Blog

  • عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی خریدنے کا اعلان

    عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی خریدنے کا اعلان

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)عارف حبیب گروپ کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا مکمل اختیار اس کے پاس آ جائے گا۔
    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد علی حبیب نے بتایا کہ ’کنسورشیم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس نے 25 فیصد باقی ماندہ حصص بھی خریدنے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل میں یہ فیصلہ لینا ہے اور اس کے بعد بارہ مہینے میں اس کی ادائیگی کرنی ہے۔‘
    انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کے سو فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی یعنی ایئر لائن کا مکمل کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہو گا اور ائیر لائن سرکاری نامزد ارکان سے آزاد ہو جائے گی۔
    واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کے عوض 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔
    حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجی کاری کا مقصد خسارے میں جانے والی فضائی کمپنی کو عملی تنظیمِ نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے ذریعے منافع بخش بنانا تھا۔
    گذشتہ دسمبر میں 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص کی خریداری کے لیے 90 روز کی مہلت دی ہے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے اسے قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
    کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی 33.9 فیصد، لیک سٹی 16 فیصد، اور دی سٹی اسکول کے ساتھ اے کے ڈی گروپ 16 فیصد شامل ہیں۔
    شاہد علی نے بتایا پی آئی اے کی بہتری کے منصوبے میں سروسز جن میں سٹاف اور ٹکٹنگ کی بہتری اور سیفٹی اور سکیورٹی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ اچھے روٹس پر فلائٹ کی فریکوئنسی کو بھی بڑھانا پلان کا حصہ ہے۔
    دسمبر میں پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی خریداری کے لیے عارف حبیب کنسورشیئم نے اوپن بڈنگ کے دوران 135 ارب روپے کی بولی لگائی تھی جو کہ کامیاب ہوئی تھی۔
    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کے دوران عارف حبیب اور لکی گروپس کے درمیان اوپن بڈنگ کا مرحلہ ہوا جس دوران عارف حبیب گروپ سمیت چار کمپنیوں کے کنسورشیئم کی جانب سے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی لگائی گئی۔
    عارف حبیب کنسورشیئم میں عارف حبیب لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔
    اس سے قبل تین گروپس نے بولیاں جمع کرائی تھیں۔ براہ راست نشر کی گئی تقریب میں جو پہلی بولی کھولی گئی وہ لکی گروپ کی جانب سے دی گئی تھی۔ اس گروپ نے پی آئی اے خریدنے کے لیے 101.5 ارب روپے کی بولی دی تھی۔
    اس کے علاوہ ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی جمع کرائی ہے۔ جبکہ تیسری اور آخری بولی عارف حبیب گروپ اور ان کی ساتھی کمپنیوں کی تھی جو سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی رہی تھی۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔
    دوسرے مرحلے میں عارف حبیب گروپ اور لکی گروپ کے درمیان اوپن بڈنگ ہوئی۔ اس مرحلے میں بولی کا آغاز 115 ارب روپے سے ہوا اور کم سے کم 25 کروڑ روپے کا اضافہ کیا جا رہا تھا۔ اس دوران بھی سب سے زیادہ بولی عارف حبیب کنسورشئیم نے 135 ارب روپے کی لگائی جو حتمی ثابت ہوئی۔
    اس سے قبل مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا تھا کہ اوپن بڈنگ کے دوران سب سے زیادہ بولی دینے والا گروپ کامیاب تصور کیا جائے گا۔
    نجکاری کمیشن کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ کامیاب گروپ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے تاہم کامیاب بولی دہندہ کے پاس بقیہ 25 فیصد حاصل کرنے کا بھی موقع ہوگا۔
    خیال رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش تھی۔

    سنہ 2024 میں اس سلسلے میں پہلی کوشش اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ایئرلائن کی خریداری کے لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے صرف دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی جبکہ حکومت نے اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔

    پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔ اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔گذشتہ دو دہائیوں میں پی آئی اے کے مالی حالات سے متعلق جب بھی کوئی خبر آئی تو اس میں ہر سال اس کے بڑھتے مالی خسارے کا ذکر ملا تاہم رواں برس اپریل میں حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس ادارے نے 21 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی بار منافع کمایا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کی دوسری کوشش کے سلسلے میں ابتدائی طور پر آٹھ کمپنیوں نے قومی ایئرلائن کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم نجکاری کمیشن کو ڈیڈ لائن ختم ہونے تک پانچ کمپنیوں کی جانب سے ہی سٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن موصول ہوئی تھیں اور حتمی مرحلے میں چار، چار کمپنیوں پر مشتمل دو کنسورشیمز اور ایک کمپنی اس عمل میں شامل تھیں۔بولی میں ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ، حب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز جیسے اداروں پر مشتمل تھا۔دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل تھیں۔ان کے علاوہ پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بھی باضابطہ طور پر اپنی اپنی اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن جمع کروائیں تھیں جن میں سے ایئر بلیو حتمی بولی کا حصہ بنی تھی۔حتمی بولی کے لیے قابل قرار دیے جانے کے باوجود فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بولی کے عمل میں حصہ نہیں لے گی۔اس بات کا انکشاف وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے اُس وقت ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کامیاب بولی دہندہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کو شراکت کی دعوت دیتا ہے تو یہ کمپنی بعد میں اس عمل کا حصہ بن سکتی ہے۔ان کے مطابق نجکاری کے فریم ورک میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کامیاب فریق مکمل ادائیگی سے قبل مزید شراکت دار شامل کر سکتا ہے تاہم صرف وہی کمپنیاں اضافی شراکت دار بن سکتی ہیں جو بولی کے عمل میں شامل نہ رہی ہوں۔فوجی فرٹیلائزرز کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری میں عدم دلچسپی کے وجہ کے بارے میں نجکاری کمیشن کے ترجمان نے کہا وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔مشیرِ نجکاری کے مطابق 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا دو تہائی حصہ کامیاب بولی دینے والا کو 90 دن میں دینا ہو گا جبکہ باقی رقم کے لیے ایک سال کا وقت دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے صرف ساڑھے سات فیصد حکومت کو ملےگی جب کی باقی رقم پی آئی اے میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائی جائے گی جس میں جہازوں کی تعداد بڑھانا اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہےیہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب 2024 میں حکومت مطلوبہ قیمت حاصل نہیں کر پائی تھی تو ایک سال میں پی آئی اے میں ایسا کیا بدلا ہے کہ کوئی اسے خریدنے میں دلچسپی لے۔اس کا جواب ادارے کی مارکیٹ ویلیو میں ہے۔ گذشتہ برس پی آئی اے کی ’ایکویٹی منفی 45 ارب تھی جو اب واجبات کی ادائیگی یا منتقلی کے بعد 30 ارب روپے ہے۔یہی نہیں بلکہ حکومت کامیاب بولی دہندہ کو جہازوں کی لیز پر عائد 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے گی اور پی آئی اے کے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کا کچھ حصہ بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔پی آئی اے کی فروخت سے حکومت کا حاصل ہونے کے فائدے کے بارے میں ترجمان نجکاری کا کہنا ہے کہ حکومت 75 فیصد حصص کے لیے دی جانے والی رقم میں سے صرف ساڑھے سات فیصد رقم لے گی جبکہ باقی رقم پی آئی اے میں ہی شامل کر دی جائے گی یعنی کہ کامیاب بولی دہندہ اس رقم کو ادارے کے لیے ہی استعمال کرنے کا پابند ہوگا۔اگرچہ حکومت کو پی آئی اے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا صرف ساڑھے سات فیصد ہی ملے گا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فروخت سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کے نقصان سے چھٹکارا مل جائے گا۔نجکاری امور کے ماہر شہباز جمیل نے کہا اس نجکاری سے حکومت کو ہر سال اس مالی خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو وہ پی آئی اے کو چلانے کے لیے خزانے سے دینے کی وجہ سے ہوتا تھا۔واضح رہے کہ حکومت نے پی آئی اے کے ذمے واجب الادہ قرضوں میں سے ساڑھے چھ سو ارب روپے سے زائد قرضے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں ڈال دیے ہیں۔شہباز جمیل کے مطابق ماضی میں بینکوں کی نجکاری بھی اسی ماڈل پر ہوئی تھی اور اب پی آئی اے کی بھی انھی خطوط پرنجکاری کی جا رہی ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں ماضی میں جو کوششیں ہوئیں اس میں پی آئی اے کے ملازمین اور اس کے اثاثوں کا معاملہ زیر بحث رہا۔پی آئی اے کے پاس اس وقت 38 جہاز ہیں جن میں سے صرف 18 آپریشنل ہیں جبکہ اس کے پاس دنیا بھر میں 78 مقامات کے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ کے حقوق ہیں۔ان میں لندن اور یورپی ممالک کے شہر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کینیڈا بھی جاتی ہے تاہم امریکہ میں اس پر پابندی تاحال قائم ہے۔مشیر نجکاری کے مطابق چھ سات برس قبل پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار تھی تاہم اس وقت یہ تعداد ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔پی آئی اے کی نج کاری کے بعد ان ملازمین کی نوکریوں کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہو گا۔مشیر نجکاری کےمطابق موجودہ ملازمین کو ایک سال تک تنخواہ اور دوسری مراعات حاصل رہیں گی جب کہ ایک سال کے بعد بہت زیادہ ملازمین نکالے جانے کا امکان نہیں تاہم انھیں رضا کارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کا کہا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، ان کے میڈیکل بل اور رعایتی ٹکٹس کی ادائیگی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کرے گی۔خیال رہے کہ پی آئی اے کے پاس اس کے کور بزنس یعنی آپریشنز سے متعلق پراپرٹیز کے علاوہ نیویارک اور پیرس میں روز ویلٹ اور سکرائب ہوٹل کی قیمتی جائیدادیں موجود ہیں۔مشیر نجکاری کے مطابق یہ دونوں پی آئی اے کی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں ہوں گے اور اس ٹرانزیکشن میں اس کا کارگو، مسافر، کچن اور ٹریننگ سے متعلقہ اثاثے شامل ہوں گے۔سال 2024 کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے نے 9.3 ارب روپے آپریشنل منافع جبکہ 26.2 ارب روپے خالص منافع کمایا۔خیال رہے کہ سنہ 2023 میں پی آئی اے کا خالص خسارہ 75 ارب روپے تھا۔قومی ایئر لائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پی آئی اے کا آپریٹنگ مارجن 12 فیصد سے زیادہ رہا جو دنیا کی کسی بھی بہترین ائیرلائنز کی پرفارمنس کے ہم پلہ ہے۔ واضح رہے کہ آپریشنل کاسٹ میں جہاز کا ایندھن، انتظامی اخراجات، تقسیم کاری کے اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔پی آئی اے کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی سرپرستی میں اس ادارے میں جامع اصلاحات کی گئیں جن میں افرادی قوت اور اخراجات میں واضح کمی، منافع بخش روٹس میں استحکام، نقصان دہ روٹس کا خاتمہ اور بیلنس شیٹ ری سٹرکچرنگ شامل ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پی آئی اے کے واپس منافع بخش ادارہ بننے سے نا صرف اس کی ساکھ میں اضافہ ہو گا بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔اس اعلان کے حوالے سے نشریاتی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے تحت قومی ایئر لائنز کی فروخت سے قبل اس کا سالانہ منافع ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے تاہم یہ ادارے کے ذمے قرضوں کی بڑی مقدار کو سرکاری کھاتوں میں منتقل کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہو سکا۔بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق پی آئی اے نے دسمبر 2024 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران فی شیئر 5.01 روپے آمدن حاصل کی۔نومبر 2024 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو سیکرٹری نجکاری عثمان باجوہ نے بتایا تھا کہ پی آئی کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان چاہتے تھے کہ حکومت 26 ارب روپے مالیت کے ٹیکس واجبات، سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پی آئی اے کو 10 ارب روپے مالیت کی عبوری مالی معاونت اور نو ارب روپے کے دیگر واجبات کو ختم کر دے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ جب تک پی آئی اے کی بیلنس شیٹ مکمل طور پر صاف نہیں کی جاتی، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار آگے نہیں آئے گا۔ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اپنے ذمے لے لیے۔پی آئی اے نجکاری اور اس کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اور ان پر سود کی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، جس کے بعد اس کی بیلنس شیٹ بالکل کلین ہو گئی کہ جس نے ائیر لائنز کو منافع بخش بنا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کئی سو ارب روپے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کو اپنے کھاتے میں لے لی گی تو اس کے بعد ائیر لائنز کا منافع بخش ہونا حیران کن نہیں رہ جاتا۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی آئی اے کے ذمے 850 ارب روپے کا قرض ہے جس کا بڑا حصہ حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا اور اس کے بعد اس پر سود کی ادائیگی بھی حکومت کے کھاتے میں چلی گئی تو اس کے بعد اس کے آپریشنل منافع بخش بننے میں کوئی مشکل نہیں۔

  • عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ڈاکٹرز

    عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ڈاکٹرز

    لاہور(پاکستان واچ نیوز) پمز اور الشفاء انٹرنیشنل کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے جیل میں عمران خان کا مکمل اور تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ذرائع نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، طبی ٹیم نے جاری علاج پر بھی مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق ماہرین امراضِ چشم نے اپوزیشن کے رہنماؤں اور عمران خان کے ذاتی معالجین کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلی بریفنگ بھی دی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کیا، انتظار کے باجود بانی کے اہلخانہ نہ آئے۔ میڈیکل ٹیم کی جانب سے رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جو آج ہی حکومت کے بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق علاج کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بینائی بہتر ہونے لگی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ2ماہر ڈاکٹروں پرمشتمل پینل نے کیا، الشفا ائی ٹرسٹ اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے ڈاکٹر محمدعارف نے آنکھ کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں کے 2 رکنی پینل نے اتوار کو اڈیالہ میں دوگھنٹے گزارے۔ تفصیلی چیک اپ اورضروری ٹیسٹ کئے۔ذرائع کے مطابق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ سے متعلق اپوزیشن قیادت کو آگاہ کردیاگیا، اپوزیشن کے2رہنماوں کوبانی کی آنکھ کےعلاج میں بہتری سے متعلق بتایا گیا،پمز کے ڈاکٹرعارف نے 24اور25جنوری کی رات بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا پروسیجر کیا، انجیکشن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی انکھ تیزی سے بہتر ہورہی ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو وقت پر دوسرا انجیکشن لگائے جانے کا امکان ہے، میڈیکل رپورٹ میں معائنےکی مکمل تفصیلات شامل کی جائیں گی، ماہرڈاکٹر اسپتال منتقل کرنے یانہ کرنے سے متعلق رائے دیںگے۔

  • عمران خان سے ڈیل، شادی سے پہلے رضا مندی ضروری ہے، حنیف عباسی

    عمران خان سے ڈیل، شادی سے پہلے رضا مندی ضروری ہے، حنیف عباسی

    راولپنڈی:(پاکستان واچ نیوز)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا بانی پی ٹی آئی سے ڈیل کی خبروں پر کہنا ہے کہ شادی سے پہلے رضا مندی ضروری ہے، اگر دونوں اطراف سے رضا مندی ہوگئی تو ڈیل ہو جائے گی، ہر قیدی کی طرح بانی پی ٹی آئی کا علاج ہونا ان کا حق ہے۔راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کا مزید کہنا تھا کہ جب میں جیل میں تھا تو کئی بار ذاتی معالج کے لیے درخواست کی مگر ایک نہ سنی گئی اور نہ ہی علاج سے پہلے بچوں سے ملنے کی اجازت ملی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست میں حرفِ آخر نہیں ہوتا، آج کے حریف کل کے ساتھی بن سکتے ہیں، جو شخص 74 برس کی عمر میں بھی اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکے، وہ سیاست نہ کرے۔ سیاست میں وقت کے ساتھ مچورٹی آتی ہے، مجھ میں آج 2003 کے مقابلے میں زیادہ پختگی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ 9مئی کو فتح حاصل کرکے اقتدار ملنے کی خواہش غلط ہے، میں نے ساری زندگی تاجروں کے ساتھ سیاست کی ہے، ضلعی انتظامیہ کو تاجروں کی ہڑتال سے پہلے ان کے مسائل حل کرنے کو کہا ہے اور ان شاءاللہ تاجروں کے مسائل جلد حل ہوں گے۔حنیف عباسی نے کہاکہ ہم نے یورالوجی بنایا، او پی ڈی بلاک بنایا اور ہولی فیملی اسپتال اپ گریڈ ہو رہا ہے، راولپنڈی میں پورا ہیلتھ کا شعبہ رینوویٹ ہو رہا ہے، وزیر اعلی پنجاب کی کاوشیں ہیں تاکہ عام آدمی کو بہترین سہولیات میسر آئیں، یورالوجی میں مارچ کے آخر میں گردہ ٹرانسپلانٹ کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ ہونا چاہیئے، راولپنڈی باقی تمام شہروں اور صوبوں سے بہت بہتر ہے، یونیورسٹی کا کردار خطے میں اہم ہے، 150 وینٹیلیٹرز اور ایم آر آئی مشینیں دستیاب ہیں، مری روڈ پر بھی تین بسیں چلائیں گے جن کیلئے اسٹیشنز بن رہے ہیں۔

  • عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی۔

    عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی۔

    لاہور(پاکستان واچ نیوز)
    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی۔
    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز عمران خان کی ان کے بیٹوں سے بات کرائی گئی تھی اور اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
    وفاقی وزیر نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کی بیٹوں سے بات کرادی گئی ہے۔ جیل حکام کی جانب سے بھی بیان جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروائی گئی۔
    جیل حکام نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 30 منٹ سے زائد وقت تک اپنے بچوں سے بات کی۔
    خیال رہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان لندن میں مقیم ہیں۔

  • عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا،محسن نقوی

    عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا،محسن نقوی

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، محسن نقوی نے کہا ہے کہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔اسلام آباد پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی پولیس کے لیے یہ بہت اہم دن یے ہمارے پاس دہشت گردی سے لڑنے والی فورس موجود نہیں تھی، ہم نے تین ماہ پہلے شروع کیا یہ 6 ماہ کا کورس ہے جو دن رات کر کے 3 ماہ میں مکمل کیا، ہمارے ان آفیسرز کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ان کی ٹریننگ کی، اسلام آباد میں ٹریننگ اسکولز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں باہر کے لوگ بھی ٹریننگ کرنے یہاں آئیں گے، اس وقت فورس کا ہونا اس لیے بہت اہم تھا مجھے بہت امید یے ان جوانوں سے یہ دل اے لگ کر ان دہشت گردوں کو ختم کریں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا، دو ماہ میں اسلام آباد جیل مکمل ہو جائے گی، جیل کے اندر تمام طبی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں ںے مزید کہا کہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی احتجاج،  اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے احتجاج کا اعلان کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ بند کر دیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اور اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئیں ہیں۔ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھارتی نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہو گئی ہے۔ پولیس کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ کی طرف جانے نہیں دے رہی۔پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو بھی ریڈیو پاکستان چوک پرروک دیا گیا۔پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ پولیس ٹیم نے میرے گارڈ کو تھپڑ مارے۔

  • ڈیل یا دردناک انجام، ٹرمپ کا ایران کو دو ٹوک پیغام

    ڈیل یا دردناک انجام، ٹرمپ کا ایران کو دو ٹوک پیغام

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امید ہے کہ آئندہ ہفتے تک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ہمیں معاہدہ کرنا ہی ہوگا ورنہ صورتحال بہت تکلیف دہ ہو جائے گی۔اگر ایران نے اس بار بھی انکار کیا تو پھر کہانی مختلف ہوگی اور حالات اس کے لیے مشکل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو بہت پہلے ہی معاہدہ کر لینا چاہیے تھا۔امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ملاقات چینی صدر ژی جن پنگ سے متوقع ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور چین کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر بات چیت جاری ہے۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کے لیے اربوں ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کریں گے۔یہ اعلان 19 فروری کو متوقع غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا، جس میں 20 ممالک کے سربراہان اور وفود کی شرکت متوقع ہے۔عہدیدار کے مطابق یہ فنڈنگ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مختص کی جائے گی، جس کا مقصد تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی اور انسانی بحران سے نمٹنا ہے۔

  • پاکستان کے اسپنرز ہماری ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں،بھارتی میڈیا

    پاکستان کے اسپنرز ہماری ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں،بھارتی میڈیا

    ممبی (پاکستان واچ نیوز)بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اسپن اٹیک کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دیدیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کے اسپنرز بھارتی ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں اسی لیے محتاط رہنا پڑے گا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابرار احمد، شاداب خان، محمد نواز، صائم ایوب اور عثمان طارق پاکستان کے اسپن اسلحہ خانہ میں موجود ہیں، کولمبو کی کنڈیشنز اجازت دیں تو اس کو مزید مضبوط بھی کیا جا سکتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نمیبیا کے خلاف میچ میں اسپن کو کھیلنے کے تحفظات بڑھ گئے ہیں کیونکہ 5 کھلاڑی اسپنرز کے خلاف آؤٹ ہوئے، یو ایس اے کے خلاف 3 بھارتی بیٹرز اسپنرز کے خلاف آؤٹ ہو ئے۔انڈیا بلاشبہ فیورٹ ہے لیکن بھارتی ٹیم میں چھوٹی دراڑیں ہیں جنہیں بڑے ٹورنامنٹ میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور پاکستان کے خلاف میچ میں چھوٹے کریکس بڑے ہوسکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹیم کو اسپن کو ڈی کوڈ کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ پاکستان بھارتی ٹیم پر غلبہ حاصل کر لے، پاکستان کے اسپنرز مڈل اوورز میں بھارتی بیٹرز کو سلو ڈاؤن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بھارتی بیٹرز کا سلو ڈاؤن ہونا ہی اس میچ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔

  • آسٹریلیا کو زمبابوے کے ہاتھوں شکست،ٹی 20 ورلڈکپ کا بڑا اپ سیٹ

    آسٹریلیا کو زمبابوے کے ہاتھوں شکست،ٹی 20 ورلڈکپ کا بڑا اپ سیٹ

    کولمبو (پاکستان واچ نیوز)ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ میچ میں زمبابوے نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے سابق ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دیدی۔کولمبو میں کھیلےگئے میچ میں زمبابوے نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 169 رنز اسکور کیے اور آسٹریلیا کو جیت کے لیے 170 رنز کا ہدف دیا۔170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم 20 ویں اوور میں 146 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح زمبابوے نے 23 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔

  • بنگلادیش انتخابات: بی این پی  نےبھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی

    بنگلادیش انتخابات: بی این پی نےبھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی

    ڈھاکا (پاکستان واچ نیوز)بنگلا دیش میں ہونے والے تاریخی عام انتخابات میں بنگلادیشن نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے 300 رکنی پارلیمنٹ میں 209 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔یہ انتخابات 2024 میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے اس انتخاب کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔بی این پی کے سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار طارق رحمان نے اپنی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے کامیابی کے بعد کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی بہتری کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔بی این پی کے منشور میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ جماعت کی قیادت میں اتحاد کو 68 نشستیں ملیں۔انہوں نے ووٹ گنتی کے عمل پر غیر اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں، انہوں نے انتخابات کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے۔ ان کی جماعت عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو گزشتہ انتخابات سے زیادہ ہے۔انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں دو مدت کی حد، غیر جانبدار نگران حکومت اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے سمیت کئی تجاویز شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق اکثریت نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔