اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا ریٹ کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار سے خطاب کے دوران ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس رعایت کے لیے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ وزیراعظم نے بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس میں کمی کی بھی ہدایت دی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے حکومتی سطح پر مشاورت شروع ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ مرحلوں میں بڑی کمپنیوں اور کاروبار پر سپر ٹیکس مرحلہ وار کم کرنے اور آخرکار ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپر ٹیکس میں ممکنہ کمی اور خاتمے کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے بات چیت بھی کی جائے گی، سپر ٹیکس ختم کرنے کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ ٹیکس ریٹ میں کمی کا براہ راست انحصار ٹیکس کمپلائنس اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے پر ہوگا، ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد جتنی بڑھے گی، ٹیکس ریٹ اتنا ہی کم کیا جا سکے گا۔
Blog
-

محفوظ پنجاب کا انقلابی منصوبہ؛ ہر شہری کا موبائل سیف سٹی کیمرہ بن گیا
لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)پنجاب میں ہر شہری کا موبائل فون سیف سٹی کا کیمرہ بن گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے شہریوں کی حفاظت کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔اس اہم انقلابی منصوبے کا مقصد سنگین واقعات کے ویڈیو شواہد فوری طور پر سیف سٹی سے شیئر کرنا ہے، تاکہ ریسپانس ٹائم کم ہو اور مدد جلد پہنچ سکے۔ اس سلسلے میں سیف سٹی کی پبلک سیفٹی ایپ میں جدید ’’کنیکٹ ٹو پی ایس سی اے‘‘ فیچر شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے موبائل کیمرے کو براہِ راست سیف سٹی کنٹرول روم سے منسلک کر سکیں گے۔اس فیچر کے تحت شہری کسی بھی اہم یا ہنگامی موقع کی لائیو ویڈیو فوری طور پر سیف سٹی کو فراہم کر سکیں گے، جس سے اصل صورتحال کا اندازہ فوری لگایا جا سکے گا۔ترجمان سیف سٹی کے مطابق ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرنے پر سیف سٹی آفیسر شہری کو فوری لائیو فیڈ کا خصوصی لنک بھیجے گا۔ لنک اوپن کرتے ہی شہری کے موبائل کا لائیو کیمرہ براہِ راست سیف سٹی کنٹرول روم سے منسلک ہو جائے گا، جس سے موقع واردات کی صورتحال کو حقیقی وقت میں دیکھا جا سکے گا اور فوری امدادی کارروائی ممکن ہوگی۔ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ سروس صرف ایمرجنسی کی صورتحال میں استعمال کے لیے ہے اور شہریوں سے درخواست ہے کہ موبائل کی لوکیشن آن رکھیں تاکہ درست مقام کی نشاندہی ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری غیر ضروری ویڈیوز شیئر نہ کریں، کیونکہ اس فیچر کا مقصد صرف ہنگامی مدد اور بروقت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
-

افغان حکومت پوری دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے-25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں- اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہے جو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنتہ آلخوارج کرتے ہیں- اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں-ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے- انہوں نے کہا کہ وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے، فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے- ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں- پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا- افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔ جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں-
کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے- ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے، ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے- نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا- -

13 سالہ طالبعلم کو ’نازیبا تصاویر بھیجنے والی ٹیچر گرفتار
فلوریڈا (کنزیومرواچ نیوز)امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک 22 سالہ پی ای ٹیچر کو مبینہ طور پر ایک 13 سالہ طالبعلم کو نامناسب ٹیکسٹ میسیجز اور تصاویر بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق یزمار انجیانس راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی شیرف آفس کے ڈٹیکٹوز نے بدھ کے روز حراست میں لیا۔رپورٹس کے مطابق انہیں کم عمر کو فحش مواد بھیجنے اور نقصان دہ مواد منتقل کرنے کے الزام میں چارج کیا گیا ہے، جو دونوں سنگین نوعیت کے جرائم ہیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ٹیچر اس وقت سنٹرل پوائنٹ کرسچن اکیڈمی میں پی ای ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔متاثرہ طالبعلم کی والدہ نے اکتوبر میں پولیس کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے دوران پولیس نے ٹیچر کی جانب سے بھیجے گئے میسیجز اور تصاویر حاصل کرلیں۔ شیرف آفس کے مطابق ملزمہ نے سوال و جواب کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے طالبعلم کو میسیج اور تصویر بھیجی تھی۔راموس-فیگیروآ کو اوسکیولا کاؤنٹی جیل میں رکھا گیا ہے اور ہر الزام پر 5 ہزار ڈالر کے عوض مجموعی طور پر 10 ہزار ڈالر کی ضمانت مقرر کی گئی ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو وہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا پانے کی مرتکب ہو سکتی ں۔
امریکہ میں کم عمر طلبہ کے ساتھ نامناسب رابطے کے الزامات میں اساتذہ کی گرفتاری کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں کئی اساتذہ کو اسی طرح کے جرائم پر گرفتار یا سزا دی گئی ہے۔ -

عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر علیمہ خان کی توہین عدالت کی درخواست
اسلام آباد:(کنزو مر واچ نیوز)عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر علیمہ خان نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروائے جانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کے 24 مارچ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر ذمہ داران کو توہین عدالت کی سزا دی جائے۔ درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ، وفاقی سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)عوام کے لیے خوشی کی خبر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے۔یکم دسمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 75 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے فی لیٹر کمی متوقع ہے۔اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 73 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 35 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئل انڈسٹری نے قیمتوں میں مجوزہ ردوبدل کے حوالے سے اپنی ورکنگ مکمل کرکے اوگرا کو ارسال کر دی ہے، جس کے بعد اوگرا ان سفارشات کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کی سمری تیار کر رہا ہے۔ یہ سمری کل وزارتِ خزانہ کو بھیجی جائے گی۔وزارتِ خزانہ یکم دسمبر سے لاگو ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان 30 نومبر کو کرے گی، جو آئندہ 15 روز کے لیے مؤثر ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اس اعلان سے قبل وزیراعظم سے مشاورت بھی کرے گی۔
-

آکسفورڈ ڈیبیٹ میں پاکستانی طلبہ نے بھارتی پینل کو شکست دے دی
لندن (کنزیومرواچ نیوز)آکسفورڈ یونین میں پاک بھارت مباحثے میں پاکستانی طلبہ نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو بھاری اکثریت سے شکست دے دی۔
مباحثہ اس قرارداد پر منعقد ہوا کہ “بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔”
بھارت نے ابتدائی طور پر اعلیٰ سطح کے مقررین جیسے جنرل نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کو مباحثے کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا جس کے بعد بھارت نے جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل ایک نسبتاً کم درجے کا پینل میدان میں اتارا۔
اس کے برعکس پاکستان نے بڑی فراخ دلی سے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آکسفورڈ میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ—موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان—کو پورے اعتماد سے نمائندگی دی۔
مباحثے کے دوران پاکستانی طلبہ نے بھارتی وفد کے بیانیے کو منطق، قانون اور اعدادوشمار کی بنیاد پر مؤثر دلائل کے ساتھ چیلنج کیا۔ ووٹنگ میں پاکستانی موقف کو دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی، حالانکہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی ارکان کی تعداد زیادہ تھی۔
ماہرین کے مطابق آکسفورڈ جیسے عالمی فورم پر پاکستانی نوجوانوں کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر پاکستان کا بیانیہ زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد ہے، جبکہ بھارتی جانب سے اعلیٰ سطحی مقررین کے انکار اور دوسرے درجے کے پینل کی شکست بھارت کے فکری مؤقف کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔facebook
-

ٹرمپ نےتمام ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کے دروازے بندکردئیے
واشنگٹن (کنزیورواچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکار پر حملے کے بعد سخت ترین امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام “تھرڈ ورلڈ” ممالک سے ہجرت کو ’’مستقل طور پر معطل‘‘ کر رہے ہیں، جبکہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی فوری آڈٹ کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔یہ اعلان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال پر دو امریکی نیشنل گارڈز پر فائرنگ کا الزام ہے۔ حملے کے نتیجے میں 20 سالہ سارہ بیکسٹروم ہلاک اور دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوا۔ٹرمپ نے اپنے سخت بیان میں سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ 2021 میں افغانستان سے انخلا کے دوران بغیر مکمل جانچ پڑتال کے مہاجرین امریکا داخل ہوئے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا کہ مذکورہ حملہ آور کو ٹرمپ دور میں ہی ویزہ ملا تھا، تو ٹرمپ نے رپورٹر کو ’’احمق‘‘ قرار دیتے ہوئے جواب مسترد کردیا۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایسے تمام غیر شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے، ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو امریکا کے لیے خطرہ سمجھے جائیں، اور ان تمام افراد کو ملک بدر کریں گے جو ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے‘‘۔امریکی حکام کے مطابق 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کا مکمل سیکیورٹی آڈٹ ایک ’’سخت اور جامع عمل‘‘ ہوگا۔ متاثرہ ممالک میں افغانستان، برما، چَیڈ، کانگو، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن، سوڈان، وینزویلا اور کئی افریقی و ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔واقعے کے بعد ملک میں سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار اینڈریو وولف کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ -

کراچی میں آئندہ تین روز تیز ہوائیں چلنے کا امکان
کراچی(کنزیومرواچ نیوز) محکمہ موسمیات نے آئندہ 3 روز شہر میں تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 3 روز کے دوران شمال مشرق سے 20 سے 25 کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے خشک ہوائیں چل سکتی ہیں تاہم اس دوران موسم خشک اور خنک رہے گا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ تین روز کے دوران کم سےکم درجہ حرارت 16 اور زیادہ سے زیادہ 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر مقامات پر موسم خنک اور رات سرد رہنے کا امکان ہے جب کہ میدانی علاقوں میں صبح کے وقت دھند پڑنے کا امکان ہے۔
-

پی آئی اے کے نصف طیارے بند، پھر بھی اربوں کا منافع
لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)پی آئی اے کے نصف طیارے بند ہونے کے باوجود قومی ایئرلائن اربوں روپے کا منافع کما رہی ہے جب کہ کمپنی کی نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع ہے۔قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ہے اور اب دسمبر کے پہلے ہفتے کے بجائے یہ عمل آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے نے 14 سے 16 جہازوں کے ساتھ اندرون و بیرون ممالک فضائی آپریشن کے ذریعے رواں مالی سال کے 6 ماہ میں 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے۔پی آئی اے ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن نے کم تعداد میں جہازوں کے باوجود کینیڈا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، امارات سمیت دیگر ممالک کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔گزشتہ برس پی آئی اے نے 26 ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا تھا جب کہ اس سال اب تک 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے کے جہازوں کی کمی پوری کر دی جائے تو گزشتہ برس کی نسبت 2 سے 3 ارب روپے مزید منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 32 جہاز موجود ہیں جن میں سے 16 جہاز انجن اور دیگر اسپیئر پارٹس کی خرابی کے باعث آپریشن میں شامل نہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ جہاز بروقت فضائی بیڑے میں شامل کر لیے جائیں تو پی آئی اے کی نجکاری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔دوسری جانب نجکاری کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری آئندہ ماہ کے آخر میں متوقع ہے جو پہلے دسمبر کے اوائل میں ہونا تھی۔ نجکاری میں حصہ لینے والی کمپنیوں میں فوجی فرٹیلائزر، حبیب رفیق، یونس برادرز اور ایئر بلیو شامل ہیں۔ دسمبر میں ہونے والی بڈنگ میں یہ دیکھا جائے گا کہ پی آئی اے کو کونسی کمپنی خریدتی ہے۔پی آئی اے ذرائع کے مطابق جو بھی کمپنی پی آئی اے کو خریدے گی اسے 300 سے 400 ارب روپے تک کی اضافی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں اندرون و بیرون ممالک موجود اربوں روپے مالیت کی پراپرٹیز شامل نہیں، یہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نام منتقل کر دی گئی ہیں۔ نجکاری میں صرف اسلام آباد، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کے 4 مین دفاتر شامل ہیں۔
