Blog

  • سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی کا خاتمہ….شیخ راشد عالم

    سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی کا خاتمہ….شیخ راشد عالم

    پاکستان نے معاشی مشکلات، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور غیر قانونی تجارت کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان بالآخر وہ فیصلہ کر لیا ہے جس کا انتظار کئی ماہ سے صنعت اور مارکیٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کر رہے تھے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت تجارت نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے وہ ایس آر او بھی بحال کر دیا ہے جو سونے کی عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا مگر مئی 2025 میں 60 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ جہاں ایک طرف جیولری ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے، وہیں پاکستان کے تجارتی توازن، ریگولیٹری نظام اور مالیاتی نظم و ضبط کے لیے بھی اہم نتائج رکھتا ہے۔
    پس منظر ، پابندی کیوں لگائی گئی؟
    سونے کی تجارت پاکستان میں ہمیشہ سے حساس تصور کی جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قیمتی دھات ہے بلکہ غیر قانونی تجارت اور پیسہ باہر منتقل کرنے کا ایک محفوظ ذریعہ بھی سمجھی جاتی رہی ہے۔ وزارتِ تجارت کے مطابق مئی 2025 میں سونے کی اسمگلنگ کے شبہات اور نظام میں بے ضابطگیوں کے باعث اس کی درآمد اور برآمد کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
    ذرائع کا کہنا تھا کہ کچھ مخصوص عناصر سونے کے درآمدی نظام کو غلط استعمال کرکے منظم اسمگلنگ میں ملوث تھے، جس سے نہ صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا بلکہ قانونی درآمدکنندگان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی تھی۔
    گزشتہ چند مہینوں میں، متعلقہ اداروں کی جانب سے نگرانی سخت ہونے کے باعث سونے کی اسمگلنگ سے متعلق کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ پابندی کا مقصد پورا ہو چکا ہے، اس لیے تجارت کو دوبارہ کھول دینا چاہیے۔
    اعداد و شمار کی روشنی میں صورتحال
    سونے کی تجارت پر پابندی کا اثر براہِ راست ملک کی درآمدات پر ظاہر ہوا۔
    پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق:
    جون اور جولائی میں بالکل بھی سونا درآمد نہیں ہوا۔
    مئی 2025 میں صرف 9 کلوگرام سونا درآمد ہوا جس کی مالیت تقریباً 9.27 لاکھ ڈالر تھی۔
    اس کے برعکس جولائی 2024 میں 22 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد ہوا تھا۔
    یہ واضح فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ پابندی نے درآمدی سرگرمی کو تقریباً منجمد کر دیا تھا۔ ایسے حالات میں جیولری انڈسٹری، خاص طور پر ایکسپورٹ انڈسٹری، شدید دباؤ کا شکار رہی۔

    جیولری ایکسپورٹ سیکٹر کی مشکلات
    ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط میں لکھا تھا کہ ایس آر او 760 کی معطلی نے برآمدی صنعت کو براہِ راست نقصان پہنچایا ہے۔
    ان کے مطابق کئی برآمدکنندگان نے اپنے بیرونی خریداروں کے ساتھ قانونی معاہدوں کے تحت خام سونا وصول کر کے جیولری تیار کر لی تھی، مگر اچانک پابندی لگنے سے نہ صرف سپلائی چین ٹوٹ گئی بلکہ عالمی خریداروں کا اعتماد بھی شدید متاثر ہوا۔
    یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی تشویش ناک تھی کیونکہ جیولری کی برآمدات نہ صرف زرِ مبادلہ کا ذریعہ ہیں بلکہ ہزاروں کاریگروں اور چھوٹے صنعت کاروں کا روزگار بھی اس شعبے سے وابستہ ہے۔
    حکومتی فریم ورک ، شفافیت کی طرف قدم
    حکومت نے پابندی ختم کرنے کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد کا موجودہ فریم ورک برقرار رہے گا، البتہ اس میں مزید شفافیت اور خودکار نظام شامل کیے جائیں گے۔
    اس کا مقصد:
    امپورٹ و ایکسپورٹ کے نظام میں انسانی مداخلت کم کرنا
    دستاویزات کو ڈیجیٹل کرنا
    اسمگلنگ کے راستوں کی نشاندہی
    بینکنگ اور کلیئرنس سسٹم کو مضبوط بنانا
    پاکستان میں روایتی طور پر سونے کی تجارت کاغذی کارروائیوں پر منحصر رہی ہے، جس میں بے ضابطگیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ فریم ورک کی بہتری سے قانونی تجارت کو تحفظ ملے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں کا راستہ تنگ ہو گا۔
    اقتصادی تجزیہ ، پابندی ختم کرنے کے فوائد اور خدشات
    فوائد:
    برآمدات میں اضافہ:
    جیولری ایکسپورٹ انڈسٹری دوبارہ فعال ہو جائے گی، جو پاکستان کے زرِ مبادلہ ذخائر میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
    بازار میں اعتماد کی بحالی:
    کاروباری ماحول میں استحکام اور پالیسیوں کی تسلسل سے بین الاقوامی خریداروں کا بھروسہ بڑھتا ہے۔
    روزگار کے مواقع:
    پابندی سے متاثر ہونے والے ہزاروں کاریگر دوبارہ کام میں مشغول ہو سکیں گے۔
    قانونی تجارت کا فروغ:
    اگر شفافیت بڑھائی گئی تو عوامی اور سرکاری سطح پر اعتماد بڑھے گا۔
    خدشات:
    اسمگلنگ کے خطرات:
    اگر مؤثر نگرانی نہ رہی تو دوبارہ غیر قانونی تجارت کے راستے کھل سکتے ہیں۔
    کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ:
    سونا ایک مہنگی امپورٹ ہے، اگر درآمد زیادہ ہوئی تو زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
    قیمتوں میں اتار چڑھاؤ:
    مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں پہلے ہی عالمی مارکیٹ کے اثرات سے جڑی ہوتی ہیں۔ درآمد کھلنے سے قیمتیں مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہیں۔
    آگے کا راستہ ، کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
    حکومت کا پابندی اٹھانا ایک درست قدم ہے، مگر اس کے ساتھ چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں:
    ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم:
    ہر درآمدی شپمنٹ کا ریکارڈ بلاک چین یا مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے تاکہ کسی بھی مرحلے پر ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔
    بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیشن:
    دبئی، ترکی اور ملائیشیا جیسے ممالک کی طرح سونے کی تجارت کو جدید قوانین کے ذریعے ریگولیٹ کیا جائے۔
    اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں:
    سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی اور کسٹمز کے درمیان مربوط رابطہ ناگزیر ہے۔
    صنعتی مشاورت:
    ہر پالیسی سے قبل جیولری ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کا مکمل مشورہ شامل ہو تاکہ پالیسیوں کے منفی اثرات نہ ہوں۔
    سونے کی درآمد اور برآمد پر پابندی ختم ہونا پاکستان کی اقتصادی سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر معیشت کو ریلیف دے گا، برآمدی شعبے کو سہارا دے گا اور صنعتی سرگرمیاں بحال کرے گا۔ تاہم اصل چیلنج شفافیت، نگرانی اور عملی نفاذ کا ہے۔ اگر حکومت اپنے اعلان کردہ فریم ورک میں حقیقی بہتری لا سکی تو یہ فیصلہ نہ صرف سونے کی تجارت کے لیے بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔

  • سخنور شکاگو کا عالمی گولڈن جوبلی مشاعرہ….حمیرا گل تشنہ

    سخنور شکاگو کا عالمی گولڈن جوبلی مشاعرہ….حمیرا گل تشنہ

    عابد رشید نے شکاگو میں عالمی مشاعرہ کی بنیاد رکھ دی
    گزشتہ دنوں امریکا کے شہر شکاگو میں اردو کی ادبی تنظیم ” سخنور شکاگو” کے زیر اہتمام “بیادِ فیض احمد فیض” گولڈن جوبلی عالمی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔مشاعرے کی صدارت شکاگو کے سینیئر و ممتاز شاعر ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے فرمائی۔ شکاگو میں پاکستان کے نئے قونصل جنرل زمان مہدی اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پاکستان سے دور حاضر کے ممتاز شاعر عباس تابش اور ہیوسٹن سے معروف شاعر غضنفر ہاشمی نے خصوصی شرکت فرمائی۔اس مشاعرے میں ناہید ورک کے شعری مجموعہ “کوئی نہیں دوست” اور طاہرہ ردا کے شعری مجموعہ “تیرے نام کے سارے شعر” کی تقریبِ پزیرائی کا اہتمام بھی کیا گیا۔ جہاں عباس تابش اور غضنفر ہاشمی نے کتابوں پر اپنی قیمتی گفتگو بھی کی۔شکاگو، امریکہ میں سخنور شکاگو اور عابد رشید کی اردو ادب کے فروغ کے لئے کی جانے والی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال سخنور شکاگو کے پچاسویں عالمی مشاعرہ کا بروز ہفتہ، 22 نومبر کو شام 6 بجے ، فاؤنٹین ویو ریکری ایشن سنٹر، کیرل سٹریم میں انعقاد کیا گیا۔جس میں پاکستان کے ممتاز شاعر عباس تابش اور ہیوسٹن سے ممتاز ادیب اور شاعر غضنفر ہاشمی نے اس مشاعرے میں خصوصی شرکت فرمائی۔ پاکستان سے راشد حسین خان، انڈیا سے خواجہ فریدالدین صادق اور امریکہ کی مختلف ریاستؤں سے نامور شعرائے کرام نے اس مشاعرے میں شرکت کی۔ مشاعرے میں کلام پیش کرنے والے شعرا میں شامل
    راشد حسین خان (پاکستان)، ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق (انڈیا) ناہید ورک (مشی گن) ڈاکٹر فرحت شیریں(سینٹ لوئیس)، شمسہ نجم (کیلیفورنیا)، ڈاکٹر پاشا سعید، اشرف خان، عتیق حیدر، (اوہائیو)، ڈاکٹر سلیم تورانیہ (وسکونسن)، اور راکند کور (انڈیانا)۔
    پروگرام کا آغاز ڈاکٹر افضال الرحمٰن کی تلاوت کلامِ پاک سے ہوا۔
    شکاگو سے جن ممتاز شعرائے کرام نے اس مشاعرے میں شرکت فرمائی اْن کے نام درجِ ذیل ہیں
    مشاعرے میں کلام پیش کرنے والے شکاگو کے مقامی شعرا میں ڈاکٹر منیرالزماں منیر، غلام مصطفٰے انجم، نذر نقوی، طاہرہ ردا، کشش ہوشیار پوری، ساجد چودھری، محبوب علی خان ، ڈاکٹر افضال الرحمٰن افسر، راشد رحیمی، راز رنگونی اور بدر اسلام۔ شامل تھے۔
    ناہید ورک کے شعری مجموعہ “کوئی نہیں دوست” کی تقریبِ پزیراء کے موقع پر عباس تابش اور غلام مصطفٰے انجم نے تبصرہ کیا۔ اس کے علاوہ، طاہرہ ردا کے شعری مجموعہ “تیرے نام کے سارے شعر” کی تقریبِ پزیرائی کے موقع پر غضنفر ہاشمی اور ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اظہارِ خیال کیا۔ اس مشاعرے کی نظامت کنیکٹیکٹ سے شامل ہونے والی ممتاز نوجوان شاعرہ حمیرا گْل تشتنہ نے کی۔ اس مشاعریکے ناظمِ اعلٰی سخنور شکاگو اور حریمِ نعت کے روحِ رواں اور شکاگو کی ممتاز ادبی شخصیت عابد رشید (جو کسی تعارف کے محتاج نہیں) تھے۔ شکاگو میں پاکستان کے نئے قونصل جنرل زمان مہدی اس تقریب میزن بطورِ مہمانِ خصوصی شامل رہے۔ اور آخر میں تقریب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شکاگو کی ادبی تنظیموں کی انتھک کاوشوں کو سراہا۔ سخنور شکاگو کا گولڈن جوبلی مشاعرہ ایک بے حد کامیاب مشاعرہ رہا۔ اس مشاعرے میں گولڈن جوبلی کی تقریب کے حوالے سے کیک بھی کاٹا گیا۔ شکاگو اور اس کے مضافات سے ادب کے شائقین کی ایک بڑی تعداد میں مشاعرے میں موجود تھی۔ سخنور شکاگو کا مشاعرہ اپنی نوعیت اور روایات کے مطابق ایک انتہائی کامیاب مشاعرہ رہا۔ سخنور شکاگو اپنے خوبصورت، منظم اور باقاعدگی سے مشاعرے منعقد کرنے کی وجہ سے ادبی دنیا میں ایک بلند معیار کی علامت مانا جاتا ہے۔ بائیس نومبر 2025 کو ہونے والا مشاعرہ بھی یقیناً ایک باوقار، معیاری اور کامیاب تقریب تھی۔ پروگرام کے دوران مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ کا اور لذیذ طعام کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے میں شامل سامعین اس کامیاب مشاعرے سے بہت سی خوشگوار یادیں لے کر رخصت ہوئے۔ (نوٹ) اس مشاعرہ کی رکارڈنگ فیس بْک اور یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پہ سخنور شکاگو کے پیج اور چینل پر پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھی جا سکتی ہے۔

  • مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش  مل گئی

    مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش مل گئی

    کراچی:(کنزیو مر واچ نیوز)نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش تلاش کرلی گئی ہے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے ملی ہے جسے جائے وقوعہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے تلاش کیا گیا ہے۔
    واقعہ کب پیش آیا؟
    گزشتہ روز گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا۔واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے ۔
    بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی۔
    کھلے مین ہول میں گرنے والے بچےکی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کےنام سے ہوئی، ابراہیم فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔
    مشتعل افراد کا احتجاج
    اس سے قبل گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی ۔
    علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جب کہ یونیورسٹی روڈ نیپا سے حسن اسکوائر آنے اور جانے والا ٹریک ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا تھا جسے اب کھول دیا گیا ہے۔مین ہول میں بچہ گرنے کا واقعہ، فاروق ستارکے پہنچنے پر شہری مشتعل، گاڑی سے اترنے نہ دیادوسر ی جانب مشتعل افراد نے میڈیا پر بھی حملہ کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جب کہ دفاتر جانے والے شہریوں کو زبردستی روکنے کی کوششیں کی، مشتعل ہجوم کے احتجاج کے باعث ریسکیو ٹیموں نے امدادی کام روک دیا گیا تھا۔
    بچے کے دادا کی گفتگو
    بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو رات ساڑھے 10 بجے کے قریب شاپنگ کیلئے آئے تھے، بیٹا پارکنگ ایریا میں بائیک کھڑی کرنے گیا تھا، بچہ والدہ کے ساتھ تھا والد کے پیچھے بھاگا، اسی دوران گٹر کا ڈھکن کھلاتھا بچہ اس گٹر میں گرگیا۔انہوں نے کہا کہ بچہ میرے بیٹے کی اکلوتی اولاد ہے، بیٹا پرائیوٹ ملازم ہے، اتنی تکلیف میں ہوں کہ منہ سے الفاظ ادا نہیں ہورہے، متعلقہ اداروں کی جانب سے 3 ساڑھے 3 گھنٹے گزرجانے کے باوجود کسی کو مدد کیلئے نہیں بھیجا گیا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مدد کی، ریسکیو کے کاموں سے مطمئن نہیں ہے،، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ اور میئر کراچی سے درخواست ہے، اپنا بچہ سمجھتے ہوئے ہمارے بچے کی برآمدگی میں ہماری مدد کریں۔

  • رمشا خان نے کونسے ’کاسمٹک ٹریٹمنٹس‘ کروا رکھے ہیں؟

    رمشا خان نے کونسے ’کاسمٹک ٹریٹمنٹس‘ کروا رکھے ہیں؟

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستانی اداکارہ رمشا خان کے مبینہ کاسمیٹک ٹریٹمنٹس پر ماہرِ جلد ڈاکٹر سمن ذیشان نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔حال ہی میں رمشا خان کی 15 سال پرانی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ان کی موجودہ شکل و صورت سے واضح فرق دیکھا گیا، جس کے بعد مداحوں نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے وقت کے ساتھ حسن میں اضافہ کرنے والے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔دبئی میں پریکٹس کرنے والی ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر سمن ذیشان نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ رمشا خان کی سب سے نمایاں تبدیلی ان کے ہونٹ ہیں جو پہلے کے مقابلے میں بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فلرز کا نتیجہ لگتا ہے اور یہ کام نہایت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رمشا خان کی چہرے کی ہڈیوں یعنی چِیک بونز میں بھی کانٹورنگ نظر آتی ہے، جو عمر کے ساتھ نارمل تبدیلیوں کے باوجود زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر کے مطابق رمشا کی ناک کی ہلکی سی ہمپ (ابھار) بھی اب کم محسوس ہوتی ہے، جو ممکنہ طور پر نان سرجیکل پروسیجر سے ٹھیک کی گئی ہوگی۔ڈاکٹر سمن کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق رمشا خان نے کوئی بڑی سرجری نہیں کروائی بلکہ چند ہلکے پھلکے اینہانسمنٹس کے ذریعے اپنی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمشا پہلے بھی خوبصورت تھیں اور اب بھی قدرتی حسن کے ساتھ مزید نکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصری وزیر خارجہ کی ملاقات؛ دفاعی تعاون پر گفتگو

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصری وزیر خارجہ کی ملاقات؛ دفاعی تعاون پر گفتگو

    راولپنڈی:(کنزیومرواچ نیوز)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے اہم ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون پر گفتگو کی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں دونوں شخصیات نے پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، جس میں بالخصوص دفاعی و سیکیورٹی تعاون، عسکری سطح پر رابطے، تربیتی اشتراک اور علاقائی امن و استحکام پر توجہ مرکوز رہی۔گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے دفاع اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔مصری وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل کو ملکی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں اور پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں مصر کی دلچسپی کا اظہار کیا۔اہم ملاقات میں دونوں جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ علاقائی سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔

  • ڈکی بھائی کی اہلیہ کے ساتھ پہلی جھلک سامنے آگئی، مداح پریشان

    ڈکی بھائی کی اہلیہ کے ساتھ پہلی جھلک سامنے آگئی، مداح پریشان

    لاہور (کنزیو مر واچ نیوز)پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور وی لاگر ڈکی بھائی جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے تو اُن کی حالت دیکھ کر مداح پریشان ہوگئے۔ڈکی بھائی تقریباً چار ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ وہ مبینہ جوئے کی ایپس کیس میں گرفتار تھے اور ان کی ضمانت کئی بار مسترد ہو چکی تھی۔رہائی کے بعد ڈکی بھائی اپنی اہلیہ اروب جتوئی اور وکلا کے ہمراہ مجسٹریٹ کورٹ پہنچے جہاں بڑی تعداد میں میڈیا موجود تھا۔رپورٹرز بار بار سوالات کرتے رہے لیکن ڈکی بھائی نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ میڈیا کے کیمروں، موبائل فونز اور مائکس کی دھکم پیل کے دوران وہ واضح طور پر پریشان اور ذہنی دباؤ میں نظر آئے۔سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آتے ہی مداحوں نے تشویش کا اظہار کیا۔صارفین کا کہنا ہے کہ ڈکی بھائی ذہنی طور پر کمزور دکھائی دے رہے ہیں اور میڈیا کا رویہ ہراسانی کے مترادف تھا۔ کئی صارفین نے صحافیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مشکل وقت میں اُنہیں تنہا چھوڑ دیں۔ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ اروب کی ایک ساتھ پہلی جھلک بھی سامنے آئی، جس پر مداحوں نے دونوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

  • پیٹرول سستا ہونے کے بعد عوام کے لیے ایک اور خوش خبری

    پیٹرول سستا ہونے کے بعد عوام کے لیے ایک اور خوش خبری

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیو)گزشتہ شب پیٹرول سستا ہونے کے بعد عام کے لیے ایک اور اچھی خبر ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے گزشتہ شب آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا، جس میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ کم کیے گئے تھے۔پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کمی کے بعد آج حکومت نے لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمت بھی کم کردی ۔ نوٹی فکیشن کے مطابق لائٹ ڈیزل 7 روپے 3 پیسے فی لیٹر سستا کردیا گیا ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 48 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔قیمتوں کے حوالے سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔قیمتوں میں کمی کے بعد لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 163 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جب کہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 192 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

  • بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا

    بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو دوسرےکم ترین درجے پر رکھتے ہوئے سی گریڈ دے دیا۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں 12 – 2011 کےبھارت کے معاشی ڈیٹاکو انتہائی پرانا اور ناقص قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سی گریڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہےکہ بھارت کے پاس دستیاب معاشی ڈیٹا میں خامیاں ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی معیشت کے ڈیٹا میں خامیاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں، بھارتی حکومت کا آمدنی کی بنیاد پر جی ڈی پی کا طریقہ کار بارہا ماہرین کی تنقیدکا شکار رہا ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق ڈیٹا کمزوریاں برقرار ہونےکے باعث بھارت کے قومی کھاتوں کو مسلسل دوسرے سال سی گریڈ دیاگیا۔

  • سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی کی اہلیہ ہراسانی کا شکار

    سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی کی اہلیہ ہراسانی کا شکار

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گانگولی کی اہلیہ ڈونا گنگولی نے آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے پر مقدمہ درج کروا دیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف رقاصہ ڈونا گنگولی نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز تبصروں اور باڈی شیمنگ کا نشانہ بننے کے بعد جمعہ کو کولکتہ پولیس سے رابطہ کیا۔انہوں نے مقامی تھانے میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہا کہ کولکتہ فلم فیسٹیول میں ان کی حالیہ پرفارمنس کے بعد انہیں آن لائن بدسلوکی اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔اپنی شکایت میں ڈونا گانگولی نے بتایا کہ وہ تقریباً ساڑھے چار دہائیوں سے رقص کے شعبے سے وابستہ ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کرتی آئی ہیں۔تاہم، چند سوشل میڈیا صارفین کے نازیبا تبصروں نے نہ صرف ان کی عزتِ نفس کو مجروح کیا بلکہ بطور فنکار ان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔انہوں نے ایک مخصوص فیس بک پیج کا بھی حوالہ دیا جس پر ان کی پرفارمنس کی تصاویر شیئر کرکے گالی گلوچ اور بدنما الفاظ استعمال کیے گئے۔شکایت کے مطابق، اس پیج نے ان کے وزن سے متعلق توہین آمیز ریمارکس بھی کیے۔ ڈونا نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر اس پیج کے اسکرین شاٹس اور ایک موبائل نمبر پولیس کے حوالے کیا۔پولیس نے ان کی درخواست پر نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔حکام فراہم کردہ معلومات کی مدد سے مشتبہ فرد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ اس معاملے میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کی بھی جانچ کی جائے گی۔

  • اسرائیل سے اپنےکمانڈر  کی شہادت کا بدلہ لیں گے؛ سربراہ حزب اللہ

    اسرائیل سے اپنےکمانڈر کی شہادت کا بدلہ لیں گے؛ سربراہ حزب اللہ

    تہران (کنزیومرواچ نیوز)حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اپنے شہید کمانڈر کا بدلہ لینے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے سینیئر کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بہادر سپاہی قرار دیا۔نعیم قاسم نے کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل تیار ہے، انھیں جلد ایک مؤثر اور نہایت نقصان دہ انتقام کا سامنا کرنے پڑے گا۔حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا اسرائیل کو جارحیت سے روکے اور قومی سلامتی پر آنچ نہ آنے دے۔نعیم قاسم نے کہا کہ دنیا کے سینے پر سب سے ناجائز ریاست اسرائیل نے قبضے اور تسلط کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اور اس کی غلط فہمی ہم دور کریں گے۔یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا تھا۔