Blog

  • اسرائیلی فوج نے امداد لینے والے 1000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، اقوامِ متحدہ

    اسرائیلی فوج نے امداد لینے والے 1000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، اقوامِ متحدہ

    جنیوا(کنزیومر واچ نیوز)اقوامِ متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے 1,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔ یہ شہادتیں اُس وقت شروع ہوئیں جب سے غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (GHF) نے اپنی امدادی سرگرمیاں 26 مئی سے شروع کیں۔یو این ہیومن رائٹس آفس کے ترجمان ثمین الخیطٰان نے بتایا کہ 21 جولائی تک ہمارے پاس ایسے 1,054 افراد کی اموات کا ریکارڈ موجود ہے جو غزہ میں خوراک لینے کی کوشش کے دوران اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان میں سے 766 افراد GHF کے مراکز کے قریب اور 288 افراد اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی فلاحی اداروں کے قافلوں کے قریب شہید ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار گراؤنڈ پر موجود قابلِ اعتماد ذرائع جیسے میڈیکل ٹیمز، انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں سے حاصل کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ میں شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا شکار ہیں۔

  • رجب بٹ کے پیچھے کونسی مشہور شخصیت پڑی ہے؟ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر

    رجب بٹ کے پیچھے کونسی مشہور شخصیت پڑی ہے؟ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر

    لاہور (کنزیو مر واچ نیوز)ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ساتھی ٹک ٹاکر رجب بٹ کے مسائل کی وجہ کا انکشاف کردیا۔ماضی میں مختلف اسکینڈلز اور ترک اداکار انگین التان سے جڑے متنازع معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے ایک مشہور شخصیت کا ہاتھ ہے،کاشف ضمیر نے کہا کہ رجب بٹ اب ایک بڑا نام بن چکا ہے اور اسے کافی شہرت حاصل ہوئی ہے، جسے بعض لوگ برداشت نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق حسد کی وجہ سے رجب بٹ کی پرانی ویڈیوز کو وائرل کر کے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں محتاط انداز اختیار کریں کیونکہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے جس سے وہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔کاشف ضمیر نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص نے، جو فہد مصطفیٰ کو جانتا ہے، انہیں بتایا کہ رجب بٹ پر دائر قانونی مقدمات کے پیچھے فہد مصطفیٰ کا ہاتھ ہے، اور اس حوالے سے اسے شواہد بھی دکھائے گئے۔تاہم کاشف ضمیر نے یہ شواہد پروگرام میں ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ ٹک ٹاکر کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ صارفین ان کے دعوے پر بےحد حیران ہیں اور اس کے شواہد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • ایشیا کپ کی منسوخی کا خدشہ، پی سی بی کو کتنے ارب کا نقصان ہوسکتا ہے؟

    ایشیا کپ کی منسوخی کا خدشہ، پی سی بی کو کتنے ارب کا نقصان ہوسکتا ہے؟

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کرکٹ کے سیاسی کھیل نے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو 8.8 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایشین کرکٹ کونسل کا اہم اجلاس جمعرات کو چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت ڈھاکا میں طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ایشیا کپ کے انعقاد یا اس کی منسوخی سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق اگر ایشیا کپ منسوخ ہوتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو تقریباً 8.8 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ صرف ایشیا کپ کی آمدنی میں کمی کی صورت میں 1.16 ارب روپے کا نقصان متوقع ہے، جبکہ پی سی بی نے اپنی سالانہ سرگرمیوں کے لیے آئی سی سی شیئر سے 25.9 ملین ڈالر (تقریباً 7.5 ارب روپے) مختص کیے تھے، جو اب خطرے میں پڑ چکے ہیں۔اس تنازعے کے پس پردہ بھارت کا مبینہ کردار زیر بحث ہے، جس پر ایشیا کپ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے سری لنکا، افغانستان اور عمان کے ساتھ مل کر ایشیا کپ کے انعقاد کی مخالفت کا محاذ بنا لیا ہے، جس کا مقصد پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی اے سی سی میں قیادت کو کمزور کرنا ہے۔بھارت نے نہ صرف ایشیا کپ بلکہ ڈھاکا میں ہونے والے اے سی سی اجلاس کے مقام پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ بھارتی بورڈ، سری لنکا، افغانستان، عمان اور چند دیگر ایسوسی ایٹ ممبر ممالک ڈھاکا کا سفر کرنے سے انکار کرچکے ہیں، جبکہ بھارت نہ اپنا نمائندہ بھیجنے پر راضی ہے اور نہ ہی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرنا چاہتا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اجلاس کے مکمل بائیکاٹ پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے ایشیا کپ کی منسوخی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

  • کراچی میں نوبیاہتا جوڑے کے ہاں ایک ساتھ 5 بچوں کی پیدائش

    کراچی میں نوبیاہتا جوڑے کے ہاں ایک ساتھ 5 بچوں کی پیدائش

    کراچی(کنزیو مر واچ نیوز) شہر قائد میں ایک نوبیاہتا جوڑے کے ہاں ایک ساتھ 5 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک نوبیاہتا جوڑے کے ہاں شادی کے پہلے ہی سال ایک ساتھ 5 بچوں کی قبل از وقت پیدائش ہوئی، جس نے نہ صرف والدین بلکہ ڈاکٹروں کو بھی بیک وقت حیران اور خوش کر دیا۔شہر کے ایک نجی اسپتال میں خاتون کو ایمرجنسی کی حالت میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر سی سیکشن کے ذریعے آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 5 نوزائیدہ بچوں کی ولادت ہوئی۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق پیدائش کے وقت بچوں کا وزن نہایت کم تھا اور وہ سانس لینے میں دشواری کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کی طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے، جہاں وہ مسلسل ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی حالت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، تاہم ان کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔

  • بابوسر سیلابی ریلے میں بہنے والے 15 افراد تاحال لاپتا

    بابوسر سیلابی ریلے میں بہنے والے 15 افراد تاحال لاپتا

    پشاور(کنزیومر واچ نیوز)گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے اور بابوسر کے مقام پر پانی میں بہہ جانے والے 10 سے 15 افراد تاحال لاپتا ہیں جب کہ حکومت نے سیاحوں کو فوری طور پر علاقے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ شدید بارشوں اور سیلاب نے علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ بابوسر میں پھنسے تمام سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کرلیا گیا ہے اور انہیں مقامی ہوٹل مالکان و حکومت کی جانب سے مفت رہائش فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناران اور کاغان کے تمام راستے فی الحال بند ہیں جب کہ شاہراہ قراقرم 2 مقامات سے بند ہوچکی ہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر مختلف علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔ شاہراہ ریشم چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھلی ہے اور بشام تک مکمل بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔فیض اللہ فراق نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ حالات معمول پر آنے تک گلگت بلتستان کا سفر ہرگز نہ کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ جی بی آج متاثرہ علاقوں خصوصاً بابوسر کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔دوسری جانب ڈی جی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں کا امکان ہے۔ بابوسر ٹاپ کے علاقے میں قیمتی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے اور موجودہ موسم کے پیش نظر مزید نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔اُدھر دیامر میں بھی ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے جہاں سیلابی ریلے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔قبل ازیں بابوسر ٹاپ پر کئی سیاح پانی میں بہہ چکے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ سیلاب سے علاقے میں ایک گرلز اسکول، 2ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر کے ساتھ واقع 50 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ 8 کلومیٹر طویل سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سڑک 15 مقامات سے بلاک ہے اور 4 اہم رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

  • اعتماد، بہترین معیار اور لگن سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کامیابی کی پہچان ہے، سرفراز احمد خان

    اعتماد، بہترین معیار اور لگن سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کامیابی کی پہچان ہے، سرفراز احمد خان

    1950 میں محمود الحسن بٹ مرحوم نے ایک پودا لگایاجس کو سلمان محمود بٹ مرحوم،کامران محمود بٹ مرحوم نے سنوارا اورحسن کامران بٹ، احمد سلمان بٹ اور سمیر سلمان بٹ نے تناور درخت بنادیا
    ہمیشہ معیار کو ترجیح دی،اسی لئے 2024 میں برانڈ آف دی ائیر ایوارڈملا اور اب 2025 میں برانڈ آئیکون ایوارڈ کے لئے نامزدگی ہوئی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی کامیابی کی کہانی کنٹری ہیڈ سرفراز احمد خان کی زبانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رپورٹ:نشید آفاقی،رمشایاور بیگ
    فوٹو گرافی ۔فہد شجاع،شعبان سوریا
    سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ1950 میں قائم ہوئی محمود الحسن بٹ مرحوم اس کے بانی ہیں اس کے بعد ان کے دونوں صاحبزادے سلمان محمود بٹ مرحوم اورکامران محمود بٹ مرحوم کاروبار کے ساتھ منسلک ہو گئے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے ابتدا میں شہد کی تیاری شروع کی اور اس حوالے سے بہت نام پیدا کیا ہم اس سلسلے میں جتنا کام کر سکتے تھے کیا، اس کے بعد جیمز(Jams)کے سفر کا آغاز ہوا پھر ہم ٹاپنگس( Toppings (کی طرف چلے گئے بعد ازاںسو سز( sauces (بھی ہماری پروڈکٹس میں شامل ہو گئے اب تقریبا پانچ سال ہونے والے ہیں سلمان محمود بٹ صاحب اور کامران محمود بٹ صاحب کا انتقال ہو گیا اب تیسری جنریشن کمپنی کو چلا رہی ہے جن میں حسن کامران بٹ اور سلمان محمود بٹ صاحب کے دونوں صاحبزادے احمد سلمان بٹ اور سمیر سلمان بٹ شامل ہیں سمیر سلمان بٹ صاحب فوڈ ٹیکنالوجسٹ ہیں فیکٹری اور پروڈکشن کو دیکھتے ہیں احمد سلمان بٹ صاحب مارکیٹنگ اور متعلقہ شعبوں کو دیکھتے ہیں اکاؤنٹس اور سیلز حسن کامران بٹ صاحب دیکھتے ہیں تو اللہ تعالی کا بہت شکر ہے کمپنی اپنے بہتر سفر کی جانب گامزن ہے ہمارا پلانٹ اور ہیڈ آفس دونوں اسلام آباد میں ہیں، جو چیز اپنے لیے اور اپنی فیملی کے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو یہ درس ہمیں دین بھی دیتا ہے اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی کا بھی یہی وژن تھا تو اس وژن نے کمپنی کی کامیابی میں کس حد تک کردار ادا کیا اس سوال پر سرفراز احمد خان نے کہا کہ الحمدللہ ،اللہ تعالی کا بڑا شکر ہے کہ ہمارے بڑوں نے جو چیزیں ہمارے ذہنوں پر نقش کی ہیں ہم اسی پر عمل پیرا ہیں کمپنی کے اونرز ان کے بچوں اور اسٹاف ممبران نے کبھی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا1950 میں ہماری جوکوالٹی تھی اس میں اضافہ تو ہوا کمی کوئی نہیں ہوئی ہم کوشاں ہیں کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی پروڈکٹس کی کوالٹی کو مزید بہتر کریں تھرڈ جنریشن پوری کمپنی سنبھال رہی ہے اور ہماری کوشش ہے پروڈکٹس کی کوالٹی کو بہتر سے بہتر کیا جائے اس
    سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی فوڈ پروڈکٹس کی وسیع رینج ہے آپ کس طرح جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ فوڈ سیفٹی اسٹینڈرڈز کو اختیار کرتے ہیں جو عالمی معیارات کے عین مطابق ہوںنیز آپ آئی ایس او اور ایچ اے سی سی پی کے سرٹیفکیٹ رکھتے ہیں سرفراز احمد خان نے بتایا کہ کسی بھی کمپنی کی گروتھ کے لیے ضروری ہے کہ اس کی پروڈکٹس کی کوالٹی بہترین ہو۔ کوالٹی کنٹرول کے لیے جدید ایکوپمنٹ اور تربیت اپناا سٹاف بہت ضروری ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈان تمام چیزوں کا بہت خیال رکھتی ہے ہم اعلی پیمانے پر اپنے اسٹاف کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں ہماری لیب جدید ترین آلات سے مزین ہے سمیر سلمان بٹ صاحب نے کینیڈا سے تعلیم حاصل کی ہے انہوں نے کوالٹی کنٹرول کے بہت سے ٓالات بیرون ممالک سے درآمد کیے ہیں اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے ہائی کوالٹی اسٹینڈرڈ زکو مینٹین کیا ہے کوالٹی کنٹرول کے لئے جو آلات اور سرٹیفکیٹ درکار ہوتے ہیں وہ سب ہمارے پاس موجود ہیںاس سوال پر کہ پاکستان کی فوڈ انڈسٹریز میں تمام معیارات کا خیال رکھا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ میںسمجھتا ہوں کہ صرف سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نہیں ہر کمپنی چاہتی ہے کہ صارفین کو اعلی کوالٹی کی پروڈکٹس فراہم کرے کوئی نہیں چاہتاکہ اپنے کسٹمرز خراب کرے اس لیے اپنے طور پر سبھی کوالٹی پروڈکٹس مارکیٹ میں دینے کی کوشش کرتے ہیں
    اس سوال پر کہ سرکاری ادارے آپ سے تعاون کرتے ہیں یا آپ کو پریشان کرتے ہیں سرفراز احمد خان نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص کا کردار زیادہ بہتر ہونا چاہیے چاہے وہ حکومت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو میں تنقید برائے تنقید کا قائل نہیں ہوں کیا آپ ان تمام باتوں پر عمل کر رہے ہیں جو حکومت آپ سے کہتی ہے کچرا ڈسٹ بین میں ڈالنا چاہیے اگر ٓاپ تھیلی میں بندکر کے سڑک پر پھینک رہے ہیں تو یہ مناسب بات نہیں ہے۔ ایک حد تک حکومت سپورٹ کرتی ہے اس سے اوپر حکومت کی سپورٹ نہیں ہوتی مگر حکومت کے خلاف جانے کے رویے کو سلمان کارپوریشن پرا ئیویٹ لمیٹڈ کبھی سپورٹ نہیں کرے گی،ٹیکسوں کے حوالے سے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہماری حکومت سے یہی گزارش ہے کہ ہم سے جس طرح ٹیکسز لیے جاتے ہیں اسی طرح ہمیں سہولتیں بھی دی جائیں صرف ٹیکس لینے سے ملک نہیں چلتا سہولت دیں گے تو انڈسٹری ترقی کرے گی ایک سوال کے جواب میں سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں خود ایف پی سی سی آئی کی تین کمیٹیوں کا ممبر ہوں میں سمجھتا ہوں کہ ایف پی سی سی آئی اور چیمبر بہت اچھی طرح اپنا کام انجام دے رہے ہیں چیمبر اور فیڈریشن تاجروں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ہمیشہ بزنس کمیونٹی کے لئے توانا،آوازاٹھائی جاتی ہے فیڈریشن اور چیمبرنے حکومت کو بتایا ہے کہ اگر بزنس کمیونٹی کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو بزنس بہتر طور پر گروکرے گا۔اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈآئی ایس او اور ایچ اے سی سی پی کے سرٹیفکیٹ رکھتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس تمام ضروری سرٹیفکیشنز موجود ہیں ہم نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی کام کرتے ہیں تو ہمیں تمام متعلقہ سرٹیفکیٹس کی ضرورت ہوتی ہے اس سوال پر کہ رامٹیریل اور فوڈ کلرز کے معیار کو کس طرح مینٹین رکھا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کوشش ہے کہ بہترین کوالٹی کی پروڈکٹس صارفین کو فراہم کرے اس لیے را مٹیریل اور فوڈ کلرز کے معیار کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے اس کو چیک کیا جاتا ہے ہم فوڈ کلرزاور دیگر را مٹیریل امپورٹ کرتے ہیں میرا لوگوں سے سوال ہے کہ اگر آپ پیسے دے کر چیزیں خرید رہے ہیں تو اس کے معیار کو بھی چیک کرنا چاہیے صارفین کا حق ہے ان کو اعلی کوالٹی کی چیز ملے تو میرا مشورہ ہے کہ صارفین جب پیسے خرچ کر رہے ہیں تو اپنے لیے اپنے بچوں کے لیے معیاری چیزیں خریدیں بازار جائیں اور پروڈکٹ خریدیں تو معیار کا خیال ضرور رکھنا چاہیے خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کو بہت زیادہ چیک کرنا چاہیے کیوں روڈ پر کھڑے ہو کر کوئی چیز کھا لیتے ہیں یہ سب آپ کی صحت کے لیے مضر ہے ہمیشہ اچھی چیزیں استعمال کریں اچھا کھائیں اور اچھی چیز کو پسند کریںپیکنگ مٹیریل کے حوالے سے سوال پر سرفراز احمد خان نے کہا کہ پیکنگ مٹیریل بھی معیاری ہونا ضروری ہے اس کا بھی انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ ہے ہمارے پاس شیشے اور پلاسٹک کے بوٹلز ہوتی ہیں پیکنگ مٹیریل کا فوڈ پروڈکٹ پر گہرا اثر ہوتا ہے اس کے علاوہ پیکنگ مٹیریل ایسا ہونا چاہیے جو بآسانی ہینڈل ہو سکے ہم اعلی معیار کا پلاسٹک مٹیریل استعمال کرتے ہیں البتہ جیمز((Jams ہم شیشے کی بوتل میں ہی دیتے ہیں ہماری بہت سی پروڈکٹس شیشے کی بوتل میں آتی ہیں اور ان کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ان پروڈکٹس کے بارے میں بتائیں جوصارفین میں بے انتہا مقبول ہیںسلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے ہنی (شہد)کی وجہ سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی اس کے علاوہ جیمز (Jams) ایپل مارملیڈ، بلیک کرنٹ ،چیری،ا سٹرابری اور Toppings کے سات آٹھ فلیورز ہیں، چاکلیٹ، بلوبیری، کریمل، بٹراسکاچ ، چنکی سالسا، پنیرسوس، بار بی کیوسوس اس کے علاوہ چار
    نئے سوسز بھی مارکیٹ میں آرہے ہیں کوشش ہے کہ بہتر سے بہتر چیز اپنے کسٹمر ز کو مہیا کی جائے۔ اس سوال پر کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ Toppingsمیں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا سرفراز احمد خان نے کہا کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کوشش ہے کہ ہم اپنے کسٹمر کو جو بھی پروڈکٹ دیں وہ ان کے معیار کے عین مطابق ہو میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ یہ بات کروں کہ ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اپنا معیار بہت بلند رکھنا چاہتے ہیں ایسا معیار کہ جب کسٹمر استعمال کرے تو اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے اس سوال پر کہ کیانیچرل انگریڈینٹس سب سے پہلے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈنے متعارف کروائے سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں اس بارے میں 100 فیصد وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا البتہ ہم شروع سے نیچرل انگریڈینٹس کا استعمال کر رہے ہیں اس سوال پر کہ صارفین کی آرا حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے اور انکی آرا کی بنیاد پر کس طرح پروڈکٹس کے معیار کو بہتر بنایا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہماراای میل ایڈریس ہے اور دیگر ذرائع سے بھی شکایات آتی ہیں تو ہم ان کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں یہ نظام محمود الحسن بٹ صاحب کے دور سے ہے ان کی اولادوں نے اس کو اختیار کیا ہے اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی شکایات کو براہ راست میں خود دیکھتا ہوں یاا سٹاف دیکھتا ہے مگر اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی ہے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کمیونٹی ،تعلیم اور دیگر سماجی حوالوں سے بھی کوئی پروگرام رکھتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ سی ایس آرایکٹیوٹی پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، شجرکاری مہم کے حوالے سے بھی ہم نے بہت کام کیا ہے سابق صدر پاکستان عارف علوی ے شجرکاری کے حوالے سے ایوارڈ بھی دیا تھا، بینائی فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی ہم معذور بچوں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں لا تعداد اداروں کے ساتھ کام چل رہا ہے کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم کام کر رہے ہیں فٹبال ہاکی ٹینس میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اسکولوں میں پروگرام کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں فوڈ ریسپی سکھائی جاتی ہے بڑے بڑے شیفس کو ہم نے بلوایا ہے خواتین کے لیے بھی ہم کام کر رہے ہیں اس سوال پر کہ 2024 میں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکو برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ ملا اور اب ماشاء اللہ 2025 میں برانڈ آئیکون کے لیے نامزدگی ہوئی ہے اس حوالے سے آپ کے کیا احساسات ہیں اس سوال کے جواب میں سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں اللہ تعالی کا شکرگزار ہوں کہ ہمیں سوسز اور ٹوپنگس کے حوالے سے 2024 میں برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ ملا ہم نے سوسز اور ٹوپنکس جو لانچ کئے وہ مارکیٹ میں بے انتہا پسند کیے گئے میں بے انتہا خوش ہوں کہ ہمیں پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا ہمارے ڈائریکٹرز کی خصوصی دلچسپی تھی کہ ہمیں برانڈ آف دی ایوارڈ ملنا چاہیے اس لیے وہ بھی بہت خوش ہیں آپ معیاری پروڈکٹس بناتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پر آپ کو اعزاز ملے تو برانڈ آف دی ائیر ایوارڈ بہت بڑا اعزاز ہے اور اب ہم برانڈآئیکون کے لیے نامزد ہوئے ہیں تو یہ یقینا بہت بڑی خوشی اور اعزاز کی بات ہے آفس میں جو لا تعداد ایوارڈز نظر آرہے ہیں وہ مجھے ملے ہیں مگر سرفراز احمد خان اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ جدا جدا نہیں ہیں ایک ہی ہیں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ وہ کمپنی ہے کہ جس نے سرفراز احمدخان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا اور کمپنی کا کنٹری ہیڈ بنایا میرے سی ای او، ڈائریکٹرز کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے معاملات میں آگے رکھتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ برانڈ آئیکون ایوارڈ احمدسلمان بٹ صا. حب خود وصول کریں۔
    اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی پروڈکٹس کن کن ممالک میں ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں سرفراز احمد خان نے بتایا کہ امریکہ ،کینیڈا ساؤتھ افریقہ، آسٹریلیا اور یو اے ای میں بھی ہمارا کچھ اسٹاک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اللہ کا شکر ہے کہ بیرون ممالک میں بھی ہماری پروڈکٹس کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے اس سوال پر کہ بین الاقوامی نمائشوں میں بھی سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اسٹالز لگاتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ گلف فوڈ میں بھرپور شرکت کر نے کے علاوہ کینیڈا اور دیگر ممالک میں ہونے والی نمائشوں میں بھی ہم شرکت کرتے ہیں
    اس سوال پر کہ اے آئی کا دور ہے اور ایڈوانس ٹیکنالوجیز استعمال ہو رہی ہیں تو کیا سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ بھی اس سے استفادہ کر رہی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہم بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں تو دنیا بھر میں جو ٹیکنالوجیز ٓارہی ہیں وہ ہم بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنی پروڈکشن کے معیار کو مزید بلند کیا جا سکے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں آن لائن سپلائی کا بھی کوئی سیٹ اپ موجود ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ
    سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکا آن لائن کا اپنا سیٹ اپ بھی ہے اور دیگر کمپنیاں بھی ہماری پروڈکٹس آن لائن فراہم کر رہی ہیں اسرائیلی پروڈکٹ کے بائیکاٹ سے آپ کی سیل پر کوئی نمایاں فرق پڑا کا جواب دیتے ہوئے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہاں اسرائیلی پروڈکٹس کے بائیکاٹ کے دوران ہمیں کافی فوائد حاصل ہوئے اور سیل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بھی زیادہ ہمیں کووڈ کے دنوں میں فائدہ ہوا اس دوران میں ہماری سیل بہت بہتر ہوئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں چاہتاہوں میرے پاس جو نالج ہے وہ نوجوانوں میں منتقل کروں،سرفراز احمد خان
    میری چھپی ہوئی صلاحیتوں کو میں نے خود اجاگر کیا کہتے ہیں نا گاتے گاتے انسان گویہ بن جاتا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا مارکیٹ کو خود دیکھا جب مارکیٹ میں نکلا تو بڑے دھکے کھائے ہم سیلز کے لوگ ہیں ہمارا مارکیٹنگ سے تعلق نہیں تھا پتہ چلا بہت ساری چیزیں ہیں بندے کو سوشل ہونا پڑتا ہے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے آہستہ آہستہ کرتے کرتے احساس ہوا کہ میں بہت سارے کام کر سکتا ہوں میں چاہتا تھا کہ سرفراز احمد خان جہاں بھی جائے لوگوں کو احساس ہو کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈہمارے درمیان موجود ہے مجھے بہت ساری یونیورسٹیز نے لیکچر کے لیے بلایا اس طرح میں ایک نیا کام سیکھ گیا بعد میں ٹی وی پروگراموں میں لوگوں نے بلانا شروع کر دیا اسکولوں میں گیا بچوں کو شعور دینا شروع کیا موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر بچوں کو بتایا کہ بزنس کیسے ہوتا ہے بزنس میں آنے والی رکاوٹیں کیسے دور کی جاتی ہیں سوشلائزیشن سے کمپنی کو بہت فائدہ ہوتا ہے میں جہاںبھی جاتا ہوں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا گفٹ ہیمپر ضرور دیتا ہوں اس سے کمپنی کی پبلسٹی ہوتی ہے مختلف تنظیموں کے ساتھ بھی منسلک ہوں مختلف منسٹرز میرے اچھے دوست ہیں ہالار وسان، آصف موسی، شارق جمال یہ سب ہمارے دوستوں میں سے ہیں یہ لوگ ہماری پروڈکٹس کو بہت پسند کرتے ہیں مختلف کلبز کے ساتھ بھی منسلک ہوں پاکستان ایکسیلنس کلب حمید بھٹو صاحب اس کے روح رواں ہیں کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال سے میری بہت اچھی دوستی ہے اور میں ایسوسی ایشن میں سندھ کا سینیئر وائس چیئرمین ہوں مسالہ میگزین کا فوڈایڈوائیزر ہوں میڈیا الائنس کا اعزازی ممبر ہوں لوگ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اللہ کا شکر ہے فیڈریشن کی کمیٹیوں کا ممبر بھی ہوں اردو اکیڈمی سندھ کے سی ای او ڈاکٹر سعد بن عزیز نے مجھے لکھنے کی دعوت دی ساتویں جماعت کی اردو کی کتاب میں میرا ایک مضمون شامل ہے غذا اور ہماری صحت دو سال ہو گئے ہیں یہ مضمون نصاب کا حصہ ہے میں اردو اکیڈمی سندھ کے سی ای او ڈاکٹر سعد بن عزیز اور ان کے والد مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا جونوجوان سیلز اور مارکیٹنگ میں آنا چاہتے ہیں میں ان کو مشورہ دوں گا کہ کسی بھی فیلڈ میں محنت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے ہر فیلڈ آپ کی محنت لگن اور ٹائم مانگتی ہے یہ تینوں چیزیں بہت ضروری ہیں نوجوانوں کو سوال پوچھنا چاہیے سوال پوچھیں گے تو سیکھیں گے میری کوشش یہ ہے کہ میرے پاس جو کچھ نالج ہے وہ نوجوانوں میں منتقل کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرفراز احمد خان بڑی باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیں

    سرفراز احمد خان بڑی باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیں، الفاظ کی ایسی چاشنی رکھتے ہیں کہ وہ بولتے رہیں اور لوگ سنتے رہیں اسی لئے کامیاب مو ٹیویشنل اسپیکر ہیں، ایسی جانی مانی شخصیت ہیں کہ شہر میں ہونے والی اکژبڑی تقریبات میں ان کو ضرور مدعو کیا جاتا ہے بلکہ یہ تقریبات ان کے بغیر نا مکمل تصور ہوتی ہیں،اپنے کام سے عشق ہے اس لئے آرڈر بکر سے سفر شروع کیا اور آج سلمان کارپوریشن پرائیویٹ کے کنڑی ہیڈ کے عہدے پر فائز ہیں اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں نے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو 1998 میں جوائن کیا مختلف فیلڈز میں کورسز کیے پاک سوئس سے ڈپلومہ کیا آرڈربکرکے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا متعدد کمپنیوں میں خدمات انجام دیں پھررفحان بعد ازاںحلیب فوڈ جوائن کیا اس کے بعد سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈمیں آگیا اس وقت میں آرڈر بکر کے طور پر جاب کرتاتھا دیواروں پر پوسٹر بھی لگاتا تھا بائک پر گھومتا تھا کراچی کا کوئی ایریا ایسا نہیں جو میں نے موٹر سائیکل پر گھومتے ہوئے نہیں دیکھا اور دکاندار سے میری جان پہچان نہ ہو شاہ فیصل کالونی ہو کلفٹن ہو ڈیفنس ہو گلستان جوہر اور گلشن اقبال، سرجانی ٹاؤن ہو مختلف علاقوں میں کام کیا جوڑ یا بازار میں سارا دن گھومتا رہتا تھا میرے ایک بہت اچھے دوست جوڑیا بازار میں بہت ایکٹو تھے وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے تھے میں اکیلا گھومتا رہتا تھا اللہ کا شکر ہے کمپنی نے مجھے ترقی دی پہلے میں ریجنل سیلز مینیجر کی پوسٹ پر آیا پھر نیشنل سیلز مینیجرپھرکنٹری ہیڈ کی پوسٹ پر فائزہوا کوشش ہے کہ کمپنی کے کام کو بہتر کیا جائے اکیلا کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا ٹیم بنانی پڑتی ہے اس ٹیم کو لے کر چلنا پڑتا ہے اچھی ٹیم ہی بہتر پرفارم کر سکتی ہے مستحکم ٹیم کی تشکیل میں کمپنی اونرز کا بہت بڑا کردار ہے ہم پر ان کا ٹرسٹ ہے اسی لیے کمپنی مسلسل ترقی کر رہی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان اسٹاف کو فیملی کی طرح پیار کرتے ہیں
    سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ترقی میں سب سے بڑا کردارکمپنی کے مالکان کی نیتوں کا ہے نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے یہ بات 100 فیصد صادق آتی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ سے 27 سالہ رفاقت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کے مالکان سلمان محمود بٹ صاحب اور کامران محمود بٹ صاحب مجھے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے ایسا لگتا ہے کہ میری کمپنی میری فیملی ہے حسن کامران بٹ صاحب، احمد سلمان بٹ صاحب اور سمیر سلمان بٹ صاحب سارے اسٹاف کو فیملی کی طرح پیار کرتے ہیں کمپنی کی جیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے ملازمین حوالے سے سوچتی ہیں اور ان کا خیال رکھتی ہے

  • چینی خواتین اور سوشل میڈیا کے اثرات …..ارم  زہرا

    چینی خواتین اور سوشل میڈیا کے اثرات …..ارم زہرا

    اس بار شنگھائی کے بازار نہیں، کیمپس کی رونقیں نہیں، بلکہ ایک عجیب سی خاموش چہچہاہٹ میرے سفر کی منزل بنی ۔ایک ایسی دنیا جہاں آوازیں ٹیکسٹ بن جاتی ہیں اور جذبات فالوورز میں بدل جاتے ہیں۔میں جس کیفے میں بیٹھی تھی، وہاں ہر میز پر ایک اسمارٹ فون جگمگا رہا تھا۔ کوئی لائیو تھا، کوئی فیس فِلٹر آزما رہا تھا، کوئی TikTok پر ٹرانزیشن کے لیے چائے کو اٹھا کر نیچے رکھ رہا تھااور ہر دوسرا چہرہ عورت کا تھا۔نوجوان لڑکیاں، مائیں، یہاں تک کہ بزرگ خواتین تک، ایک نئی زبان بولنے لگی تھیں سوشل میڈیا کی زبان۔ ایک دوپہر، میں ژیا ہونگ شو چینی انسٹاگرام کی ایک اسٹار بلاگر سے ملی اس کا نام تھا آن لی۔ نرم چہرہ، میک اپ کی ہلکی تہہ، اور اسکرین کے پیچھے چھپی ایک ماں۔اس کے دس لاکھ فالوورز تھے، مگر وہ خود بھی حیران تھی ۔تم جانتی ہو؟ میں نے صرف اپنے بیٹے کے ساتھ لنچ کی تصویر شیئر کی تھی اور سب نے کہنا شروع کیا تم ماں ہو کر بھی خوبصورت ہو! جیسے ماں ہونا ایک کمزوری ہومیں اس کی بات سن کر کچھ لمحوں کو ساکت رہ گئی۔ کیا ہم سب عورتیں، اسکرین پر خود کو ثابت کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں؟چینی خواتین اب صرف گھروں کی زینت نہیں رہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کے ہاتھوں میں طاقت، پلیٹ فارم، اور پہچان تھما دی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ان پر خوبصورتی، مکمل ماں ہونے، مہذب بولنے اور ہر لمحہ پرفیکٹ دکھنے کا دباو بھی ڈال دیا ہے۔ایک نوجوان طالبہ، جیا وجیاو، نے بتایا کہ وہ روزانہ وی لاگ بناتی ہے:اگر میں دو دن ویڈیو نہ اپلوڈ کروں، تو فالوورز ناراض ہو جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ اور تم تھکتی نہیں ہو کبھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ پھر آہستہ سے بولی یہاں، پر میں دکھا نہیں سکتی۔ یہاں دکھ کم اور تصویر زیادہ اہم ہے۔شنگھائی کی شامیں جیسے بڑی اسکرینوں پر فلم بن چکی تھیں۔ ہر خاتون چاہے وہ اسٹور کی سیلز گرل ہو یا مووی بلاگر کسی نہ کسی لینز میں قید ہو چکی تھی۔ایک اور لمحہ، جب میں میٹرو میں سفر کر رہی تھی، ایک ماں اپنی بچی کو روٹی کھلاتے ہوئے ویڈیو بنا رہی تھی مگر بچی کے چہرے پر خوشی نہیں، بیزاری تھی۔میں نے سوچایہ دکھ ہم نے خود چنا ہے؟ یا ہمیں دکھایا گیا ہے کہ بس ایسے جیو تاکہ پسند کیے جاوچین کی یہ خواتین سوشل میڈیا پر طاقتور، مگر نجی زندگی میں اکثر تنہا۔کسی کے 1 ملین فالوورز ہیں، مگر رات کو صرف نیند کی گولی ساتھ ہے۔کسی کی ویڈیوز وائرل ہیں، مگر دل ویران۔میں نے آن لی سے پوچھاتم اگر یہ سب بند کر دو، کیا خوش رہو گی؟اس نے قدرے توقف سے کہامیں شاید خاموش ہو جاوں، پر آزاد ہو جاوں گی۔چین کی جولائی کی وہ سہ پہر تھی، جب ہوا ہلکی سی گرم تھی، لیکن بارش کی نمی نے اسے خوبصورت بنا دیا تھا۔ میں شنگھائی کے ایک بڑے مال میں تھی رنگ برنگی دکانیں، سجی سجائی بیوٹی شیلوز، اور ہر طرف جگمگاتی روشنیاں۔میری نظریں ایک میک اپ کاونٹر پر ٹھہر گئیں۔ وہیں چند نوجوان چینی لڑکیاں کھڑی تھیں، ایک بیوٹی کنسلٹنٹ ان کے چہرے پر وائٹننگ فاونڈیشن لگا رہی تھی اور لڑکیاں آئینے میں خود کو دیکھ کر مطمئن تھیں، جیسے کسی خواب کو چھو لیا ہو۔ میں چونکی۔کیا خوبصورتی واقعی سفید ہونے سے جڑی ہے؟میرا دل آہستہ سے جیسے سوال کرنے لگا۔چین میں خوبصورتی کا معیار اب بھی ایک پرانی روایت سے جڑا ہوا ہے سفید چمکتا رنگ۔نوجوان لڑکیاں اسکول سے لے کر یونیورسٹی، پھر سوشل میڈیا تک، ہر جگہ fair, clear, porcelain skin کے خواب لے کر پھرتی ہیں۔وانگ لی جو ایک بیوٹی یوٹیوبر ہے، اس نے مجھے بتایامیں باہر نکلنے سے پہلے SPF 50+ لگاتی ہوں، چھتری لیتی ہوں، اور ہاتھوں پر دستانے پہنتی ہوں تاکہ جلد سانولی نہ ہو۔میں نے حیرانی سے پوچھاکیوں؟اس نے کہا کیونکہ چینی لڑکیاں گوری دکھیں، تبھی حسین مانی جاتی ہیں۔شنگھائی کی ایک بڑی بیوٹی شاپ میں میں نے درجنوں کریمیں دیکھیںSkin Lightening Cream, Snow Aura BB, Whitening Day Serumمیں نے ایک سیلز گرل سے پوچھایہ سب واقعی جلد کو سفید کرتی ہیں؟وہ مسکرائی اور آہستہ سے بولی یہ خواب بیچتی ہیں، اصل نہیں۔ مگر خواب ہی تو سب کچھ ہے۔یونیورسٹی کی ایک طالبہ ژاو مِن نے بتایا کہ بچپن میں اس کی ماں اسے کہتی تھی سورج میں مت نکلو، تم کالی ہو جاو گی، پھر کوئی پسند نہیں کرے گا۔میں نے محسوس کیا صرف رنگت ہی نہیں، قبولیت کا خوف بھی اس سفیدی میں چھپا ہوا ہے۔یہ صرف ایک بیوٹی ٹرینڈ نہیں، یہ ایک خاموش جنگ ہے خود سے، معاشرے سے، اور آئینے سے۔سوشل میڈیا پر ہر فلٹر، ہر فیس ایپ، لڑکی کو تھوڑا اور گورا کر دیتا ہے۔TikTok، Xiaohongshu، Douyin ہر جگہ لڑکیاں سفید اور نازک دکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔میئی لی، جو ایک ماڈل ہے، اس نے کہااگر میں تھوڑی گہری رنگت میں ویڈیو لگاوں، لوگ کہتے ہیں بیمار لگ رہی ہو۔ سفید رنگ صحت کی علامت ہے، کامیابی کی علامت ہے۔میں نے سوچا کیا سفید چہرہ اب خوشی، دولت اور عزت کا نشان بن چکا ہے؟ یا یہ سب ایک مارکیٹنگ کا جادو ہے؟شہر سے باہر، جب میں ایک گاوں گئی، تو وہاں لڑکیاں سورج میں کام کرتی تھیں۔ ان کے چہرے سانولے تھے، مگر آنکھوں میں سکون تھا۔ایک لڑکی، آئی لین، جو چاول کے کھیت میں کام کر رہی تھی، اس نے ہنستے ہوئے کہا ہمیں سانولا ہونے پر شرمندگی نہیں، ہم تو سورج کی بیٹیاں ہیں! اس کی بات نے میرے دل کو جیسے چھو لیا ہو۔سچ کی روشنی ہمیشہ سفید نہیں ہوتی کبھی کبھی وہ مٹیالی ہوتی ہے، مگر سچی ہوتی ہے۔اس سفر نے مجھے میرے ہی آئینے کے سامنے لا کھڑا کیا۔میں نے سوچا کیا کبھی میں نے بھی اپنی جلد کو کمتر سمجھا؟ کیا کبھی میں نے بھی whiteness کو برتری کا معیار جانا؟میں نے اس لڑکی کے چہرے پر میک اپ کی کئی تہیں دیکھی،پر جو چمک اس کی آنکھوں سے نکل رہی تھی، وہ کسی فاونڈیشن سے نہیں،اندر کے یقین سے تھی۔چین کی بیوٹی انڈسٹری، سوشل میڈیا، اور ماں کی نصیحتیں سب لڑکی کو بتاتی ہیں خوبصورتی سفید چمک میں ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ خوبصورتی احساس میں ہے اور رنگت، اس کا صرف ایک رنگ ہے، مکمل تصویر نہیں۔میں اس جولائی کے سفر کے بعد جان گئی ہوں۔ ہر چہرہ خوبصورت ہوتا ہے جب وہ خود کو قبول کر لے، خواہ وہ چینی ہو یا پاکستانی، سانولا ہو یا گورا۔جب میں شنگھائی سے ہانگژو کی طرف روانہ ہوئی تو راستے میں بارش شروع ہو گئی۔ کھڑکی کے پار نمی میں لپٹی کھیتیاں، ندیوں کے کنارے پر اٹھتی دھند، اور بجلی کے کھمبوں کے بیچ چمکتی روشنی۔ جیسے سب کچھ کسی فلم کا سین ہو۔ مگر میرے دل میں جو فلم چل رہی تھی، وہ حقیقت کی تھی۔اب تک میں سوشل میڈیا پر چینی خواتین کے چمکتے چہرے دیکھ چکی تھی ہر تصویر میں ایک جیسا سفید پن، ایک جیسی پرفیکٹ اسکن، جیسے سب نے ایک ہی فانڈیشن سے خود کو ڈھک رکھا ہو۔ مگر میں جانتی تھی کہ یہ صرف رنگت نہیں، یہ قبولیت کی جنگ ہے۔ میں اب ان کے ادھورے لمحے، دبے ہوئے جذبے، اورا سکرین سے باہر کی کہانیاں جاننا چاہتی تھی جہاں چمک نہیں، سچائی سانس لیتی ہے ہا نگژو میں میری ملاقات ہوئی لیو فینگ سے وہ ایک معروف بیوٹی انفلوئنسر تھی، جس کے ویڈیوز میں وہ روزانہ نیا میک اپ کرتی، تاْزہ کپڑے پہنتی، اور ہر بار کیمرے کے سامنے خوش دکھتی۔لیکن جس دن ہم ملے، وہ تھکی ہوئی تھی، اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔آج تم ویڈیو نہیں بنا رہیں؟میں نے پوچھا۔ وہ مسکرائی ایک بیرنگ مسکراہٹ، اور بولی آج میں بس جینا چاہتی ہوں۔ خود کو
    دکھانا نہیں چاہتی۔میں چپ چاپ اس کے سامنے سے اٹھ گئی اور سوچتی رہی سوشل میڈیا نے ہمیں آواز دی، مگر کیا ہم نے خود کو کھو بھی تو نہیں دیا؟میں نے کئی خواتین کو دو الگ دنیا میں جیتے دیکھا۔ 1. سوشل میڈیا پر: پرکشش، ہنستی ہوئی، مکمل 2. حقیقی زندگی میں: تھکی ہوئی، سوال کرتی، خاموش میں نے ایک ماں کو دیکھا جو دن میں گھر میں جھاڑو دیتی، اور شام کو TikTok پر موٹیویشنل ویڈیوز بناتی ہے اس نے بتایالوگ کہتے ہیں میں انہیں حوصلہ دیتی ہوں اور مجھے لگتا ہے میں خود اندر سے ٹوٹ رہی ہوں۔یہ تضاد صرف چین کا نہیں، ہماری دنیا کی خواتین کا ہے جہاں ہم سچ سے زیادہ نظر آنے والے سچ کو اہمیت دیتے ہیں۔ایک نوجوان لڑکی، میئی لن جو ابھی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ روز صبح اٹھتے ہی ژیا وہونگ شو کھولتی ہے۔میں دیکھتی ہوں کہ باقی لڑکیاں کیا پہن رہی ہیں، کیا کھا رہی ہیں، کہاں جا رہی ہیں اور مجھے لگتا ہے میں پیچھے ہوں۔میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ ذہین تھی، سادہ تھی، مگر اپنے ہونے پر غیر مطمئن۔ یہی سب سے بڑا اثر ہے سوشل میڈیا کا:ہم وہ بننا چاہتے ہیں، جو ہم نہیں ہیں کیونکہ ہم وہ دیکھ رہے ہیں، جو حقیقت نہیں۔چین میں کئی خواتین نے سوشل میڈیا سے خود کو آزاد بھی کیا کاروبار کھولے، خیالات بیان کیے، عورتوں کے حقوق پر بات کی۔چن یان ایک فیمنسٹ پوڈکاسٹر ہے۔ اس نے مجھے بتایا:یہ پلیٹ فارم اب صرف بیوٹی یا پکوان کے لیے نہیں، ہم یہاں اپنے مسائل، اپنی زبان میں بیان کرتے ہیں۔لیکن جیسے ہی وہ معاشرتی یا خاندانی دباو پر بات کرتی ہے، کئی بار اس کے ویڈیوز سنسر ہو جاتے ہیں۔ہمیں سوشل میڈیا نے زبان دی ہے، مگر یہ زبان اگر زیادہ سچ بولے تو بند بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ جملہ میرے دل میں چبھ گیا۔شہر کی چمک کے بعد، دیہی علاقے کی طرف اگر نظریں دوڑائی جائیں تو یہاں انٹرنیٹ تو ہے، مگر رفتار کم ہے۔مگر حیرت انگیز طور پر، یہاں بھی خواتین موبائل ہاتھ میں لے کر لائیو جا رہی تھیں ۔کبھی چاول بناتے ہوئے، کبھی سلائی کرتے ہوئے۔ہمیں لگا تھا ہم پیچھے رہ گئے، پر اب ساری دنیا ہمیں دیکھ سکتی ہے!ایک خاتون، جن کا نام آئی چن تھا، نے خوشی سے کہا۔یہاں سوشل میڈیا اظہار کا ذریعہ بنا، نہ کہ موازنہ یا مقابلہ۔یہ فرق میرے دل میں امید کی شمع روشن کر گیا۔سوشل میڈیا نے خواتین کو اظہار کی طاقت تو دی، مگر رشتوں سے دوری بھی دی۔ایک ماں نے کہامیری بیٹی میرے ساتھ کھانا نہیں کھاتی، وہ اپنے فالوورز کے ساتھ ورچوئل ڈنر کرتی ہے۔کیا ہم دکھانے کے چکر میں جینے سے غافل ہو چکے ہیں؟میں جب آئینے کے سامنے کھڑی تھی چہرہ تھکا ہوا، آنکھوں میں سوال تھا تو دل نے کہا۔سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں سے جوڑ دیا مگر کیا ہم خود سے بھی جڑے رہ گئے ہیں۔ یہ سفر اب محض ملکوں، شہروں یا چہروں کا نہیں رہا۔یہ ایک اندرونی تلاش ہے کہ عورت چاہے چین میں ہو یا کہیں اور، وہ سچ بولنے، خود کو پانے، اور سکون کی تلاش میں ہے۔سوشل میڈیا ایک آئینہ ہے کبھی حقیقت دکھاتا ہے، کبھی فریب۔چینی خواتین اب اپنی کہانیاں لکھ رہی ہیں کبھی وی لاگ میں، کبھی نظموں میں، کبھی خاموشیوں میں۔ ہمیں بس ان کی بات سننی ہے بغیر فِلٹر کے۔ مگر سوشل میڈیا سے ہٹ کر اگر مضافات کی خواتین کے بارے میں بات کی جائے تو ان کی آنکھوں میں، ان کے لبوں کی دراڑوں میں، ان کے سروں پر بندھے سادہ اسکارفوں میں، ان کی ہتھیلیوں کی خاموش لکیروں میں ایسی سچائیاں چھپی ہیں، جو کسی ویڈیو میں کیپچر نہیں ہو سکتیں، بس محسوس کی جا سکتی ہیں ۔ دل کی گہرائی سے، انسان کی آنکھ سے، عورت کی نظر سے۔ نِنگبو کے مضافات میں، میں ایک چھوٹے کپڑوں کے کارخانے گئی۔جہاں صبح چھ بجے کی سناٹے میں، عورتیں کام پر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک درمیانی عمر کی خاتون، لِن ژیا، مجھے دیکھ کر
    مسکرائیں۔ ان کی مسکراہٹ تھکی ہوئی تھی، جیسے ہر مسکراہٹ کے پیچھے کئی سال کی خاموشیاں چھپی ہوں۔تم بھی صبح اتنی جلدی جاگ جاتی ہو؟ انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔میں نے ہاں میں سر ہلایا، تو وہ ہنس پڑیں:چینی عورت کے پاس نیند کا وقت نہیں ہوتا، صرف ذمے داری ہوتی ہے۔یہ ایک سادہ سا جملہ تھا، مگر اس میں نہ جانے کتنے صدیوں کی محنت، قربانی، اور خاموش بغاوتیں چھپی تھیں۔ میں نے دیکھا، وہاں عورتیں مشینوں پر کام کر رہی تھیں، کچھ نے بچوں کو کندھوں پر باندھ رکھا تھا، کچھ کی آنکھوں میں نیند تھی، مگر ہاتھ تیز تھے۔میں سوچتی رہی کیا پاکستانی، بھارتی، ایرانی، افریقی عورتیں بھی ایسے ہی وقت کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہیں؟ یا یہ ایک عالمی کہانی ہے؟دو دن بعد، میں ایک مقامی یونیورسٹی کی کلاس میں گئی۔ وہاں نوجوان طالبات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، ہاتھوں میں موبائل، اور آنکھوں میں خواب وہ کچھ مختلف تھیں۔لیکن جب میں نے پوچھا۔ تم سب کیا بننا چاہتی ہو ؟ تو ایک لڑکی، یانگ لی نے آہستہ سے کہا۔آزاد۔یہ جواب کسی فلسفی کا قول نہیں تھا، بلکہ ایک دل کی فریاد تھی۔ اس نے بتایا کہ یہاں کی لڑکیوں پر اب بھی دادی، ماں، سسرال، اور معاشرہ اپنے اپنے قاعدے مسلط کرتا ہے ایک ہی وقت میں Traditional بھی بننا ہے اور modern بھی رہنا ہے اس کے لہجے میں وہی تھکن تھی، جو ہم گاوں کی لڑکیوں میں سنتے ہیںتم نے وہی پہننا ہے جو دادی کو پسند ہو، مگر لگنا فیشن ایبل ہے، تاکہ شہر والے قبول کریں یانگ نے ہنستے ہوئے کہا ۔ یہ دو چہروں کی زندگی بہت مشکل ہے ۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں روشنی تھی، مگر وہ روشن صرف علم کی نہیں تھی وہ جنگ کی روشنی تھی۔ ایک عورت کی جنگ، جو بولتی نہیں، مگر روز جیتی ہے۔میں نے ایک اور خاتون کو دیکھا شنگھائی کی سب وے میں، ایک ماں، جو تین بچوں کے ساتھ تھی، اور ہر بچے کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ خاتون تھکی ہوئی تھی، مگر کسی کو محسوس نہیں ہونے دے رہی تھی۔ میرے دل میں خیال آیاشاید ماں ہونا ایک عالمی زبان ہے چین ہو یا پاکستان، ماں کا تھکن میں بھی مسکرانا سب جگہ ایک جیسا ہوتا ہے۔مجھے ایک قصبے کی مٹیار لڑکی یاد آئی، جو اپنی دادی کے ساتھ ٹی وی پر چینی ڈرامہ دیکھتی تھی، جس میں مضبوط عورتیں، چٹانوں جیسی مائیں، اور ہنر مند بیٹیاں دکھائی جاتی تھیں۔ وہ لڑکی سوچتی تھی:کیا حقیقت میں چینی عورت اتنی طاقتور ہوتی ہے؟اب میں جانتی ہوں ہاں، وہ ہوتی ہے۔لیکن اس طاقت کے نیچے قربانی، درد، اور اپنی خواہشوں کو مار دینے کا ہنر ہوتا ہے۔اس شہر میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں تھا جس میں عورت کا عکس نہ ہو وہ ٹرین چلا رہی ہے، بینک میں کام کر رہی ہے، سڑک پار کرا رہی ہے، پرانے کھانوں کی خوشبو میں چھپی ہوئی ہے، اور مستقبل کی فیکٹریوں کی دیواروں میں چنی ہوئی ہے۔میں ایک شام زِن جھیل کے کنارے بیٹھی تھی اردگرد سکون، اور ہوا میں ہلکی نمی۔ ایک بوڑھی عورت میرے پاس آ کر بیٹھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور کہابیٹی، ہم نے خاموشی میں جینا سیکھا ہے۔میں نے اس کے ہاتھ تھامے اور سوچایہ خاموشی، صرف چینی عورت کی نہیں یہ دنیا کی ہر عورت کی وراثت ہے یہ سفر صرف چین کی سڑکوں، بازاروں یا عمارتوں کا نہ تھا یہ ایک خاتون کی آنکھ سے ایک اور خاتون کو دیکھنے کا سفر تھا۔ مجھے لگا، زبان، نسل، یا لباس جتنا بھی مختلف ہو دِل ایک جیسے دھڑکتے ہیں۔چینی عورت اپنی روایات کی ڈور تھامے، جدیدیت کے کنارے پر چلتی ہے کبھی کبھی تھک جاتی ہے، رکتی ہے، لیکن گرتی نہیں۔ اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔میں نے اس لڑکی کی آنکھ میں نہ صرف خواہش دیکھی، بلکہ ایک ایسی ہنسی دیکھی جو صدیوں کے رنج پر بھی بھاری تھی۔چینی خواتین کے لیے سوشل میڈیا آزادی کا دروازہ بھی ہے، اور قید کا آہنی جنگلہ بھی۔جہاں وہ آواز پا رہی ہیں، وہیں اپنے آپ کو مسلسل دکھانے کے دباو میں تھک بھی رہی
    ہیں۔ ایک چھوٹا وی لاگ شاید ان کی خوشی کا ذریعہ ہے، مگر کبھی کبھار وہی اسکرین اصل زندگی سے پردہ ڈال دیتی ہے۔جولائی کی وہ رات، جب میں ہوٹل کی کھڑکی سے شنگھائی کی نیون لائٹس کو دیکھ رہی تھی، دل نے ایک بات کہی ہم سب عورتیں، چاہے چین میں ہوں یا پاکستان میں، اب صرف خود کو آئینے میں نہیں، اسکرین پر دیکھنے کی عادی ہو گئی ہیں۔مگر شاید سب سے خوبصورت لمحہ وہی ہوتا ہے جو کیمرے کے پیچھے ہوتا ہے۔

  • پاکستان کے کس ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز اگیا؟

    پاکستان کے کس ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز اگیا؟

    اسلام آباد:(کنزیو مر واچ نیوز)پاکستانی ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نئے تعمیر شدہ رن وے کو ایشیا پیسفک انجینئرنگ ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔یہ ایوارڈ بین الاقوامی ادارہ فیڈک (FIDIC) کی جانب سے دیا گیا، جو انجینئرنگ کے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی اور تکنیکی مہارت کو تسلیم کرتا ہے۔تقریب میں حکام نے بتایا کہ یہ رن وے تقریباً 5 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر ایئرپورٹ کو بند کیے بغیر مکمل کیا گیا۔ اب یہ رن وے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے طویل اور مضبوط ترین سخت رن ویز میں شمار ہوتا ہے۔یہ عالمی ایوارڈ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی کنسلٹنسی ٹیموں کی شاندار منصوبہ بندی، فنی مہارت اور حفاظت کے اعلیٰ معیار کو مدِنظر رکھتے ہوئے دیا گیا۔واضح رہے کہ کوئٹہ کے اس جدید رن وے پر پہلا طیارہ پی آئی اے کی پرواز PK-3250، 31 مئی 2023 کو اسلام آباد سے لینڈ کر چکی ہے۔

  • طوفانی بارشیں،221 افراد ہلاک،804 سے زائد مکانات تباہ

    طوفانی بارشیں،221 افراد ہلاک،804 سے زائد مکانات تباہ

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)قومی آفات کے انتظامی ادارے (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں حالیہ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی ایک ہولناک تصویر سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 221 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں 804 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق طوفانی بارشوں سے پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں بارشوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ 135 افراد جان بحق ہوئے، جبکہ 470 افراد زخمی ہو گئے، بارشوں سے 168 مکانات جزوی طور پر جبکہ 24 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔خیبرپختونخوا میں بارشوں کی وجہ سے 40 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 142 مکانات جزوی طور پر اور 78 مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے۔سندھ میں بارشوں کے نتیجے میں 22 افراد جان بحق ہوئے اور 40 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 54 مکانات جزوی طور پر اور 33 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔بلوچستان میں بھی بارشوں کی شدت نے 16 افراد کی جان لے لی، جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، یہاں 56 مکانات جزوی طور پر اور 8 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں سے 3 افراد زخمی ہوئے، جب کہ یہاں 71 مکانات جزوی طور پر اور 66 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔آزاد کشمیر میں بارشوں کے سبب 1 شخص کی جان گئی اور 6 افراد زخمی ہوئے۔ یہاں 75 مکانات جزوی طور پر اور 17 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔اسلام آباد میں بھی بارشوں کے نتیجے میں 1 شخص جاں بحق ہوا، جب کہ 35 مکانات جزوی طور پر اور ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوا۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد کی جان گئی جس میں 3 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 25 مکانات منہدم ہوئے اور 5 مویشی ہلاک ہوئے۔ اب تک 804 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور 200 مویشیوں کی اموات ہوئی ہیں۔

  • فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سےاہم کاروباری شخصیات کی ملاقات

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سےاہم کاروباری شخصیات کی ملاقات

    راولپنڈی(کنزیومر واچ نیوز) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملک کی کاروباری شخصیات نے ملاقات کی جس میں ملکی معیشت سے متعلق فیلڈ مارشل کو بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز کی سربراہی میں کاروباری شخصیات نے فیلڈ مارشل سے ملاقات کی، ملاقات میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد اور ایس ایم تنویر اور دیگر موجود تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں ایف پی سی سی آئی اور لاہور چیمبر کے صدور بھی شریک تھے۔گوہر اعجاز نے بتایا کہ ملاقات میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو ملکی معیشت سے متعلق بریف کیا گیا۔سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام دکھائی دے رہا ہے، کاروباری برادری حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سپورٹ کر رہی ہے، معاشی اصلاحات کے لیے کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کو مہنگائی کے تناسب سے کم کیا جائے ، وفاقی بجٹ سے متعلق کاروباری برادری کے تحفظات کو دور کیا جائے۔سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کو آگے چلایا جائے گا، بجٹ تقریر میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں جبکہ ملکی کپاس اور کسانوں کو تحفظ دیا جائے۔