Blog

  • شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک )پاکستانی شہریوں کے لیے خوشی کی خبر ہے کہ حکومت نے ایک بڑی سہولت گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتِ پاکستان نے عوام کی سہولت اور دیرینہ مطالبے پر پاسپورٹ کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کی نئی ڈیجیٹل سروس شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس اقدام کا مقصد شہریوں کو طویل قطاروں اور دفاتر کے چکروں سے نجات دلانا ہے تاکہ پاسپورٹ کا حصول آسان ہو سکے۔اجلاس کے دوران ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے قیام کے لیے تمام تر ضروری ضابطہ کار اور نئی ایس او پیز (SOPs) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کے مکمل نفاذ کے بعد پاسپورٹ بنوانے کا عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ شفافیت بھی یقینی بنے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانیکا امکان

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانیکا امکان

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی کمانڈر ان چیف کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی کمانڈر ان چیف کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:(ویب ڈیسک ) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف جنرل روڈولف ہائیکل نے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر لبنانی کمانڈر اِن چیف کو پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد جنرل روڈولف ہائیکل نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شخصیات کی ملاقات میں پاکستان اور لبنان کی مسلح افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط اور تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لبنان کے ساتھ دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کی اہمیت پر زور دیا، پاکستان نے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنرل روڈولف ہائیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل مہارت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی امن مشنز میں پاکستان کی خدمات کو لبنان نے قابلِ قدر قرار دیا، پاکستان اور لبنان کی افواج نے فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا جب کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی

    ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )ملک بھر کے صارفین کیلئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر کیلئے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا جب کہ اس فیصلے سے بجلی صارفین کو67 ارب17 کروڑ 30لاکھ روپےکاریلیف ملے گا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • سائیکو کہنے پر اداکارہ میرا برہم، فنکاروں کو عزت دینے کا مطالبہ

    سائیکو کہنے پر اداکارہ میرا برہم، فنکاروں کو عزت دینے کا مطالبہ

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ میرا نے سائیکو کہنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص کی جانب سے اداکارہ میرا کا ان کی فلم ‘سائیکو’ سے متعلق انٹرویو کیا گیا۔انٹرویو لینے والے شخص نے کہا کہ آپ پہلے بھی سائیکو تھیں اور آپ نے فلم میں بھی سائیکو کا کردار ادا کیا اور اب تک سائیکو کے کردار سے باہر نہیں آ سکی ہیں، جس کے جواب میں اداکارہ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہمیں عزت نہیں دیں گے تو ہمیں ویسے بھی انڈیا میں بہت عزت ملتی ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے مجھے سائیکو کہا اور یہ بھی کہا کہ میں اس سے پہلے بھی سائیکو تھی، ہمیں عزت نہیں ملی، میں اس کردار کا حصہ ہوں اور میرے لیے یہ مشکل ترین کردار تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی تھی کہ اس کردار کے بعد مجھے اور ہدایتکار شان شاہد کو لوگ خراج تحسین پیش کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، کیونکہ ہم نے پاکستان میں رہ کر سائیکو جیسی مشکل فلم بنائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ڈپریشن والی فلم ہے، اس میں ہم نے آپ کو کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے، میرے فلم کے کردار سے کچھ سیکھ سکتے ہیں تو سیکھ لیں۔ واضح رہے کہ جیو فلمز کے بینر تلے بننے والی فلم ‘سائیکو’ کو عیدالضحیٰ پر ریلیز کردیا گیا تھا، فلم کی کاسٹ میں سپراسٹار شان شاہد، سونیا حسین ، میرا، شبیر جان اور دیگر شامل ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم، سبی میں پارہ 49 ڈگری رہا

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم، سبی میں پارہ 49 ڈگری رہا

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقے آج بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جب کہ گزشتہ روز سب سے زیادہ درجہ حرارت سبّی میں 49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح دادو، جیکب آباد 48، تربت ، موہنجو داڑو 47، سکھر ، نوابشاہ، ڈیرہ غازی خان46، ملتان، بہاولپور 45، لاہور 43، پشاور 42، اسلام آباد، مظفر آباد 40، کراچی اور کوئٹہ37 سمیت گلگت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کی لہر 12 جون تک برقرار رہے گی اور سندھ کے اکثر اضلاع میں 12 جون تک درمیانی سے شدید گرمی پڑنےکا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشگوئی کی کہ 12 جون تک شہر میں بھی موسم شدید گرم اوردرجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، شہر میں آج درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تکریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • چین میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے روبوٹس اہلکار تعینات

    چین میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے روبوٹس اہلکار تعینات

    بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے روبوٹس کا استعمال شروع کردیا گیا۔ چینی میڈیا کے مطابق چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو (Hangzhou) میں سیاحوں کی مدد اور ٹریفک کنٹرول کے لیے اسمارٹ ٹریفک روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بناتا، گاڑیوں کو ہارن بجانے سے روکتا اور امتحان دینے والے طلبہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کرتا ہے ۔یہ روبوٹ اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مقامی ٹریفک کے نظام کے ساتھ مربوط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ روبوٹ اہلکار سائیکل سواروں کے اسٹاپ لائن عبور کرنے اورہیلمٹ نہ استعمال کرنے جیسی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کتاب، کاپی اور قلم بھی مہنگے؟پاکستان واچ  رپورٹ

    کتاب، کاپی اور قلم بھی مہنگے؟پاکستان واچ رپورٹ

    وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات نے ملک کے تعلیمی حلقوں، والدین اور طلبہ میں ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کی منظوری کے بعد حکومت اسٹیشنری پر دی جانے والی سیلز ٹیکس رعایت ختم کرکے اسے 18 فیصد تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یکم جولائی 2026 سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل اور دیگر تعلیمی سامان واضح طور پر مہنگا ہو جائے گا۔
    یہ تجویز بظاہر ایک تکنیکی مالیاتی فیصلہ معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات صرف اکانٹس یا ریونیو تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہِ راست ہر گھر، ہر طالب علم اور ہر تعلیمی ادارے تک پہنچیں گے۔
    تعلیم پہلے ہی دبا و میں
    پاکستان میں تعلیم پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ اسکولوں کی کم شرح، معیارِ تعلیم کی کمی، بڑھتی ہوئی فیسیں اور گھریلو آمدنی میں جمود نے تعلیمی نظام کو عام شہری کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر بنیادی تعلیمی سامان ہی مہنگا ہو جائے تو یہ بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
    ایک عام گھرانے کے لیے تعلیم صرف فیس تک محدود نہیں ہوتی۔ کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات مل کر ایک بڑا ماہانہ خرچ بناتی ہیں۔ اسٹیشنری کی قیمت میں اضافہ اگرچہ بظاہر معمولی لگے، لیکن جب یہ اضافہ مسلسل اور ہر تعلیمی سیشن میں ہو تو مجموعی بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
    متوسط اور غریب طبقے پر اثر
    اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔ بڑے شہروں میں رہنے والے خاندان ہوں یا دیہی علاقوں کے والدین، دونوں پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسے میں جب ایک سے زیادہ بچے اسکول میں ہوں تو ہر بچے کی اسٹیشنری ایک لازمی اخراج ہے۔
    اگر کاپی، رجسٹر اور دیگر سامان مہنگا ہوتا ہے تو بعض گھرانے ممکن ہے اخراجات کم کرنے کے لیے تعلیمی ضروریات میں کٹوتی کریں۔ اس کا نتیجہ براہِ راست بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور اسکول میں حاضری پر پڑ سکتا ہے۔ یوں ایک مالی فیصلہ تعلیمی ناہمواری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
    تعلیمی پالیسی میں تضاد
    یہ ایک اہم سوال ہے کہ ایک طرف حکومت شرحِ خواندگی بڑھانے، بچوں کو اسکولوں میں لانے اور تعلیم کو فروغ دینے کے دعوے کرتی ہے، اور دوسری طرف تعلیمی ضروریات پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
    یہ ایک واضح پالیسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر تعلیم واقعی ترجیح ہے تو پھر اس سے جڑے بنیادی وسائل کو سستا یا کم از کم مستحکم رکھا جانا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تعلیمی سامان پر ٹیکس کم یا صفر رکھا جاتا ہے تاکہ تعلیم کو عام کیا جا سکے۔
    اسکولوں اور اداروں پر اثرات
    اسٹیشنری کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھروں تک محدود نہیں رہے گا۔ اسکول، کالج، کوچنگ سینٹرز اور حتی کہ دفاتر بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اسکولوں کو امتحانی پرچوں، رجسٹرز اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے زیادہ بجٹ درکار ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر فیسوں میں اضافے کی صورت میں والدین پر ہی پڑے گا۔
    اسی طرح چھوٹے پرائیویٹ ادارے بھی اپنی لاگت بڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ یوں یہ ایک ایسا سلسلہ بنے گا جو تعلیم کے پورے نظام میں مہنگائی کو پھیلا دے گا۔
    مہنگائی اور معاشی دباو
    پاکستان پہلے ہی مہنگائی کے ایک مسلسل دباو کا شکار ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ ایک اضافی جھٹکا ہوگا۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بنیادی ضروریات مہنگی ہوتی ہیں تو لوگ سب سے پہلے غیر خوراکی اخراجات میں کمی کرتے ہیں، اور بعض اوقات تعلیم بھی اس فہرست میں آ جاتی ہے۔ یہ صورتحال طویل مدت میں انسانی وسائل کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
    معاشی پالیسی کا دوسرا پہلو
    حکومت کا مقف یہ ہو سکتا ہے کہ ٹیکس استثنا ختم کرکے محصولات بڑھانا ضروری ہے تاکہ مالی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کہاں اور کس پر ڈالا جا رہا ہے۔
    اگر ٹیکس پالیسی میں توازن نہ ہو تو اس کے سماجی اثرات معیشت کی بہتری سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دبا کا شکار طبقات پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
    متبادل راستے
    تعلیمی سامان پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت کے پاس کئی متبادل راستے موجود ہیں۔ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا، بڑے پیمانے پر آمدنی رکھنے والے شعبوں سے بہتر وصولی، اور ٹیکس چوری کے خاتمے جیسے اقدامات زیادہ مثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
    اسی طرح تعلیمی شعبے کو سبسڈی دے کر نہ صرف معاشرتی بہتری حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ انسانی سرمائے میں بھی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے، جو کسی بھی ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
    سماجی اثرات
    تعلیم صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سماجی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ تعلیمی اخراجات میں اضافہ نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ مستقبل کے طلبہ کی تعداد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
    جب والدین مالی دبا کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے نکالنے یا تعلیم محدود کرنے پر مجبور ہوں تو اس کے اثرات براہِ راست معاشرے میں خواندگی کی شرح اور انسانی ترقی کے اشاریوں پر پڑتے ہیں۔
    اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس میں اضافہ بظاہر ایک مالیاتی اصلاح ہو سکتی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات وسیع اور دیرپا ہوں گے۔ تعلیم پہلے ہی مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہے، اور ایسے اقدامات اس خلا کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
    بجٹ سازی کا اصل امتحان یہی ہے کہ ریاست اپنی آمدنی کے اہداف اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم رکھے۔ اگر یہ توازن بگڑ گیا تو وقتی ریونیو میں اضافہ شاید حاصل ہو جائے، مگر اس کی قیمت معاشرے کو طویل مدت تک چکانی پڑے گی۔ See less

  • بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجنے کا خطرہ، نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے لگی،پاکستان واچ رپورٹ

    بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجنے کا خطرہ، نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے لگی،پاکستان واچ رپورٹ

    بھارت اس وقت بظاہر دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے اور عالمی طاقت بننے کے دعوے کر رہا ہے، لیکن دوسری جانب ملک کے اندر ایسے سماجی، سیاسی اور معاشی تضادات موجود ہیں جو مستقبل میں سنگین بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ مودی سرکار گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے خواب دکھا رہی ہے، مگر زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی نظام میں بدانتظامی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویے اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ایسے عوامل ہیں جو بھارتی معاشرے میں بے چینی کو جنم دے رہے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں بھارت کے نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والی نئی سیاسی اور سماجی تحریکوں نے مودی حکومت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کے ایک گروہ نے نئی دہلی میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بے روزگاری، کرپشن اور نظامی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو یہ تحریک وسیع تر عوامی ردعمل کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    بھارت ایک کثیر النسلی، کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی ملک ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، ذات پات کا نظام اور مذہبی تقسیم پہلے ہی بھارتی معاشرے میں موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ان اختلافات کو کم کرنے کے بجائے بعض مواقع پر انہیں مزید گہرا کیا ہے۔ ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کے مختلف طبقات میں احساس محرومی کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات نوجوان نسل میں بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    بھارتی نوجوان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ لاکھوں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، لیکن اکثر امتحانات میں تاخیر، انتظامی بے ضابطگیوں یا پیپر لیک جیسے اسکینڈلز کی وجہ سے ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ کئی ریاستوں میں امتحانی نظام پر سوالات اٹھ چکے ہیں اور طلبہ بارہا احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

    اسی پس منظر میں نوجوانوں کے مختلف گروہ خود کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس عمل کو تیز کیا ہے، جہاں نوجوان اپنے خیالات اور احتجاجی پیغامات تیزی سے پھیلا سکتے ہیں۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی بعض نئی تحریکیں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ابھرنے والی جین زی سیاسی سرگرمیوں سے بھی متاثر ہیں۔ نیپال، بنگلادیش اور دیگر ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے روایتی سیاست کو چیلنج کرنے کے رجحانات دیکھے گئے ہیں، اور اب اسی نوعیت کی سوچ بھارت میں بھی فروغ پا رہی ہے۔

    تحریک کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظام میں اصلاحات کے لیے ہے۔ ان کے مطابق روزگار کی فراہمی، شفاف امتحانی نظام، کرپشن کے خاتمے اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ان کے بنیادی مطالبات ہیں۔ تاہم حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایسی تحریکیں وسیع پیمانے پر مقبول ہو گئیں تو وہ سیاسی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔

    بھارت میں بے روزگاری کا مسئلہ خاص طور پر نوجوان طبقے کو متاثر کر رہا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے اکثر “ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر اتنی بڑی نوجوان آبادی کو مناسب تعلیم اور روزگار فراہم نہ کیا گیا تو یہی طاقت ایک سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

    کرپشن اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ محنت اور قابلیت کے باوجود انہیں وہ مواقع نہیں ملتے جن کے وہ حق دار ہیں۔ اس احساس محرومی نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی رویوں کو تقویت دی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت کے لیے اصل چیلنج اپوزیشن جماعتیں نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک میں نوجوان طبقہ بڑے پیمانے پر موجودہ نظام سے مایوس ہو جائے تو سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی تحریکوں نے حکومتوں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

    بھارت میں بھی یہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیمی مسائل میں کمی نہ آئی تو نوجوانوں کے احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی تحریک کو محدود رکھنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو چکا ہے، کیونکہ معلومات اور پیغامات چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔

    مودی سرکار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی توجہ سیاسی نعروں اور انتخابی مہمات پر زیادہ مرکوز رکھی جبکہ نوجوانوں کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ ان کے مطابق ترقی کے دعووں کے باوجود عام نوجوان کی زندگی میں مطلوبہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔

    دوسری جانب حکومت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی ترقی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور موجودہ مشکلات وقتی نوعیت کی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کی شکایات کو نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    بھارت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر حکومت نوجوانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لے کر عملی اقدامات کرتی ہے تو حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بے روزگاری، کرپشن، تعلیمی بحران اور سماجی تقسیم کے مسائل جوں کے توں رہے تو آنے والے برسوں میں عوامی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جب یہی نوجوان خود کو نظام سے کٹا ہوا محسوس کرنے لگیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ بھارت میں ابھرنے والی نئی تحریکیں اسی حقیقت کی یاد دہانی کرا رہی ہیں کہ پائیدار ترقی صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام، خصوصاً نوجوانوں کے اعتماد اور اطمینان سے حاصل ہوتی ہے۔

  • پہلی فلم کے بولڈ مناظر نے والدین  کو پریشان کردیا تھا،کنگنا رناوت

    پہلی فلم کے بولڈ مناظر نے والدین کو پریشان کردیا تھا،کنگنا رناوت

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی پہلی فلم میں شامل بولڈ مناظر نے ان کے والدین کو خاصی پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔
    اداکارہ کے مطابق ان کے قدامت پسند خاندان کے لیے فلمی دنیا کو قبول کرنا آسان نہیں تھا اور ابتدا میں ان کے کام کو شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
    ایک حالیہ انٹرویو میں کنگنا رناوت نے اپنی ڈیبیو فلم ’’گینگسٹر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2006 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ان کے چند جرات مندانہ مناظر بھی شامل تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ان کے والد کا ردعمل غیر متوقع تھا کیونکہ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور مکمل خاموشی اختیار کرلی۔

    کنگنا کے مطابق جب انہوں نے اپنی والدہ سے فلم کے بارے میں رائے پوچھی تو والدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر ابھی بہت کم تھی اور فلم میں ان سے ایسے مناظر کروائے گئے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس جواب نے انہیں مایوس کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی والدہ پوری فلم اور ان کی اداکاری کو دیکھیں گی، لیکن ان کی توجہ صرف انہی مناظر پر مرکوز رہی۔
    اداکارہ نے کہا کہ اس وقت ان کے والدین کو فلم کی کہانی یا ان کی فنی صلاحیتوں سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ معاشرہ اور برادری کے لوگ اس بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول وہ ایک تعلیم یافتہ اور سرکاری افسران کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں فلمی دنیا کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔
    کنگنا رناوت نے مزید بتایا کہ ان کے گھر میں فلمی شخصیات سے متعلق خبروں کو بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی رنگین اخبار گھر آتا تو والدین فلمی ستاروں کی تصاویر والے صفحات الگ کر دیتے اور صرف باقی اخبار پڑھتے تھے۔
    اداکارہ کے مطابق 1990 اور 2000 کی ابتدائی دہائی میں فلم انڈسٹری کے بارے میں کئی منفی تصورات پائے جاتے تھے۔ اس دور میں انڈر ورلڈ سے مبینہ روابط اور دیگر تنازعات کی خبریں عام تھیں، جس کے باعث ان کے والدین بھی فلمی دنیا کے حوالے سے اچھا تاثر نہیں رکھتے تھے۔
    کنگنا نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے مطابق جب انہیں حکومت کی جانب سے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تو ان کے والدین کو پہلی بار ان کے انتخاب پر فخر محسوس ہوا۔ بعد ازاں پدما شری جیسے بڑے سول اعزاز کے حصول نے ان کا نظریہ مکمل طور پر بدل
    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان اعزازات کے بعد ان کے دیا۔ کو احساس ہوا کہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی عزت، وقار اور ملک کی خدمت کے اعتراف میں بڑے اعزازات حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب انہوں نے ان کے کیریئر کو دل سے قبول کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا
    بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا۔
    بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نےایک انٹرویو میں بالی ووڈ فلم انڈسٹری اور معاشرے میں خوبصورتی سے متعلق قائم سخت معیار پر تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ آج بھی خواتین اداکاراؤں کو عمر اور ظاہری شکل کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔
    مادھوری ڈکشٹ کاکہناتھاکہ اداکاراؤں کو زندگی کےہرمرحلےمیں اپنی شکل وصورت کےحوالے سےغیر ضروری تبصروں اورتنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے،اکثر لوگ برسوں بعد ملاقات ہونے پرکسی کی شخصیت یا کامیابیوں کےبجائے اس کےوزن،عمر یا بالوں میں آنے والی سفیدی پر تبصرہ کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔
    مادھوری ڈکشٹ نےکہا لوگوں کو انکی اصل حالت میں قبول کرنا چاہیے اورکسی کی جسمانی تبدیلی کو تنقید کا موضوع نہیں بنانا چاہیے