Blog

  • ملک میں گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ…پاکستان  واچ رپورٹ

    ملک میں گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ…پاکستان واچ رپورٹ

    قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات
    پاکستان کے قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں معیشت کے مختلف شعبوں کے ساتھ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ملک میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں، گائے، بھینسوں، بکریوں اور دیگر مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف دیہی معیشت کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ زرعی شعبے کے ساتھ وابستہ لاکھوں افراد کی معیشت اب بھی مویشی پالنے پر انحصار کرتی ہے۔
    دستاویز کے مطابق مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی، جو مجموعی زرعی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔ پاکستان کی دیہی آبادی کا ایک بڑا حصہ دودھ، گوشت، اون، چمڑا اور جانوروں کی خرید و فروخت سے وابستہ ہے، اسی لیے مویشیوں کی تعداد میں اضافہ براہ راست دیہی معیشت میں سرگرمی بڑھنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
    سروے رپورٹ کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اس میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان میں گدھوں کو دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں سامان کی ترسیل، اینٹ بھٹوں، چھوٹے کاروباروں اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گدھوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کم لاگت ٹرانسپورٹ کے ذرائع اب بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
    اسی طرح خچروں کی تعداد میں بھی 1.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار تک پہنچ گئی۔ خچر خصوصاً پہاڑی علاقوں اور دشوار گزار راستوں میں باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی علاقوں، بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں آج بھی خچر سامان کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
    گھوڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق گھوڑوں کی تعداد 0.8 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں گھوڑوں کا استعمال کھیلوں، پولیس، دیہی علاقوں میں سواری اور ثقافتی تقریبات میں کیا جاتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گھوڑوں کی افزائش کو ایک شوق اور کاروبار دونوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس میں سالانہ 3 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں دودھ کی پیداوار میں بھینسوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ دیہی علاقوں میں بھینس کو کسان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے دودھ، دہی، مکھن اور دیگر اشیائے خور و نوش حاصل کی جاتی ہیں۔
    گائے کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 26-2025 کے دوران گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اس میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق جدید فارمنگ، بہتر ویکسینیشن اور مویشی پال حضرات کی دلچسپی میں اضافے کے باعث گائے کی افزائش میں بہتری آئی ہے۔
    بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی، جبکہ سالانہ 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان میں بکری کو “غریب آدمی کی گائے” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ کم سرمایہ رکھنے والے افراد بکری پال کر اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی بکریوں کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
    بھیڑوں کی تعداد بھی بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بھیڑیں خصوصاً اون اور گوشت کے لیے پالی جاتی ہیں۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھیڑ بانی ایک اہم ذریعہ معاش ہے۔
    اونٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ سامنے آیا۔ سروے رپورٹ کے مطابق اونٹوں کی تعداد 1.4 فیصد بڑھ کر 11 لاکھ 93 ہزار تک پہنچ گئی۔ صحرائی علاقوں میں اونٹ آج بھی سفر، دودھ اور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی مانگ نے بھی اس شعبے کو تقویت دی ہے۔
    ماہی گیری کے شعبے نے بھی رواں مالی سال کے دوران 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً کراچی، گوادر اور پسنی میں ہزاروں خاندان ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس شعبے میں جدید سہولیات، کولڈ اسٹوریج، برآمدی نظام اور ماہی گیروں کی فلاح پر توجہ دی جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے مزید فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
    معاشی ماہرین کے مطابق لائیو اسٹاک شعبہ پاکستان کی زرعی معیشت کا سب سے اہم جزو بنتا جا رہا ہے۔ زرعی شعبے میں فصلوں کے مقابلے میں لائیو اسٹاک کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ملک کی مجموعی دیہی آبادی کا بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر مویشی پالنے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس شعبے کی ترقی کے لیے ویکسینیشن پروگرامز، فارمنگ ٹریننگ، جانوروں کی بہتر نسلوں اور برآمدات کے فروغ پر زور دے رہی ہیں۔
    دوسری جانب سوشل میڈیا پر گدھوں کی تعداد میں اضافے کے اعداد و شمار ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ماضی کی طرح اس بار بھی مختلف صارفین نے طنز و مزاح کے انداز میں تبصرے کیے، تاہم ماہرین کے مطابق گدھوں کی تعداد میں اضافہ معاشی سرگرمیوں، برآمدی امکانات اور دیہی ٹرانسپورٹ سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چین سمیت بعض ممالک میں گدھے کی کھال اور دیگر مصنوعات کی مانگ موجود ہے، جس کے باعث اس شعبے میں تجارتی امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
    اقتصادی سروے کے یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں زرعی اور دیہی معیشت اب بھی بڑی حد تک مویشیوں پر انحصار کرتی ہے۔ اگر حکومت اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ویٹرنری سہولیات، برآمدی پالیسی اور کسانوں کی معاونت کو مزید بہتر بنائے تو لائیو اسٹاک ملکی معیشت کے استحکام میں مزید اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی ضروریات کے پیش نظر لائیو اسٹاک کا شعبہ مستقبل میں بھی پاکستان کی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اقتصادی سروے میں اس شعبے کے اعداد و شمار کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف خوراک بلکہ روزگار، برآمدات اور دیہی ترقی سے بھی براہ راست جڑا ہوا شعبہ ہے۔

  • ترقی کے دعوے اور ٹوٹی سڑکیں…نشید آفاقی

    ترقی کے دعوے اور ٹوٹی سڑکیں…نشید آفاقی

    ہمارے ہاں ترقی ایک ایسی چیز ہے جو زیادہ تر تقریروں، اشتہارات اور رنگ برنگے بینروں میں پائی جاتی ہے۔ اگر کبھی کسی شہری کو یقین نہ آئے کہ ملک ترقی کر رہا ہے تو اسے کسی سرکاری تقریب میں لے جائیں، جہاں دس فٹ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر بتایا جاتا ہے کہ قوم نے ترقی کی وہ منزل حاصل کرلی ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ البتہ اس تقریب تک پہنچنے کے لیے شہری کو جن ٹوٹی سڑکوں، کھلے مین ہولز اور گرد آلود راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، وہ الگ داستان سناتے ہیں۔
    ہمارے حکمرانوں کا ترقی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ وہ جب بھی مائیک پکڑتے ہیں، ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ شہر پیرس بننے والا ہے، کبھی دعویٰ ہوتا ہے کہ اب ہر گلی میں خوشحالی ناچے گی۔ عوام بھی بیچارے ہر بار تالیاں بجاکر یقین کرلیتے ہیں کہ شاید اس بار واقعی کچھ بدل جائے گا۔ لیکن اگلی بارش آتی ہے اور سڑکیں ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے کسی نے دریاؤں کا نیا نظام متعارف کروادیا ہو۔
    ہمارے شہروں کی سڑکیں بھی عجیب قسمت رکھتی ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے، افتتاح ہوتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، فیتہ کٹتا ہے، اخبارات میں بیانات چھپتے ہیں کہ “عوام کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کردی گئی۔” پھر چند دن بعد وہی سڑک کھودی جاتی ہے کیونکہ کسی محکمے کو یاد آتا ہے کہ پائپ ڈالنا رہ گیا تھا۔ اس کے بعد دوسرا محکمہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں، یہاں تو کیبل ڈالنی تھی۔ یوں ایک سڑک اپنی مختصر زندگی میں اتنی بار کھودی جاتی ہے کہ آخرکار وہ خود بھی سوچتی ہوگی کہ کاش میں سڑک کے بجائے کھیت ہی رہتی۔
    ترقی کے دعوؤں کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر شہر میں دس نئی بسیں آجائیں تو اعلان ہوگا کہ “ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب آگیا۔” اگر دو پارک بن جائیں تو کہا جائے گا کہ “عوام کو عالمی معیار کی تفریح میسر آگئی۔” لیکن انہی پارکوں کے باہر کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی فٹ پاتھ خاموشی سے حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کررہے ہوتے ہیں۔
    ہمارے ہاں ہر حکومت پچھلی حکومت کو سڑکوں کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ نئی حکومت آتے ہی پہلا بیان یہی آتا ہے کہ “خزانہ خالی ملا اور سڑکیں تباہ حال تھیں۔” عوام یہ بیان سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اچھا، قصور پھر پچھلوں کا ہی ہوگا۔ پانچ سال بعد یہی حکومت سابقہ حکومت بن جاتی ہے اور نئی آنے والی جماعت وہی جملہ دہراتی ہے۔ یوں ملک میں صرف حکومتیں بدلتی ہیں، گڑھے نہیں بدلتے۔
    سڑکوں کی حالت دیکھ کر بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ شاید شہریوں کی ڈرائیونگ صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام چل رہا ہے۔ کہیں اچانک گڑھا آجاتا ہے، کہیں پانی کھڑا ہوتا ہے، کہیں آدھی سڑک غائب ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے والا ہر لمحہ اپنی قسمت آزماتا ہے۔ اگر وہ صحیح سلامت منزل تک پہنچ جائے تو اسے خود پر فخر ہونا چاہیے کہ اس نے صرف سفر نہیں کیا بلکہ ایک مہم سر کی ہے۔
    ترقی کے منصوبوں میں ایک اور دلچسپ چیز ان کے نام ہوتے ہیں۔ جتنا بڑا نام، اتنا ہی چھوٹا کام۔ “عظیم الشان ترقیاتی پیکیج”، “انقلابی منصوبہ”، “تاریخی منصوبہ” اور “گیم چینجر” جیسے الفاظ سن کر لگتا ہے کہ اب ملک سیدھا یورپ بننے والا ہے۔ لیکن حقیقت میں عوام کو صرف نئی تختیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جن پر حکمرانوں کی تصاویر مسکرا رہی ہوتی ہیں۔ سڑک البتہ پہلے جیسی ہی رہتی ہے، بلکہ بعض اوقات مزید خراب ہوجاتی ہے۔
    میڈیا بھی اس معاملے میں اپنا کردار خوب نبھاتا ہے۔ کسی نئی سڑک کا افتتاح ہو تو ڈرون کیمروں سے ایسی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں کہ لگتا ہے دبئی کا کوئی شاہراہی منصوبہ مکمل ہوگیا ہے۔ لیکن وہی میڈیا بارش کے بعد انہی سڑکوں پر تیرتی گاڑیاں کم ہی دکھاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ترقی کی کہانی میں حقیقت کا کردار زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔
    عام آدمی کی زندگی مگر تقریروں سے نہیں چلتی۔ اسے روزانہ دفتر جانا ہوتا ہے، بچوں کو اسکول چھوڑنا ہوتا ہے، اسپتال پہنچنا ہوتا ہے۔ جب ایک ٹوٹی سڑک کی وجہ سے ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی رہتی ہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ جب شہری گھنٹوں جام میں پھنس کر تھک جاتا ہے تو اسے عالمی معیار کے خواب نہیں بلکہ ایک سیدھی سادہ قابلِ استعمال سڑک چاہیے ہوتی ہے۔
    افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے مسائل کو معمول سمجھ لیا ہے۔ اگر کسی علاقے کی سڑک چند ماہ خراب نہ ہو تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی گڑھوں سے بچتے بچاتے جینا سیکھ لیا ہے۔ بارش ہو تو لوگ پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کون سی سڑک دریا بنے گی اور کون سا پل تالاب کا منظر پیش کرے گا۔
    اصل ترقی شاید وہ ہوتی ہے جسے اشتہارات کی ضرورت نہ پڑے۔ جہاں شہری سکون سے سفر کرسکے، جہاں سڑک بننے کے بعد بار بار نہ کھودی جائے، جہاں منصوبے صرف تصویروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت کے لیے بنائے جائیں۔ مگر ہمارے ہاں ترقی اکثر کیمروں کے سامنے زیادہ اور زمین پر کم نظر آتی ہے۔
    اس ملک کا سب سے مضبوط نظام شاید “اعلان” ہے۔ اعلان ہوجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ سڑک ٹوٹی ہوئی ہو، اسپتال میں دوا نہ ہو، اسکول میں استاد نہ ہو، لیکن اگر پریس کانفرنس میں بتایا جائے کہ “انقلابی اقدامات” کیے جارہے ہیں تو سب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ عوام بھی اب اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ تقریر سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اب کچھ دن سوشل میڈیا پر ترقی کا شور رہے گا، پھر زندگی دوبارہ انہی گڑھوں میں ہچکولے کھاتی نظر آئے گی۔
    ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر قوم آج بھی ایک اچھی سڑک، صاف پانی اور بنیادی سہولتوں کی منتظر ہے۔ شاید جس دن حکمرانوں کی گاڑیاں بھی انہی ٹوٹی سڑکوں سے گزریں گی جن سے عام آدمی روز گزرتا ہے، اس دن ترقی کے دعووں کے ساتھ سڑکیں بھی واقعی ٹھیک ہوجائیں۔

  • کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟ماجد علی سید

    کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟ماجد علی سید

    کراچی کے مسائل پر بحث شروع ہو تو چند منٹ کے اندر ایک جملہ ضرور سنائی دیتا ہے: “یہ شہر غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔” گویا کراچی کسی زمانے میں ایک مثالی، صاف ستھرا اور منظم شہر تھا جسے باہر سے آنے والوں نے برباد کر دیا۔ یہ مؤقف سننے میں جتنا آسان لگتا ہے، حقیقت اتنی ہی پیچیدہ ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر شہر کو چلانے، منصوبہ بندی کرنے، قوانین نافذ کرنے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے کس کام کے لیے موجود تھے؟ کیا سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، پبلک ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر تھی جو روزگار کی تلاش میں کراچی آئے؟
    کراچی کی تاریخ دراصل ہجرتوں کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں لوگ یہاں آباد ہوئے۔ بعد میں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو آج “غیر مقامی” کہا جاتا ہے، انہی لوگوں نے کراچی کی صنعتوں کو مزدور دیے، فیکٹریوں کو کارکن دیے، بازاروں کو تاجر دیے اور بندرگاہ کو افرادی قوت فراہم کی۔ اگر یہی لوگ نہ آتے تو شاید کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت بھی نہ بن پاتا۔
    دنیا کے بڑے شہر نقل مکانی سے تباہ نہیں ہوتے، بلکہ ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی میں بھی دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، مگر وہاں حکومتیں یہ اندازہ لگاتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں کتنے لوگ آباد ہوں گے، کتنی سڑکیں درکار ہوں گی، کتنے اسکول، کتنے اسپتال اور کتنی پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی۔ کراچی میں بدقسمتی سے یہ روایت کبھی مضبوط نہیں ہو سکی۔
    شہر کی آبادی بڑھتی رہی، مگر سڑکیں وہی رہیں۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں، مگر ٹرانسپورٹ کا نظام سکڑتا گیا۔ بلند و بالا عمارتیں بنتی گئیں، مگر پانی کی لائنیں اور نکاسی آب کا نظام دہائیوں پرانا ہی رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بارش کے بعد کراچی کسی جدید شہر کے بجائے ایک آبی تجربہ گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔
    یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ جب کراچی قومی معیشت کو اربوں روپے دیتا ہے تو سب اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیتے ہیں، لیکن جب اس کے مسائل کی بات آتی ہے تو الزام عام شہریوں اور غیر مقامی افراد کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمرانوں، منصوبہ سازوں اور متعلقہ اداروں کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
    سندھ حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ادوار میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ شہری منصوبہ بندی، پانی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے زیر اثر رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، سیوریج کا نظام ناکام ہے یا کچرے کے ڈھیر لگے ہیں تو یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ متعلقہ ادارے کہاں تھے؟
    بلدیاتی اداروں کی حالت اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل کی کمی کا رونا الگ ہے اور سیاسی کشمکش الگ۔ نتیجہ یہ کہ شہری یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کے محلے کی ٹوٹی سڑک کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت، میئر، ضلعی انتظامیہ یا کسی اور ادارے پر؟
    کراچی شاید دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں اضافہ بذات خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے ہر ترقی پذیر شہر میں آبادی بڑھتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے اس اضافے کے مطابق منصوبہ بندی کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ کیا تجاوزات کے خلاف مستقل پالیسی اختیار کی گئی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام تر ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا دانش مندی نہیں۔
    اس بحث کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ جب کسی شہر کے مسائل کا ذمہ دار کسی خاص گروہ، زبان یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ نئی تقسیمیں پیدا ہوتی ہیں۔ کراچی پہلے ہی لسانی اور سیاسی کشیدگی کے کئی ادوار دیکھ چکا ہے۔ ایسے میں مسائل کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹا کر الزام تراشی کا راستہ اختیار کرنا مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    کراچی کی تباہی کی داستان میں غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، ناقص منصوبہ بندی، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جواب دہی کے فقدان کا کردار کہیں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن پر گفتگو نسبتاً کم اور الزام تراشی زیادہ کی جاتی ہے۔
    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم آسان جوابات تلاش کرنے کے بجائے مشکل سوالات پوچھیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزگار کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہے؟ وہ فیکٹری ورکر جو صنعت کا پہیہ چلا رہا ہے؟ یا پھر وہ نظام جو بڑھتے ہوئے مسائل کو دہائیوں تک نظر انداز کرتا رہا؟
    ممکن ہے اس سوال کا جواب ہر شخص کے پاس مختلف ہو، لیکن ایک بات واضح ہے: کراچی کو صرف غیر مقامی افراد کی آمد نے نہیں، بلکہ مقامی سطح پر موجود طویل المدتی غفلت، ناقص حکمرانی اور مسلسل غیر منصوبہ بندی نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک ان بنیادی وجوہات کا سامنا نہیں کیا جاتا، تب تک شہر کے مسائل کا ملبہ کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر ڈالا جاتا رہے گا، مگر کراچی وہیں کھڑا رہے گا جہاں آج کھڑا ہے۔

  • بڑھتی آبادی، محدود وسائل اور ترقی کا سوال ؟ منظر پس منظر۔۔تحریر صبیحہ خان صبیحہ

    بڑھتی آبادی، محدود وسائل اور ترقی کا سوال ؟ منظر پس منظر۔۔تحریر صبیحہ خان صبیحہ

    پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں وسائل، روزگار کے مواقع، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور بنیادی سہولیات اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نتیجتاً غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ ان کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے لیے پریشان نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔حکومتیں اکثر ترقی کے نام پر سڑکیں، پل، انڈر پاسز اور بڑے بڑے منصوبے پیش کرتی ہیں۔ بلاشبہ انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی ضرورت ہے، لیکن صرف ہائی ویز اور فلائی اوورز تعمیر کر دینا ترقی کا مکمل معیار نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عوام کو معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات، صاف پانی، روزگار اور باعزت زندگی میسر ہو۔ اگر شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو بلند و بالا عمارتیں اور شاندار مالز ترقی کی اصل تصویر پیش نہیں کر سکتیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی معیشت کا بڑا حصہ قرضوں کےسہارے چل رہا ہےایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ترقی کے دعوے عوام کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتے، کیونکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری محسوس نہیں ہوتی۔ جب تک پیداواری شعبوں،صنعت، زراعت، تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔بڑھتی آبادی خود مسئلہ نہیں، اگر اسے تعلیم یافتہ، ہنر مند اور پیداواری قوت میں تبدیل کر دیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی بڑی آبادی کو معاشی طاقت بنایا ہے، لیکن اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی،معیاری تعلیم اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کم اور سیاسی نعروں پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کی تعریف کو صرف کنکریٹ، سیمنٹ اور نمائشی منصوبوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ قوموں کی اصل ترقی انسانوں میں سرمایہ کاری سے ہوتی ہے۔ جب ایک بچہ اچھی تعلیم حاصل کرے، ایک مریض کو علاج میسر ہو، ایک نوجوان کو روزگار ملے اور ایک خاندان غربت سے نکل کر خوشحال زندگی گزار سکے، تب ہی ترقی کے دعوے حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ورنہ سڑکیں کشادہ ہوتی رہیں گی، پل بنتے رہیں گے، مالز آباد ہوتے رہیں گے، لیکن عوام کے خواب اور مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔قوموں کی ترقی عمارتوں کی اونچائی سے نہیں، انسانوں کے معیارِ زندگی سے ناپی جاتی ہے۔پاکستان کے بعد یا پاکستان کے آس پاس کے دور میں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے والے کئی ممالک آج معاشی، تعلیمی اور صنعتی میدان میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ Malaysia، Bangladesh اور Turkey کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں۔ البتہ Japan پاکستان کے بعد آزاد نہیں ہوا تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کے بعد اس نے غیر معمولی ترقی ضرور کی۔سوال یہ نہیں کہ ان ممالک کے پاس کون سا جادو تھا، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے کن شعبوں کو ترجیح دی۔ زیادہ تر کامیاب ممالک نے تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات، سائنسی تحقیق، اچھی حکمرانی اور آبادی کی منصوبہ بندی پر مسلسل توجہ دی۔ پالیسیوں کا تسلسل بھی ان کی کامیابی کا ایک اہم سبب رہا۔جہاں تک آبادی کا تعلق ہے، ماہرینِ معیشت عام طور پر آبادی کو بذاتِ خود مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آبادی کی رفتار معیشت، تعلیم، روزگار اور وسائل کی رفتار سے زیادہ ہو جائے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کر دے تو یہی آبادی ایک طاقت بن جاتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یہی آبادی ریاست پر بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
    ترقی یافتہ قومیں صرف آبادی کو نہیں گنتیں، وہ اپنے ہر شہری کی صلاحیت کو قومی سرمایہ بناتی ہیں۔ جب انسان کو نظرانداز کر دیا جائے تو وسائل بھی کم پڑ جاتے ہیں، اور جب انسان کو سنوار لیا جائے تو محدود وسائل بھی ترقی کی بنیاد بن جاتے ہیں عوام البتہ یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے شعبوں میں وہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے جن کی عوام کو توقع تھی۔ جب پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو، ادارے کمزور ہوں، بدعنوانی موجود ہو، اور قومی ترجیحات بار بار تبدیل ہوتی رہیں تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔اصل تشویش یہ ہونی چاہیے کہ آج بھی ملک میں لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، اور بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی قوم کو مضبوط بنانا ہو تو اسے سڑکوں اور عمارتوں سے پہلے تعلیم، شعور، قانون کی بالادستی اور معاشی مواقع دینے پڑتے ہیں پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمینیں، دریاؤں کا وسیع نظام، چار موسم اور نوجوان آبادی جیسی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی صلاحیتوں کے باوجود ملک معاشی طور پر خود کفیل کیوں نہ بن سکا؟اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ طویل المدت معاشی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا تسلسل کمزور رہا۔ ہر نئی حکومت نے اکثر نئی ترجیحات متعارف کرائیں، جبکہ صنعت، زراعت، تعلیم اور برآمدات جیسے شعبے مسلسل توجہ چاہتے ہیں۔ جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی مطلوبہ رفتار سے پیدا نہیں ہوتے۔زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پیداوار کے مسائل، پانی کا غیر مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کی کمی، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات اور کسانوں کو مناسب سہارا نہ ملنے کے باعث پاکستان بعض اشیائے خورونوش درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔
    دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔

  • بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت: پاکستانی معاشرے میں ایک سماجی رویہ تحریر:  فرحانہ اشرف فرحانہ

    بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت: پاکستانی معاشرے میں ایک سماجی رویہ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    ہماری بیٹیوں کا ظرف دیکھ لے دنیا
    ہم اُن کے سامنے بیٹے دعا میں مانگتے ہیں
    احمد سلیم

    پاکستانی معاشرہ روایات، ثقافت اور خاندانی اقدار کا حامل معاشرہ ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لیکن آج بھی بعض سماجی رویے ایسے ہیں جو خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
    بیٹوں کو ترجیح دینے کی وجوہات
    پاکستانی معاشرے میں بیٹوں کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض لوگ بیٹے کو خاندان کا نام اور نسل آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بیٹوں کو معاشی سہارا اور بڑھاپے کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں وراثت اور جائیداد کے معاملات بھی اس سوچ کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ صدیوں پرانی روایات اور سماجی دباؤ بھی اس رجحان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔
    بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک
    بیٹوں کو فوقیت دینے کا اثر اکثر بیٹیوں کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق پر پڑتا ہے۔ اکثر خاندانوں میں اچھا کھانا بیٹوں کے لیے الگ کیا جاتا ہے جبکہ جو بچ جاتا ہے وہ بیٹیوں کا حصہ ہوتا ہے۔ کئی خاندانوں میں بیٹوں کی تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ان کے لیے زیادہ بہترین اور مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں کی تعلیم کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کو بیٹوں کے مقابلے میں کم بہتر اور سستے تعلیمی ادراوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
    بعض اوقات بیٹیوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیم، ملازمت یا زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی بھی نہیں دی جاتی۔ یہاں تک کہ والدین سے محبت بھی بیشتر بیٹیوں کو یکساں نہیں ملتی۔ بیٹوں کو زیادہ پیار محبت لاڈ ملتا ہے۔
    یہ رویے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتے ہیں۔
    معاشرے پر منفی اثرات
    یہ امتیازی سوچ معاشرے میں عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔ جب خواتین کو مساوی مواقع نہیں ملتے تو ملک اپنی آدھی آبادی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ بیٹیوں کو کمتر سمجھنے کا رجحان ان کی خود اعتمادی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
    اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو برابر عزت اور احترام دیا ہے۔ قرآن و سنت میں بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی۔ لہٰذا بیٹیوں کو کمتر سمجھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
    موجودہ دور میں بیٹیوں کی کامیابیاں
    آج پاکستانی خواتین تعلیم، طب، انجینئرنگ، کاروبار، سیاست، صحافت اور کھیلوں سمیت ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ اس حقیقت نے پرانی سوچ کو چیلنج کیا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔
    حل اور تجاویز
    اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ والدین بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان مساوات کا رویہ اپنائیں۔ تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو خواتین کو مساوی مواقع فراہم کریں۔
    نتیجہ
    بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ایک فرسودہ سماجی رویہ ہے جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب ہر بچے کو بلاامتیاز تعلیم، عزت اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے تو ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔

  • اسرائیل نے غزہ میں داخلے کے تمام راستے بند کردیے، امدادیں معطل

    اسرائیل نے غزہ میں داخلے کے تمام راستے بند کردیے، امدادیں معطل

    تل ابیب (ویب ڈیسک )اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں تمام گزرگاہوں کو بند کر دیا اور اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد غزہ میں تمام انسانی امداد کی ترسیل کو معطل کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے غزہ کی پٹی میں تمام گزرگاہوں کو فوری طور پر بند کرنے اور اگلے نوٹس تک انسانی امداد کی ترسیل کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان اقدامات میں کریم شالوم اور رفح کراسنگ کو سیل کرنا شامل ہے جو انسانی امداد کے سامان کے داخلے کے اہم مقامات ہیں۔
    وزارت دفاع نے یہ پابندیاں اسرائیل پر ایرانی حملے کے جواب میں غزہ میں لگائی ہیں۔ اسرائیلی وزارت نے کہا کہ سیکورٹی کے باعث غزہ میں سامان کی آمدورفت کو مکمل طور پر روکنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ فلسطینی اور بین الاقوامی تنظیمیں بارہا اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بھوک کی صورت حال کو مزید خراب کرنے کے بارے میں خبردار کر چکی ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • شاہین آفریدی کو مستقل طور پر ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ

    شاہین آفریدی کو مستقل طور پر ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور میں 49 کھلاڑیوں کو کیمپ میں مدعو کیا ہے جس میں 22 کھلاڑی ٹیسٹ اور 27 کھلاڑیوں کو ون ڈے اور ٹی 20 کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔وائٹ بال ٹیم کا کیمپ 18 ستمبر جبکہ ریڈ بال کھلاڑیوں کا کیمپ 10 جولائی تک چلے گا، ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے ممکنہ طور پر کیمپ 15 جولائی سے شروع ہوگا۔’پی سی بی کے تھنک ٹینک نے شاہین کو ٹیسٹ ٹیم کے کیمپ میں منتخب نہیں کیا’پاکستان کرکٹ بورڈ کے تھنک ٹینک نے ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم کے کیمپ میں منتخب نہیں کیا، ان کا نام وائٹ بال کیمپ کے 27 کھلاڑیوں میں شامل ہے اور توقع ہے کہ وہ 15 جون کو کیمپ میں رپورٹ کریں گے۔
    خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے 26 سال کے شاہین آفریدی نے دسمبر 2017 میں پہلا ٹیسٹ شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم ابوظبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا تھا جب کہ آخری ٹیسٹ انہوں نے مئی 2026 میں بنگلادیش کے خلاف میرپور میں کھیلا، 34 ٹیسٹ میں انہوں نے 1114 اوورز کے دوران 3545 رنز کے عوض 126 وکٹیں اپنے نام کیں۔
    شاہین نے آخری ٹیسٹ بنگلادیش کے خلاف کھیلا جہاں پاکستان کو میزبان کے ہاتھوں 104 رنز کی شکست کا سامنا کر نا پڑا تھا، اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بائیں ہاتھ کے بولر نے 31.1 اوورز میں 3/113 ج بکہ دوسری اننگز میں 16 اوورز کے دوران 2/54 کی پرفارمنس پیش کی تھی، جس کے بعد سلہٹ کے دوسرے ٹیسٹ میں فاسٹ بولر کو ڈراپ کر کے خرم شہزاد کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔
    دورۂ بنگلادیش میں شاہین آفریدی کی بولنگ رفتار پر شدید تنقید کی گئی تھی، لاہور قلندرز کے لیے 140 پلس کی رفتار سے گیند کرنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر دورۂ بنگلادیش میں بمشکل 134 کلومیڑ کی رفتار سے گیند کروا پائے تھے۔محض 17 سال کی عمر میں کے آر ایل کے لیے راولپنڈی کے خلاف پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والے شاہین آفریدی کے حوالے سے بورڈ کو اس متعلق شدید تحفظات ہیں کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلتے اور چار دن کی کرکٹ کھیلے بغیر ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بولنگ میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ون ڈے ٹیم کے کپتان کو مستقبل میں ٹیسٹ ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ڈومینیکن ریپبلک میں طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران آگ لگ گئی، دونوں پائلٹ ہلاک

    ڈومینیکن ریپبلک میں طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران آگ لگ گئی، دونوں پائلٹ ہلاک

    نیویارک(ویب ڈیسک ) بحیرہ کیریبین کے عظیم تر اینٹیلیس جزیرہ نما میں ہسپانیولا جزیرے پر واقع ملک ڈومینیکن ریپبلک کے ائیرپورٹ پر ایک پرائیویٹ طیارے میں ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران آگ لگ گئی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں جہاز کے پائلٹ اور کو پائلٹ دونوں ہلاک ہوگئے جب کہ حادثے کے وقت جہاز میں کوئی اور مسافر یا عملہ موجود نہیں تھا۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے بعد طیارہ آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ایک اور کلپ میں ہوائی اڈے پر دھوئیں کا ایک بہت بڑا شعلہ دکھایا گیا، جب کہ حادثے کے بعد آگ پر قابو پانے کی کوششوں کا آغاز بھی فوری طور پر کردیا گیا۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی رجسٹرڈ گلف اسٹریم جی 200 جیٹ آسٹن، ٹیکساس جا رہا تھا، جب اس نے لا رومانا سے تقریباً 16 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں شدید مکینیکل مسائل کی وجہ سے ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔پائلٹ نے جہاز کا رُخ ائیرپورٹ پر موڑا اور ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی لیکن یہ حادثہ اس وقت ہوا جب جہاز نیچے آیا اور آگ بھڑک اٹھی۔حکام کا کہنا ہے کہ طیارے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • شکریہ ..شکریہ گلگت بلتستان میں تیر کی بارش ہو رہی ہے ، بلاول بھٹو

    شکریہ ..شکریہ گلگت بلتستان میں تیر کی بارش ہو رہی ہے ، بلاول بھٹو

    گلگت (ویب دیسک )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی نتائج سامنے آنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی بی میں تیر کی بارش ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے، ہم حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ عوام کے اعتماد پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے اب تک 24 میں سے 12 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنےآگئے ہیں۔غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 7 آزاد امیدواروں نے 3، مسلم لیگ (ن) اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک ایک نشت حاصل کرلی۔گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 4، 5، 7، 9، 10، 11 اور 19 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جبکہ جی بی اے 22 پر ن لیگ اورجی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم جیتی اور جی بی اے 3،23،24 پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے ہیں۔

  • ٹرمپ کا خاتون صحافی کیساتھ سخت رویہ، مائیک پٹخ کر انٹرویو چھوڑ گئے

    ٹرمپ کا خاتون صحافی کیساتھ سخت رویہ، مائیک پٹخ کر انٹرویو چھوڑ گئے

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے پروگرام کی میزبان کرسٹن ویلکر کو دیے گئے ایک طویل انٹرویو کے دوران ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے گفتگو اچانک ختم کردی اور مائیک پھینک کر چل دیے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پروگرام میٹ دی پریس کی خاتون صحافی اور کئی چینلز پر بدعنوانی کے الزامات لگائے جب کہ اس دوران ان کا میزبان سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 50 منٹ جاری رہنے والے انٹرویو کے اختتام پر کرسٹن ویلکر نے کیلیفورنیا کے پرائمری انتخابات سے متعلق ٹرمپ کے دھاندلی کے دعوؤں پر سوال اٹھایا جس پر دونوں کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ تلخ ہوگیا۔ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو یک طرفہ اور بدعنوان نیٹ ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسے ختم کرتے ہیں، میں کافی وقت دے چکا ہوں۔جب میزبان نے یاد دلایا کہ وہ انٹرویو کے لیے طویل سفر کر کے وسکونسن پہنچی ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ بارش میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزار چکے ہیں اور کافی سوالات کے جواب دے چکے ہیں۔ٹرمپ نے بعدازاں اپنا مائیکروفون اتارا، زمین پر رکھا اور انٹرویو کا مقام چھوڑ دیا تاہم جاتے ہوئے انہوں نے میزبان کے کندھے پر ہاتھ بھی رکھا اور کہا کہ اس طرح کی صحافت سے امریکا عظیم نہیں بن سکتا۔یہ انٹرویو ریاست وسکونسن کے دورے کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا جہاں بارش اور تکنیکی مسائل کے باعث گفتگو میں متعدد بار وقفہ آیا۔
    بعد ازاں کرسٹن ویلکر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ خراب موسم نے انٹرویو کو پیچیدہ بنا دیا تھا تاہم اس کے باوجود ایران جنگ، معیشت اور دیگر اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگلے روز ٹرمپ سے دوبارہ بات ہوئی اور دونوں نے اتفاق کیا کہ بارش نے انٹرویو پر اثر ڈالا تھا جب کہ ٹرمپ مستقبل میں دوبارہ میٹ دی پریس کو انٹرویو دینے پر بھی آمادہ ہوئے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے وسکونسن میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ این بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران کچھ غصے میں آگئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ شدید بارش اور میڈیا کے رویے کی وجہ سے وہ خوش نہیں تھے لیکن مجموعی طور پر ملاقات اچھی رہی۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے