Blog

  • گریٹر کراچی پلان 2047ء؛ شہرِ قائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا

    گریٹر کراچی پلان 2047ء؛ شہرِ قائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا

    کراچی:گریٹر کراچی پلان 2047ء کے حوالے سے شہرِ قائد پر بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
    حکومت سندھ کراچی کے لیے ایک نئے ماسٹر پلان پر کام کر رہی ہے، جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء کا نام دیا گیا ہے۔ اس پلان کے اہم نکات تو ابھی سامنے نہیں آئے تاہم ماہرین کی نظر میں شہر پر بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ شہر کی منصوبہ بندی کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
    سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کراچی ملک کا واحد شہر ہے جس کی آبادی میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک44 گنا اضافہ ہوا ہے۔ قیام پاکستان تک کراچی کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ تھی اور اب یہ شہر 2 کروڑ سے زیادہ آبادی کا شہر بن چکا ہے۔
    2023ء کی مردم شماری کے مطابق 2017ء سے 2023ء تک صرف 5 سال میں کراچی کی آبادی میں 40 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے۔ 2017ء میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ48 لاکھ تھی جو 2023ء میں بڑھ کر ایک کروڑ 88 لاکھ ہوگئی۔ ان 5 برس میں ملک کے دیگر بڑے شہروں کی آبادی میں اس تیزی سے اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی آبادی بڑھنے کے بجائے 19 لاکھ کم ہوئی کیونکہ وہاں سے کراچی آنے والوں کی تعداد ملک کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت زیادہ رہی ہے۔
    ورلڈ بینک سے منسلک ایک عالمی ادارے کوریا گرین گروتھ ٹرسٹ فنڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح1.5 فیصد (ایک اعشایہ پانچ فی صد) ہے جب کہ کراچی میں یہ شرح 6 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030ء تک کراچی کی آبادی 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) تک بڑھ جائے گی۔
    رپورٹ کے مطابق کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء کے مطابق شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سبب ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کا روزگار کی خاطر کراچی آنا ہے جب کہ شہر میں بڑی تعداد میں افغانستان، بنگلادیش اور دیگر ایشیائی ممالک کے لوگ بھی آباد ہیں۔
    معروف اربن پلانر عارف حسن کے ادارے اربن ریسورس سینٹر سے وابستہ شہری منصوبہ بندی کے ماہر زاہد فاروق کے مطابق پائیدار شہری منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ کراچی پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو کم کیا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کو اپنے صوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔
    ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا بڑا سبب خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے روزگار کے لیے لوگوں کا کراچی آنا ہے کیونکہ کراچی میں دیگر شہروں کے مقابلے میں روزگار کے ذرائع اور مواقع زیادہ ہیں۔
    زاہد فاروق نے مزید بتایا کہ کراچی کے لیے مختلف ادوار میں ماسٹر پلان بنتے آئے ہیں لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر ابھی تک ایک بھی ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ حکومت سندھ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء پر کام کر رہی ہے لیکن یہ پلان ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر نہیں بنانا چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ ایک بہتر ماسٹر پلان بنانے کے ضروری ہے کہ اس کے نکات کو عام کیا جائے اور اس پر عام لوگوں کی رائے لی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مذکورہ پلان کو سندھ اسمبلی اور سٹی کونسل سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک زیر بحث لایا جائے اور اس پر ڈاکٹروں، وکلا، بزنس مین کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں سے رائے لی جائے۔
    پیپلز پارٹی کراچی کے رہنما سینیٹر وقار مہدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء عالمی اداروں کے ماہرین کی نگرانی میں بنایا جا رہا ہے، جس میں آئندہ 50 سال کی ضروریات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے، تاکہ شہر کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکے۔
    ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی میں جس تیزی سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس مناسبت سے ایک جامع ماسٹر پلان کی ضرورت ہے، نئے ماسٹر پلان کی تیاری میں پرانے ماسٹر پلانز کو بھی سامنے رکھا جائے گا۔
    واضح رہے کہ پاکستان بننے سے آج تک مختلف ادوار میں کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن آج تک ایک بھی پلان پر عمل نہیں ہوسکا ہے، ملک بننے کے بعد گریٹر کراچی پلان 1952ء بنایا گیا، جس پر عمل نہیں ہوا، جس کے بعد کراچی ڈیولپمنٹ پلان 1974-1985ء بنایا گیا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد 2007ء میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء بنایا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔
    کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء کے مطابق کراچی شہر انتظامی لحاظ سے 20 وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں میں تقسیم ہے اور شہر کا صرف 31 فیصد کنٹرول کے ایم سی کے پاس ہے۔
    مذکورہ پلان کے مطابق حکومت سندھ کے علاوہ اس شہر کا انتظامی کنٹرول مختلف وفاقی اداروں کے پاس ہے جن میں 6 کنٹونمنٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون وغیرہ شامل ہیں۔

  • 13 حلقوں کے ضمنی انتخابات، پی ایم ایل ن نے 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا

    13 حلقوں کے ضمنی انتخابات، پی ایم ایل ن نے 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے 13 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق غیر معمولی برتری حاصل کی ہے، اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی خالی ہونے والی تمام نشستیں جیت لی ہیں۔
    ان میں قومی اسمبلی کی 6 میں سے 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستوں پر پی ایم ایل ن کے امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔
    پیپلز پارٹی صرف مظفر گڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں کامیاب ہوئی، جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو غیر معمولی طور پر کم ووٹ پڑے۔
    قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج
    قومی اسمبلی
    این اے 18 ہری پور: غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ اس نشست پر ہوا، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو 1,63,996 ووٹ سے شکست دی۔ یہ نشست سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
    این اے 129 لاہور: یہ نشست پی ٹی آئی کے میاں اظہر کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر موجودہ ضمنی انتخابات میں پی ایم ایل ن کے حافظ میاں محمد نعمان نے 63,441 ووٹ لے کر سب پر سبقت حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29,099 ووٹ لے سکے۔
    این اے 185 ڈیرہ غازی خان 2: پی ٹی آئی کی زرتاج گل کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی اس نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے محمود قادر خان 82,416 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ 49,262 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    این اے 143 ساہیوال 3: ن لیگ کے محمد طفیل جٹ نے 1,36,223 ووٹ حاصل کیے، جب کہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری 13,220 ووٹ لے سکے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے حسن نواز کی نااہلی پر ختم کی گئی تھی۔
    این اے 104 فیصل آباد 10: پاکستان مسلم لیگ ن کے دانیال احمد 52,791 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے، آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19,262 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    این اے 96 فیصل آباد: پی ایم ایل ن کے بلال بدر چوہدری 93,909 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے، بلال بدر وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔
    صوبائی اسمبلی
    پی پی 87 میانوالی: پنجاب اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی نے 67,986 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ آزاد امیدوار محمد ایاز خان نیازی 3,310 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 98 فیصل آباد 1: پی ایم ایل ن کے آزاد علی تبسم 44,388 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ ان کے مخالف امیدوار محمد اجمل 35,245 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 115 فیصل آباد 18: اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد طاہر پرویز 49,049 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے، مخالف محمد اصغر 18,098 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 116 فیصل آباد 19: اس نشست سے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے داماد اور پی ایم ایل ن کے امیدوار احمد شہریار 48,824 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر 11,429 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ نشست بھی پی ٹی آئی کے اسمعیل سیلا کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔
    پی پی 203 ساہیوال 6: پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار محمد حنیف 46,900 ووٹ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار فلک شیر 10,895 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 73 سرگودھا: اس حلقے میں پی ایم ایل ن کے سلطان علی رانجھا نے 71,770 ووٹ لے کر میدان مار لیا، مخالف امیدوار مہر محسن رضا 12,970 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 269 مظفر گڑھ 2: 13 ضمنی انتخابات میں یہ واحد حلقہ تھا جہاں سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی نے 55,611 ووٹ لے کر ن لیگ کے امیدوار کو شکست دی۔
    پولنگ کا عمل:
    قبل ازیں پولنگ کل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران ووٹرز نے اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔
    انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 2 ہزار 792 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 408 کو انتہائی حساس اور 1,032 کو حساس قرار دیا گیا تھا، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 20 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

  • پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 ایف سی اہلکار شہید

    پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 ایف سی اہلکار شہید

    پشاور (کنزیو مر واچ نیوز)پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، 3 خودکش حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ 3 ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
    سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر ہوا، حملے کے بعد سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔
    سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا جبکہ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔
    میاں سعید نے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا۔
    جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید ہوئے: ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی
    ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال نے بتایا کہ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔
    اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں 9 افراد زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حملے میں 3 ایف سی اہلکار اور 6 شہری ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
    فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کا ایک زخمی خیبرٹیچنگ اسپتال لایاگیا، دھماکے کے بعد خیبر ٹیچنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسٹاف کو الرٹ رہنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
    ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
    بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل
    ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ٹرانس پشاور نے سکیورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس عارضی معطل کر دی ہے، بی آر ٹی کی مرکزی راہداری پر بسوں کی سروس معطل کی گئی جبکہ فیڈر روٹس پر بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔
    پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے: وزیراعظم
    وزیراعظم شہبازشریف نے پشاورمیں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد ازجلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا واقعے کے ذمہ داران کی جلد ازجلد شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ان کا کہنا تھا پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے، حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کب ہوگا، تاریخ سامنے آگئی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کب ہوگا، تاریخ سامنے آگئی

    ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرے کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایشیا کپ 2025 میں ہونے والے تنازع کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔
    روایتی حریف ممکنہ طور پر 15 فروری کو کولمبو میں مدمقابل آئیں گے۔
    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں 20 ٹیموں کو پانچ پانچ کے چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
    گروپ ون:
    پاکستان، بھارت، امریکا، نمیبیا، نیدرلینڈز
    گروپ ٹو:
    بنگلادیش، اٹلی، انگلینڈ، نیپال، ویسٹ انڈیز
    گروپ تھری:
    آسٹریلیا، آئرلینڈ، عمان، سری لنکا، زمبابوے
    گروپ فور:
    افغانستان، کینیڈا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، یو اے ای
    رپورٹس کے مطابق ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کریں گی جس میں سے ٹاپ فور ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی۔

  • بھارتی میڈیا نے تیجس حادثہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا دیا

    بھارتی میڈیا نے تیجس حادثہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا دیا

    ممبئی ( کنزیومر واچ نیوز)بھارت کے گودی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر بھارت کی نااہلی چھپانے کیلئے تیجس طیارہ حادثہ امریکی انجن پر ڈال دیا۔جنرل (ر) بخشی اور ارنب گوسوامی طیارہ حادثہ کی ذمہ داری امریکی انجن پر ڈال کر بھارت کی دفاعی کمزوری چھپانے کی کوشش میں لگے رہے۔ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے GE 404 انجن کی تاخیر سے فراہمی نے بھی بھارت کی دفاعی تیاری میں خطرناک خلا پیدا کر دیا، تیجس امریکی جنرل الیکٹرک کے بنائے ہوئے انجن سے چلتا ہے، اور جنرل الیکٹرک بھارت کا کبھی دوست نہیں رہا۔ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکی حکومت نے تیجس کیلئے اگلی نسل کے انجنوں کی ڈلیوری سست کرنے کی کوشش کی، امریکہ ایل سی اے پروگرام اور تیجس کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔جنرل بخشی نے کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ کب سندور 2.0 دوبارہ بھڑک اٹھے، جی ای 404 انجن ہمیں دو سال پہلے مل جانا چاہیے تھا، ہم نے ایک ارب ڈالر نقد ادا کیے ہیں، ابھی تک ہمیں صرف دو انجن ملے ہیں۔بھارتی سرکار اور اس کا گودی میڈیا اپنی ان حرکات کی وجہ سے نا صرف جگہسائی کا سبب بنتے ہیں بلکہ بھارتی عوام کو بھی اصلی مسائل کی طرف سے ہٹاتے ہیں، اس ذاتی سیاسی اور معاشی مفاد کی خاطر بھارت ایک خطرناک بند گلی میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکا پر ملبہ ڈالنا بارآور ثابت نہ ہوا، طیارہ حادثہ بھارتی دفاعی صنعت کی ناکامی کا واضح عکاس ہے۔

  • گاڑی گہری کھائی میں جاگری، طالبات سمیت 6 افراد جاں بحق، ویڈیو سامنے آگئی

    گاڑی گہری کھائی میں جاگری، طالبات سمیت 6 افراد جاں بحق، ویڈیو سامنے آگئی

    ایبٹ آباد؛(کنزیو مرواچ نیوز)گاڑی گہری کھائی میں گرنے کے حادثے میں طالبات سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق تھانہ بگنوتر کی حدود میں واقع بیرن گلی کے قریب ایک گاڑی (کیری ڈبہ) خوفناک حادثے کا شکار ہوکر گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ گاڑی کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔عینی شاہدین کے مطابق بیرن گلی سے ایبٹ آباد آنے والی یاسر خلیل کی گاڑی (کیری ڈبہ) کھڑی کے مقام پر ایک ہزار فٹ سے زائد گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں 6 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جن میں 2 انٹر کی طالبات بھی شامل تھیں جو امتحان دینے ایبٹ آباد جا رہی تھیں۔جاں بحق ہونے والوں میں باپ اور بیٹا ذوالفقار اور زبیر، 2 سگی بہنیں دختران شبیر احمد، ڈرائیور یاسر خلیل اور اختر شامل ہیں۔کھائی زیادہ گہری ہونے کے باعث لاشوں کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں جب کہ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ حادثے کو چند گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود ریسکیو کی ٹیموں کے موقع پر نہ پہنچنے پر علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • سونا پھر مہنگا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت بڑھ گئی

    سونا پھر مہنگا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت بڑھ گئی

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز)سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 23ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 4ہزار 65ڈالر کی سطح پر آگئی ۔دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 2ہزار 300روپے کا اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4لاکھ 28ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 972روپے بڑھ کر 3لاکھ 67ہزار 680روپے کی سطح پر آگئی۔

  • فرانسیسی کمانڈر  نے  بھی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی شکست کی تصدیق کردی

    فرانسیسی کمانڈر نے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی شکست کی تصدیق کردی

    پیرس (کنزیومرواچ نیوز)امریکا کے بعد فرانسیسی کمانڈر کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مئی میں ہونے والی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارت کے رافیل طیارے پاکستانی فضائی دفاع کے سامنے ناکام ہوئے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 6 اور 7 مئی کو ہونے والی اس جنگ کو دنیا بھر کی افواج نے باریک بینی سے مانیٹر کیا، کیونکہ یہ جدید طیاروں، تربیت یافتہ پائلٹس اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی حقیقی جانچ کا غیر معمولی موقع تھا۔فرانس کے شمال مغربی حصے میں واقع نیول ایئربیس کے کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ مسئلہ رافیل طیارے کی تکنیکی کمزوری نہیں تھا بلکہ اصل خرابی بھارتی پائلٹس کی مہارت میں تھی۔واضح رہے کہ کیپٹن یوک لو اس بیس کی نگرانی کرتے ہیں جو جوہری صلاحیت رکھنے والے رافیل اسکواڈرن، متعدد جنگی جہازوں، آبدوزوں اور جدید طیاروں پر مشتمل ہے۔ 25 برس ست رافیل اڑانے والے تجربہ کار کمانڈر نے اعتراف کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے صورتحال کو انتہائی منظم اور مؤثر انداز میں سنبھالا۔انڈو پیسفک کانفرنس کے ایک بین الاقوامی اجلاس میں کیپٹن لونے نے واضح کیا کہ بھارتی رافیل چینی ٹیکنالوجی کی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کی حکمتِ عملی، مضبوط دفاع اور بروقت ردعمل کے باعث گرے۔انہوں نے بتایا کہ اس رات 140 سے زائد لڑاکا طیارے فضا میں موجود تھے، جس نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا تھا، مگر پاکستان نے اسے بھارت سے کہیں بہتر انداز میں ہینڈل کیا۔ بھارتی مندوب نے اس بیان کو چینی پروپیگنڈا قرار دے کر روکنے کی کوشش کی، تاہم فرانسیسی کمانڈر نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔کیپٹن لونے نے تصدیق کی کہ رافیل کا ریڈار سسٹم ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے چلانے والے کی کمزوری مسئلے کی جڑ تھی۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کسی بھی جنگی میدان میں چینی طیاروں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر سب کچھ آپریٹر کی تربیت اور فیصلوں پر منحصر ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اب سمندر میں تعیناتی کے لیے رافیل کے نیول ورژن میں دلچسپی دکھا رہا ہے، جو ایئرکرافٹ کیریئر پر لینڈنگ کے قابل ہے اور جوہری ہتھیار بھی لے جا سکتا ہے، تاہم یہ صلاحیت اس وقت صرف فرانسیسی بحریہ کے پاس موجود ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ فضائی جھڑپ عالمی سطح پر اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ اس میں طیاروں، پائلٹس اور ائیر ٹو ائیر میزائلوں کی کارکردگی حقیقی جنگی ماحول میں جانچی گئی، جس سے مستقبل کی فضائی حکمتِ عملی کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔

  • کراچی: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 4 بھتہ خور گرفتار کرلیے

    کراچی: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 4 بھتہ خور گرفتار کرلیے

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)کراچی میں بھتا مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ایس آئی یو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بھتا مافیا کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے بھتے کے لیے فون کرنے والے مرکزی ملزم سمیت 4 بھتا خور گرفتار کرلیے۔ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کے موبائل فون سے شواہد برآمد کرلیے گئے۔ ملزمان نے کار شوروم اور منگھوپیر میں ماربل فیکٹری کے مالک سے بھتا مانگا تھا، فون کال بین الاقوامی نمبر سے کی گئی تھی۔ ماربل فیکٹری کے مالک کو 10کروڑ روپے بھتے کی پرچی کے ساتھ دو گولیاں بھی بھیجی گئی تھیں۔ شوروم مالک کو بھی 50 لاکھ بھتے کی پرچی موصول ہوئی تھی۔50لاکھ روپے بھتہ نا دینے پر شوروم مالک کی کار پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کیاگیا۔

  • بنوں؛ امن کمیٹی کے دفتر پر کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کا حملہ، 7افراد جاں بحق

    بنوں؛ امن کمیٹی کے دفتر پر کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کا حملہ، 7افراد جاں بحق

    ڈیرہ اسماعیل خان(کنزیومرواچ نیوز)بنوں کے علاقے ہوید دردڑیز میں امن کمیٹی کے دفتر پر کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کے حملے میں 7 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔پولیس کے مطابق مسلح افراد نے حملے میں امن کمیٹی کے سربراہ قاری جلیل کے دفتر کو نشانہ بنایا، پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔مقتولین میں دانش، کامران، ولی اللہ، سفیان، محمد نیاز، نعمان اور سفیان شامل ہیں۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔