کراچی:(کامرس ڈیسک )نئے سال کے موقع پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا شاندار آغاز ہوا ہے، جہاں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اور 2026ء کے پہلے ہی دن بازار حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کے نتیجے میں مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت میں نمایاں تیزی ریکارڈ ہو رہی ہے۔آج جمعرات کے روز پی ایس ایکس میں کاروبار کے آغاز ہی سے خریداری کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔کاروباری دورانیے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 8 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جس سے سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کا اظہار ہوتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہا تھا اور کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
Blog
-

صدر مملکت اور وزیراعظم کےسال نو پر پیغامات
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو نئے سال 2026 کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 کا سال دفاع وطن کے اعتبار سےتاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سال 2026 کی آمد پر اپنے پیغام میں کہا کہ تمام اہلیان وطن کو نئے سال کی خوشیاں مبارک ہوں، اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہیں کہ نئے سال کا سورج خوشیوں ،خوش حالی اور اللہ کے فضل و کرم لیے طلوع ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ خدا کرے کہ نئے سال کا ہر دن ملکی سالمیت، قومی ہم آہنگی جیسی اقدار کومضبوط تر کرے اور معاشی آسودگی، سماجی اور معاشرتی خوش حالی کی نوید لے کر آئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2025 کا سال دفاع وطن کے اعتبار سے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا، جب مسلح افواج اور قوم نے شانہ بشانہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے معرکہ حق میں تاریخ رقم کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شاہینوں نے فضائی حدود کا ایسا ناقابل تسخیر دفاع کیا جو دنیا کے لیےمثالی کامیابی اور دنیا کے جنگجووں کے لیے نصابی سطح پر سبق آموز مقابلہ تھا، ان شااللہ پوری قوم اپنی دلیر، بہادر اور باصلاحیت افواج کے ساتھ مل کر ملک کے دفاع میں ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے حملوں میں مادر وطن کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے والے شہدا کو بھی پوری قوم کی طرف سے آج کے دن خصوصی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی معاشی خوش حالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور حالیہ معاشی اعشاریوں میں بہتری حکومت کی درست اور مثبت سمت کی عکاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس شروع کیے گئے انقلابی معاشی اصلاحات و اقدامات کو مزید تیز رفتار اور بہترین انداز میں اس سال عزم نو کے ساتھ ان شااللہ جاری رکھیں گے تاکہ عوام کی معاشی خوش حالی کے لیے مؤثر عملی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نئے سال کے موقع پر ہم دست دعا ہیں کہ دنیا بھر میں انسانیت کی عزت و تکریم، تحفظ، امن و سلامتی، باہمی آہنگی، رواداری اور بقائے باہمی جیسے سنہری معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے ہر اکائی اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی پرخلوص کاوشوں کو جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف آج کے دن میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لیےخیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی پاکستان کو دہشت گردی، فرقہ واریت، جرائم اور معاشرتی تقسیم جیسے شر سے محفوظ رکھے، خدا کرے کہ نیا سال پاکستان معاشرتی و سیاسی ہم آہنگی، خوش حالی اور استحکام کا گہوارہ رہے۔
صدر مملکت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نئے سال کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ اگرچہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، مگر قوم ہرگز بے اختیار نہیں۔ اتحاد، حوصلے، تخلیقی سوچ اور پختہ یقین کے ذریعے ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔
صدر مملکت نے زور دیا کہ ایک قوم اور ملک کے نگہبان ہونے کے ناطے ہمیں اپنی قومی ذمہ داریوں کا ازسرِنو احساس کرنا ہوگا تاکہ درپیش مسائل کا دانشمندی اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
مریم اورنگزیب
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے نئے سال پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ نئے سال 2026 کے لیے پاکستان کی خوشحالی، استحکام اور ترقی کے لیے پرامید ہیں۔ -

بابر اور رضوان نے نیو ایئر نائٹ کس کے ساتھ منائی؟
سڈنی( اسپورٹس ڈیسک)کئی پاکستانی کھلاڑی سالوں سے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کا حصہ رہے ہیں۔ان دنوں بھی بابر اعظم، محمد رضوان، حسن علی، حارث رؤف سمیت کچھ کھلاڑی بگ بیش لیگ میں شامل ہیں۔آج میلبرن رینیگیڈز اور سڈنی سکسرز کے درمیان میچ کی خاص بات یہ ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان بگ بیش لیگ کے جاری سیزن میں آج پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مقابل آئے۔میچ سے قبل محمد رضوان پریزینٹر مارک ہووارڈ سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کل نیو ایئر نائٹ پہ میں اور بابر ساتھ تھے۔اسی اثناء میں بابر اعظم قریب سے گزر رہے ہوتے ہیں تو مارک ہووارڈ کے کہنے پر محمد رضوان انہیں آواز دے کر اپنے پاس بلاتے ہیں۔نیو ایئر نائٹ سے متعلق مارک ہووارڈ کے سوال پر بابر اعظم نے بتایا کہ ہم دونوں ساتھ تھے لیکن رضوان کی فیملی ہوٹل میں ہی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کنڈیشنز سے متعلق بہت باتیں کی۔مارک ہووارڈ نے بابر اعظم سے سوال کیا کہ کل آپ ان کے ساتھ نیو ایئر نائٹ منارہے تھے اور آج ان کے خلاف بیٹنگ کریں گے اور یہ وکٹوں کے پیچھے سے کچھ نہ کچھ بول کر آپ کو تنگ کریں گے۔بابر اعظم نے کہا کہ میں اس کا عادی نہیں ہوں لیکن میں آج خود بھی رضوان کی بیٹنگ کے دوران انہیں تنگ کروں گا۔محمد رضوان نے کہا کہ میں ہمیشہ بابر کو عزت دیتا ہوں کیونکہ وہ بہت اچھا شخص ہے لیکن چونکہ آج وہ میرا مخالف ہے تو میں وہی کروں گا جو میری ٹیم کو ضرورت ہوگی۔
-

نئے سال کی آمد پر ٹرمپ کی بڑی خواہش سامنے آگئی
واشنگٹن (فارن ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے موقع پر اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دنیا میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ان کی نئے سال کی خواہش کیا ہے تو انہوں نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیتے ہوئے کہا، ’’زمین پر امن‘‘۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ان کے اس مختصر بیان کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور صارفین اس پر مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق نئے سال کے آغاز پر صدر ٹرمپ کا امن سے متعلق بیان عالمی حالات کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس حوالے سے عملی اقدامات پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
-

قرآن پر حلف اٹھا کر زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے
نیویارک( فارن ڈیسک )امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تاریخ کے پہلے مسلم میئر بن گئے ہیں۔34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے اپنی چار سالہ مدت کا آغاز آدھی رات کے فوراً بعد سٹی ہال کے نیچے واقع ایک بند سب وے اسٹیشن میں ایک سادہ تقریب کے دوران کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق زہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے قرآن پاک کے دو نسخوں پر حلف اٹھایا، جن میں ایک ان کے دادا کا ذاتی نسخہ اور دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر سے لیا گیا تھا۔حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کے لیے ایک اعزاز اور زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی اور عوامی ٹرانسپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔اس تقریب میں نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے انہیں حلف دلایا جبکہ ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ممدانی کے والدین، معروف فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی بھی اس موقع پر شریک تھے۔زہران ممدانی کی باضابطہ اور عوامی حلف برداری کی تقریب بعد میں سٹی ہال کے باہر منعقد کی جائے گی، جس میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔زہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، کرایوں میں اضافے اور شہری سہولتوں کو مرکزی نکتہ بنایا تھا۔ انہوں نے کرایوں میں اضافے پر پابندی، مفت بس سروس اور بچوں کی نگہداشت کی سہولتوں کا وعدہ کیا ہے۔
-

ڈھاکا؛ ایاز صادق سسے بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات، جے شنکر نے خود آکر مصافحہ کیا
ڈھاکا (خصوصی رپورٹ )اسپیکر قومی اسمبلی سے بھارتی وزیر خارجہ نے ملاقات کی۔ جے شنکر نے خود آکر ایاز صادق سے مصافحہ کیا۔ذرائع کے مطابق بنگلا دیشی دارالحکومت میں اسپیکر قومی اسمبلی سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی ملاقات سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی وفات کے بعد وہاں پہنچنے کے موقع پر ہوئی ہے۔یہ اہم ملاقات سابق بنگلا دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کی رہائش گاہ پر ہوئی ، جہاں بھارتی وزیر خارجہ خود چل کر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نشست پر آئے اور مصافحہ کیا ۔ سردار ایاز صادق نے بھی مسکرا کر اُن کو جواب دیا ۔ دونوں نے چند منٹ کی گفتگو کے دوران ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اس دوران خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ بھی ہوا۔واضح رہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد اعلیٰ سطح پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کا پہلی بار آمنا سامنا ہوا ہے۔
-

بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ادا
بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دو مرتبہ ملک کی قیادت کرنے والی خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں ادا کر دی گئی۔نمازِ جنازہ بنگلادیش کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے میا مانک ایونیو میں ہوئی، جس میں سیاسی رہنماؤں، حکومتی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نمازِ جنازہ میں بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس بھی موجود تھے، جبکہ حکومتِ پاکستان کی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سردار ایاز صادق نے پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے خالدہ ضیا کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ذرائع کے مطابق خالدہ ضیا کو ان کے شوہر اور بنگلادیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔یاد رہے کہ خالدہ ضیا دو روز قبل ڈھاکا کے ایک اسپتال میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔وہ 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک بنگلادیش کی وزیراعظم رہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ملک میں مختلف سرگرمیاں، جن میں بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے میچز بھی شامل ہیں، سوگ کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔
-

نئے سال کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
اسلام آباد (کامرس ڈیسک )نئے سال کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیاہ ے کہ مٹی کا تیل 8 روپے 92 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 62 پیسے فی لیٹر کمی متوقع ہے۔اسی طرح اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پیٹرول کی موجودہ قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 252 روپے 85 پیسے فی لیٹر ہو جائے گی اور اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 265 روپے 65 پیسے سے گھٹ کر 257 روپے 06 پیسے فی لیٹر تک آنے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں مٹی کے تیل کی قیمت 180 روپے 54 پیسے کے مقابلے میں کم ہو کر 171 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
-

اقرار الحسن کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
لندن (فارن ڈیسک )معروف اینکر اقرار الحسن نے پاکستان میں تبدیلی لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سرعام نامی فلاحی گروپ کے سربراہ اور معروف اینکر اقرار الحسن ان دنوں اپنی سیاسی جماعت کی تیاریوں کے حوالے سے لندن میں موجود ہیں۔
انہوں نے ایک تقریب میں شرکا سے خطاب میں کہا کہ سیاسی جماعتیں دکان نہیں کہ جس آدمی نے کھولی وہ اپنی موت تک اُسے چلائے اور مالک بن کررہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں دراصل ادارے یا انسٹی ٹیوشنز ہوتی ہیں اور ادارے کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ یہ عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ہم نے 30 سالوں میں پاکستان کے اندر تین عمران خان، نواز شریف اور زرداری صاحب کے نام سُنے، امریکا میں ری پبلکن یا ڈیموکریٹ، برطانیہ کی کنرویٹیو اور لیبر پارٹیاں ہیں ان میں اب تک 10، 10 چیئرمین آچکے ہیں اور منتخب ہونے کے بعد اپنا کام کر کے چلے گئے۔
اینکر نے کہا کہ ’کسی نے جماعت کو دکان نہیں بنایا کہ میرے بعد بیٹا سنبھالے گا، میرٹ اور جمہوریت کے ذریعے پارٹی میں لوگ آتے، نئے چہرے شامل ہوتے ہیں اور پرانے چلے جاتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے‘۔
اقرار الحسن نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا واحد مقصد عوام کو بااختیار بنانا اور حقیقت میں نیا پاکستان بنانا ہے جس کا وعدہ تو کیا گیا مگر عملی جامع نہیں پہنایا گیا۔
انہوں نے پارٹی کا نام بتائے بغیر یہ بھی بتایا کہ نئی سیاسی جماعت 15 جنوری 2026 کو لانچ کرنے جارہا ہوں اور ہم پھر الیکشن کی بھرپور تیاری کریں گے۔
لندن: پاکستان میں برطانوی سیاسی جماعتوں کی طرز کی جمہوری جماعت کے نظریے پر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ پہلی نشست۔ ایسی پارٹی جو کسی شخص یا خاندان کی نہیں بلکہ قوم کی ملکیت ہو، جہاں انٹرنل الیکشن کے ذریعے عام لوگ قابلیت کی بنیاد پر پارٹی سربراہ اور ملک کے وزیراعظم منتخب ہو سکیں۔
اقرار الحسن نے ایک اور تقریب میں کہا کہ یہ سسٹم جسے ہم جمہوریت سمجھ بیٹھے ہیں یہ دراصل دنیا کی سب سے بڑی آمریت ہے، جب تک نظام کے مقابلے میں افراد کی لڑائی ہوتی رہے گی شکست عوام کی ہی ہوگی کیونکہ نظام سے مقابلے کیلیے سب کو ملکر ایک نظام کی لڑائی لڑنا ہوگی۔
اینکر نے تو اپنی سیاسی جماعت کا نام نہیں بتایا تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدرِ پاکستان اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے نام سے نئی جماعت تشکیل دی جائے گی، جس پر ممبران کے درمیان اتفاق بھی پیدا ہوگیا ہے۔
اے پی ایم ایل کے نام سے رجسٹریشن ممکن کیسے؟
واضح رہے کہ 15 فروری کو سابق صدر پرویز مشرف دبئی میں طویل علالت کے بعد 79 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد اکتوبر 2023 میں الیکشن کمیشن نے انٹرپارٹی الیکشن کے تنازع پر سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا اور آل پاکستان مسلم لیگ کی رجسٹریشن ختم کر کے انتخابی نشان عقاب بھی واپس لے لیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا کوئی پارٹی عہدیدار اور پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہے جبکہ سیاسی جماعت نے چار سالوں سے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع نہیں کروائیں جس کی بنیاد پر ڈی لسٹ کیا گیا ہے۔ -

امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ
نیو یارک (فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں بھارت اور امریکا کے تعلقات بدترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سردمہری نے بھارت کی معیشت، خارجہ پالیسی اور بڑے کاروباری گروپس کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیوں اور متضاد خارجہ حکمتِ عملی کے باعث واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کمزور ہوئے۔ اس کشیدگی کا سب سے بڑا اثر بھارت کے طاقتور ارب پتیوں پر پڑا ہے، جو بھاری سرمایہ کاری کے باوجود امریکہ میں تجارتی اور قانونی سہولتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی ارب پتیوں نے لاکھوں ڈالر لابنگ فرموں پر خرچ کیے، تاہم اس کے باوجود امریکی پالیسیوں اور قانونی نظام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ سکا۔ گوتم اڈانی کے خلاف جاری مقدمات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ ذاتی تعلقات اور لابنگ امریکی قانونی ترجیحات کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور بھارت کی پالیسیوں کے باعث امریکا اب بھارت کو ایسا قابلِ اعتماد اتحادی نہیں سمجھتا جو خطے کے معاملات سنبھال سکے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیرف تنازع کے دوران رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر رہا۔
صورتحال کو بھارت کے لیے مزید مشکل بناتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا، جسے ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے امریکا سے اختلاف کا راستہ اپنائے رکھا تو اسے سخت معاشی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روسی تیل کی خریداری پر امریکی ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کو پہلے کی طرح قبول کرنے کو تیار نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی جیسے بڑے کاروباری گروپس نے روسی تیل کی ریفائننگ سے اربوں ڈالر منافع کمایا، تاہم یہی پالیسی امریکا کے ساتھ اختلافات کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اگرچہ امریکا بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار سمجھتا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں بھارت کا رویہ تشویش کا باعث بن چکا ہے۔حالیہ بھارت پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے بھی امریکا کے بھارت سے متعلق شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
