راولپنڈی،(خصوصی رپورٹ)پاکستان ایئر فورس نے مقامی طور پر تیار کیے گئے تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کر لیا ہے، جو قومی ایرو اسپیس اور دفاعی صلاحیتوں کے فروغ میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل 600 کلو میٹر تک کے فاصلے پر دشمن کے زمینی اور بحری اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی وارہیڈ سے لیس ہے۔ جدید ترین نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے آراستہ تیمور کو انتہائی کم بلندی پر پرواز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ دشمن کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام سے مؤثر انداز میں بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی درست حملہ آور صلاحیت پاکستان ایئر فورس کی روایتی ڈیٹرنس اور آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جس سے ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی ہے۔
یہ کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاکستان کی دفاعی صنعت کی جانب سے حاصل کی گئی تکنیکی پختگی، جدت اور خود انحصاری کا واضح ثبوت ہے۔ اس موقع پر پاکستان مسلح افواج کے سینئر افسران کے علاوہ ممتاز سائنس دانوں اور انجینئرز نے بھی شرکت کی، جنہوں نے اس جدید ویپن سسٹم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
چیف آف دی ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس نمایاں کامیابی پر سائنس دانوں، انجینئرز اور پوری پاکستان ایئر فورس ٹیم کو دلی مبارکباد دی۔ انہوں نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ ایئر چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس نوعیت کی کامیابیاں تکنیکی خود کفالت کے حصول اور بدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں قابلِ اعتبار روایتی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے قومی عزم کی عکاس ہیں۔ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ پاکستان ایئر فورس کی آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کا مظہر ہے۔
Blog
-

پاکستان ایئر فورس نے مقامی طور پر تیار کیے گئے تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کر لیا
-

ریاستی اداروں کیخلاف ڈیجیٹل دہشتگردی؛ عادل راجاو دیگر ملزمان کو 2، 2 بار عمر قید کی سزا
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)
انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس میں عادل راجا و دیگر ملزمان کو دو دو بار عمر قید کی سزا سنادی۔
9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس کی سماعت انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ہوئی، جس میں اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کچھ دیر قبل ہی ٹرائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے عادل راجا، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو 2، 2بار عمر قید کی سزا سنا دی جب کہ صابر شاکر، معید پیرزادہ کو بھی 2،2 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائیں۔ ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔
سماعت کے دوران عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ واضح رہے کہ گلفام گورائیہ ایڈووکیٹ کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا ۔ انسداددہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔ -

بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور معاشی پالیسیوں کے استحکام کی تصدیق کر دی ۔
عالمی مالیاتی اعداد و شمار اور مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے مستند ادارے بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور معاشی پالیسیوں کے استحکام کی تصدیق کر دی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق دسمبر 2025 میں افراطِ زر 5.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو نہ صرف مارکیٹ توقعات سے کم ہے بلکہ نومبر کے 6.1 فیصد کے مقابلے میں بھی واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں یہ کمی حکومتی اور مالیاتی پالیسی اقدامات کے مثبت نتائج کی عکاس ہے۔
بلومبرگ کے جائزے کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں دباؤ نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا، جس کی بنیادی وجہ خوراک کی بہتر دستیابی اور سپلائی چین میں بہتری ہے۔ اس صورتحال سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور عوامی سطح پر ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور پالیسی سمت کے درست ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے شرحِ سود کو تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر لے آیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق شرحِ سود میں کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قیمتوں کے دباؤ کو قابلِ کنٹرول سمجھا جا رہا ہے۔ کم شرحِ سود سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً آسان ہونے کی امید بڑھی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قیمتوں کا استحکام سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل ہے جس سے معاشی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے، جبکہ کم مہنگائی کے باعث عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔بلومبرگ کے مطابق دسمبر کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے۔ -

وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، اہم قانون سازی کی توثیق
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کی مجموعی معاشی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے فیصلوں کی توثیق کردی۔ علاوہ ازیں وفاقی کابینہ اجلاس میں دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم پیشرفت بھی متوقع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں بلدیاتی حکومتوں کے نظام سے متعلق اہم قانون سازی کی منظوری کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشنز میں ایک بار پھر تاخیر کا امکان ہے اور حکومت نے اس سلسلے میں قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
-

اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلندیوں پر؛ آج پھر نیا ریکارڈ قائم
کراچی:(کامرس ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، آج بھی بازار حصص میں تاریخ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے۔کاروباری ہفتے کے آخری دن (جمعے کے روز) بازار حصص میں شیئرز کی خرید و فروخت میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں 1935 پوائنٹس کی شاندار تیزی کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 78 ہزار 291 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔واضح رہے کہ رواں ہفتے تمام کاروباری دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس نے ایک لاکھ 75 ہزار، ایک لاکھ 76 ہزار، ایک لاکھ 77 ہزار اور آج ایک لاکھ 78 ہزار کی نفسیاتی سطحوں کو عبور کیا۔
-

بغیر قانونی پراسس پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اغوا قرار،عدالتی فیصلہ
اسلام آباد:(ویب ڈیسک)ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر پراسس کا غلط استعمال ہو اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے تو طے شدہ اصول کے مطابق ایسی کارروائی کالعدم ہو جاتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام کارروائی ختم ہونی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے مطابق کرمنل کارروائی کو کالعدم قرار دینے کا اسکوپ محدود ہے اور عدالت کو یہ اختیار غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہیے۔
عدالت نے یہ حکم لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے میں جاری کیا۔ یہ کیس سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازع سے متعلق تھا۔ عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ اہم فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے۔
عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔ فیصلے میں ڈی آئی جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔
تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے جب کہ ایسے اہلکاروں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار جرمانے کی یہ رقم بطور تلافی مدعی ثنا سہیل کو ادا کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائیں۔ عدالت نے لاہور پولیس کو بھی ہدایت کی کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کے خلاف میرٹ پر تحقیقات کی جائیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کرکے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ -

دسمبر میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی
اسلام آباد:(کامرس ڈیسک)دسمبر 2025ء میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی کا ریکارڈ بننے پر وزیر خزانہ نے سراہتے ہوئے ایف بی آر کو ٹیکس کلیکشن میں مزید اضافے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دسمبر 2025 میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کارکردگی کو حکومت کے مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے، بہتر ٹیکس تعمیل، مؤثر نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کی کامیابی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔وزیر خزانہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹیم ایف بی آر اور فیلڈ فارمیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دسمبر 2025 کی وصولیاں نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، کیش لیس لین دین کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر مضبوط نفاذِ قانون کی حکمت عملی نے عملی اور پائیدار نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔اس موقع پر وزیر خزانہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے دسمبر 2025 میں 1,427.1 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جو ماہانہ ہدف 1,446 ارب روپے کا 99 فیصد ہے۔ یہ کسی بھی سال کے دسمبر میں اب تک کی سب سے زیادہ ٹیکس وصولی ہے، جو بہتر تعمیل اور مؤثر نفاذ کو ظاہر کرتی ہے۔بریفنگ کے مطابق ان لینڈ ریونیو سروس نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1,310 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1,308 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جو 99.8 فیصد بنتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ہوا۔ نومبر میں وصولی 898 ارب روپے تھی جو دسمبر میں بڑھ کر 1,427.1 ارب روپے ہو گئی۔وزیر خزانہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انکم ٹیکس کی وصولی میں سب سے زیادہ 107 فیصد اضافہ ہوا، جو نومبر کے 402 ارب روپے سے بڑھ کر دسمبر میں 831.5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح سیلز ٹیکس کی وصولی میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 403.7 ارب روپے رہی جب کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 6 فیصد اضافے کے ساتھ 72.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ علاوہ ازیں کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بھی 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 118.9 ارب روپے رہی۔وزیر خزانہ کو آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آر بورڈ کی مسلسل نگرانی اور وزارتِ خزانہ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے مطابق یہ نتائج مضبوط ٹیکس تعمیل، بہتر نفاذ اور ادارہ جاتی احتساب کی جانب واضح پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ بہتر ٹیکس تعمیل اور مؤثر نفاذ ہی وہ واحد پائیدار راستہ ہے جس کے ذریعے رسمی شعبے پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز پر زور دیا کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور ٹیکس نیٹ کو گہرا اور وسیع بنانے کے لیے دگنی محنت کریں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹیم ایف بی آر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، محنت اور مؤثر نفاذ کے ذریعے اس اہم قومی ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
-

سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی بیٹی ٹریفک حادثے میں جاں بحق
لاہور (نمائندہ خصوصی)سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی صاحبزادی ڈاکٹر فائقہ نور خان امریکا میں پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ریاست ورجینیا کی کاؤنٹی ڈینوڈی میں ویک اینڈ کے دوران ایک کار حادثہ پیش آیا جس میں مقامی پیڈیاٹریشن 75 سالہ فائقہ آفتاب قریشی جان کی بازی ہار گئیں۔ورجینیا پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فائقہ قریشی کی گاڑی سڑک سے ٹکرا گئی جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور گاڑی میں موجود خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ڈاکٹر فائقہ قریشی نے 1993 میں بچوں کے دی کنگز ڈاٹر اسپتال میں بطور فزیشن اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا بعد ازاں وہ طویل عرصے تک اسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں میڈیکل ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دیتی رہیں۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر فائقہ کا بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ گہرا تعلق تھا جبکہ مستقبل کے ڈاکٹرز کی تربیت میں ان کا کردار دیرپا اثرات کا حامل رہا۔ادھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈاکٹر فائقہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹر فائقہ، سابق ائیر مارشل نور خان کی صاحبزادی تھیں، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی نمایاں طالبہ رہیں، 1973 میں گریجویشن مکمل کی اور بعد ازاں اسی ادارے میں بطور استاد بھی خدمات سرانجام دیتی رہیں
-

وزیراعظم کی خیبرپختونخوا میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد
اسلام آباد:(نما ئندہ خصوصی )وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارک باد دی اور متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اہم اجلاس ہوا جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) نے پیٹرولیم اور گیس سیکٹر کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیراعظم شہبازشریف نے ناشپا بلاک میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارک باد دی اور متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔اجلاس کی شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔وزیراعظم نے تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تیل و گیس کی ترسیل کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائزیشن سے ان مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائردریافت کر لیے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا، اس سال سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو پچھلے سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس مہیا کی جا رہی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ آر ایل این جی کے کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے اور جون 2026 تک 3 لاکھ 50 ہزار کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کرلیا جائے گا، شیوا گیس فیلڈ اور بٹانی گیس فیلڈ کے لیے پائپ لائنز کو کمیشن کیا جا چکا ہے جبکہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن پر کام جاری ہے۔
-

حکومتِ بلوچستان نے تعلیمی خدمات کو ضروری خدمات قرار دے دیا
کوئٹہ (نمائندہ خصوصی ) حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی خدمات کو ضروری خدمات قرار دے دیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر SO(عدالتی) 1-12/2025-Edn:/1028-37 کے مطابق، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 پہلے ہی نافذ العمل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ ایکٹ کے تحت تعلیمی خدمات سے وابستہ افراد کی جانب سے ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی نوعیت کے غیر قانونی اقدامات پر پابندی عائد ہے، جبکہ ایسے اقدامات کی صورت میں سزا کے لیے بھی قانونی انتظامات موجود ہیں۔ اس قانون کا مقصد صوبے میں تعلیم کی فراہمی کو اس کے حقیقی تناظر میں منظم اور بلا تعطل یقینی بنانا ہے۔مزید برآں، بلوچستان اسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ، 2019 کے سیکشن 6 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، محکمہ سکول ایجوکیشن نے عوامی مفاد میں فوری طور پر صوبے کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہڑتال، تالہ بندی یا کسی بھی دیگر غیر قانونی عمل پر چھ (06) ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔