مکہ مکرمہ:(فارن ڈیسک )مکہ، سعودی عرب؛ لاکھوں پاکستانی مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہونے کا خواب عقیدت، جذبات اور زندگی بھر کی آرزو سے بھرپور ہوتا ہے، اب یہ مقدس سفر کنگ سلمان گیٹ کے ذریعے مزید آسان ہونے جا رہا ہے، جو ایک نمایاں ترقیاتی منصوبہ ہے اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین خصوصاً پاکستان سے عازمین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
سال 2024ء میں 160,000 سے زائد پاکستانیوں نے حج ادا کیا جو کہ گزشتہ کئی برس کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اسی طرح محرم 1444 ہجری کے عمرہ سیزن (30 جولائی 2022ء) کے دوران صرف اسی مدت میں پاکستان عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہا، جس میں 195,224 پاکستانی عمرہ زائرین شامل تھے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی معیار کے ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ کی روحانی اور ثقافتی تقدس کو بھی برقرار رکھ سکے۔
مکہ میں ایک نیا باب
مسجد الحرام کے نزدیک واقع کنگ سلمان گیٹ ترقی کے ایک نئے دور کی عکاسی کرتا ہے جو جدید ڈیزائن، سہولت رسائی اور مہمان نوازی کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے ورثے کا تقدس برقرار رکھتا ہے۔ یہ مقام ان خاندانوں، بزرگوں، نوجوانوں کے گروپس اور انفرادی مسافروں کا استقبال کرے گا جو ذہنی آرام، وقار اور سکون پر مبنی بہتر تجربے کے خواہاں ہیں۔
کنگ سلمان گیٹ: تمام سیزنز کی منزل
اکتوبر 2025 میں اعلان کیا گیا کہ کنگ سلمان گیٹ ہر سال مکہ مکرمہ آنے والے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار پاکستانی عازمین کی آمد اور قیام کے تجربے کو بہتر بنائے گا۔ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر پر محیط تعمیر شدہ رقبے کے ساتھ، یہ منصوبہ عبادت، نقل و حرکت، مہمان نوازی اور روزمرہ سہولیات کو ایک منظم ماحول میں یکجا کرتا ہے۔
یہ ترقیاتی منصوبہ مسجد الحرام کے براہ راست نظارے فراہم کرتا ہے اور نماز کے لیے تیار کی گئی وسیع جگہ پر مشتمل ہے، جہاں 9 لاکھ سے زائد عازمین کی گنجائش ہے، یہاں زائرین کو سکون، روحانی وابستگی اور سکون کے ماحول میں بیٹھنے، عبادت کرنے کے لیے جگہ میسر ہوگی۔
پورے مقام میں نقل و حرکت کو آرام دہ اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، مرکزی شاہراہوں تک رسائی، عوامی ٹرانسپورٹ اور سایہ دار پیدل راستوں سے جڑی ہوئی مربوط سفری سہولیات مسجد الحرام تک سہل اور آسان رسائی یقینی بناتی ہیں، یہ سہولیات دنیا بھر سے آنے والے خاندانوں، بزرگ عازمین اور بڑے گروپس کا احاطہ کرتی ہیں۔
زائرین کو اعلیٰ اور پرتعیش رہائشی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، جن کے ساتھ فور اور فائیو اسٹار ہوٹل بھی دستیاب ہوں گے جو خاندانی سفر، گروپ ٹورز اور طویل قیام کی ضروریات کو پورا کریں گے۔ ریٹیل اور کھانے پینے کی سہولت تقریباً دو لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے، جہاں ضروری خدمات، فوڈ اینڈ بیوریج اور خریداری کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔
یہ تمام سہولیات متحرک عوامی مقامات اور ثقافتی علاقوں سے مزین ہیں، جو سال بھر مختلف تقریبات کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور عازمین کے سفر کے دوران آرام کرنے، اجتماع اور عبادات کے لیے موزوں جگہیں موجود ہیں۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تعمیر
کنگ سلمان گیٹ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انفرا اسٹرکچر سے کہیں زیادہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ گنجائش میں اضافہ، رسائی میں بہتری اور ثقافتی تجربے کو یادگار بناتے ہوئے یقینی بناتا ہے تاکہ ہر عازم احترام، آرام اور ذہنی سکون کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکے۔
یہ اتحاد اور ترقی کی علامت ہے، جو مسلم دنیا کے دل کے طور پر مکہ مکرمہ کے کردار کی عکاسی کرتا ہے اور سعودی عرب کی ہر اس شخص کی خدمت کے عزم کی تصدیق کرتا ہے جو عقیدت کے ساتھ یہاں آتا ہے۔
عازمین کے لیے ایک نئی پیش کش
جیسے ہی کنگ سلمان گیٹ تیار ہوتا ہے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ کو ایک ایسی شکل میں دیکھنے کے لیے خوش آمدید کہا جائے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ سہل اور قابل رسائی ہوگا۔
آپ اپنا پہلا حج یا عمرہ کرنے جا رہے ہوں یا روحانی طور پر دوبارہ جڑنے کے لیے جا رہے ہوں، کنگ سلمان گیٹ آپ کو اس گرم جوشی، توجہ اور شان دار خدمات کے ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے جس کے عازمین حق دار ہیں۔
Blog
-

کنگ سلمان گیٹ، پاکستانی عازمین کے لیے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز
-

یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان کے معروف اور متنازع یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔رجب بٹ اور ندیم نانی والا سائبر کرائم سمیت مختلف مقدمات میں نامزد ہیں اور ان پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ دونوں سوشل میڈیا شخصیات نے عدالت میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن میں بیرونِ ملک سفر پر عائد رکاوٹ ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے توسط سے جمع کرائی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں بلا جواز سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے باعث ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوری طور پر ان کے نام سفری پابندی کی فہرست سے خارج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت متوقع ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا دونوں سوشل میڈیا اسٹارز کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت مل پائے گی یا نہیں۔
-

ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بہت بُرا ہو گا، ٹرمپ
واشنگٹن:(فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف جمعہ کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جو مذاکرات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی بینک 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اب کوئی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل نہیں ہو رہا۔عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہے اور وہ اس حوالے سے اچھی خبروں کے لیے پُرامید ہیں۔
-

دہشت گردوں کا اصل ہتھیار!!

تحریر: بےنظیر مہدی رضوی
بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیاں ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جدید دور کی دہشت گردی صرف بندوق اور بارود تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک ایسی ہمہ جہت جنگ بن چکی ہے جس کا ہدف نہ صرف ریاستی ادارے اور امنِ عامہ ہیں بلکہ وہ معصوم ذہن بھی ہیں جو خوف، مایوسی اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ یرغمال بنا لیے جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں—جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی شامل ہیں—میں ہونے والی مربوط دہشت گردانہ کارروائیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ حملے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے۔ ان کا مقصد مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا، ترقیاتی عمل کو نقصان پہنچانا اور ریاستی رِٹ کو کمزور ظاہر کرنا تھا۔ گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کی شہادت اس تلخ حقیقت کی علامت ہے کہ دہشت گردی میں شہری و عسکری کی تمیز مٹ چکی ہے۔
ان حالات میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوری اور مؤثر ردعمل قابلِ ذکر رہا۔ طویل اور شدید کلیئرنس آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، تاہم اس جدوجہد میں وطن کے پندرہ بہادر سپوت شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ امن کی قیمت صرف بیانات سے نہیں بلکہ جانوں کے نذرانوں سے ادا کی جاتی ہے۔
گزشتہ سال مارچ میں پیش آنے والا جعفر ایکسپریس کا واقعہ اس بدلتی ہوئی دہشت گردی کی نوعیت کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک عوامی ٹرین کو نشانہ بنانا اور مسافروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا دراصل ایک نفسیاتی حملہ تھا، جس کا مقصد ریاست کی صلاحیت اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا تھا۔ اگرچہ اس بحران پر قابو پا لیا گیا، مگر اس نے واضح کر دیا کہ دہشت گرد اب علامتی اور نفسیاتی اہداف کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
بلوچستان میں جاری تشدد کو صرف داخلی مسئلہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ خطے میں جاری پراکسی وار، جس میں بیرونی عناصر بالواسطہ طور پر عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، ایک تسلیم شدہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ صرف مسلح گروہوں کے ذریعے نہیں لڑی جا رہی بلکہ اطلاعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور منفی بیانیوں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ یہ نوجوانوں اور معصوم ذہنوں کو نشانہ بناتی ہے۔ محرومی، ناانصافی اور احساسِ بیگانگی کے بیانیے کو استعمال کر کے نوجوانوں کو یا تو براہِ راست تشدد کا حصہ بنایا جاتا ہے یا سہولت کاری، معلوماتی مدد اور خاموش حمایت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ جب ذہن مسخ ہو جائے تو ہتھیار اٹھانا محض اگلا قدم رہ جاتا ہے۔
یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کا ناسور مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ عسکری کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب تک فکری، تعلیمی اور معلوماتی محاذ پر اس کا مؤثر توڑ نہیں کیا جاتا، پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دراصل ذہنوں کی جنگ ہے، جہاں سچ، شعور اور قومی ہم آہنگی ہی اصل ہتھیار ہیں۔
آج کی دنیا میں کسی بھی ریاست کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو درست معلومات، اعتماد اور امید فراہم کرے۔ ذمہ دار میڈیا، مضبوط قومی بیانیہ اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی ہی وہ عوامل ہیں جو اس جنگ کا فیصلہ کن رخ متعین کر سکتے ہیں۔ جب معصوم ذہن محفوظ ہوں گے، تب ہی بندوقیں خاموش ہوں گی، اور بلوچستان سمیت پورا خطہ حقیقی امن اور استحکام کی جانب بڑھ سکے گا۔ -

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن
تعلیم کا مقصد کرپٹ نظام کا حصہ بننا نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینا ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری
طلبا چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں،چانسلراکبر علی خان کا طلباء سے خطاب
رواںسال مستحق طلباء کو 5 کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئیے گئے،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق
پاکستان واچ نیوز
سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی شخصیات کے علاوہ معززین، فیکلٹی و طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری تھے۔اس موقع پر 1095سے زائدطلباء و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں اور امتیازی نمبروں سے اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات میں بالترتیب طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے تقسیم کئے گئے۔ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی طرف سے فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات کو یا تو لیپ ٹاپ یا پچاس ہزار کیشن پرائز دیا گیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو حق اور سچ کے راستے پر چلانا ہے، نہ کہ کرپٹ نظام کا حصہ بننا۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا دور ہے اور پاکستان کو ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورے ملک کو 65 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان ایک عظیم دانشور تھے جنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تعلیم اور ہنر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ تحریکِ پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کا کردار قابلِ فخر رہا ہے۔
گورنرکامران ٹیسوری نے بتایا کہ گورنر انیشی ایٹو کے تحت 50 ہزار بچے مفت آئی ٹی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جس پر فی طالب علم 9 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ سر سید یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی مفت آئی ٹی کورسز میں شامل کیا جائے گا۔
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر، محمد اکبر علی خان، نے گریجویٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی عالمی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم نے اب انسانی سرمائے کو دولت کا بنیادی ذریعہ بنا دیا ہے اور قومی مسابقت اور سماجی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو پہلے سے بڑھا دیا ہے۔
چانسلر اکبر علی خان نے معیاری تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے عزم اور طلبہ کے تجربات کو بڑھانے کے لیے ایک مضبوط کوالٹی اشورینس سسٹم کی اہمیت اجاگر کیا۔ انہوں نے ادارے کو درپیش مالی اور تعلیمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے، خاص طور پر حکومتی فنڈنگ کی عدم موجودگی میں، سرسید یونیورسٹی کی ترقی اور اس کے بانیوں کی بصیرت انگیز قیادت پر فخر کا اظہار کیا۔ چانسلر اکبر علی خان نے بتایا کہ طلبائ کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا یہ ادارہ اس پختہ عزم کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ سرسید یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم مالی بحران یا فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔وزیر برائے بورڈز و جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نوجوانوں کا تعلیم سے آراستہ کرنے کا فرض بخوبی نبھا رہی ہے۔۔ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے اسکالر شپ میں اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے سرسید یونیورسٹی کی ترقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی طرف سے اس سال پاس آؤٹ طلباء کو 1032 بیچلرز اور 63 ماسٹرز ڈگریاں دی جارہی ہیں جن میں 6 پی ایچ ڈی بھی شامل ہیں۔34 تعلیمی پروگراموں میں تقریباََ 8,000سے زائد طلبائ زیر تعلیم ہیں جو سرسید یونیورسٹی کی ترقی و کامیابی کی عکاسی ہے۔رواں سال سات نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی گئیں۔سرسید یونیورسٹی میں تحقیق کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے اوریہاں کا ماحول ریسرچ فرینڈلی ہے۔اس سال 1500 مستحق طلبائ کومالی معاونت کے ضمن میں 5 /کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ داخلہ سیزن میں تقریباً 2500 طلباء کو داخلہ دیاگیا جو سرسیدیونیورسٹی کے اعلیٰ معیار تعلیم کی دلیل اوروقار کی علامت ہے۔۔ ہم اپنی پوسٹ گریجویٹ پیشکشوں اور ملازمت پر مبنی کورسز کو بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ہمارے مسلسل تعلیمی پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔اپنے آپ کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہم غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور ان کے طرز تعلیم اور نصاب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی اور انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جس میں ایک نئی ویب سائٹ کی تشکیل اورایک بہتر انٹرنیٹ بینڈوتھ کی تنصیب شامل ہیں۔مستقبل کا ادراک کرتے ہوئے ایجوکیشن سٹی میں سرسید یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی میں ٹیکنالوجی پارک اور ایک نئے رہائشی کیمپس کی تعمیر کے لیے تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔۔
قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم اب معاشی ترقی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ آج کے معاشرے کو تعلیم کے علاوہ تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہے جو تکنیکی طور پر آگے بڑھنے والی دنیا میں موثر کردار ادا کرے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں پیشرفت سے نمٹنے کے لیے آپ کو مستقل اپ ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
اختتامِ تقریب پر سرسیدیونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے ترانہ علیگڑھ پیش کیا۔باکس1
طلائی تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر طلائی تمغہ حاصل کرنے والوں میں نرمین پرویز (بایومیڈیکل انجینئرنگ)، فاطمہ راشد (بایومیڈیکل سائنس)، صارم مشہود (کمپیوٹر انجینئرنگ)، عماد الدین علی خان (الیکٹریکل انجینئرنگ)، مبشر شیخ (الیکٹرانک انجینئرنگ)، مروہ مسرور (بائیوٹیکنالوجی)، مہوش خان (کمپیوٹر سائنس)،شیزا انور شیخ (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، اْزبہ نسیم (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، حسن عبداللہ (سول انجینئرنگ)، ماہر (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حسین ایزی (آرکیٹیکچر)، آمنہ جمال (بی بی اے)، محمد عدیل خان (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد ایان ندیم (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید اذہان رضا (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، ربیعہ سلمان (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکوریٹی)، جواد احمد (ریاضی) اور اسپرنگ پروگرام کی ثانیہ توقیر (بایومیڈیکل سائنس)، کنزہ حسین (بی بی اے)، زبیر خان (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
باکس2
چاندی کاتمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں ماہ نور (بائیومیڈیکل انجینئرنگ)، عائشہ (بائیومیڈیکل سائنس)، مرزا محمد عمار (کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد عباد (الیکٹریکل انجینئرنگ)، محمد عبید الرحمان (الیکٹرانک انجینئرنگ)، عائشہ فیصل (بائیو ٹیکنالوجی)، سیدہ آمنہ رضوی (کمپیوٹر سائنس)، محمد موحد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، آصف حسین (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، فیضان خان (سول انجینئرنگ)، سید محمد رمیز (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد فرحان (آرکیٹیکچر)، یشرا خان (بی بی اے)، سید حمزہ بن عابد (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد عباد بصیر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، ایمن (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، نادرہ (موبائل کمیونیکیشن ایند سیکوریٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے حفصہ عبداللہ (بائیومیڈیکل سائنس)، لائبہ حسن (بی بی اے)، محمد اویس نادر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
باکس 3
کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں محمدرافع (بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، محمد طحہٰ (کمپیوٹر انجینئرنگ)، اریب (الیکٹریکل انجینئرنگ)، عواب نعیم (الیکٹرانک انجینئرنگ)، سیدہ زینب راشد (بائیو ٹیکنالوجی)، سمیت سلیم (کمپیوٹر سائنس)، عرشیہ احمد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، سمیر احمد (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، ازکا عاصم (سول انجینئرنگ)، شیخ حسن احمد (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد یعقوب (آرکیٹیکچر)، صبا ناگری (بی بی اے)، امیر حنظلہ (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حافظ فدا الشراف شامی (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید محمد جواد حیدر (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکیورٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے سیدہ وجیہہ کاظمی
(بایومیڈیکل سائنس)، سید حسن علی (بی بی اے)، محمد اسامہ (الیکٹرکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔ -

عمان کے سالانہ فیسٹیول مسقط نائٹس میں “محفل قوالی ” کا انعقاد
پاکستان سوشل کلب عمان اور سفارت خانہ پاکستان کے باہمی اشتراک سے شاندار تقریب، عوام کی زبردست پذیرائی
خصوصی رپورٹ
پاکستان سوشل کلب عمان نے سفارت خانہ پاکستان کے باہمی اشتراک سے مسقط نائٹس فیسٹیول کے اوپن تھیٹر میں ایک روح پرور قوالی نائٹ کا کامیابی سے انعقاد کیا، جو مسقط نائٹس کے سرکاری ثقافتی پروگراموں کا حصہ تھا۔اس شاندار تقریب کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور 4,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، جس کے باعث یہ پروگرام مسقط نائٹس کی تاریخ کے یادگار اور سب سے زیادہ شرکت والے ثقافتی پروگراموں میں شمار کیا گیا۔ یہ شام روحانی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت مسحور کن رہی، جس میں ممتاز قوال استاد فرید ایازاور ابو محمد نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ کلاسیکی قوالی کی دل موہ لینے والی روح پرور محفل سجائی اور حاضرین کو مسحور کر دیا۔
قوالی صدیوں سے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ رہی ہے اور اس محفل نے عقیدت، ہم آہنگی اور ثقافتی فخر سے ایک بھرپور فضا قائم کی۔ پروگرام کا آغازرات آٹھ بجے ہوا اور رات ساڑھے دس بجے اختتام ہوااس دوران سامعین کی جانب سے مسلسل داد و تحسین اس تقریب کی بھرپور کامیابی کا واضح ثبوت تھی۔
پاکستان سوشل کلب عمان، مسقط نائٹس کی انتظامیہ بالخصوص ڈاکٹر انجینئر ناصر سالم السعدی اور ان کی معزز ٹیم کا دلی شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے عمان کے سب سے بڑے ثقافتی میلے میں پاکستان کی روحانی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے یہ موقع فراہم کیا۔ ان کا تعاون، پیشہ ورانہ انداز اور بھرپور معاونت اس تقریب کی کامیابی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس عظیم الشان تقریب کی کامیابی پاکستان سوشل کلب عمان کی قیادت اور ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جن میں محمد ندیم عظیمی – چیئرمین، زاہد شکور – وائس چیئرمین، عمران طور – فنانس ڈائریکٹر، کاشف احمد زعیم – جنرل سیکریٹری، محمد کلیم اختر – جوائنٹ سیکریٹری،
محترمہ عذرا علیم – میڈیا ڈائریکٹر
اور سید شاندار علی شاہ بخاری – ڈائریکٹر فلاح و بہبود شامل ہیں، جبکہ دیگر رضاکاروں نے بھی بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ سفارت خانہ? پاکستان کی موجودگی اور معاونت نے اس پروگرام کے وقار میں اضافہ کیا۔
خصوصی طوپر پر سید فیاض علی شاہ اس پروگرام کے انعقاد اور انتظامات کے لیے غیر معمولی کوششیں اور مسقط نائٹس کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ تقریب میں شرکت نے پروگرام کی کامیابی کو چار چاند لگا دیے۔
پاکستان سوشل کلب عمان اپنے تمام معزز کرم فرماؤں کے مالی و اخلاقی تعاون کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے، اس تاریخ ساز تقریب میں ان کی شمولیت سلطنتِ عمان میں علمی،ادبی ثقافتی سرگرمیوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔
حسینہ جیولرز (میگا اسپانسر)، فرینڈی موبائل پے ایپ (برانز اسپانسر)، روی ریسٹورنٹ، پیزا موڈو، رائل تکہ، اور میاں ریاض اینڈ پارٹنر۔ کا محفل قوالی کی یہ عظیم الشان تقریب شام مسقط نائٹس کی تاریخ میں ایک تاریخی اور یادگار ثقافتی تقریب کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جس نے روحانیت، کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد اور پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عمان میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید مضبوط کیا۔ -

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کے بائیکاٹ کے باوجود بھارتی ٹیم کو سری لنکا جانا پڑے گا
کراچی (اسپورٹس ڈیسک )پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان یہ میچ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول ہے تاہم پاکستان نے آئی سی سی کے بنگلادیش کے خلاف جانب دارانہ فیصلے پر احتجاجاً بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم بھارت کو پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود سری لنکا لازمی جانا پڑے گا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم آئی سی سی پروٹوکول کے مطابق سری لنکا جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم سری لنکا جائے گی اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطوں پر عمل کرے گی۔بی سی سی آئی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم شیڈول کے مطابق پریکٹس بھی کرے گی اور پریس کانفرنس میں بھی شریک ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم مقررہ وقت پر اسٹیڈیم پہنچے گی اور میچ ریفری کی جانب سے میچ منسوخ کیے جانے کا انتظار کرے گی۔واضح رہے کہ پاکستان کے بائیکاٹ کی صورت میں بھارت کو بنا کھیلے ہی 2 پوائنٹس مل جائیں گے جبکہ اس کے نیٹ رن ریٹ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
-

بلوچستان میں آپریشنز جاری، 3 دن میں 177 دہشت گرد ہلاک
کوئٹہ(نمائندہ خصوصی ) بلوچستان میں گزشتہ 3 روز کے دوران آپریشنز میں اب تک 177 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کےخلاف سکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز، پولیس گھیرا تنگ کر رہی ہیں جب کہ گزشتہ 3 روز کے دوران بلوچستان میں جاری آپریشنز میں اب تک 177 دہشتگردوں کوہلاک کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ فورسز کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کےخلاف سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے اور گزشتہ رات تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشتگردوں کوہلاک کیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں اور ان کےسہولت کاروں کےمزید نقصانات اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
-

کراچی: بڑی شاہراہوں پر احتجاج پر سختی کریں گے: وزیر اعلیٰ سندھ
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج پر سختی کریں گے۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا حیرت ہوتی ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تشہیر کی جا رہی ہے، اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، حکومت سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
ان کا کہنا تھا سانحے کے بعد حکومت سندھ نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا، ہم نے 26 گھروں میں جاکر لوگوں چیک دیے لیکن میڈیا کو ساتھ لیکر نہیں گئے۔جماعت اسلامی کے گزشتہ روز کے دھرنے اور حافظ نعیم الرحمان کی سندھ حکومت پر تنقید سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، عوام نے پیپیلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے, حافظ نعیم سے کہتا ہوں کہ صوبائی اسمبلی میں آئیں یا اپنی سیٹ خالی کریں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کل تین چار گھنٹے شارع فیصل بلاک رہا جو نہیں ہونا چاہیے، سڑکیں بلاک ہونے سے عوام کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب ہم بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے۔ان کا کہنا تھا میں نے بھی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا دینے کا بیان سنا ہے، حافظ نعیم الرحمان کو سندھ اسمبلی کی سیٹ ملی ہے، وہ اپنے حلقے کی عوام کا خیال کریں، یا پھر سیٹ چھوڑ دیں تاکہ حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم نہ رہیں۔ -

فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دے دی ہے۔کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کی جب کہ فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کر رہے ہیں اور چالان مکمل کیوں نہیں ہوا۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کے لیے خطوط لکھے گئے ہیں۔ جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2022 سے چل رہا ہے اور آپ نے ابھی تک اس میں دلچسپی ہی نہیں لی۔عدالت نے کہا کہ وہ تفتیشی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ایک ہفتے یا 10 دن کا وقت دے تاکہ چالان مکمل کیا جا سکے۔ شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرنے کا حکم فی الحال نہ دیا جائے۔جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ۔ عدالت نے پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ 2 دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں۔بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کر دی۔