Blog

  • سرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فیلڈ مارشل

    سرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فیلڈ مارشل

    راولپنڈی (کنزیو مر واچ نیوز)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کا تحفظ، قومی سالمیت اور ہر پاکستانی شہری کی حفاظت پاک فوج کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ–27 کے شرکاء نے آج جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا،جی ایچ کیو میں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا کو ملکی و علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا یہ اہم تربیتی پروگرام NSW–27 ارکانِ پارلیمان، سینئر سول و عسکری افسران، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ قومی سلامتی سے متعلق اہم امور پر جامع آگاہی فراہم کی جا سکے۔
    بیان کے مطابق آرمی چیف نے قوم کے اتحاد کو پاکستان کی اصل قوت قرار دینے کے عزم کا اظہار کیا، دورے میں انہیں پاکستان کے علاقائی و داخلی سیکیورٹی ماحول اور مجموعی قومی سلامتی کی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی گئی۔
    شرکاء نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خصوصی نشست میں تبادلۂ خیال بھی کیا، آرمی چیف نے خطے کے تبدیل ہوتے سیکیورٹی ماحول کا ذکر کیا۔
    فیلڈ مارشل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشمکش، سرحد پار دہشتگردی اور ہائبرڈ جنگ جیسے چیلنجز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی اور معلوماتی جنگ کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
    فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان ایک باوقار ملک ہے اور عالمی برادری میں اسے اس کا جائز مقام ضرور حاصل ہوگا۔ “معرکۂ حق” کے دوران پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم نے دنیا میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔
    سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی قوت قومی اتحاد ہے اور ہم اسی اتحاد کے ساتھ دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے، ان شاء اللہ۔
    شرکاء کو ملک میں جاری غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہے، بریفنگ میں سرحدی انتظام بہتر بنانے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے اقدامات پر تازہ پیش رفت بھی شیئر کی گئی۔
    فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کا تحفظ، قومی سالمیت اور ہر پاکستانی شہری کی حفاظت پاک فوج کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگ قومی کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔عاصم منیر نے کہا کہ پاک فوج ملکی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

  • بنگلا دیش کا سفر نامہ.آئیے چلتے ہیں بنگال کی جادو نگری،  سرور غزالی

    بنگلا دیش کا سفر نامہ.آئیے چلتے ہیں بنگال کی جادو نگری، سرور غزالی

    آئیے چلتے ہیں بنگال کی جادو نگری، بنگلہ دیش کی سیر کو جی ہاں بنگال کا جادو کالا جادو جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور ایک حسین خطے کا جادو، حسن کا وہ جادو جہاں خلیج بنگال کی سرکش حسین سمندری لہروں کا جادو ہے دریائے میگنا کی مچلتی لہروں کا جادو، سندربن میں کھو جانے والے جوانی اور بڑھاپے میں بدل ڈالنے کا جادو، پدما ندی میں اچھلتی الہڑ مچھلیوں کی سحر انگیزی، شوخی کا جادو، رانگا ماٹی کی سرخ اور پیلی مٹی میں لپٹی حسینوں کی دھرتی کا جادو کہ جس کے سحر میں آپ ایسا ڈوب جائیں کہ اس سے پہلے ملاقات میں اسے آپ اپنا دل دے بیٹھیں۔ بنگال ٹائیگر جو کاکسسز بازار کے ساحل پر چہل قدمی کرتا ہے اس کی سرزمین۔۔۔بنگال کا جادو۔
    چھ نومبر 2025 کو برلن سے دوحہ، قطر ایرویز کے ذریعے پہنچنے کے بعد ٹرانزٹ لاونج سے میں نے فیصل نواز کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اسی ٹرانزٹ لاونج میں موجود ہیں اور پھر جلد ہی ہم ایک دوسرے کو نظر آگئے۔ ڈھاکہ آنے سے پہلے ہم دونوں نے اس طرح پروگرام طے کیا تھا کہ فیصل اوسلو سے اور میں برلن سے دوحہ پہنچ کر وہاں سے آگے ڈھاکہ جانے والی فلائٹ میں ایک ساتھ عازم سفر ہوں گے۔ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب سات نومبر کو جب ہمارا طیارہ ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال ایئرپورٹ پہ اترا تو ہم دونوں کی خوشی دیدنی تھی ہم جذبات سے مغلوب ایئرپورٹ کی عمارت میں کشاں کشاں داخل ہو رہے تھے اور ایسے میں ہمیں ایئرپورٹ پہ ہونے والی جانچ پڑتال، پابندی ء ویزہ کسی چیز کا بھی کچھ خیال نہ رہا۔ نہ ہی ہم نے ٹھیک سے تمام کاغذات سمیٹے۔ بس وہاں کے افسران کو اپنا پاسپورٹ پیش کر دیا اور اس کوشش میں تھے کہ ہمیں جلد از جلد فارغ کر دیا جائے تاکہ ہم باہر جائیں مگر بنگلہ دیش کے امیگریشن کے افسران کی خندہ پیشانی کا میں یہاں ضرور ذکر کروں گا جنہوں نے ہمارے نامکمل کاغذات کو ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ مذید کاغذ دکھائیے۔ جب ہم کاغذات تلاش کررہے تھے تو افسر بولا۔ “دیکھیے آپ کے بیگ میں رکھا ہوگا۔ بیگ کسی جیب میں ڈھونڈئیے اور پھر ہم نے مطلوبہ کاغذات ان کو پیش کیے اور اس طریقے سے تمام مطلوبہ کاغذات مکمل جمع کروانے اور ویزہ اور مہر لگوانیکے بعد ہم لوگ ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر آئے۔ مسافروں سے زیادہ انہیں خوش آمدید کہنے والوں اور تماشبینوں کے بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ تک آئے۔ ارمان شمسی بھائی، ڈھاکہ شہر کے مشہور افسانہ نگار ہیں اور بنگلہ دیش کے شعر و ادب کے حلقے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں انہوں نے کمال مہربانی سے اپنے نواسے اسامہ کو ایئرپورٹ بھیج دیا تھا اور ہمارا ان کے ساتھ واٹس ایپ پر رابطہ بھی ہو چکا تھا اور ان کی ہدایت کے مطابق ہم لوگ ان تک پہنچے اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہم لوگ ارمان شمسی بھائی کے گھر کی طرف رواں دواں تھے۔ ڈھاکہ شہر کی نئی ہائی وے شہر کے مختلف علاقوں کو ملاتی صاف ستھری چوڑی شاہراہ ہے۔ جو شہر میں تیزی سے نقل و حمل کا بہترین ذریعہ ہے۔ 7 تاریخ کا پورا دن ہم لوگوں نے ارمان شمسی بھائی کے گھر کھاتے پیتے، گپے کرتے گزارا بھابھی بچوں سب کا یہی خیال تھا کہ ہمیں ہوٹل وغیرہ کی فضولیات میں پڑھنے کے بجائے یہی ان کے گھر قیام کرنا چاہیے اور ہمارے آرام کرنے کے لیے بستر لگا دیے گئے ہیں کمرے درست کر دیے گئے ہیں اور ہمیں یہاں کسی چیز کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اتنی خلوص سے بھری دعوت کو ٹھکرانا گو ہمارے لیے کافی مشکل بات تھی لیکن ہمارا ہوٹل پہلے سے بک تھا ہم نے اس کے کرائے بھی ادا کر دیے تھے تو ایسی صورت میں ارمان بھائی کے ہاں قیام کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ شام تک کھانے پینے کے دور چلنے کے بعد ہم لوگ اوبر ٹیکسی کے ذریعے ہوٹل پہنچ گئے۔
    ہوٹل تک پہنچنے کا راستہ جتنا مشکل تھا ٹریفک کے اژدام میں پھنسی اوبر ٹیکسی میں جتنی کوفت ہوئی تھی۔ ہوٹل اتنا ہی خوبصورت اور آرام دہ تھا کہ راستے کی تمام تھکان یک دم رفو چکر ہو گئی۔ ڈھاکہ شہر میں دنیا کے تمام دیگر بڑے شہروں کی طرح ٹریفک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور آپ کہیں بھی جائیں گوگل میپ کے ذریعے دکھائی جانے والے وقت کو دو سے ضرور ضرب دے لیں۔
    دوسرے دن صبح ہیکل بھائی کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ وہ ہمیں ہوٹل سے لے لیں گے اور پھر ہم لوگ ان کی آرام دہ ایئر کنڈیشن کار میں، گرمی کے درجہ حرارت اور گرد و آلودگی سے محفوظ ڈھاکہ شہر کے نئی سٹی ہائی وے پر دوڑتے پھر رہے تھے ہیکل بھائی ہمیں اپنے مخصوص لہجے میں بتا رہے تھے کہ ہم شہر کے کس حصے سے گزر رہے ہیں آس پاس کون سی اہم عمارتیں ہیں۔ اور پھر انہوں نے ڈرائیور سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں شہر سے باہر لے چلے۔
    ڈھاکہ کے گردنواح میں شہر کے بالکل برعکس نہایت خوبصورت سرسبز علاقے موجود ہیں جہاں شہر کی تام جام سے دور انسان نہایت سکون سے تازہ فضاؤں میں سانس لیتا لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔ پہلے ہم لوگ ڈھاکہ شہر کی ایک نئی خوبصورت بستی “پوربو چل” آئے۔ اور پھر ڈھاکہ سے تقریبا” 50 کلومیٹر دور ایسے ہی ایک مضافاتی علاقہ جس کا نام ‘ماوا’ کے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ، بنام ‘لیو لاوئنج’ میں پہنچ کر آرام کیا۔ یہاں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ مزیدار بنگلہ دیشی کھانے اور چائے کے دور کے بعد قلفی کا دور چلا۔ تصاویر لی گئیں اور پھر ہم لوگ چند کلومیٹر کی مذید مسافت کے بعد قریبی دریا کے کنارے آپہنچے۔ یہاں سامنے عظیم الشان دریائے پدما کا پانی ٹھاٹھیں ماررہاتھا۔ ایک کشتی والے سے مول تول ہوا اور اس شرط پر کہ وہ ہمیں دریا کی سیر کے دوران گرماگرم چائے بھی پلائے گا۔ معاملہ طے ہوگیا۔ کشتی پر سوار ہونا کچھ آسان کام نہیں تھا۔ چونکہ پہلے ڈھلان سے نیچے اتر کر ایک لکڑی کے تختے پر، جس کا ایک سرا زمین اور دوسرا کشتی سے جڑا تھا، پر چلتے ہوئے کشتی پر سوار ہوناتھا۔ فیصل نواز اور ہیکل بھائی کی ملاح اور میں نے مدد کی اور پھر میں بھی اس ڈگمگاتے پل کے ذریعے کشتی میں اتر گیا۔
    کشتی میں لگے موٹر کو ملاح نے اس کی ڈوری کی مدد سے اسٹارٹ کیا اور گھر گھر کرتا انجن جاگ پڑا۔ ایک چھوٹا بچہ بھی ملاح کی مدد کو موجود تھا اور کمال مہارت سے کشتی کو آس پاس کھڑی کشتیوں کے بیچ سے نکلوا کر کھلے پانی میں آنے کے لیے مدد کرتا رہا۔ کشتی نے سامنے بنے کچھ فاصلے پر قائم پدما برج کا رخ لیا۔ طے یہ ہوا تھا کی کشتی دریائے پدما میں ایستادہ مختلف پلر جن پر برج کی بنیاد کھڑی تھی، میں سے پلر نمبر 2 تک جائے گی اور پھر واپسی کے لئے مڑ جائے گی۔ اور ٹھیک اسی پلان کے تحت کشتی کبھی تیزی سے اور کبھی سست رفتاری سے اپنا ہدف طے کرتی رہی۔ ہم لوگ چائے پیتے، مختلف مناظر کو کیمرے کی آنکھوں سے قید کرتے آگے بڑھتے رہے۔ سورج غروب ہونے جارہا تھا اور دور پانی میں، سطح آپ پر دوڑتی لکیریں بھلی لگ رہی تھیں۔۔۔پھر واپسی کاسفر طے ہونے لگا۔،۔کشتی سے اتر کر گاڑی میں سوار ہوئے اور پھر ہم لوگ شبانہ نوید کے گھر آگئے۔ ہیکل ہاشمی بھائی، شبانہ نوید اور رضوانہ ہاشمی تینوں بہن بھائی اپنے والد مرحوم نوشاد نوری ہی کی طرح بنگلہ دیش کی سب سے معتبر شخصیات ہیں۔ شعر و ادب کے شعبے میں تینوں ہی بہت فعال ہیں۔ شبانہ نوید نے نہ صرف پرتکلف عشائیہ کا انتظام کر رکھا تھا بلکہ بنگلہ دیش میں عصر حاضر کے اردو معروف شاعر شمیم زمانوی سے بھی میری ملاقات کو ممکن بنا دیا تھا۔ شمیم بھائی سے میری پہلی ملاقات سن 2020 میں رضوانہ ہاشمی کے گھر ہو چکی تھی۔ اس خوبصورت محفل کے اختتام پر ہم لوگوں کو ہیکل بھائی کے ڈرائیور نے ہوٹل پہنچادیا۔
    اگلے دو دن ہمیں ڈھاکہ یونیورسٹی کے مختلف ہال میں اردو کانفرنس کے لیے گزارنے تھے۔
    روداد اردو کانفرنس ڈھاکہ

    دوسرے دن 9 نومبر 2025 کو ہم لوگ علی الصبح اٹھ گئے۔ ہوٹل میں ناشتے سے فارغ ہوکر ہم لوگ ڈھاکہ یونیورسٹی کو روانہ ہوگئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ غلام مولا نے ہم لوگوں کے لیے اوبر ٹیکسی کا انتظام کر دیا تھا۔
    کانفرنس ہال زیادہ دور نہ تھا۔ اس سے قبل 2020 میں میں ایسی ہی ایک کانفرنس میں شرکت کرچکا تھا۔ ڈھاکہ اور راجشاہی دونوں جامعات کے طلبہ سے میرا گہرا رابطہ تھا۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے میں ان کی مدد بھی کرتا رہتا ہوں۔ کانفرنس کے وسیع وعریض ہال میں تمام مندوبین جمع تھے۔” قومی بیداری میں اقبال اور نذرلاسلام کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ ہونے والی اس کانفرنس میی کل 22 ممالک سے تشریف لانے والے تھے۔ جن میں پاکستان سے، فاطمہ حسن، طارق ہاشمی، شیما صدیقی، ہندوستان سے خواجہ محمد اکرام، ، جرمنی سے سرور غزالی، ناروے فیصل نواز، فن لینڈ سے ارشد فاروق، کینیڈا ولی عالم شاہین، نیپال ثاقب ہارونی، مصر عثمان عبدالناصر، تشریف لائے تھے۔ اس کے علاوہ کئی ایک ممالک سے مندوبین نے آن لائن شرکت کی، جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ غوثیہ سلطانہ نوری، سوئیڈن سے حنا خراسانی، ہندوستان سے اسلم جمشید پوری
    اقبال کی خودی اور نذرالاسلام کی بے خودی سے قومی بیداری کو جو جلا ملی اس پر تمام مندوبین نے اپنیاپنے مقالے پیش کیے کل 120 مقالے دو دن کے مختلف سیشن میں پیش ہوئے۔ اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد ہمہ وقت ان سیشن میں موجود رہی۔ کانفرنس کے دو دنوں کے تمام اجلاس میں اردو ادب کے طلباء کے علاوہ دیگر فیکلٹی کے طلباء رضاکارانہ طور پر ہمہ وقت چاک و چوبند مندوبین اور مہمانوں کی خدمت پر کمر بستہ نظر آئے۔ طلباء اور طالبات فرمائشیں کرکے دور دراز سے آئے اپنے ان ہیروز، اساتذہ کرام کے ساتھ تصاویر کھینچواتے رہے۔ اختتامی اجلاس کے بعد تقسیم اسناد اور نذرانہ پیش کرنے کی تقریب رکھی گئی۔
    کانفرنس میں پڑھے گئے تمام مقالے ایک مجلہ کی صورت میں شائع بھی کیے جائیں گے۔ کھانے اور چائے کے وقفے کے دوران لذیذ بنگلہ دیشی کے علاوہ ہندوستانی پاکستانی کھانوں سے مہمانوں کی ضیافت کی جاتی رہی۔
    پہلے دن یعنی 9 نومبر کے اجلاس کے اختتام پر سیالکوٹ سے تشریف لائیں پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ فردوس کی ضخیم کتاب بعنوان “ادب میں
    رجائیت” جسے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام نے بڑے احتمام سے شائع کیا ہے، کی تقریب رونمائی رکھی گئی تھی جس میں مصنفہ شگفتہ فردوس نے اپنی کتاب کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ سرور غزالی، خواجہ محمد اکرام، فاطمہ حسن اور پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے کتاب کے مندرجات پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
    اسی شام چھ بجیایک مشاعرے کا اہتمام انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے ممتاز شاعر شمیم زمانوی کو صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی اور سید پور سے تشریف لائے شاعر ساگر بابو نینظامت کے فرائض انجام دیے۔ جن شعراء￿ نے اپنے اپنے کلام سے مشاعرے کی تقریب کو فکر و سوچ کے در کھولتی، شعر وغزل کی رنگ باندھتی، محفل میں بدل دیا ان کے اسمائے گرامی ہیں۔ ہیکل ہاشمی، ساگر بابو، سلام اے حمید، طارق ہاشمی، فاطمہ حسن، شمیم زمانوی اور سرور غزالی،افضل منگلوری، ثاقب ہارونی، ماجد اقبال، سلام حمید، ولی عالم شاہین۔
    بعد از مشاعرہ ایک موسیقی کا پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں غلام مولا اور دیگر گلو کاروں نے اپنی اپنی صداکاری کے جوہر دکھائے۔

    راجشاہی کاسفر اور راجشاہی کے طلبہ سے خطاب
    راجشاہی یونیورسٹی میں سیمینار
    اردو کانفرنس کے اختتام کے دوسرے دن ڈھائی بجے ہماری ٹرین راجشاہی کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ ‘سلک سٹی’ نامی ٹرین ڈھاکہ کے کملا پور اسٹیشن سے تقریبا پانچ گھنٹے 20 منٹ میں راجشاہی پہنچ جاتی ہے۔ ڈھاکہ اور راجشاہی کے مابین چلنے والی ایک اور تیز رفتار ٹرین بھی ہے جس کا نام ‘دھوم کیتو ایکسپریس’ ہے۔ جو ساڑھے تین گھنٹے ہی منزل پہ پہنچا دیتی ہے۔ بنگلہ دیش کی سر زمین برہم پترا، میگنا اور دریا ئے گنگا کی آماجگاہ ہے اور یہاں دریاؤں اور ذیلی دریاؤں کے جال بچھے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر تیز رفتار ٹرین چلانے کے لیے ضروری تھا کہ ان دریاؤں پر ایسے پل بنائے جائیں جو ان دریاؤں کے اوپر سے گزرتے ہوئے ٹرین کو تیز رفتاری کے ساتھ ایک سے دوسرے مقام پر پہنچا سکیں۔ گزشتہ سالوں میں بنگلہ دیش کی حکومت ان پروجیکٹ پہ کام کرتی رہی ہے اور اس وقت بنگلہ دیش میں ایسے کئی بڑے اور طویل پل بنائے گئے ہیں جن پر ٹرینیں اور کاریں سفر کو برق رفتار اور آسان بناتی، اگے بڑھتی ہیں۔ ہماری ٹرین وقت مقرر پر کھلی اور کملا پور ریلوے اسٹیشن سے چل کر ایئرپورٹ اسٹیشن تک پہنچی اس کے علاوہ سفر کے دوران جن نمایاں اسٹیشنوں پر ہماری ٹرین نے توقف کیا، ان میں جوئے دیب پور، ٹنگائل، ابراہیم آباد، اْلّہاپاڑہ، چاٹمْوہَر، اور دوسرے اسٹیشن پر مختصر قیام کرتی ہوئی ایشورڈی بائی اسٹیشن رکتے ہوئے راجشاہی صرف 6 گھنٹے کی مسافت کے بعد پہنچ گئی دوران سفر، ٹرین کے دونوں طرف سرسبز و شاداب دھان لگے کھیت، مچھلی پکڑنے کے مخصوص جال والے تالاب ہماری نگاہوں کو خیرہ کرتے رہے۔ راجشاہی بنگلہ دیش کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ راجشاہی شہر نہ صرف ایک سرسبز و شاداب شہر ہے جس کی نسبت سے’گرین سٹی’ کہلاتا ہے بلکہ اپنے سلک کپڑے کی پیداوار کی وجہ سے سلک سٹی اور بے شمار یونیورسٹی اور فنی کالجز کی موجودگی کی وجہ سے ‘علم دوست’ یا ‘طلبہ کا شہر’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
    شعبہ اردو کے اٹھ طالب علم جن کے نام مزمل حق المامن، تنزل رشید، فردوس عالم، عالم رحمان، خیر الاسلام، اور ایک پاکستانی طالب علم محمد
    طاہر ہمارے ساتھ ڈھاکہ سے ہم سفر تھے یہ طلبہ ہمہ وقت اپنے استاد محترم سمیع الاسلام صاحب کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں مہمانوں فیصل نواز اور سرور غزالی کی بھی خدمت پر کمر بستہ تھے۔ راستے میں چائے اور دیگر مشروبات اور ناشتے سے ضیافت کا انتظام بھی تھا ایک طالب علم، مزمل حق کے والد محترم ابراہیم آباد نامی اسٹیشن پر ہم سے ملنے آئے اور ناشتے کا سامان دے گئے یہ چاول کے لذیذ پیٹھے تھے جن کا شمار بنگلہ دیش کے خصوصی کھانوں میں ہوتا ہے۔
    راجشاہی یونیورسٹی کا شعبہ اردو بہت فعال، طلبہ کے مسائل حل کرنے میں ہمہ وقت مصروف اور شعبہ اردو کو دنیا کے تمام دوسری جامعات کے شعبے اردو سے جوڑنے میں مصروف کار ہے۔ راج شاہی یونیورسٹی کے شعبے اردو کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر شہید الاسلام صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر سمیع الاسلام صاحب چند طلبہ کے ساتھ ڈھاکہ تشریف لائے تھے اور بنفس نفیس خود ٹھاکہ میں منعقدہ اردو کانفرنس میں شریک رہے تھے۔برلن سے ڈھاکہ کے لیے روانگی سے قبل ہی سمیع الاسلام صاحب نے راجشاہی یونیورسٹی میں ایک سیمینار منعقد کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کا عنوان تھا ” عالمی سطح پر اردو : نئی جست اور امکانات”۔ سیمینار کی صدارت کر رہے تھے شعبہ اردو راجشاہی کے صدر جناب شہید الاسلام مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے شعبے اردو راجشاہی یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر شمیم خان، ناروے سے تشریف لائے جناب فیصل نواز چوہری سیمینار کے دوسرے شرکاء میں شامل تھے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر نصیر الدین، پروفیسر ڈاکٹر ام کلثوم، نظامت کار کے فرائض انجام دے رہے تھے شعبہ اردو راجشاہی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سمیع الاسلام جبکہ اس سیمینار کی کلیدی لیکچر دینے والے تھے سرور غزالی۔ کانفرنس میں تمام اساتذہ کرام نے طلبہ کو علم کی اہمیت اور دیگر زبانوں کو سیکھنے کی ضرورت جیسے موضوعات پر لیکچر دیا۔ اپنے کلیدی خطبے میں سرور غزالی نے ادب شناسی، ادب کی تعلیم اور سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور لسانی ترقی کی اہمیت کو واضح کیا اور شعبہ ادب کے طلباء￿ کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل طے کرنے کے سلسلے میں مفید مشورے دیے۔ انہوں نے سوالات اور جوابات کے سلسلے کو بڑھاتے ہوئے طلبہ سے ان کے سوالات سنے اور انہیں سنجیدگی اور خندہ پیشانی سے تمام جوابات مہیا کیے اس طریقے سے اس سیمینار اپنے اختتام کو۔ پہنچا۔
    اسی شام راجشاہی یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ نے مہمان خصوصی سرور غزالی اور فیصل نواز چوہری کے اعزاز میں ایک موسیقی کا پروگرام بعنوان “شام غزل” ترتیب دیا اور شعبہ فنون لطیفہ کے پروفیسر عالمگیر پرویز شمن نے اپنی خوبصورت آواز میں میر تقی میر، غالب، ذوق اور احمد فراز کی غزلیں سنائیں ان کا ساتھ دے رہے تھے طبلے پر سنزئی کمار۔

    ڈھاکہ کے اہم مقامات
    آج 15 نومبر 2024 کو ڈھاکہ شہر کی سیر
    آج ہم لوگ نے صبح ایک کار کرائے پر لی جو دن بھر کے لیے مختص کی گئی تھی اور پھر ہم لوگ نکلے اور سب سے پہلے نواب پور روڈ پر آئے اور وہاں سے بونوگرام روڈ سے ہوتے ہوئے واری ڈھاکہ میں جوگی نگر پہنچے۔ 89 جوگی نگر، پی او واری ڈھاکہ، میرے نانا اور بڑے ماموں کا
    پتہ تھا۔ جہاں یہ گھر تھا یہ ایک قدیم پرانا محلہ ہے اور یہاں کئی ایک پرانی عمارتیں بھی ہیں یہاں پر ایک مندر بھی دیکھا جس کے بارے میں مجھے اتنا کچھ ایسا یاد نہیں ہے۔ ٹھیٹھری بازار میں نانا کی انگلی پکڑے اس بچے کو نگاہیں تلاش کرتی رہیں۔ گو کہ گلیاں ویسی ہی تھیں۔ مگر قدیم عمارتیں خاصی مخدوش ہو چکی ہیں۔
    یہاں سے نکل کر دھان منڈی آئے اور وہاں سے ہیکل بھائی کو لیا۔ ہیکل بھائی ہمارے پہلے دن سے ہی ٹورسٹ گائیڈ بن چکے تھے ان کی کمال مہربانی شفقت اور محبت تھی کہ انہوں نے ہمیں ڈھاکہ شہر اور اس کے مضافات کو دکھانے کی ذمہ داری بغیر ہمارے کہے لے لی تھی۔ آج ہم نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ہمارے ڈھاکہ شہر کے اندر کے چیدہ چیدہ مقامات دکھائیں گے اور انہوں نے اس کا آغاز ڈھاکہ کے پارلیمنٹ سے کیا۔ ہم لوگ سب سے پہلے پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے گئے وہاں کچھ تصاویریں بنائی گئی پھر انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ ہمیں پارلیمنٹ کی پیچھے اس سڑک پر لے جائے جو پارلیمنٹ بلڈنگ اور اس کے ساتھ بنی چھوٹی نہر کے درمیان دوڑتی ہے۔ ہیکل بھائی نے ہمیں بتایا کہ نہر ایک چاند کی صورت میں ہے اور پارلیمنٹ بلڈنگ اوپر سے بالکل ایک ستارے کی مانند نظر آتی ہے گویا یہ چاند تارا ہے۔ اس چھوٹی نہر کو عبور کرتے ہوئے آگے جا کر ہم لوگوں نے ضیاء الرحمن، سابق صدر بنگلہ دیش کا مزار دیکھا اور پھر وہاں سے ہم لوگ کار کے ذریعے چل پڑے اور شہید مینار جس میں خواجہ ناظم الدین، سہروردی اور شیر بنگال اے کے فضل حق تینوں کے مزارات ہیں پہنچے۔ ہم نے مزارات دیکھے۔ اس کے ٹھیک پیچھے ایک قدیم زمانے کی مسجد اور درگاہ بھی تھی اور میری خواہش پر، ہم نے اس قدیم زمانے کی بنی درگاہ اور مسجد کی بھی سیر کی مسجد انتہائی چھوٹی سی تین صفوں کی مسجد جس کا بڑا سا صحن تھا جمعہ کی نماز کی تیاری ہو رہی تھی مسجد اور درگاہ کی عمارت مینار اور گنبد اور اس کی تمام دیواریں قدیم تاریخی ورثہ(تعمیرسن1679) کے طور پر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ شہید مینار سے نکل کر ہم لوگ پھر ڈھاکہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سائنس میں آئے۔ یہ شعبہ برطانوی دور کی یاد کی عمارت کر زن ہال، ایک انتہائی نادر عمارت میں قائم ہے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں لگے مختلف پھول پودے درخت انتہائی خوبصورتی سے قدیم اور جدید کا امتزاج پیش کر رہے تھے۔ فیکلٹی سے نکل کر ہم لوگ قریبی طلبہ طالبات کے ہاسٹل جن میں طالبات کا ہاسٹل اے کے فضل الحق ہاسٹل دیکھا۔ راجو میموریل پارک دیکھا اور پھر ہم لوگ اس پارک میں پہنچے جہاں مختلف مجسمے جن میں نذر الاسلام، فضل الحق کے اور ان سب کے درمیان میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا مجسمہ نصب تھا اس پارک میں پتھروں سے بنے ہوئے مختلف مجسمے لگے ہوئے تھے۔
    یہاں سے نکل کر ہم لوگ بیت المکرم پہنچے۔ گاڑی پارک کی گئی اور ہم لوگ بیت المکرم مسجد کے بڑے سے صحن میں آپہنچے۔ مسجد کے اندرونی حصے کو دیکھا یہاں بھی جمعہ کی نماز کی تیاری زور شور سے ہورہی تھی اور پھر ہیکل بھائی ہم لوگوں کو لیکر مسجد کے مین دروازے کی طرف آگئے اور وہاں سے جو کہ منظر میں نے دیکھا اس پر مجھے خود یقین نہ آیا، داخلے کے مین دروازہ کے سامنے عریض صحن میں کھڑے ہو کر اگر آپ مسجد پر نگاہ ڈالیں تو سفید رنگ کی ایک چوکور عمارت نظر آتی ہے، جو کہ خانہ کعبہ سے مشابہ ہے سفید رنگ کی یہ چوکور عمارت اپنی بناوٹ ہیت میں بالکل خانہ کعبہ کی نقل ہے اور اس کے اوپری حصے پر تین سفید کی بجائے سیاہ پٹی بھی ویسے ہی ہے جیسے خانہ کعبہ پر دکھائی دیتی ہے یہ مسجد، مسجد بیت المکرم اس لحاظ سے میرے لیے قطعی مختلف اور یونیک تھی کہ تمام دنیا کی مساجد جو گنبد مینار کے ساتھ نظر آتی ہیں تو ایک مخصوص طرز تعمیر
    کا، یعنی اسلامی تعمیرات کا پتہ دیتی ہیں لیکن مسجد بیت المکرم کی یہ بات بہت خاص ہے اس پہ نگاہ پڑتے ہی خانہ کعبہ کی تصویر نگاہ کے سامنے پھر جاتی ہے۔ بڑے سے صحن میں کھڑے ہو کر ہم لوگوں نے یہاں بھی تصاویر بنائی اور پھر یہاں جمعہ پڑھ کر آگے چل پڑے۔

  • مشکلات میں گھرے ڈکی بھائی کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی

    مشکلات میں گھرے ڈکی بھائی کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے جوئے کی ایپلیکیشنز کی پروموشن سے متعلق مقدمے میں یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی اور 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسے نوعیت کے کیسز میں ضمانت نہ ہونا غیر معمولی بات ہے۔عدالت نے مقدمے کے فریقین کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر دلائل کے لیے طلب کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ یوٹیوبر ڈکی بھائی نے ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کیسے کیا جائے….ڈاکٹر شکیل حیدر

    نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کیسے کیا جائے….ڈاکٹر شکیل حیدر

    فنون لطیفہ انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم ترین ورثہ ہیں جو معاشرے کی روحانی اور جمالیاتی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاہم موجودہ دور میں نئی نسل کا رجحان فنون لطیفہ سے دور ہوتا جا رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ اس مضمون میں ہم نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کرنے کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالیں گے۔
    تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کی اہمیت
    فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے کا پہلا زینہ تعلیمی ادارے ہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کو ثانوی حیثیت حاصل ہے جبکہ اسے مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسکولوں میں مصوری، موسیقی، نقالی اور دیگر فنون کے لیے باقاعدہ ورکشاپس کا انعقاد، ماہرین فن کی آمد، اور عملی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنانا نہایت ضروری ہے۔ طلباء میں فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے ہاؤس آف کَلچر کا قیام ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ کا ہم آہنگ استعمال
    آج کی نسل ٹیکنالوجی سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔ فنون لطیفہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کر کے نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مصوری کو ڈیجیٹل آرٹ میں تبدیل کرنا، موسیقی کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے سیکھنا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فن پاروں کی نمائش جیسے اقدامات نوجوانوں کو فنون لطیفہ کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے آرٹ گیلریز کا دورہ، آن لائن فن کے کورسز، اور سوشل میڈیا پر فنکارانہ سرگرمیوں کی تشہیر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
    خاندانی ماحول کا کردار
    فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے میں خاندانی ماحول بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر گھر کا ماحول فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں کا حامل ہو گا تو بچوں میں فطری طور پر اس طرف میلان پیدا ہو گا۔ والدین اپنے بچوں کو مصوری کے آلات، ساز، اور ادبی کتابیں فراہم کر کے ان میں فنون لطیفہ کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتے ہیں۔ خاندانی سطح پر فنون لطیفہ کی محفلوں کا انعقاد، فنکاروں سے ملاقاتیں، اور آرٹ گیلریوں کے دورے بچوں کے ذوق کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
    معاشرتی رویوں میں تبدیلی
    معاشرے میں فنون لطیفہ کو غیر عملی اور غیر مفید سمجھنے کا رجحان عام ہے۔ اس رویے میں تبدیلی لانا نہایت ضروری ہے۔ معاشرے کو یہ باور کرانا ہو گا کہ فنون لطیفہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی ذہنی اور روحانی تربیت کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔ فنون لطیفہ کے ذریعے انسان میں حساسیت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
    فنکاروں کی سرپرستی اور معاشی تحفظ
    نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فنکاروں کی مناسب سرپرستی کی جائے اور انہیں معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب نوجوان دیکھیں گے کہ فنون لطیفہ سے وابستہ افراد معاشی طور پر مستحکم ہیں تو وہ اس طرف راغب ہوں گے۔ حکومتی اور نجی سطح پر فنکاروں کے لیے اسکالرشپس، گرانٹس، اور مالی امداد کے پروگراموں کا انعقاد اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
    میڈیا کا کردار
    میڈیا عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے فنون لطیفہ کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں اس کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔ فنون لطیفہ سے متعلق ڈاکیومنٹریز، پروگرامز، اور انٹرویوز کا اجرا، فنکاروں کی کامیابیوں کی تشہیر، اور فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اس سلسلے میں میڈیا کے اہم فرائض میں شامل ہیں۔
    ثقافتی مراکز کا قیام
    ہر شہر میں ثقافتی مراکز کا قیام نئی نسل کو فنون لطیفہ سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔ یہ مراکز مختلف فنون کی تربیت، نمائشوں، لیکچرز اور ثقافتی تقریبات کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک لائبریریوں میں فنون لطیفہ سے متعلق کتابوں کے شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔
    نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھنا
    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی نفسیات کو سمجھا جائے۔ آج کے نوجوان روایتی طریقوں سے زیادہ جدید اور تخلیقی طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں فنون لطیفہ سے جوڑنے کے لیے ایسے طریقے اپنانے ہوں گے جو ان کی دلچسپیوں کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر، سٹریٹ آرٹ، ڈیجیٹل میوزک، اور جدید رقص جیسی شکلیں نوجوانوں کو زیادہ متوجہ کر سکتی ہیں۔
    بین الشعباتی ربط
    فنون لطیفہ کو دیگر شعبوں کے ساتھ مربوط کر کے بھی نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سائنس اور آرٹ کے ملاپ سے پیدا ہونے والی نئی شکلیں، کاروبار اور فنون لطیفہ کے باہمی تعلق، اور ٹیکنالوجی اور آرٹ کے امتزاج سے بننے والی نئی جہتیں نوجوانوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتی ہیں۔
    عملی اقدامات
    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
    1. اسکولوں اور کالجوں میں فنون لطیفہ کے کلابز قائم کرنا
    2. فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اور انعامات کا اہتمام
    3. مقامی فنکاروں کے ساتھ نوجوانوں کے تعامل کے مواقع پیدا کرنا
    4. فنون لطیفہ کی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد
    5. فنون لطیفہ سے متعلق آن لائن پلیٹ فارمز کا قیام
    6. فنون لطیفہ کو روزگار سے جوڑنے کے مواقع پیدا کرنا

    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نوجوانوں کی نفسیات، ان کے رجحانات اور جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب حکمت عملی تیار کریں۔ فنون لطیفہ انسان کی بنیادی ضرورت ہیں جو اسے مکمل انسان بناتی ہیں۔ انہیں نظر انداز کر کے ہم نہ صرف اپنی تہذیبی روایات سے دور ہو رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کی روحانی غذا سے محروم کر رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کوشش کریں کہ نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہماری تہذیب و ثقافت کی شاندار روایات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکیں۔

  • ہیلووین: امریکا میں ایک قدیم تہوار کا جدید روپ…..حمیرا گل تشنہ

    ہیلووین: امریکا میں ایک قدیم تہوار کا جدید روپ…..حمیرا گل تشنہ

    ہیلووین امریکا کا وہ منفرد تہوار ہے جس میں پراسراریت، تخیل اور تفریح کا انوکھا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر سال 31 اکتوبر کی شام کو امریکہ بھر کے شہر و دیہات چمکتے ہوئے کدو کے قندیلوں، بھوتوں کے بھیس میں ملبوس بچوں اور عجیب و غریب سجاوٹ سے جگمگا اٹھتے ہیں ( جس کے نشانات نومبر کے آخر تک دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں )۔ یہ تہوار اپنی موجودہ شکل میں تو مکمل طور پر امریکی ہے، لیکن اس کی جڑیں یورپ کی قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت وقت کے ساتھ ساتھ ایک تہوار کے سفر کی دلچسپ داستان ہے جو قدیم مذہبی عقائد سے نکل کر آج کی ثقافتی دنیا کا حصہ بن گیا ہے۔
    ہیلووین کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس کی ابتدا موجودہ آئرلینڈ، برطانیہ اور شمالی فرانس میں آباد سیلٹک قوم کے قدیم تہوار “ساوین” (Samhain) سے ہوئی۔ سیلٹک لوگ یکم نومبر کو نئے سال کا آغاز مانتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ پرانے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کی درمیانی شب، یعنی 31 اکتوبر کی شام، دنیا اور عالم ارواح کے درمیان کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس رات مرے ہوئے لوگوں کی روحیں زمین پر واپس آ سکتی ہیں۔ سیلٹک لوگ اس رات آگ جلاتے، جانوروں کی قربانیاں دیتے اور ان جانوروں کی کھالیں سر پر پہن کر ان روحوں کو خوش کرنے یا ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں
    جب عیسائی مذہب یورپ میں پھیلا، تو کلیسیا نے مقامی تہذیبوں کے تہواروں کو عیسائی رنگ دے کر انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ساتویں صدی عیسوی میں پوپ بونیفاس چہارم نے یکم نومبر کو “تمام مقدسین کا دن” (All Saints’ Day) قرار دیا، جسے “آل ہالوز ایو” (All Hallows’ Eve) بھی کہا جاتا تھا۔ یہی لفظ وقت گزرنے کے ساتھ مختصر ہو کر “ہیلووین” (Halloween) بن گیا۔ اس طرح ایک قدیم سیلٹک تہوار عیسائی جامہ پہن کر یورپ میں منایا جانے لگا۔
    ہیلووین کو امریکا لانے کا سہرا یورپ سے آنے والے تارکین وطن کو جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں آنے والے قحط (آئرش پوٹیٹو فیمین) کے دوران لاکھوں آئرش لوگ امریکا ہجرت کر گئے۔ اپنے ساتھ وہ اپنی ثقافت، روایات اور تہوار بھی لے کر آئے، جن میں ہیلووین بھی شامل تھا۔ ابتدائی دور میں امریکا میں ہیلووین کی تقریبات محدود تھیں اور زیادہ تر آئرش آبادی تک ہی مرتکز تھیں۔
    بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہیلووین نے امریکا میں ایک قومی تہوار کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔ امریکی معاشرے نے ہیلووین کو اپنے طور پر ڈھال لیا اور اس میں کئی نئی روایات کا اضافہ کیا۔ اس کی مقبولیت میں اضافے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
    پہلا شہری کاری: جیسے جیسے لوگ دیہات سے شہروں کی طرف منتقل ہوئے، ہیلووین نے برادری کے جذبے کو فروغ دینے میں مدد کی۔ پڑوسی ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ “ٹِرک یا ٹِریٹ” کے لیے نکلتے، جس سے سماجی تعلقات استوار ہوتے۔

    دوسرا کاروباری مفاد: بیسویں صدی کے وسط تک کاروباری اداروں نے ہیلووین کی تجارتی صلاحیت کو پہچان لیا۔ کینڈی بنانے والی کمپنیوں، کاسٹیوم کے کاروباریوں اور سجاوٹ کے سامان بنانے والوں نے ہیلووین کو ایک بڑے کاروباری موقع کے طور پر دیکھا اور اسے فروغ دینا شروع کیا۔
    تیسرا میڈیا کا کردار: فلموں، ٹیلی ویڑن اور بعد میں انٹرنیٹ نے ہیلووین کو پورے امریکا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہیلووین کے موضوع پر بننے والی فلموں، ٹی وی شوز اور کارٹونز نے اس تہوار کو امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بنا دیا۔
    آج امریکا میں ہیلووین منانے کے مقاصد کافی وسیع اور متنوع ہیں۔ یہ تہوار اب صرف بھوت پریت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے کئی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی پہلو ہیں۔
    تفریح اور تخلیقی اظہار: ہیلووین امریکیوں کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے۔ لوگ نہ صرف اپنے لیے منفرد اور تخلیقی کاسٹیوم تیار کرتے ہیں، بلکہ اپنے گھروں کو بھی دیدہ زیب طریقے سے سجاتے ہیں۔ یہ تہوار بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے اپنی تخیلاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
    برادری اور سماجی رابطے: “ٹِرک یا ٹِریٹ” کی رسم درحقیقت پڑوسیوں کے درمیان میل جول اور سماجی رابطوں کو مضبوط بناتی ہے۔ بچے جب اپنے علاقے کے گھروں پر جاتے ہیں، تو نہ صرف انہیں مٹھائیاں ملتی ہیں، بلکہ وہ اپنی برادری سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ بڑے بھی ہیلووین پارٹیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور سماجی تعلقات استوار کرتے ہیں۔
    خوف پر قابو پانے کا ذریعہ: نفسیاتی نقطہ نظر سے ہیلووین لوگوں کو ایک محفوظ اور کنٹرولڈ ماحول میں خوف کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈراؤنی فلمیں دیکھنا، ہنستے کھیلتے ہوئے خوفناک کاسٹیوم پہننا، اور خوفناک کہانیاں سنانا درحقیقت ایک طرح سے خوف پر قابو پانے کی مشق ہے۔ یہ لوگوں کو ان چیزوں کا سامنا کرنا سکھاتا ہے جو عام زندگی میں انہیں ڈراتی ہیں۔
    تجارتی اہمیت: ہیلووین امریکا میں ایک بڑا کاروباری تہوار بن چکا ہے۔ ہر سال امریکی کینڈی، کاسٹیوم، سجاوٹ کے سامان، ہیلووین کارڈز اور دیگر مصنوعات پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ تہوار ریٹیل اور تفریحی صنعتوں کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
    ثقافتی یکجہتی: ہیلووین ایک ایسا تہوار ہے جسے امریکا کے تمام نسلی اور مذہبی گروہ مناتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مذہبی گروہوں کی جانب سے اس پر اعتراضات ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر امریکی اسے ایک سیکولر ثقافتی تقریب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کے مختلف گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کام کرتا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہیلووین میں کئی نئی روایات کا اضافہ ہوا ہے۔ اب صرف “ٹِرک یا ٹِریٹ” تک محدود نہیں رہا۔ اسکول اور کمیونٹی سینٹرز ہیلووین پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ہیلووین پریڈ منعقد ہوتے ہیں۔ ہاؤسٹڈ اٹریکشنز (خوفناک تفریح گاہیں) لوگوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہیلووین کے کاسٹیوم اور سجاوٹ کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، جس سے اس تہوار کی مقبولیت میں اور اضافہ ہوتا ہے۔
    ہیلووین کو لے کر امریکی معاشرے میں کچھ تنازعات بھی موجود ہیں۔ کچھ مذہبی گروہ اسے شیطانی قرار دیتے ہیں اور اس میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی زیادہ تجارتی ہونے پر تنقید کرتے ہیں۔ حفاظتی خدشات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں، جس کی وجہ سے اب بہت سے بچے شاپنگ مالز یا منظم اجتماعات میں “ٹِرک یا ٹِریٹ” کرتے ہیں۔
    ہیلووین درحقیقت ثقافتی ارتقا کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ تہوار اپنی پرانی جڑوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس نے وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیا ہے۔ آج ہیلووین امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جو تفریح، تخلیق، سماجی رابطے اور کاروبار کا ایک انوکھا مرکب پیش کرتا ہے۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کی انفرادیت، لچک اور ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت امریکا کی ہی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں پرانی روایات نے نئے ماحول میں اپنی جگہ بنائی اور ایک نئی شناخت تشکیل دی۔

  • چین کی پہلی مسجد: Huaisheng Mosque کی تاریخ ….ارم زہرا

    چین کی پہلی مسجد: Huaisheng Mosque کی تاریخ ….ارم زہرا

    چین کے شہر گوانگڑو کی فضائیں ہمیشہ سے مجھے کسی پرانی داستان کی طرح مہمیز دیتی رہی ہیں۔ اس شہر میں نمی بھری ہوا کا ایک مستقل لمس ہے، جیسے سمندر نے شہر کے گال پر نم چوم رکھے ہوں۔ جب میں نے سب وے اسٹیشن سے نکل کر باہر قدم رکھا تو دھوپ دھیمی سی تھی، مگر ہوا میں ایک عجیب سی سرگوشی تھی۔ یوں جیسے صدیوں کے واقعات مجھے اپنی طرف بلا رہے ہوں۔ میں جانتی تھی کہ آج میں اْس مقام کی طرف جا رہی ہوں جس کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہمیشہ دل دھڑکا تھا۔ Huaisheng Mosque وہی مسجد جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلام کی پہلی خوشبو چین میں یہاں بسی تھی۔
    راستہ پھولوں سے بھری گلیوں میں سے گزرتا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر وہ خوش دلی تھی جو مصروف شہروں میں اب کم دکھائی دیتی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہاں سے 1300 سال پہلے جب عرب تاجر اور داعیانِ اسلام آئے ہوں گے تو کیا شہر بھی یوں ہی رنگین و مصروف ہوگا، یا یہ گلیاں تب سمندر کے کنارے کسی خاموش معبد کا سا سکوت رکھتی ہوں گی؟
    مسجد کا سفید مینار دور ہی سے نظر آنے لگا۔ بلند، باریک، روشن، جیسے آسمان کے ساتھ کسی خاموش معاہدے میں بندھا ہوا ہو۔ میں نے قدم تیز کر لیے۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچتی گئی، ماحول کا شور پیچھے رہتا گیا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر یوں لگا جیسے میں کسی صدیوں پرانی کتاب کے پہلے صفحے پر پہنچ گئی ہوں۔
    Huaisheng Mosque، جسے Guangta Mosque یا Lighthouse Mosque بھی کہا جاتا ہے، چینی تاریخ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ روایات کے مطابق اس کی بنیاد 7ویں صدی (Tang Dynasty) میں رکھی گئی۔وہ زمانہ جب دنیا کے نقشے بدل رہے تھے اور تجارت کے راستے قوموں کو قریب لا رہے تھے۔
    کہا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص? جو رسولِ اکرم ? کے قریبی صحابی تھے۔ چین میں اسلام کا پیغام لانے والوں میں شامل تھے۔ اگرچہ تاریخ دان اس بارے میں مختلف آراء￿ رکھتے ہیں، مگر گوانگڑو کے مسلمانوں کی روایتی تاریخ انہیں پہلی تبلیغ کا مرکز مانتی ہے۔ اسی نسبت سے اس مسجد کو ‘‘چراغِ یاد’’ کے مفہوم میں Huaisheng کہا جاتا ہے—یعنی ’He Who Remembers the Sage‘۔
    مسجد کو صدیوں میں کئی بار تعمیر کیا گیا۔ کچھ حصے جنگوں میں متاثر ہوئے، کچھ وقت کے ہاتھوں ماند پڑے، مگر مینار—جسے Lighthouse Tower کہا جاتا ہے ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہا۔ قدیم بحری جہازوں کے ملاح اسے سمندری راستوں کے تعین کے لیے بھی دیکھتے تھے۔ آج بھی یہ 36 میٹر بلند مینار شہر کے دل میں اپنی خاموش شہادت پیش کرتا ہے کہ روشنی کبھی بجھتی نہیں۔
    آج اس مسجد کی دیکھ بھال Guangzhou Islamic Association کے زیر انتظام ہے۔ یہاں کا عملہ مقامی چینی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو اس ورثے کو یوں سنبھالتے ہیں جیسے اپنے بزرگوں کے قیمتی خطوط۔
    دروازہ پار کرتے ہی مجھے ایک پرسکون صحن ملا۔ ٹھنڈی ہوا نے میرا اسکارف چھوا، جیسے مسجد نے مجھے خوش آمدید کہا ہو۔ درختوں کی پتیوں پر بارش کی نمی ابھی تک ٹھہری ہوئی تھی، اور دھوپ کے نقرئی ذرات ان پر رقص کر رہے تھے۔
    میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی خاموشی شور کو نگل لیتی ہے۔ مسجد کے اندر کا ماحول کسی صوفی درویش کی سی گہرائی لیے ہوئے تھا۔ مجھے لگا جیسے ہر دیوار میں وقت کی سانسیں محفوظ ہوں۔
    میں آہستہ قدموں سے مینار کے نیچے پہنچی۔ اس کے سنگی بدن پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا، مگر اس کے اندر وقت کا اک گرم دھڑکن تھی۔ میں نے سوچا ‘‘کتنی نسلوں نے اس مینار کو دیکھا ہوگا؟ کتنے دل یہاں آکر بدل گئے ہوں گے؟’’
    ایک چینی مسلمان خاتون، سفید اسکارف میں، میرے قریب آئی۔ وہ نرمی سے بولی:
    ‘‘You are from Pakistan’
    میں نے سر ہلایا۔ وہ مسکرائی:
    ‘‘Many people from your country visit here. Mosque is… like bridge of hearts.’’
    ?bridge of hearts…
    مجھے لگا جیسے اس نے صدیوں پر محیط کہانی ایک جملے میں کہہ دی۔
    مسجد کا ہال سادگی سے آراستہ تھا۔ لکڑی کے ستون، سبز قالین، اور کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی۔ یہاں کسی مغرب کے بڑے تعمیراتی عجائب جیسی تجمل پسندی نہیں تھی، مگر روحانیت کی ایک ایسی خوشبو تھی جو دل کو بہت آہستگی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
    میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے جوتے برابر رکھے اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو ایسا لگا جیسے صدیوں کا سفر میرے گرد ایک دائرے کی صورت مکمل ہو رہا ہو۔ چینی لہجے میں دی گئی اذان نے دل کو عجیب طرح چھوا۔ اس میں اسلام کی عالمگیر وسعت بھی تھی اور ایک ذاتی سا پیار بھی۔
    نماز کے بعد جب میں صحن میں ٹہل رہی تھی، تو میں نے دیکھا۔ کچھ عرب خاندان تصویریں بنا رہے تھے۔ چند ملائیشین سیاح دعا مانگ رہے تھے۔ دو افریقی طالب علم مسجد کے نوٹس بورڈ پڑھ رہے تھیاور کچھ یورپی ٹورسٹ صرف اس کی قدامت دیکھنے آئے تھے
    میں نے ایک معمر چینی امام کو کہتے سنا
    ‘‘This mosque is not only for Muslims… it is a world heritage of peace.’’
    واقعی، یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں، ایک زندہ تاریخ ہیاسلام اور چین کی مشترکہ داستان۔
    میں نے مسجد سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دوبارہ مینار کو دیکھا۔ وہ شام کی نرم روشنی میں اور بھی شان دار لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہاں آنے والا ہر مسافر اپنے اندر کوئی نہ کوئی بے نام سا سوال لے کر آتا ہے، اور مسجد اسے ایک بے آواز، مگر گہرا جواب دیتی ہے۔
    ‘‘گوانگڑو کی اس مسجد میں نہ عربیت کی رنگینیاں ہیں نہ ایشیائی شان و شوکت؛ یہاں بس ایک ایسا سکوت ہے جو دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ Huaisheng مسجد ایک عمارت نہیں یہ چراغ ہے۔ وہ چراغ جس کی لو نے صدیوں سے دلوں کو منور رکھا ہوا ہے۔ اور میں… میں بھی اس روشنی کا ایک ذرہ اپنے اندر لے کر جا رہی ہوں۔’’
    گوانگڑو کی مسجد سے نکل کر جب میں نے شہر کی پرانی گلیوں کا رخ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔جیسے اس کا دوسرا باب خود میرے قدموں کے ساتھ چلنے لگا ہو۔ گلیوں کے موڑ پر ہوا میں سمندر کی نمی کم اور تاریخ کی خوشبو زیادہ محسوس ہونے لگی۔ شاید اسی خوشبو نے مجھے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام کا سفر چین تک پہنچا ہی اتنا سیدھا نہیں تھا یہ تین بڑی راہوں سے گزرا تھا۔ اور ہر راستے کے ساتھ ایک نیا عہد، ایک نیا رنگ جڑا ہوا تھا۔
    چین کی طرف آنے والی پہلی راہ Silk Road تھی، وہی عظیم راستہ جو شہروں کو نہیں دلوں کو جوڑتا تھا۔ انہی ریشمی راستوں پر کبھی عرب قافلے چلتے تھے۔ ان کے اونٹوں کی گرد میں تجارت کے ساتھ ساتھ محبت، امن اور دین کی روشنی بھی سفر کرتی تھی۔ میں نے سوچا، شاید انہی قافلوں کی آہٹ آج بھی شیان کے پتھروں میں محفوظ ہے۔
    دوسرا راستہ Maritime Silk Route تھا، سمندر کے نیلگوں تن پر چلنے والی وہ لہریں جو عرب تاجروں کو گوانگڑو، چوانڑو اور ہانگڑو تک لاتی تھیں۔ انہی تاجروں نے یہاں کی بندرگاہوں کو عبادت کے نور سے روشن کیا، اور انہی کے قدموں کے نشانات پر بعد میں کئی مساجد نے جنم لیا۔
    تیسرا راستہ سفارتی روابط کے ذریعے کھلا، جب ابتدائی مسلم سفیر چین کے دربار میں پہنچے۔ Tang اور Song خاندانوں کے دور میں مسلمانوں کو رہائش، تجارت اور عبادت کی آزادی ملی۔ انہی ادوار میں Hui مسلمان وجود میں آئے۔ وہ چینی نسل اور عرب ورثے کے خوبصورت ملاپ کا نام ہیں۔
    میں نے اپنے ذہن میں ایک تصویر دیکھی Hui لڑکیاں سفید دوپٹوں میں، حلال بازاروں کی رونقیں، عربی آیات جو چینی خطاطی میں ڈھل کر کسی بادل کی لکیر کی طرح نرم ہو جاتی ہیں۔ رمضان کی راتوں میں ان کے گھروں سے اٹھتی ہلکی سی روشنی، اور عید کے دن ان کے صحنوں میں بچوں کی ہنسی… یہ سب کچھ اسلام کی وہ شکل ہے جو صدیوں سے چینی دلوں میں رچی بسی ہے۔
    اور یہی ورثہ آج چین کی مساجد میں سانس لیتا ہے۔
    بیجنگ کی Niujie Mosque جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے چین اور اسلام نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر عبادت کی کوئی نئی زبان بنا لی ہو۔ اس کی لکڑی پر بنے نقوش صدیوں کے ذکر کی گواہی دیتے ہیں۔
    شیان کی Great Mosque جہاں دروازے پر ‘‘اللّٰہ النور’’ لکھا ہے مگر تحریر ایسی جیسے کسی چینی مصور نے اپنا دل روشنائی میں ڈبو کر لکھا ہو۔ وہاں نماز ہال سے زیادہ باغات دل کو چھوتے ہیں، جیسے عبادت ہوا میں گھلی ہوئی ہو۔
    چوانڑو کی Qingjing مسجد جسے لوگ کبھی Arabian Temple کہا کرتے تھے۔ اس کے یمنی طرز کے محراب مجھے سمندر کی نمکین ہوا میں ڈولتی عرب کشتیوں کی یاد دلاتے ہیں۔

    کاشغر کی Idkah Mosque جس کے بلند دروازے پر زمانہ رکا سا محسوس ہوتا ہے۔ اگر گوانگڑو کا مینار سمندر کے سفر کی یاد ہے تو کاشغر کی یہ مسجد ریشم کے قافلوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
    ہانگڑو کی Phoenix Mosque جو زلزلوں کے بعد بھی بار بار بنی، بالکل ایسے جیسے ایمان کی جڑیں زمین میں بہت گہری ہوں۔
    اور اس سارے سفر میں میں نے ایک حقیقت محسوس کی چین کا مسلمان صرف عبادت گزار نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے۔ Salar، Hui، Uyghur، Dongxiang یہ سب اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ اسلام کی وہ قندیل ہیں جو صدیوں سے یہاں جل رہی ہے۔
    اور یوں مجھے لگا کہ میرا گوانگڑو کا سفر، دراصل، چین میں اسلام کی پوری داستان کا دروازہ تھا۔ ایک ایسا دروازہ جو آج کھلا تو مجھے پوری دنیا کی روشنی دکھا گیا۔
    یہاں میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی نے سر اٹھایا۔ ایسی بے چینی جو مسافر کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں گوانگڑو کی پرانی گلیوں میں قدم رکھے آگے بڑھ رہی تھی، مگر محسوس یوں ہوتا تھا جیسے میں صرف شہر میں نہیں، تاریخ کے اندر چل رہی ہوں۔ ہر چہرہ، ہر دروازہ، ہر پتھر مجھے کسی نئے باب کی طرف کھینچتا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ چین کی یہ داستان صرف مساجد کی نہیں، ان لوگوں کی ہے جنہوں نے صدیوں تک اس روشنی کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھا۔
    میری ملاقات ایک Hui خاندان سے ہوئی۔ ان کی چھوٹی سی دکان کے باہر گرما گرم نان پک رہے تھے۔ وہی خستہ نان جن کی خوشبو کہیں نہ کہیں بخارا، سمرقند اور عرب ریگزاروں تک جا پہنچی تھی۔ دکان کی مالکن نے جب مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا: ‘‘Muslim?’’ تو اس کے لہجے میں وہ بے تکلف محبت تھی جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں مشترک ہے۔ میں نے سر ہلایا۔ اس نے فوراً چائے سامنے رکھ دی۔ مجھے لگا جیسے میں کسی پرائے دیس میں نہیں، اپنی نانی کے گھر آگئی ہوں۔
    ?Hui لوگوں کی یہ سادگی مجھے صدیوں پیچھے لے گئی۔ وہ اپنی زبان میں چینی بولتے ہیں مگر گھر کی دیواروں پر عربی خطاطی سجی ہوتی ہے۔ دسترخوان چینی خوراک سے بھرا ہوتا ہے مگر ذائقہ اسلامی روایت کا ہوتا ہے۔ وہ رمضان میں مساجد کے باہر لالٹینیں جلاتے ہیں اور عید کے دن سفید پوش میں ایسے سجتے ہیں جیسے کوئی پھول نرم روشنی اوڑھ لے۔
    میں گلیوں میں آگے بڑھی تو مجھے Uyghur نوجوانوں کا ایک گروہ ملا۔ ان کی موسیقی، جس میں رباب اور دف کی دھڑکن شامل تھی، ہوا میں تیرتی ہوئی دل کے اندر کسی نرم تار کو چھیڑ گئی۔ ان کے چہروں پر صدیوں کی مسافت، ریشم کی خوشبو، اور ترکستانی موسموں کی دھوپ سمٹی ہوئی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ کاشغر کی Idkah مسجد انہی کی دعاؤں سے آباد ہے۔
    ?Dongxiang لڑکے مسجد کے باہر وضو کر رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کے انداز میں ایک خاص سا وقار ہے۔ زندگی کے سخت موسموں کے باوجود ایمان کا نرم پھول ان کے چہروں پر کھلتا ہے۔ Salar قوم کے چند بزرگ مسجد کے دروازے پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کی آنکھوں میں وہی خاموشی دیکھی جو پہاڑوں پر جمع برف میں ہوتی ہے۔ سفید، گہری، اور کبھی نہ پگھلنے والی۔

    چین میں عورتوں کی مساجد کا وجود میرے لیے ایک حیرت انگیز انکشاف تھا۔ جہاں دنیا کے کئی حصوں میں عورتوں کو عبادت کی جگہ صرف ایک گوشہ ملتا ہے، وہاں چین کی Hui خواتین نے صدیوں پہلے اپنی الگ عبادت گاہیں بنا لی تھیں۔ ‘‘Nüsi’’ یعنی Women’s Mosque۔ یہاں خواتین قرآن پڑھاتی ہیں، اجتماعات کرتی ہیں، اور کبھی کبھی امامت بھی۔ میں نے سوچا شاید یہی وہ روشنی ہے جو صدیوں کے سفر کے باوجود کم نہیں ہوئی۔
    اس سارے منظر میں ایک بات واضح تھی اسلام یہاں کسی تلوار کے ساتھ نہیں آیا تھا، بلکہ سکون، تجارت، محبت، اور مسافروں کے دلوں سے بہتا ہوا پھیلا تھا۔ اور چینی مسلمانوں نے اسے اپنے موسموں، تہذیبوں اور دلوں میں یوں جذب کیا کہ اب یہ روشنی ان کی اپنی روشنی بن چکی ہے۔
    میرا سفر گوانگڑو سے شروع ہوا تھا، مگر اب لگتا تھا کہ یہ راستہ مجھے پورے چین کے روحانی نقشے پر گھما رہا ہیاور ہر موڑ پر ایک نئی اذان، ایک نیا چہرہ، اور ایمان کی ایک نئی خوشبو میرا استقبال کر رہی ہے۔
    سفر جب اپنے آخری سرے پر پہنچنے لگتا ہے تو قدموں میں عجیب سی مٹھاس اور دل میں ہلکا سا بوجھ اتر آتا ہے۔ گوانگڑو کی گلیوں میں میرا قیام بھی انہی کیفیتوں سے بھر گیا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس شہر نے مجھے اپنے دامن میں کچھ لمحوں کے لیے نہیں، صدیوں کے لیے بسا لیا ہو۔ ہوا میں وہی مانوس نمی تھی، مگر اب اس نمی کے اندر تاریخ، چراغ اور اذان کی بازگشت ملی ہوئی تھی۔
    اس دن میں دوبارہ Huaisheng Mosque کی طرف نکلی۔ آسمان پر شام کے خنک سائے پھیل رہے تھے۔ مسجد کا مینار دور سے ایسے چمک رہا تھا جیسے کسی نے فضا میں ایک سفید قلم سے روشنی کی لکیر کھینچ دی ہو۔ میں صحن کے بیچ کھڑی تھی اور محسوس کر رہی تھی کہ میری کہانی یہاں سے شروع بھی ہوئی تھی اور شاید یہیں مکمل بھی ہونا تھی۔
    میں نے مسجد کی زمین پر بیٹھ کر ہاتھ دوبٹے کے نیچے رکھے اور آس پاس پھیلی خاموشی کو سمیٹ لیا۔ اب میں جان چکی تھی کہ چین کے مسلمان صرف تاریخ نہیں، ایک زندہ روشنی ہیں وہ روشنی جسے نہ کسی حکمران نے بجھایا، نہ زمانے کی آندھی اسے ہلا سکی۔ وہ اپنے دلوں، گھروں، مساجد اور بازاروں میں اسی طرح روشن ہے جیسے کسی قدیم چراغ کا ارمان۔
    میرے ذہن میں Niujie Mosque کی لکڑی کے نقش تھے، شیان کی مسجد کے باغات تھے، کاشغر کے نیلے آسمان کے نیچے کھڑی Idkah کی محرابیں تھیں۔ مجھے لگا جیسے یہ سب مساجد ایک دوسرے سے ہاتھ پکڑے کھڑی ہیں، اور ان کے درمیان میں ایک مسافر ، میں نے وقت کی ان پتلی راہوں پر چلتی ہوئی، ان سب کو ایک ہی داستان کے دھاگے میں پرو رہی ہوں۔
    اسی لمحے ایک بچی مسجد کے گیٹ سے اندر آئی۔ اس کی ماں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اور وہ ایک چھوٹا سا سفید اسکارف پہنے تھی۔ بچی نے مینار کی طرف دیکھا، پھر مجھے دیکھ کر مسکرا دی۔ اس چھوٹی سی مسکراہٹ میں مجھے پورے چین کے مسلمانوں کا مستقبل دکھائی دیا۔ایک ایسا مستقبل جو خاموش، روشن، نرم اور مضبوط ہے۔

    میں نے آہستگی سے اپنی ڈائری نکالی۔ قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے یوں لگا جیسے لفظ خود بخود میرے اندر سے نکل کر صفحے پر بیٹھ جائیں گے۔ میں نے لکھا۔ سفر ہمیشہ منزل تک نہیں لے جاتا… کبھی کبھی سفر ہمیں خود تک لے آتا ہے۔
    گوانگڑو کی اس مسجد نے مجھے بتایا کہ ایمان کا سفر راستوں سے نہیں، دلوں سے گزرتا ہے۔
    اور اسلام کی روشنی جہاں بھی جاتی ہے، وہاں کے رنگوں، زبانوں، لوگوں کو یوں اپنے اندر سمو لیتی ہے جیسے کوئی خوشبو صبح کی ہوا کے ساتھ گھل جائے۔’’
    میں نے مینار کی طرف آخری بار نگاہ اٹھائی۔ شام کی ہوا میں اذان کی ہلکی سی گونج ابھری۔ نہ بہت بلند، نہ بہت مدھم۔ بس اتنی کہ دل کے اندر ایک صاف جگہ بناتی چلی جائے۔
    میں نے اس روشنی کو اپنے اندر سمیٹا، اور مسجد کے دروازے سے باہر آ گئی۔راستہ اب بھی وہی تھا، ہوا بھی وہی، مگر میں وہ نہیں رہی تھی۔
    سفر ختم ہو گیا تھا۔مگر جو روشنی میں اپنے ساتھ لے جا رہی تھی وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ یہ تھا میرا گوانگڑو… اور اسلام کی اْس قدیم روشنی سے ملاقات کا بند ہوتا ہوا ورق۔

  • حسین منصور ابھرتا ہوا دانشور  (آغاخالد)

    حسین منصور ابھرتا ہوا دانشور (آغاخالد)

    لاکھوں دیگر لوگوں کی مانند، یہ عام سا نوجوان بھی اپنے دل میں حسیں خوابوں کا ہار سجائے، اندرون سندھ کے پس ماندہ ضلع دادو سے کراچی پہنچا۔ اس مادی دور میں نہ اسے دولت کی ہوس تھی، نہ جاہ و جلال کی تمنا۔ وہ بس ایک فقیر منش مزاج کے ساتھ انسانیت کی معراج، فلسفہ کی ماہیت، اسباب و علل کی کھوج میں کھو گیا، تقدیر نے اسے سندھ کے سینیر وزیر شرجیل میمن کا پی آر او بنا دیا، مگر سچ یہ ہے کہ یہ اس کی منزل نہیں۔ اس کے کھوجی مزاج کی معراج کہیں اور لکھی گئی ہے۔ نوکری کے فراغت کے لمحوں میں وہ کبھی قدرت کے کمالات پر غور و بحث میں مصروف نظر آتا، کبھی اس کی عطائوں پر شکر گزار، کبھی گورکھ دھندوں پر شکوہ کرتا، اور ٹالسٹائی جیسے دانش وروں کے علوم میں جھانکتا، جبکہ افلاس میں لتھڑا معاشرہ کے لیے خیر کے راستے ڈھونڈتا نظر آتا ہے ، چالیس کی دہائی کے اوائل میں، حسین منصور کی دو تصانیف بازار میں دسترس پا چکی ہیں،
    ۱۔ آزادی کا ضدی عاشق (سندھی ایڈیشن)
    ۲۔ کاری-دی بلیک ل، جبکہ اس کی مزید تین کتابیں زیر طباعت ہیں، میں منٹو اور دوستوئیفسکی(نثر)، دل کہ جیسے ریت مٹھی میں (شاعری)، اور شعور ہستی (وجودیت کے فلسفے کا تجزیہ)، جو فلسفہ کے طالب علموں کے لیے سبق آموز ہوں گی اپنے ناول کاری دی بلیک میں حسین منصور نے جو منظر پیش کئے ہیں، وہ حیرت انگیز ہیں، جو کہ قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں، “علی نواز کی مدد سے شیرْو نے بچی کو آہستگی سے جیسے ہی گڑھے میں اتارا تب اس نے دیکھا کہ لڑکی کی قمیص کے نیچے نیفے میں کچھ چھپا ہوا ہے۔ اس نے ٹٹولہ ایک دیکھا تو وہ ایک گڑیا تھی، شیرو پر جیسے آسمان گر پڑا ہو۔ شیرو، جس نے بے شمار عورتوں اور لڑکیوں کو گڑھے کھود کر دفن کیا تھا، کی بے اولادی کی روح تک لرز اٹھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر بولا، “کیا مجھے اب بھی ماننا چاہئے کہ تْو واقعی موجود ہے؟” اس طرح ناول میں عاشی کی کہانی بھی بہت بھیانک ہے، آپ کو ایک بار یہ ناول ضرور پڑھنا چاہئے، منصور کے دوست اور ممتاز دانشور اور پبلشر سجاد سومرو لکھتے ہیں کہ “حسین منصور ایک خاموش چیخ، ایک اجنبی شناخت ہے، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ حسین منصور کون ہے، تو میں شاید خاموش ہو جاؤں، کیونکہ اسے سمجھنا الفاظ میں ممکن نہیں۔ اْسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، جیسے کوئی سناٹا جو چیختا نہیں، مگر دل کے اندر شور مچاتا ہے۔” منصور کے لیے ضروری ہے کہ آپ زندگی کی اْس پرت میں جھانکیں جہاں احساسات کا شور ہے مگر آواز نہیں، جہاں سوچ کی گہرائی ہے مگر سمت نہیں، اور جہاں لفظوں کا سمندر ہے مگر کوئی کنارے دستیاب نہیں، اس کا کرب ذاتی دکھ نہیں، بلکہ ایک پورے دور کی اذیت ہے وہ ان سوالوں کا نمائندہ ہے جنہیں آج کا نوجوان پوچھنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کوئی جواب موجود نہیں۔ جب وہ کہتا ہے، “میں دوستوئیفسکی نہیں
    ہوں، مگر میں ہوں”, تو یہ محض انکار نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ شناخت کا اعلان ہے۔ دوستوئیفسکی انسان کے اندر کے اندھیرے کو بے خوف دیکھتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے روشنی کا راستہ نکال دیتا ہے، جبکہ منصور انہی اندھیروں میں گم رہتا ہے اس کے نزدیک دوستوئیفسکی ایک آئینہ ہے جو اسے خود سے ملاتا ہے، مگر ملاقات کے بعد بھی اس کی شناخت دھندلی رہتی ہے۔ اس کا المیہ یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے الگ ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے لیے ایک پہیلی ہے۔ منصور کی سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ وہ بظاہر آزاد ہے، مگر اندر سے قید میں ہے۔ وہ زنجیریں جن کی بات کرتا ہے، عام لوگ دیکھ نہیں سکتے، مگر اْن کی چبھن ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے، اس کی گفتگو میں شریک ہونا اکثر دشوار ہوتا ہے، کیونکہ الفاظ اکثر احساسات کے ساتھ انصاف نہیں کرتے، جب وہ بولتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے الفاظ اْس کے نہیں بلکہ کسی اور کے ہوں۔ یہ کیفیت صرف ادبی یا تخلیقی نہیں، بلکہ ایک گہری وجودی الجھن ہے: زندہ ہونا، مگر زندگی کا کوئی مطلب نہ ہونا منصور کی اردو کی پہلی کتاب میں منٹو اور دوستوئیفسکی ایک علامتی انتخاب نہیں، بلکہ اس کے اندر کی تقسیم کی سچّی تصویر ہے۔ منٹو معاشرے کے بدنما چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، دوستوئیفسکی انسان کے اندر کی وحشت کو، اور منصور ان دونوں دھاروں کے درمیان کھڑا وہ مسافر ہے جو کسی کا نہیں بنتا، اس کی تحریروں میں منٹو کا طنز موجود ہے، مگر وہ باہر کی دنیا کے لیے نہیں، اندر کی دنیا کے لیے ہے دوستوئیفسکی کا کرب بھی قاری کے لیے نہیں، بلکہ خود منصور کے لیے ہے، کتاب کے عنوانات، منٹو کا آخری افسانہ، منٹو کا کفن، منٹو کی واپسی، سب منصور کی اپنی واپسی کے استعارے ہیں، میں نے کئی بار حسین کو خاموش گھنٹوں بیٹھا دیکھا، سب کے درمیان مگر سب سے الگ۔ اس کی آنکھوں میں مستقل تھکن تھی، جیسے نیند نہ آنے کی نہیں، جینے کی تھکن ہو۔ اس کی بظاہر معمولی باتوں میں ایک خالی پن کی گہرائی جھلکتی۔ وہ اکثر کہتا، “کاش میں بھی کوئی واضح شخص ہوتا، جیسے سب ہوتے ہیں، خوش یا دکھی، جیتنے والے یا ہارنے والے، مگر میں بس… ہوں” منصور دو وجودوں کی جنگ میں مبتلا ہے، ایک جو محسوس کرتا ہے، اور ایک جو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، میں گواہ ہوں کہ وہ دونوں وجود روز لڑتے، تھکتے، اور اسے تھوڑا سا اور توڑ دیتے ہیں، اس دور میں جہاں ہر کوئی آواز بننے کی دوڑ میں ہے، حسین منصور ایک سناٹا ہے، مگر وہ سناٹا جس کی گونج بہت دور تک جاتی ہے، وہ کوئی حل پیش نہیں کرتا، کوئی امید نہیں بیچتا، مگر اس کی سچائی، خواہ وہ اذیت ناک ہو، وہی حقیقت ہے جو ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ حسین منصور کو پڑھنا آسان نہیں، سمجھنا دشوار ہے، مگر ایک بار اگر سمجھ لیا، تو شاید آپ خود کو بھی تھوڑا سا سمجھنے لگیں، وہ آئینہ ہے جو بگاڑ چھپاتا نہیں، دکھاتا ہے، وہ زخم ہے جو ٹھیک نہیں ہوتا، مگر آپ کو یہ بتاتا ہے کہ آپ زندہ ہیں، منصور شاید کبھی دوستوئیفسکی نہ بنے، مگر اس نے اپنا لہجہ ڈھونڈ لیا، اور یہی اس کی سب سے بڑی فتح ہے۔ اور میں، اْس کا دوست، خوش ہوں کہ میں اْس لمحے کا گواہ ہوں جب ایک گمنام لکھاری نے خاموشی میں چیخنے کا فن سیکھا۔

  • احترامِ اظہار رائے کیوں ضروری ہے؟تحریر،صائمہ خان

    احترامِ اظہار رائے کیوں ضروری ہے؟تحریر،صائمہ خان

    انسانی معاشرہ ایک ایسے پیچیدہ اور خوبصورت موزیک کی مانند ہے جس کے ہر ایک ٹکڑے کا اپنا ایک منفرد رنگ اور شکل ہے۔ یہ رنگ اور شکلیں درحقیقت ہماری انفرادی آوازیں، ہمارے خیالات اور ہماری رائیں ہیں۔ انہی مختلف رنگوں کے امتزاج سے معاشرے کی مکمل تصویر بنتی ہے۔ احترامِ اظہار رائے وہ بنیادی اصول ہے جو اس موزیک کے ہر ٹکڑے کو اس کی اہمیت اور وقار عطا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں، بلکہ کسی بھی صحت مند، زندہ دل اور ترقی پذیر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ پائیدار بنیاد ہے جس پر جمہوریت، انسانی حقوق اور فکری ارتقا کے عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ اس کے بغیر نہ تو کوئی قوم حقیقی معنوں میں مہذب کہلانے کی مستحق ہے اور نہ ہی وہ مستحکم اور پرامن انداز میں ترقی کے مراحل طے کر سکتی ہے۔
    جمہوریت کی بنیاد
    احترامِ اظہار رائے جمہوری نظام حکومت کا اولین اور اہم ترین تقاضا ہے۔ جمہوریت کی عمارت “عوام کی، عوام کے لیے، عوام کی حکومت” کے نعرے پر کھڑی ہے، اور اس نعرے کی روح عوام کی اجتماعی رائے ہی تو ہے۔ اگر عوام کی رائے کو ہی اہمیت نہ دی جائے، اس کا احترام نہ کیا جائے، تو پھر جمہوریت ایک بے روح ڈھانچے سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی۔ انتخابات کا مقصد ہی یہ ہے کہ عوام اپنی رائے کے ذریعے اپنے حکمران چن سکیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے پالیسیاں بنوا سکیں۔ اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہو تو عوام خوف اور دباؤ کا شکار ہو کر ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو درحقیقت ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔ اس طرح جمہوریت کا پورا عمل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
    معاشرتی صحت اور ہم آہنگی کا ضامن
    ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں تنوع میں یکجہتی پائی جاتی ہے۔ ہر انسان کا پس منظر، تجربہ اور نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہیں، چاہے وہ ہم سے متفق نہ بھی ہوں، تو درحقیقت ہم ان کے وجود، ان کے تجربات اور ان کی انفرادیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ احترام باہمی افہام و تفہیم کو جنم دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر رائے کے اختلاف کو ذاتی اختلاف سمجھ لیا جائے اور دوسرے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے تو یہ معاشرے میں تلخی، عناد اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ احترام کا یہ جذبہ اختلاف رائے کو معاشرے کے لیے مفید بحث میں تبدیل کر دیتا ہے جبکہ اس کا فقدان اسے تباہ کن تصادم میں بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرامن بقائے باہمی کے لیے احترامِ اظہار رائے ناگزیر ہے۔
    علم و حکمت کے ارتقا کا ذریعہ
    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ علم اور حکمت کا ارتقا مختلف آرا کے ملاپ اور تصادم سے ہوا ہے۔ اگر ہر دور میں روایت پرست طاقتیں نئے اور انقلابی خیالات کو دبانے میں کامیاب ہو جاتیں تو آج ہم تاریکی کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ گلیلیو نے جب یہ رائے دی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس وقت کے مذہبی اور سماجی اداروں نے اس کی رائے کا احترام نہیں کیا، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ اس کی رائے ہی درست تھی۔ علم کی دنیا میں ہر نئی رائے پرانی رائے کو للکارتی ہے، اس میں اضافہ کرتی ہے یا اسے بہتر بناتی ہے۔ اگر ہم صرف انہی خیالات کا احترام کریں جو ہمیں پسند ہیں یا جو روایت کا حصہ ہیں، تو ہم فکری جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ احترامِ اظہار رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے نئے خیالات کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے اور معاشرہ علمی اور فکری اعتبار سے ترقی کرتا ہے۔
    انسانی حقوق کا بنیادی تقاضا
    اظہار رائے کی آزادی کو بین الاقوامی سطح پر ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے “اعلانِ عالمی برائے انسانی حقوق” کے آرٹیکل 19 میں کہا گیا ہے کہ “ہر شخص کے پاس رائے رکھنے اور اظہار کی آزادی کا حق ہے۔” یہ حق اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ رائے کا اظہار انسان کی شخصیت، اس کے شعور اور اس کی انفرادیت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کسی انسان کی آواز دبانا درحقیقت اس کی انفرادیت اور اس کے وجود کو نظر انداز کرنا ہے۔ لہٰذا، دوسروں کی رائے کا احترام محض ایک اخلاقی فعل نہیں، بلکہ ان کے بنیادی انسانی حق کی پاسداری ہے۔ یہ احترام ہر انسان کی عزت نفس اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
    غلطیوں کے اصلاح کا موقع
    کوئی بھی فرد یا ادارہ معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ حکمران، ادارے اور اجتماعی نظام بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ احترامِ اظہار رائے کا ماحول ان غلطیوں کو سامنے لانے اور ان کی نشاندہی کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ جب عوام یا ماہرین بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں تو حکومتی پالیسیوں، معاشی نظام اور سماجی مسائل کی خامیاں واضح ہوتی ہیں اور انہیں دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر تنقید کو دبا دیا جائے تو غلطیاں اور خامیاں معاشرے کے اندر ہی گہرائی میں سرایت کر جاتی ہیں، جو بالآخر نظام کی ناکامی اور معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔ احترامِ اظہار رائے ایک ایسا “سیفٹی والو” کا کام کرتا ہے جو معاشرتی دباؤ کو باہر نکال کر کسی بڑے دھماکے یا انقلاب کو روکتا ہے۔
    احترام کی حدود
    یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ احترامِ اظہار رائے کا مطلب ہر قسم کے اظہار کو بلا امتیاز قبول کرنا ہرگز نہیں ہے۔ ہر حق کی طرح اظہار رائے کی آزادی کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور حدود ہیں۔ ایسا اظہار رائے جو کسی دوسرے فرد یا گروہ کی توہین، بدنامی، نفرت انگیزی یا تشدد پر ابھارنے کا باعث بنے، وہ احترام کے دائرے سے خارج ہے۔ حقیقی احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کو تو برداشت کریں، لیکن اسے تباہ کن اور نقصان دہ رویوں کے لیے جواز نہ بننے دیں۔ ایک مہذب معاشرہ ان حدود کو قوانین اور اخلاقی اقدار دونوں کے ذریعے متعین کرتا ہے۔

    آج کے باہم مربوط اور میڈیا سے بھرپور دور میں احترامِ اظہار رائے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر عام آدمی کو ایک طاقتور آواز دے دی ہے۔ ایسے میں اگر ہم دوسروں کی آوازوں کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے تو معاشرہ انتشار اور خانہ جنگی کا
    شکار ہو سکتا ہے۔ احترامِ اظہار رائے درحقیقت ایک ایسی عظیم انسانی قدر ہے جو ہمیں جانوروں کی دنیا سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ ہمارے اندر کی انسانی ہمدردی، برداشت اور عقل سلیم کا امتحان ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک عظیم طاقت ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو معاشرے کے تاریک گوشوں کو روشن کرتا ہے، غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ لہٰذا، ہر فرد، خاندان، تعلیمی ادارے اور حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ احترامِ اظہار رائے کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں پرامن، خوشحال اور روشن خیال معاشرہ بن سکے۔

  • اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا ہے۔
    غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافات میں مہینوں بعد حملہ کیا گیا اور حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو نشانہ بنایا گیا۔
    حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر علی طباطبائی کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم حزب اللہ کے سینئرعہدیدار محمود قماتی نے مرکزی کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی ہے۔
    محمود قماتی نے حارت حریک مضافات میں بم باری سے نشانہ بنائی گئی عمارت کے قریب بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حملے میں ریڈ لائن کراس کی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی قیادت فیصلہ کرے گی کہ کہاں اور کیسے اس کا جواب دیا جائے گا۔
    لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں 5 افراد شہید اور دیگر 28 زخمی ہوگئے ہیں اور نشانہ بننے والی کثیرالمنزلہ عمارت کا ملبہ مرکزی سڑک پر کھڑی کاروں پر گرا۔
    رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد شہری دوسرے حملے کے خوف سے متاثرہ عمارت سے باہر نکلے اور وہاں سے بھاگ نکلے۔
    واضح رہے کہ علی طباطبائی پر امریکا نے 2016 میں پابندیاں عائد کی تھی اور انہیں حزب اللہ کا مرکزی رہنما قرار دیا تھا اور ان کی اطلاع دینے پر 5 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔
    اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ علی طباطبائی حزب اللہ کے اہم یونٹس کے کمانڈر تھے اور حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے دوبارہ تیار کرنے کے لیے سخت محنت کی۔
    اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو اپنی طاقت بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور لبنان کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا وعدہ پورا کرے گی۔
    دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

  • کابل پر پاکستانی حملوں سے افغان طالبان میں خوف، سرحد پار دہشت گردی میں قابل ذکر کمی

    کابل پر پاکستانی حملوں سے افغان طالبان میں خوف، سرحد پار دہشت گردی میں قابل ذکر کمی

    اسلام آباد:گزشتہ ماہ کالعدم ٹی ٹی پی کی سینئرکمانڈروں کو نشانہ بنانے کیلیے پاکستان کے جوابی کابل حملوں نے افغان طالبان قیادت میں دھاک پیدا کی جس کے نتیجہ میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں آئی۔
    ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ کابل کے وسط میں سرحد پار آپریشن کا مقصد طالبان حکومت کو غیر واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان دہشت گروں کے خلاف کارروائیاں اپنی سرزمین تک محدود نہیں رکھے گا۔

    ایک سینئر افسر نے کہاکہ کابل آپریشن کا افغان طالبان قیادت اور ان کی سیکیورٹی مشینری پر واضح نفسیاتی اثر ہوا، کابل حملوں نے طالبان قیادت میں خوف اور احتیاط کا واضح عنصر پیدا کیا ، وہ سمجھ گئے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کا پاکستان کابل سمیت ہر جگہ پیچھا کرے گا۔
    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حالیہ دہشت گرد حملے کے فوری بعد افغان طالبان کے ترجمانوں نے نجی طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے کشیدگی میں کمی کی درخواستیں کیں اور کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر خودکش حملے میں وہ ملوث نہیں۔
    انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی پیش رفت ہے، اس سے قبل دہشت گردی کے واقعات پر پاکستانی خدشات مسترد یا الزام ٹی ٹی پی پر عائد کرتے تھے۔
    اس مرتبہ انہوں نے پس پردہ استدعا اور زور دیاکہ اسلام آباد دہشت گردی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کی وجہ افغان طالبان کا پاکستان سے انتقامی کارروائی کا خوف ہے ، وہ سمجھ گئے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی رسائی اور صلاحیت رکھتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ کابل حملوں کے بعد پاکستان پر سرحد پاردہشت گردی کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، تاہم خطرہ ختم نہیں ہوا، حملوں میں کمی دھاک کے نتیجے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کہ افغانستان کے اندر ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے پاکستان تیار ہے، طالبان قیادت کو دہشت گردی کی قیمت معلوم ہو چکی ہے۔