگ “پولر بیئر پلنج” میں حصہ لیتے ہیں، جس میں وہ برفانی پانی میں تیرتے ہیں۔ یہ نئے سال کا ایک اور دلچسپ روایت ہے جو حوصلہ اور مزاج کو تازہ کرتی ہے۔
    نیو یارک میں نیو ایئر کی رات محض ایک جشن سے زیادہ ہے، یہ انسانی روح کی لچک، امید، اور یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود، نئے آغاز کی امید ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں، لاکھوں لوگوں کی خوشی، اور ایک نئے سال کا استقبال، یہ سب مل کر ایسی یادیں تخلیق کرتے ہیں جو عمر بھر قائم رہتی ہیں۔ نیو یارک کی نیو ایئر رات صرف ایک شہر کا جشن نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید اور نئے آغاز کا پیغام ہے۔
    جب بال نیچے آتا ہے اور نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، تو ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی بڑے واقعے کا حصہ ہے۔ یہ لمحہ ثابت کرتا ہے کہ امید، محبت، اور یکجہتی کی طاقت ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتی ہے۔ نیو یارک کی نیو ایئر رات ہمیں یہی سبق دیتی ہے، ماضی کو پیچھے چھوڑ کر، حال کا لطف اٹھاتے ہوئے، مستقبل کی طرف پرامید قدم بڑھانا۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر شخص کو کم از کم ایک بار زندگی میں ضرور کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف شہر کی رونق کو دیکھنے کا موقع ہے بلکہ اپنے اندر کی امید کو تازہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب پورا شہر ایک ساتھ نئے سال کا استقبال کرتا ہے، تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا واقعی ایک گاؤں ہے، جہاں ہر انسان دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

  • افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات  تحریرسرور غزالی۔۔۔۔۔۔قسط ( 1 )

    افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات تحریرسرور غزالی۔۔۔۔۔۔قسط ( 1 )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کینیا کا سفر نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر نوٹ
    کینیا کا سفر نامہ جرمنی میںمقیم پاکستان واچ کے کالم نگارسرور غزالی کی تحریرہے اس کالم میں انھوں نے کینیا کے سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔کالم کی طوالت کے باعث اس کو قسط وار شائع کیا جائے گا اس کالم میںایسٹ افریقن برطانوی کالونی،کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم،مسائی قوم کے نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر،نیروبی سے ممباسا کا سفر، کینیا ریلوے کی کہانی ،رشوت ستانی، ممبا سا کی کہانی ،1570 میں تعمیر ہونے والی مسجد المنذری کامشاہدہ ،کارورا جنگل کے موضوعات کو قلمبند کیا گیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسٹ انڈیا کے طرز پر بنائی گئی ایسٹ افریقن برطانوی کالونی
    کینیا کا سرکاری نام ریپبلک آف کینیا ہے۔ مشرقی افریقہ میں واقع یہ ملک انتہائی خوبصورت، پہاڑ، دریا جنگل، میدانی غیر آباد علاقے جہاں جانور بسیرا کرتے ہیں کے ساتھ ساتھ جنوب میں بحر ہند سے جا ملتا یہ ملک بے مثال خوبصورتی کا حامل ہے۔ اس کی اندازا” آبادی 53 ملین ہے اس کا شمار دنیا کے27 ویں مقبول ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور افریقہ کا سب سے مشہور ترین ملک ہے۔ مختلف قبائل جو یہاں آباد ہیں ان میں کیسمو، ناکرو اور ڈوریٹ کافی مشہور ہے اس کے جنوب میں تنزانیہ، شمال میں ایتھوپیا اور سوڈان مشرق میں صومالیہ اور جنوب مشرق میں بحر ہند واقع ہے۔ مشہور زمانہ جھیل وکٹوریا کے کچھ حصے کینیا میں ہیں۔ جو مغرب میں یوگا نڈا سے ملاتی ہے۔ کینیا کے باشندے انسان دوست اور وفادار و مخلص ہیں۔ یہاں 85 فیصد لوگ عیسائی، 10 فیصد لوگ مسلمان، ایک اشاریہ پانچ فیصد لوگ لامذہب اور اشاریہ سات فیصد لوگ روایتی مذہب کے ماننے والے ہیں۔
    کینیا کے بڑے شہروں میں سب سے بڑا شہر اس کا دارالحکومت نیروبی ہے دوسرا بڑا شہر ممبا سا ہے جو بحر ہند کے کنارے واقع ہے یہاں ایک بڑی بندرگاہ بھی ہے اور ممبا سا جزیرہ بھی قریب ہی ہے۔
    _کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم، نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر
    مسائی قوم کے لوگ اپنے لمبے قد اور مخصوص دہہی طرز زندگی کے لیے مشہور ہیں یہ ایک قدیم افریقی باشندے ہیں جو جنوبی کینیا میں آباد ہیں۔ ان کا سرخ رنگ کا لباس ان کی شناخت ہے۔ جبکہ جسم کے حصوں پر مختلف رنگ لگاتے ہیں۔ اور قدیم زمانے سے افریقہ کے میدانی، مگر گھنی جھاڑیوں سے بھرے ہوئے علاقے جن میں مخصوص چھتریوں والے درخت بھی پائے جاتے ہیں اور اسی مناسبت سے اس میدانی علاقے کو مارا، یعنی نقطے دار علاقہ کہتے ہیں اور عرف عام میں یہ قوم بھی مسائی مارا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہاں پر بہنیایک والا دریا بھی مارا دریا کہلاتا ہے مسائی قبیلے کے لوگ ایک زمانے سے اس علاقے میں موجود ہیں اور یہاں دریائے نیل کے کنارے سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ اور یہاں کے قدرتی ماحول اور جانوروں اور پرندوں کے ساتھ قدرتی طرز زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ یہ علاقہ جس کے جنوب میں تنزانیہ واقع ہے یہاں پر بے شمار جانوروں جن میں ہاتھی، زرافہ، زیبرا، نیل گائے، ہرن، بارا سنگا، بھیڑ بکریاں اوربھینسے، گائے وغیرہ شامل ہیں اس میدانی گھاس پھوس جھاڑیوں اور چھتری نما درختوں کی کثرت سے موجودگی کو اپنی چراگاہ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ شیر، چیتے بلیک پینتھر وغیرہ جیسے درندے اس علاقے میں ان جانوروں کا شکار کرنے آتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دریائے مارا کا پانی تمام چرند، پرند اور درندوں کی پیاس بھی بجھاتا ہے۔ اور یہاں عملا” شیر و بکری ایک گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں۔ مسائی مارا کا یہ علاقہ مسائی قوم اور جانوروں کے جھنڈ، ریوڑ کے ریوڑ جو خوراک کی تلاش میں شمال سے جنوب کی طرف گزرتے ہوئے اس علاقے میں قیام اور پھر آگے بڑھتے ہوئے دریائے مارا کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں اس دریا کو عبور کرتے ہوئے مزید چراگاہ کی تلاش میں آگے بڑھتے ہوئے، تاک میں لگے، گھات ڈالے درندوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ ہر سال قدرت کا ایک انوکھا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس علاقے کو یونیسکو نے اسی قدرتی کھیل کی آماجگاہ کی وجہ سے ثقافتی ورثہ کے طور پر مختص کر دیا ہے۔ بلکہ ایک زمانے میں یہاں اس طرح کے ایک پارک کو تشکیل دینے کی وجہ بنا کر یہاں سے مسائی قوم کو بھی ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا نقصان یہ ہوا کہ مسائی قوم معدوم ہونے لگی اور اس کے تھوڑے سے افراد بچ رہے بعد میں اس قوم کو بھی اس علاقے کے ساتھ ساتھ محفوظ رکھنے کے لیے پارک کے لیے مختص کیے گئے علاقے انہیں واپس دیے گئے جس میں وہ اب بھی آباد ہیں تاہم ان کی آبادی دنیا کے دیگر خطوں کے قدیم باشندوں کی طرح یہاں بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ جانوروں کے ریوڑوں کی، جھنڈ کے جھنڈ کی صورت میں جو عظیم الشان ہجرت یہاں دیکھنے میں آتی ہے وہ بڑی عجیب و غریب ہے۔ کہتے ہیں کہ سال کے اوائل میں، اور جانوروں میں سب سے پہلے زیبرا کے ریوڑ اس ہجرت کا آغاز کرتے ہیں۔ گھاس پھوس کی کمی کی وجہ سے زیبرے جب خوراک نہیں پاتے تو وہ ایک مخصوص سمت چلنا شروع کر دیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے پیچھے دیگر جانور روں کا ریوڑ بھی چل پڑتا ہے۔ ان تمام جانوروں میں سب سے بڑا گروہ نیل گائے کا ہوتا ہے جو یہاں کے مخصوص جانور ہیں اور یہ جانور جس میں ہاتھی اور زرافے سبھی شامل ہوتے ہیں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہجرت پر مجبور طویل ہجرت کا منظر پیش کرتے ہوئے ایک ایسا قدرتی منظر سامنے آتا ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ جسے دیکھنے ساری دنیا سے لاکھوں سیاح یہاں اتے ہیں اور مختلف طریقے سے جن میں چھوٹے ہوائی جہازوں اور غباروں والی ٹوکریوں میں بیٹھ کر لوگ یہاں اس قدرتی عظیم الشان ہجرت کا معائنہ کرتے ہوئے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس ہجرت کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں جو اس ہجرت کا اہم حصہ ہیں۔ یہاں مادہ نیل گائے اسی ہجرت کے دوران بچے جنم دیتی ہیں ان کی ممکن حد تک پرورش اور حفاظت کرتی ہیں اور ایسے میں بہت سارے نو مولود بچے جنگلی درندوں شیر اور چیتے کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔ گویا قدرت نے انہیں یہاں اس لیے بھیجا ہوتا ہے کہ گھات لگائے ہوئے شیر چیتے بلیک پینتھر لیو پارڈ، پوما اور اس طرح کے درندوں کی غذا کا بندوبست ہو سکے۔ اور صرف یہی نہیں دریا مارا ایک ایسی قدرتی آماجگاہ ہے جس کے کچھ حصے آبی پودوں سے اس حد تک ڈھکے ہوتے ہیں کہ جن کے درمیان مگرمچھ خود کو پوشیدہ رکھ کر یہاں سے گزرنے والے جانوروں کے شکار کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور ان گزرتے جانوروں میں سے کچھ جانور ان کے ہاتھوں بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ لیکن اس عظیم الشان ہجرت میں اتنی کثیر تعداد میں، اتنے زیادہ جانور ہوتے ہیں کہ ان میں سے چند ایک ان گوشت خور جانوروں کا شکار بن بھی جائیں تو ان کی کمی کا کسی کو احساس نہیں ہوتا اور اس کے باوجود بہت زیادہ تعداد میں جانور یہاں سے گزر کر اپنی چراگاہ کو پہنچ جاتے ہیں۔ اسی آبی پودوں سے ڈھکے دریا کے حصوں پر پرندیجن میں بگلے، سارس، پپیہے، بطخیں کونج وغیرہ اپنی خوراک کی تلاش میں یہاں اترتی ہیں جو از خود ایک عظیم الشان ہجرت کا حصہ ہیں اور عجیب منظر پیش کرتی ہیں۔ ہجرت جو خوراک، افزائش نسل اور موسم سے بچاو کا ذریعہ ہے۔ یہاں اس ہجرت کے دوران مہیا ہونے والی خوراک کا انوکھا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ خوراک اور پانی کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ نر جانوروں میں مادہ کے حصول کی جدوجہد بھی۔ یہاں بے شمار کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانور جن میں چوہے اور اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں ان کی بھی بڑی کثرت میں تعداد موجود ہوتی ہے اور یوں دیگر جانوروں کو خوراک کا لالچ دے کر اسی ہجرت میں شامل کر دیتی ہے۔
    بقا کی جنگ، نسل کی افزائش سب کچھ ہجرت میں ہی کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ کیسا راز ہے۔کون جانے۔

  • عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے جابرانہ قبضے کیخلاف اقدامات کرے: وزیر اعظم

    عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے جابرانہ قبضے کیخلاف اقدامات کرے: وزیر اعظم

    اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا۔کشمیر کے یوم حق خور ارادیت کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کویو این کمیشن برائے بھارت وپاکستان نے تاریخی قرارداد منظورکی۔شہباز شریف نے کہا کہ قرارداد میں طے پایاکہ ریاست جموں وکشمیرکےمستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، افسوس کہ بھارت کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد پورا نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کوپست کرنے میں ناکام رہے۔شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔خیال رہے کہ آج پاکستان اور خطہ کشمیر سمیت پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری یوم حق خود ارادیت منا رہے ہیں۔