Blog

  • کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم برقرار، پارہ 41 ڈگری تک جانے کا امکان

    کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم برقرار، پارہ 41 ڈگری تک جانے کا امکان

    کراچی(ویب ڈیسک )کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم کا سلسلہ برقرار ہے اور محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک گرمی کی شدت برقرار رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 30.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ جنوب مغرب یعنی سمندری سمت سے 22 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔آج شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ موسم شدید گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہیٹ ویو الرٹ کے مطابق کراچی میں آئندہ 3 روز کے دوران بھی موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔ پیشگوئی کے مطابق صبح کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 80 فیصد جبکہ شام کے وقت 65 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جس سے حبس اور گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔اس دوران سمندر کی جنوب مغربی سمت کے علاوہ مغربی سمت سے بھی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اسی طرح کل تک سندھ کے بیشتر اضلاع میں درمیانی سے شدید ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 13 جون تک شدید گرمی کے باعث صوبے کے میدانی علاقوں میں چند مقامات پر گرد آلود ہوائیں چل سکتی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا بھی امکان ہے۔ہیٹ ویو الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ کے اکثر اضلاع میں 12 جون تک درمیانی سے شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمائی بے نقاب، ڈیڑھ سال میں 2.3 ارب ڈالر کما لیے

    ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمائی بے نقاب، ڈیڑھ سال میں 2.3 ارب ڈالر کما لیے

    واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کی جانب سے کرپٹو کرنسی سے متعلق منصوبوں کے ذریعے حاصل کی گئی آمدن کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک ٹرمپ خاندان نے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اس آمدن میں مختلف کرپٹو منصوبے شامل ہیں، جن میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، ٹرمپ میم کوائن اور دیگر وابستہ کمپنیاں شامل ہیں۔ ان منصوبوں نے مختصر عرصے میں بڑی مالی سرگرمی پیدا کی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی۔دوسری جانب اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے 10 لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر تقریباً 2.3 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے میں نمایاں کمی پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ اور بعض منصوبوں کی قدر میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ ٹرمپ خاندان سے منسلک منصوبوں کی مالی کامیابی پر بھی بحث جاری ہے۔
    اس معاملے پر مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری معاملات اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان مناسب قانونی حدود برقرار رکھی گئی ہیں۔
    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سیاسی شخصیات کی شمولیت مستقبل میں مزید ضابطہ سازی، شفافیت اور نگرانی سے متعلق مباحث کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے قبل خطرات کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • امریکا نے ایران پر پھر حملے شروع کر دیے، تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے

    امریکا نے ایران پر پھر حملے شروع کر دیے، تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے

    امریکا نے ایران پر پھر حملے شروع کر دیے، تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے
    امریکا نے ایران پر پھر حملے شروع کر دی ہیں اور تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق دارلحکومت تہران اور ایرانی شہربندرعباس میں بھی دھماکا سنا گیا ہے۔

    ایرانی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ قشم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے ہیں جبکہ ایرانی بندرگاہ گر گان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں، یہ حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیےجارہے ہیں۔ایرانی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان سمندر میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
    دوسری جانب ،اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر جاری حملوں میں کوئی کردار نہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے کل بھی ایران پر شدید حملے کیے تھے اور آج بھی کریں گے۔

  • شادی کی تقریب کا بچا ہوا کھانا درجنوں افراد کیلئے جان لیوا بن گیا

    شادی کی تقریب کا بچا ہوا کھانا درجنوں افراد کیلئے جان لیوا بن گیا

    حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں شادی کی تقریب کا بچا ہوا کھانا درجنوں افراد کے لیے بیماری کا سبب بن گیا، جہاں مبینہ طور پر کسٹرڈ کھانے کے بعد 107 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

    اسپتال حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں کم عمر بچے، نوجوان اور بڑی عمر کے افراد شامل ہیں۔ متاثرین کو الٹی، پیٹ درد اور طبیعت بگڑنے کی شکایات کے بعد قاسم آباد تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر کے اضافی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ میں نے کسٹرڈ کھایا تھا، اس کے بعد الٹی ہوئی اور پیٹ میں شدید درد شروع ہوگیا۔

    ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں فوڈ پوائزننگ کی وجہ کسٹرڈ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
    انتظامیہ نے متعلقہ پکوان سینٹر کی جانچ کے لیے سندھ فوڈ اتھارٹی کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ڈی ایچ او ڈاکٹر پیر غلام حسین کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • ماہرہ خان نے  برطانیہ کے شاہ چارلس سے ملاقات میں کیا گفتگو کی؟

    ماہرہ خان نے برطانیہ کے شاہ چارلس سے ملاقات میں کیا گفتگو کی؟

    لندن(پاکستان واچ نیوز)پاکستانی ٹی وی و فلم کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے کہا ہےکہ ذہنی صحت پر بات کرتے ہوئے لوگ اب بھی شرم محسوس کرتے ہیں اس لیے ہمیں دماغی امراض سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
    لندن میں برٹش ایشین ٹرسٹ کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ خان نے یہ بات کہی۔ماہرہ خان کا تھاکہ ذہنی امراض بھی دیگر بیماریوں کی طرح ہیں، معاشرے میں ہراسانی اور تشدد کے واقعات قابلِ مذمت ہیں، مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا اور ذمے داروں کو مثال بنانا ضروری ہے۔


    اداکارہ نے شاہ چارلس سے ملاقات کا احوال بھی بتایا اور کہا ‘ برطانیہ کے شاہ چارلس کی ٹرسٹ سرگرمیوں میں شرکت اہم ہے، میری شاہ چارلس سے بہت اچھی بات چیت ہوئی، انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا جو میں برٹش ایشین ٹرسٹ کے ساتھ کام کرتی ہوں، وہ بہت چارمنگ شخصیت ہیں’۔ماہرہ نے بتایا کہ ‘انہوں نے اس کام میں کافی دلچسپی ظاہر کی، وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ سب کیسا جارہا ہے، انہیں پتا تھا میں سماجی طور پر کیا کرتی ہوں’۔

  • تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ  ڈالا جا رہا ہے؟

    تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )نئے وفاقی بجٹ سے قبل ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس آخر کون دیتا ہے اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے طاقتور طبقات پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔ملک بھر میں لاکھوں تنخواہ دار ملازمین اپنی ماہانہ آمدن سے براہِ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روزمرہ زندگی میں بھی مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پیٹرول خریدنے سے لے کر موبائل فون استعمال کرنے اور اشیائے خورونوش کی خریداری تک، تقریباً ہر مرحلے پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔اسلام آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریس سے وابستہ خاتون کا کہنا ہے کہ ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس کٹنے کے بعد بھی وہ پیٹرول، موبائل اور دیگر ضروری اشیا پر الگ سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، جس سے محدود آمدن مزید سکڑ جاتی ہے۔اسی طرح آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد بھی پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کو اپنی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں۔حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ تیار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام اور مالی خسارے میں کمی کے اہداف کے باعث عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اضافی محصولات کا بوجھ ایک بار پھر انہی طبقات پر نہ ڈال دیا جائے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم آمدن اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کئی معاملات میں یکساں شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری اور کم آمدن والے طبقے کو پہنچتا ہے۔مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد رقم حاصل کی۔ چند برس قبل یہ آمدن اس کے مقابلے میں بہت کم تھی، تاہم لیوی کی شرح میں مسلسل اضافے کے باعث وصولیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ناقدین کے مطابق اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے۔معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ مساوی طور پر تقسیم نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ دستاویزی ہونے کی وجہ سے آسان ہدف بن جاتا ہے جبکہ بااثر اور بڑے آمدنی والے بعض شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی اس شعبے کی جانب سے دیے گئے ٹیکس کی مقدار کئی بڑے کاروباری شعبوں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے زیادہ رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا زرعی شعبہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع ہے۔اگرچہ ملک کی بڑی آبادی اور معیشت کا قابلِ ذکر حصہ زراعت سے وابستہ ہے، تاہم اس شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن انتہائی محدود بتائی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق بڑے زمینداروں اور بعض دیگر بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر محصولات کے نظام میں توازن پیدا کرنا مشکل ہوگا۔اسی طرح ہول سیل اور ریٹیل کاروبار کے بڑے حصے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ حکومت متعدد بار تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ماہرین کے مطابق ملک میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں بڑی رقوم موجود ہیں لیکن ان کی آمدن ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی اور آسان ٹیکس پالیسی اختیار کی جائے تو حکومت نئے ٹیکس لگائے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔دریں اثنا کاروباری اور صنعتی حلقے بھی موجودہ ٹیکس ڈھانچے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکس شرح، توانائی کی بڑھتی لاگت اور دیگر مالی بوجھ کے باعث سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ معیشت کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے، نہ کہ بار بار انہی لوگوں پر بوجھ بڑھایا جائے جو پہلے سے نظام میں موجود ہیں۔بجٹ سے قبل عام شہریوں، تنخواہ دار ملازمین اور کاروباری حلقوں کی ایک ہی بڑی توقع ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور ایسے شعبوں کو بھی دائرۂ کار میں لائے جو برسوں سے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی میں موسم شدید گرم اور مرطوب، درجہ حرارت 40 ڈگری  چھونے کا امکان

    کراچی میں موسم شدید گرم اور مرطوب، درجہ حرارت 40 ڈگری چھونے کا امکان

    کراچی:(ویب ڈیسک )شہر قائد میں آج بھی موسم شدید گرم اور مرطوب ہے جبکہ درجہ حرارت بھی 40 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں آج موسم شدید گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔اعداد و شمار کے مطابق آج صبح کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں مختلف سمتوں سے 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ آج صبح ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 55 سے 85 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث درجہ حرارت معمول سے 7 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ محسوس ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان کی افغانستان میں زبردست کارروائی،4 اہم اہداف  تباہ، بھارتی سرپرستی میں سرگرم26خوارج ہلاک

    پاکستان کی افغانستان میں زبردست کارروائی،4 اہم اہداف تباہ، بھارتی سرپرستی میں سرگرم26خوارج ہلاک

    پشاور(ویب ڈیسک ) پاکستان نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں خوارج کے ٹھکانوں پر مؤثر کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 26 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج ہلاک ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں 9 جون کو موسیٰ درہ میں وفاقی کانسٹیبلری کی چوکی پر حملہ کیا گیا، 2 جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی کو بنوں پولیس اسٹیشن پر حملہ شامل ہیں۔پاک افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے سرغناؤں اور منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کی گئیں، مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے خفیہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 26 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج ہلاک ہوگئے۔کارروائیوں کے دوران چار اہم اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ پناہ گاہ، اسلحہ و گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ اور فتنہ الخوارج کے کمانڈروں علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل تھے۔کارروائی انتہائی درستگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی گئی، صرف دہشت گرد عناصر اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ’’عزمِ استحکام‘‘ وژن کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی مہم بلا تعطل جاری رکھی جائے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • انمول پنکی کے خواتین سمیت 7 قریبی ساتھی کون ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    انمول پنکی کے خواتین سمیت 7 قریبی ساتھی کون ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    کراچی(ویب ڈیسک )منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خواتین سمیت مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے۔سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے نئی رپورٹ جمع کرا دی، جس میں ملزمہ کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس کے 3 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں ذیشان، سہیل اور سمیر شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھی تاحال مفرور ہیں اور پولیس نے انہیں سہولت کار قرار دیتے ہوئے مفروروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق مفرور ملزمان میں فیاض، عاقب، حمزہ، اعزاز، زید اور 2 خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    لاہور:(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے انیشی ایٹو ’شی تھریڈز‘کے لیے 310 ملین روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا ایک منفرد پروگرام ہے۔شی تھریڈز پروگرام کے تحت صوبہ بھر کے دیہات سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال عمر کی مڈل پاس خواتین حصہ لے سکتی ہیں۔ پروگرام میں شامل خواتین کو تربیت کے دوران ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا۔
    اس منصوبے کے تحت دیہی خواتین کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر کے 10 مختلف تربیتی کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں یہ ٹیکسٹائل ٹریننگ کورسز کامیابی سے جاری ہیں۔گزشتہ 2 برسوں کے دوران ڈھائی ہزار خواتین ان تربیتی کورسز کو مکمل کر چکی ہیں، جن میں سے 773 خواتین کو تربیت مکمل کرتے ہی ملازمت بھی مل گئی۔حکام کے مطابق اس وقت شی تھریڈز پروگرام کے تحت 1150 خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ جاری ہے جبکہ آئندہ سال مزید 1350 خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔پروگرام میں انڈسٹریل اسٹیچنگ مشین آپریٹر، فیبرک کوالٹی انسپکٹر اور فیبرک کٹنگ ایکسپرٹ کے کورسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپیریل پلاننگ اینڈ مرچنڈائزنگ، اپیریل سپروائزر، پیٹرن میکنگ اینڈ کٹنگ، پیٹرن ڈرافٹنگ اینڈ گریڈنگ، کوالٹی کنٹرول، گارمنٹ فنشنگ، پیکر اور گارمنٹ ویکسنگ کے تربیتی کورسز بھی خواتین کے لیے دستیاب ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہر خاتون کو مالی طور پر خودمختار اور بااختیار بنانا حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند عورت ایک قابل قدر قومی اثاثہ ثابت ہوگی ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہنرمند خواتین کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے